কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৭৭৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥٠۔۔۔ متکبر قیامت کے روز چیونٹیوں کی طرح کیے جائیں گے ان کی صورتیں مردوں جیسی ہوں گی، ہر طرف سے ان پر ذلت چھارہی ہوگی، جہنم کے ایک قید خانہ کی طرف انھیں ہنکایا جائے گا جس کا نام بولس ہے (سب سے بڑی آگ ان پر شعلہ ماررہی ہوگی) انھیں جہنمیوں کا نچوڑ ہلایا جائے گا جسے طنۃ الخبال یعنی (ہلاکت کی مٹی) کہا جاتا ہے۔ (مسنداحمد ترمذی عن ابن عمر)
7750- يحشر المتكبرون يوم القيامة أمثال الذر، في صور الرجال يغشاهم الذل من كل مكان، يساقون إلى سجن في جهنم يسمى بولس تعلوهم نار الأنيار، يسقون من عصارة أهل النار طينة الخبال. "حم ت" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥١۔۔۔ ایک شخص دو چادریں پہنے باہر آیا، ازار اس نے لٹکایا ہوا تھا، وہ اپنے کندھوں کو دیکھ کر اترارہا تھا، اچانک اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسادیا، اور قیامت تک اسی طرح گھستا جائے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن العباس بن عبدالمطلب)
7751- أقبل رجل يمشي في بردين له، قد أسبل إزاره، ينظر في عطفيه وهو يتبختر إذ خسف الله به الأرض، فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة. "طب" عن العباس بن عبد المطلب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥٢۔۔۔ جو تکبر سے اپنا کپڑا گھسیٹے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف (نظر رحمت سے) نہیں دیکھیں گے۔ (مسلم ، نسائی ابن ماجہ عن ابن عمر)
7752- إن الذي يجر ثيابه من الخيلاء لا ينظر الله إليه يوم القيامة. "م ن هـ" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥٣۔۔۔ ایک دفعہ ایک شخص ایسا جوڑا پہنے چل رہا تھا جو اسے بہت پسند تھا، اور اس نے اپنے بالوں میں جو کندھوں تک تھے کنگی کررکھی تھی، اچانک اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، اور وہ قیامت تک زمین میں گھستا چلا جائے گا۔ (مسنداحمد، بیھقی عن ابوہریرہ )
7753- بينما رجل يمشي في حلة تعجبه نفسه مرجل جمته إذ خسف الله به الأرض، فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة. "حم ق عن أبي هريرة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥٤۔۔۔ ایک دفعہ ایک شخص تکبر سے اپنے ازار کو گھسیٹے جارہا تھا، اللہ تعالیٰ نے اسے زمین میں دھنسا دیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنسا چلا جائے گا۔ (مسند احمد، بیھقی عن ابوہریرہ (رض))
7754- بينما رجل يجر إزاره من الخيلاء خسف الله به فهو يتجلجل في الأرض إلى يوم القيامة. "حم ق" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر ذلیل ہے
٧٧٥٥۔۔۔ تم سے پہلے جو لوگ تھے ان میں کا ایک شخص جوڑا پہن کر تکبر کرتے جارہا تھا، اللہ تعالیٰ نے زمین کو حکم دیا تو اس نے اس شخص کو نگل لیا، تو وہ قیامت تک اس میں گھستا چلا جائے گا۔ (ترمذی عن ابن عمر)
7755- خرج رجل ممن كان قبلكم في حلة له يختال فيها، فأمر الله الأرض فأخذته فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة. "ت" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٥٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ اس کو (نظررحمت سے) نہیں دیکھتے جو تکبر سے اپنا کپڑا کھنچے۔ (بیھقی ، نسائی عن ابن عمر)
7756- لا ينظر الله إلى من جر ثوبه خيلاء. "ق ن" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٥٧۔۔۔ جو شخص اتراتے ہوئے اپنا کپڑا کھینچے اللہ تعالیٰ (بنظررحمت) اس کی طرف بروز قیامت نہیں دیکھے گا۔ (مسند احمد، بخاری عن ابوہریرہ (رض))
7757- لا ينظر الله يوم القيامة إلى من جر إزاره بطرا. "حم خ" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٥٨۔۔۔ جس نے تکبر کپڑا کھینچا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز (بنظررحمت) اس کی طرف نہیں دیکھیں گے۔ (مسند احمد، بیھقی، ترمذی ، ابوداؤد ، نسائی ابن ماجہ عن ابن عمر)
7758- من جر ثوبه خيلاء لم ينظر الله إليه يوم القيامة. "حم ق" عن ابن عمر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٥٩۔۔۔ جس نے تکبر سے اپنا کپڑا روندا تو جہنم میں وہ اسے روندے گا۔ (مسند احمد، عن ھبیب بن معقل)
7759- من وطئ على إزار خيلاء وطئه في النار. "حم" عن هبيب بن معقل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٦٠۔۔۔ جو شخص تکبر سے اپنا کھنچے گا اللہ تعالیٰ اس کی طرف (بنظررحمت) نہیں دیکھیں گے (مسلم عن ابوہریرہ (رض))
7760- إن الله لا ينظر إلى من يجر إزاره بطرا. "م" عن أبي هريرة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٦١۔۔۔ تکبر دل میں ہوتا ہے۔ (ابن لال عن جابر)
7761- الجبروت في القلب. ابن لال عن جابر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ٹخنے کے نیچے کپڑا الٹکانے والا متکبر
٧٧٦٢۔۔۔ لوگ جس چیز کو بھی بلند کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے پست کردیتے ہیں۔ (بیھقی عن سعید بن المسیب، مرسلا)
7762- إن الناس لا يرفعون شيئا إلا وضعه الله تعالى. "هب" عن سعيد بن المسيب مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ کسی کافر کو دیکھتے ہیں (لیکن) متکبر کی طرف (بنظر رحمت) نہیں دیکھتے ، ہوا نے سلیمان بن داؤد (علیہا السلام ) کے تخت کو اٹھایا، اور ٹیک لگائے بیٹھے تھے، انھیں ایسا بہت اچھا لگا اور ان کے دل میں کچھ تکبر سا پیدا ہوا تو وہ زمین پر اتار دیئے گئے۔ (طبرانی فی الاوسط وابن عساکر عن ابن عمر)
تشریح : اولا اس حدیث میں کلام ہے، اگر اس کی سند صحیح بھی مان لی جائے تو یہ صرف دل کا معاملہ ہے، عمل کی اللہ تعالیٰ نے نوبت ہی نہیں آنے دی، جسے عصمت یعنی خدائی حفاظت کہتے ہیں اور اصطلاح میں اسے ” عصمۃ انبیاء “ کہتے ہیں۔
تشریح : اولا اس حدیث میں کلام ہے، اگر اس کی سند صحیح بھی مان لی جائے تو یہ صرف دل کا معاملہ ہے، عمل کی اللہ تعالیٰ نے نوبت ہی نہیں آنے دی، جسے عصمت یعنی خدائی حفاظت کہتے ہیں اور اصطلاح میں اسے ” عصمۃ انبیاء “ کہتے ہیں۔
7763- إن الله تعالى لينظر إلى الكافر، ولا ينظر إلى المزهي، ولقد حملت سليمان بن داود الريح، وهو متكئ، فأعجب واختال في نفسه فطرح على الأرض. "طس وابن عساكر عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٤۔۔۔ تکبر والی کوئی شے اللہ تعالیٰ جنت میں داخل نہیں فرمائیں گے، تو ایک کہنے والے نے کہا : میں چاہتا ہوں کہ میرے کوڑے کا دستہ اور میرے جوتے کا تسمہ خوبصورت ہو (کیا یہ بھی تکبر میں شامل ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : تکبر نہیں، تکبر نہیں ، اللہ تعالیٰ حسن و جمال والے ہیں اور جمال کو پسند کرتے ہیں، تکبر حق کو ٹھکرانا اور لوگوں کو گھٹیا سمجھنا ہے (البغوی عن ابی ریحانہ)
تشریح :۔۔۔ یعنی اسباب دنیا اور اشیاء زیب وزینت استعمال کرنے سے تکبر پیدا نہیں ہوتا یہ ایک قلبی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے آپ کو سب سے فائق اور برتر خیال کرنے لگ جاتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی صراحت ہے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی اسباب دنیا اور اشیاء زیب وزینت استعمال کرنے سے تکبر پیدا نہیں ہوتا یہ ایک قلبی کیفیت ہے جس میں انسان اپنے آپ کو سب سے فائق اور برتر خیال کرنے لگ جاتا ہے جیسا کہ اگلی حدیث میں بھی صراحت ہے۔
7764- إن الله عز وجل لا يدخل شيئا من الكبر الجنة، فقال قائل: إني أحب أن أتجمل بجلاز1 سوطي وشسع نعلي، قال: إن ذلك ليس من الكبر إن الله جميل يحب الجمال، إنما الكبر من سفه الحق وغمط الناس بعينه. البغوي عن أبي ريحانة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٥۔۔۔ یہ تکبر نہیں کہ تیری سواری اور پالان خوبصورت ہو تکبر حق کو ٹھکرانے اور لوگوں کو کمتر سمجھنے کا نام ہے۔ (الباوردی و ابن قانع طبرانی ، عن ثابت ابن قیس بن شماس)
7765- إنه ليس من الكبر أن تحسن راحلتك ورحلك، ولكن الكبر من سفه الحق وغمص الناس.
البارودي وابن قانع "طب عن ثابت بن قيس بن شماس".
البارودي وابن قانع "طب عن ثابت بن قيس بن شماس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٦۔۔۔ نوح (علیہ السلام) کی جو اپنے بیٹوں کو وصیت تھی اس میں ہے : میں تمہیں دو باتوں کا حکم دیتا ہوں اور دو باتوں سے منع کرتا ہوں ، تمہیں لاالہ الاالہ اللہ کی شہادت و گواہی کا حکم دیتا ہوں، اگر آسمان اور زمین ایک پلڑے میں اور یہ کلمہ ایک پلڑے میں ہو تو اس کا وزن بڑھ جائے گا۔
تشریح :۔۔۔ تمہیں سبحان اللہ اور اللہ اکبر کا حکم دیتا ہوں کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے۔
اور دو باتوں سے تمہیں منع کرتا ہوں : تکبر اور بڑائی سے روکتا ہوں، کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا یہ بھی تکبر ہے اچھی سواری پر سوار ہوں، اور اچھا کپڑا پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اس شخص نے عرض کیا : توتکبر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم حق بات کو ٹھکراؤ اور لوگوں کو گھٹیا سمجھو۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ تمہیں سبحان اللہ اور اللہ اکبر کا حکم دیتا ہوں کیونکہ یہ مخلوق کی عبادت ہے۔
اور دو باتوں سے تمہیں منع کرتا ہوں : تکبر اور بڑائی سے روکتا ہوں، کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا یہ بھی تکبر ہے اچھی سواری پر سوار ہوں، اور اچھا کپڑا پہنوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اس شخص نے عرض کیا : توتکبر کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم حق بات کو ٹھکراؤ اور لوگوں کو گھٹیا سمجھو۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)
7766- كان في وصية نوح لابنه: أوصيك بخصلتين وأنهاك عن خصلتين، أوصيك بشهادة أن لا إله إلا الله، فإنها لو كانت السموات الأرض في كفة، وهي في كفة لوزنتها، وأوصيك بالتسبيح، فإنها عبادة الخلق، وبالتكبير، وأنهاك عن خصلتين، عن الكبر والخيلاء، قيل يا رسول الله: أمن الكبر أن أركب الدابة النجيبة؟ وألبس الثوب الحسن؟ قال: لا، قال: فما الكبر؟ قال: أن تسفه الحق وتغمص الناس. "طب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٧۔۔۔ یہ تکبر نہیں کہ تم میں سے کوئی خوبصورتی کو پسند کرے، لیکن حق کو ٹھکرانا اور لوگوں کمتر سمجھنا ہے۔ (ابن عساکر عن خریم بن فاتک) انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میں اپنے کوڑے کے دستہ اور جوتے کے تسمہ میں بھی خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں اور میری قوم سمجھتی ہے یہ تکبر ہے : آپ نے فرمایا : اور یہ حدیث ذکر کی۔ (طبرانی فی الکبیر عن فاطمۃ بنت الحسین عن ابیھا، طبرانی فی الکبیر وسمویہ عن ثابت بن قیس ، طبرانی فی الکبیر وسمویۃ عن سواد بن عمروالانصاری)
7767- ليس الكبر أن يحب أحدكم الجمال، ولكن الكبر أن يسفه الحق ويغمص الناس. ابن عساكر عن خريم بن فاتك، إنه قال يا رسول الله: إني لأحب الجمال، حتى إني لأحبه في شراك نعلي، وجلاز سوطي، وإن قومي يزعمون أنه من الكبر، قال: فذكره. "طب عن فاطمة بنت الحسين عن أبيها"، "طب وسمويه عن ثابت بن قيس "طب وسمويه عن سواد بن عمرو الأنصاري".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٧٧٦٨۔۔۔ روئے زمین پر جو شخص ایسا ہو کہ اس کے دل میں رائی کے دانہ کے برابر بھی تکبر ہو اور وہ مرجائے تو اللہ تعالیٰ اسے جہنم میں داخل فرمائیں گے، ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں چاہتا ہوں کہ میری تلوار کا دستہ خوبصورت ہو، اور میرے کپڑے میل کچیل سے دھونے کے ذریعہ صاف ہوں تسمے اور جوتے خوبصورت ہوں ، آپ نے فرمایا : میری مراد یہ نہیں
تکبر یہ ہے کہ کوئی حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو گھٹیا سمجھے کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو کمتر سمجھنا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اپنی ناک چڑھائے آئے، جب کمزور اور فقیر لوگوں کو دیکھے تو حقارت کی وجہ سے انھیں سلام نہ کرے، یہ شخص لوگوں کو گھٹیا سمجھتا ہے۔
جس نے کپڑے پر پیوند لگایا، جوتا گانٹھ کیا، گدھے پر سوار ہوا، اور غلام جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرلی، بکری کا دودھ دوہ لیا تو وہ تکبر سگت چھوٹ گیا ۔ (ابن صصری فی امالیہ عن ابن عباس)
تشریح :۔۔۔ موجود دور میں گدھے کی بجائے سائیکل کی سواری اور غلام سے مراد گھر میں کام کرنے والے خادم اور بکری کا دودھ دوہنے سے مراد بازار سے دودھ لانا ہے۔
تکبر یہ ہے کہ کوئی حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو گھٹیا سمجھے کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! حق کو جھٹلانا اور لوگوں کو کمتر سمجھنا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اپنی ناک چڑھائے آئے، جب کمزور اور فقیر لوگوں کو دیکھے تو حقارت کی وجہ سے انھیں سلام نہ کرے، یہ شخص لوگوں کو گھٹیا سمجھتا ہے۔
جس نے کپڑے پر پیوند لگایا، جوتا گانٹھ کیا، گدھے پر سوار ہوا، اور غلام جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرلی، بکری کا دودھ دوہ لیا تو وہ تکبر سگت چھوٹ گیا ۔ (ابن صصری فی امالیہ عن ابن عباس)
تشریح :۔۔۔ موجود دور میں گدھے کی بجائے سائیکل کی سواری اور غلام سے مراد گھر میں کام کرنے والے خادم اور بکری کا دودھ دوہنے سے مراد بازار سے دودھ لانا ہے۔
7768- ما على الأرض من رجل يموت وفي قلبه من الكبر مثقال حبة من خردل إلا جعله الله في النار، فقال رجل: يا رسول الله إني أحب أن أتجمل بحمالة1 سيفي، وبغسل ثيابي من الدرن، وبحسن الشراك والنعلين، فقال: ليس ذاك أعني، الكبر من سفه الحق وغمص الناس، قيل يا رسول الله: ما سفه الحق وغمص الناس؟ قال: هو الذي يجيء شامخا بأنفه، فإذا رأى ضعفاء الناس وفقراءهم، لم يسلم عليهم، محقرة لهم، فذاك الذي يغمص الناس، من رقع الثوب، وخصف النعل، وركب الحمار، وعاد المملوك إذا مرض، وحلب الشاة، فقد برئ من العظمة. ابن صصرى في أماليه عن ابن عباس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৭৭৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ متکبر جنت سے محروم ہوگا
٧٧٦٩۔۔۔ جو شخص ایسی حالت میں مررہا ہو کہ اس کے دل میں رائی برابر بھی تکبر ہو اور پھر وہ جنت میں جائے اس کی خوشبو سونگھے یا اسے دیکھے یہ نہیں ہوسکتا ، ایک شخص نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں تو خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں ، میں تو یہاں تک چاہتا ہوں کہ میرے کوڑے کا دستہ اور میرے جوتوں کے تسمے بھی خوبصورت ہوں آپ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں اللہ تعالیٰ خوبصورت ہیں اور خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں لیکن تکبر یہ ہے کہ کوئی حق کو جھٹلائے اور اپنی آنکھوں سے لوگوں کو گرائے انھیں گھٹیا سمجھے۔ (مسند احمد عن عقبۃ بن عامر)
7769- مامن رجل يموت وفي قلبه مثقال حبة من خردل من كبر يحل له الجنة، أن يريح يحها أو يراها، قال رجل: إني أحب الجمال حتى في علاقة سوطي، وشراك نعلي، قال: ليس ذاك الكبر، إن الله جميل يحب الجمال، ولكن الكبر من سفه الحق، وغمط الناس بعينيه. "حم عن عقبة بن عامر".
তাহকীক: