কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৪৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا

تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی

سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٥٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کو آخری زمانہ میں ان کے بادشاہوں کی طرف سے سخت آزمائش جھیلنی پڑے گی، اس دور میں وہی شخص نجات پائے گا جو اپنی زبان ، ہاتھ اور دل سے اللہ تعالیٰ کے دین کی پہچان کرائے ، یہی وہ چیز ہے جس کی طرف سبقت کرنے والوں کو سبقت کرنی چاہیے۔ (الدیلمی)
8450- عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سيصيب أمتي في آخر الزمان بلاء شديد من سلطانهم، لا ينجو فيهم إلا رجل عرف دين الله بلسانه ويده وقلبه، فذلك الذي سبقت له السوابق.

الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا

تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی

سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٥١۔۔۔ حضرت عثمان (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : اس سے پہلے کہ تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کیے جائیں اور تمہارے نیک لوگ دعا مانگیں اور ان کی دعا قبول نہ کی جائے ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ
8451- "عثمان رضي الله عنه" عن عثمان قال: مروا بالمعروف وانهوا عن المنكر، قبل أن يسلط عليكم شراركم، ويدعو عليهم خياركم فلا يستجاب لهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا

تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی

سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٥٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : سب سے پہلی چیز جس پر تم غائب کردیئے جاؤگے وہ ہاتھوں اور پھر دل کے ذریعہ جہاد ہے تو جس دل نے نیکی کو نہ پہچانا اور برائی کو اوپر انہ جانا، تو اس کا اعلیٰ حصہ ادنیٰ کی طرف ایسے اوندھا ہوجائے گا جیسے کوئی اوندھا کیا جائے اور جو کچھ اس میں ہے بکھیر دیا جائے۔ ( مصنف ابن ابی شیبہ و ابونعیم ونصرفی الحجۃ)
8452- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: أول ما تغلبون عليه من الجهاد، الجهاد بأيديكم، ثم الجهاد بقلوبكم، فأي قلب لم يعرف المعروف، ولم ينكر المنكر نكس أعلاه أسفله كما ينكس الجراب فينثر ما فيه. "ش" وأبو نعيم ونصر في الحجة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا

تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی

سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٥٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : یا تو لازما نیکی کا حکم دوگے اور برائی سے منع کروگے یا تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کردیئے جائیں اور پھر تمہارے نیک لوگ دعائیں مانگیں اور ان کی دعاقبول نہ کی جائے۔ (الحارث)
8453- عن علي قال: لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، أو ليسلطن عليكم شراركم، ثم يدعو خياركم فلا يستجاب لهم. الحارث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا

تنبیہ :۔۔۔ امر بالعروف کے بارے سرفہرست یہ بات اچھی طرح ذہین نشین کرلیں اصلایہ شعبہ حکومت کا ہے کہ کسی کو سختی

سے کسی بات کا حکم دیں اور برائی سے روکیں باقی زبان اور دل میں برا جاننا ہر مسلمان کرسکتا ہے، کیونکہ اگر ہر شخص از
٨٤٥٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے وہ اپنے خطبہ میں فرماتے ہیں : تم سے پہلے جو لوگ ہلاک ہوئے تو وہ گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے ہلاک ہوئے ، ان کے علماء اور پیروں نے انھیں گناہوں سے نہ روکا، جوں جوں وہ گناہوں میں بڑھتے گئے اور ان کے علماء اور درویشوں نے انھیں نہیں روکا تو انھیں کئی قسم کے عذابوں نے آگھیرا۔

لہٰذا تم لوگ نیکی کا حکم دو ، برائی سے روکو قبل اس کے کہ تم پر بھی ایسے ہی عذاب نازل ہوں جیسے ان پر نازل ہوئے، اور یہ بات بھی جان لو کہ نیکی کا حکم دینا اور برائی سے روکنا، نہ رزق کو ختم کرتا ہے اور نہ موت کو قریب کرتا ہے (ابن ابی حاتم)
8454- عن علي أنه قال في خطبته: أيها الناس إنما هلك من هلك قبلكم بركوبهم المعاصي، ولم تنههم الربانيون والأحبار، كلما تمادوا في المعاصي ولم تنههم الربانيون والأحبار أخذتهم العقوبات، فمروا بالمعروف وانهوا عن المنكر قبل أن ينزل بكم مثل الذي نزل بهم، واعلموا أن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر لا يقطع رزقا، ولا يقرب أجلا. ابن أبي حاتم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٥٥۔۔۔ حضرت علی (رض) علیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : جہاد تین قسم کے ہیں ، ہاتھ ، زبان اور دل اک جہاد ، سب سے پہلے جو جہاد مغلوب ہوگا وہ ہاتھ کا جہاد ہے، پھر زبان اور دل کا جہاد ہے، اور دل ( کی کیفیت ایسی ہوجائے) وہ نیکی کو نہ پہچانے اور برائی کو عجیب نہ سمجھے تو اوندھا کردیا جاتا ہے اور اس کے اوپر حصہ پیچھے کردیا جاتا ہے۔ (مسدد بیھقی فی الشعب ، بیھقی فی السنن و صحیح )
8455- عن علي قال: الجهاد ثلاثة: جهاد بيد، وجهاد بلسان وجهاد بقلب، فأول ما يغلب عليه من الجهاد جهاد اليد، ثم جهاد اللسان، ثم جهاد القلب، فإذا كان القلب لا يعرف معروفا، ولا ينكر منكرا نكس، وجعل أعلاه أسفله. مسدد "ق هب" وصحح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تم ضرور بضرور نیکی کا حکم کروگے اور برائی سے روکوگے، اور تم لازما اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں غضبناک ہوگے۔ کیا تم میں ایسے لوگ نہیں جو تمہیں اذیت پہنچاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ انھیں عذاب میں مبتلا کرتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8456- عن علي قال: لتأمرن بالمعروف، ولتنهون عن المنكر، ولتجدن في أمر الله، أوليسوا منكم أقوام يعذبونكم ويعذبهم الله. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٥٧۔۔۔ ابزی خزاعی عبدالرحمن کے والد سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ دیا : اور مسلمانوں کی جماعتوں کی اچھی تعریف کی، پھر فرمایا : ان لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے پڑوسیوں میں دین کین سمجھ پیدا نہیں کرتے، نہ انھیں تعلیم دیتے ہیں اور نہ وعظ نصیحت کرتے ہیں ، نہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور نہ برائی سے روکتے ہیں ۔

اور ان لوگوں کو کیا ہوا جو اپنے پڑوسیوں سے نہ سیکھتے ہیں اور نہ دین کی سمجھ حاصل کرتے ہیں ، اور نہ جان بوجھ پیدا کرتے ہیں ، اور اللہ تعالیٰ کی قسم لوگ اپنے پڑوسیوں کو تعلیم دیں گے، انھیں سمجھ بوجھ اور دین کی نقاہت دیں گے، اور انھیں نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں گے، اور ضرور کچھ لوگ اپنے پڑوسیوں سے علم حاصل کریں گے، دین کی سمجھ بوجھ اور

ہوشیاری پیدا کری گے ورنہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں میں دنیا میں انھیں عذاب دینے میں جلدی کروں گا۔

پھر آپ منبر سے اترے اور اپنے گھر تشریف لے گئے، تو کچھ لوگوں نے کہا : تمہارے گمان میں آپ کی مراد کون لوگ تھے ؟ تو انھوں نے کہا : آپ کی مراد شعریین کے لوگ کیونکہ وہ دین کی سمجھ بوجھ رکھنے والے ہیں ، جبکہ ان کے پڑوسی سخت مزاج پانی اور دیہات والے ہیں ، یہ بات اشعریین تک پہنچی تو وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! آپ نے ایک قوم کا ذکر بھلائی سے کیا جبکہ ہمارا ذکر برائی سے کیا، ہماری خطا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : ایک قوم اپنے پڑوسیوں کو ضرور علم دے گی، دین کی سمجھ اور دانائی کی باتیں سکھاتے رہیں گے انھیں نیکی کا حکم اور برائی سے روکتے رہیں گے اور کچھ لوگ ضرور اپنے پڑوسیون سے علم، آگاہی اور دین کی سمجھ حاصل کرتے رہیں گے یا میں انھیں دنیا میں ( سزا) عذاب دوں گا ، تو وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! کیا ہمارے علاوہ کا شگون ہے ؟ تو آپ نے اپنی بات دہرائی اور انھوں نے بھی وہی کہا : کیا ہمارے علاوہ کسی کا شگون مراد ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ بھی ایسا ہے۔

انھوں نے عرض کیا : ہمیں ایک سال کی مہلت دیں تو آپ نے انھیں ایک سال کی مہلت دی تاکہ وہ انھیں دین کا علم سکھائیں اور ان میں سمجھ بوجھ پیدا کریں ، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت پڑھی ” بنی اسرائیل کے ان کے لوگوں پر جو کافر و ہوئے داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبانی لعنت کی گئی یہ اس وجہ سے کہ وہ نافرمانی کرتے اور حد سے گزر جاتے تھے، اور جو گناہ وہ کرتے اس سے ایک دوسرے کو روکتے نہ تھے کیا برا کام تھا جو وہ کرتے تھے۔ “(ابن راھویہ، بخاری فی الوحدان وابن السکن، وابن مندہ والباوردی، طبرانی فی الکبیر و ابونعیم وابن مردویہ، ابن عساکر، قال ابن السکن مالہ غیرہ واسناد صحیح)
8457- عن أبزى الخزاعي والد عبد الرحمن قال: خطب رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فأثنى على طوائف من المسلمين خيرا، ثم قال: ما بال أقوام لا يفقهون جيرانهم، ولا يعلمونهم ولا يعظونهم ولا يأمرونهم ولا ينهونهم؟ وما بال أقوام لا يتعلمون من جيرانهم ولا يتفقهون ولا يتفطنون، والله ليعلمن أقوام جيرانهم، ويفطنونهم ويفقهونهم، ويأمرونهم وينهونهم وليتعلمن قوم من جيرانهم، ويتفطنون ويتفقهون أو لأعاجلنهم بالعقوبة في دار الدنيا، ثم نزل فدخل بيته، فقال قوم: من تراه عنى بهؤلاء؟ فقالوا: نراه عنى الأشعريين هم قوم فقهاء، ولهم جيران جفاة من أهل المياه والأعراب، فبلغ ذلك الأشعريين، فأتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالوا: يا رسول الله ذكرت قوما بخير، وذكرتنا بشر، فما بالنا؟ فقال: ليعلمن قوم جيرانهم وليفقهنهم وليفطننهم وليأمرنهم، وليهينهم وليتعلمن قوم من جيرانهم، ويتفطنون ويتفقهون، أو لأعاجلنهم بالعقوبة في دار الدنيا، فقالوا: يا رسول الله أبطير غيرنا؟ فأعاد قوله عليهم، وأعادوا قولهم أبطير غيرنا؟ فقال: ذلك أيضا، قالوا فأمهلنا سنة فأمهلهم سنة ليفقهوهم ويعلموهم ويفطنوهم، ثم قرأ رسول الله صلى الله عليه وسلم: {لُعِنَ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ بَنِي إِسْرائيلَ عَلَى لِسَانِ دَاوُدَ وَعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذَلِكَ بِمَا عَصَوْا وَكَانُوا يَعْتَدُونَ كَانُوا لا يَتَنَاهَوْنَ عَنْ مُنْكَرٍ فَعَلُوهُ لَبِئْسَ مَا كَانُوا يَفْعَلُونَ} . ابن راهويه "خ" في الوحدان وابن السكن وابن منده والباوردي "طب" وأبو نعيم وابن مردويه "كر" قال ابن السكن ما له غيره وإسناده صالح.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٥٨۔۔۔ حضرت ( انس (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ہم کب بالمعروف اور نہی عن المنکر جھوڑ سکتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب تم میں وہ باتیں ظاہر ہوجائیں جو تم سے پہلے بنی اسرائیل میں ظاہر ہوئیں ، میں نے عرض کیا وہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : جب نیک لوگوں میں مداہنت اور تمہارے لوگوں میں فحاشی ظاہر ہوجائے اور بادشاہت تمہارے بچوں میں اور دین کی سمجھ تمہارے گھٹیا لوگوں میں منتقل ہوجائے۔ ( ابن عساکر وابن النجار)
8458- أنس رضي الله عنه، عن أنس قال قلت: يا رسول الله متى نترك الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر؟ قال: إذا ظهر فيكم ما ظهر في بني إسرائيل قبلكم، قلت وما ذلك يا رسول الله؟ قال: إذا ظهر الادهان في خياركم، والفاحشة في شراركم، وتحول الملك في صغاركم، والفقه في رذالكم. "كر" وابن النجار
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٥٩۔۔۔ وافدبن سلامہ، یزید الرقاشی، حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں ایسے لوگوں کے بارے نہ بتاؤں جو نہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہداء پھر بھی ان کے مرتبوں کی وجہ سے انبیاء اور شہدا ان پر رشک کریں گے، وہ نور کے منبروں پر ( ہونے کی وجہ سے) پہچانے جائیں گے، لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! وہ لون لوگ ہیں ؟ آپ نے فرمایا : وہ لوگ جو بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محبوب بناتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں ، زمین پر خیر خواہی سے چلتے ہیں ، میں نے کہا یہ تو ٹھیک ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت لوگوں کے دلوں میں پیدا کرتے ہیں (لیکن) بندوں کو اللہ تعالیٰ کا محبوب کیسے بناتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : انھیں ایسی باتوں کا حکم دیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں ، اور ایسی باتوں سے روکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہیں تو جب یہ ان کی بات مانیں گے تو اللہ تعالیٰ انھیں اپنا محبوب بنالے گا۔ (بیھقی فی الشعب والنقاش فی معجمہ وابن النجار ووافد ویزید ضعیفان)
8459- عن وافد بن سلامة عن يزيد الرقاشي عن أنس أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ألا أخبركم بأقوام ليسوا بأنبياء ولا شهداء؟ يغبطهم يوم القيامة الأنبياء والشهداء بمنازلهم من الله، على منابر من نور، يعرفون، قالوا: من هم يا رسول الله؟ قال: الذين يحببون عباد الله إلى الله ويحببون الله إلى عباده، ويمشون على الأرض نصحاء، فقلت هذا يحبب الله إلى عباده، فكيف يحببون عباد الله إلى الله؟ قال يأمرونهم بما يحب الله، وينهونهم عما يكره الله، فإذا أطاعوهم أحبهم الله عز وجل. "هب" والنقاش في معجمه وابن النجار ووافد ويزيد ضعيفان.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٦٠۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نیکی کا حکم کرنا اور برائی سے روکنا اچھی بات ہے اور اپنے بادشاہ کے خلاف تم ہتھیار اٹھالو تو یہ سنت نہیں ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ونعیم)
8460- عن حذيفة قال: إن الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر حسن وليس من السنة أن ترفع السلاح على إمامك. "ش" ونعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٦١۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) عنی سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں کوئی شخص کوئی بات کہتا تو منافق ہوجاتا، اور میں ایک ہی مجلس میں وہ بات چار مرتبہ سنتا ہوں ، تم ضرور نیکی دوگے اور برائی سے منع کروگے اور نیکی کے کام پر لپک پڑوگے ورنہ اللہ تعالیٰ تم سب کو عذاب میں سمیٹ لے گایا تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کردے گا ( اس وقت) تمہارے نیک لوگ دعائیں مانگیں گے تو ان کی دعا قبول نہ ہوگی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8461- عن حذيفة قال: إن كان الرجل ليتكلم الكلام على عهد النبي صلى الله عليه وسلم، فيصير منافقا، إني لأسمعها من أحدكم في المقعد الواحد أربع مرات، لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، ولتحاضن على الخير أو يسحتنكم الله بعذاب جميعا، أو ليؤثرن عليكم شراركم، ثم يدعو خياركم فلا يستجاب لهم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جہاد کی تین قسمیں ہیں
٨٤٦٢۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تم ہر ضرور ایک وقت آنے والا ہے جس میں تمہارے نیک لوگ نیکی کا حکم دیں گے اور نہ برائی سے منع کریں گے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8462- عن حذيفة قال: ليأتين عليكم زمان، خيركم فيه من لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی مٹانے کا جذبہ ایمان کی علامت ہے
٨٤٦٣۔۔۔ حضرت (عبداللہ بن عباس (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جس میں مومن کا دل ایسے پگھلے گا جیسے نمک پانی میں پگھلتا ہے کسی نے پوچھا : یہ کس وجہ سے ؟ آپ نے فرمایا : یہ اس وجہ سے کہ وہ کسی برائی کو دیکھے گا (مگر) اسے ہٹا نہ سکے گا۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر)
8463- "عبد الله بن عباس" عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يأتي على الناس زمان يذوب فيه قلب المؤمن كما يذوب الملح في الماء، قيل: مم ذاك؟ قال: مما يرى من المنكر لا يستطيع يغيره. ابن أبي الدنيا في كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی مٹانے کا جذبہ ایمان کی علامت ہے
٨٤٦٤۔۔ حضرت (عبداللہ بن عمر (رض)) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم ضرور نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے یا اللہ تعالیٰ تم پر تمہارے برے لوگ مسلط کردے گا جو تمہیں سخت اذیتیں پہنچائیں گے پھر تمہارے نیک لوگ دعائیں مانگیں گے (مگر) ان کی دعا قبول نہ ہوگی، تم لازما نیکی کا حکم دو گے اور برائی سے منع کروگے ورنہ اللہ تعالیٰ تم پر ایسا شخص مقرر کردے گا جو تمہارے بچوں پر رحم نہیں کرے گا اور تمہارے بڑوں کی عزت نہیں کرے گا۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر)
8464- "عبد الله بن عمر" عن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لتأمرن بالمعروف وتنهون عن المنكر أو ليسلطن الله عليكم شراركم فليسومنكم سوء العذاب، ثم ليدعو خياركم فلا يستجاب لهم، لتأمرن بالمعروف ولتنهون عن المنكر، أو ليبعثن الله عليكم من لا يرحم صغيركم، ولا يوقر كبيركم. ابن أبي الدنيا في كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی مٹانے کا جذبہ ایمان کی علامت ہے
٨٤٦٥۔۔۔ حضرت (ابن مسعود (رض)) سے روایت ہے ان سے کسی نے پوچھا : جس شخص نے نیکی کا حکم نہیں دیا اور نہ برائی سے روکا کیا وہ ہلاک ہوا ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، بلکہ ہلاک وہ ہوا جس نے اپنے دل سے نیکی کو نہ پہچانا اور برائی کو برانہ جانا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ونعیم فی الفتن)
8465- "ابن مسعود رضي الله عنه" عن ابن مسعود أنه سئل هلك من لم يأمر بالمعروف ولم ينه عن المنكر؟ فقال: لا، ولكن هلك من لم يعرف بقلبه معروفا، ولم ينكر بقلبه منكرا. "ش" ونعيم في الفتن.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی مٹانے کا جذبہ ایمان کی علامت ہے
٨٤٦٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : عنقریب ایسے واقعات رونما ہوں گے کہ جس نے ان میں عدم موجودگی کے باوجود انھیں پسند کیا تو وہ ان میں حاضر ہونے والوں کی طرح ہے اور جس نے باوجود وہاں ہونے کے انھیں ناپسند کیا تو وہ ان لوگوں کی طرح ہے جو وہاں موجود نہ تھے۔ (نعیم وابن النجار)

تشریح :۔۔۔ مومن کی شان یہ ہے کہ کوئی برائی جہاں کہیں بھی ہو وہ اسے ناپسند کرتا ہے
8466- عن ابن مسعود قال: ستكون أمور فمن رضيها ممن غاب عنها كان كمن شهدها، ومن كرهها ممن شهدها فهو كمن غاب عنها. نعيم وابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی مٹانے کا جذبہ ایمان کی علامت ہے
٨٤٦٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے نے روایت ہے : فرماتے ہیں : کوئی شخص کسی گناہ کے کیے جانے کے وقت وہاں موجود ہوتا ہے اور اسے ناپسند سمجھتا ہے تو وہ وہاں نہ ہونے والے کی طرح ہے اور جو وہاں موجود نہ تھا مگر اسے وہ گناہ کا کام پسند تھا تو وہ وہاں موجود شخص کی طرح ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ونعیم)
8467- عن ابن مسعود: قال: إن الرجل يشهد المعصية يعمل بها فيكرهها، فيكون كمن غاب عنها، ويغيب فيرضاها، فيكون كمن شهدها. "ش" ونعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی کو دل سے ناپسند کرنا
٨٤٦٨۔۔۔ حضرت عبداللہ مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب تم کسی گناہ کو دیکھو اور تمہیں اسے تبدیل کر نیکی طاقت نہ ہو تو تمہارے لیے کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ تم دل سے اسے ناپسند کرتے ہو۔ مصنف ابن ابی شیبہ ونعیم
8468- "ابن مسعود رضي الله عنه" عن ابن مسعود قال: إذا رأيت المنكر فلم تستطع له تغييرا فحسبك أن يعلم الله أنك تكرهه بقلبك. "ش" ونعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی کو دل سے ناپسند کرنا
٨٤٦٩۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : منافقوں سے اپنے ہاتھوں کے ذریعہ جہاد کرو، اور اگر اس کی طاقت نہ ہو تو ان کے سامنے ترش روئی کرسکو توترش روئی اختیار کرو۔ (ابن عساکر)
8469- عن ابن مسعود قال: جاهدوا المنافقين بأيديكم، فإن لم تستطيعوا إلا أن تكفهروا في وجوههم فاكفهروا في وجوههم. "كر".
tahqiq

তাহকীক: