কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৫৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٧٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں ! میرے ساتھ تاریکی میں کاشتکاری نہ کرو، کیونکہ تم اگر کاشتکاری میں لگ گئے تو سو پر تلوار سے لڑتے رہو گے، اور اگر (آپس میں) لڑتے رہوگے تو کافر ہوجاؤگے ( مصنف ابن ابی شیبہ
تشریح :۔۔۔ کسان منہ اندھیرے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں، یعنی سارے کے سارے کاشتکاری میں مصروف نہ ہوجاؤ ورنہ جہاد چھوڑ بیٹھو گے، آپس میں لڑتے لڑتے سو تک جانبین سے قتل کر ڈالوگے، اور مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔
تشریح :۔۔۔ کسان منہ اندھیرے کھیتوں کا رخ کرتے ہیں، یعنی سارے کے سارے کاشتکاری میں مصروف نہ ہوجاؤ ورنہ جہاد چھوڑ بیٹھو گے، آپس میں لڑتے لڑتے سو تک جانبین سے قتل کر ڈالوگے، اور مسلمان کو قتل کرنا کفر ہے۔
8570- عن علي قال: لا تزرعوا معي في السواد فإنكم إن تزرعوا تقتتلوا على مائة بالسيوف، وإنكم إن تقتتلوا تكفروا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا کی حقیقت
٨٥٧١۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ( کی وفات) کے بعد مجھے کسی کے کلام سے (اتنا) فائدہ نہ ہوا (جتنا) حضرت علی بن ابی طالب (رض) کی اس تحریر سے جو انھوں نے میری طرف لکھی انھوں نے میری طرف لکھا : اللہ تعالیٰ کے نام سے شروع جو بےحد مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے اے میرے بھائی بات یہ ہے جو چیز آپ کو ملنی تھی اس کے ملنے سے آپ خوش ہوتے ہیں اور جسے حاصل نہیں کرسکتے وہ تمہیں بری لگتی ہے ، تو جتنی دنیا آپ حاصل کرلیں اس پر خوش نہ ہوں اور جو نہ مل سکے اس کے لیے غم گین نہ ہوں اور آپ کا عمل موت کے بعد والی زندگی کے لیے ہو۔ (ابن عساکر)
8571- عن ابن عباس قال: ما انتفعت بكلام أحد بعد النبي صلى الله عليه وسلم إلا بشيء كتب به إلي علي بن أبي طالب، فإنه كتب إلي: بسم الله الرحمن الرحيم، أما بعد يا أخي، فإنك تسر بما يصير إليك مما لم يكن ليفوتك، ويسوءك ما لم تكن تدركه، فما نلت من الدنيا فلا تكن به فرحا، وما فاتك منها فلا تكن عليه حزينا، وليكن عملك لما بعد الموت والسلام. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٢۔۔۔ حسن بن علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھے حضرت (رض) نے کہا : اے بیٹا ! اپنے پیچھے پر گز دنیا کی کوئی چیز نہ چھوڑنا ، کیونکہ تم اسے دو میں سے ایک آدمی کے لیے چھوڑ کر جاؤگے ، یا تو اسے کوئی ایسا کام میں لائے گا، جو اللہ تعالیٰ کی فرمان برداری کرے گا، تو جس چیز کی بدولت تم نے بدبخت ہونا تھا وہ نیک ہوگیا، یا کوئی ایسا شخص کام میں لائے گا جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرے گا، تو ہم اس کے مددگار بن جاؤ گے، اور ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں کہ جسے تم اپنے آپ پر ترجیح اور برتری دو ۔ (ابن عساکر)
8572- عن الحسن بن علي قال: قال لي علي بن أبي طالب: أي بني لا تخلفن وراءك شيئا من الدنيا، فإنك تخلفه لأحد رجلين، إما رجل عمل فيه بطاعة الله فسعد بما شقيت به وإما رجل عمل فيه بمعصيته فكنت عونا له على ذلك، وليس أحد هذين بحقيق أن تؤثره على نفسك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٣۔ (سعید (رض)) ابوسفیان سے روایت ہے ، فرماتے ہیں : کہ سعد حضرت سلمان کی عیادت کرنے ان کے پاس آئے ، فرمایا : ابوعبداللہ ! تمہیں خوشخبری ہو کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب فوت ہوئے، تم سے راضی تھے، تو حضرت سلمان نے کہا : سعد ( نجات) کیسے (ہوگی ؟ ) جبکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے : تم میں سے ہر ایک کے لیے اتنی دنیا کافی ہے جتنا کسی مسافر کا توشہ ہوتا ہے یہاں تک کہ مجھ سے آملو ؟ (ابوسعید ابن الاعرابی فی الزھد
8573- "سعد رضي الله عنه" عن أبي سفيان قال: دخل سعد على سلمان يعوده، فقال: أبشر أبا عبد الله، مات رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنك راض، قال سلمان: كيف يا سعد وقد سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: بلغة أحدكم من الدنيا كزاد الراكب حتى يلقاني؟ أبو سعيد ابن الأعرابي في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٤۔۔۔ حضرت (انس (رض)) سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیبر اور (بنی) نضیر کے دن ایک درازگوش پر سوار دیکھا، جس کی باگ کھجور کے بالوں کی رسی تھی میں نے آپ کو فرماتے سنا :(آپ نے تین بار فرمایا) لوگو ! دنیا (کی محبت) کو چھوڑ دو ، کیونکہ جس نے اپنی ضرورت سے زائد دنیالی تو اسنے انجانے میں اپنی موت لی (ابن عساکر)
8574- "أنس رضي الله عنه" عن أنس قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم خيبر والنضير على حمار باكاف مخطوم بحبل ليف، وسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا أيها الناس دعوا الدنيا - ثلاث مرات - من أخذ من الدنيا فوق ما يكفيه فإنما يأخذ من حتفه وهو لا يشعر. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٥۔۔۔ (البراء بن عازب (رض)) عمربن ابراہیم ابن سعد الفقیہ، ابوالحسن عیسیٰ بن حامد بن بشر القاضی ، ابوعمرومقاتل بن صالح بن زمانۃ المروزی، ابوالعباس محمد بن نصربن العباس ، محمود بن غیلان ، یحییٰ بن آدم ، مفضل بن مہلہل ، محمد بن سلیمان ، حضرت مکحول حضرت براء بن عاذب (رض) سے نقل کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے کچھ خاص بندے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ بلند درجات میں ٹھہرائے گا کیونکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ عقلمند تھے
لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیسے سب سے زیادہ عقلمند تھے ؟ آپ نے فرمایا : ان کا ارادہ عبادت میں مقابلہ کا تھا، دنیا کی فضول چیزیں اور اس کا ساز و سامان ان کے سامنے بےقیمت تھا۔ (ابن النجار)
لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیسے سب سے زیادہ عقلمند تھے ؟ آپ نے فرمایا : ان کا ارادہ عبادت میں مقابلہ کا تھا، دنیا کی فضول چیزیں اور اس کا ساز و سامان ان کے سامنے بےقیمت تھا۔ (ابن النجار)
8575- "البراء بن عازب رضي الله عنه" أخبرني عمر بن إبراهيم بن سعد الفقيه، أنا أبو الحسن عيسى بن حامد بن بشر القاضي، ثنا أبو عمرو مقاتل بن صالح بن زمانة المرزوي: ثنا أبو العباس محمد بن نصر بن العباس، ثنا محمود بن غيلان، ثنا يحيى بن آدم، ثنا المفضل بن مهلهل، عن محمد بن سليمان، عن مكحول، عن البراء بن عازب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن لله تعالى خواص، يسكنهم رفيع الدرجات، لأنهم كانوا في الدنيا أعقل الناس، قيل: وكيف كانوا أعقل الناس يا رسول الله؟ قال: كانت همتهم المسابقة إلى الطاعة، وهانت عليهم فضول الدنيا وزينتها. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٦۔۔۔ موسیٰ بن مطیر، ابواسحاق سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : مجھے حضرت براء بن عازب (رض) نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ دعا نہ سکھاؤں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے سکھائی ہے ؟ جب تم دیکھو کہ لوگ سونے چاندی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں تو تم یہ دعا مانگنا : اے اللہ ! میں آپ سے (دین کے) معاملہ میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں ، اور آپ کے فیصلہ پر رضا مندی کا سوال کرتا ہوں ، میں آپ سے محفوظ دل، سچی زبان اور جو خیر اور بھلائی آپ کے علم میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں ، اور جو شر آپ کے علم میں ہے اس سے آپ کی پناہ اور جو (گناہ کی باتیں) آپ کے علم میں ہیں ان مغفرت طلب کرتا ہوں ۔ (طبرانی فی الکبیر و ابونعیم)
قال فی المغنی : موسیٰ بن مطیرقال غیر واحد : متروک الحدیث
قال فی المغنی : موسیٰ بن مطیرقال غیر واحد : متروک الحدیث
8576- عن موسى بن مطير عن أبي إسحاق قال: قال لي البراء بن عازب: ألا أعلمك دعاء علمنيه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: إذا رأيت الناس قد تنافسوا الذهب والفضة فادع بهذه الدعوات: اللهم إني أسألك الثبات في الأمر، وأسألك عزيمة الرشد، وأسألك شكر نعمتك، والصبر على بلائك، وحسن عبادتك، والرضا بقضائك، وأسألك قلبا سليما ولسانا صادقا، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم وأستغفرك لما تعلم. "طب" وأبو نعيم، قال: في المغنى: موسى بن مطير قال غير واحد: متروك الحديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٧۔۔۔ حضرت سہل بن سعد (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آکر کہنے لگا : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جسے کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ اور لوگ مجھے پسند کرنے لگیں ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کو چھوڑ دو اللہ تعالیٰ کے محبوب بن جاؤگے اور جو کچھ لوگوں کے پاس اسے چھوڑدو لوگوں کے محبوب بن جاؤگے۔ (ابن عساکر ومربرقم، ٦٠٩١)
8577- عن سهل بن سعد قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال يا رسول الله: دلني على عمل إذا أنا عملته أحبني الله، وأحبني الناس قال: ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما في أيدي الناس يحبك الناس. "كر". ومر برقم [6091] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال ودلت چھوڑ کر مت جاؤ
٨٥٧٨۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے تین دن میں ایک لاکھ چالیس ہزار کلمات میں خفیہ گفتگو کی جو ساری وصیتوں پر مشتمل ہے، موسیٰ (علیہ السلام) نے جب لوگوں کی گفتگو سنی تو انھوں نے رب تعالیٰ کا کلام سن رکھا تھا اس لیے ان سے ناراض ہوگئے۔
جو مناجات ہوئی تھی اس میں فرمایا تھا : اے موسیٰ ! دنیا میں بےرغبتی کی طرف کسی نے تصنع و تکلف نہیں کیا، اور جو چیزیں میں نے حرام کی ہیں ان سے بچنے کی طرح کسی نے تقرب حاصل نہیں کیا، اور میرے خوف سے رونے کی طرح کسی نے عبادت نہیں کی، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! اے تمام مخلوق کے معبود اے یوم جزا کے مالک، اے عزت و جلال والے ! آپ نے ان کے لیے کیا تیار کیا ہے اور انھیں کیا بدلہ دیا ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دنیا سے بےرغبتی کرنے والوں کے لیے میں نے جنت مباح کردی ہے جہاں چاہیں ٹھہریں اور حرام چیزوں سے بچنے والوں کے لیے یہ ہے کہ قیامت کے روز میں ہر ایک سے حساب میں پوچھ گچھ کروں گا، اور جو کچھ اس کے پاس ہوگا اس کیب تفتیش کروں گا اس قانون سے اگر کوئی مستثنیٰ ہے تو وہ پرہیزگار اور حرام چیزوں سے بچنے والے ہیں، کیونکہ ان کی عزت واکرم بڑھا کر انھیں بغیر حساب جنت میں داخل کروں گا۔
اور جو میرے ڈر سے روتے ہیں : ان کے لیے ان کے لیے عالم بالا کی رفاقت ہے جس میں کوئی اور ان کا شریک نہیں ہوگا۔ (بیھقی فی الشعب ، ابن عساکر وسندہ ضعیف)
جو مناجات ہوئی تھی اس میں فرمایا تھا : اے موسیٰ ! دنیا میں بےرغبتی کی طرف کسی نے تصنع و تکلف نہیں کیا، اور جو چیزیں میں نے حرام کی ہیں ان سے بچنے کی طرح کسی نے تقرب حاصل نہیں کیا، اور میرے خوف سے رونے کی طرح کسی نے عبادت نہیں کی، تو موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا : اے میرے رب ! اے تمام مخلوق کے معبود اے یوم جزا کے مالک، اے عزت و جلال والے ! آپ نے ان کے لیے کیا تیار کیا ہے اور انھیں کیا بدلہ دیا ہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : دنیا سے بےرغبتی کرنے والوں کے لیے میں نے جنت مباح کردی ہے جہاں چاہیں ٹھہریں اور حرام چیزوں سے بچنے والوں کے لیے یہ ہے کہ قیامت کے روز میں ہر ایک سے حساب میں پوچھ گچھ کروں گا، اور جو کچھ اس کے پاس ہوگا اس کیب تفتیش کروں گا اس قانون سے اگر کوئی مستثنیٰ ہے تو وہ پرہیزگار اور حرام چیزوں سے بچنے والے ہیں، کیونکہ ان کی عزت واکرم بڑھا کر انھیں بغیر حساب جنت میں داخل کروں گا۔
اور جو میرے ڈر سے روتے ہیں : ان کے لیے ان کے لیے عالم بالا کی رفاقت ہے جس میں کوئی اور ان کا شریک نہیں ہوگا۔ (بیھقی فی الشعب ، ابن عساکر وسندہ ضعیف)
8578- عن ابن عباس أن الله تعالى ناجى موسى بمائة ألف كلمة وأربعين ألف كلمة، في ثلاثة أيام وصايا كلها، فلما سمع موسى كلام الآدميين مقتهم مما وقع في مسامعه من كلام الرب، وكان فيما ناجاه أن قال: يا موسى إنه لم يتصنع إلى المتصنعون بمثل الزهد في الدنيا، ولم يتقرب إلي المتقربون بمثل الورع عما حرمت عليهم، ولم يتعبد المتعبدون بمثل البكاء من خشيتي، فقال موسى: يا رب وإله البرية كلها ويا مالك يوم الدين، ويا ذا الجلال والإكرام، ماذا أعددت لهم وماذا جزيتهم؟ قال: أما الزاهدون في الدنيا فإني أبيحهم جنتي يتبوأون منها حيث شاءوا وأما الورعون عما حرمت عليهم فإذا كان يوم القيامة لم يبق أحد إلا ناقشته الحساب وفتشته عما في يديه إلا الورعون، فإني أستحييهم وأجلهم وأكرمهم وأدخلهم الجنة بغير حساب، وأما الباكون من خشيتي فأولئك لهم الرفيق الأعلى لا يشاركهم فيه أحد. "هب كر" وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا بڑھیا کی صورت میں ظاہرہوگی
٨٥٧٩۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : قیامت کے روز دنیا کو ایک سفید بالوں اور نیلی آنکھوں والی بڑھیا کی صورت میں لایا جائے گا، اس کی داڑھیں ظاہر ہوں گی، وہ بدشکل ہوگی وہ لوگوں کے سامنے آئے گی، (لوگوں سے) کہا جائے گا : کیا اسے جانتے ہو ؟ وہ کہیں گے ہم اس کے پہچاننے سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتے ہیں ، تو کہا جائے گا یہ (وہی) دنیا ہے جس اسی کی وجہ سے تم نے آپس میں رشتے ناتے توڑے، آپس میں حسد کیا، باہم بغض رکھا، اور تم دھوکا میں پڑگئے، پھر اسے جہنم میں پھینک دیا جائے گا، وہ پکارکر کہے گی : اے میرے رب ! میری اتباع کرنے والے اور میری جماعت کہاں ہے ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اس کے تابعین اور اس کی جماعت کو اس سے ملادیا جائے۔ (ابوسعید ابن الاعرابی فی الزھد)
8579- عن ابن عباس قال: يؤتى بالدنيا يوم القيامة في صورة عجوز شمطاء زرقاء، أنيابها بادية، مشوه خلقها، تشرف على الخلائق، فيقال: تعرفون هذه؟ فيقولون: نعوذ بالله من معرفة هذه، فيقال: هذه الدنيا التي تناحرتم عليها، بها تقاطعتم، وبها تحاسدتم، وتباغضتم واغتررتم ثم تقذف في جهنم، فتنادي: أي رب أين أتباعي وأشياعي؟ فيقول الله عز وجل: ألحقوا بها أتباعها وأشياعها. أبو سعيد ابن الأعرابي في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا بڑھیا کی صورت میں ظاہرہوگی
٨٥٨٠۔۔۔ احمد بن المغلس بن ابی اویس ، مالک ، حضرت نافع حضرت ابن عمر (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آکر کہنے لگا یارسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں کہ جب میں اسے کرلوں تو اللہ تعالیٰ آسمان سے اور لوگ زمین سے مجھے پسند کرنے لگیں ، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : دنیا سے بےرغبت ہوجا اللہ تعالیٰ تجھ سے محبت کریں گے اور جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے بےرغبت ہوجا لوگ تجھے پسند کرنے لگیں گے۔ (ابن عساکر، واحمد المغلس الحدیث ومربرقم۔ ٨٥٧٧)
8580- عن أحمد بن المغلس: حدثنا إسماعيل بن أبي أويس، ثنا مالك عن نافع عن ابن عمر قال: أتى رجل النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله دلني على عمل إذا أنا عملته أحبني الله من السماء، وأحبني الناس من الأرض، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: ازهد في الدنيا يحبك الله، وازهد فيما في أيدي الناس يحبك الناس. "كر" وأحمد بن المغلس يضع الحديث. ومر الحديث [8577] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا بڑھیا کی صورت میں ظاہرہوگی
٨٥٨١۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو سے روایت ہے فرمایا : لوگوں پر ایسا زمانہ ضرور آئے گا کہ ان کے دل عجمیوں کے ہوں گے، کسی نے کہا : عجمیوں کے دل کیسے ہوتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : دنیا کی محبت ، اور ان کا طریقہ دیہاتیوں جیسا ہے جو کچھ اللہ تعالیٰ نے انھیں عطا کیا اسے حیوانات میں صرف کرتے ہیں، جہاد کو نقصان دہ اور (صدقہ) زکوۃ کو جرمانہ سمجھتے ہیں۔ (ابن جریر
8581- عن عبد الله بن عمرو قال: ليأتين على الناس زمان، قلوبهم فيه قلوب الأعاجم، فقيل له، وما قلوب الأعاجم؟ قال: حب الدنيا، وسنتهم سنة الأعراب، ما آتاهم الله من رزق جعلوه في الحيوان، يرون الجهاد ضرارا والصدقة مغرما. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا بڑھیا کی صورت میں ظاہرہوگی
٨٥٨٢۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو آخرت کا ارادہ کرے وہ دنیا کو نقصان پہنچائے گا، اور جو دنیا چاہے گا وہ آخرت کو نقصان پہنچائے گا، تو تم لوگ فنا ہونے والی کو باقی رہنے کے لیے نقصان پہنچاؤ۔ ( ابن عساکر)
8582- عن ابن مسعود قال: من أراد الآخرة أضر بالدنيا، ومن أراد الدنيا أضر بالآخرة فأضروا بالفاني للباقي. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٣۔۔۔ علی بن رباح سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت عمروبن العاص (رض) کو منبر پر فرماتے سنا : لوگو ! تمہارا طریقہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کتنا دور ہوچکا ہے ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سب سے زیادہ دنیا سے بےرغبت تھے اور تم لوگ سب سے زیادہ اسی میں رغبت رکھنے والے ہو۔ (ابن عساکر وقال ھذا حدیث صحیح، وابن النجار)
8583- عن علي بن رباح قال: سمعت عمرو بن العاص يقول على المنبر: ألا أيها الناس ما أبعد هديكم من هدي رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ كان من أزهد الناس في الدنيا، وأنتم أرغب الناس فيها. "كر" وقال هذا حديث صحيح وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٤۔۔۔ حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مال غنیمت سے بچے ہوئے سونے کی ایک چین (زنجیر) اپنی لاٹھی سے اٹھائی تو وہ نیچے گرگئی پھر اسے اوپر اٹھالیا۔ آپ فرمانے لگے : اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب اس کی تمارے پاس کثرت ہوگی ؟ تو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، اتنے میں ایک شخص نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم چاہتے ہیں اللہ تعالیٰ اسے ہمارے لیے زیادہ کردے، تو جو چاہے صبر کرے، اور جس نے فتنہ میں پڑنا ہے فتنہ میں پڑے ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہوسکتا ہے کہ فتنہ ہی ہو تم نافرمانہ کرنے لگوگے۔ (ابونعیم وسندہ صحیح)
8584- عوف بن مالك الأشجعي - رفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قطعة سلسلة من ذهب بقية بقيت من قسمة الفيء، بطرف عصاه، فتسقط ثم يرفعها، وهو يقول: فكيف أنتم يوم يكثر لكم من هذا؟ فلم يجبه أحد، فقال رجل: والله لوددنا لو أكثر الله لنا منه. فصبر من صبر وفتن من فتن، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لعلك تكون فتنة ثم تعقون. نعيم وسنده صحيح.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٥۔۔۔ حضرت ابوامانہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص کا انتقال ہوا، تو لوگوں کو اس کے لیے کفن نہ ملا، لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! ہمیں اس کے لیے کفن نہیں ملا، آپ نے فرمایا : اس کے ازار میں دیکھو تو لوگوں کو دور دینار ملے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دو داغ ہیں ، اپنے ساتھی کی نماز جنازہ پڑھو۔ ( مربرقم : ٢٦٩٨/٨٥٦٠ وقال رواہ احمد عن علی ص)
8585- عن أبي أمامة قال: لقد توفي رجل على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم، فلم يجدوا له كفنا، فقالوا: يا نبي الله إنا لم نجد له كفنا، فقال التمسوا في مئزره فوجدوا دينارين، فقال النبي صلى الله عليه وسلم كيتان، صلوا على صاحبكم. " ... " مر برقم [6298 - 8560] وقال رواه أحمد عن علي. ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٦۔۔۔ ابوامامہ (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت نقل کرتے ہیں، آپ نے فرمایا : عزیر ایک عابد شخص تھے انھوں نے خواب میں بہتی ہوئی نہریں اور چمکتی آگ دیکھی ، پھر وہ بیدار ہو کر دوبارہ سوگئے ، چنانچہ خواب میں پانی کا ایک قطرہ آنسو کے برابر آگ کا ایک شرارہ گھٹا ٹوپ بادل میں دیکھا، اس کے بعد ان کی آنکھ کھل گئی، انھوں اللہ تعالیٰ سے گفتگو کی اور کہا : اے میرے رب ! میں نے اپنے خواب میں بہتی نہریں چمکتی آگ دیکھی ہیں، اسی طرح پانی کا قطرہ جو آنسو کے برابر اور آگ کا شرارہ دیکھا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے انھیں جواب دیا : اے عزیر ! پہلی بار جو تم نے بہتی نہریں اور چمکتی آگ دیکھی ہیں تو یہ دنیا کا گزرا ہوا حصہ ہے، اور جو تم نے پانی کا قطرہ آنسو کی طرح اور شرارہ بادل میں دیکھا تو یہ دنیا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ (ابن عساکر وفیہ ، جمیع بن ثوب منکر الحدیث)
اللہ تعالیٰ نے انھیں جواب دیا : اے عزیر ! پہلی بار جو تم نے بہتی نہریں اور چمکتی آگ دیکھی ہیں تو یہ دنیا کا گزرا ہوا حصہ ہے، اور جو تم نے پانی کا قطرہ آنسو کی طرح اور شرارہ بادل میں دیکھا تو یہ دنیا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ (ابن عساکر وفیہ ، جمیع بن ثوب منکر الحدیث)
8586- عن أبي أمامة عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: إن عزيرا كان من المتعبدين، فرأى في منامه أنهارا تطرد، ونيرانا تشتعل، ثم نبه، ثم نام فرأى في منامه قطرة ماء كوبيص دمعة فهي في شرارة من نار في دجن ثم أنه نبه فكلم الله عز وجل، فقال: رب رأيت في منامي أنهارا تطرد، ونيرانا تشتعل، ورأيت أيضا قطرة من ماء كوبيص دمعة وشرارة من نار، فأجابه الله عز وجل: أما ما رأيت في الأول يا عزير أنهارا تطرد ونيرانا تشتعل، فما قد خلا من الدنيا، وأما ما رأيت من قطرة الماء كوبيص دمعة وشرارة من نار في دجن فما قد بقي من الدنيا. "كر" وفيه جميع بن ثوب منكر الحديث.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٧۔۔۔ حضرت ابوحجیفۃ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں گھر ، گوشت اور ثریدکھا کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ڈکاریں لیتے آیا ، آپ نے فرمایا : اے ابوحجیفۃ اپنی ڈکار روکو، کیونکہ دنیا میں زیادہ سیر لوگ قیامت میں لمبی بھوک والے ہوں گے۔ (ابن جریرومر، ٦٢٢٠)
8587- عن أبي جحيفة2 قال: أكلت ثريدا ولحما وسمنا، ثم أتيت النبي صلى الله عليه وسلم أتجشأ، فقال احبس جشاءك يا أبا جحيفة، فإن أكثركم شبعا اليوم أطولكم جوعا يوم القيامة. ابن جرير. ومر [6220] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٨۔۔۔ حضرت ابودرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سے پہلے میں تاجر تھا، پھر جب آپ نے نبی بنادیئے گئے تو تجارت اور عبادت دونوں کرنے لگا، لیکن یہ دونوں جمع نہ ہوئیں ، تو میں نے عبادت اختیار کی اور تجارت چھوڑ دی، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں ابوالدرداء کی جان ہے ! مجھے یہ پسند نہیں کہ آج مسجد کے دروازے پر میری دوکان ہو جہاں میری کوئی نماز نہ رہے اور ہر روز مجھے چالیس دینار کا منافع ہو اور میں اسے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں صدقہ کروں، کسی نے ان سے کہا : اے ابودرداء ایسے کیوں ؟ اور آپ کیوں ناپسند کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : حساب کی شدت کی وجہ سے دیکھئے ! نظام جہاں کہاں سے کہاں تک پہنچ گیا۔ ( ابن عساکر)
8588- عن أبي الدرداء قال: كنت تاجرا قبل أن يبعث النبي صلى الله عليه وسلم، فلما بعث زاولت التجارة والعبادة، فلم يجتمعا، فأخذت العبادة، وتركت التجارة، والذي نفس أبي الدرداء بيده، ما أحب أن لي اليوم حانوتا على باب المسجد لا تخطئني فيه صلاة أربح فيه كل يوم أربعين دينارا أتصدق في سبيل الله، قيل له: لم يا أبا الدرداء؟ وما تكره من ذلك؟ قال: شدة الحساب. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৫৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٨٩۔۔۔ حضرت ابوالدرداء سے روایت ہے فرماتے ہیں : دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) کوئی گھر نہیں اور (ضرورت سے زائد) اس کے لیے وہ شخص جمع کرتا ہے جسے عقل نہیں۔ (ابن عساکر مربرقم : ٦٠٨٦)
8589- عن أبي الدرداء قال: الدنيا دار من لا دار له، ولها يجمع من لا عقل له. "كر". ومر برقم [6086] .
তাহকীক: