কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৪১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اخلاق اور خاموشی کی وصیت
٨٤١٠۔۔۔ عمروبن دینار سے روایت ہے فرمایا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک شخص کے پاس ٹھہرے جس کے پاس پچاس سے اوپر کچھ مویشی تھے، ساٹھ، ستریانوے سے سو تک ان میں اونٹ ، گائے اور بکریاں شامل تھیں، اس نے آپ کونہ ٹھہرایا اور نہ مہمان نوازی کی، چلتے چلتے ایک (دیہاتی عرب) عورت کے ہاں سے گزرہوا، جس کی چند بکریاں تھیں، اس نے آپ کو اپنے یاں فروکش ہونے کا کہا ؟ اور آپ کی خاطر بکری ذبح کی، نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس شخص کو دیکھو جس کے پاس اونٹ ، بکریاں اور گائیں تھیں، اس کے پاس سے ہم گزرے تو نہ اس نے ہمیں آنے کو کہا اور نہ ہماری ضیافت کی، اور اس کے مقابلہ میں اس عورت کو دیکھو ! اس کے پاس چندبکریاں تھیں اس نے ہمیں خوش آمدید کہا ہماری ضیافت کی، ہمارے لیے بکری ذبح کی، (ایسا اخلاق کا تفاوت ہے ؟ ) یہ اخلاق (حسنہ) اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں جسے چاہتے ہیں اسے ان میں سے اچھے اخلاق بخش دیتے ہیں، عمرو فرماتے ہیں : میں نے طاؤوس کو فرماتے سنا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اور اس وقت آپ منبر پر تشریف فرما تھے،اچھے اخلاق اللہ تعالیٰ ہی عطا کرتا ہے اور برے اخلاق کی جانب وہی پھیرتا ہے۔ ( بیھقی فی شعب الایمان)
8410- عن عمرو بن دينار قال: نزل النبي صلى الله عليه وسلم برجل ذي عكرة من الإبل، وهي ستون، أو سبعون، أو تسعون إلى المائة، بين إبل وبقر وغنم، فلم ينزله، ولم يضفه، ومر على امرأة لها شويهات فأنزلته، وذبحت له، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: انظروا إلى هذا الذي له عكر من الإبل والبقر والغنم، مررنا به فلم ينزلنا، ولم يضفنا، وانظروا إلى هذه المرأة، لها شويهات أنزلتنا، وذبحت لنا، إنما هذه الأخلاق بيد الله، فمن شاء أن يمنحه منها خلقا حسنا منحه، قال عمرو: سمعت طاووسا يقول قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وهو على المنبر إنما يهدي إلى أحسن الأخلاق الله، وإنما يصرف إلى أسوائها هو. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ان دلوں کو راحت پہنچایا کرو اور ان کے لیے حکمت کی دلچسپ باتیں طلب کرو، کیونکہ یہ دل ایسے ہی اکتاجاتے ہیں جیسے بدن اکتا جاتے ہیں۔ (ابن عبدالبرفی العلم والخرائطی فی مکارم الاخلاق وابن السمعانی فی الدلائل)
8411- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: أجموا هذه القلوب فاطلبوا لها طرف الحكمة، فإنها تمل كما تمل الأبدان. ابن عبد البر في العلم والخرائطي في مكارم الأخلاق وابن السمعاني في الدلائل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٢۔۔۔ عبادبن یعقوب لرواجنی نے کہا ہمیں عیسیٰ بن عبداللہ ابن علی بن علی نے خبردی وہ فرماتے ہیں مجھ سے میرے والد نے اپنے والد سے اپنے دادا سے انھوں نے حضرت علی (رض) سے روایت نقل کی ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی (عطاکردہ) رخصتوں پر عمل کیا جائے، جیسے وہ اس بات کو پسند فرماتے ہیں کہ ان کی عزیمتوں پر عمل کیا جائے، مجھے اللہ تعالیٰ نے یکسوسیدھا آسان دین ابراہیم دے کر بھیجا پھر آپ نے یہ آیت پڑھی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے دین میں کوئی تنگی نہیں رکھی میرے والد نے مجھ سے فرمایا : بیٹا حرج کیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے اس بارے علم نہیں انھوں نے فرمایا : تنگی۔ (حاکم)
8412- عن عباد بن يعقوب الرواجني: أنبأنا عيسى بن عبد الله بن محمد بن علي: ثنى أبي عن أبيه عن جده عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله يحب أن يؤخذ برخصه، كما يحب أن يؤخذ بعزائمه، إن الله بعثني بالحنيفية السمحة دين إبراهيم، ثم قرأ: {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} فقال لي أبي: يا بني ما حرج؟ قلت: لا أدري قال: الضيق. "ك".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو ایک رسی لٹکی ہوئی دیکھی آپ نے پوچھا : یہ کس لیے ہے ؟ تو کسی نے جواب دیا : کہ فلانی عورت نماز پڑھتی رہتی ہے جب تھک جاتی ہے تو اس رسی کے ذریعہ آرام کرتی ہے آپ نے فرمایا : اسے چاہیے جب تک چستی اور نشاط ہو نماز پڑھتی رہے اور جب تھک جائے تو سو جائے ۔ (مصنفف ابن ابی شیبہ)
8413- عن أنس رضي الله عنه قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فإذا حبل ممدود، فقال: ما هذا؟ قيل: فلانة تصلي يا رسول الله، فإذا أعيت استراحة على هذا الحبل، قال: فلتصل ما نشطت، فإذا أعيت فلتنم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٤۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو نماز پڑھتے اور قرات کرتے سنا، حضرت بریدہ سے فرمایا : کیا اسے جانتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں یارسول اللہ ! اہل مدینہ کا سب سے زیادہ نمازی شخص ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے نہ بتانا ورنہ وہ ہلاک ہوجائے گا، کیونکہ تم ایسی امت ہو جس کے ساتھ آسانی کا ارادہ عطا کیا گیا ہے۔ (ابن جریروسندہ صحیح)
8414- عن بريدة، قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يصلي يقرأ، فقال لبريدة: أتعرف هذا؟ قلت: نعم يا رسول الله، هذا أكثر أهل المدينة صلاة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تسمعه فيهلك، إنكم أمة أريد بكم اليسر. ابن جرير وسنده صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٥۔۔۔ جعدۃ بن ھبیرۃ بن ابی وھب المخزومی، جعدہ بن ھبیرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے عبدالمطلب کے ایک غلام کا ذکر کیا گیا جو نماز پڑھتا تھا اور سوتا نہ تھا، اور روزہ رکھتا تھا، افطار نہیں کرتا تھا، آپ نے فرمایا : میں نماز پڑھتا ہوں ، سوتا ہوں ، روزہ رکھتا ہوں ، افطار کرتا ہوں ، ہر کام کی (ابتداء میں ) تیزی ہوتی ہے اور ہر تیزی میں سستی ہے تو جس کی سستی سنت کی طرف ہوئی تو وہ ہدایت یافتہ ہے اور جس کی سستی اس کے علاوہ کسی طرف ہو تو وہ سنت کے راستہ سے گمراہ ہوا ۔ (ابونعیم)
8415- جعدة بن هبيرة بن أبي وهب المخزومي عن جعدة بن هبيرة قال: ذكر للنبي صلى الله عليه وسلم مولى لبني عبد المطلب يصلي ولا ينام، ويصوم ولا يفطر، فقال: أنا أصلي، وأنام، وأصوم وأفطر، ولكل عمل شرة ولكل شرة فترة، فمن كانت فترته إلى السنة فقد اهتدى، ومن تكن إلى غير ذلك فقد ضل. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٦۔۔۔ (الحکم بن حزن الکلفی) الحکم بن حزن الکفی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں حاضر ہوا میں ساتواں یا نواں شخص تھا، ہمیں اجازت ملی تو ہم لوگ آپ کے پاس آئے، ہم نے کہا : یارسول اللہ ! ہم آپ کے پاس خیر کی دعا کرانے آئے ہیں آپ نے ہمارے لیے دعائے خیر فرمائی اور ہمارے حکم دیا تو ہمیں وہاں ٹھہرایا گیا، اور ہمارے لیے کچھ کھجوروں کا حکم دیا حالانکہ وہاں یہ اشیاء (ان دنوں ) کم تھیں، چنانچہ ہم لوگ کچھ ایام ٹھہرے آپ کے ساتھ جمعہ کی نماز میں شریک ہوئے۔
آپ نے کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جو چند مختصر پاکیزہ اور مبارک پر مشتمل تھی، پھر فرمایا : لوگو ! جن جن باتوں کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ان کے لیے تم میں ہرگز نہ اتنی طاقت ہے اور نہ تم کرسکتے ہو، لیکن سیدھے رہو اور خوشخبری ہاؤ۔ ( ابونعیم ، ابویعلی، ابن عساکر)
آپ نے کمان یا لاٹھی پر ٹیک لگاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء کی جو چند مختصر پاکیزہ اور مبارک پر مشتمل تھی، پھر فرمایا : لوگو ! جن جن باتوں کا تمہیں حکم دیا گیا ہے ان کے لیے تم میں ہرگز نہ اتنی طاقت ہے اور نہ تم کرسکتے ہو، لیکن سیدھے رہو اور خوشخبری ہاؤ۔ ( ابونعیم ، ابویعلی، ابن عساکر)
8416- "الحكم بن حزن الكلفي" عن الحكم بن حزن الكلفي قال: قدمت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم سابع سبعة، أوتاسع تسعة، فأذن لنا، فدخلنا، فقلنا: يا رسول الله صلى الله عليه وسلم أتيناك لتدعو لنا بخير، فدعا لنا بخير، وأمر بنا فأنزلنا، وأمر لنا بشيء من تمر والشان إذ ذاك دون،فلبثنا بها أياما شهدنا بها الجمعة مع النبي صلى الله عليه وسلم، فقام متوكئا على قوس أو عصا، فحمد الله، وأثنى عليه كلمات خفيفات طيبات مباركات، ثم قال: أيها الناس إنكم لن تطيقوا، ولن تفعلوا، كل ما أمرتم ولكن سددوا وأبشروا. وأبو نعيم "ع كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٧۔۔۔ (عبداللہ بن عمرو) حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے اور فرمایا : عبداللہ کیا مجھے یہ خبر نہیں ملی کہ تم رات کے قیام اور دن کے روزے کی تکلیف اٹھاتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں ایسا ہی کرتا ہوں آپ نے فرمایا تمہارے لیے اتنا کافی ہے کہ ( آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ ایسے کرو) ۔
ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرو، کیونکہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے تو گویا تم نے پورا سال روزے رکھے، میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اس کی قوت رکھتا ہوں ، اور میں چاہتا ہوں : کہ آپ میرے لیے اضافہ فرمائیں آپ نے فرمایا : اچھا پانچ دن ، میں نے عرض کی مجھ میں طاقت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اضافہ فرمائیں۔
آپ نے فرمایا : اچھا سات دن راوی کا بیان ہے : وہ اضافہ کا مطالبہ کرتے رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ، دو دن کا اضافہ فرماتے رہے، یہاں تک کہ نصف (ماہ) تک پہنچ گئے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بھائی داؤد انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، آدھی رات قیام کرتے اور آدھا سال روزہ رکھتے تھے اور تمہارے ذمہ تو تمہارے گھروالوں ، تمہاری آنکھوں کا ، تمہارے مہمان کا حق ہے، بعد میں جب عبداللہ (رض) بوڑھے اور سن رسیدہ ہوگئے تو فرمایا کرتے تھے کاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت قبول کرلیتا تو وہ میرے لیے میری اہل ومال سے عزیز ہوتی۔ (ابویعلی ، ابن عساکر ، بخاری مسلم)
ہر مہینہ تین روزے رکھ لیا کرو، کیونکہ ایک نیکی دس نیکیوں کے برابر ہے تو گویا تم نے پورا سال روزے رکھے، میں نے عرض کی یارسول اللہ ! میں اس کی قوت رکھتا ہوں ، اور میں چاہتا ہوں : کہ آپ میرے لیے اضافہ فرمائیں آپ نے فرمایا : اچھا پانچ دن ، میں نے عرض کی مجھ میں طاقت ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ اضافہ فرمائیں۔
آپ نے فرمایا : اچھا سات دن راوی کا بیان ہے : وہ اضافہ کا مطالبہ کرتے رہے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو ، دو دن کا اضافہ فرماتے رہے، یہاں تک کہ نصف (ماہ) تک پہنچ گئے۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے بھائی داؤد انسانوں میں سب سے زیادہ عبادت گزار تھے، آدھی رات قیام کرتے اور آدھا سال روزہ رکھتے تھے اور تمہارے ذمہ تو تمہارے گھروالوں ، تمہاری آنکھوں کا ، تمہارے مہمان کا حق ہے، بعد میں جب عبداللہ (رض) بوڑھے اور سن رسیدہ ہوگئے تو فرمایا کرتے تھے کاش میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رخصت قبول کرلیتا تو وہ میرے لیے میری اہل ومال سے عزیز ہوتی۔ (ابویعلی ، ابن عساکر ، بخاری مسلم)
8417- "عبد الله بن عمرو" عن عبد الله بن عمرو قال: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا عبد الله ألم أخبر أنك تكلفت قيام الليل وصيام النهار؟ قلت لأفعل، فقال: إن من حسبك - ولم يقل افعل- أن تصوم من كل شهر ثلاثة أيام، فالحسنة بعشر أمثالها، فكأنما قد صمت الدهر كله، قلت: يا رسول الله إني أجد قوة، وإني أحب أن تزيدني، قال: فخمسة أيام قلت: فإني أجد قوة، وإني أحب أن تزيدني، قال سبعة أيام، قال: فجعل يستزيده، ويزيده يومين، يومين، حتى بلغ النصف، فقال: إن أخي داود كان أعبد البشر، وإنه كان يقوم نصف الليل، ويصوم نصف الدهر، وإن لأهلك عليك حقا، وإن لعينك عليك حقا وإن لضيفك عليك حقا، فكان عبد الله بعد ما كبر وأدركه السن، يقول: لأن كنت قبلت رخصة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلي من أهلي ومالي. "ع كر". - خ م-.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٨۔۔۔ عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : یہ مضبوط دین ہے اس میں نرمی سے داخل ہو اور اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بغض پیدا مت کرو کیونکہ قافلہ سے رہ جانے والا نہ منزل تک پہنچ سکتا ہے اور نہ سواری کو باقی رکھ سکتا ہے ایسے شخص کا ساعمل کرو جسے یہ گمان ہے کہ وہ بڑھاپے میں ہی مرے گا اور خوف اس شخص کا سارکھو جسے گمان ہے کہ وہ کل مرجائے گا۔ (ابن عساکر)
8418- عن عبد الله بن عمرو قال: إن هذا الدين متين، فأوغلوا فيه برفق، ولا تبغضوا إلى أنفسكم عبادة الله، فإن المنبت لا بلغ بعدا، ولا أبقى ظهرا، وأعمل عمل امرئ يظن أن لا يموت إلا هرما، واحذر حذر امرئ يحسب أنه يموت غدا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤١٩۔۔۔ حضرت عبداللہ عمرو سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : میں ایسا شخص ہوں کہ لگاتار روزے رکھ سکتا ہوں کیا میں پورا سال روزے رکھوں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں ۔ (ابن جریر)
8419- عن عبد الله بن عمرو، قال سألت النبي صلى الله عليه وسلم، فقلت إني رجل أسرد الصوم، أفأصوم الدهر؟ قال: لا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل ثانی۔۔۔ حرف تہجی کے لحاظ سے اخلاق کی تفصیل
اعمال میں میانہ روی
اعمال میں میانہ روی
٨٤٢٠۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں حق میں نشاط اور چستی کے لیے بعض باطل چیزوں سے راحت حاصل کرتا ہوں ۔ (ابن عساکر)
یعنی ایسے امور سے جو مباح ہیں۔
یعنی ایسے امور سے جو مباح ہیں۔
8420- "أبو الدرداء رضي الله عنه" عن أبي الدرداء قال: إني لأستجم ببعض الباطل ليكون أنشط لي في الحق. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نجات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی
٨٤٢١۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : تم میں سے کوئی اپنے عمل کے ذریعہ نجات نہیں پاسکتا لوگوں نے عرض کیا : آپ نے یارسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا : میں بھی نہیں ، ہاں یہ کہ مجھے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت میں ڈھانپ لے، لہٰذا درست رہو، صبح وشام اور رات کی تاریکی میں عمل کرو، میانہ روی اختیار کرو
(منزل تک) پہنچ جاؤگے۔ (ابن عساکر ، بخاری)
(منزل تک) پہنچ جاؤگے۔ (ابن عساکر ، بخاری)
8421- عن أبي هريرة قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا ينجى أحد بعمله، قالوا: ولا أنت يا رسول الله؟ قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله برحمته، فسددوا، واغدوا وروحوا، وشيء من الدلجة والقصد القصد تبلغوا. "كر". "خ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نجات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی
٨٤٢٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سیدھے رہو قریب قریب رہو، خوشخبری سناؤ، تم میں سے کسی کو اس کا عمل ہرگز نجات نہیں دے سکتا لوگوں نے عرض کیا : آپ کو بھی یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : نہ مجھے، الایہ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی رحمت میں ڈھانپ لے۔ (ابن عساکر ، بخاری ، مسلم)
8422- عن عائشة قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم: سددوا، وقاربوا، وأبشروا، فإن أحدكم لن ينجيه عمله، قالوا: ولا أنت يا رسول الله؟ قال: ولا أنا، إلا أن يتغمدني الله منه برحمته. "كر". خ م.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نجات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی
٨٤٢٣۔۔۔ ابوجحیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت سلمان اور ابوالدرداء (رض) کے درمیان مواخات (رشتہ) بھائی چارگی قائم فرمایا، ایک دفعہ حضرت سلمان ابوالدرداء (رض) کی زیارت کے لیے آئے، دیکھا تو ام الدرداء نے میلے کچیلے کپڑے پہن رکھے ہیں حضرت سلمان نے کہا : آپ نے یہ کیا حالت بنا رکھی ہے ؟ وہ کہنے لگیں تمہارے بھائی کو دنیا میں رغبت نہیں ، جب ابوالدرداء (رض) آئے، تو انھیں مرحبا کہا ان کے سامنے کھانا پیش کیا، حضرت سلمان نے کہا : تم بھی کھاؤ وہ کہنے لگے میں روزے سے ہوں ، تو حضرت سلمان نے کہا کہ میں تمہیں قسم دیتا ہوں کہ تم کھانا کھاؤ کے اور اس وقت تک میں بھی نہیں کھاؤں گا جب تک تم نہیں کھاتے، چنانچہ انھوں نے کھانے میں شرکت کرلی، اور رات انہی کے ہاں گزاری ، جب رات ہوگئی تو ابوالدرداء اٹھے تو سلمان نے انھیں روک لیاپھرکہا : ابودرداء تمہارے رب کا تم پر حق ہے، تمہاری بیوی ، تمہارے بدن کا تم پر حق ہے لہٰذا ہر حقدار کو اس کو حق دو ، کبھی روزہ رکھو کبھی افطار کرو، ( رات میں ) قیام کرو اور آرام بھی کرو، اپنی بیوی کا حق ادا کرو صبح کے قریب ان سے کہا : اب اٹھو، پھر دونوں حضرت اٹھے اور نماز ادا کی ، پھر (فرض) نماز کے لیے نکلے ، جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نماز پڑھا چکے تو ابوالدرداء (رض) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور جو باتیں حضرت سلمان نے کہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بتائیں تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے وہی باتیں کیں جو سلمان نے کی تھیں اور دوسری روایت میں ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ابودرداء تمہارے بدن کا تم پر حق ہے اور ان سے حضرت سلمان کی گفتگو جیسی گفتگو کی۔ (ابویعلی ، بخاری)
8423- عن أبي جحيفة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم: آخى بين سلمان وبين أبي الدرداء، فجاء سلمان يزور أبا الدرداء، فرأى أم الدرداء متبذلة، قال: ما شأنك؟ قالت: إن أخاك ليس له حاجة في الدنيا، فلما جاء أبو الدرداء رحب به وقرب إليه طعاما، فقال له سلمان: اطعم، فقال: إني صائم، قال: أقسمت عليك إلا ما طعمت، ما أنا بآكل حتى تأكل، فأكل معه، وبات عنده، فلما كان من الليل قام أبو الدرداء فحبسه سلمان، ثم قال يا أبا الدرداء إن لربك عليك حقا، ولأهلك عليك حقا، ولجسدك عليك حقا، فأعط كل ذي حق حقه، صم وأفطر، وقم ونم، وائت أهلك، فلما كان عند الصبح قال قم الآن، فقاما وصليا، ثم خرجا إلى الصلاة فلما صلى النبي صلى الله عليه وسلم، قام إليه أبو الدرداء فأخبره بما قال له سلمان، فقال له: رسول الله صلى الله عليه وسلم مثل ما قال سلمان له، وفي لفظ: فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا الدرداء إن لجسدك عليك حقا مثل ما قال لك سلمان. ع "خ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نجات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی
٨٤٢٤۔۔۔ حضرت طاؤوس سے روایت ہے فرماتے ہیں : سب سے بہتر عبادت ہلکی پھلکی ہے۔ ابن ابی الدنیا، بیھقی فی الشعب
8424- عن طاووس قال: خير العبادة أخفها. ابن أبي الدنيا "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نجات اللہ تعالیٰ کی رحمت سے ہوگی
٨٤٢٥۔۔۔ حضرت ابوقلابہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے روزہ رکھا اور اسی حالت میں مرگئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے نہ روزہ رکھا نہ نماز پڑھی۔ ( ابن جریر)
تشریح :۔۔۔ یعنی اسے نماز روزے کا ثواب نہیں ہوا۔
تشریح :۔۔۔ یعنی اسے نماز روزے کا ثواب نہیں ہوا۔
8425- عن أبي قلابة أن امرأة صامت حتى ماتت، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا صامت ولا أفطرت. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٢٦۔۔۔ حضرت عثمان بن عفان (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر کوئی شخص کسی گھر کے کونے میں داخل ہو اور وہاں کوئی عمل پوشیدہ کرے تو قریب ہے لوگ اس کے بارے گفتگو کرنے لگیں ، جو شخص جیسا کیسا بھی عمل کرے اللہ تعالیٰ اسے اس کے عمل کی چادر پہنادیں گے اگر اچھا ہوا تو اچھا، برا ہوا تو برا (چرچا ہوگا) ۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد فی الزھد مسدد، بیھقی فی الشعب، وقال : ھذا سوالصیح موقوفا وقد رفعہ بعض الضعفاء )
اس کی تشریح کتاب کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
اس کی تشریح کتاب کے آغاز میں گزر چکی ہے۔
8426- "عثمان رضي الله عنه" عن عثمان بن عفان قال: لو أن رجلا دخل بيتا في جوف بيت فأد من هناك عملا أوشك الناس أن يتحدثوا به، وما من عامل عمل عملا إلا كساه الله رداء عمله، إن كان خيرا فخير، وإن كان شرا فشر. "ش حم" في الزهد مسدد "هب" وقال: هذا هو الصحيح موقوفا وقد رفعه بعض الضعفاء.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٢٧۔۔۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عثمان (رض) کو منبر پر دیکھا آپ نے فرمایا : لوگوان پوشیدہ باتوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو، میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس نے جب بھی کوئی پوشیدہ عمل کیا تو اللہ تعالیٰ اسے شہرت کی چادر پہنا دیں گے اگر وہ عمل اچھا ہوا تو شہرت بھی اچھی اور اگر برا ہو تو چرچا بھی برا ہوگا، پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : وریاشا آپ نے وریشا نہیں فرمایا : ہم نے تمہارے لیے لباس اتار اور تقویٰ کا لباس یہ سب سے بہتر ہے۔ آپ نے فرمایا : اچھی سیرت و کردار۔ (ابن جریر وابن حاتم ، مربرقم۔ ٤٨٢٩)
8427- عن الحسن قال: رأيت عثمان على المنبر، قال: أيها الناس اتقوا الله في هذه السرائر، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: والذي نفس محمد بيده، ما عمل أحد عملا قط سرا إلا ألبسه الله رداءه علانية إن خيرا فخير، وإن شرا فشر، ثم تلا هذه الآية: "ورياشا" ولم يقل {وَرِيشاً} {وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ} قال: السمت الحسن. ابن جرير وابن أبي حاتم. مر برقم/4829/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٢٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جس کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر ہوا رقیامت کے روز اس کا ( اعمال کا ) ترازو ہلکا ہوگا اور جس کا باطن اس کے ظاہر سے بہتر ہوا تو اس کا ترازو بھاری ہوگا۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الاخلاص)
8428- عن علي رضي الله عنه، قال: من كان ظاهره أرجح من باطنه خف ميزانه يوم القيامة، ومن كان باطنه أرجح من ظاهره ثقل ميزانه يوم القيامة. ابن أبي الدنيا في كتاب الإخلاص.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٢٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہر چیز کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن جس نے اپنا باطن درست کرلیا اللہ تعالیٰ اس کا طاہر بھی درست کردیں گے اور جس نے اپنے باطن کو خراب کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کا ظاہر خراب کردیں گے۔
تشریح :۔۔۔ باطن میں خرابیاں کیسے پیدا ہوتی ہیں دیکھیں ” فطبرتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد کراچی۔
تشریح :۔۔۔ باطن میں خرابیاں کیسے پیدا ہوتی ہیں دیکھیں ” فطبرتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد کراچی۔
8429- عن علي قال: لكل شيء جواني وبراني فمن أصلح جوانيه أصلح الله برانيه، ومن يفسد جوانيه يفسد الله برانيه. رسته.
তাহকীক: