কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮২৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کفرپر مجبور کیا جانا۔۔۔ ازاکمال
٨٢٩٠۔۔۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمار (رض) سے ملاقات کے وقت فرمایا :

کفار تمہیں گرفتار کرلیں گے اور پانی میں تمہیں ڈبوئیں گے (اور اگر) تم سے فلاں فلاں (کفریہ) بات کہہ دی ، تو تجھے چھوڑدیں گے۔ اگر دوبارہ ایسا کریں تو ایسا کہ دو ۔ (ابن سعد عن ابن عون ، عن محمد)

انسان اگر کافروں کے نرغہ میں آجائے اور جان جانے کا اندیشہ ہے تو یہ حالت اضطراری ہے اس وقت زبان سے کلمہ کفر یہ کہنا جائز ہے دل میں ایمان پختہ ہوتا تاکہ کفار بھڑک جان پر نہ کھیل جائیں۔
8290- أخذك الكفار، فغطوك في الماء، فقلت كذا وكذا، فإن عادوا فقل ذلك لهم. ابن سعد عن ابن عون عن محمد، أن النبي صلى الله عليه وسلم لقي عمارا فقال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف المیم۔۔۔ فضول باتیں
٨٢٩١۔۔۔ آدمی کے مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ بےہودہ باتیں چھوڑ دے۔ (ترمذی ، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض))
8291- من حسن الإسلام المرء تركه ما لا يعنيه. "ت هـ" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حرف المیم۔۔۔ فضول باتیں
٨٢٩٢۔۔۔ تمہیں کیا معلوم ؟ ہوسکتا ہے کہ اس نے کوئی فضول بات کی ہو یا ایسی چیز میں بخل سے کام لیا جو بخل سے کم نہیں ہوتی (جیسے علم وغیرہ) ۔ (ترمذی عن انس (رض))
8292- أولا تدري؟ فلعله تكلم فيما لا يعنيه، أو بخل بما لا ينقصه. "ت" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٩٣۔۔۔ قیامت کے روز وہ لوگ سب سے زیادہ گناہ گار ہوں گے جو زیادہ لایعنی باتیں کرنے والے ہوں گے۔ (ابونصر فی الابانۃ عن عبداللہ بن ابی اوفی)
8293- إن أكثر الناس ذنوبا يوم القيامة أكثرهم كلاما فيما لا يعنيه. أبو نصر في الإبانة عن عبد الله بن أبي أوفى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٩٤۔۔۔ آدمی کے مسلمان ہونے کی خوبی یہ ہے کہ وہ بےہودہ باتیں جھوڑدے۔ ( ابن عساکر ابوہریرہ )
8294- إن من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه. "كر" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٩٥۔۔۔ یہ اللہ تعالیٰ (کی رضا) پر قسم کھانے والی کون ہے ؟ اے ام کعب ! تمہیں کیا معلوم ہوسکتا ہے کعب نے کوئی غیر ضروری بات کہہ فی ہو یا وہ چیز روکی ہو جس کے روکنے سے وہ مالدار نہیں بن سکتے تھے۔ ( الخطیب عن کعب بن عجرۃ)

حضرت کعب بیمار ہوئے تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی عیادت کے لیے تشریف لائے ان کی والدہ کہنے لگیں : اے کعب ! تجھے جنت مبارک ہو اس پر آپ نے فرمایا اور یہ حدیث ذکر کی۔

تشریح :۔۔۔ یہ طریقہ تعلیم و تربیت ہے۔
8295- من هذه المتألية على الله؟ وما يدريك يا أم كعب؟ لعل كعبا قال ما لا يعنيه، أو منع ما لا يغنيه. الخطيب عن كعب بن عجرة، أنه مرض فعاده النبي صلى الله عليه وسلم، فقالت أمه: هنيئا لك الجنة يا كعب فقال فذكره.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٢٩٦۔۔۔ ایک شخص شہید ہوئے تو ایک عورت رو رو کر کہنے لگی : ہائے شہید ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تجھے کیا معلوم کہ وہ واقعی شہید ہے ؟ ہوسکتا ہے اس نے کوئی غیر ضروری بات کی ہو یا ایسی چیز میں بخل سے کام لیا جو مقصان کا باعث نہیں تھی۔ ( بیھقی فی شعب الایمان والخطیب فی کتاب البخلاء عن ابوہریرہ (رض))
8296- وما يدريك أنه شهيد؟ فلعله كان يتكلم فيما لا يعنيه، أو يبخل بما لا ينقصه. "هب" والخطيب في كتاب البخلاء عن أبي هريرة، أن رجلا قتل شهيدا فبكته باكية، فقالت واشهيداه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم فذكره "هب ص" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٢٩٧۔۔۔ اپنے بھائی سے جھگڑانہ اس سے مزاح کر اور نہ کوئی ایسا وعدہ کر جس کو تو پورا نہ کرسکے۔ (ترمذی عن ابی عباس)
8297- لا تمار أخاك، ولا تمازحه، ولا تعده موعدا فتخلفه. "ت" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٢٩٨۔ ہدایت ملنے کے بعد جو کوئی قوم گمراہ ہوئی تو وہ جھگڑے کی وجہ سے ہوئی (مسند احمد، ترمذی، ابن ماجہ، حاکم عن ابی امامۃ)
8298- ما ضل قوم بعد هدى كانوا عليه إلا أتوا الجدل. "حم ت هـ ك" عن أبي أمامة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮২৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٢٩٩۔۔۔ جو شخص لڑائی جھگڑا چھوڑدے میں اس کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں ، اگرچہ وہ حق پر ہو، اور جو جھوٹ چھوڑ دے اس کے لیے جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں اگرچہ بطور مزاح کے ہو، اور جو خوش اخلاقی اپنائے اس کے لیے جنت کی اونچائی میں ایک گھر ذمہ دار ہوں۔ (ابوداؤد الضیاء عن ابی امامۃ)
8299- أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء، وإن كان محقا، وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب، وإن كان ما زحا، وببيت في أعلى الجنة لمن حسن خلقه. "د" والضياء عن أبي أمامة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٣٠٠۔۔۔ باطل پر ہو کر جس نے جھوٹ چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں ایک محل بنائیں گے اور جس نے باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا ترک کردیا اللہ تعالیٰ جنت کے درمیان میں اس کے لیے محل بنائیں گے اور جس نے اپنے اخلاق اچھے رکھے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے اوپر درجہ میں محل بنائیں گے۔ ( ترمذی ، ابن ماجہ عن انس)
8300- من ترك الكذب وهو باطل بنى الله له قصرا في ربض الجنة، ومن ترك المراء وهو محق بنى الله له في وسطها، ومن حسن خلقه بنى الله له في أعلاها. "ت هـ" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٣٠١۔۔۔ ایک شخص سے کوئی جھگڑا رہا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پاس کھڑے دیکھ رہے تھے پہلے جتنی دیر وہ شخص خاموش رہا آپ کھڑے رہے لیکن جب یہ بھی بول پڑا تو آپ تشریف لے گئے آسمان سے ایک فرشتہ نازل ہوا، جو اس بات کی تکذیب کررہا تھا جو وہ شخص تمہارے خلاف کہہ رہا تھا۔ لیکن جب تم نے بدلہ لیا (اور گفتگو کی) تو درمیان میں شیطان پڑگیا، تو جب شیطان درمیان میں آگیا تو میرا (وہاں) بیٹھنا مناسب نہیں تھا۔ (ابوداؤد عن ہریرہ (رض))
8301- نزل ملك من السماء فكذبه بما قال لك، فلما انتصرت وقع الشيطان فلم أكن لأجلس إذا وقع الشيطان. "د" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑے کی ممانعت
٨٣٠٢۔۔۔ تم دونوں کے درمیان ایک فرشتہ تھا جو اس سے تمہارا دفاع کررہا تھا، اور جب اس سے کہہ دیا، علیک السلام تو فرشتہ نے کہا : تو اس کا زیادہ حقدار ہے۔ (مسند احمد عن النعمان بن مقرن)
8302- أما إن ملكا بينكما يذب عنك كلما شتمك هذا، قال له: بل أنت وأنت أحق به، وإذا قلت له: عليك السلام، قال: لا بل لك وأنت أحق به. "حم" عن النعمان بن مقرن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٣۔۔۔ سب سے زیادہ وہ شخص اللہ تعالیٰ کو ناپسندیدہ ہے جو سخت جھگڑالو ہو۔ ( الخرائطی مساوی الاخلاق عن ابن الزبیر)
8303- إن أبغض الرجال إلى الله الألد الخصم. الخرائطي في مساوي الأخلاق عن ابن الزبير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٤۔۔۔ تمہارے ساتھ ایک فرشتہ تھا جو تمہارا دفاع کررہا تھا، (لیکن) جب تم نے اس کی کسی بات کا جواب دیا تو درمیان میں شیطان پڑگیا، اور شیطان کے ساتھ میں بیٹھ نہیں سکتا، اے ابوبکر ! تین باتیں برحق ہیں : جس بندہ پر کوئی سا بھی ظلم ہوا پھر اس نے اللہ تعالیٰ کی خاطرچشم پوشی کی تو اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے اپنے مدد سے اسے غالب کرے گا، اور جو شخص صلہ رحمی (رشتہ داری کو قائم رکھنے) کے لیے کوئی عطیہ دے تو اللہ تعالیٰ اس (کے مال) میں اضافہ فرمادیں گے، اور جس شخص نے (مال) بڑھانے کی غرض سے سوال کا دوازہ کھولا تو اللہ تعالیٰ اسے کم کردیں گے ۔ (مسند احمد عن ابوہریرہ (رض))
8304- إنه كان معك ملك يرد عنك، فلما رددت عليه بعض قوله وقع الشيطان، فلم أكن لأقعد مع الشيطان، يا أبا بكر، ثلاث هن حق، ما من عبد ظلم مظلمة فيغضى عنها لله عز وجل إلا أعز الله بها نصره، وما فتح رجل باب عطية يريد بها صلة إلا زاده الله بها كثرة، وما فتح رجل باب مسألة يريد بها كثرة إلا زاده الله بها قلة. "حم" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٥۔۔۔ تمہارے ساتھ تمہاری طرف سے دفاع کرنے والا کوئی موجود تھا، (لیکن) جب تم نے جواب دیا تو شیطان آ بیٹھا، اور میں شیطان کے ساتھ نہیں بیٹھ سکتا، اے ابوبکر ! جس شخص پر کوئی معمولی ظلم ہوا اور وہ صرف اللہ تعالیٰ کے لیے معاف کردے تو اللہ تعالیٰ اپنی مدد سے اسے غالب کریں گے۔ (بیھقی عن ابوہریرہ (رض))
8305- إنه كان معك من يرد عنك، فلما رددت عليه قعد الشيطان، فلم أكن لأقعد مع الشيطان، يا أبا بكر ما من عبد ظلم مظلمة فيغضى عنها لله عز وجل إلا أعز الله بها نصره. "ق" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٦۔۔۔ اے ابوبکر ! ہاں (جواب دو ) وہ بات) مت کہو جو اس نے کہی ہے یوں کہواللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کرے۔ (ابوداؤد طیالسی، مسند احمد ، طبرانی فی الکبیر ، حاکم والبغوی والبارودی عن ربیعۃ بن کعب الاسلمی)
8306- أجل فلا تقل له مثل ما قال لك، ولكن قل له: يغفر الله لك، يا أبا بكر. "ط حم طب ك" والبغوي والباوردي عن ربيعة بن كعب الأسلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٧۔۔۔ جو شخصی باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا ترک کردے، اور جو مزاح میں بھی جھوٹ چھوڑ دے اور جس کے اخلاق اچھے ہوں میں ان کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں ، درمیان اور اوپر والے حصہ میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس (رض))
8307- أنا الزعيم ببيت في ربض الجنة، وببيت في أعلاها، وببيت في أسفلها لمن ترك الجدل، وهو محق، وترك الكذب وهو لاعب، وحسن خلقه للناس. "طب" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٨۔۔۔ جو شخص باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا ترک کردے اس کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں، درمیان میں اور اوپر والے حصہ میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں ( طبرانی فی الکبیر عن ابی امامۃ)
8308- أنا زعيم لمن ترك المراء وهو محق ببيت في ربض الجنة، وببيت في وسط الجنة، وببيت في أعلى الجنة. "طب" عن أبي أمامة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٠٩۔۔۔ جو شخص باوجود حق پر ہونے کے جھگڑاترک کردے اور اگرچہ مزاح کررہا ہو جھوٹ چھوڑدے اور اپنے اخلاق اچھے رکھے تو اس کیلئے جنت کے نچلے حصہ میں ، درمیان میں اور والے حصہ میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں ۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاذ)
8309- أنا زعيم ببيت في ربض الجنة، وببيت في وسط الجنة، وببيت في أعلى الجنة، لمن ترك المراء وإن كان محقا، وترك الكذب وإن كان مازحا وحسن خلقه. "طب" عن معاذ.
tahqiq

তাহকীক: