কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৫৭৯৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ خفیہ نکاح کا بیان
45784 ابوزبیر مکی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک نکاح کا معاملہ لایا گیا جس میں صرف ایک مرد اور ایک عورت بطور گواہ کے تھے ۔ آپ (رض) نے فرمایا : یہ خفیہ نکاح ہے میں اس کی اجازت نہیں دیتا ہوں اور اگر تم اس میں پہل کرتے ہیں تمہیں رجم کرتا۔۔ رواہ مالک والشافعی والبیہقی
45784- عن أبي الزبير المكي قال: أتي عمر بنكاح لم يشهد عليه إلا رجل وامرأة، فقال: هذا نكاح السر، ولا أجيزه! ولو كنت تقدمت فيه لرجمت. "مالك، والشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৯৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکفاء (ہمسروں ) کا بیان
45785 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : میں ضرور حسب والی عورتوں کو نکاح سے روکوں گا الایہ کہ وہ اپنے ہمسروں سے نکاح کرلیں۔ رواہ عبدالرزاق
45785- عن عمر قال: لأمنعن تزوج ذوات الأحساب من النساء إلا من الأكفاء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৯৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکفاء (ہمسروں ) کا بیان
45786 ابراہیم بن ابی بکر کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نکاح کے معاملہ میں کفوء ہونے پر سختی سے عمل کراتے تھے۔ رواہ عبدالرزاق
45786- عن إبراهيم بن أبي بكر أن عمر بن الخطاب كان يشدد في الأكفاء. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৭৯৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکفاء (ہمسروں ) کا بیان
45787 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : مجھ میں جاہلیت کی کوئی چیز باقی نہیں رہی بجز اس کے کہ مجھے پروا نہیں ہوتی کہ میں نے کن لوگوں سے نکاح کیا ہے اور کن لوگوں کا نکاح کراؤں گا۔۔ رواہ عبدالرزاق وابوسعید
45787- عن عمر قال: ما بقي في شيء من أمر الجاهلية إلا أني لست أبالي أي الناس نكحت وايهم انكحت. "عب، وأبو سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اکفاء (ہمسروں ) کا بیان
45788” مسند علی (رض) “ عبدالرحمن بن بردان کی روایت ہے کہ ایک عورت کے ماموؤں نے اس کی شادی کرادی اس کے ماموں قبیلہ عائذ اللہ سے تھے اور وہ عورت قبیلہ ازد سے تھی۔ چنانچہ اس کے ماموں حضرت علی (رض) کے پاس آئے اور ان سے معاملہ ذکر کیا آپ (رض) نے اپنی بیٹی ام کلثوم سے کہا : دیکھو کیا یہ جوان ہوچکی ہے ؟ ام کلثوم بولی جی ہاں۔ حضرت علی (رض) نے اس عورت کو خاوند کے پاس واپس لوٹا دیا اور فرمایا یہ کفو کی شادی ہے۔ رواہ سعید بن المنصور
45788- "مسند علي" عن عبد الرحمن بن بردان قال: زوج امرأة أخوالها، وهم من بني عائذ الله وهي من ازد فأتوا عليا فقال لابنته أم كلثوم: انظري أمن النساء هي؟ قالت: نعم، فدفعها إلى زوجها، وقال: هم اكفاء. "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہر کا بیان
45789 ابوعجفاء کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے لوگوں سے خطاب کیا اور فرمایا خبردار عورتوں کے مہر میں غلو مت کرو۔ چونکہ گراں مہر اگر دنیا میں شرافت کا باعث ہوتا یا اللہ تعالیٰ کے ہاں تقویٰ ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر ضرور عمل کرتے۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی کسی بیوی کا مہر نہیں رکھا اور نہ ہی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا بیٹیوں میں سے کسی بیٹی کا مہر بارہ اوقیہ سے زیادہ رکھا گیا ہے۔ بلاشبہ آدمی کو بیوی کے مہر میں آزمایا جاتا ہے۔ آپ (رض) نے ایک مرتبہ فرمایا : تم میں سے بعض ایسے بھی ہیں جو عورت کا مہر خوب زیادہ مقرر کرتے ہیں حتیٰ کہ اس کے اپنے دل میں عداوت ہونے لگتی ہے۔ وہ عورت بھی کہتی ہے کہ تیری وجہ سے مجھے کلفت ہورہی ہے اور قربت دوری میں بدل رہی ہے۔ جبکہ ایک دوسری عورت کے متعلق تم کہتے ہو : تمہارے مغازی میں کس کے لیے قتل ہوا یا مرا کہ فلاں شہید ہو یا فلاں شہید ہو کر مرا۔ ہوسکتا ہے اس نے اپنے اونٹ پر بوجھ لاداہو یا اپنی سواری کو سونے یا چاندی سے بھرا ہو اور تجارت کی غرض سے جنگ میں گیا ہو لہٰذا یہ مت کہو۔ لیکن ایسے ہی کہو جیسا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا : کرتے تھے کہ جو شخص فی سبیل اللہ قتل ہوا یا مرگیا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ رواہ عبدالرزاق والطبرانی والحمیدی والضیاء وابن سعد وابوعبید الغریب وابن ابی شیبۃ واحمد بن حنبل والعدنی والدارمی وابوداؤد والترمذی وقال : صحیح والنسائی وابن ماجہ وابویعلی وابن حبان وابن عساکر والدارقطنی فی الافراد و ابونعیم فی الحلیۃ والبیہقی و سعید بن المنصور وقال احمد شاکر اسنادہ صحیح
45789- عن أبي العجفاء قال: خطب عمر فقال: ألا! لا تغلوا صداق النساء، فإنها لو كانت مكرمة في الدنيا أو تقوى عند الله كان أولاكم بها النبي صلى الله عليه وسلم؛ ما أصدق رسول الله صلى الله عليه وسلم امرأة من نسائه ولا أصدقت امرأة من بناته أكثر من اثنتي عشرة أوقية، وإن الرجل ليبتلى بصدقة امرأته وقال مرة: إن أحدكم ليغلى صدقة المرأة حتى يكون لها عداوة في نفسه، وهي تقول: قد كلفت إليك علق القربة؛ وأخرى تقولونها لمن قتل في مغازيكم أو مات قتل فلان شهيدا أو مات فلان شهيدا، ولعله يكون قد أوقر عجز دابته أو دف راحلته ذهبا أو ورقا يلتمس التجارة، لا تقولوا ذلك، ولكن قولوا كما قال النبي صلى الله عليه وسلم: "من قتل أو مات في سبيل الله فهو في الجنة. " عب، ط، والحميدي، ض، وابن سعد، وأبو عبيد في الغريب، ش، حم 1، والعدني، والدارمي، د، ت - وقال: صحيح، ن، هـ، ع، حب، كر، قط في الأفراد، حل، ق، ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہر کا بیان
45790 مسروق کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک مرتبہ منبر پر تشریف لائے پھر فرمایا : اے لوگو ! تم عورتوں کے مہروں کو کیوں کر بڑھا رہے ہو ؟ حالانکہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ کرام (رض) کے ہاں عورتوں کا مہر چار سو درہم سے کم ہوتا تھا۔ اگر مہروں کی زیادتی اللہ تعالیٰ کے ہاں باعث تقویٰ یا شرافت ہوتی تم ان سے آگے نہ بڑھ سکتے۔ رواہ سعید بن المنصور وابویعلی
45790- عن مسروق قال: ركب عمر بن الخطاب المنبر ثم قال: أيها الناس! ما إكثاركم في صداق النساء! وقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وإنما الصداق فيما بينهم أربعمائة درهم فما دون ذلك، فلو كان الإكثار في ذلك تقوى عند الله أو مكرمة لم تسبقوهم إليها. "ص، ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہر کا بیان
45791 عبدالرحمن بن بیلمانی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ہمیں خطاب کرتے ہوئے فرمایا : تم میں سے جو رنڈوے ہوں ان کی شادی کرادو۔ صحابہ کرام (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ان کے آپس کے درمیان کیا علائق ہوسکتے ہیں ؟ ارشاد فرمایا : جس پر ان کے گھر والے آپس میں راضی ہوں۔ رواہ ابن مردویہ والبیہقی وقال : لیس بمحفوظ قال : قدروی عن عبدالرحمن عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) وروی عنہ عن ابن عباس عن النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)
45791- عن عبد الرحمن بن البيلماني عن عمر بن الخطاب قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "أنكحوا الأيامى منكم، قالوا: يا رسول الله! فما العلائق بينهم؟ قال: ما تراضى عليه أهلوهم. " ابن مردويه، ق وقال: ليس بمحفوظ؛ قال: قد روي عن عبد الرحمن عن النبي صلى الله عليه وسلم؛ وروى عنه ابن عباس عن النبي صلى الله عليه وسلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مہر کا بیان
45792 ابن سیرین کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے دو ہزار درہم مہر مقرر کرنے میں رخصت دی ہے اور حضرت عثمان (رض) نے چار ہزار درہم کی رخصت دی ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
45792- عن ابن سيرين أن عمر رخص أن تصدق المرأة ألفين، ورخص عثمان في أربعة آلاف. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45793 نافع کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کرنے سے منع فرمایا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
45793- عن نافع أن عمر نهى أن تزداد النساء على أربعمائة. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45794 نافع کی روایت ہے کہ ابن عمر (رض) نے صفیہ نامی عورت سے چار سو درہم پر شادی کی صفیہ نے ابن عمر (رض) کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں یہ مہر کافی نہیں ہے۔ چنانچہ ابن عمر (رض) نے حضرت عمر (رض) سے مخفی دو سو درہم کا اضافہ کیا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
45794- عن نافع قال: تزوج ابن عمر صفية على أربعمائة درهم، فأرسلت إليه أن هذا لا يكفينا، فزادها مائتين سرا من عمر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45795 سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فیصلہ صادر کیا تھا کہ جب کوئی مرد کسی عورت سے شادی کرتا ہے تو پردے لٹکادینے پر مہر واجب ہوجاتا ہے۔۔ رواہ مالک والشافعی والبیہقی
45795- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب قضى، المرأة يتزوجها الرجل أنه إذا أرخيت الستور فقد وجب الصداق. "مالك، والشافعي، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45796 شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے اللہ تعالیٰ کی حمدوثنا کے بعد خطاب کرتے ہوئے فرمایا : خبردار عورتوں کے مہر میں زیادہ گرانی سے کام مت لو۔ چنانچہ مجھے جس شخص کے متعلق بھی خبر ملی کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چلائے ہوئے مہر سے زیادہ مقرر کیا تو زیادتی کرکے بیت المال کے حوالے کی جائے گی۔ پھر آپ منبر سے نیچے اتر آئے۔ اتنے میں قریش کی ایک عورت کھڑی ہوئی اور کہنے لگی : اے امیر المومنین ! کیا کتاب اللہ اتباع کے زیادہ لائق ہے یا آپ کا قول ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : کتاب اللہ اتباع کے زیادہ لائق ہے اور تم نے یہ سوال کیوں کیا ؟ وہ بولی : آپ نے ابھی ابھی لوگوں کو عورتوں کے مہروں میں گرانی کرنے سے منع کیا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتا ہے۔ وآتیتم احداھن قنطار افلاتاخذوا منہ شیئا۔ عورتوں میں سے جس کو تم نے (مہر میں) ڈھیروں مال دیا ہو اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔ آپ (رض) نے فرمایا : اس عورت کی بات میں عمر کی بات سے زیادہ فقاھت ہے آپ نے دو یا تین بار یہ بات فرمائی۔ آپ (رض) پھر منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور لوگوں سے فرمایا : میں نے تمہیں عورتوں کے مہروں میں گرانی کرنے سے منع کیا تھا لہٰذا آدمی جو چاہے اپنے مال میں کرے اسے پورا اختیار ہے۔ رواہ سعید ابن المنصور والبیہقی
45796- عن الشعبي قال: خطب عمر بن الخطاب فحمد الله وأثنى عليه وقال: ألا! لا تغالوا في صداق النساء، وأنه لا يبلغني عن أحد ساق أكثر من شيء ساقه رسول الله صلى الله عليه وسلم أو سيق إليه إلا جعلت فضل ذلك في بيت المال - ثم نزل، فعرضت له امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين! لكتاب الله أحق أن يتبع أم قولك؟ قال: كتاب الله، فما ذاك؟ قالت: نهيت الناس آنفا أن يتغالوا في صداق النساء، والله تعالى يقول في كتابه {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً فَلا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئاً} فقال عمر: كل أحد أفقه من عمر - مرتين أو ثلاثا! ثم رجع إلى المنبر فقال للناس: إني كنت نهيتكم أن تغالوا في صداق النساء، فليفعل رجل في ماله ما بدا له. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮০৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45797 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اگر مہر آخرت میں رفعت بلندی درجات کا ذریعہ ہوتا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹیاں اور آپ کی بیویاں اس کی زیادہ حقدار تھیں۔۔ رواہ ابو عمر ابن فضالۃ فی امالیہ
45797- عن عمر قال: لو كان المهر سناء ورفعة في الآخرة كان بنات النبي صلى الله عليه وسلم ونساؤه أحق بذلك. "أبو عمر ابن فضالة في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45798 مسروق کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) منبر پر تشریف لے گئے اور فرمایا : میں نہیں جانتا کہ کسی نے چار سو درہم سے زیادہ مہر مقرر کیا ہو۔ چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ (رض) کا آپس میں مہر چار سو درہم ہوتا تھا۔ یا اس سے کم تھا مہور میں زیادتی اگر باعث شرافت یا تقویٰ ہوتی تم ان پر سبقت نہ لے جاسکتے ۔ پھر آپ (رض) منبر سے نیچے اتر آئے ۔ اسی اثناء میں قریش کی ایک عورت آپ کے آڑے آگئی اور کہنے لگی : اے امیر المومنین ! آپ لوگوں کو مہروں میں چار سو درہم سے زیادتی کرنے سے منع کرتے ہیں فرمایا : جی ہاں۔ عورت بولی کیا آپ نے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد نہیں سنا۔ واتیتم، احداھن قنطار الایۃ۔ فرمایا : جی ہاں یہ آیت سنی ہے لوگوں میں ہر آدمی عمر سے زیادہ فقاھت کا مالک ہے۔ آپ (رض) منبر پر دوبارہ تشریف لائے اور فرمایا : اے لوگو ! میں نے تمہیں عورتوں کے مہر کے متعلق چار سو درہم سے زیادہ مقرر کرنے سے منع کیا تھا تم میں سے جو شخص اپنی دلی خوشی سے جتنا مال دینا چاہے دے سکتا ہے۔ رواہ سعید بن المنصور وابویعلی والمحاملی فی امالیہ
45798- عن مسروق قال: ركب عمر المنبر فقال: لا أعرف من زاد الصداق على أربعمائة درهم، فقد كان رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه وإنما الصدقات فيما بينهم أربعمائة درهم فما دون ذلك، ولو كان الإكثار في ذلك تقوى أو مكرمة لما سبقتموهم إليها - ثم نزل، فاعترضته امرأة من قريش فقالت: يا أمير المؤمنين! نهيت الناس أن يزيدوا في صدقاتهن على أربعمائة درهم؟ قال: نعم، قالت أما سمعت الله يقول في القرآن {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً} الآية فقال: اللهم! غفرا، كل الناس أفقه من عمر! ثم رجع فركب المنبر فقال: أيها الناس! إني كنت نهيتكم أن تزيدوا في صدقاتهن على أربعمائة، فمن شاء أن يعطي من ماله ما أحب أو ما طابت نفسه فليفعل. "ص، ع، والمحاملي في أماليه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45799 عبدالرحمن سلمی کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : عورتوں کے مہر میں گرانی مت کرو۔ عورتوں میں سے ایک عورت بولی : اے عمر ! آپ کو اختیار نہیں ہے۔ چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ وآتیتم احدا ھن قنطار ا من ذھب ابن مسعود (رض) کے قرآن میں یہی ہے عمر (رض) نے فرمایا : ایک عورت نے عمر کے ساتھ جھگڑا کیا اور وہ عمر پر غالب رہی۔ رواہ عبدالرزاق وابن المنذر چالیس اوقیہ (480 درہم) مہر
45799- عن عبد الرحمن السلمي قال قال عمر بن الخطاب: لا تغالوا في مهور النساء، فقالت امرأة منهن: ليس ذلك لك يا عمر! إن الله تعالى يقول: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً} من ذهب - قال: وكذلك هي قراءة ابن مسعود، فقال عمر: إن امرأة خاصمت عمر فخصمته. "عب، وابن المنذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45800 عبداللہ بن مصعب کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عورتوں کے مہور میں چالیس اوقیہ سے زیادہ بڑھوتری مت کرو۔ جس شخص نے اس سے زیادہ مہر مقرر کیا زیادتی کو میں بیت المال میں ڈالوادوں گا اتنے میں ایک عورت بولی : آپ کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔ آپ (رض) نے فرمایا : وہ کیوں ؟ عورت بولی چونکہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ وآتیتم احداھن قنطار الآیۃ۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عورت نے درت کہا جبکہ مرد نے خطا کی۔۔ رواہ الزبیر بن بکار فی الموفیات وابن عبدالبر فی العلم
45800- عن عبد الله بن مصعب قال قال عمر: لا تزيدوا في مهور النساء على أربعين أوقية، فمن زاد ألقيت الزيادة في بيت المال، فقالت امرأة: ما ذاك لك! قال: ولم! قالت: لأن الله تعالى يقول: {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً} - الآية فقال عمر: امرأة أصابت ورجل أخطأ. "الزبير بن بكار في الموفقيات، وابن عبد البر في العلم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45801 بکر بن عبداللہ مزنی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں گھر سے باہر نکلا تھا تاکہ تمہیں عورتوں کے مہور میں زیادتی وگرانی سے روکوں لیکن کتاب اللہ کی ایک آیت میرے آڑے آگئی۔ چنانچہ فرمان باری تعالیٰ ہے۔ وآتیتم احدا ھن قنطار الآیۃ، رواہ سعید بن المنصور وعبد بن وحید والبیہقی
45801- عن بكر بن عبد الله المزني قال قال عمر: خرجت وأنا أريد أن أنهاكم عن كثرة الصداق فعرضت لي آية من كتاب الله {وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنْطَاراً} . "ص، وعبد بن حميد، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45802” مسند ابن حدرداسلمی “ ابوحدردا سلمی کی روایت ہے کہ میں نے نکاح کے معاملہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استعانت لی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھ سے پوچھا تم نے کتنا مہر مقرر کیا ہے میں نے عرض کیا : دو سو درہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم بطحان کو جانتے مہر میں اس قدر زیادتی نہ کرتے۔ رواہ ابونعیم فی المعرفۃ
45802- "مسند أبي حدرد الأسلمي" عن أبي حدرد الأسلمي أنه استعان رسول الله صلى الله عليه وسلم في نكاح فقال: كم أصدقت؟ قال: مائتي درهم، فقال: لو كنتم تعرفون من بطحان ما زدتم. " أبو نعيم في المعرفة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45803” مسند سھل بن سعد ساعدی “ سھل بن سعد (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا : چلے جاؤ میں نے تم دونوں کی شادی کرادی ۔ اپنی اس بیوی کو قرآن مجید کی کوئی سورت سکھادو۔ رواہ ابن ابی شبیۃ
45803- "من مسند سهل بن سعد الساعدي" أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل: "انطلق فقد زوجتكما، فعلمها سورة من القرآن. " ش".
tahqiq

তাহকীক: