কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৪৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اکتاہٹ دور کرنے کے لیے دل کی کیفیت تبدیل کرنا
٨٤٩٠۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں کسی باطل چیز کے ذریعہ راحت حاصل کرتا ہوں تاکہ میرے لیے حق میں زیادہ چستی کا ذریعہ بنے۔ (ابن عساکر)
8490- عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: إني لأستجم ببعض الباطل ليكون أنشط لي في الحق. "كر"1

التفكر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غور وفکر
٨٤٩١۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) سے وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں : اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بارے میں بیشک تیرے رب کی طرف انتہا ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ذات میں غور وفکر نہیں۔ (دارقطنی فی الافراد)
8491- عن أبي ذر رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، في قوله تعالى: {وَأَنَّ إِلَى رَبِّكَ الْمُنْتَهَى} قال: لا فكرة في الله عز وجل. "قط" في الأفراد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غور وفکر
٨٤٩٢۔۔۔ حضرت (ابوالدرداء (رض)) سے روایت ہے فرمایا : کچھ لوگ نیکیوں کی کنجیاں اور برائیوں کے تالے ہیں ، اور انھیں اس کا اجر بھی ملتا ہے، اور کچھ برائیوں کی چابیاں اور نیکیوں کے تالے ہیں ، اور اس کا ان پر گناہ بھی ہے، ایک گھڑی کا غور وفکر رات (بھر) کے قیام سے بہتر ہے۔ ( ابن عساکر)
8492- "أبو الدرداء رضي الله عنه" عن أبي الدرداء قال: من الناس مفاتيح للخير، مغاليق للشر، ولهم بذلك أجر، ومن الناس مفاتيح للشر مغاليق للخير وعليهم بذلك إصر، وتفكر ساعة خير من قيام ليلة.

"كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غور وفکر
٨٤٩٣۔۔۔ (مرسل الحسن) حضرت حسن بصری (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک گھڑی کا سوچ وبچار رات بھر کے قیام سے بہتر ہے۔ (ابن الدنیا فی التفکر)
8493- "مرسل الحسن" عن الحسن قال: تفكر ساعة خير من قيام ليلة. ابن أبي الدنيا في التفكر
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٤۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تقویٰ کے ساتھ عمل کم نہیں ہوتا، جو چیز قبول ہوتی ہے وہ کم کیسے ہوسکتی ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی التقویٰ )
8494- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: لا يقل عمل مع التقوى، وكيف يقل ما يتقبل. ابن أبي الدنيا في كتاب التقوى.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٥۔۔۔ کمیل بن زیاد سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں حضرت علی (رض) کے ہمراہ نکلا جب آپ جبان کے اوپر پہنچے تو قبرستان کی طرف متوجہ ہوئے، اور فرمایا : اے قبروں بوسیدگی اور وحشت والو ! تمہاری کیا خبر ہے ہماری خبر تو یہ ہے کہ مال تقسیم ہوگئے ، اولاد یتیم ہوگئی، خاوندبدل گئے یہ تو ہماری خبر تھی ، تمہاری کیا خبر ہے۔

پھر میری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے کمیل ! اگر انھیں جواب دینے کی اجازت ہوتی تو یہ کہتے : بہترین توشہ تقویٰ ہے، پھر آپ روپڑے اور مجھ سے فرمایا : کمیل ! قبر عمل کا صندوق ہے، اور موت کے وقت تیرے پاس (اس کی) خبر پہنچ جائے گی۔ (الدینوری، ابن عساکر)
8495- عن كميل بن زياد قال: خرجت مع علي بن أبي طالب، فلما أشرف على الجبان التفت إلى المقبرة، فقال: يا أهل القبور، يا أهل البلى يا أهل الوحشة، ما الخبر عندكم، فإن الخبر عندنا قد قسمت الأموال، وأيتمت الأولاد، واستبدل بالأزواج، فهذا الخبر عندنا، فما الخبر عندكم ثم التفت إلي فقال: يا كميل لو أذن لهم في الجواب لقالوا: إن خير الزاد التقوى، ثم بكى، وقال لي: يا كميل القبر صندوق العمل، وعند الموت يأتيك الخبر. الدينوري "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٦۔۔۔ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی نے فرمایا : عمل کرنے سے زیادہ عمل کی قبولیت کا اہتمام کرو، کیونکہ کوئی عمل تقویٰ کے ساتھ کم نہیں ہوتا اور وہ عمل کیسے کم ہوسکتا ہے جو قبول ہوتا ہو۔ (الحلیۃ ، ابن عساکر)
8496- عن قيس بن أبي حازم، قال قال علي: كونوا بقبول العمل أشد اهتماما منكم بالعمل فإنه لن يقل عمل مع التقوى، وكيف يقل عمل تقبل. "حل كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٧۔۔۔ عید خیر سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے فرمایا : تقویٰ کے ساتھ کوئی عمل نہیں ہوتا، جو چیز قبول ہوتی ہے وہ کم کیسے ہوسکتی ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی التقویٰ ۔۔ الحلیۃ)
8497- عن عبد خير قال: قال علي: لا يقل عمل مع تقوى، وكيف يقل ما يتقبل. ابن أبي الدنيا في التقوى "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٨۔۔۔ عبداللہ بن احمد بن عامر سے روایت فرماتے ہیں میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ مجھ سے علی بن موسیٰ رضا نے اپنے آباء کے حوالہ سے حضرت علی (رض) سے نقل کیا ہے کہ آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا : وہ کون سے اعمال ہیں کو جنت میں زیادہ داخل کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اور اچھے اخلاق ، اور آپ سے ان اعمال کے بارے میں پوچھا گیا جو زیادہ جہنم میں داخل کرتے ہیں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ خالی چیزیں ، پیٹ اور شرمگاہ۔
8498- عن عبد الله بن أحمد بن عامر قال: ثنى أبي قال: حدثني علي بن موسى الرضا عن آبائه عن علي قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أكثر ما يدخل الجنة، قال: تقوى الله، وحسن الخلق، وسئل ما أكثر ما يدخل النار؛ قال: الأجوفان: البطن والفرج
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৪৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٤٩٩۔۔۔ حضرت (ابی بن کعب (رض)) سے روایت ہے فرمایا : جس نے تم میں سے اللہ تعالیٰ کے لیے کوئی چیز چھوڑدی تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے بہتر چیز ایسی جگہ سے عطا کرے گا جہاں سے اس کا گمان بھی نہ ہوگا اور جس نے سستی کی اور جہاں سے اسے علم نہ تھا اس چیز کو حاصل کرلیا تو اللہ تعالیٰ اس سے سخت چیز دے گا جہاں سے اس کا وہم و گمان بھی نہ ہوگا۔ (ابن عساکر)
8499- "أبي بن كعب رضي الله عنه" عن أبي بن كعب قال: ما ترك أحد منكم لله شيئا إلا آتاه الله مما هو خير له منه من حيث لا يحتسب ولا تهاون به وأخذه من حيث لا يعلم إلا آتاه الله مما هو أشد عليه منه من حيث لا يحتسب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٥٠٠۔۔۔ حضرت (عبداللہ عن مسعود) سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھے اگر اس بات کا علم ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ میرا عمل قبول فرمالیں گے تو یہ بات مجھے زمین بھر سونے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ ( یعقوب بن سفیان ابن عساکر)
8500- "عبد الله بن مسعود رضي الله عنه" عن ابن مسعود قال: لأن أكون أعلم أن الله تقبل مني عملا أحب إلي من أن يكون لي ملء الأرض ذهبا. يعقوب بن سفيان "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٥٠١۔۔۔ حضرت (ابوذر (رض)) سے روایت ہے (کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :) اے ابوذر ! تقویٰ کے ذریعہ کی قبولیت کا عمل سے زیادہ اہتمام کرو، اے ابوذر اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو بھلائی پہنچانا چاہتے ہیں تو برائیوں کو اس کے سامنے مشکل کردیتے ہیں ، ابوذر ! مومن اپنے لیے گناہ کو ایسے سمجھتا ہے گویا وہ کسی چٹان تلے ہے جس کے گرنے کا اسے اندیشہ ہے اور کافر اپنے لیے گناہ کو ایسے سمجھتا ہے گویا کوئی مکھی ہے جو ناک پر آبیٹھی، ابوذر ! کسی جھوٹے گناہ کو نہ دیکھو، بلکہ اس ذات کی عظمت کو دیکھو جس کے نافرمانی کررہے ہو، ابوذر ! بندہ اس وقت تک متقی نہیں بن سکتا یہاں تک کہ اپنا محاسبہ اس سے زیادہ سخت ایسے کرے جیسے ایک شریک (کار) اپنے شریک کا کرتا ہے اور وہ جان لے کہ اس کے کھانے پینے اور پہننے کا سامان کہاں سے آرہا ہے ؟ حلال سے یا حرام سے ۔ (الدیلمی)
8501- "أبو ذر رضي الله عنه" يا أبا ذر كن للعمل بالتقوى أشد اهتماما منك بالعمل، يا أبا ذر إن الله إذا أراد بعبد خيرا جعل الذنوب بين عينيه ممثلة، يا أبا ذر إن المؤمن يرى ذنبه كأنه تحت صخرة، يخاف أن تقع عليه، والكافر يرى ذنبه كأنه ذباب يمر على أنفه، يا أبا ذر لا تنظر إلى صغر الخطيئة، ولكن انظر إلى عظم من عصيت، يا أبا ذر لا يكون الرجل من المتقين حتى يحاسب نفسه أشد من محاسبة الشريك لشريكه، فيعلم من أين مطعمه، ومن أين مشربه، ومن أين ملبسه؟ أمن حل ذلك، أم من حرام؟ الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری
٨٥٠٢۔۔۔ ابونضرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا وہ خطبہ جو آپ نے ایام تشریق کے درمیان اونٹ پر بیٹھ کردیا تھا وہاں جو حضرات موجود تھے ان میں سے ایک نے مجھ سے بیان کیا، آپ نے فرمایا : لوگو ! تمہارا رب ایک ہے تمہارا باپ ایک ہے خبردار کسی عربی کو عجمی پر کوئی فضلیت نہیں اور نہ کسی سیاہ فام کو کسی گورے پر کوئی افضلیت حاصل ہے صرف تقویٰ کی وجہ سے آھاہ رہو کیا میں نے پہنچادیا ؟ لوگوں نے (بیک زبان ) کہا، جی ہاں ، آپ نے فرمایا : حاضر غائب تک پہنچا دے ۔ (ابن النجار)
8502- عن أبي نضرة قال: حدثني من شهد خطبة النبي صلى الله عليه وسلم بمنى، في وسط أيام التشريق، وهو على بعير: يا أيها الناس ألا إن ربكم واحد، ألا إن أباكم واحد، ألا لا فضل لعربي على عجمي، ألا لا فضل لأسود على أحمر إلا بالتقوى، ألا قد بلغت؟ قالوا: نعم، قال: ليبلغ الشاهد الغائب.

ابن النجار
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو ان کے مراتب میں رکھنا
٨٥٠٣۔۔۔ عمروبن مخراق سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) کھانا کھارہی تھیں آپ کے پاس ایک شخص گزرا جو شان و شوکت والا تھا آپ نے اسے بلایا اور وہ آپ کے ساتھ بیٹھ گیا پھر ایک دوسرا شخص گزرا تو آپ نے اسے ایک روٹی کا ٹکڑا عنایت کیا ، آپ سے کسی نے کہا : ایسا کیوں ؟ آپ نے فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے مراتب و درجات میں رکھیں ۔ (خطیب فی المتفق مربرقم، ٥٧١٧/٥٧١٨)

تشریح :۔۔۔ یہ حدیث جتنے راویوں نے نقل کی ہے سب کا مدار میمون بن ابی شبیب ہے مگر انھوں نے حضرت عائشہ کا زمانہ نہیں پایا، بہرکیف حدیث کا درجہ حسن کا ہے، یہاں دو باتیں دغیرہ میں بیٹھتے ہیں ، آپ کی مجلس علمی مجلس ہوا کرتی تھی، آپ پردہ میں بیٹھی تھیں ، دوم آپ کھانے کے لیے اس طرح نہیں بیٹھی تھیں جیسے لوگ ہوٹل وغیرہ میں بیٹھتے ہیں ، آپ کی مجلس علمی مجلس ہوا کرتی تھی، آپ پردہ میں بیٹھتیں اور آنے والوں کے لیے آپ کے ہاں قیام وطعام کا بند و بست تھا، کیونکہ شائقین علم حدیث دور دور سے آکر آپ سے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اقوال سنتے آپ کے کئی خادم اور لونڈیاں تھیں پاس بیٹھنے سے مراد اتحاد مجلس ہے نہ کہ اتحاد مکان۔
8503- عن عمرو بن مخراق قال: مر على عائشة رجل ذو هيئة وهي تأكل فدعته فقعد معها، ومر آخر فأعطته كسرة، فقيل لها؟ فقالت: أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن ننزل الناس منازلهم.

"خط" في المتفق. مر برقم/5717 و 5718/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو ان کے مراتب میں رکھنا
٨٥٠٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جس نے لوگوں کو ان کے مراتب میں رکھا اس نے ان سے مشقت دور کی ، اور جس نے اپنے بھائی کو اس کی قدرومنزلت سے آگے بڑھایا تو اس نے اس کی عداوت و دشمنی کو کھینچا۔ (القرشی فی العلم)
8504- عن علي قال: من أنزل الناس منازلهم دفع المؤنة عن نفسه، ومن رفع أخاه فوق قدره اجتر عداوته. القرشي في العلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں کو ان کے مراتب میں رکھنا
٨٥٠٥۔۔۔ زیادبن الغم سے روایت ہے فرماتے ہیں : سمندر میں ہمارا بحری بیڑہ حضرت ابوایوب انصاری (رض) کے بیڑہ سے مل گیا ہمارے ساتھ ایک شخص تھا جو بےحد مذاقی تھا، وہ ہمارے باورچی سے کہتا ، اللہ تعالیٰ تجھے اچھا اور بھلابدلہ دے، تو وہ غصہ ہوجاتا ، ہم نے حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے کہا : ہمارے ساتھ ایک شخص ہے جب ہم اسے جزاک اللہ خیراوبرا کہتے ہیں تو وہ ناراض ہوجاتا ہے، آپ نے فرمایا : اس کے لیے الفاظ تبدیل کردو، کیونکہ ہم لوگ کہا کرتے تھے کہ جسے اچھائی تجھے برا اور خارش کا بدلہ دے تو وہ شخص ہنس پڑا اور کہنے لگا تو اپنا مذاق نہیں چھوڑتا، تو اس شخص نے حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے (آکر) کہا حضرت ابوایوب ! اللہ تعالیٰ آپ کو اچھا بدلہ دے۔ (ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ بڑوں کی باتیں بھی عظیم ہوتی ہیں، ان حضرات کار فراست اس قدر تیز تھا کہ بغیر آلات کے انسانی تشخیص کرلیا کرتے تھے۔
8505- عن زياد بن أنعم قال: انضم مركبنا إلى مركب أبي أيوب الأنصاري في البحر، وكان معنا رجل مزاح، فكان يقول لصاحب طعامنا: جزاك الله خيرا وبرا فيغضب، فقلنا لأبي أيوب: إن معنا رجلا إذا قلنا له جزاك الله خيرا وبرا يغضب، فقال: اقلبوه له، فإنا كنا نتحدث أن من لم يصلحه الخير أصلحه الشر فقال له المزاح: جزاك شرا وعرا1 فضحك، وقال: ما تدع مزاحك، فقال الرجل: جزاك الله يا أبا أيوب خيرا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ التواضع
٨٥٠٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تین باتیں تواضع و انکساری کی بنیاد ہیں، جس سے ملاقات اسے سلام میں پہل کرنا ، اونچی جگہ بیٹھنے کی ن جائے نیچے بیٹھنے پر راضی رہنا ، اور نمودونمائش کو برا سمجھنا۔ ( العسکری)

تشریح :۔۔۔ سلام میں پہل نہ کرنے سے ایک فرد کے دل میں دشمنی اٹھے گی، مجلس میں اونچی جگہ بیٹھنے سے نیچے بیٹھنے والے خاص افراد حسد کریں گے، تکبر کی وجہ سے ہر شخص برے طریقہ سے ملے گا یوں عافیت کم ہوگی اور عداوت بسیار۔
8506- عن علي رضي الله عنه قال: ثلاث هن رأس التواضع، أن يبدأ بالسلام من لقيه، ويرضى بالدون من شرف المجلس، ويكره الرياء والسمعة. العسكري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ التواضع
٨٥٠٧۔۔۔ سمعان بن المھدی حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرا جو بندہ میری خاطر میری مخلوق کے سامنے عاجزی کرے تو میں اسے جنت میں داخل کروں گا ، اور میرا جو بندہ مخلوق کے سامنے تکبر کرے گا میں اسے اپنی جہنم میں داخل کروں گا اور میرا جو بندہ حلال سے حیا کرے گا اللہ تعالیٰ اسے حرام میں مبتلا کردیں گے۔ ( ابن عساکر)

وقال منکر اسناداومتنا وفی سندہ غیر واحد من المجھولین

یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن اس کا مضمون جو تواضع کے متعلق ہے وہ درست ہے۔
8507- عن سمعان بن المهدي عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله تعالى: ما من عبد من عبادي تواضع لي عند خلقي إلا وأنا أدخله جنتي، وما من عبد من عبادي تكبر عند خلقي إلا وأنا أدخله ناري، وما من عبد من عبيدي استحيا من الحلال إلا ابتلاه الله بالحرام. "كر" وقال منكر إسنادا ومتنا، وفي سنده غير واحد من المجهولين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ التواضع
٨٥٠٨۔۔۔ اوس بن خولی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا، آن نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کے لیے انکساری کرتا ہے اللہ تعالیٰ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتے ہیں اور جو تکبر کرے اللہ تعالیٰ اس کا مقام گھٹا دیتے ہیں۔ (ابن مندہ و ابونعیم قال فی الاصابہ فیہ خارجہ بن مصعب وفیہ من لایعرف ایضا)
8508- عن أوس بن خولي، دخلت على النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا أوس من تواضع لله رفعه الله، ومن تكبر وضعه الله. ابن منده وأبو نعيم قال في الإصابة: فيه خارجة بن مصعب وفيه من لا يعرف أيضا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تواضع سے مرتبہ بلند ہوتا ہے
٨٥٠٩۔۔۔ عبیداللہ بن عدی بن الخیار سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمربن خطاب (رض) کو منبر پر ارشاد فرماتے سنا : بندہ جب اللہ تعالیٰ کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے اللہ تعالیٰ کسی حکمت کے تحت اسے بلندی فرماتے ہیں اور فرماتے ہیں : اٹھ اللہ تعالیٰ تجھے بلند کرے، جبکہ وہ اپنے دل میں حقیر اور لوگوں کی نظروں میں بلند شان ہوتا ہے۔

اور جب وہ تکبر کرتے کرتے اپنی حد سے گزر جائے تو اللہ تعالیٰ اسے زمین پردے مارتے ہیں ، اور فرماتے ہیں : ذلیل ہو اللہ تعالیٰ تجھے رسوا کرے وہ اپنے دل میں تو بڑا ہوتا ہے لیکن لوگوں کے ہاں حقیر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ ان کے نزدیک خنزیر سے بھی بڑھ کر ذلیل ہوجاتا ہے۔ (ابوعبید والخرائطی فی مکارم الاخلاق والصابونی فی، المائتین، عبدالرزاق)
8509- عن عبيد الله بن عدي بن الخيار، قال: سمعت عمر بن الخطاب على المنبر يقول إن العبد إذا تواضع لله رفعه الله حكمة، وقال: انتعش نعشك الله، وهو في نفسه حقير، وفي أعين الناس كبير، وإذا تكبر وعدا طوره وهصه الله إلى الأرض، وقال: اخسأ أخسأك الله فهو في نفسه كبير، وفي أعين الناس حقير، حتى لهو أهون عليهم من الخنزير. أبو عبيد والخرائطي في مكارم الأخلاق والصابوني في المأتين "عب".
tahqiq

তাহকীক: