কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৬১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شفاعت و سفارش
٨٦١٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : جب تم لوگ ہمارے پاس آؤ تو پوری کوشش کرکے معافی کا سوال کرو، کیونکہ یہ بات مجھے زیادہ پسند ہے کہ میں سزا میں غلطی کرنے کے بجائے معافی میں غلطی کروں۔ (بیھقی فی السنن)
8610- عن عمر رضي الله عنه قال: إذا حضرتمونا فاسألوا في العفو جهدكم، فإني إن أخطئ في العفو أحب إلي من أن أخطئ في العقوبة. "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شفاعت و سفارش
٨٦١١۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں ایک مخزومی سامان مانگ کرلے جاتی تھی اور پھر اس کا انکار کردیتی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم صادر فرمادیا، اس کے گھر والے حضرت اسامہ کے پاس آکر گفتگو کرنے لگے، اسامہ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس عورت کے بارے میں (سفارشانہ) گفتگو کی، آپ نے فرمایا : اسامہ ! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی کسی حد میں ( سفارشانہ) گفتگو کرتے نہ دیکھوں ، پھر آپ خطاب کرنے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : تم سے پہلے جو لوگ ہوئے اس کی وجہ یہ تھی کہ جب ان کا کوئی معزز شخص چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے ، اور کوئی کمزور یہ جرم کرتا اس کے ہاتھ کاٹ دیتے، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر (بالفرض) فاطمۃ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی چوری کرتی تو میں اس کا ہاتھ اسی طرح کاٹتا جس طرح مخزومی کا یاتھ کاٹا جارہا ہے۔ (عبدالرزاق، مربرقم۔ ٦٤٩٤)
8611- عن عائشة قالت: كانت امرأة مخزومية تستعير المتاع وتجحده، فأمر النبي صلى الله عليه وسلم بقطع يدها، فأتى أهلها أسامة فكلموه، فكلم أسامة النبي صلى الله عليه وسلم فيها، فقال: يا أسامة لا أراك تكلم في حد من حدود الله، ثم قام النبي صلى الله عليه وسلم خطيبا فقال: إنما هلك الذين ممن كان قبلكم أنه إذا سرق فيهم الشريف تركوه، وإذا سرق فيهم الضعيف قطعوه1 والذي نفسي بيده لو كانت فاطمة بنت محمد لقطعت يدها - فقطع يد المخزومية. "عب". مر برقم [6494] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٢۔۔۔ (عمر (رض)) حضرت انس (رض) سے روایت ہے انھوں نے حضرت عمر کو ایک شخص کو سلام کا جواب دیتے سنا جس نے آپ کو سلام کیا تھا، پھر عمر نے اس سے پوچھا : تم کیسے ہو ؟ تو اس نے کہا : میں آپ کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں تو حضرت عمر نے فرمایا : میں تم سے یہی چاہتا تھا۔ ( مالک ، وابن المبارک بیھقی فی الشعب)
8612- "عمر رضي الله عنه" عن أنس بن مالك أنه سمع عمر بن الخطاب سلم عليه رجل، فرد عليه السلام، ثم سأله عمر كيف أنت فقال: أحمد إليك الله، فقال عمر: ذاك الذي أردت منك. مالك وابن المبارك "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : شکر گزار اللہ تعالیٰ کے مزید (انعام) کے ساتھ ہوں گے، سو زائد (انعام) تلاش کریں ، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم شکر کروگے تو میں (انعامات میں ) اضافہ کروں گا۔ (الدینوری)
8613- عن عمر قال: أهل الشكر مع مزيد من الله، فالتمسوا الزيادة وقد قال الله: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} . الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٤۔۔۔ حضرت حسن بصری (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا : اپنے دنیاوی رزق پر قناعت کرو، کیونکہ رحمن تعالیٰ نے اپنے کچھ بندوں کو بعض پر ، رزق میں فضلیت بخشی تاکہ سب کو آزمائیں ، جس کیلئے رزق میں وسعت بخشی اسے یوں آزماتے ہیں کہ اس کا شکر کیسا ہے ؟ اور اس کا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ہے کہ جس چیز کے بارے میں اسے رزق بخشا اور قدرت عطا کی وہ اپنے واجب حق ادائیگی کرے (ابن ابی حاتم
8614- عن الحسن البصري قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري: إقنع برزقك من الدنيا، فإن الرحمن فضل بعض عباده على بعض في الرزق بلاء يبتلي به كلا، فيبتلي به من بسط له كيف شكره؟ وشكره لله أداؤه للحق الذي افترض عليه فيما رزقه وحوله. ابن أبي حاتم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٥۔۔۔ حضرت (علی (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے صحابہ کا ایک لشکر روانہ کیا اور فرمایا : اے اللہ ! اگر آپ نے ان لوگوں کو صحیح سالم لوٹایا تو میں آپ ایسا شکر اداس کروں گا جیسا کہ اس کا حق ہے وہ لوگ بغیر کسی تاخیر کے بحفاطت واپس آگئے ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے اللہ تعالیٰ کی وسیع نعمتوں پر ” میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا آپ نے ایسا نہیں کہا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے انھیں صحیح سالم لوٹایا تو میں اس کا شکر ادا کروں گا جیسا کہ اس کا حق ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں نے ادا نہیں کیا ؟ (بیھقی فی الشعب)
8615- "علي رضي الله عنه" عن علي قال: بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم سرية من أهله، فقال: اللهم إن لك علي إن رددتهم سالمين أن أشكرك حق شكرك، فما لبثوا أن جاؤا سالمين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحمد لله على سابغ نعم الله، فقلت: يا رسول الله ألم تقل إن ردهم الله أن أشكره حق شكره؟ فقال: أو لم أفعل؟ "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : پوری نعمت ، جنت میں داخلہ اور جنت میں اللہ کی زیارت و دیدار ہے۔ (اللالکائی)
8616- عن علي قال: من تمام النعمة دخول الجنة، والنظر إلى الله في جنته. اللالكائي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : نعمت شکر کے ساتھ جڑی ہوئی اور شکر مزید (نعمت) کے ساتھ جڑا ہوا، اور یہ دونوں ایک دھاگے میں پروئے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ سے مزید (انعام) اسی وقت ہوگا جب بندے کی طرف سے شکر منقطع ہوجائے۔ (بیھقی الشعب)
8617- عن علي قال: إن النعمة موصولة بالشكر، والشكر متعلق بالمزيد، وهما مقرونان في قرن، ولن ينقطع المزيد من الله حتى ينقطع الشكر من العبد. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٨۔۔۔ محمد بن کعب قرظی سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ایسے نہیں کہ شکر کا دروازہ کھولیں اور مزید (نعمت) کا دروازہ بن کردیں ، اور دعا کا دروازہ کھولیں اور اجابت و قبولیت روک لیں، توبہ کا دروازہ کھولیں اور مغفرت کا روک لیں میں تمہارے سامنے قرآن مجید کی تلاوت کرتا ہوں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تم مجھ سے دعا مانگو میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اگر تم نے شکر کیا تو میں ضرور (نعمتوں میں) اضافہ کروں گا “ اور فرمایا : مجھے یاد کروں گا “ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جس نے کوئی برا کیا یا اپنے آپ پر ظلم کیا پھر اللہ تعالیٰب سے مغفرت طلب کی تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا اور رحیم پائے گا۔ ( ابن ماجہ، العسکری)
8618- عن محمد بن كعب القرظي قال: قال علي بن أبي طالب: ما كان الله ليفتح باب الشكر، ويخزن باب المزيد، وما كان الله ليفتح باب الدعاء ويخزن باب الإجابة، وما كان الله ليفتح باب التوبة ويخزن باب المغفرة، أتلو عليكم من كتاب الله قال الله تعالى: {ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ} وقال: {لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ} وقال: {فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ} وقال: {وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءاً أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُوراً رَحِيماً} 1. "هـ" العسكري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦١٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے جبرائیل نے اپنے رب کی طرف سے آکرکہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اگر آپ اللہ تعالیٰ کی رات دن ایسی عبادت کرنا چاہتے ہیں جیسا کہ اس کی عبادت کا حق ہے توکہو : الحمدللہ حمدادائما مع خلودہ، والحمدللہ حمدادائما لامنتھی لہ دون مشیئتہ والحمدللہ حمداً دائما لایوالی قائلھا الا رضاہ والحمدللہ حمدًادائما کل طرفۃ عین ونفس نفس

تشریح :۔۔۔ میں اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف کرتا ہوں جو ہمیشہ اس کی ہمیشگی کے ساتھ ہو، اللہ تعالیٰ کی ایسی جو ہمیشہ اس کی ہمیشگی کے ساتھ ہو، اللہ تعالیٰ کی ایسی تعریف جو ہمیشہ ہو جس کی اللہ تعالیٰ مشیت کے علاوہ کوئی انتہا نہیں، اللہ تعالیٰ کی ایسی دائمی تعریف کہ جس کا کہنے والا صرف اللہ تعالیٰ کے قریب ہو اللہ تعالیٰ کی ہمیشہ تعریف جو ہر آنکھ کے جھپکنے اور ہر سانس کے چلنے کے ساتھ ہو۔ (الخرائطی فی الشکر)
8619- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قال لي جبريل عن ربه: يا محمد إن سرك أن تعبد الله يوما وليلة حق عبادته فقل الحمد لله حمدا دائما مع خلوده، والحمد لله حمدا دائما لا منتهى له دون مشيئته، والحمد لله حمدا دائما لا يوالي قائلها إلا رضاه والحمد لله حمدا دائما كل طرفة عين ونفس نفس. الخرائطي في الشكر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٠۔۔۔ عروہ بن رویم سے روایت ہے کہ عبدالرحمن بن فرط اپنے منبر پر چڑھے تو یمنی لوگوں پر زعفران ، اور قضاعہ والوں پر زردرنگ دیکھا تو کہا : تیری فضیلت و کرامت تو کسی قدر ظاہر ہے تیری کتنی وسعت ہے تو کیسی نعمت ہے، لوگو ! جان لو ! کوچ کرنے والے کی قوم نے کسی وقت اپنے پڑوسی سے کوچ کیا تو وہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمت سے زیادہ سخت ہے وہ اسے لوٹا نہیں سکتے انعام کرنے رب العالمین کے شکر کرنے کی وجہ سے نعمت، جس پر نعمت کی جائے قائم رہتی ہے۔ (ابن عساکر)
8620- عن عروة بن رويم أن عبد الرحمن بن قرط صعد منبره، فرأى الزعفران في أهل اليمن، والعصفر في قضاعة، فقال: يا لك فضلا يا لك كرامة، ما أظهرك، يا لك نعمة ما أسبغك، اعلموا أيها الناس إنه ما ظعن عن جاره قوم ظاعن قط أشد عليهم من نعمة الله لا يطيقون ردها، وإنه قامت النعمة على المنعم عليه بالشكر للمنعم لله رب العالمين. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢١۔۔۔ محمد بن مسلمہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک دن ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے آپ حضرت حسان بن ثابت سے فرمایا : اے حسان ! جاہلیت کا کوئی قصیدہ مجھے سناؤ، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تم سے جاہلیت کے اشعار اور انھیں نقل کرنے کا گناہ ہٹادیا ہے، اور ایک روایت میں ہے سامنے جاہلیت کی وہ اشعار پیش کرو، جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہمارے سے معاف کیا ہے، آپ نے الاعشی کا وہ قصیدہ پڑھا جس میں اس نے علقمہ بن علاثہ کی ہجو کی ہے۔

اے علقمہ تجھے عامر سے کوئی نسبت نہیں، ٹوٹے تانتوں والا اور تانت لگانے والا، جو بہت زیادہ ہجو پر مشتمل ہے پر جس میں علقمہ کی برائی بیان کی ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسان ! میری اس مجلس کے بعد پھر میرے سامنے یہ قصیدہ نہ پڑھنا،

اور دوسری روایت میں ہے آج کے بعد میرے سامنے اس طرح کا قصیدہ نہ پڑھنا۔

حضرت حسان عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! آپ مجھے ایسے شخص ( کی ہجو) سے روک رہے ہیں جو مشرک تھا اور قیصر کے پاس ٹھہرا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسان ! جو لوگوں کا زیادہ شکریہ ادا کرتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا بھی زیادہ زشکر گزار ہوتا ہے، قیصر نے ابوسفیان بن حرب سے میرے متعلق پوچھا : تو انھوں نے (جوابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) میرا مرتبہ گھٹانا چاہا، اور اس شخص سے پوچھا تو اس نے اچھی بات کہی یوں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کا اس بات پر شکریہ ادا کیا۔

اور ایک روایت میں ہے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حسان ! قیصر کے پاس میرا تذکرہ ہوا تو وہاں ابوسفیان اور علقمہ بن علاثہ موجود تھے، ابوسفیان (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) انھوں نے میرے متعلق کوئی نہ کوئی برائی نکالنے کی کوشش کی اور علقمہ نے اچھی بات کی، اور جو لوگوں کا شکریہ ادا نہیں کرتا وہ اللہ تعالیٰ کا بھی شکرگزار نہیں۔ (ابن عساکر)
8621- عن محمد بن مسلمة قال: كنا يوما عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال لحسان بن ثابت: يا حسان أنشدني قصيدة من شعر الجاهلية، فإن الله قد وضع عنك آثامها في شعرها وروايتها - وفي لفظ: أنشدنا من شعر الجاهلية، ما عفا الله لنا فيه، فأنشده قصيدة الأعشى هجا بها علقمة بن علاثة:

علقم ما أنت إلى عامر ... الناقض الأوتار والواتر

في هجاء كثير هجا به علقمة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: يا حسان لا تعد تنشدني هذه القصيدة بعد مجلسي هذا - وفي لفظ: لا تنشدني مثل هذا بعد اليوم، قال: يا رسول الله تنهاني عن رجل مشرك مقيم عند قيصر؟ فقال صلى الله عليه وسلم: يا حسان أشكر الناس للناس أشكرهم لله، وإن قيصر سأل أبا سفيان بن حرب عني، فتناول مني، وسأل هذا فأحسن القول فشكره رسول الله صلى الله عليه وسلم على ذلك، وفي لفظ فقال: يا حسان إني ذكرت عند قيصر، وعنده أبو سفيان بن حرب وعلقمة بن علاثة، فأما أبو سفيان فلم يترك في، وأما علقمة فحسن القول، وإنه لا يشكر الله من لا يشكر الناس. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٢۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو شخص یہ سمجھے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی کھانے پینے کے علاوہ کوئی نعمت نہیں، تو وہ کم سمجھ ہے اس کے عذاب کا وقت آگیا۔ (ابن عساکر)
8622- عن أبي الدرداء قال: من لم ير أن لله عليه نعمة إلا في الأكل والشرب فقد قل فهمه، وحضر عذابه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
شکر گزار اور ناشکر بندے

٨٦٢٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : بنی اسرائیل میں تین شخص تھے، برص والا، گنجا اور اندھا، اللہ تعالیٰ نے انھیں آزماناچاہا، ان کی طرف ایک فرشتہ برص والے کے پاس آیا، اور کہا : تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے ؟ وہ بولا : اچھا رنگ اور اچھی جلد کیونکہ لوگ مجھ سے گھن کھاتے ہیں ، فرشتہ نے کہا : اور مال کونسا زیادہ پسند ہے ؟ اس نے کہا : اونٹ، فرشتہ نے اس دس ماہ کی گابھن اونٹنی دی، اور کہا (اللہ تعالیٰ ) تجھے اس میں برکت دے۔

پھر وہ گنجے کے پاس آیا ، اور کہا : تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے ؟ اس نے کہا : اچھے بال اور یہ بیماری ختم ہوجائے، کیونکہ لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہیں، فرشتہ نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو اس کا گنج ختم ہوگیا اور اسے اچھے بال دے دیئے ، پھر کہا : کونسا مال تجھے زیادہ اچھا لگتا ہے ؟ اس نے کہا : گائے ، تو فرشتہ نے اسے حاملہ گائے دی اور کہا تجھے اس میں برکت ہو۔

پھر وہ اندھے کے پاس آیا، تجھے سب سے زیادہ کیا پسند ہے ؟ وہ کہنے لگا : کہ اللہ تعالیٰ میری بنیائی لوٹا دے، تاکہ میں اس سے لوگوں کو دیکھوں ، فرشتہ نے اس کی آنکھوں پر ہاتھ پھیرا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بنیائی لوٹادی، فرشتہ نے کہا : کونسا مال زیادہ پسند ہے ؟ اس کے کہا : بکریاں ، تو فرشتہ نے اسے ایک بچہ دینے بکری دی، بعد میں ان دونوں نے بچے دیئے اور اس نے بھی بچہ دیا، اس کے پاس اونٹوں کی ایک وادی، اس کے پاس گائیوں کی ایک وادی اور اس کے پاس کی ایک وادی تھی۔

(کچھ عرصہ کے بعد) وہ فرشتہ اس برص والے کے پاس اسی کی شکل و صورت میں آیا اور کہا : میں مسکین آدمی ہوں، میرے سفر کے اسباب ختم ہوگئے، آج اللہ تعالیٰ اور پھر تمہارے علاوہ میرا کوئی سہارا نہیں، میں تجھ سے ذات کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے اچھی جلد اور اچھا رنگ بخشا ، اور اونٹوں کی شکل میں سے مال بخشا، میں ان کے ذریعہ اپنی سفری ضرورتیں پوری کروں گا۔

برص والے نے کہا : حقوق بہت زیادہ ہیں (میں کچھ نہیں کرسکتا) ۔ (فرشتہ نے جو مسکین کی شکل میں تھا) کہا شاید میں

تجھے پہچانتا ہوں کیا تو وہی برص والا نہیں جس سے لوگ نفرت کرتے تھے تو فقیر تھا پھر اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ بخشا وہ کہنے لگا : یہ تو میں نے اپنے بڑوں سے برداشت سے وراثت میں پایا ہے، اس (فرشتہ) نے کہا : اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے پہلے کی طرح کردے۔

پھر وہ گنجے کے پاس اس کی شکل و صورت میں آیا اور اس سے بھی وہی کچھ کہا جو برص والے سے کہا تھا، اس نے بھی وہی جواب دیا، جو اس نے دیا تھا اس (فرشتہ) نے کہا : اگر تو جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ تجھے پہلے کی طرح کردے، پھر وہ اندھے کے پاس اس کی شکل و صورت میں آیا اور کہا : میں مسکین ومسافر آدمی ہوں، میرے سفری اسباب ختم ہوگئے، آج اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور پھر تمہارے سوا میرا کوئی آسرا نہیں میں تجھے سے اس ذات کے واسطہ سے سوال کرتا ہوں جس نے تجھے دوبارہ بینائی بخشی، مجھے ایک بکری دو تاکہ میں اپنی سفری ضرورت پوری کرسکوں۔ اسنے کہا : میں اندھا اور فقیر شخص تھا مجھے اللہ تعالیٰ نے بینائی بخشی ان میں سے جتنی بکریاں چاہتا ہے لیجا، اللہ کی قسم میں آج تجھ سے کسی چیز کی مشقت نہیں سمجھوں گا جو تم اللہ تعالیٰ کیلئے لوگے

اس (فرشتہ) نے کہا : اپنا مال محفوظ رکھو بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو آزمایا، سو تم سے راضی ہوا اور تیرے دونوں دوستوں سے ناراض ہوا۔ (بخاری ، مسلم)
8623- عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: إن ثلاثة نفر في بني إسرائيل أبرص، وأقرع، وأعمى، بدا لله عز وجل أن يبتليهم، فبعث ملكا فأتى الأبرص، فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال: لون حسن وجلد حسن، قد قذرني الناس، فمسحه فذهب، وأعطي لونا حسنا وجلدا حسنا، فقال: أي المال أحب إليك؟ قال: الإبل، فأعطي ناقة عشراء، فقال: يبارك لك فيها، وأتى الأقرع، فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال شعر حسن، ويذهب هذا عني، قد قذرني الناس، فمسحه فذهب وأعطي شعرا حسنا، فقال: فأي المال أحب إليك؟ قال: البقرفأعطاه بقرة حاملا، وقال: يبارك لك فيها، وأتى الأعمى، فقال: أي شيء أحب إليك؟ قال، يرد الله إلي بصري، فأبصر به الناس، فمسحه فرد الله إليه بصره، فقال: فأي المال أحب إليك؟ قال: الغنم فأعطاه شاة والدا، فأنتج هذان، وولد هذا، فكان لهذا واد من الإبل، ولهذا واد من البقر، ولهذا واد من غنم، ثم إنه أتي الأبرص في صورته وهيئته فقال: رجل مسكين، تقطعت به الحبال في سفره، فلا بلاغ اليوم إلا بالله ثم بك، أسألك بالذي أعطاك اللون الحسن، والجلد الحسن والمال بعيرا أتبلغ عليه في سفري، فقال له: إن الحقوق كثيرة، فقال له: كأني أعرفك، ألم تكن أبرص يقذرك الناس فقيرا؛ فأعطاك الله، فقال: لقد ورثت لكابر عن كابر، فقال: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت، وأتى الأقرع في صورته وهيئته، فقال له: مثل ما قال لهذا ورد عليه مثل ما رد عليه هذا، فقال له: إن كنت كاذبا فصيرك الله إلى ما كنت، وأتى الأعمى في صورته، فقال رجل مسكين، وابن سبيل وتقطعت بي الحبال في سفري، فلا بلاغ اليوم إلا بالله، ثم بك أسألك بالذي رد عليك بصرك شاة أتبلغ بها في سفري، فقال: قد كنت أعمى فرد الله بصري، وفقيرا، فخذ ما شئت، فوالله لا أجهدك اليوم بشيء أخذته لله فقال: أمسك مالك فإنما ابتليتم فقد رضي الله عنك وسخط على صاحبيك. "خ م" ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو شخص صاف ستھرا پانی پئے اور بغیر تکلیف کے (گھر) آئے جائے تو اس پر شکر ادا کرنا واجب ہے۔ (ابن ابی الدنیا، ابن عساکر)
8624- عن عائشة قالت: ما من عبد يشرب الماء القراح، فيدخل بغير أذى ويخرج بغير أذى إلا وجب عليه الشكر. ابن أبي الدنيا "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٥۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا کرتے : عائشہ تمہارے وہ اشعار کہاں ہیں ؟ میں عرض کرتی کونسے اشعار کیونکہ وہ تو بہت زیادہ ہیں، آپ فرماتے : جو شکر کے بارے میں کہتی : ہاں جی ! (یادآگئے) میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، شاعر نے کہا ہے : اپنے کمزور کو اٹھا، تجھے کسی دن اس کی کمزوری حیرت زدہ نہ کرے، جب تجھ پر مصائب کی مصائب کی کثرت ہوگی وہ تیری مدد کرے گا، تیری نیکی کا بدلہ دے گایا تیری تعریف کرے گا، اور جس نے تیری نیکی پر تیری تعریف کی تو گویا اس نے بدلہ دے دیا ، شریف شخص سے جب تو ملنا چاہے تو تو اس کی رسی کو بوسیدہ نہیں پائے گا بلکہ وہ مضبوط ہوگی۔

فرماتی ہیں : آپ فرماتے ہیں : ہاں اے عائشہ ! مجھے جبرائیل نے بتایا ہے : کہ اللہ تعالیٰ جب ساری مخلوق کو جمع فرمائے گا اپنے ایک بندے سے فرمائے گا، اس سے کسی شخص نے بھلائی کی ہوگی فرمائیں گے : تم نے میرا شکر ادا نہیں کیا، جب اس شخص کا شکرادا نہیں جس کے ہاتھوں پر میں نے اس (نعمت و بھلائی) کو جاری کیا تھا۔ ( بیھقی فی الشعب وضعفہ ، ابن عساکر)
8625- عن عائشة قالت: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم كثيرا ما يقول لي: ما فعلت أبياتك؟ فأقول: أي أبيات تريد؟ فإنها كثيرة فيقول: في الشكر، فأقول: نعم بأبي وأمي، قال الشاعر:

ارفع ضعيفك لا يحر بك ضعفه ... يوما فيدركك العواقب قد نما

يجزيك أو يثني عليك وإن من ... أثنى عليك بما فعلت كمن جزى

إن الكريم إذا أردت وصاله ... لم تلف رثا حبله واهي القوى

قالت: فيقول: نعم يا عائشة أخبرني جبريل، قال: إذا حشر الله الخلائق يوم القيامة، قال لعبد من عباده: اصطنع إليه عبد من عباده معروفا، فهل شكرته؟ فيقول: أي رب علمت أن ذلك منك فشكرتك، فيقول: لم تشكرني إذا لم تشكر من أجريت ذلك على يديه. "هب" وضعفه "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٦۔۔۔ حسن بصری (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : حضرت آدم کے سامنے ان کی اولاد پیش کی گئی، تو وہ ان میں لمبے اور پست قدوالے اور ان کے درمیان والے لوگ دیکھنے لگے، حضرت آدم عرض کرنے لگے : یارب ! اگر آپ اپنے بندوں کو برابر کردیتے (تو اچھا نہ تھا) تو ان کے رب نے ان سے فرمایا : اے آدم میں چاہتا ہوں کہ میرا شکر ادا کیا جائے۔ (ابن جریر)
8626- عن الحسن قال: بلغني أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: عرض على آدم ذريته، فجعل يرى فيهم القصير والطويل وبين ذلك، فقال آدم رب لو كنت سويت بين عبيدك، فقال له ربه: يا آدم أردت أن أشكر. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٧۔۔۔ حضرت سعید جبیر سے روایت ہے فرمایا : عام لوگوں کی سب سے پہلی جو جماعت جنت میں جائے ھی، وہ لوگ ہوں گے جو خوشی اور پریشانی میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8627- عن سعيد بن جبير، قال: أول زمرة يدخلون الجنة يحمدون في السراء والضراء. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٨۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے جس رات اور صبح کو ایسی حالت میں بسر کیا کہ لوگوں نے اس میں مجھ سے کوئی مصبیت نہیں دیکھی تو میں نے اسے اللہ تعالیٰ کی اپنے اوپر بہت بڑی نعمت سمجھا۔ (ابن عساکر)
8628- عن أبي الدرداء قال: ما أمسيت ليلة وأصبحت لم ير مني الناس فيها بداهية إلا رأيتها نعمة من الله علي عظيمة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٢٩۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : مجھ سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میرے سامنے وہ اشعار پڑھو جو ایک یہودی نے کہے ہیں میں نے کہا اس نے کہا ہے : اپنے کمزور کی مدد کر کسی دن تجھے اس کا ضعف حیرت میں نہ ڈالے، جب تجھ پر مصائب کی کثرت ہوگی وہ تیری مدد کرے گا، وہ تجھے بدلہ دے گا یا تیری تعریف کرے گا ، کیونکہ جس نے تیرے کام کی وجہ سے تیری تعریف کی تو گویا اس نے بدلہ دیا۔

پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ اسے ہلاک کرے جس قدر اچھے اشعار کہے ہیں ؟ جبرائیل میرے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے، فرمایا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جس شخص سے کوئی نیکی یا بھلائی کی جائے، وہ تعریف کے علاوہ کچھ نہ پائے ، تو تعریف کردے اور جس نے تعریف کی اس نے گویا پورا بدلہ دیا۔

ایک روایت میں ہے : جس سے نیکی کی گئی اور اس کے پاس سوائے دعا اور تعریف کے کچھ نہیں تو اس نے پورا بدلہ دیا۔ (بیھقی فی الشعب وضعف)
8629- عن عائشة قالت: قال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: ردي علي البيتين اللذين قالهما اليهودي قلت قال:

ارفع ضعيفك لا يحر بك ضعفه ... يوما فيدركك العواقب قد نما

يجزيك أو يثني عليك فإن من ... أثنى عليك بما فعلت كمن جزى

فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قاتله الله ما أحسن ما قال؟ ولقد أتاني جبريل برسالة من الله عز وجل، فقال: يا محمد من فعل به خير أو معروف فإن لم يجد إلا الثناء فليثن، وإن من أثنى كمن كافى وفي لفظ: من صنع إليه معروف فلم يجد إلا الدعاء والثناء فقد كافى. "هب" وضعفه.
tahqiq

তাহকীক: