কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৪৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی کو دل سے ناپسند کرنا
٨٤٧٠۔۔۔ حضرت ابوامامہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب تمہاری عورتیں سرکش اور تمہارے نوجوان فاسق ہوجائیں گے اور تم جہاد چھوڑ بیٹھو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا یہ (واقعی) ہونے والا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ہاں ہونے والا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ، لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! اس سے زیادہ سخت کیا ہے ؟
آپ نے فرمایا : تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی، جب تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے نہیں روکو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ ہونے والا ہے آپ نے فرمایا : ہاں ، جس ذات کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس سے بھی سخت چیز پیش آنے والی ہے ؟ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! کیا کیہ ہونے والا ہے آپ نے فرمایا : ہاں ، اس سے بھی سخت چیز پیش آنے والی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنی ذات کی قسم ! میں ان کے لیے ضرور فتنہ پیدا کروں گا، جس میں بردبار شخص بھی حیران ہوجائے گا۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر)
آپ نے فرمایا : تمہاری اس وقت کیا حالت ہوگی، جب تم نیکی کا حکم نہیں دو گے اور برائی سے نہیں روکو گے ؟ لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا یہ ہونے والا ہے آپ نے فرمایا : ہاں ، جس ذات کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس سے بھی سخت چیز پیش آنے والی ہے ؟ لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! کیا کیہ ہونے والا ہے آپ نے فرمایا : ہاں ، اس سے بھی سخت چیز پیش آنے والی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے اپنی ذات کی قسم ! میں ان کے لیے ضرور فتنہ پیدا کروں گا، جس میں بردبار شخص بھی حیران ہوجائے گا۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر)
8470- عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: كيف بكم إذا طغا نساؤكم، وفسق شبابكم، وتركتم جهادكم؟ قالوا: وإن ذلك لكائن يا رسول الله؟ قال: نعم والذي نفسي بيده، وأشد منه، قالوا: وما أشد منه يا رسول الله؟ قال: كيف أنتم إذا لم تأمروا بالمعروف، ولم تنهوا عن المنكر؟ قالوا: أو كائن ذلك يا رسول الله؟ قال: نعم والذي نفسي بيده، وأشد منه سيكون، قالوا: وما أشد منه يا رسول الله؟ قال: كيف أنتم إذا رأيتم المعروف منكرا ورأيتم المنكر معروفا؟ قالوا: وكائن يا رسول الله؟ قال: نعم وأشد منه سيكون، يقول الله: بي حلفت لأتيحن لهم فتنة يصير الحليم فيها حيران. ابن أبي الدنيا في كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برائی کو دل سے ناپسند کرنا
٨٤٧١۔۔۔ حضرت ابولدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نیکی کا حکم دیتا ہوں اور خود اسے نہیں کرتا لیکن مجھے اللہ تعالیٰ سے اجر کی امید ہے۔ ( ابن عساکر ، مربرقم، ٨٤٤٤)
8471- عن أبي الدرداء قال: إني لآمر بالمعروف وما أفعله، ولكني أرجو من الله أن أوجر عليه. "كر". مر برقم [8442] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٢۔۔۔ حضرت ابوسعید الحذری (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : لوگوں پر ایک زمانہ آنے والا ہے کہ ان کا اچھا شخص وہ ہوگا جو نیکی کا حکم نہیں دے گا اور برائی سے منع نہیں کرے گا۔ ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر
8472- عن أبي سعيد الخدري قال: يأتي على الناس زمان خيرهم من لا يأمر بالمعروف ولا ينهى عن المنكر. ابن أبي الدنيا في كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٣۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! کسی (حکومتی) امیر کے پاس نہ جانا، اگرچہ تو اس پر غالب آجائے ، میری سنت سے تجاوز نہ کرنا ہرگز بیوقوف اور اس کے کوڑے سے نہ ڈرنا، کہ تم اسے اللہ تعالیٰ کی طاعت اور تقویٰ کا حکم دو گے۔ اے ابوہریرہ ! اگر تم کسی امیر وحکمران کے وزیر یا مشیر بن جاؤ یا اس کے پاس جاؤ تو ہرگز میری سنت اور سیرت کی مخالفتنی کرنا، کیونکہ جس نے میری سنت اور سیرت کی مخالفت کی وہ قیامت کے روز اس طرح آئے گا کہ آگ ہر طرف سے گھیرتی رہے گی اور پھر اسے جہنم میں داخل کردے گا۔ (الدیلمی)
8473- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا هريرة لا تدخلن على أمير، وإن غلبت على ذلك، فلا تجاوز سنتي ولا تخافن سيفه وسوطه، أن تأمره بتقوى الله وطاعته، يا أبا هريرة إن كنت وزير أمير أو مشير أمير أو داخلا على أمير فلا تخالفن سنتي ولا سيرتي، فإن من خالف سنتي وسيرتي جيء به يوم القيامة، تأخذه النار من كل مكان ثم يصير إلى النار. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٤۔۔۔ سماک ، درۃ کی بیوی سے وہ درہ سے روایت کرتی ہیں : فرماتے ہیں : میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ مسجد میں تھے، میں نے عرض کیا : سب سے متقی کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو زیادہ نیکی کا حکم دے، برائی سے روکے اور رشتہ داری کو زیادہ جوڑے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8474- عن سماك عن زوج درة عن درة قال: دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم وهو في المسجد، فقلت: من أتقى الناس؟ قال آمرهم بالمعروف وأنهاهم عن المنكر، وأوصلهم للرحم. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٥۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کب ہم نیکی کا حکم نہ دیں اور برائی سے نہ روکیں ؟ آپ نے فرمایا : جب تمہارے اچھے لوگوں میں بخل اور تمہارے گھٹیا لوگوں میں علم ، تمہارے قرآن کا علم رکھنے والوں میں مداہنت اور تمہارے چھوٹوں میں بادشاہت آجائے اس وقت۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الامر بالمعروف والنھی عن المنکر)
8475- عن عائشة قالت قلت يا رسول الله متى لا نأمر بالمعروف ولا ننهى عن المنكر؟ قال: إذا كان البخل في خياركم، والعلم في رذالكم والادهان في قرائكم، والملك في صغاركم. ابن أبي الدنيا في كتاب الأمر بالمعروف والنهي عن المنكر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٦۔۔۔ (مرسل الحسن) حضرت بصری سے روایت ہے فرماتے ہیں : لوگ اس وقت تک بھلائی میں رہیں گے جب تک ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوتے اور جب برابر ہوجائیں گے تو یہ ان کی ہلاکت کا وقت ہے۔ (بیھقی فی الشعب)
8476- "مرسل الحسن" عن الحسن قال: لا يزال الناس بخير ما تباينوا فإذا استووا فذاك حين هلاكهم.
"هب".
"هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٧۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر بن خطاب سے کہا : کیا میں اس شخص کے درجہ میں نہیں ہوسکتا جو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہیں ڈرتا، یا تو لوگوں کے کچھ قریب ہوگے یا ان کے حالات سے جدا ، لہٰذا اپنے نفس پر جھک جاؤ نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو۔ ( ابن سعد)
8477- عن الزهري أن رجلا قال لعمر بن الخطاب: ألا أكون بمنزلة من لا يخاف في الله لومة لائم، فقال: إما أن تلي في الناس شيئا وإما أنت خلو من أمرهم فأكب على نفسك وأمر بالمعروف وانه عن المنكر. ابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کا مزاج بدل جائے گا
٨٤٧٨۔۔۔ ابن سیرین حضرت عدی بن حاتم (رض) سے روایت کرتے ہیں ، فرمایا : تمہاری آج کی نیکی گزشتہ زمانہ کی برائی ہے، اور تمہاری آج کی برائی آئندہ زمانہ کی نیکی ہوگی، تم ہمیشہ بھلائی میں رہوگے جب تک منکر باتوں کو معروف نہیں جانو گے اور معروف باتوں کو منکر نہیں جانو گے اور جب تمہارا عالم تم میں توہین آمیز گفتگو نہ کرے۔ ( ابن عساکر)
8478- عن ابن سيرين عن عدي بن حاتم قال: إن معروفكم اليوم منكر زمان قد مضى، وإن منكركم اليوم معروف زمان يأتي، وإنكم لن تبرحوا بخير ما دمتم لا تعرفون ما كنتم تنكرون، ولا تنكرون ما كنتم تعرفون، وما قام عالمكم يتكلم بينكم غير مستخف. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٧٩۔۔۔ طاوؤس سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) ایک رات کچھ لوگوں کی نگہبانی کے لیے نکلے جب رات کا ایک پہر گزر گیا، تو آپ ایک گھر کے پاس سے گزرے اس میں کچھ لوگ پی رہے تھے، آپ نے انھیں پکار کر کہا : کیا یہ فسق نہیں کیا یہ فسق نہیں ؟ (ان میں سے) کسی نے کہا : اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس سے منع کیا ہے، چنانچہ حضرت عمر انھیں چھوڑ کر واپس آگئے۔ (عبدالرزاق)
8479-عن طاوس أن عمر بن الخطاب خرج ليلة يحرس رفقة نزلت بناحية المدينة، حتى إذا كان في بعض الليل مر ببيت فيه ناس يشربون فناداهم أفسقا أفسقا؟ فقال بعضهم قد نهاك الله عن هذا فرجع عمر وتركهم. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨٠۔۔۔ ابوقلابہ سے روایت ہے کہ کسی نے حضرت عمر سے کہہ دیا : کہ ابومحجن ثقفی نے اپنے گھر میں شراب پی ہے جہاں وہ اور ان کے احباب بیٹھے ہیں ، حضرت عمر چل کر وہاں پہنچے تو ان کے پاس صرف ایک آدمی بیٹھا تھا، ابومحجن نے کہا : امیرالمومنین آپ کے لیے یہ کام جائز نہیں اللہ تعالیٰ نے تجسس سے منع فرمایا ہے تو حضرت عمر نے فرمایا : اس فعل کو کیا کہا جائے ؟ تو زید بن ثابت اور عبدالرحمن بن ارقم نے ان سے کہا : امیرالمومنین ! ابومحجن نے سچ کہا، یہ واقعی تجسس ہے چنانچہ حضرت عمر انھیں چھوڑ کر وہاں سے چل دیئے۔ (عبدالرزاق)
8480- عن أبي قلابة أن عمر حدث أن أبا محجن الثقفي يشرب الخمر في بيته، هو وأصحاب له، فانطلق عمر حتى دخل عليه فإذا ليس عنده إلا رجل، فقال أبو محجن: يا أمير المؤمنين إن هذا لا يحل لك قد نهاك الله عن التجسس، فقال عمر: ما يقال هذا؟ فقال له زيد بن ثابت وعبد الرحمن بن الأرقم صدق يا أمير المؤمنين، هذا من التجسس، فخرج عمر وتركه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨١۔۔۔ زہری سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے قیس بن مکشوح مرادی سے کہا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ تم شراب پیتے ہو ؟ انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! اللہ تعالیٰ کی قسم ! میرے خیال میں آپ نے بری بات کی اللہ کی قسم ! میں جب بھی کسی بادشاہ کے پیچھے چلا تو میرے دل میں اسے قتل کرنے کا خیال پیدا ہوا، حضرت عمر نے فرمایا : کیا تمہارے دل میں میرے قتل کا خیال پیدا ہوا ؟ تو وہ بولے : میں اگر اس کا قصد کرتا تو کرلیتا ، حضرت عمر نے فرمایا : اگر تم ہاں کہتے تو میں تمہارے گردن اڑا دیتا یہاں سے نکل جاؤ اللہ کی قسم ! میں تمہارے ساتھ یہ رات نہیں گزار سکتا، عبدالرحمن بن عوف نے ان سے کہا :
امیرالمومنین ! اگر وہ وہاں کہہ دیتا تو کیا اس کی گردن اڑا دیتے ؟ حضرت عمر فرمایا : نہیں لیکن میں نے اس بات سے اسے ڈرایا ہے۔ (ابن جریر)
امیرالمومنین ! اگر وہ وہاں کہہ دیتا تو کیا اس کی گردن اڑا دیتے ؟ حضرت عمر فرمایا : نہیں لیکن میں نے اس بات سے اسے ڈرایا ہے۔ (ابن جریر)
8481- عن الزهري قال قال عمر بن الخطاب لقيس بن مكشوح المرادي: أنبئت أنك تشرب الخمر؟ فقال: قد والله أراك يا أمير المؤمنين أسأت، أما والله ما مشيت خلف ملك قط إلا حدثت نفسي بقتله، قال: فهل حدثت نفسك بقتلي؟ فقال لو هممت لفعلت، فقال عمر: لو قلت نعم لضربت عنقك، أخرج والله لا تبيت الليلة معي، فقال له عبد الرحمن بن عوف يا أمير المؤمنين لو قال نعم لضربت عنقه؟ قال: لا ولكني استرهبته بذلك. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨٢۔۔۔ (ابن مسعود (رض)) زیدبن وھب سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ بن مسعود سے کہا گیا : ولید بن عقبہ کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں ؟ اس کی داڑھی سے شراب کے قطرے ٹپک رہے ہیں ، آپ نے فرمایا : ہمیں تجسس سے منع کیا گیا ہے ہمارے سامنے اگر کوئی بات ظاہر ہوئی تو ہم اس پر حد لگائیں گے۔ (عبدالرزاق)
8482- "ابن مسعود رضي الله عنه" عن زيد بن وهب قال قيل لابن مسعود: هل لك في الوليد بن عقبة؟ تقطر لحيته خمرا، قال: قد نهينا عن التجسس، فإن يظهر لنا شيء نقم عليه. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨٣۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) جب لوگوں کو کسی چیز سے منع کرنا چاہتے تو پہلے اپنے گھر والوں کے پاس جاتے (فرماتے) اگر مجھے معلوم ہوگیا کہ کوئی شخص اس چیز کا مرتکب ہوا جس سے میں نے روکا ہے تو اسے دہری سزادوں گا۔ ( ابن سعد ، ابن عساکر)
8483- عن ابن عمر قال: كان عمر إذا أراد أن ينهي الناس عن شيء تقدم إلى أهله، لا أعلمن أحدا وقع في شيء مما نهيت عنه إلا أضعفت له العقوبة. ابن سعد "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨٤۔۔۔ ابن شہاب سے روایت ہے فرماتے ہیں ، ہشام بن حکیم بن حزام کچھ مردوں کے ساتھ مل کر نیکی کا حکم کرتے، حضرت عمر بن خطاب فرمایا کرتے تھے جب تک میں اور ہشام زندہ ہیں تو یہ نہیں ہوسکتا ۔ ( مالک وابن سعید)
8484- عن ابن شهاب قال: كان هشام بن حكيم بن حزام يأمر بالمعروف في رجال معه، فكان عمر بن الخطاب يقول: أما ما عشت أنا وهشام فلا يكون هذا. مالك وابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ امربالمعروف کے آداب
٨٤٨٥۔۔۔ سدی سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمربن خطاب (رض) باہر نکلے ، اچانک انھیں ایک دکھائی دی، آپ کے ساتھ عبداللہ بن مسعود (رض) تھے آپ آگ کی طرف چل پڑے یہاں تک (جس) گھر میں (آگ جل رہی تھی) داخل ہوگئے وہاں ایک چراغ جل رہا تھا، آپ گھر کے مکان میں داخل ہوئے اور یہ رات کے وقت کا واقعہ ہے کیا دیکھتے ہیں ایک بوڑھا شخص بیٹھا ہے اور اس کے سامنے شراب پڑی ہے اور ایک لونڈی گانا گا رہی ہے انجانے میں حضرت عمر نے اس پر حملہ کردیا، حضرت عمرنے فرمایا : میں نے آج کی رات سے بھیانک منظر نہیں دیکھا، ایک بوڑھا جو اپنی موت کا منتظر ہے، اس شخص نے اپنا سر اٹھایا اور کہا : عمر، بالکل ٹھیک ہے امیرالمومنین جو آپ نے کیا ہے وہ اس سے زیادہ برا ہے آپ نے تجسس کیا اور تجسس سے روکا گیا ہے اور آپ بغیر اجازت اندرآگئے، حضرت عمر نے فرمایا : تم نے سچ کہا : پھر آپ اپنا کپڑا دانتوں میں دبائے روتے باہر نکل گے، اور فرمایا : عمر کی ماں اسے روئے اگر اس کا رب اسے نہ بخشے ہم نے اسے دیکھا وہ اپنی بیوی کے ساتھ تنہائی میں بیٹھا تھا اب وہ کہہ رہا ہے کہ مجھے عمر نے دیکھا اور وہ اس معاملہ میں شہرت کررہے ہیں ، اس بوڑھے نے اسی گھڑی حضرت عمر کی مجلس چھوڑدی
ایک دفعہ اس واقعہ کے بعد حضرت بیٹھے تھے کہ اچانک اسی خفیہ بات والے شخص جیسا ایک بوڑھا آیا اور مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا، حضرت عمر نے جب اسے دیکھا تو فرمایا : اس بوڑھے کو مجھ تک پہنچادو، چنانچہ وہ آگیا کسی نے اس سے کہا : حاضر ہو وہ شخص اٹھا (وہ دل میں ) سمجھ رہا تھا کہ میری کسی بری حرکت کی عمر سرزنش کریں گے جو انھوں نے دیکھی ہے حضرت عمر نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، آپ اسے قریب کرتے رہے یہاں تک کہ اپنے پہلو میں بٹھالیا، پھر فرمایا : اپنا کان میرے نزدیک کرو، پھر آپ نے اس کے کان میں کہا، اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر مبعوث فرمایا، اس رات میرے ساتھ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے اور اس نے کسی کو نہیں بتایا۔
اس نے کہا امیر المومنین ! اپنا کان میرے نزدیک کریں، اس نے گوشہ میں کہا، اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا، میں نے بھی کسی کو نہیں بتایا اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے تک دوبارہ یہ کام نہیں کیا
تو حضرت عمر نے تکبیر کہہ کر آوازبلند کی، لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کس وجہ سے تکبیر کہہ رہے ہیں۔ (ابوالشیخ فی کتاب القطع والسرقہ)
ایک دفعہ اس واقعہ کے بعد حضرت بیٹھے تھے کہ اچانک اسی خفیہ بات والے شخص جیسا ایک بوڑھا آیا اور مجلس کے پیچھے بیٹھ گیا، حضرت عمر نے جب اسے دیکھا تو فرمایا : اس بوڑھے کو مجھ تک پہنچادو، چنانچہ وہ آگیا کسی نے اس سے کہا : حاضر ہو وہ شخص اٹھا (وہ دل میں ) سمجھ رہا تھا کہ میری کسی بری حرکت کی عمر سرزنش کریں گے جو انھوں نے دیکھی ہے حضرت عمر نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، آپ اسے قریب کرتے رہے یہاں تک کہ اپنے پہلو میں بٹھالیا، پھر فرمایا : اپنا کان میرے نزدیک کرو، پھر آپ نے اس کے کان میں کہا، اس ذات کی قسم ! جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر مبعوث فرمایا، اس رات میرے ساتھ عبداللہ بن مسعود تھے میں نے اور اس نے کسی کو نہیں بتایا۔
اس نے کہا امیر المومنین ! اپنا کان میرے نزدیک کریں، اس نے گوشہ میں کہا، اس ذات کی قسم جس نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق دے کر بھیجا، میں نے بھی کسی کو نہیں بتایا اور آپ کی مجلس میں بیٹھنے تک دوبارہ یہ کام نہیں کیا
تو حضرت عمر نے تکبیر کہہ کر آوازبلند کی، لوگوں کو معلوم نہ ہوسکا کہ آپ کس وجہ سے تکبیر کہہ رہے ہیں۔ (ابوالشیخ فی کتاب القطع والسرقہ)
8485- عن السدي قال: خرج عمر بن الخطاب، فإذا هو بضوء نار، ومعه عبد الله بن مسعود، فاتبع الضوء حتى دخل دارا، فإذا بسراج في بيت: فدخل وذلك في جوف الليل، فإذا شيخ جالس وبين يديه شراب وقينة تغنيه، فلم يشعر حتى هجم عليه عمر، فقال عمر: ما رأيت كالليلة منظرا أقبح من شيخ ينتظر أجله، فرفع رأسه إليه، فقال: بلى يا أمير المؤمنين، ما صنعت أنت أقبح، تجسست، وقد نهى عن التجسس ودخلت بغير أذن، فقال عمر: صدقت، ثم خرج عاضا على ثوبه يبكي وقال: ثكلت عمر أمه إن لم يغفر له ربه، نجد هذا كان يستخفي به من أهله فيقول الآن رآني عمر فيتتايع فيه1 وهجر الشيخ مجلس عمر حينا، فبينا عمر بعد ذلك جالس إذ قد جاء شبه المستخفي، حتى جلس في أخريات الناس، فرآه عمر، فقال علي بهذا الشيخ، فأتى، فقيل له: أجب فقام وهو يرى أن عمر سيسوءه بما رأى منه، فقال عمر: أدن مني فما زال يدنيه حتى أجلسه بجنبه، فقال أدن مني أذنك، فالتقم أذنه، فقال: أما والذي بعث محمدا بالحق رسولا ما أخبرت أحدا من الناس بما رأيت منك ولا ابن مسعود، فإنه كان معي، فقال يا أمير المؤمنين، أدن مني أذنك، فالتقم أذنه، فقال ولا أنا والذي بعث محمدا بالحق رسولا ما عدت إليه حتى جلست مجلسي هذا، فرفع عمر صوته يكبر، فما يدري الناس من أي شيء يكبر. أبو الشيخ في كتاب القطع والسرقة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زہدوتقشف
٨٤٨٦۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : ازارپہناکرو، چادر اوڑھا کرو، جوتا پہنا کرو، موزے اور شلواریں اتاردو، قافلوں سے ملو، گھوڑوں پر کود پیٹھا کرو، معدبن عدنان کی موافقت کرو، نیزے پھنکا کرو، عیش و عشرت اور عجم کی مشابہت چھوڑ دو ، خبردار عجمیوں کی روش سے بچنا کیونکہ سب سے برا طریقہ عجم کی بودوباش ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد، وابوذر الھروی فی الجامع، بیھقی فی السنن)
8486- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: اتزروا وارتدوا وانتعلوا وألقوا الخفاف والسراويلات، والقوا الركب وانزوا على الخيل نزوا وعليكم بالمعدية وارموا الأغراض، وذروا التنعم وزي العجم، وإياكم وهدي العجم، فإن شر الهدي هدي العجم. "ش حم" وأبو ذر الهروى في الجامع. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سنجیدگی اور نرم رفتاری
٨٤٨٧۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : سوائے آخرت کے کاموں کے ہر کام میں نرم رفتاری بہتر ہے (مسند احمد، ومسدد ابن ابی الدنیا فی قصر الامل ، وفی المنتخب، ابوداؤد، حاکم ، بیھقی فی الشعب عن سعد)
8487- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: التؤدة في كل شيء، خير إلا ماكان من أمر الآخرة. "حم" ومسدد وابن أبي الدنيا في قصر الأمل. [وفي المنتخب: "د ك هب" سعد] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سنجیدگی اور نرم رفتاری
٨٤٨٨۔۔ خیثمہ سے روایت ہے کہ عبداللہ نے فرمایا : کئی فسادات اور مشتبہ امور ظاہر ہوں گے، تو تم سنجیدگی اختیار کرنا، تو تم بھلائی کے کاموں میں تابع بن کر رہویہ اس سے بہتر ہے کہ بھلائی کے کاموں میں رہنما بنو (وفی المنتخب، مصنف ابن ابی شیبہ
8488- عن خثيمة قال قال عبد الله: إنها ستكون هنات وأمور مشتبهات فعليك بالتؤدة فتكون تابعا في الخير خير من أن تكون رأسا في الخير. وفي المنتخب: "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৪৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لڑائی جھگڑا چھوڑنا
٨٤٨٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : لوگوں کے جھگڑوں سے بچو وہ دو قسموں سے خالی نہیں ، یا وہ عقلمندہوں گے جو تمہارے خلاف مکر کریں گے، یا جاہل ہوں گے ، تمہارے خلاف ایسی بات میں جلدی کریں گے جو تم میں نہیں ، یاد رکھنا کلام مذکر ہے اور جواب مونث ہے اور جہاں مذکر اور مونث جمع ہوجائیں تو وہاں اولاد کا ہونا ضروری ہے ، پھر آپ نے یہ اشعار کہنا شروع کیے :
ترجمہ :۔۔۔ جو جواب سے بچ گیا اس نے عزت بچالی ، جس نے لوگوں سے مدارت ورواداری رکھی تو صحیح راہ چلا، جو لوگوں سے ڈرا لوگ بھی اس سے کو فزدہ ہوں گے، اور جو لوگوں کو حقیر جانے گا اس سے ہرگز نہیں ڈرے گا۔ (بیھقی فی الشعب)
ترجمہ :۔۔۔ جو جواب سے بچ گیا اس نے عزت بچالی ، جس نے لوگوں سے مدارت ورواداری رکھی تو صحیح راہ چلا، جو لوگوں سے ڈرا لوگ بھی اس سے کو فزدہ ہوں گے، اور جو لوگوں کو حقیر جانے گا اس سے ہرگز نہیں ڈرے گا۔ (بیھقی فی الشعب)
8489- عن علي رضي الله عنه قال: إياكم ومعاداة الرجال فإنهم لا يخلون من ضربين، من عاقل يمكر بكم، أو جاهل يعجل عليكم بما ليس فيكم، واعلموا أن الكلام ذكر والجواب أنثى وحيثما اجتمع الزوجان فلا بد من النتاج ثم أنشأ يقول:
سليم العرض من حذر الجوابا ... ومن دارى الرجال فقد أصابا
ومن هاب الرجال تهيبوه ... ومن حقر الرجال فلن يهابا
سليم العرض من حذر الجوابا ... ومن دارى الرجال فقد أصابا
ومن هاب الرجال تهيبوه ... ومن حقر الرجال فلن يهابا
তাহকীক: