কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৪৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٣٠۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جانتے ہو مومن کون ہے ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس رسول ہی جانتے ہیں ، آپ نے فرمایا : مومن وہ شخص ہے کہ وہ اس وقت تک موت کا مزہ نہیں چکھتا یہاں تک کہ اس کے مکان ایسی چیز سے اللہ تعالیٰ پھر دیں جنہیں وہ پسند کرتا ہے۔
جانتے ہو کہ فاجر کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ ہی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : وہ ہے جو اس وقت تک نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی باپسندیدہ چیزوں سے اس کے کان بھردیں ، اگر کوئی بندہ کمروں کے گھر میں کسی کمرہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ہر گھر پر لوہے کا دروازہ ہو پھر اللہ تعالیٰ اس (کے عمل) کو چادر پہنادیں گے یہاں تک کہ لوگ بیان کریں گے اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر بیان کریں۔ (الدیلمی عقیہ رشید بن ضعیف)
جانتے ہو کہ فاجر کون ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ ہی اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : وہ ہے جو اس وقت تک نہیں مرتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنی باپسندیدہ چیزوں سے اس کے کان بھردیں ، اگر کوئی بندہ کمروں کے گھر میں کسی کمرہ میں اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور ہر گھر پر لوہے کا دروازہ ہو پھر اللہ تعالیٰ اس (کے عمل) کو چادر پہنادیں گے یہاں تک کہ لوگ بیان کریں گے اور کچھ اپنی طرف سے بڑھا کر بیان کریں۔ (الدیلمی عقیہ رشید بن ضعیف)
8430- عن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: تدرون من المؤمن؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: المؤمن من لا يموت حتى يملأ الله مسامعه مما يحب، هل تدرون من الفاجر؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: الذي لا يموت حتى يملأ الله مسامعه مما يكره، ولو أن عبدا اتقى الله في جوف بيت إلى سبعين بيتا، على كل بيت باب من حديد، ألبسه الله رداء عمله حتى يتحدث بها الناس ويزيدون. الديلمي وفيه رشدين ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٣١۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! آدمی ایک عمل پوشیدہ کرتا ہے، اور جب لوگوں کو پتہ چل جاتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : تمہارا دہرا اجر ہے پوشیدگی اور ظاہر کا اجر۔ (ابن جریروصححہ وقال ابن کثیر امن نقلہ الحدیث یصححہ لمانی سندہ من الاضطراب)
8431- عن أبي هريرة أن رجلا قال: يا رسول الله: الرجل يعمل العمل يسره، فإذا اطلع عليه أعجبه، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: لك أجران، أجر السر، وأجر العلانية. ابن جرير، وصححه وقال إن كثيرا من نقلة الحديث لم يصححه لما في سنده من اضطراب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٣٢۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے پاس ایک آدمی آیا تو میں نماز پڑھ رہا تھا ، مجھے اس حال میں دیکھا ےتو مجھے خوشی محسوس ہوئی، آپ نے فرمایا : تمہارے لیے دو اجر ہیں ظاہر اور باطن کا اجر۔ (ابن جریر)
تشریح :۔۔۔ کیونکہ ان کی نماز کی ابتداء اخلاص پر تھی نہ کہ ریا پر۔
تشریح :۔۔۔ کیونکہ ان کی نماز کی ابتداء اخلاص پر تھی نہ کہ ریا پر۔
8432- عن أبي هريرة قال قال رجل: يا رسول الله، دخل علي رجل وأنا أصلي، فأعجبني الحال التي رآني عليها، قال: لك أجران أجرالسر وأجر العلانية. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص
٨٤٣٣۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ایک شخص نیک عمل اپنے لیے کرتا ہے جبکہ لوگ اس کی تعریف کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ مومن کو جلد ملنے والی خوشخبری ہے۔ (ابوداؤد طیالسی ، مسند احمد ، مسلم ، ابن ماجہ ، ابن حبان)
8433- عن أبي ذر قال قلت: يا رسول الله، الرجل يعمل الصالح لنفسه، ويحمده الناس؟ قال: تلك عاجل بشرى المؤمن. "ط حم هـ حب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ استقامت وثابت قدمی
٨٤٣٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : اللہ تعالیٰ نے جس بندے کو کوئی عادت ڈالی ، بندے نے اسے چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ اس پر عضب ناک ہوں گے اور اس سے ناراض ہوں گے۔ ( ابن النجار)
8434- عن عائشة قالت: ما عود الله عبدا من نفسه عادة تركها إلا وجد2 عليه، أو عتب عليه. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الامانۃ۔۔۔ امانتداری
٨٤٣٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : کسی کے نماز روزہ کی طرف نہ دیکھو ، البتہ اس کی طرف دیکھو جو بات میں سچ بولے امانت میں ادائیگی کرے، اور جب دنیا اس کی طرف متوجہ ہو تو وہ پرہیزگاری اختیار کرے۔ (مالک وابن المبارک، عبدالرزاق، مسددورشتہ فی الایمان ، ابن ماجہ، والعسکری فی المواعظ، بیھقی فی الشعب)
8435- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: لا تنظروا إلى صلاة أحد ولا إلى صيامه، ولكن انظروا إلى من إذا حدث صدق، وإذا اؤتمن أدى، وإذا أشفى1 ورع. مالك وابن المبارك "عب" ومسدد ورسته في الإيمان "هـ" والعسكري في المواعظ "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الامانۃ۔۔۔ امانتداری
٨٤٣٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تمہیں کسی آدمی کی نماز دھوکے میں نہ ڈالے اور نہ اس کے روزے ، جو چاہے نماز اور روزہ رکھے لیکن جس میں امانتداری اس کا کوئی دین نہیں ۔ عبدالرزاق۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ورستہ والخرائطی فی مکارم الاخلاق ، بیھقی شعب الایمان)
8436- عن عمر قال: لا تغرنك صلاة رجل، ولا صيامه من شاء صام ومن شاء صلى، ولكن لا دين لمن لا أمانة له. "عب ش" ورسته والخرائطي في مكارم الأخلاق "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الامانۃ۔۔۔ امانتداری
٨٤٣٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تمہیں کسی آدمیپ کی وجاہت اور رعب تعجب میں نہ ڈالے۔
لیکن جس نے امانت ادا کی ، اور اپنے آپ کو لوگوں کی عزتوں سے روکا وہی بابرکت آدمی ہے۔ ( بیھقی فی الشعب)
لیکن جس نے امانت ادا کی ، اور اپنے آپ کو لوگوں کی عزتوں سے روکا وہی بابرکت آدمی ہے۔ ( بیھقی فی الشعب)
8437- عن عمر قال: لا يعجبنكم من الرجل طنطنته، ولكن من أدى الأمانة، وكف عن أعراض الناس فهو الرجل المبارك. "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الامانۃ۔۔۔ امانتداری
٨٤٣٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے ( تو مدینہ کے) بالائی حصہ کا ایک شخص آیا، اس نے کہا : یا رسول اللہ ! مجھے اس دین کی سب سے مضبوط اور آسان چیز کے بارے میں بتایئے ! آپ نے فرمایا : سب سے آسان لاالٰہ الا اللہ کی گواہی ہے اور یہ کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے بندے اور رسول ہیں اور سب سے سخت چیز اے بالائی حصہ میں رہنے والوں کے بھائی ! امانت ہے کیونکہ جس میں امانت نہیں اس کا دین بھی نہیں، اور نہ اس کی نماز اور روزہ ہے۔
اے عوالی کے بھائی ! جس نے حرام مال حاصل کیا اور اس کی چادر یعنی قمیض پہنی ، تو اس کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ اپنے آپ سے اس چادر کو دور کرے، عوالی مدینہ کے رہنے والوں کے بھائی ! اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت عزت والے اور جلال والے ہیں کہ وہ کسی آدمی کا کوئی عمل یا نماز قبول کریں جبکہ اس کے بدن پر حرام مال کی قمیض ہے (البزاروفیہ ابوالجنوب ضعیف)
اے عوالی کے بھائی ! جس نے حرام مال حاصل کیا اور اس کی چادر یعنی قمیض پہنی ، تو اس کی نماز قبول نہیں یہاں تک کہ اپنے آپ سے اس چادر کو دور کرے، عوالی مدینہ کے رہنے والوں کے بھائی ! اللہ تعالیٰ اس بات سے بہت عزت والے اور جلال والے ہیں کہ وہ کسی آدمی کا کوئی عمل یا نماز قبول کریں جبکہ اس کے بدن پر حرام مال کی قمیض ہے (البزاروفیہ ابوالجنوب ضعیف)
8438- عن علي رضي الله عنه قال: كنا جلوسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فطلع علينا رجل من أهل العالية، فقال: يا رسول الله أخبرني بأشد شيء في هذا الدين وألينه، فقال: ألينه شهادة أن لا إله إلا الله، وأن محمدا عبده ورسوله، وأشده يا أخا العالية الأمانة، إنه لا دين لمن لا أمانة له، ولا صلاة ولا زكاة له، يا أخا العالية، إنه من أصاب مالا من حرام، فلبس جلبابا - يعني قميصا - لم تقبل صلاته حتى ينحي ذلك الجلباب عنه إن الله تعالى أكرم وأجل - يا أخا العالية - من أن يتقبل عمل رجل أو صلاته وعليه جلباب من حرام1. البزار، وفيه أبو الجنوب2 ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الامانۃ۔۔۔ امانتداری
٨٤٣٩۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب بھی ہمارے سامنے خطاب کیا آپ نے یہی فرمایا : جس میں امانتداری نہیں اس کا ایمان نہیں اور جس میں وعدہ ( کی پاسداری اور حفاظت) نہیں اس کا دین نہیں (ابن النجار
8439- عن أنس قال: ما خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلا قال: لا إيمان لمن لا أمانة له، ولا دين لمن لا عهد له. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آپس کی اصلاح
٨٤٤٠۔۔۔ حضرت ابولدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : آپس کی اصلاح مسجد کی طرف چل کرجانا ہے اور اچھے اخلاق سے بڑھ کر کوئی عمل اللہ تعالیٰ کو زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں ۔ (ابن عساکر)
8440- عن أبي الدرداء قال: والله ما من عمل أحب إلى الله من إصلاح ذات البين، والمشي إلى المساجد وخلق جائز. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ان شاء اللہ کہنا
٨٤٤١۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں قریش سے ضرورتین جنگیں کروں گا پھر تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر فرمایا ان شاء اللہ تعالیٰ ۔ ( خطیب فی المتفق)
8441- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لأغزون قريشا ثلاثا، ثم سكت ساعة، ثم قال: إن شاء الله. "خط" في المتفق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٢۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں کسی نیک کام کا حکم دیتا ہوں اور خود (اگرچہ) وہ کام نہیں کرتا، لیکن پھر بھی مجھے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید ہے۔ (ابن عساکر وسیاتی برقم۔ ٨٤٧١)
تشریح :۔۔۔ یعنی جب کسی کو نیکی کا حکم دیا اور وہ اس ہر کار بند ہوگیا ےتو مجھے اجر ملتا رہے گا، کیونکہ نیکی کا رستہ بتانے والا نیک کام کرنے والے کی طرح ہے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی جب کسی کو نیکی کا حکم دیا اور وہ اس ہر کار بند ہوگیا ےتو مجھے اجر ملتا رہے گا، کیونکہ نیکی کا رستہ بتانے والا نیک کام کرنے والے کی طرح ہے۔
8442- عن أبي الدرداء قال: إني لآمر بالأمر ولا أفعله، ولكن أرجو من الله أن أوجر عليه. "كر" وسيأتي برقم [8471] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٣۔۔۔ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب حضرت ابوبکر خلیفہ بنے تو منبر پر تشریف فرما ہوئے ، اللہ تعالیٰ کی حمد کی اور پھر فرمایا : لوگو ! تم یہ آیت :” اے ایمان والو ! تم اپنی جانوں کی خبرلو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ شخص سے تمہیں کچھ نقصان نہیں ۔ “ پڑھتے ہو اور تم اس آیت کو اس کے مقام پر نہیں رکھتے ، میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : لوگ جب کسی برائی کو دیکھیں اور اسے ختم نہ کریں تو اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں عمومی عذاب میں گرفتار کرلے گا۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد، عبدبن حمید، والعدنی وابن منیع والحمیدی ، ابوداؤد ترمذی وقال حسن صحیح، نسائی، ابن ماجہ فی مسندہ، والکجی، وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مندہ فی غرائب وابوالشیخ وابن مردویہ وابوذرالعروی فی الجامع و ابونعیم فی المعرفۃ، دارقطنی فی العلل وقال : جمیع رواۃ ثقات، بیھقی فی الشعب، سعید بن منصور)
8443- عن قيس بن أبي حازم قال: لما ولي أبو بكر صعد المنبر، فحمد الله ثم قال: يا أيها الناس إنكم تقرأون هذه الآية: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} وإنكم تضعونها على غير مواضعها، وإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الناس إذا رأوا المنكر ولم يغيروه أوشك أن يعمهم الله بعقاب. "ش حم" وعبد بن حميد والعدني وابن منيع والحميدي "د ت" وقال حسن صحيح "ن هـ ع" والكجي وابن جريروابن المنذر وابن أبي حاتم وابن منده في غرائب شعبه وأبو الشيخ وابن مردويه وأبو ذر الهروي في الجامع وأبو نعيم في المعرفة "قط" في العلل وقال جميع رواته ثقات "ق ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٤۔۔۔ حضرت ابوبکر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب کوئی قوم گناہ کرتی ہے اور ایسے لوگوں کے سامنے کوتی ہے جو اس پر غالب اور قدرت رکھتے ہیں ، اور وہ انھیں نہ روکیں ، تو اللہ تعالیٰ ان پر آزمائش ( کے لیے عذاب) نازل کردیتے ہیں پھر ان سے نہیں ہٹاتے۔ (بیھقی فی الشعب)
8444- عن أبي بكر قال: إذا عمل قوم بالمعاصي، بين ظهراني قوم هم أعز منهم، فلم يغيروه عليهم أنزل الله عليهم بلاء، ثم لم ينزعه منهم. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٥۔۔۔ ابوبکر بن محمد بن عمروبن حزم سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے لوگوں کے سامنے خطاب فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگو اس آیت :” اے ایمان والو ! اپنی جانوں کی خبرلو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا پر گفتگو نہ کرو، جب کوئی خبیث شخص کسی قوم میں ہوا اور وہ اسے منع نہ کریں تو اللہ تعالیٰ ان پر (اپنا) عمومی نازل کردیتا ہے۔”(ابن مردویہ)
8445- عن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، قال: خطب أبو بكر الناس فقال في خطبته: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ياأيها الناس لا تتكلموا على هذه الآية {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} إن الداعر1 ليكون في الحي فلا يمنعوه فيعمهم الله بعقاب. ابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٦۔۔۔ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرمایا : میں نے حضرت ابوبکر الصدیق (رض) کو فرماتے سنا : آپ نے یہ آیت ” جب تم ہدایت یافتہ ہو تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا پڑھی تم ضرور نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کردے گا، پھر تمہارے نیک لوگ دعائیں کریں گے (مگر) ان کی دعا قبول نہ ہوگی ، تمہیں ضرور نیکی کا حکم اور برائی سے منع کرنا پڑے گا ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر اپنا عمومی عذاب نازل کردے۔”(ابوذرالھروی فی الجامع)
8446- عن قيس بن أبي حازم، قال: سمعت أبا بكر الصديق، وقرأ هذه الاية في المائدة {لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، أو ليسلطن الله عليكم شراركم ثم ليدعو خياركم فلا يستجاب لهم، والله لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر أو ليعمنكم الله منه بعقاب. أبو ذر الهروي في الجامع.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٧۔۔۔ محمد بن عبداللہ التیمی حضرت ابوبکر الصدیق (رض) سے نقل کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جس قوم نے جہاد چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ ان پر ذلت مسلط کردے گا، اور جس قوم نے اپنے درمیان کسی برائی کو باقی رکھا تو ان عمومی عذاب نازل کردے گا، الایہ کہ وہ لوگ اس آیت کی ” اے ایمان والو ! اپنی خبرلوجب تم ہدایت یافتہ ہو تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا امر بالمعروف اور نہی عن المنکرکے علاوہ کوئی نفسیر کرنے لگ جائیں ۔ “(ابن مردویہ)
8447- عن محمد بن عبد الله التيمي عن أبي بكر الصديق، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: ما ترك قوم الجهاد في سبيل الله إلا ضربهم الله بذل، ولا أقر قوم المنكر بين أظهرهم إلا عمهم الله بعقاب وما بينكم وبين أن يعمكم الله بعقاب من عنده إلا أن تتألوا هذه الآية على غير أمر بمعروف ولا نهي عن منكر {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} . ابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر منبررسول پر اس دن بیٹھے جس دن آپ کو خلیفہ رسول کا نام دیا گیا ، آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی، نبی کریم پر درود بھیجا پھر اپنے دونوں ہاتھ بڑھائے اور پھر منبر کی اس جگہ پر رکھا جہاں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف رکھا کرتے تھے۔
پھر فرمایا : میں نے حبیب سے سنا اور آپ اس جگہ تشریف فرما تھے آپ اس آیت کی ” اے ایمان والو ! اپنی جانوں کی خبرلو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا “۔ تلاوت فرمانے کے بعد اس کی تفسیر کررہے تھے، آپ نے اس کی تفسیر ہمارے سامنے یہ بیان فرمائی : جس قوم میں کوئی برائی کی جائے اور ان میں کوئی قباحت کرکے فساد پھیلایا جائے ، اور لوگ اس برائی کو نہ روکیں اور نہ ہٹائیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ انھیں عذاب میں گرفتار کرلے، پھر ان کی دعا قبول نہ کرے، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں رکھیں اور فرمایا : اگر میں نے یہ بات (پیارے) حبیب سے نہ سنی ہو تو یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں ۔ (ابن مردویہ)
پھر فرمایا : میں نے حبیب سے سنا اور آپ اس جگہ تشریف فرما تھے آپ اس آیت کی ” اے ایمان والو ! اپنی جانوں کی خبرلو، جب تم ہدایت پر ہو تو گمراہ شخص تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا “۔ تلاوت فرمانے کے بعد اس کی تفسیر کررہے تھے، آپ نے اس کی تفسیر ہمارے سامنے یہ بیان فرمائی : جس قوم میں کوئی برائی کی جائے اور ان میں کوئی قباحت کرکے فساد پھیلایا جائے ، اور لوگ اس برائی کو نہ روکیں اور نہ ہٹائیں تو اللہ تعالیٰ کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ انھیں عذاب میں گرفتار کرلے، پھر ان کی دعا قبول نہ کرے، پھر آپ نے اپنی دونوں انگلیاں کانوں میں رکھیں اور فرمایا : اگر میں نے یہ بات (پیارے) حبیب سے نہ سنی ہو تو یہ دونوں کان بہرے ہوجائیں ۔ (ابن مردویہ)
8448- عن ابن عباس قال: قعد أبو بكر على منبر رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم سمي خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، فحمد الله وأثنى عليه وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم، ثم مد يديه، ثم وضعهما على المجلس الذي كان النبي صلى الله عليه وسلم يجلس عليه من منبره ثم قال: سمعت الحبيب وهو جالس على هذا المجلس يتأول هذه الآية {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا عَلَيْكُمْ أَنْفُسَكُمْ لا يَضُرُّكُمْ مَنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ} ثم فسرها، فكان تفسيره لنا أن قال: نعم ليس من قوم عمل فيهم بمنكر ويفسد فيهم بقبيح، فلم يغيروه ولم ينكروه إلا حق على الله أن يعمهم بالعقوبة جميعا، ثم لا يستجاب لهم، ثم أدخل أصبعيه في أذنيه، فقال إن لا أكون سمعته من الحبيب فصمتا. ابن مردويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی
سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٤٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم لوگوں کو اس بات سے کون روکتا ہے کہ جب تم بیوقوف کو دیکھو کہ وہ لوگوں کی بےعزتی کررہا ہے اور اس کے فعل کی برائی بیان کرو ؟ لوگوں نے کہا : ہمیں اس کی زبان کا خوف ہے آپ نے فرمایا : یہ کم سے کم درجہ ہے کہ تم شہداء ہوجاؤ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ وابوعبید فی الغریب وابن ابی الدنیا فی الصمت
8449- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: ما يمنعكم إذا رأيتم السفيه يخرق أعراض الناس أن لا تعربوا عليه؟ قالوا: نخاف لسانه، قال: ذاك أدنى أن تكونوا شهداء. "ش" وأبو عبيد في الغريب وابن أبي الدنيا في الصمت.
তাহকীক: