কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮২৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی تلقین کرنا بھی گناہ ہے
٨٢٣٠۔۔۔ اے لوگو ! جھوٹ سے بچو ! کیونکہ جھوٹ ایمان کے برخلاف ہے۔ (مسند احمد عن ابی بکر)
8230- يا أيها الناس إياكم والكذب، فإن الكذب مجانب للإيمان."حم" عن أبي بكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی تلقین کرنا بھی گناہ ہے
٨٢٣١۔۔۔ جھوٹا شخص اپنے تئیں ذلیل ہونے کی وجہ سے ہی جھوٹ بولتا ہے۔ (الدیلمی عن ابوہریرہ (رض))
8231- لا يكذب الكاذب إلا من مهانة نفسه عليه. الديلمي عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی تلقین کرنا بھی گناہ ہے
٨٢٣٢۔۔۔ جس نے کسی باطل چیز سے (اپنے آپکو ) سجایا تو وہ جھوٹ کے دوکپڑے پہننے والا ہے۔ ( العسکری فی الامثال عن جابر)
8232- من تحلى بباطل كان كلابس ثوبي زور. العسكري في الأمثال عن جابر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٣۔۔۔ میرے متعلق جھوٹ کسی عالم آدمی پر جھوٹ باندھنے کی طرح نہیں سو جس نے میرے متعلق جھوٹ بولا اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالے۔ (بیھقی عن المغیرۃ ، ابویعلی عن سعید ابن زید)
8233- إن كذبا علي ليس ككذب على أحد، فمن كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار. "ق" عن المغيرة "ع" عن سعيد بن زيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٤۔۔۔ جس نے میرے ذمہ کوئی ایسی بات کہی جو میں نے نہیں کہی تو اسے اپنا ٹھکانا جہنم میں بنالینا چاہیے۔ (مسند احمد ، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض))
8234- من تقول علي ما لم أقل فليتبوأ مقعده من النار. "حم هـ" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٥۔۔۔ میرے متعلق جھوٹ مت بولنا کیونکہ جس نے مجھ پر جھوٹ باندھا وہ جہنم میں داخل ہوگا۔ (مسند احمد ، بیھقی، ترمذی عن علی )
8235- لا تكذبوا علي، فإنه من كذب علي فليلج النار. "حم ق ت" عن علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٦۔۔۔ میرے متعلق جھوٹ نہ بولنا اس لیے مجھ پر جھوٹ جہنم میں لے جائے گا۔ (ابن ماجہ عن علی)
8236- لا تكذبوا علي فإن الكذب علي يولج النار. "هـ" عن علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٧۔۔۔ جو مجھ پر جھوٹ باندھتا ہے اس کے لیے جہنم میں ایک گھر بن رہا ہے۔ (مسنداحمد عن ابن علی)
8237- إن الذي يكذب علي يبتنى له بيت في النار. "حم" عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٨۔۔۔ جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھاوہ اپنا ٹھکانا جہنم بنالے۔ (مسند احمد ، بیھقی فی شعب الایمان ، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ ، عن انس، مسند احمد ، بخاری ، ابوداؤد، ترمذی، ابن ماجہ عن الزبیر، مسلم عن ابوہریرہ (رض) ، ترمذی عن علی، مسند احمد، ابن ماجہ عن جابر وعن ابی سعید، ترمذی، ابن ماجہ عن ابن مسعود ، ابوداؤد، مسنداحمد، حاکم عن خالد بن عرفطۃ وعن زید بن ارقم ، مسند اھمد عن سلمہ بن الاکوع وعن عقبۃ بن عامر وعن معاویۃ بن ابی سفیان، طبرانی فی الکبیر عن السائب بن یزید وعن سلمان بن الخزاعی وعن صھیب وعن طارق بن اشیم وعن طلحہ بن عبید وعن ابن عباس وعن ابن عمروعن ابن عمرو عتبۃ بن غزوان وعن العرس بن عمیرۃ وعن عماربن یاسر وعن عمران بن حصین وعن وعمروبن حارث وعن وعمروبن عتبۃ وعن عمرو بن مرۃ الجھنی وعن المغیرۃ بن شعبۃ وعن یعلی بن مرۃ وعن ابی عبیدہ ابن الجراح وعن ابی موسیٰ الاشعری ، طبرانی فی الاوسط عن البراء وعن معاذ بن جبل وعن نبی ط بن شریط وعن ابی میمون، دارقطنی فی الافراد عن ابی ومثہ وعن ابن الزبیر وعن ابی رافع وعن ام یمن، خطیب عن سلمان الفارسی وعن ابی امامۃ ، ابن عساکر عن رافع بن خدیج وعن یزید بن اس وعن عایشۃ، ابن صاعد فی طرقہ عن ابی بکر الصدیق وعن عمر بن خطاب وعن سعید بن ابی وقاص وعن حذیفۃ بن اسید وعن حذیفۃ بن الیمان وعن ابن مسعود، ابن الفرات فی جزثہ عن عثمان بن عفان، البزار عن سعید بن زید، ابن عدی فی الکامل عن اسامۃ بن زید وعن برید وعن سفینۃ وعن ابی قتادۃ، ابونعیم فی المعرفۃ عن جذع بن عمرو وعن سعد بن المدح اس وعن عبداللہ بن زعب، ابن قانع عبداللہ بن ابی اوفی، حاکم فی المدخل عن عفان بن حبیب، عقیلی فی الضعفاء عن غزوان وعن ابی کبشۃ ، ابن الجوزی فی مقدمۃ الموضوعات عن ابی ذروعن ابی موسیٰ الغافقی)
8238- من كذب علي متعمدا فليتبوأ مقعده من النار. "حم ق ت ن هـ" عن أنس "حم خ د ت هـ" عن الزبير "م" عن أبي هريرة "ت" عن علي "حم هـ" عن جابر وعن أبي سعيد "ت هـ" عن ابن مسعود "د حم ك" عن خالد بن عرفطة وعن زيد بن أرقم "حم" عن سلمة بن الأكوع وعن عقبة بن عامر وعن معاوية بن أبي سفيان "طب" عن السائب بن يزيد وعن سلمان بن خالد الخزاعي وعن صهيب وعن طارق بن أشيم وعن طلحة بن عبيد الله وعن ابن عباس وعن ابن عمر وعن ابن عمرو وعتبة بن غزوان وعن العرس بن عميرة وعن عمار بن ياسر وعن عمران بن حصين وعن عمرو بن حارث وعن عمرو بن عبسة وعن عمرو بن مرة الجهني وعن المغيرة بن شعبة وعن يعلى بن مرة وعن أبي عبيدة بن الجراح وعن أبي موسى الأشعري "طس" عن البراء وعن معاذ بن جبل وعن نبيط بن شريط وعن أبي ميمون "قط" في الأفراد عن أبي رمثة وعن ابن الزبير وعن أبي رافع وعن أم أيمن "خط" عن سلمان الفارسي وعن أبي أمامة، ابن عساكر عن رافع بن خديج وعن يزيد بن أسد وعن عائشة، ابن صاعد في طرقه عن أبي بكر الصديق وعن عمر بن الخطاب وعن سعد ابن أبي وقاص وعن حذيفة بن أسيد وعن حذيفة بن اليمان وعن ابن مسعود، ابن الفرات في جزئه عن عثمان بن عفان، البزار عن سعيد بن زيد "عد" عن أسامة بن زيد وعن بريدة وعن سفينة وعن أبي قتاده، أبو نعيم في المعرفة عن جذع بن عمرو وعن سعد بن المدحاس وعن عبد الله بن زغب، ابن قانع عبد الله بن أبي أوفى "ك" في المدخل عن عفان بن حبيب "عق" عن غزوان وعن أبي كبشة، ابن الجوزي في مقدمة الموضوعات عن أبي ذر وعن أبي موسى الغافقي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نام جھوٹ

تنبیہ :۔۔۔ محدثین کے ہاں مسلمہ اصول ہے کہ جس شخص نے ایک بار بھی حدیث نبوی میں جھوٹ بولا تو ساری زندگی اس کی کوئی روایت قبول نہیں کی جائے گی چاہے وہ بعد میں کتنا ہی سچا بن جائے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص میرے متع
٨٢٣٩۔۔۔ جس نے میرے بارے جھوٹ بولا وہ جہنمی ہے۔ (مسند احمد عن عمر)
8239- من كذب علي فهو في النار. "حم" عن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ پر چشم پوشی سے روکنا
٨٢٤٠۔۔۔ ہرگز جھوٹ اور بھوک کو جمع نہ کرنا۔ (مسنداحمد، ابن ماجہ عن اسماء بنت یزید)
8240- لا تجمعن كذبا وجوعا. "حم هـ" عن أسماء بنت يزيد. مر برقم [8221] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ پر چشم پوشی سے روکنا
٨٢٤١۔ تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے کہ میں نے پورا رمضان روزے اور قیام میں گزارا (مسند احمد، ابوداؤد ، نسائی عن ابی بکرۃ)

تشریح :۔۔۔ کیونکہ انسان سے لغزش کا صدور لازمی امر ہے اور کمی کی صورت میں جھوٹ بن جائے گا۔
8241- لا يقولن أحدكم: إني صمت رمضان كله وقمته. "حم د ن" عن أبي بكرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ پر چشم پوشی سے روکنا
٨٢٤٢۔۔۔ تم اگر اسے کچھ نہ دیتیں تو تمہارے ذمہ ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا۔ (مسنداحمد، ابوداؤد عن عبداللہ بن عامر بن ربیعہ)
8242- أما إنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة. "حم د" عن عبد الله بن عامر بن ربيعة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٤٣۔۔۔ تم اگر اسے کچھ نہ دیتیں تو تمہارے ذمہ ایک جھوٹ لکھ دیا جاتا (مسند احمد، ابوداؤد، طبرانی فی الکبیر، بیھقی، سعید بن منصور عن عبداللہ بن عامربن ربیعہ) فرماتے ہیں : ایک دن میری والدہ نے مجھے بلایا : آؤ تمہیں کوئی چیز دوں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہارا کیا دینے کا ارادہ ہے ؟ تو انھوں نے عرض کیا : میں اسے کھجور دیتی فرماتے ہیں آپ نے پھر یہ ارشاد فرمایا
8243- أما إنك لو لم تعطيه شيئا كتبت عليك كذبة. "حم د طب ق ص" عن عبد الله بن عامر بن ربيعة قال: دعت أمي يوما، فقالت تعال أعطيك، فقال لها رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما أردت أن تعطيه؟ قالت: أعطيه تمرا قال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خرافہ کی بات
٨٢٤٤۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ خرافہ کون تھا ؟ خرافہ بنی عذراکا ایک شخص تھا جسے جاہلیت میں جن اٹھا کرلے گئے تھے چنانچہ یہ کافی عرصہ ان میں رہا، پھر جنون نے اسے انسانوں کی طرف واپس کردیا، اس کے بعد وہ جنوں کی وہ عجیب باتیں جو اس نے ان میں دیکھی تھیں لوگوں سے بیان کرتا، اس کے بعد سے لوگ کہنے لگے : خرافہ کی بات یہ ہے۔ مسند احمد ، ترمذی فی الشمائل عن عائشۃ
8244- أتدرون ما خرافة؟ إن خرافة كان رجلا من عذرة أسرته الجن في الجاهلية، فمكث فيهم دهرا طويلا، ثم ردته إلى الإنس، فكان يحدث الناس بما رأى فيهم من الأعاجيب، فقال الناس: حديث خرافة.

"حم ت" في الشمائل عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خرافہ کی بات
٨٢٤٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ خرافہ پر رحم کرے وہ نیک آدمی تھا۔ (المفضل الضبی فی الامثال عن عائشۃ)
8245- رحم الله خرافة، إنه كان رجلا صالحا. المفضل الضبي في الأمثال عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٤٦۔۔۔ لوگوں میں صلح کراؤ چاہے جھوٹ کے ذریعہ ہو۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی کامل)
8246- أصلح بين الناس ولو - يعني بالكذب. "طب" عن أبي كاهل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٤٧۔۔۔ میں اسے جھوٹا شمار نہیں کرتا، جو لوگوں میں اصلاح کی غرض سے جھوٹ بولے، اور وہ شخص جو جنگ میں جھوٹ بولتا ہے اور وہ مردجو اپنی بیوی سے یا بیوی اپنے خاوند سے (جھوٹ) ب بولے (ابوداؤد عن ام کلثوم بنت عقبۃ)
8247- لا أعده كاذبا: الرجل يصلح بين الناس، يقول القول لا يريد إلا الإصلاح، والرجل يقول في الحرب، والرجل يحدث امرأته والمرأة تحدث زوجها. "د" عن أم كلثوم بنت عقبة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٤٨۔۔۔ تین مقامات پر جھوٹ بولنا جائز ہے : مرد اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے، لڑائی میں اور وہ جھوٹ جو لوگوں میں صلح کے لیے بولا جائے۔ (ترمذی عن اسماء بنت یزید)
8248- لا يصلح الكذب إلا في ثلاث: يحدث الرجل امراته ليرضيها والكذب في الحرب، والكذب ليصلح بين الناس. "ت" عن أسماء بنت يزيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٤٩۔۔۔ بنائی بات میں جھوٹی کی گنجائش ہے۔ ( ابن عدی الکامل ، بیھقی فی شعب الایمان عن عمران بن حصین)

تشریح :۔۔۔ اسے توریہ کہتے ہیں مثلا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ سے نکلتے تو منافق پوچھتے لشکر کس جانب جائے گا، تو آپ مشرق کی طرف نکلنے کے بجائے مغرب کی طرف نکلتے اور یہی بتاتے کہ لشکر مغرب کی طرف جائے گا پھر آپ مغرب سے مشرق کی جانب مڑجاتے۔
8249- إن في المعاريض لمندوحة عن الكذب. "عد هق" عن عمران بن حصين.
tahqiq

তাহকীক: