কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৫৮৫৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے نکاح کا بیان
45844 سعید بن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت حذیفہ بن یمان (رض) نے کوفہ میں اہل کتاب کی ایک عورت سے نکاح کرلیا تھا۔ خبر ملنے پر حضرت عمر (رض) نے حضرت حذیفہ (رض) کو خط لکھا کہ اس یہودیہ عورت سے علیحدگی اختیار کرلو چونکہ تم مجوسیوں کی زمین میں ہو مجھے خدشہ ہے کہ کہیں کوئی جاہل یہ نہ کہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابی نے کافرہ عورت سے شادی کرلی اور یوں اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی رخصت کو اتنا عام سمجھنے لگے گا کہ لوگ پھر مجوسیوں کی عورتوں سے بھی نکاح کرنے لگیں گے۔ لہٰذا اس عورت سے علیحدگی اختیار کرلو۔ رواہ عبدالرزاق
45844- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب كتب إلى حذيفة بن اليمان وهو بالكوفة ونكح امرأة من أهل الكتاب فكتب أن فارقها فإنك بأرض المجوس فإني أخشى أن يقول الجاهل: قد تزوج صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم كافرة، ويحلل الرخصة التي كانت من الله عز وجل فيتزوجوا نساء المجوس، ففارقها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৫৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے نکاح کا بیان
45845 سلیمان شیبانی کہتے ہیں مجھے اس عورت کے بیٹے نے خبر دی ہے کہ جس کے خاوند پر اسلام پیش کرنے پر حضرت عمر (رض) نے ان دونوں کے درمیان تفریق کردی تھی اس نے اسلام قبول کرنے سے انکار کردیا تھا آپ (رض) نے دونوں کے درمیان تفریق کردی تھی۔ رواہ عبدالرزاق
45845- عن سليمان الشيباني قال: أنبأني ابن المرأة التي فرق بينهما عمر حين عرض عليه الإسلام، فأبى ففرق بينهما. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৫৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے نکاح کا بیان
45846 زید بن وھب کہتے ہیں حضرت عمر (رض) نے خط لکھا کہ مسلمان مرد نصرانیہ عورت سے نکاح کرسکتا ہے جبکہ نصرانی مرد مسلمان عورت سے نکاح نہیں کرسکتا۔ مہاجراعرابیہ (دیہاتی) خاتون سے نکاح کرسکتا ہے جبکہ دیہاتی مرد یعنی اعرابی مہاجرہ عورت سے نکاح نہیں کرسکتا چونکہ وہ اسے دارالھجرات سے باہر نکال کرلے جائے گا جس شخص نے اپنے کسی قریبی رشتہ دار کو ھبہ کیا اس کا ھبہ جائز ہے اور جس شخص نے غیر رشتہ دار کو ھبہ کیا اور وہ ھبہ کا بدلہ نہ دے سکا وہ خود اس ھبہ کا زیادہ حقدار سمجھا جائے گا۔ رواہ عبدالرزاق
45846- عن زيد بن وهب قال: كتب عمر بن الخطاب أن المسلم ينكح النصرانية، والنصراني لا ينكح المسلمة، ويتزوج المهاجر الأعرابية، ولا يتزوج الأعرابي المهاجرة ليخرجها من دار هجرتها، ومن وهب هبة لذى رحم جازت هبته، ومن وهب لغير ذي رحم فلم يثبه من هبته فهو أحق بها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৫৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے نکاح کا بیان
45847 حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں : اہل کتاب کی عورتیں ہمارے لیے حلال ہیں جبکہ ہماری عورتیں ان پر حرام ہیں۔ رواہ عبدالرزاق
45847- عن جابر قال: نساء أهل الكتاب لنا حل، ونساؤنا عليهم حرام. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ کافر کے نکاح کا بیان
45848” ایضاً “ ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ (رض) کو فرماتے ہوئے سنا کہ وہ شخص جس کی باندی مسلمان ہو اور غلام نصرانی ہو آیا باندی سے غلام کی شادی کراسکتا ہے ؟ آپ (رض) نے فرمایا : نہیں۔۔ رواہ عبدالرزاق
45848- "أيضا" عن أبي الزبير أنه سمع جابر بن عبد الله يقول في الرجل له الأمة المسلمة وعبد نصراني أيزوج العبد الأمة؟ قال: لا. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب سے نکاح
45849 معمر زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں میری قوم کے ایک شخص نے اہل کتاب کی ایک عورت سے نکاح کرلیا تھا۔ رواہ عبدالرزاق
45849- عن معمر عن الزهري قال: نكح رجل من قومي في عهد النبي صلى الله عليه وسلم امرأة من أهل الكتاب. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب سے نکاح
45850 معمر، زہری سے روایت نقل کرتے ہیں کہ انھیں حدیث پہنچی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں عورتیں کسی جگہ اسلام لے آتی تھیں اور ہجرت نہیں کرتی تھیں جب وہ اسلام لاتی تھیں ان کے شوہر بدستور کافر ہوتے تھے۔ ایسی عورتوں میں سے ایک عاتکہ بنت ولید بن مغیرہ بھی ہے وہ صفوان بن امیہ کے نکاح میں تھی چنانچہ عاتکہ فتح مکہ کے دن اسلام لے آئی اور اس کا شوہر صفوان بن امیہ اسلام سے بھاگ گیا اور سمندر کی طرف چلا گیا۔ اس کے چچا زاد بھائی وھب بن عمیر بن وھب بن خلف نے صفوان کی طرف رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی چادر لے کر قاصد بھیجا کہ واپس لوٹ آؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں امان دے دیا ہے اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے اسلام کی دعوت دی کہ اگر اسلام لانا چاہے تو اسلام لے آئے ورنہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے دو ماہ کے لیے جلاوطن کردیں گے چنانچہ جب صفوان بن امیہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آپ کی چادر لے کر واپسی لوٹا تو اس نے سرعام گھوڑے پر سوار ہوئے ہوئے اعلان کیا کہ اے محمد ! یہ وھب بن عمیر میرے پاس تمہاری چادر لایا ہے اور یہ کہتا ہے کہ تم نے مجھے مکہ واپس آنے کی دعوت دی ہے اگر میں تمہاری بات سے رضامند ہوجاؤں تو اچھا ہے ورنہ تم نے مجھے دو مہینے کی مہلت دی ہے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابو وھب ! نیچے اترو صفوان نے جواب دیا بخدا ! میں اس وقت تک نیچے نہیں اتروں گا جب تک تم واضح نہیں کردوں گے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا بلکہ تمہیں چار ماہ کی مہلت ہے۔ اس کے بعد رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لشکر کے ساتھ ھوازن کی طرف تشریف لے گئے اور صفوان کو پیغام بھیج کر اسلحہ عاریۃ طلب کیا صفوان نے کہا : کیا مجھ سے اسلحہ بخوشی طلب کیا جارہا ہے یا زبردستی ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیں اسلحہ بخوشی چاہیے۔ چنانچہ صفوان کے پاس جس قدر اسلحہ تھا بخوشی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو عاریۃ بھیجوادیا۔ جب کہ صفوان بذات خود رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ چل دیا ابھی اس نے اسلام نہیں لایا تھا بدستور کافر ہی تھا۔ چنانچہ بحالت کفر وہ حنین وطائف میں شریک رہا جبکہ اس کی بیوی اسلام لاچکی تھی۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان اسی عرصہ میں تفریق نہیں کی ہے۔ بالآخر صفوان اسلام لے آیا اور سابق نکاح ہی میں اس کی بیوی اس کے پاس رہی۔ اسی طرح ام حکیم بنت حارث بن ہشام فتح مکہ کے موقع پر اسلام لے آئے جب کہ ان کے شوہر عکرمہ بن ابی جہل اسلام سے بھاگ کر یمن آچکے تھے۔ ام حکیم بنت حارث ان کے پیچھے سفر کرکے یمن آگئیں اور انھیں اسلام کی دعوت دی عکرمہ (رض) نے اسلام قبول کرلیا ام حکیم انھیں لے کر رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئیں جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) کو دیکھا تو خوشی سے عکرمہ (رض) کی طرف کو دپڑے اور ان سے بیعت لے لی۔ ہمیں خبر نہیں پہنچی کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عکرمہ (رض) اور ان کی بیوی ام حکیم کے درمیان تفریق کی ہو ۔ بلکہ وہ دونوں سابق نکاح پر ہی قائم رہے۔ ہمیں یہ خبر بھی نہیں پہنچی کہ کسی عورت نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہجرت کی ہو اور اس کا شوہر کافر ہو اور وہ دارالکفار میں ہو مگر ایسا ہوا ہے کہ عورت کی ہجرت نے اس کے اور اس کے کافر شوہر کے درمیان فرقت ڈال دی ہے البتہ اگر وہ بیوی کی عدت گزرنے سے قبل ہجرت کرکے دارالھجرت پہنچ جائے ہمیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ کسی عورت اور اس کے شوہر کے درمیان فرقت ڈالی گئی ہو جب کہ اس کا شوہر بیوی کی عدت کے دورن ہجرت کرکے بیوی کے پاس پہنچا ہو۔ رواہ عبدالرزاق
45850- عن معمر عن الزهري أنه بلغه أن نساء في عهد النبي صلى الله عليه وسلم كن أسلمن بأرض غير مهاجرات وأزواجهن حين أسلمن كفار، منهن عاتكة ابنة الوليد بن المغيرة كانت تحت صفوان بن أمية فأسلمت يوم الفتح بمكة، وهرب زوجها صفوان بن أمية من الإسلام فركب البحر، فبعث رسولا إليه ابن عمه وهب بن عمير بن وهب بن خلف برداء رسول الله صلى الله عليه وسلم أمانا لصفوان، فدعاه النبي صلى الله عليه وسلم إلى الإسلام أن يقدم عليه، فإن أحب أن يسلم أسلم، وإلا سيره رسول الله صلى الله عليه وسلم شهرين، فلما قدم صفوان بن أمية على النبي صلى الله عليه وسلم بردائه ناداه على رؤس الناس وهو على فرسه وقال: يا محمد! إن هذا وهب بن عمير أتاني بردائك يزعم أنك دعوتني إلى القدوم عليك، إن رضيت مني أمرا قبلته وإلا سيرتني شهرين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنزل أبا وهب! قال: لا والله! لا أنزل حتى تبين لي! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا، بل لك سير أربعة أشهر، فخرج رسول الله صلى الله عليه وسلم قبل هوزان بجيش، فأرسل رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى صفوان يستعيره أداة وسلاحا عنده، فقال صفوان: أطوعا أو كرها؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، بل طوعا، فأعاره صفوان الأداة والسلاح التي عنده، وسار صفوان وهو كافر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فشهد حنينا والطائف وهو كافر وامرأته مسلمة، فلم يفرق رسول الله صلى الله عليه وسلم بينه وبين امرأته حتى أسلم صفوان واستقرت امرأته عنده بذلك النكاح، وأسلمت أم حكيم بنت الحارث بن هشام يوم الفتح بمكة، وهرب زوجها عكرمة بن أبي جهل من الإسلام حتى قدم اليمن، فارتحلت أم حكيم بنت الحارث حتى قدمت اليمن، فدعته إلى الإسلام فأسلم، فقدمت به على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلما رآه رسول الله صلى الله عليه وسلم وثب إليه فرحانا عليه رداؤه حتى بايعه، ثم لم يبلغنا أن رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم فرق بينه وبينها، فاستقرت عنده على ذلك النكاح، ولكنه لم يبلغنا أن امرأة هاجرت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وزوجها كافر مقيم بدار الكفار إلا فرقت هجرتها بينها وبين زوجها الكافر، إلا أن يقدم مهاجرا قبل أن تنقضي عدتها، فإنه لم يبلغنا أن امرأة فرق بينها وبين زوجها إذا قدم عليها مهاجرا وهي في عدتها. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب سے نکاح
45851 ابن جریج ایک شخص سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ابن شہاب کہتے ہیں ! نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی زینب (رض) اسلام لاچکی تھیں اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد پہلی ہجرت میں مدینہ پہنچی تھیں جب کہ ان کے شوہر ابوعاص بن ربیع بن عبدالعزی مشرک تھے اور مکہ ہی میں مقیم تھے۔ پھر ابوالعاص مشرک ہی جنگ بدر میں مشرکین کے ساتھ شریک ہوئے بدر میں مسلمانوں نے انھیں قیدی بنالیا تھا، مالدار تھے اس لیے فدیہ دے کررہا ہوگئے تھے پھر احد میں مشرک ہی شریک ہوئے احد سے مکہ واپس لوٹے پھر کچھ عرصہ ہی میں ٹھہرے رہے۔ پھر تجارت کے لیے شام کا سفر کیا اور راستے میں انصار کی ایک جماعت نے انھیں گرفتار کرلیا۔ زینب (رض) (ان کی گرفتاری کی خبر پہنچی تو وہ ) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا : مسلمان مشرکین پر زیادتی کررہے ہیں : ارشاد فرمایا : اے زینب کیا معاملہ ہے ؟ عرض کیا : میں نے ابوالعاص کو پناہ دے دی ہے۔ فرمایا : میں نے تمہاری پناہ کی اجازت دے دی پھر اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کسی عورت کی پناہ کی اجازت نہیں دی۔ چنانچہ ابوالعاص پھر اسلام لے آئے اور اپنے سابق نکاح پر ہی قائم رہے۔ اسی دوران حضرت عمر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زینب (رض) کے لیے پیغام نکاح بھیجتے تھے اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زینب (رض) سے اس کا تذکرہ بھی کیا تھا۔ زینب (رض) نے جواب دیا تھا کہ یارسول اللہ ! جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ابوالعاص آپ کیا چھے داماد ہیں، اگر آپ بہتر سمجھیں تو ان کا انتظار کریں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس موقع پر خاموش رہے تھے ابن شہاب کہتے ہیں : ابوسفیان بن حرب اور حکیم بن حزام مرالظہران کے مقام پر اسلام لائے تھے پھر یہ حضرات اپنی مشرکہ بیویوں کے پاس تھے پھر انھوں نے بھی اسلام قبول کرلیا تھا وہ اپنے سابق نکاح پر ہی قائم رہے تھے۔ چنانچہ مخرمہ کی بیوی شفاء بنت عوف تھیں جو کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) کی بہن تھیں حکیم بن حزام (رض) کی بیوی زینب بنت عوام تھیں، ابوسفیان کی بیوی ھند بنت عتبہ بن ربیعہ تھیں صفوان بن امیہ کے نکاح میں دو عورتیں تھیں عاتکہ بنت ولید اور آمنہ بنت ابی سفیان چنانچہ عاتکہ کے ساتھ آمنہ بنت ابی سفیان بھی فتح مکہ کے بعد اسلام لے آئی تھیں ان کے بعد پھر صفوان (رض) نے اسلام قبول کیا تھا اور وہ دونوں بیویوں کے نکاح پر قائم رہے تھے۔
45851- عن ابن جريج عن رجل عن ابن شهاب قال: أسلمت زينب بنت النبي صلى الله عليه وسلم وهاجرت بعد النبي صلى الله عليه وسلم في الهجرة الأولى وزوجها أبو العاص بن الربيع بن عبد العزى بمكة مشرك، ثم شهد أبو العاص بدرا مشركا فأسر فافتدى وكان موسرا، ثم شهد أحدا أيضا مشركا، فرجع عن أحد إلى مكة، ثم مكث بمكة ما شاء الله، ثم خرج إلى الشام تاجرا فأسره بطريق الشام نفر من الأنصار، فدخلت زينب على النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: إن المسلمين يجبر عليهم أدناهم! قال: وما ذاك يا زينب! قالت: أجرت أبا العاص، قال: قد أجزت جوارك، ثم لم يجز جوار امرأة بعدها، ثم أسلم فكانا على نكاحهما، وكان عمر خطبها إلى النبي صلى الله عليه وسلم بين ظهراني ذلك، فذكر ذلك النبي صلى الله عليه وسلم لها، فقالت: أبو العاص يا رسول الله حيث قد علمت وقد كان نعم الصهر! فإن رأيت أن تنتظره! فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك؛ قال: وأسلم أبو سفيان بن حرب وحكيم بن حزام بمر الظهران، ثم قدموا على نسائهم مشركات فأسلمن، فحبسوا على نكاحهم وكانت امرأة مخرمة شفاء ابنة عوف أخت عبد الرحمن بن عوف، وامرأة حكيم زينب بنت العوام، وامرأة أبي سفيان هند ابنة عتبة ابن ربيعة، وكان عند صفوان بن أمية مع عاتكة ابنة الوليد آمنة ابنة أبي سفيان فأسلمت أيضا مع عاتكة ابنة الوليد آمنة ابنة أبي سفيان بعد الفتح، ثم أسلم صفوان بعد فأقام عليهما.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ اہل کتاب سے نکاح
45852” مسندزبیر “ محمد بن حسین کی روایت ہے کہ معدان بن حواس ثعلبی اور اس کی بیوی دونوں نصرانی تھے۔ حضرت عمر (رض) کے دور خلافت میں اس کی بیوی تو اسلام لے آئی لیکن معدان نے اسلام قبول نہ کیا چنانچہ بیوی اس سے بھاگ کر حضرت عمر (رض) کے پاس آگئی۔ حواس اپنی بیوی کی تلاش میں نکلا حتیٰ کہ مدینہ پہنچ گیا اور حضرت زبیر بن عوام (رض) کے پاس قیام کیا اور زبیر (رض) نے انھیں پناہ دی زبیر (رض) نے حواس سے کہا : کیا تمہاری بیوی کی عدت گزرچکی ہے ؟ اس نے نفی میں جواب دیا چنانچہ حواس اسلام لے آئے اور صبح ہوتے ہی حضرت زبیر (رض) اسے حضرت عمر (رض) کی خدمت میں لے گئے اور حضرت عمر (رض) نے اس کی بیوی اسے واپس لوٹا دی۔ رواہ ابن عساکر
45852- "مسند الزبير" عن محمد بن الحسن قال: كان معدان بن حواس التغلبي وامرأته نصرانيين، فأسلمت امرأته في ولاية عمر بن الخطاب وفرت منه إلى عمر، فخرج معدان يطلبها حتى قدم المدينة، فنزل على الزبير بن العوام فاستجار به، فقال له الزبير: هل انقضت عدتها منك؟ قال: لا، قال: فأسلم، فغدا به الزبير إلى عمر، فرد عليه امرأته. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات نکاح عاتکہ کے نکاح کا واقعہ
45853 ابوسلمہ حضرت عبدالرحمن بن عوف سے روایت نقل کرتے ہیں کہ عاتکہ بنت زید بن عمرو بن نفیل حضرت عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے نکاح میں تھیں، عبداللہ، عاتکہ سے شدید محبت کرتے تھے چنانچہ انھوں نے عاتکہ کے لیے اس شرط پر کہ ان کے بعد وہ کسی سے شادی نہیں کریں گی ایک باغ بھی ان کے لیے مقرر کررکھا تھا چنانچہ عبداللہ (رض) کو غزوہ طائف میں تیر لگا اور رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے چالیس دن بعد عبداللہ (رض) بھی وفات پاگئے عاتکہ نے ان کے مرتبہ میں یہ اشعار کہے۔ آلیت لا تنفک عینی سخینۃ، علیک وال ینفک جلدی اغبرا۔ ترجمہ : میں نے قسم کھائی ہے کہ میری آنکھ تجھ پر ہمیشہ غمزدہ رہے گی اور میرا بدن ہمیشہ غبار آلود رہے گا۔ مدی الدھر ماغنت حمامۃ ایکۃ ۔ وما طرد اللیل الصباح المنورا ۔ ترجمہ : مدت ہوچکی کہ گنجان درخت کی کبوتری نے گانا گایا اور نہ ہی تاریک رات نے صبح روشن کی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے عاتکہ کو پیغام نکاح بھیجا عاتکہ نے جواب دیا : عبداللہ بن ابی بکر نے اس شرط پر کہ میں ان کے بعد شادی نہیں کروں گی مجھے ایک باغ دیا ہے حضرت عمر (رض) نے کہلاوا بھیجا ک کسی اور (صحابی) سے فتویٰ لے لو۔ چنانچہ عاتکہ نے حضرت علی (رض) نے فتویٰ لیا انھوں نے یہ کہا کہ باغ عبداللہ کے ورثاء کو واپس کردو اور پھر شادی کرلو۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے عاتکہ سے شادی کرلی۔ عبداللہ بن ابی بکر (رض) کے بھائی صحابی تھے، حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا آپ مجھے اجازت دیں میں عاتکہ سے بات کرلیتا ہوں آپ (رض) نے فرمایا : آپ بات کرلیں حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے عاتکہ۔ آلیت لا تنفک عینی قریرۃ۔ علیک ولا ینفک جلدی اصفرا۔ میں نے قسم کھائی ہے کہ میری آنکھیں تم سے ہمیشہ ٹھنڈی رہیں اور میرا بدن ہمیشہ زرد رنگ میں آلود رہے حضرت عمر (رض) نے حضرت علی (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہاری مغفرت کرے، میرے خلاف میرے گھر والوں کو مت بگاڑو۔۔ رواہ وکیع واخرجہ ابن سعدفی الطبقات الکبری فی ترجمۃ عاتکۃ ج 8
45853- عن أبي سلمة عن عبد الرحمن بن عوف قال: كانت عاتكة بنت زيد بن عمرو بن نفيل عند عبد الله بن أبي بكر الصديق، وكان يحبها حبا شديدا، فجعل لها حديقة على أن لا تزوج بعده، فرمي بسهم يوم الطائف فانتقض بعد وفاة رسول الله صلى الله عليه وسلم بأربعين ليلة فمات، فرثته عاتكة فقالت:

آليت لا تنفك عيني سخينة ... عليك ولا ينفك جلدي أغبرا

مدى الدهر ما غنت حمامة أيكة ... وما طرد الليل الصباح المنورا

فخطبها عمر بن الخطاب، قالت: قد كان أعطاني حديقة أن لا أتزوج

بعده، قال: فاستفتي، فاستفتت علي بن أبي طالب، فقال: ردي الحديقة إلى أهله وتزوجي، فتزوجها عمر، فسرح إلى عدة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيهم علي بن أبي طالب، وكان أخا عبد الله بن أبي بكر من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم فقال علي لعمر: ائذن لي فأكلمها، فقال: كلمها، فقال: يا عاتكة!

آليت لا تنفك عيني قريرة ... عليك ولا ينفك جلدي أصفرا

فقال عمر: غفر الله لك! لا تفسد علي أهلي. "وكيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات نکاح عاتکہ کے نکاح کا واقعہ
45854 عقیل بن ابی طالب کی روایت ہے کہ انھوں نے جب شادی کی تو کسی نے انھیں ان کلمات میں مبارک باددی ” بالدفاء والنبیین “ عقیل بن ابی طالب (رض) نے فرمایا یوں مت کہو بلکہ اس طرح کہو جس طرح رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے ہیں :” علی الخیر والبرکۃ بارک اللہ لک وبارک علیک “ رواہ ابن عساکر
45854- عن عقيل بن أبي طالب أنه تزوج فقيل له: بالرفاء والبنين! فقال: لا تقولوا هكذا، ولكن قولوا كما قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "على الخير والبركة، بارك الله لك وبارك عليك. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات نکاح عاتکہ کے نکاح کا واقعہ
45855 حضرت علی (رض) فرمتاے ہیں عورتوں کی چار قسمیں ہیں (1) فریع (2) دعوع (3) غل (4) جامعہ۔ فریع عورت ہے جو فیاض وسخی ہو، وعوع وہ عورت ہے جو بےقوف ہو اور خواہ مخواہ شور مچاتی ہو۔ غل وہ عورت ہے جس سے کسی طرح خلاصی اور چھٹکارا نہ ملتا ہو جامعہ وہ عورت ہے جو تمام امور کو خاطر جمعی کے ساتھ طے کرے اور پراگندگی کو پس پردہ ڈال دیتی ہو۔۔۔ رواہ الدیلمی
45855- عن علي قال: النساء أربع: الفريع، والوعوع، وغل لا ينزع، وجامعة تجمع؛ فأما الفريع فالسمحة، وأما الوعوع فالسخابة، وأما الغل لا ينزع فالمرأة السوداء للرجل منها أولاد لا يدري كيف يتخلص، وأما الجامعة فالتي تجمع الشمل وتلم الشعث. "الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات نکاح عاتکہ کے نکاح کا واقعہ
45856 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ عورتوں کے لیے دس طرح کے پردے ہیں چنانچہ جب عورت کی شادی ہوجاتی ہے اس کے لیے شوہر کا ستر بھی ایک پردہ ہے اور جو عورت مرجاتی ہے قبر کا ستر دس پردے ہیں۔ رواہ الدیلمی ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے تذکرۃ الموضوعات 218 والضعیفۃ 13979
45856- عن علي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "للنساء عشر عورات، فإذا زوجت المرأة ستر الزوج عورة، فإذا ماتت ستر القبر عشر عورات. " الديلمي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৬৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ متعلقات نکاح عاتکہ کے نکاح کا واقعہ
45857 حضرت اسامہ بن زید (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میں اپنی بیوی سے ہمبستری کرتے وقت عزل کردیتا ہوں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ وہ شخص بولا : مجھے عورت کے بچے کا خوف ہے (چونکہ حاملہ ہوجانے پر اس کا دودھ خراب نہ ہوجائے) رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر یہ بات باعث ضرر ہوتی تو اہل فارس اور اہل روم اس کے زیادہ سزاوار تھے ایک روایت میں ہے کہ اگر یہ بات ہے تو یہ نہیں ہوسکتی چونکہ یہ چیز اہل فارس واہل روم کے لیے باعث ضرر نہیں۔ رواہ مسلم والطحاوی
45857- عن أسامة بن زيد أن رجلا جاء إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إني أعزل عن امرأتي، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: " لم تفعل ذلك؟ فقال الرجل: أشفق على ولدها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لو كان ذلك ضارا ضر فارس والروم - وفي لفظ: إن كان لذلك فلا، ما ضار ذلك فارس ولا الروم. " م 1، والطحاوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب زوجین کے حقوق۔۔۔شوہر کا حق
45858 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں عورت نفلی روزہ اپنے شوہر کی اجازت سے رکھے۔۔ رواہ ابن ابی شیبہ
45858- عن عمرقال: لا تصوم المرأة تطوعا إلا بإذن زوجها. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب زوجین کے حقوق۔۔۔شوہر کا حق
45859 ابوغزہ کی روایت ہے کہ انھوں نے ابن ارقم کا ہاتھ پکڑا اور اپنے بیوی پر لگایا وہ بولے : کیا تم مجھ سے بغض کرتی ہو ؟ وہ بولی : جی ہاں ابن ارقم نے ابوغزرہ سے کہا : بھلا تم نے ایسا کیوں کیا ؟ انھوں نے جواب دیا : میرے خلاف لوگوں کی باتیں زیادہ ہورہی ہیں۔ چنانچہ ابن ارقم حضرت عمر (رض) کی خدمت میں آئے اور انھیں واقعہ کی خبر کردی۔ حضرت عمر (رض) نے ابوغزرہ کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا ۔ جب ابوغرزہ حاضر ہوگئے تو ان سے پوچھا : تم نے ایسا کیوں کیا ہے ؟ جواب دیا : میرے خلاف لوگوں کی چہ میگوئیاں زیادہ ہونے لگی تھیں حضرت عمر (رض) نے ابوغرزہ کی بیوی کو پیغام بھیج کر اپنے پاس بلایا۔ چنانچہ جب وہ حاضر ہوئی تو اس کے ساتھ اس کی ایک اجنبی پھوپھی بھی تھی۔ وہ بولی کہ اگر تجھ سے سوال کریں تو جواب دینا کہ مجھ سے حلف لیا تھا لہٰذا میں نے جھوٹ بولنا پسند کیا۔ حضرت عمر (رض) نے عورت سے پوچھا : جو کچھ تم نے کہا وہ کیوں کہا ؟ عورت بولی : چونکہ اس نے مجھ سے حلف لیا تھا لہٰذا مجھے جھوٹ بولنا ناپسند تھا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیوں نہیں تم عورتیں جھوٹ بولتی ہوں اور اسے خوبصورت بنا کر پیش کرتی ہو ہر گھر کی بنیاد محبت پر نہیں رکھی جاتی لیکن معاشرت کی بنیاد حسب اور اسلام پر ہے۔ رواہ ابن جریر
45859- عن أبي غرزة أنه أخذ بيد ابن الأرقم، فأدخله على امرأته فقال أتبغضيني؟ قالت: نعم، قال له ابن الأرقم: ما حملك على ما فعلت؟ قال كثرت على مقالة الناس، فأتى ابن الأرقم عمر ابن الخطاب فأخبره، فأرسل إلى أبي غرزة فقال له: ما حملك على ما فعلت؟ قال: كثرت علي مقالة الناس، فأرسل إلى امرأته فجاءته ومعها عمة منكرة فقالت: إن سألك فقولي: استحلفني فكرهت أن أكذب، فقال لها عمر: ما حملك على ما قلت؟ قالت: إنه استحلفني فكرهت أن أكذب، فقال عمر: بلى فلتكذب إحداكن ولتجمل، فليس كل البيوت تبنى على الحب، ولكن معاشرة على الأحساب والإسلام. "ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب زوجین کے حقوق۔۔۔شوہر کا حق
45860 کہمس ہلالی کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ہم حضرت عمر (رض) کے پاس بیٹھے ہوئے تھے اچانک ایک عورت آئی اور آپ (رض) کے پاس بیٹھ گئی اور کہنے لگی : اے امیر المومنین میرے شوہر کی برائی بڑھرہی ہے اور بھلائی میں کمی آرہی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارا سو ہر کون ہے وہ بولی : ابوسلمہ میرا شوہر ہے۔ فرمایا : اس شخص کو تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی محبت کا شرف حاصل ہے یہ تو سچا آدمی ہے۔ پھر حضرت عمر (رض) نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک آدمی نے پوچھا : کیا بات ایسی ہی نہیں ہے ؟ وہ بولا : اے امیر المومنین ! ہم تو ابوسلمہ کو نہیں پہچانتے مگر اسی طرح جیسے آپ نے کہا ہے۔ آپ (رض) نے اس شخص سے کہا : کھڑے ہوجاؤ اور ابوسلمہ کو بلالاؤ۔ اس دوران عورت اٹھی اور حضرت عمر (رض) کے پیچھے جابیٹی، تھوڑی دیر گزری تھی کہ وہ دونوں آگئے اور حضرت عمر (رض) کے روبرو بیٹھ گئے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : یہ عورت جو میرے پیچھے بیٹھی ہوئی ہے کیا کہتی ہے ؟ ابو سلمہ بولے : اے امیر المومنین ! یہ کون عورت ہے ؟ فرمایا کہ یہ تمہاری بیوی ہے۔ عرض کیا کہ یہ کیا کہنا چاہتی ہے ؟ فرمایا : اس کا دعویٰ ہے کہ تمہاری بھلائی کم ہورہی ہے اور برائی بڑھ رہی ہے، ابوسلمہ (رض) نے جواب دیا : اے امیر المومنین ! اس نے جو کچھ کہا بہت برا کہا حالانکہ یہ بہت ساری عورتوں سے زیادہ بہتر اور اچھے حال میں ہے چنانچہ بقیہ عورتوں کی بنسبت اس کے پاس زیادہ کپڑے ہیں اور گھریلو آسودگی بھی اسے زیادہ حاصل ہے لیکن اس کا خاوند بوسیدہ (یعنی بوڑھا) ہوچکا ہے۔ حضرت عمر (رض) نے عورت سے کہا : تم کیا کہتی ہو ؟ وہ بولی : ابوسلمہ نے جو کچھ کہا ہے سچ کہا ہے۔ حضرت عمر (رض) اٹھے اور ڈانڈا لے کر عورت کی پٹائی کردی اور پھر فرمایا : اے اپنی ذات کی دشمن ! تو نے اس کا مال بھی کھالیا اور اس کا شباب بھی فنا کردیا اور پھر تم نے اس کے متعلق ایسی باتیں کرنا شروع کردی ہیں جو اس میں نہیں ہیں۔ بولی : اے امیر المومنین ! جلدی نہ کریں مجھے کچھ کہنے دیں۔ بخدا ! میں اس مجلس میں کبھی بھی نہیں بیٹھوں گی حضرت عمر (رض) نے عورت کے لیے تین کپڑوں کا حکم دیا اور فرمایا : جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ کیا ہے اس کے بدلہ میں یہ کپڑے لو اور اپنے بوڑھے شوہر کی شکایت سے گریز کرو۔ کہمس ھلالی کہتے ہیں گویا کہ میں ابھی اس عورت کو اٹھ کر جاتے ہوئے دیکھ رہاہوں کہ اس کے پاس کپڑے بھی ہیں۔ پھر ابوسلمہ کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا : میرے اس اقدام کی وجہ سے تم نے عورت کے ساتھ برائی نہیں کرنی : عرض کیا : میں ایسا نہیں کروں گا چنانچہ دونوں میاں بیوی واپس لوٹ گئے۔ اس کے بعد حضرت عمر (رض) نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نقل کرتے ہوئے فرمایا کہ میری امت کا سب سے بہترین زمانہ میرا ہے پھر دوسرا اور تیسرا زمانہ اچھا ہے پھر ایسے لوگ آجائیں گے جن کی قسمیں ان کی شہادتوں پر سبقت لے جائیں گی ان سے گواہی کا مطالبہ نہیں ہوگا پھر بھی وہ گواہی دیں گے اور وہ بازاروں میں شور مچاتے ہوں گے۔۔ رواہ ابوداؤد الطیالسی والبخاری فی تاریخہ والحاکم فی الکنی وقال ابن حجر اسنادہ قوی
45860- عن كهمس الهلالي قال: كنت عند عمر فبينما نحن جلوس عنده إذ جاءت امرأة فجلست إليه فقالت: يا أمير المؤمنين! إن زوجي قد كثر شره وقل خيره، فقال لها: من زوجك؟ قالت: أبو سلمة، قال: إن ذاك رجل له صحبة، وإنه لرجل صدق، ثم قال عمر لرجل عنده جالس: أليس كذلك؟ قال: يا أمير المؤمنين! لا نعرفه إلا بما قلت، فقال لرجل: قم فادعه لي، فقامت المرأة حين أرسل إلى زوجها فقعدت خلف عمر، فلم يلبث أن جاءا معا حتى جلس بين يدي عمر، فقال عمر: ما تقول هذه الجالسة خلفي؟ قال: ومن هذه يا أمير المؤمنين؟ قال: هذه امرأتك، قال: وتقول ماذا؟ قال: تزعم أنه قل خيرك وكثر شرك، قال: قد بئسما قالت يا أمير المؤمنين! إنها لمن صالح نسائهم، أكثرهن كسوة، وأكثرهن رفاهية بيت، ولكن فحلها بلى، فقال عمر للمرأة: ما تقولين؟ قالت: صدق، فقام عمر إليها بالدرة فتناولها بها، ثم قال: أي عدوة نفسها! أكلت ماله وأفنيت شبابه، ثم أنشأت تخبرين بما ليس فيه! قالت: يا أمير المؤمنين! لا نعجل؛ فوالله لا أجلس هذا المجلس أبدا، فأمر لها بثلاث أثواب، فقال: خذي هذا بما صنعت بك، وإياك أن تشتكي هذا الشيخ! قال: فكأني أنظر إليها قامت ومعها الثياب، ثم أقبل على زوجها فقال: لا يحملك ما رأيتني صنعت بها أن تسيء إليها! فقال: ما كنت لأفعل، قال: فانصرفا؛ ثم قال عمر: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "خير أمتي القرن الذي أنا منهم، ثم الثاني والثالث، ثم ينشأ قوم يسبق إيمانهم شهادتهم، يشهدون من غير أن يستشهدوا، لهم لغط في أسواقهم. " ط، خ في تاريخه، والحاكم في الكنى، قال ابن حجر: إسناده قوي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد کا عورت پر حق
45861 ابوداریس خولانی کی روایت ہے کہ حضرت معاذ (رض) جب اہل یمن کے پاس پہنچے تو آپ (رض) سے ایک عورت نے پوچھا : اے شخص تمہیں ہمارے پاس کس نے بھیجا ہے ؟ آپ (رض) نے جواب دیا : مجھے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہاں بھیجا ہے۔ عورت بولی : اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قاصد ! کیا آپ ہمیں حدیثیں نہیں سناؤ گے ؟ فرمایا : تم کیا پوچھنا چاہتی ہو ؟ عورت بولی : مجھے بتائیے کہ مرد کا اپنی بیوی پر کیا حق ہے ؟ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : اسے چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہے خاوند کی بات سنے اور اس کی برمانبرداری کرے۔ عورت نے پھر کہا : آپ ہمیں یہ بتائیں کہ شوہر کے بیوی پر کیا حقوق ہیں ؟ چونکہ ان چھوٹے چھوٹے بچوں کے باپ کو گھر میں چھوڑ کر آئی ہوں وہ بہت بوڑھا ہوچکا ہے۔ حضرت معاذ (رض) نے فرمایا : قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں معاذ کی جان ہے۔ جس وقت تم واپس جاؤ اور اپنے خاوند کو جذام کے مرض میں پاؤ کہ اس کی ناک ٹوٹ چکی ہے اور اس کی ناک کے سوراخوں سے پیپ اور خون آتا ہوا دیکھ پھر تم اپنے منہ سے اس کی ناک صاف کرو تاکہ تم اس کا حق ادا کرو پھر بھی اس کے حق کی ادائیگی تک نہیں پہنچ سکتی۔۔ رواہ ابن عساکر
45861- عن أبي إدريس الخولاني أن معاذا قدم عليهم اليمن، فقالت له امرأة: من أرسلك إلينا أيها الرجل؟ قال: أرسلني رسول الله صلى الله عليه وسلم، قالت المرأة: أفلا تحدثني يا رسول رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: سلي عما شئت، قالت: حدثني ما حق المرء على زوجته، قال لها معاذ: تتقي الله ما استطاعت وتسمع وتطيع، قالت: حدثني ما حق المرء على زوجته، فإني تركت أبا هؤلاء شيخا كبيرا في البيت، فقال: والذي نفس معاذ بيده! لو أنك ترجعين إذا رجعت إليه فوجدت الجذام قد خرق أنفه ووجدت منخريه يسيلان قيحا ودما ثم التعقتها بفيك لكيما تبلغي حقه ما بلغتيه أبدا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مرد کا عورت پر حق
45862” مسند عائشہ “ حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ھندام معاویہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور کہنے لگی : یارسول اللہ ! ابوسفیان بخیل آدمی ہے وہ مجھے اور میری اولاد کو کچھ نہیں دیتا الآ یہ کہ جتنا کچھ میں خود لے لوں اور یہ اس کے علم میں ہوا ہے اس میں مجھ پر کچھ مواخذہ ہوگا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابوسفیان کے مال سے بدستور اتنا لے سکتی ہو جو تمہیں اور تمہارے بیٹیوں کو کافی ہو۔ رواہ البیہقی فی شعب الایمان
45862- "مسند عائشة" جاءت هند أم معاوية رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! أبا سفيان رجل شحيح، وإنه لا يعطيني وولدي إلا ما أخذت منه وهو يعلم فهل علي في ذلك؟ قال: " خذي ما يكفيك وبنيك بالمعروف. " عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৮৭৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45863 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ ھند نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا : یارسول اللہ ! سطح زمین پر کوئی ایسا نہیں تھا جس کی ذلت و رسوائی آپ سے زیادہ مجھے محبوب ہو اور آج سے مجھے آپ کی عزت سے زیادہ کسی کی عزت محبوب نہیں ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بخدا تمہاری اس عقیدت میں ضرور اضافہ ہوگا۔ پھر بولی : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ابوسفیان بخیل شخص ہے کیا مجھ پر کوئی حرج ہے کہ اگر میں اس کی اجازت کے بغیر اس کے مال سے اسی کے عیال پر خرچ کروں ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارے اوپر کوئی حرج نہیں اگر تم قاعدہ کے مطابق عیال پر خرچ کرتی رہو۔ رواہ عبدالرزاق ورواہ البخاری فی کتاب الالحکام باب من رائی القاضی ان یحکم بعلمہ ج 106002
45863- عن عائشة قالت: جاءت هند إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله! والله ما كان على ظهر الأرض أهل خباء أحب إلي أن يذلهم الله من أهل خبائك! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: وأيضا والذي نفسي بيده لتزدادن! ثم قالت: يا رسول الله! إن أبا سفيان رجل ممسك فهل علي جناح أن أنفق على عياله من ماله بغير إذنه؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: " لا حرج عليك أن تنفقي عليهم بالمعروف. " عب.
tahqiq

তাহকীক: