কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

نکاح کا بیان - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ১৬৪৪ টি

হাদীস নং: ৪৫৯৩৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45924 ابن جریج کی روایت ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبر دی ہے میں جس کی تصدیق کرتا ہوں کہ حضرت عمر (رض) شہر میں چکر لگا رہے تھے اس دوران آپ نے ایک عورت کو کہتے ہوئے سنا۔ تطاول ھذا اللیل واسود جانبہ وارقنی ان لا حبیب الا عبہ۔ یہ رات طویل تر ہوگئی اور اس کے گوشے زیادہ تاریک ہونے لگے، نیز میں رات بھر بیدار رہی چونکہ میرے پاس میرا کوئی دوست نہیں تھا جس سے میں اپنا دل بہلاتی۔ فلولا حذار اللہ شیء مثلہ۔ لزعزع من ھذا السریر جوانیہ ۔ اگر اللہ تعالیٰ کا ڈر نہ ہوتا تو اس کی مانند کوئی چیز نہیں ہے پھر تو اس چارپائی کے کونے لگاتار حرکت میں ہوتے۔ حضرت عمر (رض) نے عورت سے پوچھا : تمہارا کیا معاملہ ہے ؟ اس نے جوب دیا کئی مہینوں سے میرا شوہر مجھ سے غائب ہے حالانکہ میں اس کی مشتاق ہوں فرمایا : کیا تم نے کسی برائی (زنا) کا ارادہ کیا ہے ؟ بولی : معاذ اللہ (اللہ کی پناہ) فرمایا : اپنے نفس کو قابو میں رکھو میں قاصد بھیج کر اسے منگواتا ہوں چنانچہ آپ (رض) نے عورت کے شوہر کی طرف قاصد بھیجا پھر آپ (رض) حضرت حفصہ (رض) کے پاس گئے اور ان سے فرمایا میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں جس نے مجھے غمزدہ کردیا ہے مجھے بتاؤ کہ کتنے عرصہ بعد عورت اپنے سو ہر کی مشتاق ہوجاتی ہے ؟ حضرت حفصہ (رض) نے اپنا سر جھکالیا اور حیاء محسوس کرنے لگیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : بلاشبہ اللہ تعالیٰ حق گوئی سے نہیں شرماتا ۔ حضرت حفصہ (رض) نے اپنے ہاتھ سے تین مہینے کا اشارہ کیا اور پھر اشارہ کیا کہ زیادہ سے زیادہ چار مہینے۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے اپنے امراء کو خط لکھا کہ سرحدوں پرچار مہینوں سے زیادہ لشکر نہ روکے جائیں ۔ رواہ عبدالرزاق
45924- عن ابن جريج قال: أخبرني من أصدق أن عمر بينما هو يطوف سمع امرأة تقول:

تطاول هذا الليل واسود جانبه ... وأرقني أن لا حبيب ألاعبه

فلولا حذار الله لا شيء مثله ... لزعزع من هذا السرير جوانبه

فقال عمر: وما لك؟ قالت أغربت زوجي منذ أشهر وقد اشتقت إليه! قال: أردت سوءا؟ قالت: معاذ الله! قال فاملكي عليك نفسك فإنما هو البريد إليه، فبعث إليه؛ ثم دخل على حفصة فقال: إني سائلك عن أمر قد أهمني فافرجيه عني، في كم تشتاق المرأة إلى زوجها! فخفضت رأسها واستحيت، قال: فإن الله لا يستحيي من الحق، فأشارت بيدها ثلاثة أشهر، وإلا فأربعة أشهر، فكتب عمر أن لا تحبس الجيوش فوق أربعة أشهر. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৩৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45925 حضرت عبادہ بن صامت (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں وصیت کی ہے کہ : اپنے گھر والوں کے سر سے نیچے لاٹھی نہ رکھو اور اپنی ذات سے اپنے گھر والوں سے انصاف کرو۔ رواہ ابن جریر
45925- عن عبادة بن الصامت قال: أوصانا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: "لا تضع عصاك عن أهلك، وأنصفهم من نفسك. " ابن جرير".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৩৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ عورتوں کے حقوق ادا کرنا
45926 مدائنی کی روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب (رض) فرماتے ہیں کوئی شخص بھی اس وقت تک اپنے گھر والوں کا نگہبان نہیں ہوسکتا جب تک اسے پروا نہ ہو کہ اس کے گھر والوں نے کونسے کپڑے پہنے ہیں اور کونسا کھانا کھا کر گھر والوں نے بھوک مٹائی ہے۔ رواہ الدینوری
45926- عن المدائني قال: قال علي بن أبي طالب: لا يكون الرجل قيم أهله حتى لا يبالي أي ثوبيه لبس ولا ما سد به فورة الجوع. "الدينوري".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৩৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45927 قیس بن ابی حازم کی روایت ہے کہ ایک شخص حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا میرا باپ میرا سارا مال اپنی ضرورت میں خرچ کرنا چاہتا ہے حضرت ابوبکر (رض) نے اس شخص کے والد سے فرمایا : تم اس کے مال سے اتنا ہی لے سکتے ہو جو تمہیں کافی ہو باپ بولا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! کیا رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد نہیں ہے کہ تو بھی اور تیرا مال دونوں تمہارے باپ کا ہے ؟ ابوبکر (رض) نے فرمایا : جی ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے نفقہ مراد لیا ہے تم اس سے راضی رہو جس سے اللہ تعالیٰ راضی رہا ہے۔ رواہ الطبرانی والاوسط والبیہقی
45927- "الصديق" عن قيس بن أبي حازم: جاء رجل إلى أبي بكر الصديق فقال: إن أبي يريد أن يأخذ مالي كله لحاجة! فقال لأبيه: إنما لك من ماله ما يكفيك، فقال: يا خليفة رسول الله! أليس قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أنت ومالك لأبيك؟ فقال: نعم، وإنما يعني بذلك النفقة، ارض بما رضي الله عز وجل. "طس، ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45928 حضرت عمر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میرا باپ میرا سارا مال لینا چاہتا ہے۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اور تیرا مال بھی تمہارے باپ کا ہے۔ رواہ البزار والدارقطنی فی الافراد
45928- عن عمر أن رجلا أتى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن أبي يريد أن يأخذ مالي! فقال: "أنت ومالك لأبيك. " البزار، قط في الأفراد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45929 شقیق بن وائل کی روایت ہے کہ میری والدہ نصرانیہ ہی مرگئی میں حضرت عمر (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ (رض) نے فرمایا : سواری پر سوار ہو کر اپنی والدہ کے جنازے کے آگے آگے چلتے رہو۔ رواہ المحاملی وابن عساکر
45929- عن شقيق بن وائل قال: ماتت أمي نصرانية فأتيت عمر بن الخطاب فذكرت ذلك له، فقال: اركب دابة وسر أمام جنازتها. "المحاملي، كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45930 ابوسعید اعور کی روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس جب کوئی آنے والا آتا اس سے وہاں کے لوگوں کے حالات دریافت فرماتے چنانچہ آپ (رض) کے پاس ایک شخص آیا اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں طائف سے آیا ہوں۔ اس سے دریافت کیا : تم کہاں سے آئے ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا : میں طائف سے آیا ہوں۔ فرمایا : رک جا میں نے وہاں ایک بوڑھے شخص کو کہتے سنا ہے۔ ترکت اباک مرعشۃ یداہ ۔ وامک ما تسبیغ لھا شرابا۔ میں نے تمہارے باپ چھوڑا ہے اس کے ہاتھ رعشہ کی وجہ سے کانپ رہے تھے اور تمہاری ماں کے گلے سے نیچے پانی بھی نہیں اترسکتا تھا۔ اذا نغب الحمام ببطن وج۔ علی بیضاتہ ذکراً کلابا۔ جب مقام بطن وج میں کوئی کبوتر اپنے انڈوں پر بیٹھ کر پانی پیتا ہے تو کلاب کو یاد کرتا ہے۔ پوچھا کہ کلاب کون ہے۔ فرمایا : وہ بوڑھے کا بیٹا ہے وہ غازی تھا۔ رواہ الفاکھی فی اخبار مکہ
45930- عن أبي سعيد الأعور أن عمر بن الخطاب كان إذا قدم عليه قادم سأله عن الناس، فقدم قادم فسأله: من أين؟ قال: من الطائف، قال: فمه؟ قال رأيت بها شيخا يقول:

تركت أباك مرعشة يداه ... وأمك ما تسيغ لها شرابا إذا نغب 1 الحمام ببطن وج 2 ... على بيضاته ذكرا كلابا

قال: ومن كلاب؟ قال: ابن للشيخ كان غازيا، فكتب عمر فيه، "الفاكهي في أخبار مكة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45931 عروہ کی روایت ہے کہ امیہ بن اشکر نے اسلام پایا ہے اس کے دو بیٹے تھے جو باپ سے دور بھاگ گئے تھے۔ امیہ بیٹوں کے بھاگ جانے پر اشعار پڑھ پڑھ کر روتا تھا حضرت عمر بن خطاب (رض) نے اس کے بیٹوں کو واپس کیا اور ان سے حلف اٹھوایا کہ اپنے باپ سے جدا نہیں ہوں گے، حتیٰ کہ وہ مرجائے۔ رواہ الزبیر بن بکار فی الموبقات
45931- عن عروة قال: أدرك أمية بن الأشكر الإسلام وكان له ابنان ففرا منه، فبكاهما بأشعار، فردهما عمر بن الخطاب وحلف عليهما أن لا يفارقاه حتى يموت. "الزبير بن بكار في الموبقات".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45932 حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے جھگڑا کرنے لگا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو اور تمہارا مال تمہارے باپ کا ہے۔ رواہ ابن عساکر
45932- عن جابر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم يخاصمه فقال: "أنت ومالك لأبيك. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45933 حضرت جابر (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! میرا باپ میرے مال کو اپنے لیے مباح سمجھنا چاہتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اور تیرا مال بھی تمہارے باپ کا ہے۔ رواہ ابن النجار
45933- عن جابر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إن أبي يريد أن يستبيح مالي قال: "أنت ومالك لأبيك. " ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৬
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45934” مسند ابی اسید “ ابواسید کہتے ہیں : ایک مرتبہ میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس موجود تھا اچانک آپ کے پاس انصار کا ایک آدمی آیا اور کہنے لگا : یارسول اللہ ! میرے والدین کے مرنے کے بعد میرے لیے ان کے ساتھ احسان کرنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں چار صورتیں ہیں۔ ان پر نماز جنازہ پڑھو، ان کے لیے استغفار کرتے رہو ان کے بعد ان کا وعدہ پورا کرتے رہو۔ ان کے دوستوں کا اکرام کرتے رہو جب کہ تمہارے لیے کوئی صلہ رحمی نہیں بجز والدین کی صلہ رحمی کے۔ یہی چیزیں ہیں جو ان کے مرنے کے بعد ان کے اوپر احسان کرنے کے متعلق ہوسکتی ہیں۔ رواہ ابن النجار
45934- "مسند أبي أسيد" قال: كنت عند رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ جاءه رجل من الأنصار فقال: يا رسول الله! هل بقي من بر أبوي شيء أبرهما به بعد موتهما قال: "نعم، أربعة: الصلاة عليهما والاستغفار لهما، وإنقاذ عهدهما من بعدهما، وإكرام صديقهما، وصلة الرحم التي لا رحم لك إلا من قبلهما؛ فهذا الذي بقي من برهما بعد موتهما. " ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৭
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45935 ابوامامہ ایاس بن ثعلبہ بلوں کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بدر جانے کا ارادہ کیا تو ابوامامہ (رض) بھی آپ کے ساتھ چلنے پر آمادہ ہوگئے ابوامامہ کے ماموں ابوبردہ بن دینار کہتے لگے : اپنی والدہ کے پاس رہو ابوامامہ (رض) نے جواب دیا : نہیں بلکہ تم اپنی بہت کے پاس رہو۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا تذکرہ کیا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابوامامہ (رض) کو قیام کرنے کا حکم دیا اور ابو بردہ (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بدر چلے گئے۔ جب رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے واپس تشریف لائے تو ابوامامہ (رض) کی والدہ وفات پاچکی تھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس پر جنازہ پڑھا۔ رواہ الحسن بن سفیان و ابونعیم
45935- عن أبي أمامة إياس بن ثعلبة البلوي قال: لما هم رسول الله صلى الله عليه وسلم بالخروج إلى بدر أزمعت الخروج معه، فقال له خاله أبو بردة بن نيار: أقم على أمك، قال: بل أنت أقم على أختك؛ فذكر ذلك لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمر أبا أمامة بالمقام، وخرج أبو بردة، فرجع رسول الله صلى الله عليه وسلم وقد توفيت فصلى عليها. "الحسن بن سفيان، وأبو نعيم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৮
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45936” مسند ابوہریرہ “ ابوھریرہ (رض) کی روایت ہے کہ ایک شخص کہنے لگا : یارسول اللہ ! ہمارے اچھے سلوک کا سب سے زیادہ کون حقدار ہے ؟ فرمایا : تمہاری ماں، عرض کیا : پھر کون، فرمایا : پھر تمہاری ماں، عرض کیا پھر کون ؟ فرمایا : پھر تمہارا باپ چنانچہ صحابہ کرام (رض) یہی سمجھتے تھے کہ ماں کے لیے حسن سلو کے تو تہائی حصے ہیں اور باپ کے لیے ایک حصہ ہے۔ سفیان (رح) کہنے لگے تمہارے باپ کے لیے حدیث میں ہے ؟ جواب دیا جی ھاں۔ رواہ ابن النجار
45936- "مسند أبي هريرة" قال قال رجل: يا رسول الله! من أحق الناس بالصحبة؟ قال: "أمك، قال: ثم من؟ قال: أمك، قال: ثم من؟ قال أبوك فيرون أن لأمك الثلثين ولأبيك الثلث. قال سفيان: لأبيك في الحديث؟ قال: نعم. " ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৪৯
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45937 حضرت عائشہ (رض) کی روایت ہے کہ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : میں جنت میں تھا اچانک میں نے ایک قاری کو آواز سنی میں نے پوچھا : یہ کون ہے ؟ فرشتوں نے جواب دیا : یہ حارثہ بن نعمان ہیں۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بھلائی اسی طرح ہوتی ہے بھلائی اس طرح ہوتی ہے۔ چنانچہ حارثہ بن نعمان لوگوں میں سب سے زیادہ اپنی والدہ سے احسان کرنے والے تھے۔ رواہ البیہقی فی البعث
45937- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بينما أنا في الجنة إذ سمعت قارئا، فقلت: من هذا؟ قالوا: حارثة بن النعمان، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "كذلك البر، كذلك البر، وكان أبر الناس بأمه. " ق في البعث".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫০
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45938” مسند عبداللہ بن عمرو بن العاص “ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میرے باپ میرے مال کو ہڑپ کرنا چاہتا ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اور تیرا مال بھی تمہارے باپ کا ہے۔ رواہ ابن ابی شیبہ
45938- "مسند عبد الله بن عمرو بن العاص" جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: إن أبي اجتاح مالي! قال: "أنت ومالك لأبيك. " ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫১
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45939” مسند ابن مسعود “ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک اعرابی حاضر ہوا اور کہنے لگا یارسول اللہ ! میرے یہ رشتہ دار ہیں : باپ، ماں، بھائی، چچا، ماموں، خالہ، دادا اور دادی، ان میں کون زیادہ حقدار ہے کہ میں اس سے حسن سلوک کروں ؟ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی والدہ کے ساتھ بھلائی کرو پھر اپنے باپ سے پھر اپنے بھائی سے پھر اپنی بہن سے۔۔ رواہ الدیلمی وفیہ سیف بن محمد الثوری کذاب
45939- "مسند ابن مسعود" قال: جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! إن لي أبا وأما وأخا وعما وخالا وخالة وجدا وجدة فأيهم أحق أن أبر؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "بر أمك، ثم أباك، ثم أخاك، ثم أختك. " الديلمي، وفيه سيف بن محمد الثوري كذاب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫২
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ باب۔۔۔والدین، اولاد اور بیٹوں کے ساتھ احسان کرنے کا بیان میں والدین کے ساتھ بھلائی کرنے کا بیان
45940 ابن مسعود (رض) کی روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص سے فرمایا : تو بھی اور تیرا مال بھی تمہارے باپ کا ہے۔ رواہ ابن النجار
45940- عن ابن مسعود أن النبي صلى الله عليه وسلم قال لرجل: "أنت ومالك لأبيك. " ابن النجار".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫৩
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے
45941 شعبی کی روایت ہے کہ انصار کا ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میرا مال بھی ہے اور عیال بھی ہے میرے باپ کا مال بھی ہے اور اولاد بھی ہے۔ بایں ہمہ میرا باپ میرا مال مجھ سے لینا چاہتا ہے۔ فرمایا : تو بھی اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے۔ رواہ ابن عساکر
45941- عن الشعبي قال: جاء رجل من الأنصار إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "إن أبي غصبني مالي! فقال أنت ومالك لأبيك. " ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫৪
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے
45942 محمد بن منکدر کی روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا : میرے باپ نے میرا مال غصب کرلیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو بھی اور تیرا مال بھی تیرے باپ کے ہیں۔ رواہ ابن ابی شیبہ
45942- عن محمد بن المنكدر قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: "إن لي مالا وإن لي عيالا، وإن لأبي مالا وعيالا، وإن أبي يريد أن يأخذ مالي! قال: "أنت ومالك لأبيك. " كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৪৫৯৫৫
نکاح کا بیان
পরিচ্ছেদঃ تو اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے
45943 ابوالوفاء حفاظ بن حسن بن حسین قراۃ ، عبدالعزیز بن احمد، ابونصربن امحان، امحان، محمد بناحمد بن ابی ہشام قرشی، محمد بن سعید بن راسد، ابومسہر صدقہ بن خالد ، ابن جابر، مکحول کے سلسلہ سند سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں اشعریوں کا ایک وفد آیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا کیا تم میں سے ” وحرہ “ ہے وفد نے اثبات میں جواب دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ اپنی ماں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوگئی حالانکہ اس کی ماں کافرہ تھی مجھے اس کی جاہلی زندگی پر غیرت آتی ہے چونکہ اس نے جاہلیت کو بھی چھوڑ دیا اور اپنی ماں کو بھی چھوڑ دیا۔ یہ اپنی ماں کو پیٹھ پر اٹھا کر چلتی تھی۔ جب اس پر گرمی کا اثر بڑھ جاتا اسے گود میں لے لیتی اس پر اور زیادہ مہربان ہوجاتی وہ اسی حال پر رہتی حتیٰ کہ اسے ظلم سے چھٹکارا مل گیا ابومسہر کہتے ہیں کہ اس کے متعلق کسی اشعری نے یہ اشعار بھی کہے ہیں۔ الاابلغن ایھا المعتدی بنی جمیعا وبلغ بناتی۔ اے ستم گر ! میرے سب بیٹوں کو خبر پہنچا دے اور میری بیٹیوں کو بھی پہنچا دے۔ بان وصالی بقول الالہ۔ الا فاحفظوا ما حیتیم وصاتی۔ وہ خبر میرے معبود کا فرمان ہے جو میری خاص وصیت ہے جب تک زندہ رہو میری وصیت یاد رکھنا۔ وکونوا کو حرۃ فی برھا۔ تنالوا الکرامۃ بعد الممات۔ احسان مندی میں وحرہ کی مانند ہوجاؤں یوں تم مرنے کے بعد عزت پاؤ گے۔ وقت امھا سبرات الرمیض۔ وقد اوقد القیظ نارالفلات۔ وہ بیابانوں میں اپنی ماں کو تپش کی شدت سے بچاتی تھی حالانکہ تیز لو جنگلوں کو آگ لگا دیتی تھی۔ لترضی بھذا شدید القوی۔ وتظفر من نارہ بالفلات۔ تاکہ اس جان کائی سے اس کی ماں راضی رہے اور کامیاب وکامران رہے اس آگ سے۔ فھذی وصاتی وکونوالھا۔ طوال الجیاۃ رعاۃ وعاۃ
45943- قرأت على أبي الوفاء حفاظ بن الحسن بن الحسين عن عبد العزيز بن أحمد أنبأنا أبو نصر بن امحان حدثنا أبي ثنا محمد بن أحمد ابن أبي هشام القرشي حدثني محمد بن سعيد بن راشد حدثنا أبو مسهر حدثنا صدقة بن خالد عن ابن جابر عن مكحول قال: قدم على رسول الله صلى الله عليه وسلم وفد من الأشعريين فقال لهم: "أمنكم وحرة؟ فقالوا: نعم يا رسول الله! قال: فإن الله أدخلها ببرها أمها وهي كافرة الجنة، أغير على حيها في الجاهلية فتركوها وأمها، فحملتها على ظهرها، وجعلت تسير بها، فإذا اشتد عليها الحر جعلتها في حجرها وحنت 1 عليها، فلم تزل كذلك حتى استنقذتها من العدى، قال: أبو مسهر: وقال في ذلك بعض الأشعريين شعرا:

ألا أبلغن أيها المعتدى ... بني جميعا وبلغ بناتي

بأن وصاتي بقول الإله ... ألا فاحفظوا ما حييتم وصاتي

وكونوا كوحرة في برها ... تنالوا الكرامة بعد الممات

وقت أمها سبرات الرميض ... وقد أوقد القيظ نار الفلات

لترضي بهذا شديد القوى ... وتظفر من ناره بالفلات

فهذي وصاتي وكونوا لها ... طوال الحياة رعاة وعاة
tahqiq

তাহকীক: