কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ১৬৪৪ টি
হাদীস নং: ৪৫৯১৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان عزل کرنا مکروہ ہے
45904 عبداللہ بن مرہ ابوسعید زرقی سے روایت نقل کرتی ہیں کہ قبیلہ اشجع کی ایک آدمی نے جس کا نام سعد بن عمارہ ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عزل کے متعلق سوال کیا ۔ اس پر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ماں کے پیٹ میں جس بچے نے مقدر ہونا ہے وہ ہو کر رہے گا۔ رواہ البغوی
45904- عن عبد الله بن مرة عن أبي سعيد الزرقي أن رجلا من أشجع واسمه سعد بن عمارة سأل النبي صلى الله عليه وسلم عن العزل فقال: " ما يقدر في الرحم يكن. " البغوي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عزل کا بیان عزل کرنا مکروہ ہے
45905 ابن عباس (رض) کی روایت ہے کہ عزل کرنے کے لیے آزاد عورت سے اجازت لی جائے البتہ باندی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں اور اگر باندی آزاد شخص کے پاس ہو تو اس پر ضروری ہے کہ وہ اس باندی سے بھی اجازت لے جیسا کہ آزاد عورت سے اجازت لی جاتی ہے۔۔ رواہ عبدالرزاق وابن ابی شیبۃ والبیہقی
45905- عن ابن عباس قال: تستأمر الحرة في العزل ولا تستأمر الأمة السرية، وإن كانت أمة تحت حر كان عليه أن يستأمرها كما يستأمر الحرة. "عب، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نان ونفقہ کا بیان
45906 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے امراء اجناد کی طرف خط لکھا کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے غائب ہوچکے ہیں۔ (اور عرصہ سے ان کے پاس نہیں آئے) انھیں پکڑا جائے اور بیویوں کے نفقہ کا ان سے مطالبہ کیا جائے یا وہ اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں، اگر اپنی بیویوں کو طلاق دے دیں تو جتنا عرصہ یہ مطلقہ عورتیں ان کی بیویاں رہی ہیں اس عرصہ کا نفقہ بھیجیں۔۔ رواہ الشافعی وعبدالرزاق وابن ابی شیبۃ والبیہقی
45906- عن ابن عمر أن عمر كتب إلى أمراء الأجناد في رجال غابوا عن نسائهم يأمرهم أن يأخذوهم بأن ينفقوا أو يطلقوا، فإن طلقوا بعثوا بنفقة ما حبسوا. "الشافعي، عب، ش، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯১৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نان ونفقہ کا بیان
45907 ابن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے بچے کے عصبات میں سے عورتوں کے علاوہ مردوں پر لازم قرار دیا ہے کہ وہ اس بچے پر خرچ کریں۔۔ رواہ عبدالرزاق وابوعبید فی الاموال و سعید بن المنصور وعبد بن حمید وابن جریر والبیہقی
45907- عن ابن المسيب أن عمر جبر عصبة صبي أن ينفقوا عليه الرجال دون النساء. "عب، وأبو عبيد في الأموال، ص، وعبد ابن حميد، وابن جرير، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ نان ونفقہ کا بیان
45908 ابن مسیب کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص پر زبردستی کی کہ وہ اپنے بھتیجے کو بیوی کا دودھ پلائے۔ رواہ عبدالرزاق والبیہقی
45908- عن ابن المسيب أن عمر جبر رجلا على رضاع ابن أخيه. "عب، ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بچے کا خرچ کن پر لازم ہے ؟
45909 زہری کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایسے تین اشخاص پر بچے کا خرچہ لاگو کیا ہے جو بچے کے وارث بن رہے تھے۔ رواہ عبدالرزاق و سعید بن المنصور والبیہقی وقال ھذا منقطع
45909- عن الزهري أن عمر أغرم ثلاثة كلهم يرث الصبي أجر رضاعه. "عب، ص، ق وقال: هذا منقطع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عنین کا بیان
45910 حسن کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی کہ اس کا شوہر ہمبستری کے قابل نہیں ہے آپ (رض) نے اسے ایک سال کی مہلت دی جب سال گزر گیا تو پھر بھی وہ جماع پر قادر نہ ہوسکا حضرت عمر (رض) نے عورت کو اختیار دیا اور عورت نے اختیار قبول کرلیا چنانچہ آپ (رض) نے دونوں کے درمیان تفریق کردی اور اسے ایک طلاق بائنہ قرار دیا۔ رواہ ابن خسرو
45910- عن الحسن أن عمر بن الخطاب أتته امرأة فأخبرته أن زوجها لا يصل إليها فأجله حولا، فلما انقضى الحول ولم يصل إليها خيرها فاختارت نفسها، ففرق بينهما عمر وجعلها تطليقة بائتة. "ابن خسرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عنین کا بیان
45911 حضرت علی (رض) کی روایت ہے کہ عنین کو ایک سال کی مہلت دی جائے گی اگر جماع پر قادر ہوگیا فبھا ورنہ دونوں میں تفریق کردی جائے گی۔ رواہ البیہقی
45911- عن علي قال: يؤجل العنين سنة، وإن وصل وإلا ففرق بينهما. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کے حقوق کے متعلقات
45912 ھانی بن ھانی کی روایت ہے کہ میں نے حضرت علی (رض) کے پاس ایک عورت دیکھی وہ کہہ رہی تھی کیا آپ کے لیے ایسی عورت میں گنجائش ہے جو رنڈوی بھی نہ ہو اور نہ ہی شوہر والی ہو اتنے میں اس کا شوہر اس کے پیچھے ڈنڈا اٹھائے آگیا شوہر سے حضرت علی (رض) نے کہا : کیا تم کچھ کرنے کی بھی طاقت نہیں رکھتے ہو ؟ اس نے نفی میں جواب دیا : سحری کے وقت بھی نہیں ؟ بولا نہیں، میں بہرحال تمہارے درمیان تفریق نہیں کرتا ہوں۔ تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتی رہ اور صبر کر۔۔ رواہ ابن السنی و ابونعیم والبیہقی وقال زضعفہ الشافعی فی سنن حراملۃ
45912- عن هانئ ابن أم هانئ قال: رأيت امرأة ذات شارة جاءت إلى علي ابن أبي طالب فقالت: هل لك في امرأة ليست بأيم ولا ذات بعل! وجاء زوجها يتلوها على عصا، فقال له علي، أما تستطيع أن تصنع شيئا؟ فقال: لا. قال: ولا في السحر؟ قال لا. قال: أما أنا فلست مفرقا بينكما، فاتقى الله واصبري. "ابن السني، وأبو نعيم، ق - وقال ضعفه الشافعي في سنن حرملة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ بیوی کے حقوق کے متعلقات
45913 حکم کی روایت ہے کہ قبیلہ طی کی ایک عورت حضرت علی (رض) کے پاس آئی اس کا شوہر بھی اس کے ساتھ تھا۔ عورت بولی : اس کا شوہر اس کے پاس نہیں آتا حالانکہ وہ اولاد کی خواہشمند ہے۔ حضرت علی (رض) نے شوہر سے کہا : کیا سحری کے وقت بھی نہیں چونکہ اس وقت بوڑھے میں قدرے تحرک پیدا ہوجاتا ہے ؟ وہ بولا : سحری کے وقت بھی نہیں۔ فرمایا : تو بھی ہلاک ہو اور یہ عورت بھی ہلاک ہوگئی۔ پھر آپ (رض) عورت کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : تم صبر کرو حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کوئی آسانی فرمائے۔ رواہ مسدد
45913- عن الحكم أن امرأة من طيء أتت عليا وزوجها معها فقالت: إن زوجها لا يأتيها وإنها امرأة تريد الولد! فقال له: ولا من السحر حيث يتحرك من الشيخ؟ قال: ولا من السحر. قال: هلكت وأهلكت! وأقبل عليها فقال لها: اصبري حتى يفرج الله. "مسدد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45914 حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں : عورتوں کو قلیل کپڑے دو چونکہ عورتوں کے پاس جب کپڑے زیادہ ہوجاتے ہیں اس کی زینت نکھر آتی ہے اور گھر سے باہر نکلنے پر اتراتی ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ ۔ کلام : حدیث ضعیف ہے دیکھئے اسنی المطالب 179 وتبیض الصحیفہ 6
45914- عن عمر قال: استعينوا على النساء بالعري، إن إحداهن إن كثرت ثيابها وحسنت زينتها أعجبها الخروج. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45915 اوس تعلبی کی روایت ہے کہ میں نے جریر بن عبداللہ کو حج کے موقع پر سواری کرایہ پر دی چنانچہ جریر بن عبداللہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور ان سے کچھ چیزوں کے متعلق دریافت کیا، جو کچھ ان سے پوچھا وہ یہ تھا کہ : اے امیر المومنین ! میں طاقت نہیں رکھتا ہوں کہ میں اپنی کسی بیوی کو اس کی باری کے علاوہ میں بوسہ دوں میں جب بھی کسی کام کے لیے باہر نکلتا ہوں تو وہی کہتی ہے کہ تو فلاں بیوی کے پاس موجود تھا۔حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عورتوں کی اکثریت نہ ہی اللہ پر اعتماد کرتی ہے اور نہ ہی مومنین پر عین ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنی کسی بیوی کے کام میں لگا ہو یا اپنی کسی بیوی کے لیے بازار میں کوئی چیز خریدنے گیا ہو تو دوسری بیویاں اس پر تہمت لگانا شروع کردیتی ہیں۔ اتنے میں ابن مسعود (رض) بولے : اے امیر المومنین ! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے اللہ تعالیٰ سے حضرت سارہ کے اخلاق کی شکایت کی اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) سے فرمایا : عورت پسلی کی مانند ہے اگر اسے چھوڑے رہو گے اس کی کجی میں اضافہ ہوتا جائے گا، اگر اسے سیدھا کرنے لگو گے توڑ ڈالو گے اس کجی میں رہتے ہوئے اس سے استمتاع کرتے رہو حضرت عمر (رض) نے ابن مسعود (رض) کے کاندھے پر ہاتھ مارا اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہارے دل میں غیر معمولی علم رکھ دیا ہے۔ رواہ ابن راھویہ
45915- عن أوس الثعلبي قال: أكريت جرير بن عبد الله في الحج، فقدم على عمر فسأله على أشياء فكان فيما يسأله قال: وجدت نساءك! قال: يا أمير المؤمنين! ما أستطيع أن أقبل امرأة منهن في غير نوبتها، وما خرجت لحاجة إلا قالت: كنت عند فلانة، فقال عمر: إن كثيرا منهن لا يؤمن بالله ولا يؤمن للمؤمنين، ولعل أحدا يكون في حاجة بعضهن أو يأتي السوق فيشتري الحاجة لبعضهن فتتهمه؛ فقال ابن مسعود: يا أمير المؤمنين! أما علمت أن إبراهيم خليل الرحمن شكا إلى الله رداءة في خلق سارة، فقال له: إن المرأة كالضلع إن تركتها اعوجت، وإن قومتها كسرت، فاستمتع بها على ما فيها، فضرب عمر بين كتفي ابن مسعود وقال: لقد جعل الله في قلبك من العلم غير قليل. "ابن راهويه".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45916 شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور کہنے لگی : میں آپ سے اہل دنیا کے بہترین لوگوں کی شکایت کرتی ہوں بجز ایک شخص کے جو اپنے عمل کے اعتبار سے سبقت لے چکا ہے۔ جو رات کو عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اور صبح تک کھڑا رہتا ہے۔ پھر صبح کو روزہ رکھتا ہے اور روزے ہی میں شام کردیتا ہے۔ اتنا کہنے کے بعد عورت پر حیاء طاری ہوگئی اور پھر بولی : امیر المومنین ! میری طرف سے اسی کو کافی سمجھیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے تم نے بہت اچھی تعریف کی میں نے تمہاری بات کافی سمجھ لی جب وہ عورت اٹھ کر چل پڑی تو کعب بن سوربولے : اے امیر المومنین ! اس عورت نے بڑے بلیغانہ انداز میں آپ سے شکایت کی ہے عمر (رض) نے پوچھا : بھلا اس نے کس کی شکایت کی ہے کعب بولے : اس نے اپنے شوہر کی شکایت کی ہے فرمایا عورت کو میرے پاس لاؤ۔ جب عورت واپس آگئی تو آپ (رض) نے کعب کو حکم دیا کہ ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرو کعب بولے : میں آپ کی موجودگی میں کیسے فیصلہ کرسکتا ہوں فرمایا : تم وہ بات سمجھ گئے ہو جو میں نہیں سمجھ سکا ہوں۔ کعب کہنے لگے : فرمان باری تعالیٰ ہے۔ فانکحوا ماطاب لکم من النساء مثنی وثلاث ورباع عورتوں میں سے جو تمہیں اچھی لگیں انھیں اپنے نکاح میں لاؤ دو دو کو تین تین کو اور چار چار کو۔ پھر کعب نے عورت کے شوہر کی طرف متوجہ ہو کر کہا تین دن روزہ رکھو اور ایک دن اپنی بیوی کے پاس افطار کرو تین راتیں قیام اللیل کرو اور ایک رات بیوی کے پاس گزارو اس عجیب فیصلے کو سن کر حضرت عمر (رض) بولے : یہ فیصلہ میرے لیے تمہاری پہلی فطانت سے کہیں زیادہ تعجب خیز ہے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے کعب بن سور کو اہل بصرہ کا قاضی مقرر کرکے بھیجا۔ رواہ ابن سعد
45916- عن الشعبي قال: جاءت امرأة إلى عمر بن الخطاب فقالت: أشكو إليك خير أهل الدنيا إلا رجلا سبقه بعمل أو عمل مثل عمله، يقوم الليل حتى يصبح، ويصوم النهار حتى يمسي، ثم تجلاها الحياء فقالت: أقلني يا أمير المؤمنين! فقال: جزاك الله خيرا! فقد أحسنت الثناء، قد أقلتك، فلما ولت قال كعب بن سور: يا أمير المؤمنين! لقد أبلغت إليك في الشكوى، فقال: ما اشتكت قال: زوجها، قال: على المرأة! فقال لكعب: اقض بينهما، قال: أقضي وأنت شاهد! قال: إنك قد فطنت إلى ما لم أفطن، قال: فإن الله تعالى يقول: {فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلاثَ وَرُبَاعَ} صم ثلاثة أيام، وأفطر عندها يوما، وقم ثلاث ليال وبت عندها ليلة، فقال عمر: لهذا أعجب إلي من الأول، فبعثه قاضيا لأهل البصرة. "ابن سعد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯২৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45917 ابن عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر (رض) گھر سے باہر نکلے تو آپ (رض) نے ایک عورت کو یہ اشعار پڑھتے ہوئے سنا۔ تطاول ھذا اللیل واسود جانبہ وارقنی ان لا حبیب الا عبہ ترجمہ : یہ رات طویل تر ہوگئی ہے اور اس کا گوشہ تاریک تر ہوتا گیا ہے اور اس رات نے مجھے بیدار رکھا ہے چونکہ میرے اس کوئی دوست نہیں جس سے میں اپنا جی بہلاسکوں۔ فوا اللہ لو لا اللہ انبی اراقبہ لحرک من ھذا السریر جوانیہ اللہ کی قسم ! اگر مجھے اس کا انتظار نہ کرنا ہوتا تو اس چارپائی سے اس کے پہلو میرے لیے بہت اچھے ہوتے یہ اشعار بن کر حضرت عمر (رض) واپس لوٹ آئے اور حضرت حفصہ (رض) سے پوچھا : عورت اپنے شوہر سے دور کتنے عرصہ تک صبر کرسکتی ہے ؟ حضرت حفصہ (رض) نے جواب دیا : چار یا چھ ماہ تک عورت صبر کرسکتی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں اس عرصہ سے زیادہ لشکر کو سرحد پر نہیں رکوں گا۔ رواہ البیہقی
45917- عن ابن عمر قال: خرج عمر بن الخطاب فسمع امرأة تقول:تطاول هذا الليل واسود جانبه ... وأرقني أن لا حبيب ألاعبه فوالله لولا الله أني أراقبه ... لحرك من هذا السرير جوانبه فقال عمر لحفصة: كم أكثر ما يصبر المرأة عن زوجها؟ فقالت: ستة أو أربعة أشهر، فقال عمر: لا أحبس الجيش أكثر من هذا. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45918 ابراہیم تیمی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) فرمایا کرتے تھے مرد کے لیے مناسب ہے کہ وہ اپنے اہل خانہ میں ایک بچے کی مانند ہو۔ جب بوقت ضرورت اس کی تلاش ہو تو وہ ایک مرد پایا جائے۔ رواہ ابن ابی الدنیا والدینوری وعبدالرزاق
45918- عن إبراهيم التيمي قال: كان عمر بن الخطاب يقول: ينبغي للرجل أن يكون في أهله مثل الصبي، فإذا التمس ما عنده وجد رجلا. "ابن أبي الدنيا، والدينوري، عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45919 حضرت جابر بن عبداللہ (رض) حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اور اپنی بعض عورتوں کی ان سے شکایت کرنے لگے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہم بھی اپنے متعلق ایسا پاتے ہیں حتیٰ کہ میں اپنے کسی کام کے لیے باہر جانے کا ارادہ کرتا ہوں تو میری بیوی بھی کہتی ہے کہ تم فلاں قبیلہ کی لڑکیوں کے پاس جاتے ہو اور انھیں دیکھتے ہو۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) بولے : آپ کو حدیث نہیں پہنچی کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے سارہ (رض) کی بدخلقی کی اللہ تعالیٰ سے شکایت کی حضرت ابراہیم نے کہا گیا : عورت پسلی سے پیدا ہوئی ہے لہٰذا اس کی کجی کے ہوتے ہوئے اس کے ساتھ وقت گزارو جب تک اس میں تم کوئی دین کی خرابی نہ دیکھ لو حضرت عمر (رض) نے ابن مسعود (رض) سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے تمہاری پسلیوں میں علم کثیر رکھ دیا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
45919- عن جابر بن عبد الله أنه جاء يشكو إليه ما بقي من النساء فقال عمر: إنا لنجد ذلك حتى أني لأريد الحاجة فتقول: ما تذهب إلا إلى فتيات بني فلان تنظر إليهن! فقال له عبد الله بن مسعود عند ذلك: أما بلغك أن إبراهيم شكا إلى الله رديء خلق سارة، فقيل له: إنها خلقت من الضلع، جالسها على ما فيها ما لم تر عليها خربة في دينها؛ فقال له عمر: لقد حشا الله في أضلاعك علما كثيرا. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ حقوق متفرقہ
45920 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ عورتوں کو کم سے کم کپڑے دو چونکہ جب عورت کے پاس کپڑے کم ہوں گے وہ گھر میں ٹکی رہے گی۔ رواہ ابن ابی الدنیا
45920- عن عمر قال: استعينوا على النساء بالعري، فإن المرأة إذا عريت لزمت بيتها. "ابن أبي الدنيا".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45921 قتادہ کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کی خدمت میں ایک عورت حاضر ہوئی اور کہنے لگی : میرا شوہر رات بھر عبادت میں مصروف رہتا ہے اور دن کو روزہ رکھتا ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم مجھے حکم دیتی ہو کہ میں اسے رات کے قیام اور دن کے روزے سے منع کروں۔ عورت واپس چلی گئی جب پھر واپس آئی وہی بات دھرائی حضرت عمر (رض) نے بھی آگے سے وہی پہلا جواب دیا۔ حضرت عمر (رض) سے کعب بن سور نے کہا : امیر المومنین ! اس عورت کا حق ہے۔ فرمایا : وہ کیسے : کعب نے کہا : چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس مرد کے لیے چار عورتیں حلال کی ہیں لہٰذا چار میں سے ایک کا حصہ تو اسے دے لہٰذا چار راتوں میں سے ایک رات بیوی کے لیے مقرر کرے اور چار دنوں میں سے ایک دن اس کے لیے مقرر کرے چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اس عورت کے شوہر کو اپنے پاس بلایا اور اسے حکم دیا کہ چار راتوں میں سے ایک رات اپنی بیوی کے پاس گزارو اور چار دنوں میں سے ایک دن اس کے نام کردو۔ رواہ عبدالرزاق
45921- عن قتادة قال: جاءت امرأة إلى عمر فقالت: زوجي يقوم الليل ويصوم النهار، قال: أفتأمريني أن أمنعه قيام الليل وصيام النهار! فانطلقت، ثم عاودت بعد ذلك فقالت له مثل ذلك، فرد عليها مثل قوله الأول، فقال له كعب بن سور: يا أمير المؤمنين! إن لها حقا، قال: وماحقها؟ قال: أحل الله له أربعا، فاجعل واحدة من الأربع لها، في كل أربع ليال ليلة، وفي كل أربعة أيام يوم، فدعا عمر زوجها وأمره أن يبيت معها من كل أربع ليال ليلة، ويفطر من كل أربعة أيام يوما. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45922 زید بن اسلم کی روایت ہے کہ مجھے روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : اس کا شوہر اس سے ہمبستری نہیں کرپاتا۔ حضرت عمر (رض) نے پیغام بھیج کر عورت کے شوہر کو اپنے پاس بلایا اور اس سے یہی بات پوچھی، وہ بولا : میں بوڑھا ہوچکا ہوں اور میری قوت ختم ہوچکی ہے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم مہینے میں ایک مرتبہ اپنی بیوی سے ہمبستری کرسکتے ہو ؟ جواب دیا : مجھے اس سے زیادہ مدت چاہیے۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : پھر کتنی مدت میں کرسکتے ہو ؟ بولا : میں ایک طہر میں ایک مرتبہ ہمبستری کرسکتا ہوں حضرت عمر (رض) نے عورت کو حکم دیا : چلی جاؤ، اتنی مدت میں عورت سے جو جماع کیا جاتا ہے وہ اس کے لیے کافی ہوتا ہے۔ رواہ عبدالرزاق
45922- عن زيد بن أسلم قال: بلغني أن عمر بن الخطاب جاءته امرأة فقالت: إن زوجها لا يصيبها، فأرسل إلى زوجها فسأله فقال: كبرت وذهبت قوتي، فقال عمر: أتصيبها في كل شهر مرة؟ قال: أكثر من ذلك، قال عمر في كم؟ قال: أصيبها في كل طهر مرة، قال عمر: اذهبي، فإن في هذا ما يكفي المراة. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৪৫৯৩৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45923 شعبی کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس ایک عورت آئی اور کہنے لگی : امیر المومنین ! میں اپنے خاوند سے افضل کسی کو نہیں سمجھتی ہوں چونکہ وہ رات بھر قیام میں رہتا ہے اور سوتا نہیں دن بھر روزہ رکھتا ہے افطار نہیں کرتا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جزاک اللہ خیراتم نے اچھے انداز میں تعریف کی ۔ پھر عورت اٹھ کر چلی گئی کعب بن سور اتفاقاً وہاں موجود تھے کہنے لگے : اے امیر المومنین ! آپ اس عورت کو واپس نہیں بلاتے جب کہ ایک طرح سے وہ تیاری کرکے آئی تھی۔ فرمایا : عورت کو میرے پاس لاؤ عورت واپس لوٹ آئی۔ فرمایا : سچ سچ بات کہو اور حق واضح کرو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ عورت بولی ! امیر المومنین ! میں ایک عورت ہوں میرا دل بھی وہ کچھ چاہتا ہے جو عام عورتیں چاہتی ہیں فرمایا : کعب ان کے درمیان تم فیصلہ کرو چونکہ یہ نکتہ تم ہی سمجھے ہو، میں نہیں سمجھ سکا ہوں۔ کعب کہنے لگے : امیر المومنین ایک مرد کے لیے چار عورتیں حلال ہیں لہٰذا اس کا شوہر تین دن اور تین رات جیسے چاہے عبادت کرے اور ایک دن ایک رات اپنی اس بیوی کے پاس گزارے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : حق یہی ہے جاؤ میں تمہیں بصرہ کا قاضی مقرر کرتا ہوں۔۔ رواہ الشکری فی الشکریات
45923- عن الشعبي قال: أتت امرأة عمر فقالت: يا أمير المؤمنين! ما رأيت عبدا أفضل من زوجي، إنه ليقوم الليل ما ينام ويصوم النهار ما يفطر، فقال: جزاك الله خيرا! مثلك أثنى بالخير وقاله! ثم ولت، وكان كعب بن سور حاضرا فقال: يا أمير المؤمنين! ألا أعديت المرأة إذ جاءت تستعدي؟ فقال: علي بها - مرتين، فجاءت، فقال لها عمر: اصدقيني ولا بأس بالحق! فقالت: يا أمير المؤمنين! إني امرأة لأشتهي النساء، فقال: يا كعب: اقض بينهما، فإنك قد فهمت من أمرها ما لم أفهم، فقال: يا أمير المؤمنين! يحل من النساء أربع، فلا ثلاثة أيام وثلاث ليال يتعبد فيهن ما شاء، ولها يومها وليلتها، فقال عمر: ما الحق إلا هذا! اذهب فأنت قاض على البصرة. "اليشكري في اليشكريات".
তাহকীক: