কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮২৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٥٠۔۔۔ تین باتوں کے علاوہ ہر جھوٹ انسان کے ذمہ لکھا جاتا ہے، وہ شخص جو جنگ میں جھوٹ بولے، کیونکہ لڑائی تو دھوکا ہے، مرد اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے، اور دو آدمیوں میں صلح کے لیے کوئی شخص جھوٹ بولے۔ (طبرانی فی الکبیر وابن السنی فی عمل الیوم واللیلۃ عن النواس)
8250- كل الكذب يكتب على ابن آدم، إلا ثلاثا: الرجل يكذب في الحرب، فإن الحرب خدعة، والرجل يكذب المرأة فيرضيها،والرجل يكذب بين الرجلين ليصلح بينهما. "طب" وابن السني في عمل يوم وليلة عن النواس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٥١۔۔۔ جو دو آدمیوں میں اصلاح کی غرض سے چغلی کھائے وہ جھوٹا نہیں ۔ (ابوداؤد عن ام کلثوم بنت عقبہ)
8251- لم يكذب من نمى بين اثنين ليصلح. "د" عن أم كلثوم بنت عقبة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ جھوٹ جس کی رخصت و اجازت ہے
٨٢٥٢۔۔۔ جو شخص لوگوں میں صلح کرائے اور اچھی بات کہے اور اچھی بات کی چغلی کھائے تو وہ جھوٹا نہیں ہے۔ (مسند احمد، بیھقی، ابوداؤد، ترمذی عن ام کلثوم بنت عقبۃ، طبرانی فی الکبیر عن شداد بن اوس)
8252- ليس الكذاب بالذي يصلح بين الناس فينمي خيرا، ويقول خيرا. "حم ق د ت" عن أم كلثوم بنت عقبة "طب" عن شداد بن أوس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٣۔۔۔ توریہ میں اتنی گنجائش ہے جو عقلمندشخص کو جھوٹ سے بچالیتی ہے۔ (الدیلمی عن علی)
8253- إن في المعاريض ما يغني الرجل العاقل عن الكذب. الديلمي عن علي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٤۔۔۔ توریہ (پیچیدہ بات) میں جھوٹ (سے بچنے) کی گنجائش ہے۔ ( ابن السنی فی عمل یوم ولیلۃ عن عمران بن حصین)
8254- في المعاريض مندوحة عن الكذب. ابن السني في عمل يوم وليلة عن عمران بن حصين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٥۔۔۔ سوائے تین مواقع کے ہر قسم کا جھوٹ انسان کے ذمہ لکھا جاتا ہے ایک وہ شخص جو دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے جھوٹ بولے ، اور دوسرا وہ شخص جو اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے، تیسرا وہ شخص جو جنگ میں جھوٹ بولے۔ جنگ میں جھوٹ بولنے کی اس لیے ضرورت ہے کہ جنگ تو دھوکا بازی ہے۔ ( ابن النجار عن النواس بن سمعان)
8255- الكذب يكتب على ابن آدم: إلا ثلاثا: الرجل يكذب بين الرجلين ليصلح بينهما، والرجل يحدث امرأته ليرضيها بذلك، والكذب في الحرب، والحرب خدعة. ابن النجار عن النواس بن سمعان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٦۔۔۔ ہر جھوٹ گناہ ہے صرف وہ جس سے کسی مسلمان کو نفع پہنچے یا (اس کے) دین کا دفاع کیا جائے۔ (الرویانی عن ثوبان ھکذافی الفتح الکبیر)
8256- الكذب كله إثم إلا ما نفع به مسلم أو دفع به عن دين. الروياني عن ثوبان. هكذا في الفتح الكبير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٧۔۔۔ ہر قسم کا جھوٹ انسانوں کے ذمہ ہے جو جائز نہیں صرف تین باتوں میں ، وہ شخص جو اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے، دوسرا وہ شخص جو دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے جھوٹ بولے، تیسرا وہ شخص جو لڑائی کی دھوکا بازی میں جھوٹ بولے۔ (الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن اسماء بنت یزید)
8257- كل الكذب على الناس، لا يحل إلا ثلاث خصال: رجل كذب امرأته ليرضيها، ورجل كذب بين رجلين ليصلح بينهما ورجل كذب في خديعة حرب. الخرائطي في مكارم الأخلاق عن أسماء بنت يزيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٨۔۔۔ ہر جھوٹ آدمی کے نامہ اعمال میں لازماً لکھا جاتا ہے، ہاں وہ جھوٹ جو دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے بولے اور آدمی اپنی بیوی سے (جھوٹ موٹ) کا وعدہ کرے، اور وہ شخص جو لڑائی میں جھوٹ بولے، لڑائی تو دھوکا ہے۔ (ابن جریرعن ابوہریرہ (رض))
8258- كل كذب مكتوب على صاحبه لا محالة، إلا أن يكذب الرجل بين الرجلين يصلح بينهما، ورجل يعد امرأته، ورجل يكذب في الحرب والحرب خدعة. ابن جرير عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٥٩۔۔ جس نے دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے چغلی کھائی اس نے جھوٹ نہیں بولا (ابوداؤد عن حمید بن عبدالرحمن عن امامہ)
8259- لم يكذب من نمى بين اثنين ليصلح. "د" عن حميد بن عبد الرحمن عن أمه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦٠۔۔۔ جھوٹ صرف تین مواقع میں جائز ہے، وہ شخص جو اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے بولے، اور وہ جو دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے چغلی کھائے، اور جنگ تودھو کہ بازی ہے۔ (ابوعوانہ عن ابی ایوب)
8260- لا يحل الكذب إلا في ثلاث: الرجل يكذب على امرأته يرضيها بذلك، والرجل يمشي بين رجلين ليصلح بينهما، والحرب خدعة. أبو عوانة عن أبي أيوب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦١۔۔۔ تین باتوں میں سے ایک کے علاوہ جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں وہ شخص جو اپنی بیوی کی عادات درست کرنے کے لیے جھوٹ بولے ، اور وہ شخص جو دو مسلمانوں میں صلح کی غرض بولے، اور وہ شخص جو لڑائی میں جھوٹ بولے، کیونکہ لڑائی تو دھوکا ہے۔ (ابن جریرعن ابی الطفیل)
8261- لا يصلح الكذب إلا في إحدى ثلاث: رجل يكذب على امرأته ليصلح خلقها، ورجل يكذب ليصلح بين امرأين مسلمين، ورجل كذب في خديعة حرب، فإن الحرب خدعة. ابن جرير عن أبي الطفيل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦٢۔۔۔ جھوٹ تین باتوں میں سے ایک جائز ہے وہ شخص جو آدمیوں میں صلح کی غرض سے جھوٹ بولے، اور جنگ میں اور وہ شخص جو اپنی بیوی سے (جھوٹ) بولے۔ (ابن جریرعن ام کلثوم بنت عقبۃ)
8262- لا يصلح الكذب إلا في إحدى ثلاث: الرجل يصلح بين الرجلين، وفي الحرب، والرجل يحدث امرأته. ابن جرير عن أم كلثوم بنت عقبة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦٣۔۔۔ اے ابوکاہل ! لوگوں میں صلح کراؤ چاہے ایسے ہو یعنی جھوٹ کے ذریعہ ۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی کا ھل)
8263- يا أبا كاهل أصلح بين الناس ولو بكذا وكذا - يعني الكذب. "طب" عن أبي كاهل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦٤۔۔۔ کیا بات ہے میں تمہیں دیکھ رہا ہوں کہ تم جھوٹ میں ایسے پڑ رہے ہو جیسے پروانے آگ میں گرتے ہیں خبردار ! ہر جھوٹ انسان کے ذمہ لکھا جاتا ہے ہاں وہ جھوٹ جو آدمی جنگ میں بولے کیونکہ جنگ تو چالبازی ہے یا دو آدمیوں میں صلح کی غرض سے جھوٹ بولے یا اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے۔ (ابن جریر والخرائطی فی مساوی الاخلاق، بیھقی فی شعب الایمان عن النواس)
8264- ما لي أراكم تتهافتون في الكذب تهافت الفراش في النار ألا إن كل كذب مكتوب على ابن آدم كذبا لا محالة، إلا أن يكذب الرجل في الحرب، فإن الحرب خدعة، أو يكذب بين الرجلين ليصلح بينهما أو يكذب امرأته ليرضيها. ابن جرير والخرائطي في مساوي الأخلاق "هب" عن النواس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی جائز صورتیں
٨٢٦٥۔۔۔ لوگو ! تمہیں کیا ہوا کہ جھوٹ میں ایسے پڑتے ہو جیسے پروانے آگ میں گھستے ہیں ؟ سوائے تین جھوٹوں کے ہر جھوٹ انسان کے ذمہ لکھا جاتا ہے، مرد اپنی بیوی کو راضی کرنے کے لیے جھوٹ بولے، وہ شخص جو جنگ کے دھوکا میں جھوٹ بولے، وہ شخص جو دو مسلمانوں میں صلح کی غرض سے جھوٹ بولے۔ ( مسند احمد وابن جریر، طبرانی فی الکبیر، الحلیۃ بیھقی فی الشعب

عن اسماء بنت یزید)
8265- يا أيها الناس: ما يحملكم على أن تتايعوا على الكذب كما تتايع الفراش في النار؟ فإن الكذب كله يكتب على ابن آدم إلا ثلاث خصال: رجل يكذب على امرأته ليرضيها، ورجل يكذب في خديعة حرب، ورجل يكذب بين امرأين مسلمين ليصلح بينهما. "حم" وابن جرير "طب حل هب" عن أسماء بنت يزيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ کفر یہ باتیں جن سے آدمی کافر بن جاتا ہے
٨٢٦٦۔۔۔ آدمی جب اپنے بھائی کو کہے او بےکافر ! تو یہ تو یہ اسے قتل کرنے کے مترادف ہے اور مومن پر لعنت کرنا اسے قتل کرنے کی طرح ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن عمران بن حصین)
8266- إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر فهو كقتله، ولعن المؤمن كقتله. "طب" عن عمران بن حصين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ کفر یہ باتیں جن سے آدمی کافر بن جاتا ہے
٨٢٦٧۔۔۔ جو شخص کسی مسلمان کو (بلاوجہ ) کافر کہے اگر وہ (واقعی) کافر ہو تو (پھر ٹھیک ) ورنہ کہنے والا ہی کافر ہوا۔ ( ابوداؤد عن ابن عمر)
8267- أيما رجل مسلم كفر رجلا مسلما، فإن كان كافرا. وإلا كان هو الكافر.د عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ کفر یہ باتیں جن سے آدمی کافر بن جاتا ہے
٨٢٦٨۔۔۔ جس نے کہا کہ میں اسلام سے بری ہوں تو اگر وہ جھوٹا ہے تو پھر ایسا ہی ہے جیسا اس نے کہا اور اگر وہ سچا ہے تو (فتنہ سے) صحیح سالم اسلام کی طرف نہیں لوٹے گا۔ (ابن ماجہ ، حاکم عن بریدۃ)
8268- من قال: إني بريء من الإسلام فإن كان كاذبا فهو كما قال، وإن كان صادقا لم يعد إلى الإسلام سالما. "هـ ك" عن بريدة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وہ کفر یہ باتیں جن سے آدمی کافر بن جاتا ہے
٨٢٦٩۔۔۔ آدمی جب اپنے بھائی کو کہتا ہے : اوکافر ! تو وہ ان میں سے کسی ایک بات کا مستحق ٹھہرا۔ (بخاری عن ابوہریرہ (رض) ، مسند احمد، بخاری عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ یا تو جیسا اس نے کہا ورنہ خود کافر ٹھہرا۔
8269- إذا قال الرجل لأخيه: يا كافر، فقد باء بها أحدهما. "خ" عن أبي هريرة "حم خ" عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক: