কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৩৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٠۔۔۔ تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے : میں نے (پیٹ کا) پانی بہادیا لیکن یہ کہے : میں پیشاب کرتا ہوں۔ (طبرانی فی الکبیر عن واثلہ)
8390- لا يقولن أحدكم: أهرقت الماء، ولكن ليقل، أبول. "طب" عن واثلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩١۔۔۔ تم میں سے کوئی ہرگز یہ نہ کہے : میں تنہا ہوں۔ (بیھقی فی الشعب عن ابن عباس)
8391- لا يقولن أحدكم: إني صرورة. "هق" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٢۔۔ ہرگز کوئی یہ کہے کہ میں فلاں فلاں آیت بھول گیا کیونکہ وہ بھولا نہیں اسے بھلادیا گیا ( طبرانی فی الکبیر عن ابن مسعود)
8392- لا يقولن أحدكم: نسيت آية كيت وكيت، فإنه ليس نسي ولكن نسي. "طب" عن ابن مسعود.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٣۔۔۔ تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے : میں نے فصل بوئی بلکہ یوں کہے : میں ہل چلایا۔ (الحلیۃ ، بیھقی عن ابوہریرہ )
8393- لا يقولن أحدكم: زرعت ولكن ليقل حرثت. "حل بز ق" عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٤۔۔۔ تم میں سے کوئی ہرگز نہ کہے : میرا بندہ ، لیکن میرا جوان ، اور غلام (یوں ) نہ کہے : میرا آقا بلکہ میرا سردار کہے۔ (الخرائطی عن ابوہریرہ (رض))
8394- لا يقولن أحدكم: عبدي، ولكن فتاي، ولا يقل العبد: مولاي وليقل سيدي. الخرائطي عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٥۔۔۔ تم میں سے ہرگز کوئی یہ نہ کہے : میرا بندہ کیونکہ تم سب بندے ہو اور ہرگز کوئی یہ نہ کہے : میرا آقا، کیونکہ تمہارا مولا اللہ تعالیٰ ہے بلکہ سردار کہے۔ ( الخرائطی فی مکارم الاخلاق عن ابوہریرہ (رض))
8395- لا يقولن أحدكم: عبدي فكلكم عبد، ولا يقولن أحدكم مولاي، فإن مولاكم الله، وليقل: سيدي. الخرائطي في مكارم الأخلاق عن أبي هريرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٨٣٩٦۔۔۔ اے حمیراء تمہارا ناس (کہنا) رحمت ہے، اس سے جزع فزع نہ کرو، لیکن خرابی پر جزع فزع کرو۔ (ابوالحسن الحربی فی الحربیات عن عائشہ)

تشریح : ۔۔۔ حمیرا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عائشہ (رض) کو فرمایا کرتے تھے۔
8396- يا حميراء إن ويحك أو ويسك رحمة، فلا تجزعي منها ولكن اجزعي من الويل. أبو الحسن الحربي في الحربيات عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کان کی آفت و مصیبت
٨٣٩٧۔۔۔ جس نے کسی ایسی جماعت کی بات کی جانب کان لگایا جو اس کی اس حرکت کو ناپسند کرتے ہیں تو اس کے کانوں میں سیسہ ڈالا جائے گا، اور جس نے اپنی آنکھوں کو وہ چیز دکھائی جو اس نے خواب میں نہیں دیکھی تو اسے کہا جائے گا کہ وہ جو (کے دانہ) میں گرہ لگائے۔ (طبرانی فی الکبیر ابن عباس (رض))
8397- من استمع إلى حديث قوم وهم له كارهون صب في أذنيه الآنك ومن أرى عينيه في المنام ما لم ير كلف أن يعقد شعيرة. "طب" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کان کی آفت و مصیبت
٨٣٩٨۔۔۔ جس نے (گانے والی) باندی کی آواز پر کان لگایا تو اس کے کان میں قیامت کے روز سیسہ ڈالا جائے گا۔ ( ابن عساکر عن انس)
8398- من استمع إلى قينة2 صب في أذنيه الآنك يوم القيامة. ابن عساكر عن أنس.

النهاية في غريب الحديث "4/135"اه ص.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৩৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٣٩٩۔۔۔ (مسند علی (رض)) ضرار بن صرد سے وہ عاصم بن حمید سے ، ابوحمزہ الثمالی عبدالرحمن بن جندب سے ، کمیل بن زیاد کے حوالہ سے وہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : سبحان اللہ ! لوگ کس قدر بھلائی سے بےرغبت ہوگئے ؟ اس مسلمان پر تعجب ہے جس کے پاس اس کا مسلمان بھائی کسی ضرورت سے آتا ہے تو وہ اپنے کو بھلائی کا اہل نہیں سمجھتا، وہ اگر ثواب کی امید اور عقاب وسزا کا خوف نہ رکھتا تو اس کے لیے مناسب ہوتا کہ وہ اچھے اخلاق میں اگے بڑھتا، کیونکہ یہ کامیابی کی راہ دکھاتے ہیں۔

اتنے میں آپ کے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا امیر المومنین ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، کیا آپ نے یہ بات رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ، اور جو اس سے بھی بہتر ہے، جب بنی طے کے قید یوں کو لایا گیا تو ایک لڑکی کھڑی ہوئی جس کا سرخ رنگ تھا اس کے ہونٹ سیاہی مائل تھے، اس کی ناک کا بانسہ برابر تھا اور اس کی ناک قدرے اونچی تھی، اس کی گردن لمبی تھی میانہ قد اور کھوپڑی والی تھی اس کے ٹخنے پر گوشت تھے اور اس کی پنڈلیاں موٹی موٹی تھیں۔

میں نے جب اسے دیکھا تو مجھے وہ بھاگئی، میں نے (دل میں ) کہا : کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ضرور مطالبہ کروں گا کہ اسے میرے مال غنیمت میں شامل کردیں، (لیکن) جب اس نے گفتگو کی تو میں اس کا حسن جمال بھول گیا کیونکہ وہ بڑی فصیح وبلیغ تھی، وہ کہنے لگی : اے محمد ! اگر آپ چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں اور عرب کے قبائل کو مجھ پر ہنسائیں کیونکہ میں اپنے قوم کے سردار کی بیٹی ہوں ، اور میرا والد اپنی ذمہ داری کی حفاظت کرتا، مہمان کی ضیافت کرتا، کھانا کھلاتا ، سلام پھیلاتا ، ضرورت مند کو کبھی واپس نہ کرتا تھا میں حاتم طائی کی بیٹی ہوں ۔

تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے لڑکی ! یہ تو پکے ایمان والوں کی صفات ہیں اگر تمہارا باپ مسلمان تھا تو ہم اس کے حق میں دعائے رحمت کرتے ہیں اس لڑکی کو چھوڑ دو کیونکہ اس کا والد اچھے اخلاق پسند کرتا تھا، اور اللہ تعالیٰ بھی اچھے اخلاق کو پسند کرتا ہے، اتنے میں ابوبردہ بن نیار کھڑے ہوئے اور عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! کیا اللہ تعالیٰ اچھے اخلاق پسند کرتا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جنت میں اچھے اخلاق کے ذریعہ ہی کوئی جاسکتا ہے۔ (بیھقی فی الدلائل حاکم وفیہ ضرار بن صرد متروک، ورواہ ابن النجار من وجہ آخر من طریق سلیمان بن ربیع بن ہاشم، ثنا عبدالمجید بن صالح ابو صالح البرجمی عن زکریا بن عبداللہ بن یزید عن کمیل بن زیاد)

یہ خاتون حضرت سفینہ بنت حاتم ہیں جو حضرت عدی بن حاتم کی بہن ہیں دونوں بہن بھائیوں کو ایمان وصحابیت کا شرف حاصل ہے، تفصیل کے لیے دیکھیں، اخوت الصحابہ صحابہ کی بہنیں مطبوعہ نور محمد کراچی آرام باغ۔
8399- "مسند علي رضي الله عنه" عن ضرار بن صرد: ثنا عاصم بن حميد: عن أبي حمزة الثمالي: عن عبد الرحمن بن جندب: عن كميل بن زياد قال: قال علي بن أبي طالب: يا سبحان الله، ما أزهد كثيرا من الناس في خير؟ عجبا لرجل يجيئه أخوه المسلم في الحاجة، فلا يرى نفسه للخير أهلا، فلو كان لا يرجو ثوابا، ولا يخشى عقابا لكان ينبغي له أن يسارع في مكارم الأخلاق، فإنها تدل على سبيل النجاح، فقام إليه رجل، فقال: فداك أبي وأمي يا أمير المؤمنين، أسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: نعم، وما هو خير منه، لما أتي بسبايا طيء، وقفت جارية حمراء لعساء ذلفاء عيطاء شماء الأنف، معتدلة القامة والهامة درماء الكعبين خدلة الساقين، فلما رأيتها أعجبت بها، وقلت: لأطلبن إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، يجعلها في فيئي، فلما تكلمت أنسيت جمالها، لما رأيت من فصاحتها، فقالت: يا محمد إن رأيت أن تخلي عني وما تشمت بي أحياء العرب، فإني ابنة سيد قومي، وإن أبي كان يحمي الذمار، ويفك العاني، ويشبع الجائع، ويكسو العاري، ويقري الضيف، ويطعم الطعام، ويفشي السلام، ولم يرد طالب حاجة قط، أنا ابنة حاتم طيء، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا جارية هذه صفة المؤمنين حقا لو كان أبوك مسلما لترحمنا عليه، خلوا عنها فإن أباها كان يحب مكارم الأخلاق، والله تعالى يحب مكارم الأخلاق، فقام أبو بردة بن نيار، فقال: يا رسول الله، الله يحب مكارم الأخلاق؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفسي بيده لا يدخل الجنة أحد إلا بحسن الخلق. "ق" في الدلائل "ك" وفيه ضرار بن صرد متروك، ورواه ابن النجار من وجه آخر من طريق سليمان بن ربيع بن هاشم: ثنا عبد المجيد بن صالح أبو صالح البرجمي عن زكريا بن عبد الله بن يزيد عن أبيه عن كميل بن زياد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سات قیدی لائے گئے، آپ نے حضرت علی کو انھیں قتل کرنے کا حکم دیا، اتنے حضرت جبرائیل نازل ہوئے، اور کہنے لگے : ان میں سے چھ کی گردنیں اتاردو اور اس ایک کی گردن نہ اتارو، آپ نے فرمایا : جبرائیل ایسا کیوں ؟ انھوں نے کہا : کیونکہ وہ خوش اخلاق ، کشادہ دست اور کھانا کھلانے والا ہے آپ نے فرمایا : جبرائیل یہ بات تمہاری طرف سے ہے یا تمہارے رب کی طرف سے ہے ؟ انھوں نے کہا : مجھے میرے رب نے اس کا حکم دیا ہے۔ ( ابن الجوزی)
8400- عن علي قال: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بسبعة من الأسارى، فأمر عليا أن يضرب أعناقهم، فهبط جبريل، فقال: يا محمد اضرب عنق هؤلاء الستة، ولا تضرب عنق هذا، قال: يا جبريل لم؟ قال لأنه كان حسن الخلق، سمح الكف، مطعما للطعام، قال: يا جبريل أشيء عنك أم عن ربك؟ قال: ربي أمرني بذلك. ابن الجوزي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠١۔۔۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے ، کہ کسی نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : کہ کون سا عمل سب سے افضل ہے ؟ آپ نے فرمایا : صبر اور سخاوت ، پھر پوچھا گیا : کس مومن کا ایمان سب سے کامل ہے ؟

آپ نے فرمایا : جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8401- عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه، قيل يا رسول الله: أي الأعمال أفضل؟ قال: الصبر والسماحة، قيل: فأي المؤمنين أكمل إيمانا قال: أحسنهم خلقا. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠٢۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں وہ جنت میں میرے سب سے زیادہ قریب بیٹھے گا اور مجھے سب سے زیادہ پسند ہوگا، اور تمہارے وہ لوگ مجھے انتہائی ناپسند ہیں جو باچھیں کھول کر بڑبڑ کرتے اور لچھے دار گفتگو کرتے اور تکبر کرتے ہیں۔ (ابن عساکر)
8402- عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أحبكم وأقربكم مني مجلسا في الجنة أحاسنكم أخلاقا، وأبغضكم إلي الثرثارون المتشدقون المتفيهقون - قال المتكبرون. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠٣۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے فرمایا : اے ام عبد کے بیٹے ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ کس مومن کا ایمان سب سے افضل ہے ؟ آپ نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : وہ مومن سب سے افضل ایمان والا ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہوں ، جن کے کندھے عاجزی کی وجہ سے بلند نہیں ، کوئی بندہ اس وقت تک ایمان کی حقیقت تک نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ جو اپنے لیے پسند کرے وہی لوگوں کے لیے پسند کرے، اور یہاں تک کہ اس کا پڑوسی اس کی ایذاء رسانیوں سے محفوظ رہے۔ (ابن عساکر وفیہ کوثر بن حکیم متروک)
8403- عن ابن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لعبد الله بن مسعود: يا ابن أم عبد هل تدري من أفضل المؤمنين إيمانا؟ قال: الله ورسوله أعلم، قال: أفضل المؤمنين إيمانا أحاسنهم أخلاقا، الموطؤون أكنافا، لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يحب للناس ما يحب لنفسه وحتى يأمن جاره بوائقه. "كر" وفيه كوثر بن حكيم متروك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠٤۔۔۔ (ابوالدرداء (رض)) حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے ، کہ انھوں نے پوری رات یہ کہتے گزار دی، اے اللہ ! جیسے آپ نے مجھے حسین بنایا ایسے میرے اخلاق اچھے بنادیں یہاں تک کہ صبح ہوگئی، کسی نے ان سے کہا : رات بھر سے آپ کی دعا اچھے اخلاق میں تھی اس کی کیا وجہ ہے ؟ انھوں نے فرمایا : مسلمان اپنے اخلاق اچھے کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے اچھے اخلاق اسے جنت میں داخل کردیتے ہیں اور اپنے اخلاق بگاڑتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے برے اخلاق جہنم میں داخلے کا سبب بن جاتے ہیں مسلمان بندہ سویا ہوتا ہے اور اس کی بخشش کردی جاتی ہے کسی نے کہا : یہ کیسے ؟ (فرمایا :) مسلمان بندہ کا بھائی رات کو اٹھتا ہے تہجد ادا کرتا ہے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا اور اس کی دعا قبوک کرلی جاتی ہے اور اپنے بھائی کے لیے دعا کرتا ہے پھر اس کے حق میں بھی دعا قبول کرلی جاتی ہے۔ (ابن عساکر)
8404- "أبو الدرداء رضي الله عنه" عن أبي الدرداء أنه بات ليلة يقول: اللهم حسنت خلقي فحسن خلقي حتى أصبح، فقيل له: ما كان دعاؤك منذ الليلة إلا في حسن الخلق؟ فقال: إن العبد المسلم يحسن خلقه حتى يدخله حسن خلقه الجنة، ويسيء خلقه حتى يدخله سوء خلقه النار. وإن العبد المسلم ليغفر له وهو نائم، قيل: كيف ذاك؟ يقوم أخوه من الليل ويتهجد، فيدعو الله فيستجيب له، ويدعو لأخيه فيستجيب له فيه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کتاب الاخلاق۔۔۔ ازقسم افعال

اس کے دوباب ہیں، پہلاباب اچھے اخلاق پر مشتمل ہے۔

فصل اول۔۔۔ مطلقاً اچھے اخلاق کی فضیلت
٨٤٠٥۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا اے ابوذر ! کیا تمہیں دو ایسی خصلتیں نہ بتاؤں جو پیٹھ پر بوجھ اٹھانے میں انتہائی ملکی اور میزان میں بےحد وزنی ہیں ان کے علاوہ کوئی خصلتیں ایسی نہیں ، تم خوشی اخلاقی اور زیادہ دیر خاموش رہنے کی عادت اپنالو ! اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، لوگ ان جیسی خصلتوں سے ہی خوبصورتی حاصل کرسکتے ہیں۔ (ابویعلی، بیھقی فی الشعب)
8405- عن أبي ذر رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: يا أبا ذر ألا أدلك على خصلتين، هما أخف على الظهر، وأثقل في الميزان من غيرهما؟ عليك بحسن الخلق، وطول الصمت، فوالذي نفسي بيده ما يتجمل الخلائق بمثلهما. "ع هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق اور خاموشی کی وصیت
٨٤٠٦۔۔۔ حضرت انس (رض) سے وہ حضرت ابوذر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : میں نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے کسی بات کی وصیت کریں، آپ نے فرمایا : میں اچھے اخلاق وخاموشی کی وصیت کرتا ہوں، آپ نے ( یہ بھی) فرمایا : وہ بدنی اعمال میں سب سے ہلکی اور میزان میں سب سے بھاری ہیں۔ (ابن النجار)
8406- عن أنس، عن أبي ذر رضي الله عنه، قال: قلت: يا رسول الله أوصني، قال: أوصيك بحسن الخلق والصمت، قال: هما أخف الأعمال على الأبدان، وأثقلها في الميزان. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق اور خاموشی کی وصیت
٨٤٠٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : اچھے اخلاق دس چیزوں میں ہیں، بات کی سچائی ، اللہ تعالیٰ کی طاعت و عبادت میں صحیح مشقت ، مانگنے والے کو دنیا، اچھائی کا بدلہ دینا، ناتے کو جوڑنا، امانت کو ادا کرنا، پڑوسی اور مہمان کو پناہ دینا اور ان سب کی بنیاد وحیاء ہے، راوی نے ایک بات چھوڑدی۔ (ابن النجار)
8407- عن عائشة قالت: مكارم الأخلاق عشرة: صدق الحديث وصدق البأس في طاعة الله، وإعطاء السائل، ومكافأة الصنيع، وصلة الرحم، وأداء الأمانة، والتذمم بالجار، والتذمم بالضيف، ورأسهن الحياء أسقط الراوي منهن واحدة. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق اور خاموشی کی وصیت
٨٤٠٨۔۔۔ حضرت مالک بن اوس بن الحدثان النصری (رض) فرماتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس میں بیٹھے تھے، آپ نے فرمایا : (جنت) واجب ہوگئی، آپ کے صحابہ نے پوچھا : کیا چیز واجب ہوگئی ؟ آپ نے فرمایا : جس نے غلط بات کیلئے جھوٹ چھوڑ دیا اس کے لیے جنت کے ابتدائی حصہ میں اور جس نے حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دیا اس کیلئے جنت کے درمیان میں اور جس نے اپنے اخلاق اچھے کرلیے اس کے لیے جنت کے بالائی حصہ میں ایک گھر بنایا جائے گا۔ (ابن النجار)
8408- عن مالك بن أوس بن الحدثان النصري أنه كان مع رسول الله صلى الله عليه وسلم جالسا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وجبت وجبت فقال أصحابه: ما هذه التي وجبت وجبت؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ترك الكذب وهو باطل بني له في ربض الجنة، ومن ترك المراء وهو محق بني له في وسط الجنة، ومن حسن خلقه بني له في أعلاها. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق اور خاموشی کی وصیت
٨٤٠٩۔۔۔ اے ابوذر ! جو نیکی دیکھوا سے کر گزرو ! اگر اس کی قدرتنی رکھوتو لوگوں سے خوش اخلاقی سے گفتگوکرو، اور جب سالن کا شوربہ پکاؤ تو اس میں پانی زیادہ ڈالو اور اپنے پڑوسیوں کو ایک پیالہ پھر کردے دو ۔ (ابن النجار)
8409- يا أبا ذر لا تدعن من المعروف شيئا إلا فعلته، فإذا لم تقدر عليه فكلم الناس وأنت إليهم طليق، وإذا طبخت مرقة فأكثر ماءها واغترف لجيرانك منها. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক: