কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪৪ টি
হাদীস নং: ৪৫৮৭৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45864 عکرمہ کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس (رض) کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک عورت آئی اور کہنے لگی : میرے لیے حلال ہے کہ میں اپنے شوہر کے دراہم میں سے لیتی ہوں ابن عباس (رض) نے جواب دیا : حالانکہ تمہارے خاوند کا تم پر زیادہ حق ہے۔ رواہ عبدالرزاق فائدہ : واضح رہے کہ مسئلہ مذکورہ بالا میں حتمی بات وہی ہے جو ہندزوجہ ابوسفیان کی حدیث میں آچکی ہے ابن عباس (رض) کی حدیث کے متعلق یہی کہا جاسکتا ہے کہ ہندوالی حدیث ابن عباس (رض) کو نہیں پہنچی ہوگی یا یوں کہہ لیجئے کہ جو عورت ابن عباس (رض) کے پاس آئی تھی ممکن ہے وہ خرچہ کے علاوہ فضول خرچی کے لیے خاوند کا مال لینے کے متعلق پوچھا ہو تو اس صورت میں مستفتی کے حال کے اعتبار سے مفتی کا فتویٰ سمجھا جائے گا۔ واللہ اعلم بالصواب (من التمرجم)
45864- عن عكرمة قال: كنت عند ابن عباس فأتته امرأة فقالت: أيحل لي أن آخذ من دراهم زوجي؟ قال: يحل له أن يأخذ من حليتك؟ قالت: لا، قال: فهو أعظم عليك حقا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45865” مسند عائشۃ (رض) “ اپنے رب تعالیٰ کی عبادت کرو اور اپنے بھائی کو ٹھکانا فراہم کرو۔ اگر میں کسی کو حکم دیتا کہ وہ کسی دوسرے کو سجدہ کرے تو میں عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوندکو سجدہ کرے چونکہ اگر خاوند اپنی بیوی کو حکم دے کہ وہ زردی مائل پہاڑ کو سیاہ رنگ میں تبدیل کرے یا سیاہ پہاڑ کو سفیدی میں تبدیل کرے عورت پر لازم ہے کہ وہ ایسا کرے۔ رواہ احمد بن حنبل
45865- "من مسند عائشة " اعبدوا ربكم، وآووا أخاكم ولو كنت آمرا أحدا أن يسجد لأحد لأمرت المرأة أن تسجد لزوجها ولو أمرها أن تنقل من جبل أصفر إلى جبل أسود ومن جبل أسود إلى جبل أبيض كان ينبغي لها أن تفعله. " حم".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45866 عبداللہ بن محصن اپنی ایک پھوپھی سے روایت نقل کرتے ہیں کہ وہ ایک مرتبہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئیں انھیں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کوئی ضروری کام تھا جب اپنے کام سے فارغ ہوگئیں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کیا تم شادی شدہ ہو انھوں نے اثبات میں جواب دیا : آپ نے فرمایا : شوہر کے ساتھ تمہارا کیسا برتاؤ ہے جواب دیا : میں اس کی پروا نہیں کرتی چونکہ میں عاجز آجاتی ہو رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ذرا خیال کرو تم کہاں جارہی ہو ! چونکہ تمہارا شوہر تمہاری جنت بھی ہے دوزخ بھی۔۔ رواہ عبدالرزاق
45866- عن عبد الله بن محصن عن عمة له أنها دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم لتقضي الحاجة، فقضت حاجتها، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: " أذات زوج أنت؟ قالت: نعم، فقال: كيف أنت له؟ فقالت: ما آلوه إلا ما عجزت عنه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أبصري أين أنت! فإنه جنتك ونارك. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৭৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45867 ثوری اسماعیل بن امیہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ ایک آدمی ابن مسیب (رح) کی خدمت میں حاضر ہو اور ان سے اپنی بیوی کی شکایت کرنے لگا۔ ابن مسیب (رح) نے کہا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو عورت اپنے شوہر سے بےنیاز رہے اس کا شکر نہ ادا کرے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس عورت کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ ابن مسیب (رح) کے پاس ایک اور آدمی بیٹھا تھا وہ بولا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جس عورت پر اس کا شوہر قسم اٹھائے پھر وہ اسے پوری نہ کرے اس عورت کے نامہ اعمال میں سے ستر نمازیں کم کردی جاتی ہیں۔ ابن مسیب (رح) کے پاس بیٹھا ہوا ایک اور شخص بولا : رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ جو عورت ایسی قوم میں جاملی جو باعتبار نسب کے ان میں سے نہیں ہے اس عورت کے نامہ اعمال کا وزن قیامت کے دن ذرے کے برابر بھی نہیں ہوگا۔ رواہ عبدالرزاق
45867- عن الثوري عن إسماعيل بن أمية قال: جاء رجل فشكا امرأته إلى ابن المسيب، فقال ابن المسيب: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيتما امرأة لم تستغن عن زوجها ولم تشكر له لم ينظر الله إليها يوم القيامة، فقال رجل عند ابن المسيب: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيتما امرأة أقسم عليها زوجها قسم حق فلم تبره حطت عنها سبعون صلاة، فقال رجل آخر عند ابن المسيب: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أيتما امرأة ألحقت بقوم نسبا ليس منهم لم يعدل وزنها يوم القيامة مثقال ذرة. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے مال سے بلا اجازت خرچ کرنا
45868 معمر، قتادہ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کسی عورت کے لیے شوہر کے مال میں سے لینا حلال نہیں مگر وہی چیز جو رطب (تروتازہ) ہو قتادہ نے حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے کہا یعنی وہ چیز جو ذخیرہ نہ کی جاتی ہو جیسے روٹی گوشت اور سبزی وغیرہ۔ رواہ عبدالرزاق
45868- عن معمر عن قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا يحل لامرأة من مال زوجها إلا الرطب - قال قتادة: يعني مالا يدخر كالخبز واللحم والصبغ. " عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45869” مسند لقیط بن صبرہ “ لقیط بن صبرہ (رض) کی روایت ہے کہ میں اور میرے کچھ دوست رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضری دینے کے لیے چلے لیکن آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھر پر ہمیں نہ ملے تاہم حضرت عائشہ (رض) نے ہمیں کھجوریں پیش کیں اور ہمارے لیے عصیدہ (آٹے اور گھی سے سیار کیا ہوا کھانا) تیار کیا اتنے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قوت کے ساتھ قدم اٹھاتے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا : کیا تم نے کچھ کھایا ہے ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں۔ اسی دوران چرواہا چراگاہ سے بکریاں واپس لایا اور اس نے ہاتھ میں بکری کا ایک نومولودبچہ اٹھا رکھا تھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا یہ نومولود ہے ؟ راعی نے جواب دیا جی ھاں فرمایا کہ ان لوگوں کے لیے ایک بکری ذبح کرو پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا : تم ہر گزیہ گمان مت کرو کہ ہم نے تمہاری وجہ سے بکری ذبح کی ہے۔ ہماری سو بکریاں ہیں ہم نہیں چاہتے کہ بکریوں کی تعداد سو سے زیادہ ہونے پائے جب بھی چرواہا بکری کانومولود بچالے کر آتا ہے ہم اسے ایک بکری ذبح کرنے کا حکم دیتے ہیں، میں نے عرض کیا : ہمیں وضو کے متعلق آگاہ کریں۔ حکم ہوا : جب وضو کرو تو پوری طرح سے وضو کرو انگلیوں کا خلال کرو اور جب ناک میں پانی ڈالو تو اچھی طرح سے پانی ڈالو الایہ کہ تم روزہ میں ہو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میری ایک بیوی ہے جو زبان دراز ہے آپ (رض) نے فرمایا : اسے طلاق دے دو ۔ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ وہ میری محبت میں ہی ہے اور میری اس سے اولاد بھی ہے فرمایا : اسے اپنے پاس روک لو اور اسے چھائی کا حکم دیتے رہو اگر اس میں بھلائی نہ بھی ہوئی تو عنقریب بھلائی پر آجائے گی اور لونڈی کی طرح اپنی بیوی کو مت مارو۔ رواہ الشافعی وعبدالرزاق وابوداؤد وابن حبان
45869- "مسند لقيط بن صبرة" انطلقت أنا وأصحابي حتى انتهينا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فلم نجده، فأطعمتنا عائشة تمرا وعصدت لنا عصيدة إذ جاء النبي صلى الله عليه وسلم يتقلع 1، فقال: "أطعمتم من شيء؟ قلنا: نعم، فبينا نحن على ذلك رفع الراعي الغنم في المراح على يده سخلة، قال: "هل ولدت؟ قال: نعم، قال: فاذبح لهم شاة، ثم أقبل علينا فقال: لا تحسبن - ولم يقل: تحسبن - أنا ذبحنا الشاة من أجلكم، إن لنا غنم مائة، لا نريد أن تزيد عليها، إذا ولد الراعي لنا بهيمة امرناه فذبح شاة. قلت: يا رسول الله! أخبرني عن الوضوء، قال: إذا توضأت فأسبغ، وخلل بين الأصابع، وإذا استنثرت فأبلغ إلا أن تكون صائما، قلت: يا رسول الله! إن لي امرأة - فذكر من طول لسانها وبذائها، فقال: طلقها، قلت: يا رسول الله! إنها ذات صحبة وولد، قال: فأمسكها وأمرها، فإن لم يكن فيها خير فستفعل، ولا تضرب ظعينتك ضرب أمتك. " الشافعي، عب، د، 1 حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45870 حضرت ابودردائ (رض) کی روایت ہے کہ میرے خلیل ابوالقاسم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مے مجھے وصیت کی ہے کہ اپنی وسعت کے مطابق اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے رہو ان کے سر سے لاٹھی نیچے مت رکھو اور اللہ تعالیٰ کے لیے ان پر مہربان رہو۔ رواہ ابن جریر
45870- عن أبي الدرداء، قال: أوصاني خليلي أبو القاسم صلى الله عليه وسلم فقال: " أنفق من طولك على أهلك، ولا ترفع عصاك، أخفهم في الله. " ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45871 حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ جب میں دوسروں کو عطا کرتا ہوں میرا نفقہ بہتر ہوجاتا ہے۔ یعنی دوسری مرتبہ دینے تک بہتر ہوجاتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
45871- عن أبي ذر قال: إذا خرج عطائي حسنت منه نفقة - يعني إلى أن يخرج العطاء الآخر. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45872 حضرت ابوذر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے وصیت کیجئے : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے گھر والوں پر مہربان رہو اور ان کے سر سے لاٹھی نیچے مت رکھو۔ رواہ ابن جریر
45872- عن أبي ذر قال: قام رجل فقال: يا رسول الله! أوصني، فقال: "أخف أهلك ولا ترفع عنهم عصاك. " ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45873 عبداللہ بن زمعہ کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطاب کرتے ہوئے عورتوں کا تذکرہ کیا اور فرمایا : تم میں سے کوئی ایسا بھی ہوسکتا ہے جو غلام کی طرح اپنی بیوی کو مارتا ہو عین ممکن ہے وہ اس دن اس کے ساتھ ہمبستری بھی کرتا ہے۔ رواہ ابن جریر
45873- عن عبد الله بن زمعة قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم فذكر النساء فقال: "على ما يعمد أحدكم فيجلد امرأته جلد العبد، ولعله يضاجعها من يومه. " ابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45874 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ انھوں نے ایک مرتبہ کہا : میں جاہلیت میں اپنے والد کے مال پر فخر کرتی تھی میرے والد کے پاس ایک لاکھ اوقیہ چاندی ہوتی تھی۔ حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے فرمایا : اے عائشہ (رض) خاموش رہو میں تمہارے لیے ابوزرع کی مانند ہوں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں گیارہ عورتوں کا واقعہ سنایا جنہوں نے آپس میں یہ عہد کیا تھا کہ وہ اپنے خاوندوں کی کوئی بات نہیں چھپائیں گے۔ پھر حضرت عائشہ (رض) نیپ وری حدیث ذکر کی۔ البتہ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ حضرت عائشہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! بلکہ آپ تو ابزرع سے بدرجہا بہتر ہیں۔ رواہ الرامھرمزی فی الامثال وابن ابی عاصم فی السنۃ
45874- عن عائشة أنها قالت: فخرت بمال أبي في الجاهلية وكان ألف ألف أوقية، فقال لي النبي صلى الله عليه وسلم: " اسكتي يا عائشة! فإني كنت لك كأبي زرع، ثم أنشأ يحدثنا أن إحدى عشر امرأة اجتمعن فتعاقدن وتعاهدن أن لا يكتمن من أخبار أزواجهن شيئا وذكرت الحديث وزاد فيه: قالت عائشة: يا رسول الله! بل أنت خير من أبي زرع. "الرامهرمزي في الأمثال، وابن أبي عاصم في السنة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ شوہر کے ذمہ حقوق
45875 ایاس بن عبداللہ بن ابی ذئاب کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ کی بندیوں کو مت مارو چونکہ ایسا کرنے سے عورتیں نافرمان ہوجائیں گی اور ان کے اخلاق بگڑ جائیں گے اور اپنے خاوندوں پر جری ہوجائیں گی۔ چنانچہ صحابہ کرام (رض) نے شکایت کی کہ جب سے آپ نے ہمیں عورتوں کو مارنے سے منع کیا تب سے عورتوں کے اخلاق بگڑ گئے ہیں۔ چنانچہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : چلو عورتوں کو مارو۔ اس پر لوگوں نے اپنی بیویوں کو اسی رات مارا بہت ساری عورتیں آئیں اور مارنے کی شکایت کرنے لگیں صبح ہوتے ہی رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آج رات آل محمد کا ستر عورتوں نے چکر لگایا ہے وہ سب مارنے کی شکایت کررہی تھیں۔ بخدا ! تم انھیں اپنے بہترین ساتھی نہیں پاؤ گے۔۔ رواہ عبدالرزاق والحمیدی والدارمی وابن جریر وابن سعد وابوداؤد والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والطبرانی والحاکم والبغوی والباوردی وابن قانع و ابونعیم والبخاری ومسلم و سعید بن المنصور وقال البغوی مالہ غیرہ
45875- عن إياس بن عبد الله بن أبي ذئاب قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "لا تضربوا إماء الله، فذئر 1 النساء وساءت أخلاقهن على أزواجهن مذ نهيت عن ضربهن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "فاضربوهن، فضرب الناس النساء تلك الليلة، فأتى نساء كثير يشتكين الضرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم حين أصبح: "لقد طاف الليلة بآل محمد سبعون امرأة كلهن يشتكين من الضرب، وايم الله لا تجدون أولئك خياركم. " عب، والحميدي، والدارمي، وابن جرير، وابن سعد، د، 1 ن، هـ، حب، طب، ك والبغوي، والباوردي، وابن قانع، وأبو نعيم ق، ص؛ قال البغوي: وماله غيره".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باری مقرر کرنے کا بیان
45876 عبدالملک بن عبدالرحمن بن حارث بن ہشام اپنے والد سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ام سلمہ (رض) سے شوال میں نکاح کیا اور ان سے صحبت بھی شوال کے مہینہ میں کی ام سلمہ (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! سات راتیں میرے پاس گزاری جائیں۔ ارشاد فرمایا اگر تم چاہو تو سات راتیں تمہارے پاس گزاروں پھر سات راتیں تمہاری سہیلیوں کے پس بھی گزاروں اگر چاہو تو تین راتیں تمہارے پاس گزاروں ام سلمہ (رض) نے عرض کیا : بلکہ تین راتیں آپ میرے پاس گزاریں پھر میرا دن مجھ پر آجائے۔ (رواہ البغوی والحاکم یہ حدیث بغوی نے اسی طرح عبدالملک کے ترجمہ میں روایت کی ہے حالانکہ بغوی کو وہم ہوا ہے چونکہ سند یوں ہے عبدالملک بن ابی بکر بن عبدالرحمن الحارث عن ابیہ ابی بکر “ جب کہ ابوبکر نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نہیں پایا۔ لہٰذا حدیث مرسل ہے اور عبدالرحمن کو اس میں کوئی دخل نہیں ہے وقداخرجہ ابن مندہ علی الصواب)
45876- عن عبد الملك بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام عن أبيه أن رسول الله تزوج صلى الله عليه وسلم أم سلمة في شوال وجمعها في شوال، قالت: يا رسول الله! سبع عندي، قال: "إن شئت سبعت عندك ثم سبعت عند صواحبك، وإن شئت فثلاثك، قلت: بل ثلاثي، ثم تدور علي يومي. " البغوي، ك وقال: كذا أخرجه البغوي في ترجمته ووهم فيه، إنما هو عبد الملك بن أبي بكر بن عبد الرحمن الحارث عن أبيه أبي بكر، وأبو بكر لم يدرك النبي صلى الله عليه وسلم فيكون الحديث مرسلا، لا مدخل لعبد الرحمن فيه، وقد أخرجه ابن منده على الصواب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৮৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باری مقرر کرنے کا بیان
45877 حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب لونڈی پر آزاد عورت سے شادی کی جائے تو آزاد عورت کے لیے دو دن اور باندی کے لیے ایک دن ہوگا۔ اور مناسب یہ ہے کہ آزاد عورت پر پابندی سے شادی نہ کی جائے۔ رواہ البیہقی
45877- عن علي قال: إذا تزوجت الحرة على الأمة قسم لها يومين وللأمة يوما، إن الأمة لا ينبغي لها أن تزوج على الحرة. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باری مقرر کرنے کا بیان
45878 زہری کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صفیہ (رض) اور جویریہ (رض) کے لیے بھی پردہ ضروری قرار دیا اور ان کے لیے بھی ایسے ہی باری مقرر کی تھی جس طرح باقی عورتوں کے لیے باری مقرر کی تھی۔ رواہ عبدالرزاق
45878- عن الزهري قال: ضرب على صفية وجويرية الحجاب وقسم لهما النبي صلى الله عليه وسلم كما قسم لنسائه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باری مقرر کرنے کا بیان
45879” مسند اسود بن عویم سدوسی “ علی بن قرین ، حبیب بن عامر بن مسلم سدوسی کے سلسلہ سند سیاسود بن عویم کی روایت ہے کہ میں نے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے آزاد عورت اور باندی کو جمع کرنے کے متعلق سوال کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : آزاد عورت کے لیے دو دن اور باندی کے لیے ایک دن ہے۔ رواہ ابن مندہ و ابونعیم وابن قرین کذبہ ابن معین
45879- "مسند الأسود بن عويم السدوسي" عن علي بن قرين عن حبيب بن عامر بن مسلم السدوسي عن الأسود بن عويم قال: سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الجمع بين الحرة والأمة، فقال: "للحرة يومان وللأمة يوم. " ابن منده، وأبو نعيم؛ وابن قرين كذبه ابن معين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباشرت اور آداب مباشرت جنابت کے بعد باوضو سونا
45880 حضرت علی (رض) نے فرمایا : جب باندی پر آزاد عورت نکاح میں لائی جائے تو آزاد عورت کے لیے دو دن اور باندی کے لیے ایک دن ہے۔ رواھعبد الرزاق و سعید بن المنصور وابن ابی شیبہ
45880- عن علي قال: إذا نكحت الحرة على الأمة كان للحرة يومان وللأمة يوم. "عب، ص، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباشرت اور آداب مباشرت جنابت کے بعد باوضو سونا
45881 ابوعثمان کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ میں اور ابوسلیمان باہلی حضرت بن خطاب (رض) کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ابوسلیمان نے نئی نئی شادی کی ہوئی تھی حضرت عمر (رض) نے ابوسلیمان سے فرمایا : تم نے اپنی بیوی کو کیسا پایا ؟ پھر کہا جب تم جنابت کی حالت میں ہوتے ہو اور پھر سونے کا ارادہ ہو اس وقت تم کیا کرتے ہو ؟ ابوسلیمان نے کہا : آپ ہی مجھے بتائیں اس وقت مجھے کیا کرنا چاہیے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جب تم اپنی بیوی کی پاس جاؤ اور پھر تمہارا سونے کا ارادہ ہو تو اپنی شرمگاہ اور ہاتھ نہ منہ دھولو۔ پھر حضرت عمر (رض) نے ابوسلیمان کے ساتھ سر گوشی کی۔ جب ہم حضرت عمر (رض) کے پاس سے اٹھ کر چلے گئے تو میں نے ابوسلیمان سے کہا : امیر المومنین نے تمہارے ساتھ کیا سرگوشی کی تھی ؟ ابوسلیمان نے کہا : امیر المومنین نے مجھے کہا جب تم اپنے گھر والوں کے پاس جاؤ (یعنی ہمبستری کرو) اور پھر تمہارا ہمبستری کرنے کا ارادہ ہو تو اپنی شرمگاہ ہاتھ اور منہ دھولو اور پھر ہمبستری کرلو۔ ہم نے ابوالمستہل کے پاس اس بات کا تذکرہ کیا وہ بولے : ہم نے ابوسعید (رض) کے پاس اس حدیث کا تذکرہ کیا انھوں نے جواب دیا تھا کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ تم میں سے جو شخص اپنی بیوی کے پاس (ہمبستری کے لئے) جائے وہ دوبارہ اس وقت تک ہمبستری نہ کرے جب تک شرمگاہ دھونہ لے۔ رواہ المحاملی وابن ابی شیبہ
45881- عن أبي عثمان قال: دخلت أنا وسلمان بن ربيعة الباهلي عن عمر بن الخطاب وسلمان قريب عهد بعرس، فقال له: كيف وجدت أهلك؟ ثم قال له: كيف تصنع إذا أصابتك الجنابة ثم أردت أن تنام؟ فقال أخبرني كيف أصنع؟ قال: إذا أتيت أهلك ثم أردت أن تنام فاغسل فرجك ويديك ثم وجهك - ثم ساره عمر، فلما خرجنا من عنده قلت: ما سارك به أمير المؤمنين؟ قال قال لي: إذا أتيت أهلك ثم أردت أن تعود فاغسل فرجك ويديك ووجهك ثم عد، فذكرنا عند أبي المستهل، قال: ذكرنا هذا الحديث عند أبي سعيد فقال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا أتى أحدكم أهله فلا يعد حتى يغسل فرجه. "المحاملي، ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباشرت اور آداب مباشرت جنابت کے بعد باوضو سونا
45882 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ جب تم اپنی بیوی سے ہمبستری کرو تو دوسری مرتبہ ہمبستری کرنے سے پہلے وضو کرو۔ رواہ ابن ابی شیبۃ وابن جریر
45882- عن ابن عمر قال: إذا أتيت أهلك ثم أردت أن تعود فتوضأ بينهما وضوءا. "ش، وابن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৮৯৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ مباشرت اور آداب مباشرت جنابت کے بعد باوضو سونا
45883 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس سے عاجز ہو کہ جب تم اپنی بیوی کے پاس جاؤ تو یہ دعا پڑھ لیا کرو۔ بسم اللہ اللھم جنبنی الشیطان وجنب الشیطان مارزقتنی۔ اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع کرتا ہوں۔ یا اللہ ! مجھے شیطان سے بچا اور جو اولاد تو مجھے عطا فرمائے گا اس سے شیطان کو دور رکھ۔ اگر میاں بیوی کے لیے اولاد کا فیصلہ ہوگیا تو اسے شیطان ضرر نہیں پہنچائے گا۔ رواہ البزار
45883- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أيعجز أحدكم إذا أتى أهله أن يقول: بسم الله، اللهم! جنبني الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتني! فإن قضى بينهما ولد لم يضره الشيطان أبدا. " ز".
তাহকীক: