কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৬৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شکرگزاری کا حکم
٨٦٣٠۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھ سے بیان کیا گیا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے کسی صحابی کے گھر میں تھے، جبکہ وہ لوگ کھانا کھا رہے تھے، اتنے میں دروازے پر ایک سائل آیا، جسے کوئی پرانی بیماری تھی اور اس سے نفرت کی جاتی تھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے فرمایا : اندر آجاؤ وہ آگیا، آپ نے اسے اپنے زانوں پر بٹھالیا اور اس سے فرمایا : کھاؤ، تو ایک قریشی شخص نے اس سے نفرت کی اور گھن کھانے لگا ، پھر اس شخص کے ساتھ مرتے دم تک یہ بیماری لگی رہی جس سے لوگ گھن کھاتے تھے۔ (ابن جریر)
8630- عن إبراهيم قال: حدثت أن النبي صلى الله عليه وسلم كان في بيت أناس من أصحابه، وهم يطعمون، فقام سائل على الباب به زمانة يتكره منها، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أدخل فدخل، فأجلسه على فخذيه فقال له: اطعم، فكرهه رجل من قريش واشمأز منه، فما مات ذلك الرجل حتى كان به زمانة يتكره منها. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر اور اس کی فضیلت
٨٦٣١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں صبر کو ایمان میں وہی حیثیت حاصل ہے کو سر کو جسم میں حاصل ہے جب صبر ختم ہوجائے تو ایمان بھی چلاجاتا ہے۔ (فردوس عن انس ، ابن حبان عن علی، بیھقی عن علی موقوفا ومربرقم، ٦٥٠١)
8631- عن علي قال: الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد فإذا ذهب الصبر ذهب الإيمان. "فر" عن أنس "حب" عن علي "هب" عن علي موقوفا. ومر برقم [6501] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر اور اس کی فضیلت
٨٦٣٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں صبر کو ایمان میں وہی مقام حاصل ہے جو سر کو جسم میں حاصل ہے جس میں صبر نہیں اس میں ایمان بھی نہیں۔ (اللالکائی)
8632- عن علي قال: الصبر من الإيمان بمنزلة الرأس من الجسد، من لا صبر له لا إيمان له. اللالكائي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ صبر اور اس کی فضیلت
٨٦٣٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم نے اپنی زندگی کی بھلائی صبر میں پائی ہے۔ (ابن المباک ، مسند احمد فی الزھد، حلیۃ الاولیاء)

تشریح :۔۔۔ کیونکہ بےصبری سے انسان اپنے منہ سے ایسے الفاظ نکال دیتا ہے جس کی وجہ سے آدمی ایمان سے خارج ہوجاتا ہے
8633- عن عمر قال: إنا وجدنا خير عيشنا الصبر. ابن المبارك. "حم" في الزهد "حل".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عام بیماری پر صبر
٨٦٣٤۔۔۔ (اسد بن کر زالقسری البجلی) خالد بن عبداللہ سے وہ اپنے والد کے واسطہ سے اپنے دادا حضرت اسدبن کرز (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ، کو فرماتے سنا : مریض کی خطائیں ایسے گرتی ہیں جیسے درختوں کے پتے۔ (ابن عساکر)
8634- "أسد بن كرز رضي الله عنه القسري البجلي" عن خالد بن عبد الله عن أبيه عن جده أسد بن كرز سمع النبي صلى الله عليه وسلم يقول: المريض تتحات خطاياه كما تتحات ورق الشجر. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عام بیماری پر صبر
٨٦٣٥۔۔۔ ربیع بن عملیہ سے روایت ہے کہ ہم حضرت عمار بن یاسر (رض) کے ساتھ تھے، آپ کے پاس ایک اعرابی تھا، لوگوں نے بیماری کا ذکر کیا، تو اس اعرابی نے کہا : میں تو کبھی بیمار نہیں ہوا، تو حضرت عمار نے فرمایا : تم ہم میں سے نہیں مسلمان تو آزمائش میں مبتلا ہوتا ہے ، جو اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے اور اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے درختوں کے پتے گرتے ہیں۔

اور کافر جب (کسی بیماری میں ) مبتلا ہوتا ہے تو اس کی مثال اونٹ کی سی ہے اسے باندھا گیا لیکن وہ جانتا نہیں کہ کیونکہ باندھا گیا اور اسے چھوڑا جاتا ہے لیکن اسے معلوم نہیں کہ کیوں کھولا گیا ہے۔ (ابن عساکر)
8635- عن الربيع بن عميلة قال: كنا مع عمار بن ياسر، وعنده أعرابي، فذكروا المرض، فقال الأعرابي: ما مرضت قط، فقال عمار لست منا، إن المسلم يبتلى بالبلاء، فيكون كفارة خطاياه، فتتحات كما تتحات ورق الشجر، وإن الكافر يبتلى فيكون مثله كمثل البعير عقل فلا يدري لم عقل؛ ويطلق، فلا يدري لم أطلق. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عام بیماری پر صبر
٨٦٣٦۔۔۔ حضرت واثلہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یمن کا آدمی لایا گیا جس کی پیشانی پر بالوں کا دائرہ تھا، آنکھوں سے بھینگا ، چھوٹی گردن ، اس کے پاؤں ٹیڑھے ، بےحد کالے رنگ اس کے پاؤں کے درمیان فاصلہ تھا، کہنے لگا : یارسول اللہ ! مجھے بتائیں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا فرض کیا ہے، آپ نے جب اسے بتادیا ، تو وہ کہنے لگا میں اللہ تعالیٰ سے عہد کرتا ہوں کہ فرض میں اضافہ نہیں کروں گا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کیوں ؟ اس نے کہا : کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بدصورت پیدا کیا ہے مجھے پیشانی پر بالوں کے دائرے والا بھنگا، جھوٹی گردن والا، ٹیڑھے پاؤں والا ، بہت سیاہ سیرین اور رانوں میں کم گوشت والا دونوں کے پاؤں کے درمیان فاصلے والا بنایا ہے پھر وہ شخص پیٹھ دے کر چلا گیا۔

اتنے میں جبرائیل آئے اور کہا : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ناراض ہونے والا شخص کہاں ہے، وہ کریم رب سے ناراض ہوا ہے، آپ اسے راضی کریں، اللہ تعالیٰ نے اسے کہا ہے : کہ کیا وہ اس بات پر راضی نہیں کہ اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے روز جبرائیل کی صورت میں اٹھائیں، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص کی طرف پیام بھیجا، (جب وہ آیا) تو آپ نے اس سے کہا : تم کریم رب سے ناراض ہوئے میں تمہیں راضی کرتا ہوں ، کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ قیامت کے روز اللہ تعالیٰ اپنی مرضی کے اعمال میں سے کسی چیز پر میرا جسم قوی نہ کرے پھر بھی اس پر عمل کروں گا (ابن عساکر کروفیہ العلاء بن کثیر
8636- عن واثلة قال: أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل من أهل اليمن أكشف1 أحول أوقص أحنف أسحم أعسر أفحج، فقال رسول الله أخبرني بما فرض الله علي، فلما أخبره، قال: إني أعاهد الله أن لا أزيد على فريضة، قال: ولم ذاك؟ قال: لأنه خلقني فشوه خلقي، فخلقني أكشف أحول أسحم أعسر أرسح1 أفحج، ثم أدبر الرجل، فأتاه جبريل، فقال يا محمد أين العاتب؛ إنه عاتب ربا كريما، فأعتبه، قال له ألا يرضى أن يبعثه الله في صورة جبريل يوم القيامة؛ فبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الرجل، فقال له: إنك عاتبت ربا كريما فأعتبك، أفلا ترضى أن يبعثك الله يوم القيامة في صورة جبريل؟ قال: بلى يا رسول الله، قال: فإني أعاهد الله أن لا يقوى جسدي على شيء من مرضاة الله إلا عملته. "كر" وفيه العلاء بن كثير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عام بیماری پر صبر
٨٦٣٧۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کے بدن میں جو تکلیف بھی ہوتی ہے اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہوں کا کفارہ بنادیتے ہیں، تو حضرت ابی بن کعب (رض) نے عرض کیا : اے اللہ میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ ابی بن کعب کے جسم پر ہمیشہ ایسا بخار رہے جو اسے بچھاڑدے ، اور جو نماز ، حج ، عمرہ اور آپ کے راستہ میں جہاد کرنے سے نہ روکے ، یہاں تک کہ وہ اسی حال میں آپ سے ملے چنانچہ انھیں وہی بخار ہوگیا، اور مرتے دم تک ان سے جدا نہیں ہوا اور وہ اسی حالت میں نماز (باجماعت) کے لیے حاضر ہوتے ، روزہ رکھتے حج، عمرہ اور جہاد کرتے۔ (ابن عساکر ، دیکھیں صفات الصحابہ)
8637- عن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما من شيء يصيب المؤمن في جسده إلا كفر الله عنه به من الذنوب، فقال أبي بن كعب: اللهم إني أسألك أن لا تزال الحمى مصارعة لجسد أبي بن كعب حتى يلقاك لا تمنعه من صلاة ولا صيام ولا حج ولا عمرة ولا جهاد في سبيلك، فارتكبته الحمى مكانه، فلم تزل تفارقه حتى مات، وكان في ذلك يشهد الصلاة، ويصوم ويحج ويعتمر ويغزو. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت گناہوں کا کفارہ ہے
٨٦٣٨۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں ایک شخص نے کہا : کیا رسول اللہ ! جو مصیبتیں ہمیں پہنچتی ہیں اس میں ہمارے لیے کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ گناہوں کا کفارہ ہیں، توابی نے عرض کیا : اگرچہ تھوڑی ہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ کانٹا یا اس سے کم درجہ کی مصیبت ہو، فرماتے ہیں : ابی (رض) نے اپنے لیے ایسے بخار کی دعا مانگی جو ان سے موت تک جدا نہ ہوا جو حج عمرہ ، جہاد فی سبیل اللہ اور نماز باجماعت میں رکاوٹ نہ بنے، اس کے بعد جو بھی آپ کو ہاتھ لگاتا آپ کے جسم میں حرارت و گرمی محسوس کرتا یہاں تک کہ آپ کا انتقال ہوگیا۔ (مسند احمد، ابن عساکر، ابویعلی فی مسندہ)
8638- عن أبي سعيد، قال: قال رجل: يا رسول الله أرأيت هذه الأمراض التي تصيبنا ما لنا بها؟ قال: كفارات، قال له أبي: وإن قلت؛ قال: وإن شوكة فما فوقها، قال: فدعا أبي على نفسه أن لا يفارقه الوعك1 حتى يموت في أن لا يشغله عن حج ولا عمرة ولا جهاد في سبيل الله ولا صلاة مكتوبة في جماعة، فما مسه إنسان إلا وجد حره حتى مات. "حم كر ع".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت گناہوں کا کفارہ ہے
٨٦٣٩۔۔۔ ابوسفر سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر کے پاس کچھ لوگ ان کے عیادت کرنے آئے، لوگوں نے کہا : اے خلیفہ رسول ! کیا آپ کے کسی طبیب کو نہ بلائیں جو آپ کی تشخیص کرے، آپ نے فرمایا : اس نے مجھے دیکھ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا : اس نے آپ سے کیا کہا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس نے کہا : میں جو کرنا چاہتا ہوں اسے ضرور کرتا ہوں ۔ (ابن سعد، مصنف ابن ابی ، مسند احمد ، فی الزھد ، الحلیۃ ، وھناد)
8639- عن أبي السفر قال: دخل على أبي بكر ناس يعودونه في مرضه، فقالوا: يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم، ألا ندعو لك مطببا ينظر إليك؛ قال: قد نظر إلي، قالوا فماذا قال لك؟ قال: إني فعال لما أريد. ابن سعد "ش حم" في الزهد "حل" وهناد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصیبت گناہوں کا کفارہ ہے
٨٦٤٠۔۔۔ ابوفاطمہ الضمری (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، آپ نے فرمایا : تم میں سے کون چاہتا ہے کہ وہ صحت کی حالت میں اپنی صبح کا آغاز کرے، لوگوں نے کہا : یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! ہم سب یہی چاہتے ہیں آپ نے فرمایا : کیا تم حملہ آور گدھے کی طرح ہونا چاہتے ہو، کیا تم آزمائشوں اور کفاروں والے نہیں ہونا چاہتے، اس ذات کی قسم ! جس نے مجھے حق دے کر بھیجا ، بندے کا جنت میں ایک درجہ ہوتا ہے جسے وہ اپنے عمل سے حاصل نہیں کرسکتا، تو اللہ تعالیٰ اسے کسی آزمائش میں مبتلا کردیتے ہیں تاکہ اس درجہ تک پہنچ جائے ، جسے وہ اپنے کسی عمل سے حاصل نہیں کر پارہا تھا۔ (البغوی، طبرانی فی الکبیر و ابونعیم)
8640- عن أبي فاطمة الضمري قال: كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: أيكم يحب أن يصح فلا يسقم، قالوا كلنا يا رسول الله، قال: تحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة؛ ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء وأصحاب كفارات؛ والذي بعثني بالحق، إن العبد لتكون له الدرجة في الجنة، فما يبلغها بشيء من عمله، فيبتليه الله بالبلاء ليبلغ تلك الدرجة، وما يبلغها بشيء من عمله. البغوي "طب" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤١۔۔۔ عبداللہ بن ایاس بن ابی فاطمہ اپنے دادا سے اپنے والد کے واسطہ سے نقل کرتے ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہ آپ ایک مجلس میں تشریف فرما تھے آپ نے ارشاد فرمایا : کون چاہتا ہے کہ وہ صحتمندہی رہے اور بیمار نہ پڑے، تو ہم لوگوں نے پہل کی اور کہا : یارسول اللہ ! ہم چاہتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم حملہ آور گدھے کی طرح ہونا چاہتے ہو، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا رنگ بدل گیا، پھر فرمایا : کیا تم مصیبت والے اور کفاروں والے نہیں ہونا چاہتے ؟ لوگوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں ابوالقاسم کی جان ہے بیشک اللہ تعالیٰ مومن بندے کو آزماتا ہے اور اسے اس لیے آزماتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں عزت والا ہے۔

اللہ تعالیٰ کے ہاں اس بندے کا ایک مقام ہے جسے وہ اپنے عمل سے حاصل نہیں کرسکتا ، کسی آزمائش میں پڑکرہی اس مقام تک پہنچ سکتا ہے۔ (ابن جریر فی تھذیب الآثار)
8641- عن عبد الله بن إياس بن أبي فاطمة عن أبيه عن جده، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه كان جالسا في مجلس، فقال: من يحب أن يصح فلا يسقم فابتدرناه وقلنا نحن يا رسول الله، فقال: أتحبون أن تكونوا كالحمير الصيالة؛ وتغير وجه النبي صلى الله عليه وسلم، ثم قال: ألا تحبون أن تكونوا أصحاب بلاء وأصحاب كفارات؟ قالوا بلى يا رسول الله، قال: فوالذي نفس أبي القاسم بيده، إن الله ليبتلي المؤمن ولا يبتليه إلا لكرامته عليه، وإلا إن له عنده منزلة لا يبلغها بشيء من عمله دون أن ينزل به من البلاء ما يبلغه تلك المنزلة. ابن جرير في تهذيب الآثار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤٢۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ ایک صحتمند نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ نے اس سے پوچھا کیا تجھے کبھی بخار ہوا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں یارسول اللہ ! جب وہ چلا گیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں سے کہا : جو کسی جہنمی کو دیکھنا چاہے وہ اس شخص کو دیکھ لے۔ (ابن جریر)

تشریح :۔۔۔ یہ موجبہ جزیہ ہے موجبہ کلیہ نہیں ، کیونکہ اس شخص کا جہنمی ہونا صرف نبوت کی آنکھ ہی دیکھ سکتی ہے ہر شخص کو اس کا علم نہیں ہوسکتا کہ آج کل جو شخص بیمار ہو اسے جہنمی قرار دے دیا جائے !
8642- عن أبي هريرة قال: جاء رجل مصح إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أصابتك أم ملدم قط؛ قال: لا يا رسول الله، فلما ولى الرجل قال لهم رسول الله صلى الله عليه وسلم: من سره أن ينظر إلى رجل من أهل النار فلينظر إلى هذا. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤٣۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک دفعہ درد ہوا اور آپ اس کی شکایت کرنے لگے اور اپنے بستر پر پہلو پر پہلو بدلتے رہے، حضرت عائشہ نے آپ سے عرض کی : اگر یہ حرکت کوئی اور ہم میں سے کرتا تو آپ اس سے ناراض ہوتے، آپ نے فرمایا : ایمان والوں پر سختیاں کی جاتی ہیں، جس کسی مومن کو کانٹے یا درد کی تکلیف پہنچے تو اللہ تعالیٰ اسے اس کے گناہ کا کفارہ بنادیتے ہیں، اور اس کے ذریعہ اس کا درجہ بلند کردیتے ہیں۔ (ابن سعد، حاکم ، بیھقی فی الشعب)
8643- عن عائشة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم طرقه وجع فجعل يشتكي ويتقلب على فراشه، فقالت له عائشة: لو فعل هذا بعضنا وجدت عليه، فقال: إن المؤمنين ليشدد عليهم، وإنه ليس من مؤمن تصيبه نكبة شوكة ولا وجع إلا كفر الله عنه بها خطيئة، ورفع له بها درجة."ابن سعد "ك هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤٤۔۔۔ حضرت ابی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص آیا، آپ نے فرمایا : تجھے کبھی ام ملدم سے واسطہ پڑا، اور وہ ایک گرمی ہے جو گوشت اور کھال کے درمیان ہوتی ہے، اس شخص نے کہا یہ درد تو مجھے کبھی بھی نہیں ہوا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کی مثال پودے کی سی ہے جو کبھی سرخ ہوتا ہے تو کبھی زرد ۔ (مسند احمد)
8644- عن أبي قال: دخل رجل على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: متى عهدك بأم ملدم؟ وهو حر بين الجلد واللحم، قال: إن ذلك الوجع ما أصابني قط، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: مثل المؤمن مثل الخامة تحمر مرة وتصفر أخرى. "حم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤٥۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایر ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور آپ بخار میں مبتلا تھے آپ پر ایک چادر تھی، آپ نے ان پر اپنا ہاتھ رکھا ےتو بخار کی حرارت چادر کے اوپر سے محسوس ہورہی تھی، تو حضرت ابوسعید (رض) نے عرض کیا : یارسول اللہ ! آپ کو کتنا سخت بخار ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہم پر ایسے ہی سختی کی جاتی ہے اور ہمیں دوگنااجر دیا جاتا ہے۔

پھر وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! سب سے زیادہ آزمائش والاکون ہے ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء (علیہم السلام) عرض کیا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا : صلحاء (جو جان بوجھ کر گناہ نہیں کرتے) ان میں سے کوئی تو فقروفاقہ میں مبتلا ہوا کہ صرف ایک قبا لے کر پھرتا رہا پھر اسے پہن لیا اور کوئی جوؤں کی بیماری میں مبتلا ہوا جسے ان جوؤں نے ہلاک کردیا، ان میں سے ہر ایک آزمائش پر اس طرح خوش ہوتا جیسے تم عطا پر خوش ہوتے ہو۔ (بیھقی فی الشعب)

تشریح :۔۔۔ لیکن آج کی دنیا میں کوئی بھی اس مصیبت و آزمائش میں مبتلا نہیں ہوگا کیونکہ آج کل کے لوگوں میں اس کی اہلیت نہیں ، اس لیے آپ نے فرمایا : میری امت کے آخری لوگ فقروفاقہ میں مبتلا نہیں ہوں گے۔
8645- عن أبي سعيد أنه دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو موعوك عليه قطيفة، فوضع يده عليه حرارتها فوق القطيفة، فقال أبو سعيد: ما أشد حماك يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنا كذلك يشدد علينا البلاء ويضاعف لنا الأجر، فقال: يا رسول الله من أشد بلاء؟ قال الأنبياء، قال ثم من؟ قال الصالحون، لقد كان أحدهم يبتلى بالفقر حتى ما يجد إلا العباءة يجوبها فيلبسها، ويبتلى بالقمل حتى تقتله، ولأحدهم أشد فرحا بالبلاء من أحدكم بالعطاء. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب کے ذریعے آزمائش
٨٦٤٦۔۔۔ ابوعبیدہ بن ضذیفہ اپنی پھوپھی فاطمہ سے نقل کرتے ہیں وہ فرماتی ہیں : ہم چند عورتیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عیادت کے لیے آئیں ، آپ کو بخار تھا، آپ نے مشکیزہ کو لٹکانے کا حکم دیا، تو وہ ایک درخت سے لٹکا دیا گیا آپ اس کے نیچے لیٹ گئے، تو اس کا ایک قطرہ وقفہ وقفہ سے آپ پر پڑتا اور جو شدت بخار آپ محسوس کررہے تھے اس میں کمی آئی میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگر آپ اللہ تعالیٰ سے دعاکریں تو یہ بخار آپ سے ہٹادیں، آپ نے فرمایا : سب سے زیادہ سخت آزمائش والے انبیاء ہوتے ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے قریب ہوتے ہیں پھر وہ جوان کے قریب ہوتے ہیں، پھر وہ جو ان کے نزدیک ہوتے ہیں۔ (بیھقی فی الشعب)

تشریح :۔۔۔ انبیاء کے نزدیک تر صحابہ پھر تابعین پھر تبع تابعین۔
8646- عن أبي عبيدة بن حذيفة عن عمته فاطمة، قالت: أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم في نساء نعوده، وقد حم فأمر بسقاء فعلق على شجرة ثم اضطجع تحته، فجعل يقطر على فواقه من شدة ما يجد من الحمى، فقلت يا رسول الله لو دعوت الله أن يكشف عنك، فقال: إن أشد الناس بلاء الأنبياء، ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم ثم الذين يلونهم. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٤٧۔۔۔ (الصدیق (رض)) مسلم بن یسار حضرت ابوبکر (رض) سے روایت نقل کرتے ہیں : فرمایا : مسلمان کو ہر چیز میں اجردیا جاتا ہے یہاں تک کہ مصیبت اور تسمہ کا ٹوٹ جانا اور پیسے جو اس کی آستین میں ہوں پھر وہ انھیں گم پائے اور ان کے بارے خوفزدہ ہوجائے اور پھر انھیں اپنی جیب میں پالے۔ (مسند احمد، وھناد، معافی الزھد)
8647- "الصديق رضي الله عنه" عن مسلم بن يسار، عن أبي بكر قال: إن المسلم ليؤجر في كل شيء، حتى في النكبة وانقطاع شسعه والبضاعة تكون في كمه فيفقدها فيفزع لها، فيجدها في جيبه. "حم" وهناد معا في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٤٨۔۔۔ مسیب بن رافع سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : مسلمان آدمی لوگوں کے درمیان چلتا ہے جبکہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا انھوں نے کہا : ایسے کیوں ہے ؟ آپ نے فرمایا : مصائب ، پتھر ، کانٹے اور اس تسمہ کی وجہ سے نوٹ جاتے ہیں۔ (بیھقی)
8648- عن المسيب بن رافع قال: إن أبا بكر الصديق قال: إن المرء المسلم يمشي في الناس وما عليه خطيئة، قال: ولم ذاك يا أبا بكر؛ قال بالمصائب والحجر والشوكة والشسع ينقطع. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٤٩۔۔۔ عبداللہ بن خلیفہ فرماتے ہیں میں حضرت عمر کے ساتھ ایک جنازہ میں شریک تھا، آپ کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا تو آپ نے کہا : اناللہ واناالیہ راجعون “ پھر فرمایا : جو بات تجھے بری لگے : وہ تیرے لیے مصیبت ہے۔ (ابن سعد، مصنف ابن ابی شیبہ وھناد وعبدبن حمید، عبداللہ بن احمد بن حنبل فی الزوائد الزھد وابن المنذر، بیھقی فی الشعب)
8649- عن عبد الله بن خليفة قال: كنت مع عمر في جنازة فانقطع شسعه فاسترجع، ثم قال: كل ما ساءك فهو لك مصيبة. ابن سعد "ش" وهناد وعبد بن حميد "عم" في زوائد الزهد وابن المنذر "هب".
tahqiq

তাহকীক: