কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৫৮১৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45804 حضرت سہل بن سعد ساعدی (رض) کی روایت ہے کہ ایک عورت نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی ذات کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور پیش کیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خاموش رہے۔ اس نے پھر اپنے آپ کو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے پیش کیا آپ (رض) پھر خاموش رہے میں نے اس عورت کو تھوڑی دیر کھڑے دیکھا کہ وہ اپنے تئیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پیش کررہی تھی لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بدستور خاموش رہے۔ اتنے میں ایک آدمی کھڑا ہوا میرے خیال میں وہ انصار سے تھا کہنے لگا : یارسول اللہ اگر آپ کو اس عورت سے شادی کرنے کی حاجت نہیں تو میری شادی کرادیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے پاس کوئی چیز ہے ؟ عرض کیا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ حکم ہوا۔ جاؤ تلاش کرو شاید کوئی چیز مل جائے گو کہ لوہے کی انگوٹھی ہی کیوں نہ ہو۔ چنانچہ وہ آدمی چلا گیا اور پھر واپس لوٹ آیا کہنے لگا بخدا ! میں نے اس کپڑے کے سوا کچھ نہیں پایا جسے میں اپنے اور اس عورت کے درمیان نصف نصف کردوں گا۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ! یہ کپڑا تمہیں کس طرح بےنیاز نہیں کرتا ہے۔ کیا تمہیں قرآن مجید میں سے کچھ یاد ہے ؟ عرض کیا : جی ہاں۔ حکم ہوا کیا ؟ ۔ عرض کیا : فلاں اور فلاں سورتیں مجھے یاد ہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جاؤ میں نے یہ عورت تمہارے پاس موجود قرآن کی وجہ سے تمہارے ملک میں دے دی چنانچہ میں نے وہ آدمی چلتا ہوا دیکھا اور وہ عورت بھی اس کے پیچھے پیچھے جارہی تھی۔ رواہ عبدالرزاق
45804- عن سهل بن سعد الساعدي أن امرأة جاءت النبي صلى الله عليه وسلم فوهبت نفسها له، فصمت، ثم عرضت نفسها له، فصمت، فلقد رأيتها قائمة مليا تعرض نفسها عليه وهو صامت، فقام رجل أحسبه من الأنصار فقال: يا رسول الله! إن لم يكن لك بها حاجة فزوجنيها، قال: لك شيء؟ قال: لا والله يا رسول الله! قال: اذهب فالتمس شيئا ولو خاتما من حديد! فذهب ثم رجع فقال: والله ما وجدت شيئا غير ثوبي هذا أشقه بيني وبينها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "ما في ثوبك فضل عنك، فهل تقرأ من القرآن؟ قال نعم، قال: ماذا؟ قال: سورة كذا وكذا وسورة كذا وكذا، قال: اذهب فقد املكتها بما معك من القرآن؛ فرأيته يمضي وهي تتبعه. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45805” مسندعامر بن ربیعہ “ عامر بن ربیعہ کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص نے جوتوں پر شادی کی تھی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس نکاح کو جائز قرار دیا تھا۔ رواہ ابن ابی شیبۃ
45805- "مسند عامر بن ربيعة" إن رجلا تزوج على عهد النبي صلى الله عليه وسلم على نعل، فأجاز النبي صلى الله عليه وسلم نكاحه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45806” ایضاً “ قبیلہ بنو فزارہ کی ایک عورت نے جوتوں پر ایک شخص سے شادی کی یہ معاملہ حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم ان دو جوتوں پر راضی ہو ؟ عرض کیا : میں نے اپنے لیے یہی بہتر سمجھا ہے۔ ارشاد فرمایا : میں بھی اسی کو تمہارے لیے بہتر سمجھتا ہوں۔ رواہ ابن عساکر ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے ذخیرۃ الحفاظ 840 و ضعیف الترمذی 190
45806-[أيضا] إن امرأة من بني فزارة تزوجت رجلا على نعلين، فرفع ذلك إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال لها: "ارضيت لنفسك نعلين؟ قالت: إني رأيت ذلك، قال: وأنا أرى ذلك. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮১৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45807” ایضاً “ قبیلہ بنو فزارہ ککا ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا : میں نے نعلین (جوتے) کے بدلہ میں ایک عورت سے نکاح کرلیا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عورت سے فرمایا : کیا تم نعلین پر راضی ہو ؟ تمہارا حال اس عورت کے حال کے مطابق ہے۔ رواہ ابن عساکر
45807-[أيضا] أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل من بني فزارة بامرأة فقال: إني تزوجتها بنعلين، فقال لها: "ارضيت؟ فقالت: نعم، ولو لم يعطنى لرضيت، قال: شأنك وشأنها. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45808 اسماعیل بن قعقاع بن عبداللہ ابن ابی حدرد کی روایت ہے کہ میرے دادا عبداللہ بن ابی حدرد نے ایک عورت کے ساتھ چار اوقیہ چاندی مہر پر شادی کی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر کی گئی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم کسی پہاڑ کا دامن کھودلاؤ یا فرمایا کہ احد کھود لاؤ پھر بھی تم اس سے زیادہ اضافہ نہیں کرسکتے ہمارے ہاں اس کا نصف مہ رہے ۔ عبداللہ کہتے ہیں : میں چل پڑا اور یہ رقم جمع کرکے عورت کے حوالے کردی پھر میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی خبر کی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں ایسا نہیں کہا تھا کہ ہمارے ہاں اس کا نصف مہر ہے شاید تم نے میرے کہنے کی وجہ سے ایسا کیا ہے میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نہیں ! میرے پاس بس یہی تھا۔ رواہ ابن عساکر
45808- عن إسماعيل بن القعقاع بن عبد الله بن أبي حدرد أنه قال: تزوج جدي عبد الله بن حدرد امرأة بأربع أواق، فأخبر ذلك رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو كنتم تنحتون من فناء جبل - أو قال: من أحد - ما زدتم على ذلك، عندنا نصف صداقها، قال عبد الله: فانطلقت فجمعتها فأديتها إلى امرأتي، ثم انبأت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ألم أكن قلت لك: عندنا نصف الصداق، فلعلك إنما فعلت ذلك لما كان من قولي! قلت: لا يا رسول الله! وما كان بي إلا ذلك. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ چار سو درہم سے زائدمہر کی ممانعت
45809 ابن عباس (رض) سے سوال پوچھا گیا کہ جو شخص کسی عورت سے شادی کرے اور اس کے لیے مہر بھی مقرر کردے وہ مہر ادا کرنے سے پہلے اس عورت سے ہمبستری کرسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : وہ اس کے ساتھ ہمبستری نہیں کرسکتا حتیٰ کہ مہر ادا نہ کردے اگرچہ اس کے جوتے ہی کیوں نہ ہوں۔ رواہ ابن جریر
45809- عن ابن عباس أنه سئل عن رجل تزوج امرأةوفرض لها هل له أن يدخل بها ولم يعطها شيئا، قال: لا يدخل بها حتى يعطيها ولو نعليه. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45810 ابن عباس (رض) نے فرمایا : جب کوئی شخص کسی عورت سے شادی کرے اگر اس سے ہوسکے تو عورت کے ساتھ ہمبستری نہ کرے حتیٰ کہ اسے کچھ دے دے، اگر وہ اپنے پاس کچھ نہ پاتا ہو سوائے ایک جوتے کے وہی اتار کر عورت کو دے دے۔ رواہ ابن جریر
45810- عن ابن عباس قال: إذا تزوج الرجل المرأة فإن استطاع أن لا يدخل عليها حتى يعطيها شيئا، فإن لم يجد إلا إحدى نعليه فليخلعها فليعطها إياها. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45811 شعبی کی روایت ہے کہ عمر بن حریث نے عدی بن حاتم کے پاس پیغام نکاح بھیجا : انھوں نے جواب دیا : میں اس عورت کے ساتھ تمہارا نکاح نہیں کراؤں گا مگر اپنے حکم کے مطابق عمرو نے کہا : وہ کیا حکم ہے ؟ عدی (رض) نے جواب دیا : البتہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے میں تمہارے لیے حضرت عائشہ (رض) کے مہر کا حکم تجویز کرتا ہوں چنانچہ ان کا مہر چار سو اسی (480) درہم تھے۔ رواہ ابن عساکر
45811- عن الشعبي أن عمرو بن حريث خطب إلى عدي بن حاتم فقال: لا أزوجكها إلا على حكمي، قال: وما هو؟ قال: لقد كان لكم في رسول الله أسوة حسنة، حكمت عليك بمهر عائشة ثمانين وأربعمائة درهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45812 حمید بن ہلال کی روایت ہے کہ عمرو بن جریح (رض) نے عدی بن حاتم کے ہاں پیغام نکاح بھیجا انھوں نے جواب دیا کہ میں تمہاری شادی نہیں کروں گا مگر اپنے ایک حکم پر عمرو (رض) نے کہا : مجھے پتہ تو چلے آپ مجھ پر کیا حکم لگا رہے ہیں ؟ عدی (رض) نے عمرو (رض) کو پیغام بھیجا کہ چار سو اسی (480) درہم کا تمہارے لیے حکم صادر کرتا ہوں جو کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت ہے۔ رواہ ابن عساکر
45812- عن حميد بن هلال قال: خطب عمرو بن حريث إلى عدي بن حاتم فقال: لا أزوجك إلا على حكمي، فقال: عرفني ما حكمت به علي، فأرسل إليه أني حكمت بأربعمائة درهم وثمانين درهما سنة رسول الله صلى الله عليه وسلم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45813 عطاء کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک باندی آزاد کی اور اس کی آزادی کو اس کا مہر قرار دیا۔ رواہ عبدالرزاق
45813- عن عطاء أن النبي صلى الله عليه وسلم أعتق أمة وجعل مهرها عتقها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45814 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں کل مہر کی کم از کم وہ مقدار جس سے کسی عورت کی شرمگاہ حلال ہوتی ہے وہ دس درہم ہے۔ رواہ البیہقی وضعفہ
45814- عن علي قال: أدنى ما يستحل به الفرج عشرة دراهم. "ق، وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45815 حضرت علی (رض) فرماتے ہیں : مہر دس درہم سے کم نہیں ہے۔ رواہ الدارقطنی والبیہقی وضعفہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے الاباطیل 532
45815- عن علي قال: لا صداق دون عشرة دراهم. "قط، ق، وضعفه".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45816” مسند عطی “ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : مہر کی مقدار بس اتنی ہے جتنی پر میاں بیوی آپس میں راضی ہوجائیں۔ رواہ الدارقطنی والبیہقی
45816- "مسند علي" عن جعفر بن محمد عن أبيه أن عليا قال: ما تراضى به الزوجان. "قط، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45817 حضرت علی (رض) نے اس عورت کے متعلق فرمایا جس کا خاوند مرجائے اور اس کا مہر مقرر نہ ہو فرمایا کہ اس کے لیے میراث ہوگی، اس پر عدت واجب ہے اور اس کے لیے مہر نہیں ہوگا۔ نیز آپ (رض) نے فرمایا : ایسے دیہاتی کا قول قابل قبول نہیں ہوگا جو کتاب اللہ پر سینہ زوری کرتا ہو۔۔ رواہ سعید بن المنصور والبیہقی
45817- عن علي أنه قال في المتوفى عنها ولم يفرض لها صداقا لها الميراث وعليها العدة ولا صداق لها، وقال: لا يقبل قول أعرابي من أشجع على كتاب الله. "ص، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45818 حضرت انس (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے گٹھلی کے برابر سونے پر شادی کرلی تھی اس سونے کی قیمت تین درہم اور تہائی درہم لگائی گئی تھی۔۔ رواہ ابن ابی شیبۃ وھو صحیح
45818- عن أنس قال: تزوج عبد الرحمن بن عوف على وزن نواة من ذهب قومت ثلاثة دراهم وثلثا. "ش، وهو صحيح".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ ہمبستری سے پہلے مہرادا کرے
45819 عطاء اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ بشیر بن سعد انصاری نے ایک عورت کے ساتھ شادی کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی قوم سے کچھ مانگو اور پھر اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ چنانچہ بشیر نے سوال کیا اور انھیں ایک قیراط سونا دیا گیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ اپنے گھر والوں کو دو اور پھر ان کے پاس جاؤ۔ رواہ ابن جریر
45819- عن ابن عطاء عن أبيه قال: تزوج بشر بن سعد الأنصاري امرأة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: سل في قومك وادخل على أهلك، فسأل فأعطى قيراطا من ذهب، فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يدفع إلى أهله ويدخل عليها. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے نکاح کا بیان
45820 حضرت عمر (رض) نے فرمایا : غلام دو عورتوں سے شادی کرسکتا ہے دو طلاقیں دے سکتا ہے اور لونڈی دو حیض عدت گزارے گی اگر باندی کو حیض نہ آتا ہو تو دو مہینے یا ڈیڑھ مہینہ اس کی عدت ہوگی۔ رواہ الشافعی والبیہقی فی شعب الایمان
45820- عن عمر قال: ينكح العبد امرأتين ويطلق تطليقتين وتعتد الأمة حيضتين، فإن لم تكن تحيض فشهرين أو شهرا ونصفا. "الشافعي، هب، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے نکاح کا بیان
45821 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں غلام جب آزاد عورت سے نکاح کرتا ہے گویا وہ آزاد ہوجاتا ہے اور آزاد شخص جب باندی سے نکاح کرتا ہے گویا وہ آدھا غلام ہوجاتا ہے۔۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبۃ والدارمی
45821- عن عمر قال: إذا نكح العبد الحرة فقد أعتق نصفه، وإذا نكح الحر الأمة فقد أرق نصفه. "عب، ص، ش، والدارمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے نکاح کا بیان
45822 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں۔ غلام جب اپنے آقاؤں کی اجازت کے بغیر نکاح کرلیتا ہے اس کا نکاح حرام ہے۔ اس کے آقاؤں نے جب اسے نکاح کی اجازت دے دی تو طلاق کا اختیار اس شخص کے ہاتھ میں ہوگا جس نے شرمگاہ کو حلال سمجھا۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ
45822- عن عمر قال: إذا نكح العبد بغير إذن مواليه فنكاحه حرام، وإذا نكح باذن مواليه فالطلاق بيد من يستحل الفرج. "عب، ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ غلام کے نکاح کا بیان
45823 حکم کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک عورت کے متعلق جس نے اپنے غلام سے شادی کرلی تھی حکم لکھا کہ ان دونوں میں تفریق کردی جائے اور عورت پر حد جاری کی جائے۔
45823- عن الحكم أن عمر كتب في امرأة تزوجت عبدها أن يفرق بينهما ويقام الحد عليها. "ش".
tahqiq

তাহকীক: