কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৫১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تواضع سے مرتبہ بلند ہوتا ہے
٨٥١٠۔۔۔ ابن وھب سے روایت ہے فرماتے ہیں مجھ سے مالک نے اپنے چچا کے حوالہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں انھوں نے حضرت عمر اور عثمان کو دیکھا کہ جب وہ مکہ سے آتے تو معرس پر اترتے اور جب مدینہ میں داخل ہونے کے سوار ہوتے
تو کوئی بھی ایسا نہ بچتا کہ اس نے اپنے غلام کو اپنے پیچھے سواری پر سوار کرلیا تھا۔
فرماتے ہیں : حضرت عمر اور عثمان بھی اپنے ساتھ (غلاموں کو) سوار کرتے ، میں نے ان سے کہا : کیا تواضع کے ارادے سے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں ، اور پیدل چلنے والے کو سوار کرنے کی تلاش تاکہ وہ اپنے علاوہ دوسرے بادشاہوں کی طرح نہ ہوں پھر انھوں نے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں نے پیدا کردی ہیں، کہ (بادشاہ) لوگ ان کے پیچھے چلیں اور وہ خود سوار ہوں ، آپ اسے لوگوں کے لیے عیب جانتے۔ (بیھقی الشعب)
تو کوئی بھی ایسا نہ بچتا کہ اس نے اپنے غلام کو اپنے پیچھے سواری پر سوار کرلیا تھا۔
فرماتے ہیں : حضرت عمر اور عثمان بھی اپنے ساتھ (غلاموں کو) سوار کرتے ، میں نے ان سے کہا : کیا تواضع کے ارادے سے ؟ تو انھوں نے فرمایا : ہاں ، اور پیدل چلنے والے کو سوار کرنے کی تلاش تاکہ وہ اپنے علاوہ دوسرے بادشاہوں کی طرح نہ ہوں پھر انھوں نے ان باتوں کا ذکر کیا جو لوگوں نے پیدا کردی ہیں، کہ (بادشاہ) لوگ ان کے پیچھے چلیں اور وہ خود سوار ہوں ، آپ اسے لوگوں کے لیے عیب جانتے۔ (بیھقی الشعب)
8510- عن ابن وهب قال: حدثني مالك عن عمه عن أبيه: أنه رأى عمر وعثمان إذا قدما من مكة ينزلان بالمعرس، فإذا ركبوا ليدخلوا المدينة لم يبق منهم أحد إلا أردف غلاما فدخلوا المدينة على ذلك، قال: وكان عمر وعثمان يردفان، فقلت له: إرادة التواضع؟ قال: نعم والتماس حمل الراجل لئلا يكونوا كغيرهم من الملوك، ثم ذكر ما أحدث الناس من أن يمشوا غلمانهم خلفهم، وهم ركبان ويعيب ذلك عليهم. "هب".
توسيد الأمر إلى أهله
توسيد الأمر إلى أهله
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کام کے اہل کو کام سونپنا
٨٥١١۔۔۔ حضرت طلق بن علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم لوگ مدینہ کی مسجد کی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مل کر تعمیر کررہے تھے آپ نے فرمایا : گارے کے قریب یمامی رکھو کیونکہ وہ تم سے زیادہ اچھے طریقہ سے اسے چھوتا ہے اور تم سب سے زیادہ اس کے مضبوط بازو ہیں۔ (ابونعیم فی المعرفۃ مربرقم، ٥٧١٦)
8511- عن طلق بن علي: بنينا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في مسجد المدينة، فقال: قربوا اليمامي من الطين، فإنه من أحسنكم له مسا، وأشدكم له ساعدا. أبو نعيم في المعرفة. مر برقم [5716] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ توکل وبھروسا
٨٥١٢۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتے ہے : میری جو مخلوق میرے علاوہ کسی دوسری مخلوق پر بھروسہ کرے، تو میں اس کے سامنے آسمانوں وزمینوں کے دروازے کاٹ دیتا ہوں ، وہ اگر مجھے پکارے تو میں اسے جواب نہیں دیتا ، مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عطا نہیں کرتا۔
اور میری جو مخلوق کے علاوہ مجھ پر بھروسہ کرے تو میں آسمان کو اس کے رزق کا ضامن بنادیتا ہوں ، پھر اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عنا کروں ، مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں اور اگر مجھ سے مغفرت طلب کرے توچ اسے بخش دوں۔ (العسکری)
اور میری جو مخلوق کے علاوہ مجھ پر بھروسہ کرے تو میں آسمان کو اس کے رزق کا ضامن بنادیتا ہوں ، پھر اگر وہ مجھ سے سوال کرے تو میں اسے عنا کروں ، مجھ سے دعا کرے میں اس کی دعا قبول کروں اور اگر مجھ سے مغفرت طلب کرے توچ اسے بخش دوں۔ (العسکری)
8512- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يقول الله عز وجل: ما من مخلوق يعتصم بمخلوق دوني إلا قطعت أبواب السماء والأرض دونه، فإن دعاني لم أجبه، وإن سألني لم أعطه، وما من مخلوق يعتصم بي دون خلقي إلا ضمنت السموات رزقه، فإن سألني أعطيته، وإن دعاني أجبته، وإن استغفرني غفرت له. العسكري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ توکل وبھروسا
٨٥١٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں لوگو ! اللہ تعالیٰ پر توکل کرو، اور اسی پر بھروسا رکھو، کیونکہ وہ اپنے علاوہ سب سے کافی ہے۔ ( ابن ابی الدنیا فی التوکل)
8513- عن علي قال: يا أيها الناس توكلوا على الله، وثقوا به فإنه يكفي ممن سواه. ابن أبي الدنيا في التوكل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ توکل وبھروسا
٨٥١٤۔۔۔ (حبہ اور سواء جو خالد کے بیٹے ہیں ) سلام بن شرحبیل سے روایت ہے کہ انھوں نے حبہ اور سواء خالد کے بیٹوں کو دیکھا کہ وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ اس وقت ایک دیوار یا عمارت بنا رہے تھے ان دونوں حضرات نے آپ کی اعانت کی، آپ نے فرمایا : جب تک تمہارے سرحرکت کرتے ہیں اس وقت رک رزق سے مایوس نہ ہونا، اس واسطے بچہ سرخ رنگ میں پیدا ہوتا ہے اس پر چھلکا تک نہیں ہوتا پھر بھی اللہ تعالیٰ اسے رزق دیتا ہے۔ (ابونعیم)
8514- "حبة وسواء ابني خالد" عن سلام بن شرحبيل أنه سمع حبة وسواء ابني خالد أنهما أتيا النبي صلى الله عليه وسلم وهو يعالج حائطا أو بناء له فأعاناه عليه، فقال: لا تيأسا من الرزق ما اهتزت رؤسكما، إن المولود يولد أحمر ليس عليه قشر، ثم يرزقه الله عز وجل. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھا گمان
٨٥١٥۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے پوچھا گیا : کہ حسن ظن کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی امید نہ رکھو۔ اور اپنے گناہ کے علاوہ تمہیں کسی چیز کا اندیشہ نہ ہو۔ ( الدینوری)
8515- "عن علي رضي الله عنه" أنه سئل عن حسن الظن فقال: من حسن الظن أن لا ترجو إلا الله، ولا تخاف إلا ذنبك. الدينوري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھا گمان
٨٥١٦۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم لوگوں میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کھڑے ہو کر فرمایا : لوگو ! اپنے رب کے بارے اچھا گمان رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے گمان کے مطابق معاملہ کرتے ہیں۔ (ابن ابی الدنیا النجار)
8516- عن أبي هريرة قال: قام فينا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أحسنوا يا أيها الناس برب العالمين الظن، فإن الرب عند ظن عبده به. ابن أبي الدنيا وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بردبادی، برداشت
٨٥١٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو پتھر اٹھا رہے تھے آپ نے فرمایا : تم میں سے مضبوط وہ شخص ہے جو غصہ پر زیادہ قابو پالے اور سب سے بردباروہ شخص ہے جو قدرت کے باوجود معاف کردے ۔ (العسکری فی الامثال وھوحسن)
8517- عن علي رضي الله عنه قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم على قوم يرفعون حجرا، فقال: إن أشدكم أملككم عند الغضب، وأحلمكم من عفا بعد قدرة. العسكري في الأمثال. وهو حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شرم وحیا
٨٥١٨۔۔۔ (الصدیق (رض)) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہے حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے حیا کرو کیونکہ میں جب قضائے حاجت کیلئے جاتا ہوں تو اپنا سر اللہ تعالیٰ سے حیا کی وجہ سے جھکالیتا ہوں۔ سفیان
8518- "الصديق رضي الله عنه" عن عائشة قالت: قال أبو بكر الصديق: استحيوا من الله، فإني لأدخل الخلاء فأقنع رأسي حياء من الله عز وجل. سفيان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شرم وحیا
٨٥١٩۔۔۔ اوس بن ابی بن مندہ تاریخ اصفہان میں نقل کرتے ہیں کہ مجھے محمد بن محمد بن سہل، ان سے ابراہیم بن عبداللہ بن حاتم نے بیان کیا، فرماتے ہیں : میں نے اپنے والد سے سنا فرماتے ہیں : میں نے (خلیفہ) مامون کو خطبہ دیتے ہوئے سنا : انھوں نے کہا : لوگو ! میں تمہیں حیا کا حکم دیتا ہوں اور اس پر ابھارتا ہوں کیونکہ ھیشم بن بشیر بواسطہ یونس حضرت بصری سے انھوں حضرت ابوبکرۃ (رض) سے نقل کیا : کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو سنا جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے نصیحت کررہا تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اسے چھوڑ دو و کیونکہ حیا ایمان کا جزو ہے اتنے میں ان کے سامنے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا : امیرالمومنین مجھ سے ھشیم نے ایسا ہی بیان کیا جیسا آپ سے بواسطہ یونس، حضرت حسن بصری بیان کیا ہے، وہ عمران بن حصین سے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں تو مامون نے اس سے کہا : اللہ کی قسم ! مجھ سے ھشیم نے یونس، حبیب اور منصور سے انھوں نے حسن بصری سے انھوں نے حضرت عمران بن حصین، ابوبکرۃ اور سمرۃ بن جندب (رض) سے اور اس شخص سے جو زمین کے اٹھنے والوں میں سب سے یعنی علی بن ابی طالب سے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سنا ایک شخص اپنے بھائی کو حیا کے بارے نصیحت کررہا تھا۔
تشریح :۔۔۔ آج کا تاریخ دان طبقہ اس وقت کے بادشاہوں کو بےساختہ ظالم جابر، بےدین اور ملحد کہہ دیتا ہے جبکہ آج کے اور اس وقت کے بادشاہوں میں بہت زیادہ فرق ہے، آج کے دور کے بادشاہوں کی حالت دیکھ سابقہ لوگوں کو اس پر قیاس کیا جاتا ہے جو سراسر غلط اور بےبنیاد اصول ہے۔
تشریح :۔۔۔ آج کا تاریخ دان طبقہ اس وقت کے بادشاہوں کو بےساختہ ظالم جابر، بےدین اور ملحد کہہ دیتا ہے جبکہ آج کے اور اس وقت کے بادشاہوں میں بہت زیادہ فرق ہے، آج کے دور کے بادشاہوں کی حالت دیکھ سابقہ لوگوں کو اس پر قیاس کیا جاتا ہے جو سراسر غلط اور بےبنیاد اصول ہے۔
8519- أوس بن أبي أوفى بن منده في تاريخ أصبهان: أخبرني محمد بن محمد بن سهل: ثنا إبراهيم بن عبد الله بن حاتم: سمعت أبي يقول: سمعت المأمون يخطب، فكان في خطبته أن قال: يا أيها الناس، إني آمركم في الحياء، وأحضكم عليه، فإن هشيم بن بشير حدثني عن يونس عن الحسن عن أبي بكرة أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يعظ أخاه في الحياء، فقال: صلى الله عليه وسلم: دعه فإن الحياء من الإيمان، فقام إليه رجل فقال: يا أمير المؤمنين ثنا هشيم كما حدثك عن يونس عن الحسن عن عمران بن حصين، عن النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له المأمون: حدثني والله هشيم عن يونس وحبيب ومنصور عن الحسن عن عمران بن حصين وأبي بكرة وسمرة بن جندب، ومن هو خير من طلاع الأرض منهم، علي بن أبي طالب أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يعظ أخاه في الحياء.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شرم وحیا
٨٥٢٠۔۔۔ محمد بن ابی السری المتوکل عسقلانی، بکربن بشرالسملی سے وہ عبدالحمید بن سوار سے وہ ایاس بن معاویہ بن قرۃ سے وہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں : ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے، آپ کے سامنے حیا کا تذکرہ ہوا، لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا حیا دین کا جزو ہے ؟ آپ نے فرمایا : بلکہ سراپادین ہے پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حیاء پاکدامنی، اور زبان کی بندش نہ کہ دل کی بندش اور عمل ایمان کے اجراء ہیں یہ آخرت میں اس سے زیادہ بڑھ جاتی ہیں جتنی یہ دنیا میں کم ہوتی ہیں۔
بخل ، فحش گوئی اور بےہودہ گوئی نفاق کا اجزا ہیں، یہ دنیا میں بڑھتی ہیں اور آخرت میں دنیا کی نسبت زیادہ کم ہوجاتی ہیں۔
(الحسن ابن سفیان و یعقوب بن سفیان ، طبرانی فی الکبیر و ابوالشیخ ، حلیۃ الاولیاء والدیلمی ، ابن عساکر قال فی المغنی عبدالحمید بن سوار ضعیف وبکر بن بشر مجھول ومحمد بن ابی السری لہ مناکیر ومربرقم : ٥٧٨٧)
بخل ، فحش گوئی اور بےہودہ گوئی نفاق کا اجزا ہیں، یہ دنیا میں بڑھتی ہیں اور آخرت میں دنیا کی نسبت زیادہ کم ہوجاتی ہیں۔
(الحسن ابن سفیان و یعقوب بن سفیان ، طبرانی فی الکبیر و ابوالشیخ ، حلیۃ الاولیاء والدیلمی ، ابن عساکر قال فی المغنی عبدالحمید بن سوار ضعیف وبکر بن بشر مجھول ومحمد بن ابی السری لہ مناکیر ومربرقم : ٥٧٨٧)
8520- عن محمد بن أبي السري المتوكل العسقلاني، عن بكر بن بشر السلمي، عن عبد الحميد بن سوار، عن إياس بن معاوية بن قرة عن أبيه عن جده، قال: كنا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم، فذكر عنده الحياء فقالوا: يا رسول الله الحياء من الدين؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: بل هو الدين كله، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الحياء والعفاف والعي عي اللسان لا عي القلب والعمل من الإيمان، وإنهن يزدن في الآخرة أكثر مما ينقصن من الدنيا، وإن الشح والفحش والبذاء من النفاق، وإنهن يزدن في الدنيا، وينقصن من الآخرة أكثر مما يزدن في الدنيا. الحسن بن سفيان ويعقوب بن سفيان "طب" وأبو الشيخ "حل" والديلمي "كر" قال في المغني عبد الحميد بن سوار ضعيف، وبكر بن بشر مجهول ومحمد ابن أبي السري له مناكير. ومر برقم/5787/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شرم وحیا
٨٥٢١۔۔۔ آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک انصاری کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیا کے بارے نصیحت کررہے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اسے رہنے دو کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (ابن عساکر وقال : المحفوظ حدیث الزھری عن سالم عن ابیہ مربرقم : ٥٧٨٢)
8521- "أبو هريرة رضي الله عنه" عن الأوزاعي: عن قرة بن عبد الرحمن عن أبي سلمة عن أبي هريرة قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل من الأنصار، وهو يعظ أخاه في الحياء، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: دعه فإن الحياء من الإيمان. "كر" وقال: المحفوظ حديث الزهري عن سالم عن أبيه. مر برقم /5782/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پوشیدگی وگمنامی
٨٥٢٢۔۔۔ (مسندعلی (رض)) حضرت حسن بصری سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے فرمایا : خوشخبری ہے ہر گمنام بندے کے لیے، جو لوگوں کو پہنچانتا ہے اور اللہ تعالیٰ رضا مندی سے نہیں مشہور کرتے، یہی لوگ ہدایت کے چراغ ، یہ نہ خبریں پھیلانے والے ہیں اور نہ زیادہ گفتگو کرنے والے ہیں نہ سخت مزاج اور دکھلاوا کرنے والے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں ہر تاریک گھیر لینے والے فتنہ سے نجات دے دیتے ہیں۔ (ھناد ، الحلیۃ، بیھقی ابن عساکر)
8522- "مسند علي رضي الله عنه" عن الحسن قال: قال علي: طوبى لكل عبد نومة1 يعرف الناس ولا يعرفه الله برضوان، أولئك مصابيح الهدى، ليس بالمذاييع ولا بالبذر ولا بالجفاة المرائين، ينجيهم الله من كل فتنة غبراء مظلمة. هناد "حل هب كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٣۔۔ (الصدیق (رض)) عرفجہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جو روسکتا ہو رولے اور جسے رونانہ آئے وہ رونے کی شکل بنالے، یعنی تضرع و عاجزی کرے (ابن المبارک ، مسند احمد فی الزھدوھناد، بیھقی فی السنن)
8523- "الصديق رضي الله عنه" عن عرفجة قال: قال أبو بكر من استطاع أن يبكي فليبك، ومن لم يستطع فليتباك، يعني التضرع. ابن المبارك "حم" في الزهد وهناد "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٤۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا : کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے نرمی کی آیت کا ، سختی کی آیت کے ساتھ ذکر ہے اور سختی کی آیت کا نرمی کی آیت کے ساتھ ذکر کیا ہے ؟ تاکہ مومن رغبت اور خوف رکھنے والا ہو اور ناحق اللہ تعالیٰ سے امید نہ رکھے اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔ (ابوالشیخ)
8524- عن الحسن أن أبا بكر الصديق قال: ألم تر أن الله ذكر آية الرخاء عند آية الشدة، وآية الشدة عند آية الرخاء؟ ليكون المؤمن راغبا راهبا، لا يتمنى على الله غير الحق، ولا يلقي بيده إلى التهلكة. أبو الشيخ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٥۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تم میں سے جب کوئی روئے تو اپنے آنسو نہ پونچھے بلکہ انھیں رخسار پر بہتے چھوڑ دے اور اسی حالت میں اللہ تعالیٰ سے ملے۔ (بیھقی فی السنن)
8525- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: إذا بكى أحدكم من خشية الله فلا يمسح دموعه، وليدعها تسيل على خديه يلقى الله بها. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٦۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک نوجوان شخص تھا جو جہنم کے تذکرہ پر روپڑتا تھا، یہاں تک کہ اس حالت نے اسے گھر میں روک لیا (یعنی بیمار پڑگیا) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا آپ اس کے پاس تشریف لے گئے جب اس نوجوان نے آپ کو دیکھا تو (فوراً ) اٹھ کھڑا ہوا اور آپ کے گلے سے لگ کر فوت ہو کر گرپڑا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے دوست کی تجہیز وتکفین کرو ! کیونکہ جہنم کے خوف نے اس کا جگر بھاڑدیا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اللہ تعالیٰ نے اسے اس سے پناہ دے دی ہے، جو کسی چیز کی امید کرتا ہے اسے طلب کرتا ہے اور جو جس چیز سے خوف رکھتا ہے اس سے بھاگتا ہے۔ (ابن ابی الدنیا والموفق بن قدامۃ فی کتاب البکاء والرقد)
8526- عن حذيفة قال: كان شاب على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم يبكي عند ذكر النار، حتى حبسه ذلك في البيت، فذكر ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم، فأتاه النبي صلى الله عليه وسلم، فلما نظر إليه الشاب قام فاعتنقه وخر ميتا فقال النبي صلى الله عليه وسلم: جهزوا صاحبكم فإن الفرق من النار فلذ كبده، والذي نفسي بيده لقد أعاذه الله منها، من رجا شيئا طلبه، ومن خاف من شيء هرب منه. ابن أبي الدنيا والموفق بن قدامة في كتاب البكاء والرقة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٧۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) بیمار ہوگئے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے، آپ نے فرمایا : عمرکیسی حالت ہے ؟ حضرت عمرنے عرض کیا : امید بھی ہے اور خوف بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس مومن کے دل میں خوف اور امید جمع ہوگئے اللہ تعالیٰ اسے اس کی امید عطا کریں گے اور خوف سے امن بخشیں گے۔ (بیھقی فی الشعب)
8527- عن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب اشتكى، فدخل عليه النبي صلى الله عليه وسلم يعوده، فقال: كيف تجدك يا عمر؟ قال أرجو وأخاف فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما اجتمع الرجاء والخوف في قلب المؤمن إلا أعطاه الله الرجاء وآمنه الخوف. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٨۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے انھوں نے اپنے بیٹے سے کہا : بیٹا جانتے ہو کمترین لوگ کون ہیں ؟ اس نے جواب دیا، جو کم درجہ ہیں آپ نے فرمایا : وہ شخص ہے جو اللہ تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ۔ (بیھقی فی الشعب)
8528- عن أنس أنه قال لبنيه: يا بني أتدري ما السفلة1؟
فقال: السفلة، قال: الذي لا يخاف الله عز وجل. "هب".
فقال: السفلة، قال: الذي لا يخاف الله عز وجل. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٢٩۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا وہ اپنے رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں : مجھے اپنی عزت کی قسم میں اپنے بندے پر دو امن نہیں جمع کروں گا جب وہ مجھ سے خوفزدہ ہوگا میں اسے قیامت کے روزبےخوف کردوں گا، اور جب دنیا میں مجھ سے بےخوف رہا تو آخرت میں اسے خوفزدہ کروں گا۔ (ابن النجار)
8529- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يروي عن ربه عز وجل: وعزتي لا أجمع على عبدي خوفين، ولا أمنين: إذا خافني في الدنيا آمنته يوم القيامة، وإذا آمنني في الدنيا أخفته يوم القيامة. ابن النجار.
তাহকীক: