কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৭৫৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧٠۔ بوڑھے شخص کا دل دو چیزوں میں جوان رہتا ہے لمبی امید اور مال کی محبت میں (ابن عساکرعن ابوہریرہ (رض))
7570- قلب الشيخ شاب في حب اثنتين: طول الأمل، وحب المال. ابن عساكر عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧١۔۔۔ کیا تم اسامہ پر تعجب نہیں کرتے جو مہینہ تک کی خریدو فروخت کا معاملہ کرنے والا ہے، بیشک اسامہ بڑی لمبی امید کرنے والا ہے، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! مجھے تو یہی گمان ہے کہ میری آنکھ کی پلک جھپکنے نہ پائے گی کہ اللہ تعالیٰ میری روح قبض کرلے گا، اور نہ مجھے یہ گمان ہے کہ میں اپنی پلکیں کھولوں اور بند کرنے سے پہلے روح قبض کرلی جائے اور جب کوئی لقمہ منہ میں رکھتا ہوں تو مجھے اسے چبا کر نگلنے کی امید نہیں ہوتی یہاں تک کہ اسے موت کے ساتھ خاص کرلوں ، اے انسانو ! اگر تم عقل رکھتے ہو تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا تم سے وعدہ ہے وہ آنے والا ہے وہ آنے والا ہے اور تم عاجز کرنے والے نہیں۔ (الحلیۃ وابن عساکر عن ابی سعید)

تشریح :۔۔۔ اگر کوئی ایسا معاملہ کرنا بھی ہو تو ان شاء اللہ کہہ دینا چاہیے، مقصودیہ ہے کہ زندگی کی بےثباتی دل میں مستحضرہو۔
7571- ألا تعجبون من أسامة المشتري إلى شهر؟ إن أسامة لطويل الأمل، والذي نفسي بيده ما طرفت عيناي إلا ظننت أن شفري لا يلتقيان حتى يقبض الله روحي، ولا رفعت طرفي وظننت أني واضعه حتى أقبض، ولا لقمت لقمة إلا ظننت أني لا أسيغها، حتى أغص بها من الموت، يا بني آدم إن كنتم تعقلون فعدوا أنفسكم في الموتى، والذي نفسي بيده: إنما توعدون لآت، وما أنتم بمعجزين. "حل" وابن عساكر عن أبي سعيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧٢۔۔۔ جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ یہ انسان ہے اور یہ موت، اور یہ امید ہے یہ دونوں انسان کو اچک لے جائیں گی، اور اس سے پہلے موت درمیان میں آجائے گی۔ (ابن المبارک عن ابی المتوکل الناجی)

فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین شاخیں اپنے ہاتھ میں لیں، ان میں سے ایک شاخ اپنے سامنے گاڑی ، اور دوسری اس کے ساتھ گاڑدی، اور تیسری کو دور رکھا اور پھر یہ ذکر کیا۔
7572- أتدرون ما هذا؟ فإن هذا الإنسان، وذاك الأجل، وذاك الأمل، يتعاطاه ابن آدم ويختلجه الأجل دون ذلك. ابن المبارك عن أبي المتوكل الناجي قال: أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة أعواد، فغرز عودا بين يديه، والآخر إلى جنبه، وأما الثالث فأبعده، فقال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧٣۔۔۔ کئی ایسے ہیں جو آج کا ستقبال کررہے ہیں جبکہ وہ اسے مکمل نہیں کرپائے، اور کتنے کل کا انتظار کرنے والے ہیں جبکہ وہ اسے پہنچنے والے نہیں ، اگر تم موت اور اس کی رفتار دیکھ لوتو امید اور اس کے دھوکے سے نفرت کرنے لگو۔ (الدیلمی عن ابن عمر)
7573- كم من مستقبل يوما لا يستكمله، ومنتظر غدا لا يبلغه لو نظرتم إلى الأجل ومسيره لأبغضتم الأمل وغروره. الديلمي عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧٤۔۔۔ انسان ، امید اور موت کی مثال یوں ہے کہ موت انسان کی ایک طرف ہے اور امید اس کے سامنے ہے، اسی اثناء میں وہ اپنے سامنے امید کو تلاش کرتا ہے اور اچانک اس کے پاس موت آجاتی ہے اور اسے چھین لیتی ہے۔ (ابن ابی الدنیا والدیلمی عن انس)
7574- مثل الإنسان والأمل والأجل: فمثل الأجل إلى جانبه، والأمل أمامه، فبينما هو يطلب الأمل أمامه إذ أتاه الأجل فاختلجه. ابن أبي الدنيا والديلمي عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٧٥۔۔۔ تم جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ یہ انسان ، یہ اس کی موت اور اس کی امید ہے امید اسے لینا چاہتی ہے کہ موت اسے پہلے ہی اچک لیتی ہے۔ (مسند احمد عن ابی سعید)

آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک لکڑی گاڑی پھر اس کے ساتھ دوسری لکڑی گاڑی پھر اس کے ساتھ تیسری لکڑی گاڑی اور تیسری لکڑی ذرا دور گاڑی پھر آپ نے یہ ذکر فرمایا۔
7575- هل تدرون ما هذا؟ هذا الإنسان، وهذا أجله، وهذا أمله، يتعاطى الأمل فيختلجه الأجل دون ذلك. "حم" عن أبي سعيد، أن النبي صلى الله عليه وسلم غرز عودا ثم غرز إلى جنبه آخر، ثم غرز إلى جنبه، ثم غرز الثالث فأبعده، قال: فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٧٦۔۔۔ لالچ علماء کے دلوں سے حکمت کا خاتمہ کردیتی ہے۔ (فی نسخۃ سمعان عن انس)

تشریح :۔۔۔ یعنی علماء وہ ہیں جو حکمت و دانائی کی باتیں کرتے ہیں لیکن جب دلوں میں لالچ وطمع کا بیج جم جائے تو ہر وقت مال ، دولت، زمین جائید اور دنیا کی چیزوں کی ہی باتیں ہوتی ہیں۔
7576- الطمع يذهب الحكمة من قلوب العلماء. في نسخة سمعان عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٧٧۔۔۔ ایسی لالچ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو جو (دل پر) مہر کی طرف پہنچادے، اور ایسی لالچ سے جو ایسے مقام پر پہنچادے جہاں لالچ نہیں ، اور ایسی لالچ سے جہاں لالچ نہیں۔ (مسند احمد ، طبرانی، حاکم عن معاذبن جبل)
7577- استعيذوا بالله من طمع يهدي إلى طبع، ومن طمع يهدي إلى غير مطمع، ومن طمع حيث لا مطمع. "حم طب ك" عن معاذ بن جبل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٧٨۔۔۔ عورتیں سب سے لڑاکا ہیں ، اور جس سے بہت بعد میں ملاقات ہوگی وہ موت ہے، اور ان دونوں سے زیادہ سخت چیز لوگوں کی محتاجی ہے۔ (خطیب عن انس)

تشریح :۔۔۔ یعنی عورتوں سے گزارہ سب سے مشکل کام ہے، بہت کم ایسی ہوتی ہیں، جو دبے ہونٹوں سے جواب دیتی ہیں اکثر منہ پھٹ اور پھوہڑ ہوتی ہیں۔
7578- أشد الحرب النساء1 وأبعد اللقاء الموت، وأشد منهما الحاجة إلى الناس. "خط" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٧٩۔۔۔ وہ چکنا پتھر جس سے علماء کے پاؤں پھسلتے ہوں ، وہ لالچ ہے۔ (ابن المبارک وابن قانع عن سھیل بن حسان، مرسلا)
7579- إن الصفا2 الزلال الذي لا تثبت عليه أقدام العلماء الطمع. ابن المبارك وابن قانع عن سهيل بن حسان مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٨٠۔ لالچ سے بچنا ، کیونکہ وہ موجود ہ فقیر ہے اور ایسی باتوں سے بچنا جو قابل معذرت ہیں (طبرانی فی سھیل الاوسط عن جابر)
7580- إياكم والطمع، فإنه هو الفقر الحاضر، وإياكم وما يعتذرمنه. "طس" عن جابر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ وطمع
٧٥٨١۔۔۔ جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے ناامید ہوجاؤ، اور لالچ سے بچنا کیونکہ وہ موجودہ فقر ہے، اور ایسی نماز پڑھو گویا کہ یہ آخری نماز ہے، اور قابل معذرت باتوں سے بچنا۔ (حاکم عن سعد)
7581- عليك بالإياس مما في أيدي الناس، وإياك والطمع فإنه الفقر الحاضر، وصل صلاتك وأنت مودع، وإياك وما يعتذر منه. "ك" عن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٨٢۔۔۔ وہ چکنا پتھر جس پر علماء کے قدم نہیں جمتے وہ لالچ ہے۔ (ابن قانع وابن المبارک عن سھیل بن حسان الکلابی)
7582- الصفا الزلال الذي لا تثبت عليه أقدام العلماء الطمع. ابن قانع وابن المبارك عن سهيل بن حسان الكلابي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٨٣۔۔۔ تین چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہو ! ایسی لالچ سے جو لالچ کی جگہ نہ ہو، اور ایسی لالچ سے جو (دل پر) مہر تک پہچا دے، اور ایسی لالچ سے جو لالچ کی جگہ تک پہنچائے ۔ (طبرانی عن عوف بن مالک)
7583- تعوذوا بالله من ثلاث: من طمع حيث لا مطمع، ومن طمع يرد إلى طبع، ومن طمع يرد إلى مطمع. "طب" عن عوف بن مالك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٥٨٤۔۔۔ ایسی لالچ سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو، جو (دل پر) مہر تک پہنچادے، اور ایسی لالچ سے جو غیر لالچ کی جگہ پہنچادے۔ (طبرانی فی الکبیر عن المقدام بن معدیکرب)
7584- تعوذوا بالله من طمع يهدي إلى طبع، ومن طمع يهدي إلى غير مطمع. "طب عن المقدام بن معد يكرب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الظاء۔۔۔ بدگمانی
٧٥٨٥۔۔۔ جب تم (کسی کے بارے ) گمان کرو تو تحقیق میں مت پڑو، اور جب حسد کروتو ( کسی کی نعمت کا زوال) مت چاہو اور جب فال لینے لگوتو کر گزرو، اور اللہ تعالیٰ پر ہی تو کل کرو، اور جب (کسی چیز کا) وزن کروتو ترازو جھکتا ہوارکھو (ابن ماجہ عن جابر)

تشریح :۔۔۔ یعنی بدگمانی سے تو کوئی باز نہیں رہے گا اس واسطے تحقیق میں پڑے سے بچو، اور ریس کرو، حسد نہ کرو، اور جب دوسروں کو کوئی چیز تول کردو تو ترازوکا پلڑاجھکتا ہوارکھو اور اچھا شگون یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھروسا کرو۔
7585- إذا ظننتم قلا تحققوا، وإذا حسدتم قلا تبغوا، وإذا تطيرتم فامضوا، وعلى الله فتوكلوا، وإذا وزنتم فأرجحوا. "هـ" عن جابر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف الظاء۔۔۔ بدگمانی
٧٥٨٦۔۔۔ لوگوں سے اعتراض کرو، کیونکہ جب تم لوگوں میں شک کرنے لگوگے تو انھیں برباد کردوگے یا بربادی کے قریب پہنچ جاؤگے۔ (طبرانی عن معاویۃ)
7586- أعرضوا عن الناس، ألم تر أنك إذا ابتغيت الريبة في الناس أفسدتهم أو كدت تفسدهم؟ "طب" عن معاوية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سوء ظن

الاکمال
٧٥٨٧۔۔۔ جس نے اپنے بھائی سے بدگمانی کی، تو اس نے اپنے رب کے بارے میں بدگمانی کی، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں، بہت سے گمانوں سے بچا کرو۔ (ابن النجار عن عائشۃ)
7587- من أساء بأخيه الظن فقد أساء بربه، إن الله تعالى يقول: {اجْتَنِبُوا كَثِيراً مِنَ الظَّنِّ} .

ابن النجار عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم وغضب

یہاں غضب کا ذکر اس لیے کردیا کیونکہ اس کے بارے میں کئی احادیث کا تعلق ظلم کی احادیث سے ہے اور اس کی بعض احادیث حرف غین میں بھی ذکر کی جائیں گی۔

ظلم کی قسمیں
٧٥٨٨۔۔۔ ظلم کی تین قسمیں ہیں : ایک ظلم جسے اللہ تعالیٰ معاف نہیں فرمائیں گے اور ایک ظلم وہ ہے جسے معاف فرمادیں گے اور ایک ظلم جسے چھوڑدیں گے، رہا وہ معاف نہیں فرمائیں گے وہ شرک ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : بیشک ظلم عظیم شرک ہے

رہا وہ ظلم جسے معاف فرمادیں گے، تو وہ بندوں کا اپنی جانوں پر ظلم ہے جس کا تعلق ان کے اور ان کے رب سے ہے اور وہ ظلم جیسے نہیں چھوڑیں گے تو وہ بعض بندوں کا بعض پر ظلم وستم ہوگا، یہاں تک کہ ایک دوسرے سے بدلہ لے لیں گے۔ (الطیالسی والبزار عن انس)
7588- الظلم ثلاثة: فظلم لا يغفره الله، وظلم يغفره الله، وظلم لا يتركه، فأما الظلم الذي لا يغفره الله فالشرك، قال الله تعالى: {إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ} ، وأما الظلم الذي يغفره الله تعالى فظلم العباد أنفسهم فيما بينهم وبين ربهم، وأما الظلم الذي لا يتركه الله فظلم العباد بعضهم بعضا حتى يدين بعضهم من بعض. الطيالسي والبزار عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৭৫৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم وغضب

یہاں غضب کا ذکر اس لیے کردیا کیونکہ اس کے بارے میں کئی احادیث کا تعلق ظلم کی احادیث سے ہے اور اس کی بعض احادیث حرف غین میں بھی ذکر کی جائیں گی۔

ظلم کی قسمیں
٧٥٨٩۔۔۔ ظالم اور ان کے مددگار جہنم میں (داخل) ہوں گے۔ (فردوس عن حذیفہ)
7589- الظلمة وأعوانهم في النار. "فر" عن حذيفة.
tahqiq

তাহকীক: