কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৫৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٥٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : دنیا سے بےرغبتی ، قلب وجسم کی راحت ہے (ابن المبارک
8550- عن عمر قال: الزهادة في الدنيا راحة القلب والجسد. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٥١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں :(پسے) آٹے کو مت چھانا کرو کیونکہ یہ سارے کا سارا اناج ہے۔ (ابن المبارک)
8551- عن عمر قال: لا تنخلوا الدقيق، فإنه طعام كله. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٥٢۔۔۔ شفیق سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عممر (رض) نے لکھا ، بیشک دنیا سبز اور میٹھی ہے جس نے اسے صحیح طریقہ سے لیا تو وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اسے اس میں برکت دی جائے، اور جس نے اسے ناحق حاصل کیا تو اس شخص کی مانند ہے جو ( جوع البقر) کہ کھاتا جائے اور سیر نہ ہو۔ جیسی بیماری میں مبتلا ہو (مصنف ابن ابی شیبہ وابو القاسم بن بشران فی امالیہ
8552- عن شقيق قال: كتب عمر إن الدنيا خضرة حلوة، فمن أخذها بحقها كان قمنا أن يبارك فيها، ومن أخذها بغير ذلك كان كالآكل الذي لا يشبع. "ش" وأبو القاسم بن بشران في أماليه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٥٣۔۔۔ ابراہیم نم عبدالرحمن بن عوف وغیرہ حضرات سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے سامنے کسریٰ کے خزانے لائے گئے، تو سونے چاندی کے اتنے ڈھیر تھے کہ نظرحیران ہوجاتی تھی، اس وقت حضرت عمر (رض) آبدیدہ ہوگئے، عبدالرحمن نے کہا : امیرالمؤمین آپ کیوں روپڑے ؟ آج کا دن تو خوشی ، سرور اور شکر کا دن ہے، حضرت عمر نے فرمایا : جس قوم کے پاس ان کی کثرت ہوئی اللہ تعالیٰ نے ان کے درمیان (آپس میں ) بغض و عداوت رکھ دی۔ (مصنف ابی شیبہ ، مسند احمد فی الزھد، ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ حضرت عمر صاحب فراست مشہور تھے چنانچہ آپ کی یہ پیش گوئی برحق ثابت ہوئی
8553- عن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف وغيره، لما أتي إلى عمر بكنوز كسرى، فإذا من الصفراء والبيضاء ما يكاد يحار منه البصر فبكى عمر عند ذلك، فقال عبد الرحمن: ما يبكيك يا أمير المؤمنين؟ إن هذا اليوم ليوم شكر وسرور وفرح، فقال عمر: ما كثر هذا عند قوم إلا ألقى الله بينهم العداوة والبغضاء. "ش حم" في الزهد "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنعم وعیش سے اجتناب کرنا
٨٥٥٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : دنیا آخرت کے مقابلہ میں ایسے ہے جیسے خرگوش کی چھلانگ۔ (ابن المبارک ، مصنف ابن ابی شیبہ)
8554- عن عمر قال: ما الدنيا في الآخرة إلا كنفجة أرنب. ابن المبارك "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٥٥۔۔۔ حضرت حسن بصری (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر ایک ڈھیر ان کے پاس سے گزرے وہاں تھوڑی دیر کے لیے ٹھہرگئے، گویا آپ اپنے دوستوں کو اس مشقت میں ڈالنا چاہتے تھے کہ وہ اس (بدبو) کی اذیت اٹھائیں ، آپ نے ان سے فرمایا : یہ تمہاری دنیا ہے جس کی تم لوگ حرص و لالچ کرتے ہو۔ (مسند احمد فی الزھد، الحلیۃ)
8555- عن الحسن قال: مر عمر على مزبلة فاحتبس عندها، فكأنه شق على أصحابه تأذوا بها، فقال لهم: هذه دنياكم التي يتحرصون عليها. "حم" في الزهد "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٥٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے (دنیا اور آخرت کے) معاملہ میں غور کیا، (تو اس نتیجہ پر پہنچا کہ) جب میں دنیا کا ارادہ کرتا ہوں تو آخرت کو نقصان پہنچاتا ہوں آخرت کا ارادہ کرتا ہوں تو دنیا کو نقصان پہنچاتا ہوں اور جب معاملہ ایسا ہے تو فنا ہونے والی چیز کو نقصان پہنچاؤ۔ (مسند احمد فیہ الحلیۃ)
8556- عن عمر قال: نظرت في هذا الأمر، فجعلت إذا أردت الدنيا أضررت بالآخرة، وإذا أردت الآخرة أضررت بالدنيا، فإذا كان الأمر هكذا فأضروا بالفانية. "حم" فيه "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٥٧۔۔۔ ابوسنان الدؤلی سے روایت ہے فرماتے ہیں : وہ حضرت عمر (رض) کے پاس گئے اس وقت آپ کے پاس مہاجرین اولین کی ایک جماعت تشریف فرما تھی، آپ نے ایک ڈبیہ منگوائی جو عراق کے قلعہ سے آئی تھی، اس میں ایک انگوٹھی تھی آپ کے کسی فرزند نے وہ انگوٹھی لے کر اپنے منہ میں ڈال لی، حضرت عمرنے اس بچہ سے وہ انگوٹھی چھین لی، پھر آپ روپڑے، حاضرین میں سے ایک شخص نے آپ سے کہا : آپ کیوں روتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح دی، آپ کو دشمن کے مقابلہ میں کامیاب کیا اور آپ کی آنکھ ٹھنڈی کردی ؟ آپ نے فرمایا : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا : جس پر دنیا (کے دروازے) کھل گئے اللہ تعالیٰ قیامت تک ان کے درمیان دشمنی اور بغض ڈال دیں گے ، اور مجھے اسی کا ڈر ہے۔ (مسنداحمد)
8557- عن أبي سنان الدؤلي أنه دخل على عمر وعنده نفر من المهاجرين الأولين، فأرسل إلى سفط أتى به من قلعة العراق، فكان فيه خاتم فأخذه بعض بنيه فأدخله في فيه فانتزعه عمر منه، ثم بكى عمر، فقال له من عنده: لم تبكي وقد فتح الله لك، وأظهرك على عدوك وأقر عينيك؟ فقال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تفتح الدنيا على أحد إلا ألقى الله بينهم العداوة والبغضاء إلى يوم القيامة، وأنا أشفق من ذلك. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٥٨۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عمر نے، حضرت جابرین عبداللہ کو دیکھا کہ وہ گوشت اٹھائے جارہے ہیں، حضرت عمر نے فرمایا : یہ کیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : امیر المومنین کی بڑی خواہش تھی اس لیے میں نے ایک درہم کا گوشت خرید لیا، حضرت عمرنے فرمایا : کیا تم میں سے کوئی چاہتا ہے کہ وہ اپنے پڑوسی اور چچا زاد کے لیے خالی پیٹ رات گزارے ؟ یہ آیت کہاں جائے گی، تم دنیا کی زندگی میں اپنی اچھی چیزیں لے گئے۔ (مالک)
8558- عن يحيى بن سعيد: أن عمر بن الخطاب رأى جابر بن عبد الله وهو حامل لحما، فقال عمر: ما هذا؟ قال يا أمير المؤمنين قرمنا إلى اللحم، فاشتريت بدرهم لحما، فقال عمر: أما يريد أحدكم أن يطوى بطنه لجاره وابن عمه؟ فأين تذهب هذه الآية: {أَذْهَبْتُمْ طَيِّبَاتِكُمْ فِي حَيَاتِكُمُ الدُّنْيَا} . مالك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٥٩۔۔۔ مسروق سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت عمر ہمارے آئے آپ نے ایک جوڑا پہن رکھا تھا، لوگوں نے آپ کی طرف دیکھا آپ نے فرمایا : جو چیز دکھائی دیتی ہے اس میں صرف بشاشت ہی ہے۔

باقی رہے گا اللہ اور مال اور اولاد ہلاک ہونے والے ہیں پھر فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! دنیا آخرت کے مقابلہ میں خرگوش کی چھلانک ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی قصرالامل)
8559- عن مسروق قال: خرج علينا عمر بن الخطاب ذات يوم وعليه حلة قطر فنظر الناس إليه فقال:لا شيء فيما يرى إلا بشاشته ... يبقى الإله ويودى المال والولد ثم قال: والله ما الدنيا في الآخرة إلا كنفجة أرنب. ابن أبي الدنيا في قصر الأمل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦٠۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرمایا : اصحاب صفہ میں سے ایک شخص کا انتقال ہوگیا، انھوں نے دو دینار یا دو درہم چھوڑے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو داغ ہیں، اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ (مسند احمد، بخاری فی تاریخۃ، عقیلی فی الضعفاء وصححہ والدورقی، سعید بن منصور)
8560- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: مات رجل من أهل الصفة، وترك دينارين أو درهمين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيتان صلوا على صاحبكم. "حم خ" في تاريخه "عق" وصححه والدورقي "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب قیامت کا دن ہوگا تو دنیا کو انتہائی خوبصورت انداز میں لایا جائے گا، پھر وہ کہے گی : اے میرے رب ! مجھے اپنے کسی کو بخش دے، اللہ تعالیٰ اس سے فرمائیں گے، اے ہیچ ! چلی جاتو کچھ بھی نہیں تو میرے نزدیک اتنی ذلیل ہے کہ میں اپنے کسی دوست کو تجھے نہیں بخشتا، پھر اسے پرانے کپڑے کی طرح لپیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ (الحلیۃ)
8561- عن علي قال: إذا كان يوم القيامة أتت الدنيا بأحسن زينتها، ثم قالت: يا رب هبني لبعض أوليائك، ويقول الله لها: يا لا شيء اذهبي فأنت لا شيء، أنت أهون علي من أن أهبك لبعض أوليائي فتطوى كما يطوى الثوب الخلق فتلقى في النار. "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت فرماتے ہیں : مال اور مالداری کی طلب انسان کے دین کے لیے دو خونخوار بھیڑیوں سے زیادہ خطرناک ہے جو کسی بکریوں کے ریوڑ میں صبح تک رات گزاریں۔ (العشاری فی المواعظ)
8562- عن علي قال: لطلب المال والثروة أسرع في خراب دين الرجل من ذئبين ضاريين باتا في حظيرة غنم، ما زالا فيها حتى أصبحا. العشاري في المواعظ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦٣۔۔۔ زیدبن علی سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی نے دنیا کی مذمت کے متعلق اپنی گفتگو میں فرمایا : اس کے اور اس کے درمیان مٹی حائل ہوگئی ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک بندہ اس کی عبادت کرتا ہے، جو اس کے ہاتھوں میں اس کی امید رکھتا ہے، اس کی رضا مندی میں اپنے بدن کو تھکاتا ہے اپنے دین کو زخمی کرنا اپنی عزت ومرؤت کو گھٹاتا ہے یہاں تک کہ وہ (دنیا) اس کے اور اس کے رب کے درمیان حائل ہوجاتی ہے، بڑئی چیزوں میں اللہ تعالیٰ سے اور جھوٹی چیزوں میں بندوں سے امید رکھتا ہے لہٰذا بندہ کو وہ چیز دیتا یے جو رب کو نہیں دیتاجیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسے اس کے ذریعہ پکھلادیا جائے جیسا کہ اس کے ساتھ کیا جائے گا۔

اسی طرح اگر کسی بندے ست ڈرے اور اس کے خوف سے وہ چیز دے جو اللہ تعالیٰ کو نہیں دیتا ، اس طرح وہ شخص جس کی نگاہ میں دنیا کی عزت بڑھ جائے اور وہ قابل شان بن جائے تو وہ اسے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں ترجیح اور فوقیت دے دیتا ہے۔ (العسکری فی المواعظ)
8563- عن زيد بن علي قال: قال علي: في كلام له في ذم الدنيا: حال بينه وبين هذا التراب عبد من خلق الله يتعبد له، يرجو ما في يديه فيتعب بدنه في مرضاته، يجرح دينه ويضع مروءته، حتى تحول بينه وبين ربه، يرجو الله في الكبير ويرجو العبد في الصغير فيعطي العبد ما لا يعطي الرب كما قال الله: {يُصْهَرُ بِه} كما يصنع به وكذلك أن خاف عبدا من عبيده أعطاه في خوفه منه ما لا يعطي الله، وكذلك من عظمت الدنيا في عينه وكثر موقعها عنده آثرها على الله. العسكري في المواعظ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : دنیا مردار ہے جو اس کا طلبگار ہو وہ کتوں کے میل جواں پر صبر کرے۔ (ابوالشیخ)
8564- عن علي قال: الدنيا جيفة فمن أرادها فليصبر على مخالطة الكلاب. أبو الشيخ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی بےوقعتی
٨٥٦٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : دنیا پیٹھ پھیر کر چل پڑی اور آخرت رخ کرکے آنے لگی ، ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں، سو تم آخرت کے بیٹوں میں سے ہونا، اور دنیا کے بیٹوں میں سے نہ ہونا، خبردار ! دنیا سے بےرغبتی کرنے والوں نے زمین کو بچھونا، مٹی کو بستر اور پانی کو اچھی چیز بنالیا۔

خبردار ! جو جنت کا مشاق ہے وہ شہوات کو بھول جائے گا، اور جو (جہنم کی) آگ سے ڈراوہ حرام چیزوں (کو چھونے سے پہلے) واپس لوٹ آئے گا، اور جو دنیا سے بےرغبت ہوا اس کے لیے مصائب کا جھیلنا (آسان ہے) بیشک اللہ تعالیٰ کے بہت سے بندے ہیں، جیسے کسی نے جنتیوں کو جنت میں ہمیشہ رہنے والا دیکھا اور جہنمیوں کو جہنم میں عذاب میں گرفتار دیکھا، ان کے شر (سے) حفاظت ہے ان کے دل غم گین ہیں ، اور ان کے نفس پاکدامن ہیں ان کی ضرورتیں پوشیدہ ہیں، انھوں نے آخرت کے لمبے سفر کے لیے چند دنوں پر صبر کیا۔

جہاں تک رات کا معاملہ ہے تو ان کے قدم صف بستہ ہیں ان کے رخساروں پر آنسوؤں کی لڑی جاری ہے، اپنے رب کی پناہ لیتے ہیں، (کہتے ہیں) اے ہمارے رب ! ہمارے رب ! اپنی گردنوں کو (جہنم سے) آزادی کے طلبگار ہیں، اور دن کے وقت وہ علماء بردباد ، نیک اور پرہیزگار ہیں گویا وہ تیر ہیں دیکھنے والا اس کی طرف دیکھ رہا ہے وہ کہے گا : کیا یہ بیمار ہیں ؟ حالانکہ کوئی بھی بیمار نہیں، اور ان سے کوئی چیز ٹل گئی اور قوم سے ایک بہت بڑا معاملہ ٹل گیا۔ (الدینوری ، ابن عساکر)
8565- عن علي قال: إن الدنيا قد ارتحلت مدبرة، وإن الآخرة مقبلة ولكل واحدة منهما بنون، فكونوا من أبناء الآخرة، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، ألا وإن الزاهدين في الدنيا اتخذوا الأرض بساطا والتراب فراشا والماء طيبا، ألا من اشتاق إلى الجنة سلا عن الشهوات، ومن أشفق من النار رجع عن المحرمات، ومن زهد في الدنيا هانت عليه المصيبات ألا إن لله عبادا كمن رأى أهل الجنة في الجنة مخلدين، وأهل النار في النار معذبين، شرورهم مأمونة، وقلوبهم مخرونة، وأنفسهم عفيفة، وحوائجهم خفيفة، صبروا أياما لعقبى رحلة طويلة، أما الليل فصافون أقدامهم، تجري دموعهم على خدودهم، يجأرون إلى ربهم: ربنا ربنا، يطلبون فكاك رقابهم، وأما النهار فعلماء حلماء بررة أتقياء، كأنهم القداح ينظر إليهم ناظر فيقول: مرضى؟ وما بالقوم من مرض، وخولطوا ولقد خالط القوم أمر عظيم. الدينوري "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٦٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے ان سے پوچھا گیا دنیا کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : طویل گفتگو کروں یا مختصر ! (پوچھنے والے نے) کہا مختصر بیان کریں آپ نے کہا : اس کا حلال (قابل) حساب ہے اس کا حرام (قابل) عذاب ہے، سو لمبے حساب (سے بچنے) کیلئے حلال کو چھوڑدو، اور لمبے عذاب کی وجہ سے حرام چھوٖڑدو۔۔ (ابن ابی الدنیا دی ذم الدنیا والدینوری، ابن عساکر)
8566- عن علي أنه سئل عن الدنيا؟ فقال: أطيل أم أقصر؟ فقيل أقصر فقال: حلالها حساب، وحرامها عذاب، فدعوا الحلال لطول الحساب، ودعوا الحرام لطول العذاب. ابن أبي الدنيا في ذم الدنيا والدينوري "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٦٧۔۔۔ بنی عدی کے ایک شیخ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت علی (رض) ابی طالب سے کہا : امیرالمومنین ! ہمارے سامنے دنیا کا حال بیان فرمائیں ! فرمایا ! میں تمہارے سامنے ایک گھر کا حال بیان کرتا ہوں ، جو اس میں تندرست رہا، امن میں رہا جو بیمار ہوا نادم وپسیمان ہوا، جو محتاج ہوا غم گین ہوا، اور جو اس میں مستغنی ہوا فتنہ میں پڑا، اس کا حلال (باعث) حساب اور اس کا حرام (باعث) جہنم ہے۔ (ابن ابی الدنیا والدینوری)
8567- عن شيخ من بنى عدي قال: قال رجل لعلي بن أبي طالب: يا أمير المؤمنين صف لنا الدنيا، قال: وما أصف لك من دار، من صح فيها أمن، ومن سقم فيها ندم، ومن افتقر فيها حزن، ومن استغنى فيها فتن، حلالها حساب وحرامها النار. ابن أبي الدنيا والدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٦٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا : کہ درہم کا نام درہم کیوں ہے اور دینار کیوں ؟ درہم تو اس کا نام دارھم (یعنی غموں کا گھر) ہے اور دینار کو چونکہ مجوسیوں نے ڈھالا ہے اس لیے دینار ہے۔ ( خطیب فی تاریخہ)
8568- عن علي أنه سئل عن الدرهم لم سمي درهما، وعن الدينار لم سمي دينارا؟ فقال: أما الدرهم فسمي دارهم، وأما الدينار فضربته المجوس فسمي دينارا. "خط" في تاريخه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٦٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے علماء کی فضیلت بیان فرمائی تو اشاد فرمایا : ان کے دلوں میں بیماریاں بھری پڑی ہیں اور دنیا کی محبت سے بڑھ کر کوئی بیماری نہیں، اور اسے چھوڑدینے کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں ، سو دنیا دو آخرت کی وسعت تک پہنچ جاؤگے۔ (الدیلمی وفیہ بکر ابن الاعنق قال المغنی : لایصح حدیثہ)
8569- عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر فضل العلماء، فقال: قلوبهم ملأى من الداء ولا داء أشد من حب الدنيا، ولا دواء أكبر من تركها، فاتركوا الدنيا تصلوا إلى روح الآخرة. الديلمي وفيه بكر بن الأعنق قال في المغنى: لا يصح حديثه.
tahqiq

তাহকীক: