কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৫৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خوف وامید
٨٥٣٠۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے ہاتھوں نے جو کیا اس کیوجہ سے اللہ تعالیٰ میرا مواخذہ فرمائیں تو مجھے ہلاک کردیں۔ (بیھقی فی الشعب وقال غریب تفردبہ محمد بن سھل بن عساکر فیما اعلم)
8530- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لو يؤاخذني الله بما جنت هؤلاء - يعني يديه - لأوبقني "هب" وقال غريب تفرد به محمد بن سهل بن عسكر فيما أعلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا خوف
٨٥٣١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک درخت پر ایک پرندہ بیٹھا دیکھا، آپ نے فرمایا : اے پرندے تو خوش رہے درختوں پر بیٹھتا ہے اور پھل کھاتا ہے اور تجھے کوئی حساب نہیں دینا۔ (حاکم فی تاریخہ والدیلمی)
8531- عن أنس رضي الله عنه قال: رأى النبي صلى الله عليه وسلم طيرا على شجرة، فقال: طوبى لك يا طير، تقع على الشجر، وتأكل من الثمر، وتصير إلى غير حساب. "ك" في تاريخه والديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا خوف
٨٥٣٢۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو شخص بھی اپنے ایمان کے بارے بےخوف اور مطمئن ہوا تو وہ اس سے چھن گیا۔ (ابن عساکر)
8532- عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: ما أمن أحد على إيمانه إلا سلبه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ آخرت کا خوف
٨٥٣٣۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : کاش میں اپنے گھر والوں کا مینڈھا ہوتا ، اور پھر ان کے ہاں کوئی مہمان آتا ہے تو یہ میری رگیں کاٹ دیتے خود بھی کھاتے اور (مہمانوں کو بھی) کھلاتے ۔ (ابن عساکر)
8533- عن أبي الدرداء قال: لوددت أني كبش لأهلي، فمر عليهم ضيف فأمروا على أوداجي2 فأكلوا وأطعموا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یتیم پر مہربانی
٨٥٣٤۔۔۔ (ابن عباس (رض)) صالح الناجی سے روایت فرماتے ہیں : میں محمد بن سلمان بصرہ کے گورنر کے پاس تھا، پس اس نے کہا : مجھ سے میرے والد نے میرے جداکبر یعنی ابن عباس سے بیان کیا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یتیم کے سر پر اس طرح آگے کی طرف ہاتھ پھیرا کرو اور جس کا باپ (زندہ) ہو اس کے سر اس طرح پیچھے کی طرف ہاتھ پھیرا کرو۔ ( خطیب وقال لا یحفظ لمحمد بن سلیمان بن سلیمان غیرہ، ابن عساکر)
8534- "ابن عباس رضي الله عنه" عن صالح الناجي قال: كنت عند محمد بن سليمان أمير البصرة، فقال: حدثني أبي عن جدي الأكبر يعني ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: امسح رأس اليتيم هكذا إلى مقدم رأسه، ومن كان له أب هكذا إلى مؤخره. "خط" وقال لا يحفظ لمحمد بن سليمان غيره "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یتیم پر مہربانی
٨٥٣٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحم کرے جو کسی یتیم کو ناقہ تجارت کے لیے دے۔ (بیھقی فی الشعب)
8535- عن عمر قال: رحم الله امرءا أتجر على يتيم بلطمة1. "ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یتیم پر مہربانی
٨٥٣٦۔۔۔ شمیسہ سے روایت ہے فرماتی ہیں : میں نے حضرت عائشہ (رض) سے یتیم کی تربیت کے بارے میں پوچھا، آپ نے فرمایا : ان میں کوئی اپنے یتیم کو مارتا یہاں تک کہ اس کی جسمانی اور اخلاقی اصلاح ہوجاتی تھی۔ (ابن جریر)
8536- عن شميسة قالت: سألت عائشة عن أدب اليتيم؟ فقالت: إن كان أحدهم ليضرب يتيمه حتى ينبسط2. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا مندی
٨٥٣٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے : فرماتے ہیں مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ میں جیسے کیسے بھی رہوں ، خوشی کی حالت میں یا ناخوشی میں ، کیونکہ جو چیزیں مجھے پسند ہیں یا ناپسند مجھے ان کے بارے بھلائی کا علم نہیں۔ (ابن ابی الدنیا فی الفرج والعسکری فی المواعظ وسلیم الرازی فی عوالیہ ولفظہ : انی لا ادری فی ابتھما الخیرۃ)
8537- عن عمر رضي الله عنه قال: ما أبالي على أي حال أصبحت على ما أحب أو على ما أكره، لأني لا أدري الخير فيما أحب أو فيما أكره. ابن المبارك وابن أبي الدنيا في الفرج والعسكري في المواعظ وسليم الرازي في عواليه ولفظه: أني لا أدري في أيتهما الخيرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا مندی
٨٥٣٨۔۔۔ حضرت حسن بن علی (رض) سے روایت ہے کسی نے ان سے کہا : کہ ابوذر (رض) کہتے ہیں : مجھے فقر غنا (مالداری) سے (اور) بیماری ، صحت سے زیادہ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوذر پر رحم فرمائے ! جہاں تک میرا معاملہ ہے تو میں کہتا ہوں ، کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے اچھے اختیار پر بھروسہ پسند ہے، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ابوذرپر رحم فرمائے ! جہاں تک میرا معاملہ ہے تو میں کہتا ہوں ، کہ جس نے اللہ تعالیٰ کے اچھے پر بھروسا کرلیا تو اسے اس کی تمنا نہ ہوگی کہ وہ اللہ تعالیٰ کی پسند کردہ حالت کے علاوہ میں ہے ، اور یہ قضا کے تصرف سے رضا پر ٹھہرنے کی حد ہے۔ (ابن عساکر)
8538- عن الحسن بن علي أنه قيل له: إن أبا ذر يقول: الفقر أحب إلي من الغنى، والسقم أحب إلي من الصحة، فقال: رحم الله أبا ذر، أما أنا فأقول: من اتكل على حسن اختيار الله له لم يتمن أنه في غير الحالة التي اختار الله له: وهذا حد الوقوف على الرضا بما تصرف به القضاء. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا مندی
٨٥٣٩۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کی نافذ شدہ پر راضی رہا تو اسے اجر ملے گا، اور جو اللہ تعالیٰ کی جاری کردہ قضاپرراضی نہ ہوا تو اس کا عمل برباد ہوا۔ (ابن عساکر)
8539- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: من رضي بقضاء الله جرى عليه، وكان له أجر، ومن لم يرض بقضاء الله جرى وحبط عمله. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کے فیصلوں پر رضا مندی
٨٥٤٠۔۔۔ حضرت (عبادۃ بن صامت (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! سن سے افضل عمل کونسا ہے ؟ آپ نے فرمایا : صبر (چشم پوشی) اور سخاوت اس نے کہا : میں ان سے بھی افضل عمل کا طالب ہوں ، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے فیصلہ میں اس پر کوئی تہمت نہ رکھو۔ (بیھقی فی الشعب)
8540- "عبادة بن الصامت رضي الله عنه" عن عبادة بن الصامت قال: قال رجل: يا رسول الله، أي العمل أفضل؟ قال الصبر والسماحة، قال: أريد أفضل من ذلك؟ قال: لا تتهم الله في شيء من قضائه.

"هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیدو دنیا سے بےرغبتی
٨٥٤١۔۔۔ (الصدیق (رض)) ابوضمرہ یعنی ابن حبیب ابن ضمرہ سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر کے ایک بیٹے پر جان کنی کا عالم تھا، وہ نوجوان کی طرف دیکھنے لگا، جب اس کی وفات ہوگئی تو لوگوں نے حضرت صدیق اکبر سے کہا : ہم نے آپ کے فرزند کو دیکھا وہ تکیہ کی طرف دیکھ رہے تھے، انھوں نے تکیہ اٹھایا تو اس کے نیچے پانچ یا چھ دینار پائے۔ حضرت ابوبکر اپنا ہاتھ مل کر کہنے لگے، اناللہ وانا الیہ راجعون، مجھے اس کا گمان نہیں کہ تمہاری کھال اس کی وسعت رکھے گی۔ ( مسند احمد، فی الزھد، حلیۃ الاولیاء، ولہ حاکم الرفع، لانہ اخبار عن حال البررخ)
8541- "الصديق رضي الله عنه" عن أبي ضمرة يعني ابن حبيب بن ضمرة قال: حضرت الوفاة ابنا لأبي بكر، فجعل الفتى ينظر إلى وسادة فلما توفي قالوا لأبي بكر: رأينا ابنك يلحظ إلى الوسادة، فرفعوا عن الوسادة، فوجدوا تحتها خمسة دنانير، أو ستة دنانير، فضرب أبو بكر بيده على الأخرى يرجع يقول: إنا لله وإنا إليه راجعون، ما أحسب جلدك يتسع لها. "حم" في الزهد "حل" وله حكم الرفع، لأنه إخبار عن حال البرزخ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیدو دنیا سے بےرغبتی
٨٥٤٢۔۔۔ عبدالرحمن بن جبیر بن نفیر سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے جب شام کی طرف لشکر روانہ کیے تو ان سے فرمایا : تم لوگ شام جارہے ہو اور وہ کشادہ زمین ہے، اور اللہ تعالیٰ تمہیں قدرت دینے والا ہے، یہاں تک کہ تم اس میں مساجد بناؤ، تمہارے حال سے اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات نہ آئے کہ تم وہاں لہولعب کے لیے جارہے ہو اور عیش پرستی سے بچنا۔ (ابن المبارک)
8542- عن عبد الرحمن بن جبير بن نفير أن أبا بكر لما جهز الجيوش إلى الشام قال لهم: إنكم تقدمون الشام، وهي أرض سبيعة وإن الله ممكنكم، حتى تتخذوا فيها مساجد، فلا يعلم الله أنكم إنما تأتونها تلهيا، وإياكم والأسرة. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیدو دنیا سے بےرغبتی
٨٥٤٣۔۔۔ اسماعیل بن محمد سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر نے لوگوں میں مال تقسیم کیا اور اسے برابر رکھا، کسی نے کہا : اے خلیفہ رسول آپ اصحاب بدر اور دوسرے لوگوں میں برابری کا معاملہ کررہے ہیں ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : دنیا آخرت تک پہنچنے کا ذریعہ ہے اور بہترین ذریعہ درمیانہ ہوتا ہے اور ان میں فضیلت ان کے اجر کے اعتبار سے ہے۔

(مسند احمد فی الزھد)
8543- عن إسماعيل بن محمد أن أبا بكر قسم قسما فسوى فيه بين الناس، فقال له: يا خليفة رسول الله تسوي بين أصحاب بدر وسواهم من الناس؟ فقال أبو بكر: إنما الدنيا بلاغ، وخير البلاغ أوسطه وإنما فضله في أجورهم. "حم" في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیدو دنیا سے بےرغبتی
٨٥٤٤۔۔۔ ابوبکر بن محمد انصاری سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر سے کسی نے کہا : اے خلیفہ رسول ! آپ اہل بدر کو حکومت کے کاموں میں کیوں شریک نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے ان کا مقام معلوم ہے میں دنیا کے ذریعہ انھیں میلا نہیں کرنا چاہتا۔ ( الحلیۃ ورواہ ابن عساکر عن الزھری)
8544- عن أبي بكر بن محمد الأنصاري أن أبا بكر قيل له يا خليفة رسول الله، ألا تستعمل أهل بدر؟ قال: إني أرى مكانهم، ولكني أكره أن أدنسهم بالدنيا. "حل" ورواه "كر" عن الزهري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیدو دنیا سے بےرغبتی
٨٥٤٥۔۔۔ حضرت حسن سے روایت ہے کہ حضرت سلمان فارسی صدیق اکبر کی مرض وفات میں ان کے پاس آئے، آپ نے حضرت صدیق سے کہا : اے خلیفہ رسول ! مجھے کوئی وصیت کریں ! تو حضرت ابوبکر نے فرمایا : اللہ تعالیٰ دنیا (کے دروازے) تم پر کھولنے والا ہے لہٰذا تم میں ہرگز کوئی بھی ضرورت سے زائد دنیا نہ لے۔ ( الدینوری)
8545- عن الحسن أن سلمان الفارسي أتى أبا بكر الصديق في مرضه الذي مات فيه، فقال أوصني يا خليفة رسول الله، فقال أبو بكر: إن الله فاتح عليكم الدنيا، فلا يأخذن منها أحد إلا بلاغا. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٤٦۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ان کے پاس حضرت عمر تشریف لائے اور میں اس وقت دسترخوان پر تھا ان کے لیے مجلس کے صدر مقام کو کشادہ کردیا گیا، آپ نے فرمایا : اللہ کے نام سے جس کے ہاتھ میں (سب کچھ) ہے پھر ایک لقمہ لیا، اور اس کے ساتھ دوسرا ملایا، فرمایا : مجھے یہ کھانا روغنی معلوم ہوتا ہے، جبکہ وہ گوشت کا روغن نہیں ہے۔

تو عبداللہ بن عمر نے عرض کیا : امیر المومنین ! میں بازار موٹا گوشت لینے گیا وہ مہنگا تھا، تو ایک درھم کا ذراکم درجہ گوشت خرید لیا اور اس پر ایک درہم کا گھی ڈلوالیا، آپ نے فرمایا تم میرے لیے ایک ایک ہڈی لوٹانا چاہتے ہو، پھر فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جب بھی دوکھانے جمع ہوئے آپ نے ایک کھالیا اور دوسرا صدقہ کردیا، تو حضرت عبداللہ نے عرض کیا : اب کھالیں ! امیر المومنین ! اب جب بھی میرے پاس دوکھانے جمع ہوں گے میں ایسا ہی کروں کا حضرت عمر نے فرمایا : میں تو (ابھی ) کرنے والا ہوں۔ (ابن ماجہ)
8546- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر أنه دخل عليه عمر وهو على مائدته، فأوسع له عن صدر المجلس، فقال: بسم الله بيده، فلقم لقمة، ثم ثنى بأخرى، ثم قال: إني أجد طعاما دسما، وما هو بدسم اللحم، فقال عبد الله: يا أمير المؤمنين، إني خرجت إلى السوق أطلب السمين لأشتريه فوجدته غاليا، فاشتريت بدرهم من المهزول وحملت عليه بدرهم سمنا، فقال أردت أن تردد لي عظما عظما، فقال ما اجتمعا عند رسول الله صلى الله عليه وسلم قط، إلا أكل أحدهما، وتصدق بالأخر، فقال عبد الله: خذ يا أمير المؤمنين، فلن يجتمعا عندي إلا فعلت ذلك، قال: ما كنت لأفعل. "هـ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٤٧۔۔۔ حضرت سفیان سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر نے ابوموسیٰ اشعری کی طرف لکھا تم آخرت کے عمل کو دنیا سے بےرغبتی جیسی افضل چیز سے ہی حاصل کرسکتے ہو۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد فی الزھد)
8547- عن سفيان قال: كتب عمر إلى أبي موسى الأشعري، إنك لن تنال عمل الآخرة بشيء أفضل من الزهد في الدنيا. "ش حم" في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٤٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : حمام میں بکثرت نہانے، (جسم کو نرم کرنے کے لیے ) چونا ملنے اور ( نرم ) بستروں پر تکیہ لگانے سے بچو کیونکہ اللہ تعالیٰ کے بندے عیش پرست نہیں ہوتے۔ ( ابن المبارک فی الزھد)
8548- عن عمر قال: إياكم وكثرة الحمام وكثرة إطلاء النورة والتوطيء على الفراش، فإن عباد الله ليسوا بالمتنعمين. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٤٩۔۔۔ حضرت عمر سے روایت ہے فرمایا : اے مہاجرین کی جماعت ! دنیاداروں کے پاس مت جایا کرو کیونکہ یہ رب تعالیٰ کی ناراضگی کا باعث ہے۔ (ابن المبارک)
8549- عن عمر قال: يا معشر المهاجرين لا تدخلوا على أهل الدنيا فإنها سخطة للرب. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক: