কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৫৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٩٠۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہے صرف اللہ تعالیٰ کا ذکر یا جو اس کے قریب کرے، عالم اور سیکھنے والا بھلائی میں شریک ہیں اور تمام لوگ مکھیوں کی مانند ہیں ان میں کوئی بھلائی نہیں۔ (ابن عساکر ومربرقم : ٦٠٨٤)

تشریح :۔۔۔ معلوم ہوا کہ علم سیکھنے اور سکھانے والا شعبہ اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول رہنے والا طبقہ رحمت خداوندی کے مستحق ہیں۔
8590- عن أبي الدرداء قال: الدنيا ملعونة ملعون ما فيها، إلا ذكر الله وما أولى إليه، والعالم والمتعلم في الخير شريكان، وسائر الناس همج لا خير فيهم. "كر". ومر برقم [6084] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٩١۔۔۔ ابوذر ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ مال کی کثرت غنا (مالداری) ہے اور مال کی کمی فقر وفاقہ ہے ؟ مالداری تو دل کی ہے اور محتاجی ہے، جس کے دل میں غناہو تو دنیا کی کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچاسکتی اور جس کے دل میں محتاجی ہو تو دنیا کی بیشتر چیزیں بھی اسے مالدار نہیں کرسکتیں اسے اس کے دل کا بخل نقصان دے گا۔ (نسائی، ابن حباب ، طبرانی فی الکبیر سعید بن منصور)

تشریح :۔۔۔ عام زبان میں کہتے ہیں فلاں کی آنکھوں میں بھوک ہے۔
8591- يا أبا ذر أترى أن كثرة المال هو الغنى؟ وقلة المال هو الفقر؟ إنما الغنى غنى القلب، والفقر فقر القلب، من كان الغنى في قلبه فلا يضره ما لقي من الدنيا، ومن كان الفقر في قلبه فلا يغنيه ما أكثر له في الدنيا وإنما يضر نفسه شحها. "ن حب طب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٩٢۔۔۔ ابوذر ! کیا تم مال کی زیادتی کو غنا (مالداری) سمجھتے ہو اور مال کی کمی کو فقر خیال کرتے ہو ؟ (جبکہ) ایسا نہیں ، غنا تو دل کا غنا ہے۔ (حاکم )
8592- يا أبا ذر: أترى كثرة المال هو الغنى؟ وترى قلة المال هو الفقر؟ ليس كذلك، إنما الغنى غنى القلب. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دنیا سے دور تھے
٨٥٩٣۔۔۔ تمہیں دنیا کی وہ چیزیں نقصان نہیں پہنچا سکتی جو آخرت کیلئے ہو نقصان دہ وہ چیز ہے جو دنیا کیلئے ہو۔ ابونعیم عن عباس

تشریح :۔۔۔ اس بات میں بہت گہرائی ہے۔
8593- يا أبا ذر إنه لا يضرك من الدنيا ما كان للآخرة، إنما يضر من الدنيا ما كان للدنيا. أبو نعيم عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ایک خادم اور ایک سواری کا کافی ہونا
٨٥٩٤۔۔۔ ابوہاشم بن عتبہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ ان کی عیادت کرتے آئے ، انھیں نیزہ لگا تھا،

(حضرت معاویہ کو دیکھ کر) رونے لگے، حضرت معاویہ نے فرمایا : آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں ؟ کیا درد کی وجہ سے یا دنیا کی حرص کی وجہ سے، آپ نے فرمایا : نہیں ، لیکن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے وصیت کی تھی اور میں چاہتا ہوں کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پیروی کروں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا، شاید تم وہ زمانہ پاؤ جس میں لوگوں کے مابین مال تقسیم کیے جائیں گے، تو تمہارے لیے مال میں سے، ایک خادم اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایک سواری کافی ہے۔ (ابن عساکر وقال فیہ سمرۃ بن سھم الاسدی ، قال : بن المدینی مجھول لانعلم احداروی عنہ غیر ابی وائل)
8594- عن أبي هاشم بن عتبة أن معاوية عاده وهو طعين، فبكى فقال له معاوية: ما يبكيك؟ أوجع أم حرص على الدنيا؛ قال: لا ولكن رسول الله صلى الله عليه وسلم عهد إلي عهدا، فوددت أني تبعته، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لعلك أن تدرك أموالا تقسم بين أقوام، وإنما يكفيك من جمع المال خادم ومركب في سبيل الله. "كر" وقال: فيه سمرة بن سهم الأسدي، قال ابن المديني: مجهول لا نعلم أحدا روى عنه غير أبي وائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ایک خادم اور ایک سواری کا کافی ہونا
٨٥٩٥۔۔۔ حضرت ابو ہریرہ (رض) محمد بن یونس، عبداللہ داؤد التمار الواسطی اسماعیل بن عیاش ، ثوربن یزید، حضرت مکحول، حضرت ابو ہریرہ (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ابوہریرہ ! تو ایسی قوم کی پیروی لازما کرنا کہ جب (حساب سے) لوگ خوفزدہ ہوں گے وہ بےخوف ہوں گے اور جب لوگ امن طلب کررہے ہوں گے وہ اطمینان سے ہوں گے۔

آخری دور میں میری امت کے کچھ لوگ ہوں گے جن کا حشر انبیاء کے ساتھ ہوگا، لوگ انھیں دیکھ کر سمجھیں گے کہ یہ انبیاء ہیں، کیونکہ ان کی حالت ایسی ہوگی، میں انھیں پہچانتا ہونگا میں کہوں گا : یہ میری امت (کے لوگ) ہیں، ( اس وقت) سب لوگ کہیں گے، یہ تو انبیاء ہیں، وہ لوگ بجلی اور ہوا کی طرح سے گزرجائیں گے، لوگوں کی آنکھیں ان کے نور سے چندھیا جائیں گی۔

میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے بھی ان کے عمل کی طرح (عمل کرنے کا) حکم دیں، تاکہ میں بھی ان کے ساتھ مل جاؤں، آپ نے فرمایا : ابوہریرہ ! وہ بہت دشوار راہ، یعنی انبیاء کی راہ چلے، انھوں نے باوجود یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سیر کیا بھوک طلب کی، اور باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں کپڑا پہنایا انھوں نے کپڑے کی تنگی مانگی، باوجودیکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سیراب کیا انھوں نے پیاس مانگی، یہ ساری چیزیں اللہ تعالیٰ کے پاس جو کچھ موجود ہے اس کی امید میں چھوڑدیں۔

حلال کے حساب کے خوف سے حلال چھوڑدیا، انھوں نے دنیاکا ساتھ دیا لیکن دنیا میں ان کے دل نہیں لگے، کاش اللہ تعالیٰ مجھے اور انھیں جمع کردے ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے اشتیاق میں روپڑے، اور فرمایا : ابوہریرہ ! اللہ تعالیٰ جب زمین والوں کو عذاب دینے کا ارادہ کرتے ہیں تو جب ان کی بھوک اور پیاس دیکھتے ہیں تو عذاب روک دیتے ہیں ابوہریرہ ان کی راہ

اختیار کرنا، جو ان کی روش سے پھرے گا سخت حساب میں باقی رہے گا۔

مکحول فرماتے ہیں : چنانچہ میں نے ابوہریرہ (رض) کو دیکھا کہ وہ بھوک اور پیاس کی وجہ سے دہرے ہورہے ہیں ،

میں نے ان سے عرض کیا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے، چنانچہ آپ پر ترس کھائیں ، آپ نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک قوم کا ذکر فرمایا اور مجھے ان کے طریقہ پر رہنے کا حکم دیا ہے سو مجھے خوف رہتا ہے کہ وہ قوم اپنا راستہ طے کرلے اور ابوہریرہ ضساب کی شدت میں باقی رہ جائے۔ (الدیلمی قال فی المیزان : عبداللہ ابن داؤدالزاسطی التمار، قال البخاری : فیہ نظر، وقال نسائی : ضعیف، وقال ابوحاتم لیس بقوی وفی احادیتہ مناکیر، وتکلم فیہ ابن حبان، وقال ابن عدی ، ھوممالابائس بہ ان شاء اللہ، قال الدھبی بل کل الباس بہ، وروایاتشھد بصحۃ ذلک، وقد قال البخاری : فیہ نظرولا یقول ھذا الافیمن یتھمہ غالبا)

تشریح :۔۔۔ سندا اس حدیث میں ضعف ہے اور ایک گروہ ضعیف روایات کو ہی اپنا مطمح نظر سمجھتا ہے، اور آج کل کے پاگلوں ،

خبطیوں ، اور کمزوردماغ لوگوں کو اس کا محل سمجھتا ہے، حالانکہ یہ سراسر غلط تاویل ہے روایت میں دو باتیں قابل غور ہیں، کہ وہ لوگ حساب کے خوب سے حلال سے پرہیز کریں گے معلوم ہوا وہ علم والے ہوں گے، دوم دنیا سے تعلق رکھیں گے لیکن دنیا ان کے دل میں گھر نہیں کرے گی، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ تارک دنیا اور جنگلوں میں رہنے والے نہ ہوں گے، اس واسطے اس سے لامحالہ وہ لوگ مراد ہیں جو علم کے ساتھ ساتھ آخرت کی قوی فکر رکھتے ہوں، اور موجود ہ دور کا نیم برہنہ، آدھا ننگافرقہ ہرگز مراد نہیں، یہ جاہل بےدین ، مشرک اور غلط عقائد کے مالک ہوتے ہیں۔
8595- "أبو هريرة رضي الله عنه" عن محمد بن يونس: حدثنا عبد الله بن داود التمار الواسطي، حدثنا إسماعيل بن عياش عن ثور بن يزيد عن مكحول عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا أبا هريرة عليك بطريق قدم إذا فزع الناس لم يفزعوا، وإذا طلب الناس الأمان لم يخافوا، قوم من أمتي في آخر الزمان يحشرون يوم القيامة محشر الأنبياء إذا نظر الناس إليهم ظنوا أنهم أنبياء بما يرون من حالهم فأعرفهم فأقول أمتي فيقول الخلائق: إنهم ليسوا بأنبياء؛ فيمرون مثل البرق والريح، تغشى من نورهم أبصار أهل الجمع، فقلت: يا رسول الله فمرني بمثل عملهم،لعلي ألحق بهم، فقال: يا أبا هريرة ركبوا طريقا صعب المدرجة، مدرجة الأنبياء، طلبوا الجوع بعد أن أشبعهم الله تعالى، وطلبوا العرى بعد أن كساهم الله تعالى، وطلبوا العطش بعد أن أرواهم الله تعالى، تركوا ذلك رجاء ما عند الله، تركوا الحلال مخافة حسابه، وصاحبوا الدنيا فلم تشغل قلوبهم، تعجب الملائكة من طواعيتهم لربهم، طوبى لهم، ليت الله عز وجل قد جمع بيني وبينهم، ثم بكى رسول الله صلى الله عليه وسلم شوقا إليهم، فقال: يا أبا هريرة إذا أراد الله بأهل الأرض عذابا فنظر إلى ما بهم من الجوع والعطش كف ذلك العذاب عنهم، فعليك يا أبا هريرة بطريقهم، من خالف طريقهم بقي في شدة الحساب، قال مكحول: فقد رأيت أبا هريرة وإنه ليتلوى من الجوع والعطش، فقلت له: رحمك الله أرفق بنفسك، فقد كبرت سنك، فقال: يا بني إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر قوما وأمرني بطريقهم، فأخاف أن يقطع القوم طريقهم، ويبقى أبو هريرة في شدة الحساب. الديلمي قال في الميزان: عبد الله بن داود الواسطي التمار، قال "خ": فيه نظر، وقال "ن": ضعيف، وقال أبو حاتم: ليس بقوي وفي أحاديثه مناكير، وتكلم فيه "حب"، وقال "عد": هو ممن لا بأس به إن شاء الله، قال الذهبي: بل كل البأس به، ورواياته تشهد بصحة ذلك، وقد قال "خ": فيه نظر ولا يقول هذا إلا فيمن يتهمه غالبا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٥٩٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ کی کسی گلی میں چل رہا تھا، آپ نے فرمایا : ابوہریرہ ! زیادہ مال والے ہلاک ہوئے اور ایک روایت میں ہے زیادہ مال والے ہی کم حصہ والے ہیں، ہاں جس نے ایسا ، ایسا کہا، اور آپ نے اپنے دائیں اور بائیں طرف اشارہ کیا، اور وہ بہت تھوڑے ہیں۔

پھر فرمایا : ابوہریرہ ! کیا تمہیں جنت کا خزانہ نہ بتاؤں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم کہا کرو : لاحول ولا قوۃ الا باللہ ولا ملجاولا منجامن اللہ الاالیہ، نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے، اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ نہ کوئی پناہ گاہ ہے اور نہ نجات کی جگہ ، پھر فرمایا : ابوہریرہ ! جانتے ہو اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر کیا حق ہے اور لوگوں کا اللہ تعالیٰ پر کیا حق ہے ؟ میں نے عرض کیا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کا لوگوں پر حق ہے کہ وہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں، جب وہ ایسا کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا حق یہ ہے کہ انھیں عذاب نہ دے۔ (مسند احمد، حاکم)
8596- عن أبي هريرة: كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم في بعض حيطان المدينة، فقال: يا أبا هريرة هلك المكثرون، وفي لفظ: المكثرون هم الأقلون، إلا من قال هكذا، كذا وكذا، وأومى عن يمينه، وعن يساره، وقليل ما هم، ثم قال: يا أبا هريرة هل أدلك على كنز من كنوز الجنة قلت: بلى يا رسول الله، قال تقول: لا حول ولا قوة إلا بالله، ولا ملجأ ولا منجا من الله إلا إليه، ثم قال: يا أبا هريرة هل تدري ما حق الله عز وجل على الناس، وما حق الناس على الله، قلت: الله ورسوله أعلم، قال: فإن حق الله على الناس أن يعبدوه ولا يشركوا به، فإذا فعلوا ذلك فحق عليه أن لا يعذبهم. "حم ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٥٩٧۔۔۔ حضرت ابو واقد (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم لوگ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جاتے، آپ نے جب قرآن مجید کا کوئی حصہ نازل ہوتا تو ہمیں آگاہ فرماتے ، ایک دن ہم سے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ہم نے مال (کے اسباب) نماز قائم کرنے زکوۃ ادا کرنے کے لیے اتارا ہے، اگر انسان کی مال کی ایک وادی ہو تو وہ سردی کی تلاش میں لگ جائے، اور اگر اس کے لیے دوسری ہو تو تیسری کی تلاش میں لگ جائے گا، اور انسان کا پیٹ مٹی ہی بھرسکتی ہے اور اللہ تعالیٰ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو توبہ کرے۔ (الحسن بن سفیان و ابونعیم ومربرقم : ٧٤٣٢)
8597- عن أبي واقد قال: كنا نأتي النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا نزل عليه شيء من القرآن أخبرنا به، فقال لنا ذات يوم: قال الله: إنا أنزلنا المال لإقامة الصلاة، وإيتاء الزكاة، ولو أن لابن آدم واديا من المال، لابتغى إليه الثاني، ولو أن له الثاني، لابتغى إليه الثالث، ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب، ويتوب الله على من تاب. الحسن بن سفيان وأبو نعيم. ومر برقم [7432] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٥٩٨۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں :(ایک دفعہ) میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھ کر رونے لگی، آپ نے فرمایا : کیوں ہو ؟ اگھر میرے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو تمہارے لیے اتنی کافی ہے جتنا کسی گھڑسوار کا توشہ ہوتا ہے اور ہرگز مالداروں سے (زیادہ) میل جول نہ رکھنا۔ (ابوسعید ابن الاعرابی فی الزھد
8598- عن عائشة قالت: جلست أبكي عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: ما يبكيك؟ إن كنت تريدين اللحوف بي فيكفيك من الدنيا مثل زاد الراكب، ولا تخالطين الأغنياء. أبو سعيد ابن الأعرابي في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৫৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٥٩٩۔ ابن سیرین سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہا جاتا تھا کہ مسلمان ، درہم کے پاس بھی مسلمان ہی رہتا ہے (بیھقی فی الزھد
8599- عن ابن سيرين قال: كان يقال المسلم المسلم عند الدرهم. "ق" في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٦٠٠۔۔۔ عمروبن ثقفی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا ا : اے جو شخص مجھ پر ایمان لایا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جو کچھ میں نے پیش کیا وہ آپ کی طرف سے طرحق ہے تو اس کا مال کم کردے اور اپنی ملاقات اس کے لیے محبوب بنادے، اور موت جلد لا، اور جو مجھ پر ایمان نہیں لایا اور نہ میری تصدیق کی، اور اسے معلوم نہیں کہ جو کچھ میں لایا وہ حق ہے تو اس کی اولاد اور مال بڑھادے اور اس کی عمر لمبی فرما۔ (الغوی وابن مندہ)
8600- عن عمرو بن غيلان الثقفي عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال: اللهم من آمن بي وصدقني أن ما جئت به الحق من عندك، فأقل ماله وحبب إليه لقاءك، وعجل له القضاء، ومن لم يؤمن بي، ولم يصدقني ولم يعلم أن ما جئت به الحق فأكثر ماله وولده، وأطل عمره. البغوي وابن منده.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کے خزانہ کا راز
٨٦٠١۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جریر ! میں تمہیں دنیا اور اس کے دودھ کی مٹھاس اور دودھ چھوڑنے کی کڑواہٹ سے ڈراتا ہوں ۔ (الدیلمی)
8601- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا جرير إني أحذرك الدنيا، وحلاوة رضاعها، ومرارة فطامها. الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ دنیا
٨٦٠٢۔۔۔ (الصدیق (رض)) حضرت ابوامامہ الباھلی (رض) حضرت ابوبکر الصدیق (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : تمہارا قرض، تمہاری آخرت کے لیے اور تمہارا درھم گزرواقات کے لیے ہونا چاہیے، اس شخص میں کوئی بھلائی نہیں جس کے پاس درھم نہیں۔ (بیھقی شعب الایمان)
8602- "الصديق رضي الله عنه" عن أبي أمامة الباهلي عن أبي بكر الصديق، قال دينك لمعادك، ودرهمك لمعاشك، ولا خير في امرء بلا درهم. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ دنیا
٨٦٠٣۔۔۔ (علی (رض)) عاصم بن ضمرۃ سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے سامنے کی خدمت بیان کی، آپ نے فرمایا : دنیا سچائی کا گھر ہے اس کے لیے جو اس کی تصدیق کرے، اور اس کے لیے نجات کا گھر ہے جو اس سے سمجھے اور مالداری کا گھر ہے اس کے لیے جو اس میں سے توشہ حاصل کرے ، اللہ تعالیٰ کی وحی کے نازل ہونے کی جگہ ہے، اس کے فرشتوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے، اس کے فرشتوں کے نماز پڑھنے کی جگہ ہے اس کے انبیاء کی سجدہ گاہ ہے اس کے اولیاء کی تجارت کی منڈی ہے جس میں انھوں نے رحمت کا نفع اٹھایا، جس سے جنت کو کمایا، تو اس کی کیا مذمت کی جائے ؟

اس نے اپنی جدائی کا اعلان کردیا اور اپنے فراق کا نعرہ بلند کیا، اور اپنے سرور کی سرور کے ساتھ اور اپنی آزمائش کی آزمائش کے ساتھ تشبیہ دی، تاکہ ڈرایا جائے اور رغبت دلائی جائے اے دنیا کی مذمت کرنے والے ! اپنے نفس کو بہلانے والے، تجھے کب دنیا نے دھوکا دیا ککب تیرے سامنے قابل مذمت کام کیا ہے، کیا تیرے آباء و اجداد کو بوسیدگی میں بچھاڑنے کی وجہ سے یا تیری ماؤں کو تحت ثریٰ میں بجھاڑنے کی وجہ سے ، کتنی بار تو اپنے ہاتھوں سے بیمار ہوا، اور اپنی ہتھیلیوں کے ذریعہ رنجور مریض، تو شفاطلب کرنے لگا اور اطباء سے اس بیماری کی تشخیص کرنے کا وصف بیان کرانے لگا، تجھے تیری دوا فائدہ نہ دے اور تیرا رونا نفع بخش نہ ہو۔ (الدینوری ، ابن عساکر)
8603- "علي كرم الله وجهه" عن عاصم بن ضمرة قال: ذم رجل الدنيا عند علي، فقال علي: الدنيا دار صدق لمن صدقها، ودار نجاة لمن فهم عنها: ودار غنى لمن تزود منها، مهبط وحي الله، ومصلى ملائكته، ومسجد أنبيائه، ومتجر أوليائه، ربحوا فيها الرحمة، فاكتسبوا فيها الجنة، فماذا يذمها؟ وقد آذنت ببينها، ونادت بفراقها، وشبهت بسرورها السرور، وببلائها البلاء، ترهيبا وترغيبا، فيا أيها الذام للدنيا المعلل نفسه، متى خدعتك الدنيا، أو متى استذمت إليك؛ أبمصارع آبائك في البلى؛ أم بمصارع أمهاتك تحت الثرى، كم مرضت بيديك، وعللت بكفيك؛ تطلب الشفاء وتستوصف له الأطباء، لا يغني عنك دواؤك، ولا ينفعك بكاؤك. الدينوري "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ دنیا
٨٦٠٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جو اپنی دنیا کی خاطر اپنی آخرت نہ چھوڑے، اور اپنی دنیا کو اپنی آخرت کی خاطر ترک کرے۔ (علی بن سعد فی کتاب الطاعۃ والعصیان ، ابن عساکر)
8604- عن علي قال: خياركم من لم يدع آخرته لدنياه، ولا دنياه لآخرته. علي بن معبد في كتاب الطاعة والعصيان "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ دنیا
٨٦٠٥۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : وہ تمہارے اچھے لوگ ہیں جو آخرت کے لیے (بالکل) دنیا چھوڑ دیں، اور نہ وہ اچھے لوگ ہیں جو دنیا کیلئے آخرت چھوڑدین ، لیکن بہتر وہ لوگ ہیں جو ہر ایک سے حاصل کریں (ابن عساکر
8605- عن حذيفة قال: ليس خياركم من ترك الدنيا للآخرة، ولا من ترك الآخرة للدنيا، ولكن خياركم من أخذ من كل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پسندیدہ دنیا
٨٦٠٦۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تمہارے اچھے لوگ وہ ہیں جو اپنی آخرت کے لیے دنیا اور اپنی دنیا کے لیے اپنی آخرت لیتے ہیں۔ (ابن عساکر)
8606- عن حذيفة قال: خياركم الذين يأخذون من دنياهم لآخرتهم ومن آخرتهم لدنياهم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیب پوشی۔۔۔ کسی کا عیب چھپانا
٨٦٠٧۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے (فرماتے ہیں) کہ ایک شخص حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا اور آکر کہا : میری ایک بیٹی ہے جسے میں نے زندہ درگور کردیا تھا لیکن ہم نے اسے مرنے سے پہلے باہر نکال لیا، اس نے ہمارے ساتھ اسلام کا زمانہ پایا، اور مسلمان ہوگئی ، پھر جب مسلمان ہوئی تو اللہ تعالیٰ کی کوئی حد اس پر لگ گئی ، تو اس نے چھری لے کر اپنے آپ کو ذبح کرنا چاہا تو ہم نے اسے دیکھ لیا، اس اپنی کچھ رگیں کاٹ لی تھی ، ہم نے اس کا علاج معالجہ کیا تو وہ ٹھیک ہوگئی، پھر اس نے اچھی توبہ کی، اب کسی قوم کی طرف ست اس کا رشتہ آیا ہے کیا میں اس کی حالت سے انھیں آگاہ کروں ؟

حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم اس چیز کو ظاہر کرنے ارادہ کرتے ہو جسے اللہ تعالیٰ نے چھپایا ہے اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر لوگوں میں سے کسی کو بھی تم نے اس کی حالت سے خبردار کیا تو میں تمہیں شہر والوں کے لیے عبرت کا نشان بنادوں گا، بلکہ اس کا نکاح پاکدامن مسلمان کی طرح کرو۔ (ھناد الحارث)

تشریح :۔۔۔ عموماً لوگوں کو عادت ہوتی ہے کہ خود بخود دوسروں کے عیوب بتانا شروع کردیتے ہیں، اپنے ملنے والوں سے یہ بات پہلے کردی جائے کہ بھئی میرے سامنے کسی کی برائی نہ کی جائے ورنہ اس برائی کا سدباب مشکل ہے۔
8607- عن الشعبي أن رجلا أتى عمر بن الخطاب، فقال: إن لي ابنة كنت وأدتها في الجاهلية، فاستخرجناها قبل أن تموت، فأدركت معنا الإسلام فأسلمت، فلما أسلمت أصابها حد من حدود الله تعالى، فأخذت الشفرة لتذبح نفسها فأدركناها، وقد قطعت بعض أوداجها، فداويناها حتى برئت، ثم أقبلت بعد بتوبة حسنة وهي تخطب إلى قوم فأخبرهم من شأنها بالذي كان؟ فقال عمر: أتعمد إلى ما ستر الله فتبديه؛ والله لئن أخبرت بشأنها أحدا من الناس لأجعلنك نكالا لأهل الأمصار، بل أنكحها إنكاح العفيفة المسلمة. هناد والحارث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیب پوشی۔۔۔ کسی کا عیب چھپانا
٨٦٠٨۔۔۔ حضرت شعبی سے روایت ہے کہ حضرت عمر کسی گھر میں تھے آپ کے ساتھ جریربن عبداللہ بھی تھے (وہاں) حضرت عمر نے (کوئی) خوشبو سونگھی ، تو آپ نے فرمایا اس خوشبو والے کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اٹھے اور اس سے وضوکرے، تو حضرت جریر نے کہا : امیرالمومنین ! بھلا ساری قوم وضو کرے، تو حضرت عمر نے فرمایا : اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، آپ جاہلیت میں بہترین سردار تھے اور اسلام میں بھی بہترین سردار ہو۔ (ابن سعد)
8608- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب كان في بيت ومعه جرير بن عبد الله، فوجد عمر ريحا، فقال: عزمت على صاحب هذه الريح لما قام فتوضأ، فقال جرير: يا أمير المؤمنين أو يتوضأ القوم جميعا؛ فقال عمر: رحمك الله، نعم السيد كنت في الجاهلية، نعم السيد أنت في الإسلام. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیب پوشی۔۔۔ کسی کا عیب چھپانا
٨٦٠٩۔۔۔ حضرت جریر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پیچھے نماز پڑھ رہے تھے، (دوران نماز) ایک شخص نے سانس لیا، حضرت عمر نماز سے فارغ ہوئے تو فرمانے لگے : میں اس سانس والے کو قسم دیتا ہوں کہ وہ اٹھے اور وضوکرکے اپنی نماز لوٹائے، تو کوئی بھی نہ اٹھا، میں نے کہا : امیرالمومنین ! اسے قسم نہ دیں بلکہ ہم سب سے کہیں یوں ہماری نماز نقل ہوجائے گی، اور اس ایک شخص کی فرض ، تو حضرت عمر نے فرمایا : میں تمہیں اور اپنے آپ سب کو کہتا ہوں کہ ایسا کرو چنانچہ انھوں نے وضو کیا اور پھر نماز دہرائی۔ (ابن ابی الدنیا فی کتاب الاشراف)
8609- عن جرير قال: تنفس رجل ونحن خلف عمر بن الخطاب فصلى، فلما انصرف قال: أعزم على صاحبها إلا قام فتوضأ، فأعاد صلاته، فلم يقم أحد، فقلت يا أمير المؤمنين لا تعزم عليه، ولكن اعزم علينا كلنا فتكون صلاتنا تطوعا، وصلاته الفريضة، فقال عمر: فإني أعزم عليكم، وعلى نفسي فتوضأوا وأعادوا الصلاة. ابن أبي الدنيا في كتاب الأشراف.
tahqiq

তাহকীক: