কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৩১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣١٠۔۔۔ جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا اور اگرچہ مذاق کررہا تھا جھوٹ چھوڑ دیا اور اپنا کردار درست رکھا میں اس کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں، درمیان میں اور اوپر والے حصہ میں ایک گھر کا ذمہ دار ہوں۔ (طبرانی فی الاوسط عن ابن عمر)
8310- أنا زعيم ببيت في ربض الجنة لمن ترك المراء وهو محق وببيت في وسط الجنة لمن ترك الكذب وهو مازح، وببيت في أعلى الجنة لمن حسنت سريرته. "طس" عن ابن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣١١۔۔۔ لڑائی جھگڑے کو چھوڑ دو کیونکہ ان دونوں میں خیربہت کم ہے اگر فریقوں میں سے ایک جھوٹا (بھی) ہوا (تو بھی) دونوں فریق گناہ گار ہوں گے۔ (الدیلمی عن معاذ)
8311- دعوا الجدال والمراء لقلة خيرهما، فإن أحد الفريقين كاذب فيأثم الفريقان. الديلمي عن معاذ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٢۔۔۔ اے امت محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سنبھل کر، تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے اسی وجہ سے ہلاک ہوئے، جھگڑے کو ترک کردو کیونکہ اس میں بھلائی بہت کم ہے، لڑائی ترک کردو کیونکہ ایماندار لڑتا نہیں، لڑائی چھوڑدو کیونکہ جھگڑالو شخص کے خسارے کا سامان پورا ہوچکا، لڑائی چھوڑ دو ، تمہارے لیے اتنا گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑے کرتے رہو لڑائی چھوڑدو کیونکہ میں قیامت کے روز جھگڑالو کے لیے سفارش نہیں کروں گا۔ لڑائی چھوڑدو کیونکہ میں اس شخص کے لیے جو باوجود سچے ہونے کے لڑائی چھوڑدے، جنت کے نچلے ، درمیانے اور اوپر والے حصہ میں تین گھروں کا ذمہ دار ہوں ، لڑائی جھگڑا ترک کردو کیونکہ میرے رب نے بت پرستی کے بعد جس چیز سے سب سے پہلے روکاوہ جھگڑا ہے۔

کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر (٧١) فرقوں میں بٹ گئے، اور نصاریٰ تہتر (٧٣) فرقوں میں سب کے سب گمراہ ہوئے صرف سواداعظم ہدایت پر ہے۔ آپ نے فرمایا : جس طریقہ پر میں اور میرے صحابہ ہیں اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑانہ کرے۔

اور جو کسی توحید والے کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرے تو اس کی بخشش کردی جائے گی، اسلام کی ابتداء اجنبیت میں ہوئی اور عنقریب وہ پھر اجنبی ہوجائے گا، تو خوشخبری ہے اجنبیوں کے لیے، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ غرباء کون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جو لوگوں کی اصلاح کرتے ہیں اور توحید والوں میں سے کسی کی کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہیں کرتے۔

(طبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء وابی امامۃ واثلہ بن الاسقع وانس)

تشریح :۔۔ یعنی دین میں بگاڑ کی اصلاح کرنے والے ایسے اوپرے اور اجنبی لگیں کہ لوگ ان کی بات کو عجوبہ اور اچھنبا سمجھیں گے
8312- مهلا يا أمة محمد: إنما أهلك من كان قبلكم هذا، ذروا المراء لقلة خيره، ذروا المراء فإن المؤمن لا يماري، ذروا المراء، فإن المماري قد تمت خسارته، ذروا المراء فكفاك إثما أن لا تزال مماريا، ذروا المراء، فإن المماري لا أشفع له يوم القيامة، ذروا المراء، فإني زعيم بثلاثة أبيات في الجنة، في رياضها، ووسطها، وأعلاها لمن ترك المراء وهو صادق، ذروا المراء، فإن أول ما نهاني عنه ربي بعد عبادة الأوثان المراء، فإن بني إسرائيل افترقوا على إحدى وسبعين فرقة، والنصارى على اثنتين وسبعين فرقة، كلهم على الضلالة إلا السواد الأعظم، قالوا يا رسول الله: من السواد الأعظم؟ قال: من كان على ما أنا عليه وأصحابي، لم يمار في دين الله، ومن لم يكفر أحدا من أهل التوحيد بذنب غفر له، إن الإسلام بدأ غريبا، وسيعود غريبا فطوبى للغرباء قالوا يا رسول الله: ومن الغرباء؟ قال: الذين يصلحون إذا فسد الناس، ولا يمارون في دين الله، ولا يكفرون أحدا من أهل التوحيد بذنب. "طب" عن أبي الدرداء وأبي أمامة وواثلة بن الأسقع وأنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٣۔۔۔ میرے رب نے بت پرستی کے بعد مجھے سب سے پہلے جس بات کی وصیت کی اور جس بات سے مجھے روکا وہ شراب نوشی اور لوگوں سے جھگڑنا ہے۔ (ابن ابی شیبہ طبرانی فی الکبیر عن ام سلمہ)
8313- إن كان لمن أول ما عهد إلي فيه ربي ونهاني عنه بعد عبادة الأوثان وشرب الخمر لملاحاة الرجال. "ش طب" عن أم سلمة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٤۔۔۔ میرے رب نے بت پرستی کے بعد مجھے سب سے پہلے جس بات سے روکا وہ مے نوشی اور لوگوں سے جھگڑا کرنا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی الدرداء (رض) ، طبرانی فی الکبیر، حلیۃ الاولیاء عن معاذبن جبل، بیھقی فی شعب الایمان ابن ابی شیبہ عن ام سلمہ)
8314- أول ما نهاني عنه ربي بعد عبادة الأوثان وشرب الخمر ملاحاة الرجال. "طب" عن أبي الدرداء "طب حل" عن معاذ بن جبل "ق ش" عن أم سلمة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٥۔۔۔ سب سے پہلے مجھے رب نے بت پرستی ، شراب نوشی اور لوگوں سے جھگڑنے سے روکا۔ (ابن حبان عن عروۃ بن رویم مرسلا وسندہ صحیح)
8315- أول ما نهاني ربي: عن عبادة الأوثان، وعن شرب الخمر، وعن ملاحاة الرجال. "حب" عن عروة بن رويم مرسلا،وسنده صحيح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٦۔۔ آدمی جب تک لڑائی جھگڑے کو نہ چھوڑے اگرچہ وہ حق پر ہو اور ہنسی مزاح میں بھی جھوٹ کو نہ چھوڑے جبکہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر وہ چاہے اس پر غالب آسکتا ہے، اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا ( ابن حبان فی روضۃ العقلاء عن عمر
8316- لا يجد عبد حقيقة الإيمان حتى يدع المراء وهو محق، ويدع الكذب في المزاح وهو يرى أنه لو شاء لغلب. "حب" في روضة العقلاء عن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٧۔۔۔ انسان اس وقت تک صریح ایمان تک نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ مزاح اور جھوٹ کو چھوڑ دے اور جھگڑے کو باوجود حق پر ہوئے کے ترک کردے۔ ( ابویعلی عن عمر)
8317- لا يبلغ عبد صريح الإيمان حتى يدع المزاح، والكذب ويدع المراء وإن كان محقا. "ع" عن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٨۔۔۔ بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو مکمل نہیں کرتا جب تک کہ باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا ترک نہ کردے اور جھوٹ کے خلاف سے بہت سی باتیں نہ کرے۔ (ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ عن ابوہریرہ (رض))
8318- لا يستكمل عبد حقيقة الإيمان حتى يدع المراء وإن كان محقا، ويدع كثيرا من الحديث مخافة الكذب. ابن أبي الدنيا في ذم الغيبة عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حق پر ہوتے ہوئے جھگڑے چھوڑنے کی فضیلت
٨٣١٩۔۔۔ اے امت محمد (علی صاحبھا الصلوٰۃ والسلام) کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے ، کیا تم سے پہلے لوگ اسی وجہ سے ہلاک نہیں ہوئے ؟ جھگڑے کو ترک کردو کیونکہ اس کا نفع بہت کم ہے، وہ دوستوں کے درمیان عداوت بھڑکاتا ہے، جھگڑے کو ترک کردو اس کے فتنہ سے امن میں رہو گے، کیونکہ جھگڑے سے شک پیدا ہوتا ہے، اور عمل باطل ہوجاتا ہے، جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ مومن جھگڑتا نہیں ، لڑائی کو چھوڑ دو ، کیونکہ جھگڑالو کے نقصان کا سامان مکمل ہوچکا لڑائی چھوڑدو، تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو۔

جھگڑے سے کنارہ کش رہو کیونکہ جھگڑالو کی میں قیامت کے روز سفارش نہیں کروں گا، جھگڑے سے دور رہو کیونکہ جو شخص باوجود حق پر ہونے کے جھگڑے سے دامن چھڑالو کیونکہ مجھے میرے رب نے بت پرستی اور شراب نوشی کے بعد جس چیز سے روکاوہ جھگڑا ہے جھگڑے کو خیرباد کہہ دو کیونکہ شیطان اس بات سے تو ناامید ہوچکا کہ اب اس کی (جزیرۃ العرب میں) عبادت کی جائے البتہ وہ لڑانے جھگڑانے پر راضی ہوگیا ہے ، اور وہ دین میں جھگڑنا ہے۔

جھگڑا چھوڑدو ! کیونکہ بنی اسرائیل اکہتر فرقوں میں اور نصاریٰ بہتر فرقوں میں بٹ گئے اور میری امت تہتر فرقوں میں تقسیم ہوگی، سب کے سب گمراہ ہوں گے صرف سواداعظم ہدایت پر ہوگا جس طریقہ پر میں اور میرے صحابہ ہیں، جو اللہ تعالیٰ کے دین میں نہیں لڑا اور نہ اہل توحید میں سے کسی کے گناہ کیوجہ سے کسی کی تکفیر کی (الدیلمی عن ابی الدرداء وابی امامہ وانس وواثلہ معا
8319- يا أمة محمد: لا تهيجوا على أنفسكم وهج النار، أبهذا أمرتم؟ ألا أنهكم عن هذا، أو ليس إنما هلك من كان قبلكم بهذا؟ ذروا المراء، فإن نفعه قليل، ويهيج العداوة بين الإخوان، ذروا المراء تأمنوا فتنته، ذروا المراء، فإن المراء يورث الشك، ويحبط العمل ذروا المراء، فإن المؤمن لا يماري، ذروا المراء، فإن المماري قد تمت خسارته، ذروا المراء، فكفى بك إثما أن لا تزال مماريا، ذروا المراء فإن المماري لا أشفع له يوم القيامة، ذروا المراء، فإني زعيم بثلاثة أبيات في الجنة: في ربضها، وأعلاها، وأسفلها، لمن ترك المراء وهوصادق، ذروا المراء، فإنه أول ما نهاني عنه ربي بعد عبادة الأوثان، وشرب الخمر، ذروا المراء، فإن الشيطان قد أيس أن يعبد، ولكن قد رضي بالتحريش، وهو المراء في الدين، ذروا المراء، فإن بني إسرائيل افترقوا على إحدى وسبعين فرقة، والنصارى على اثنتين وسبعين فرقة، وإن أمتي ستفترق على ثلاث وسبعين فرقة، كلها على الضلالة، إلا السواد الأعظم من كان على ما أنا عليه وأصحابي، من لم يمار في الدين دين الله، ولم يكفر أحدا من أهل التوحيد بذنب. الديلمي عن أبي الدرداء وأبي أمامة وأنس وواثلة معا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٠۔۔۔ میں مذاق بھی کرتا ہوں اور مزاح میں حق بات ہی کہتا ہوں ۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابن عمر)
8320- إني لأمزح، ولا أقول إلا حقا. "طب" عن ابن عمر "خط" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢١۔۔۔ میں اگرچہ تم سے دل لگی کرتا ہوں پھر بھی حق بات ہی کہتا ہوں۔ ( مسند ترمذی عن ابوہریرہ )
8321- إني وإن داعبتكم فلا أقول إلا حقا. "حم ت" عن أبي هريرة
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٢۔۔۔ میں تمہاری طرح بشر ہوں تم سے مزاح کرتا ہوں ۔ ( ابن عساکر عن ابی جعفر الخطمی ، مرسلا)
8322- إنما أنا بشر مثلكم أمازحكم. ابن عساكر عن أبي جعفر الخطمي مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٣۔۔۔ کیا اونٹ کو اونٹنیاں ہی جہنم نہیں دیتی ہیں ؟ (مسند احمد، ابوداؤد، ترمذی عن انس)

تشریح :۔۔۔ ایک صاحب آئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اونٹ کا مطالبہ کیا آپ نے فرمایا : میں تمہیں اونٹنی کا بچہ دوں گا وہ شخص رنجیدہ سا ہوگیا آپ نے فرمایا : اونٹ بھی تو اونٹیوں ہی کے بچے ہوتے ہیں۔
8323- وهل تلد الإبل إلا النوق؟ . "حم د ت" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٤۔۔۔ اے ابوعمیر بلبل کا کیا ہوا ؟ (مسند احمد، بخاری، ترمذی ، نسائی، ابن ماجہ عن انس)

تشریح :۔۔۔ یہ حضرت انس کے جھوٹے ماں شریک بھائی تھے انھوں نے ایک بلبل پال رکھا تھا وہ کہیں مرگیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب ان کے گھر تشریف لے گئے تو ابوعمیر کو غمزدہ پایا تو اس پر یہ ارشاد فرمایا۔
8324- يا أبا عمير ما فعل النغير؟ "حم خ ت ن هـ" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٥۔۔۔ اے دوکانوں والے ! (مسنداحمد، ابوداؤد ترمذی عن انس)

تشریح :۔۔۔ حضرت انس سے بطور مزاح فرمایا۔
8325- يا ذا الأذنين. "حم د ت" عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ مزاح میں سچ بولنے والے کی مزاح میں گرفت نہیں فرماتے ۔ ( ابن عساکرعن عائشۃ)
8326- إن الله تعالى لا يؤاخذ المزاح الصادق في مزاحه. ابن عساكر عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جتنے مزاح کی اجازت ہے
٨٣٢٧۔۔۔ زاہر ہمادادیہاتی اور ہم اس کے شہری ہیں۔ ( البغوی عن انس)

تشریح :۔۔۔ حضرت زاہر بن حرام الاشجعی ایک دیہاتی صحابی ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف دیہات سے تحائف بھجتے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کی جانب ہدیے بھجتے ، ایک دفعہ وہ بازار میں کچھ بیچ رہے تھے، آپ نے ان کو اپنے بازوؤں میں لے لیا اور ان کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے وہ زور زور سے کہنے لگے ارے یہ کون ہے مجھے چھوڑو، جب مڑ کر دیکھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پہچان لیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمانے لگے، مجھ سے یہ غلام کون خریدے گا ؟ چونکہ حضرت زاہر اتنے خونصورت نہ تھے عرض کرنے لگے : حضرت ! آپ کو خسارہ ہوگا، حضرت زاہر اپنے کندھے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سینہ اقدس سے مل رہے تھے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں تم کم قیمت نہیں۔ (الاصابۃ فی تمیزالصابہ ج ١ ص ٥٤٢ طبع مصر)
8327- إن زاهرا باديتنا، ونحن حاضروه. البغوي عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق۔۔۔ ازاکمال
٨٣٢٨۔۔۔ کسی ہنسی اڑانے والے کے لیے جنت کا ایک دروازہ کھولا جائے گا، اور اسے کہا جائے گا اس سے داخل ہوجاؤ ! وہ بڑی مصیبت اور غم سے وہاں پہنچے گا، کہا جائے گا داخل ہوجاؤ، یہی سلسلہ چلتا رہے گا، یہاں تک کہ اس شخص کے لیے ایک دروازہ کھولا جائے گا، اور کہا جائے گا جاؤ داخل ہوجاؤ تو وہ نہیں جائے گا۔ (ابن ابی الدنیا فی ذم الغیبۃ عن الحسن ، مرسلا)
8328- إن المستهزئين يفتح لأحدهم باب الجنة، فيقال: هلم: فيجيء بكربه وغمه، فإذا جاء أغلق دونه، ثم يفتح له باب آخر، فيقال له: هلم، فيجيء بكربه وغمه، فإذا جاء أغلق دونه، فما يزال كذلك حتى إن الرجل ليفتح له الباب، فيقال له: هلم هلم، فما يأتيه. ابن أبي الدنيا في ذم الغيبة عن الحسن مرسلا.

المزاح المباح من الإكمال
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جائز مزاح۔۔۔ ازاکمال
٨٣٢٩۔۔۔ میں تمہاری طرح انسان ہوں تم سے مزاح کرتا ہوں۔ (ابن عساکر عن حماد سلمہ عن ابی جعفر الخطمی ، مرسلا مربرقم، ٨٣٢٢)
8329- إنما أنا بشر مثلكم أمازحكم. ابن عساكر عن حماد بن سلمة عن أبي جعفر الخطمي مرسلا. مر برقم [8322].
tahqiq

তাহকীক: