কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৬৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم نے اپنی زندگی کی بہترین چیز کو صبر پایا ہے۔ (ابن المبارک ، مسند احمد فی الزھد، حلیۃ الاولیاء ومربرقم ، ٧٦٣٣)
8650- عن عمر قال: إنا وجدنا خير عيشنا الصبر. ابن المبارك "حم" في الزهد "حل". ومر برقم [8633] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥١۔۔۔ زید بن اسلم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا : حضرت ابوعبیدہ نے حضرت عمر بن خطاب کی طرف لکھا : اور خط کے مضمون میں رومی فوجوں کا تذکرہ کیا، اور وہ باتیں ذکر کیں جن سے خوف آتا تھا، تو حضرت عمر نے جواب میں لکھا : امابعد ! بات یہ ہے کہ مومن بندہ کو جب بھی کوئی سختی پہنچتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے بعد کشادگی پیدا فرما دیتا ہے، ہرگز ایک مشکل دوآسانیوں پر غالب نہیں آئے گی، اور اللہ تعالیٰ اپنی کتاب میں فرماتے ہیں : اے ایمان والو ! صبرکروصبر کی تلقین کرو، سرحدوں پر مورچہ بندرہو اللہ تعالیٰ سے ڈرو یقیناً تم فلاح پاؤگے۔ (مالک ، مصنف ابن ابی شیبہ، وابن ابی الدنیا فی الفرج بعد الشدۃ وابن جریر، حاکم ، بیھقی فی الشعب)
8651- عن زيد بن أسلم عن أبيه قال: كتب أبو عبيدة إلى عمر بن الخطاب يذكر له جموعا من الروم، وما يتخوف منهم، فكتب إليه عمر أما بعد، فإنه مهما ينزل بعبد مؤمن من شدة يجعل الله بعدها فرجا وإنه لن يغلب عسر يسرين، وإن الله تعالى يقول في كتابه: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اصْبِرُوا وَصَابِرُوا وَرَابِطُوا وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ} . مالك "ش" وابن أبي الدنيا في الفرج بعد الشدة وابن جرير "ك هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٢۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو کہتے سنا : اے اللہ میں اپنی جان ومال آپ کے راستہ میں خرچ کرنا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا : تم میں سے کوئی خاموش کیوں نہیں ہوتا، اگر آزمائش میں ڈالا جائے تو صبر کرے اور اگر عافیت سے رہے تو شکر کرے۔ (الحلیۃ)
8652- عن إبراهيم قال: سمع عمر رجلا يقول: اللهم إني استنفق نفسي ومالي في سبيلك، فقال عمر: أولا يسكت أحدكم؛ فإن ابتلي صبر، وإن عوفي شكر. "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : صبر دو ہیں ، ایک صبر مصیبت پر جو اچھا ہے اور ایک صبر اس سے بھی بہتر ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں سے روکنا ہے۔ (ابن ابی حاتم)
8653- عن عمر قال: الصبر صبران، صبر عند المصيبة حسن، وأحسن منه الصبر عن محارم الله. ابن أبي حاتم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٤۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) ایک ایسے شخص کے پاس سے گزرے جو جذام میں مبتلا تھا،اندھا ، بہرا اور گونگا تھا، جو شخص آپ نے ساتھ تھے آپ نے ان سے فرمایا : کیوں نہیں ، دیکھتے نہیں اسے پیشاب کی تکلیف نہیں ہوتی ، اسے کوئی دقت نہیں ہوتی سہولت سے اس کا پیشاب نکلتا ہے یہی اللہ تعالیٰ کی نعمت ہے۔ (عبدبن حمید)
8654- عن عكرمة قال: مر عمر بن الخطاب برجل مبتلى أجذم أعمى أصم وأبكم، فقال لمن معه: هل يرون في هذا من نعم الله شيئا؛ قالوا: لا، قال: بلى ألا ترون يبول فلا يعتصر؛ ولا يلتوى، يخرج به بوله سهلا، فهذه نعمة من الله. عبد بن حميد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٥۔۔۔ سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، آپ نے فرمایا : اناللہ وانا الیہ راجعون، لوگوں نے کہا : امیرالمومنین کیا آپ اپنے تسمہ ٹوٹنے پر بھی اناللہ پڑھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : مسلمان کو جو بھی ناپسندیدہ مصیبت بن کر پہنچے وہ مصیبت ہے۔ (المروزی فی الجنائز)
8655- عن سعيد بن المسيب قال: انقطع قبال نعل عمر فقال: إنا لله وإنا إليه راجعون، فقالوا يا أمير المؤمنين أتسترجع في قبال نعلك قال: إن كل شيء يصيب المؤمن يكرهه فهو مصيبة. المروزي في الجنائز.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : اے سختی ! تو جہاں تک ہوسکے سختی میں پہنچ جا ( خود بخود) کھل جائے گی۔ (العسکری وفیہ الحسین بن عبداللہ بن ضمیرۃ واہ مربرقم : ٦٥١٧)
8656- عن علي قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول: "اشتدي أزمة تنفرجي ".العسكري وفيه الحسين بن عبد الله بن ضميرة واه. مر برقم [6517] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٧۔۔۔ حضرت احنف بن قیس (رض) نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد المومنین علی (رض) کی بات سے اچھی بات کسی کی نہیں سنی وہ فرماتے ہیں : بیشک مصائب کا آخری درجہ ہے جب بھی کسی کو کوئی مصیبت پہنچی اس کی کوئی نہ کوئی حد ہوگی تو عقلمند کو چاہیے کہ جب وہ کسی مصیبت میں پھنس جائے تو اس کے ساتھ سو جائے یہاں تک کہ اس کی موت گزر جائے، کیونکہ اس کے ختم ہونے سے پہلے اسے ہٹانا اس کی پریشانی میں اضافہ کرنا ہے۔
احنف بن قیس فرماتے ہیں اس بارے شاعر نے کہا ہے۔
اکثر اوقات زمانے کا پھندا سخت ہوجاتا ہے، سو تو صبر کر نہ واویلا کر اور نہ جمع کر (نہ کود) یہاں تک کہ اپنے وقت میں اسے کشادہ کردے، ورنہ ہر پریشانی اس کی بندش اور بڑھادے گی۔ (ابن عساکر)
احنف بن قیس فرماتے ہیں اس بارے شاعر نے کہا ہے۔
اکثر اوقات زمانے کا پھندا سخت ہوجاتا ہے، سو تو صبر کر نہ واویلا کر اور نہ جمع کر (نہ کود) یہاں تک کہ اپنے وقت میں اسے کشادہ کردے، ورنہ ہر پریشانی اس کی بندش اور بڑھادے گی۔ (ابن عساکر)
8657- عن الأحنف بن قيس قال: ما سمعت بعد كلام رسول الله صلى الله عليه وسلم أحسن من كلام أمير المؤمنين علي حيث يقول: إن للنكبات نهايات، لا بد لكل أحد إذا نكب من أن ينتهي إليها، فينبغي للعاقل إذا أصابته نكبة أن ينام لها حتى تنقضي مدتها، فإن في دفعها قبل انقضاء مدتها زيادة في مكروهها.
قال الأحنف وفي مثله يقول القائل:
الدهر تخنق أحيانا قلادته ... فاصبر عليه ولا تجزع ولا تثب
حتى يفرجها في حال مدتها ... فقد يزيد اختناقا كل مضطرب
"كر".
قال الأحنف وفي مثله يقول القائل:
الدهر تخنق أحيانا قلادته ... فاصبر عليه ولا تجزع ولا تثب
حتى يفرجها في حال مدتها ... فقد يزيد اختناقا كل مضطرب
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جبرائیل آپ کو لوگوں کو سلام کرنے اور نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ سکھانے آئے، اور کہا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر روزانہ پانچ نمازیں فرمض کی ہیں ، اگر کوئی شخص بیمار ہوا اور کھٹرے ہو کر نماز نہ پڑھ سکے تو بیٹھ کر پڑھے اور اگر اس سے بھی عاجر ہو تو اس کا نگہبان وذمہ دار آئے اور پانچ وقت کی نمازوں کی پانچ تکبیریں کہا کرے، جب وہ مرجائے تو اس کا ذمہ دار اس کی نماز جنازہ پڑھے جس میں پانچ تکبیریں کہے ہر نماز کی جگہ ایک تکبیر یہاں تک کہ اس روز اور رات کی نمازیں پوری ہوجائیں۔
پھر دوسرے دن آپ کو لوگوں سے سلام کرنے کا طریقہ سکھانے لگے، وہ آپ کو مجلسوں کے پاس لے جاکر پھرتے رہے وہ کہتے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہو : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے جب یہ کہا تو کہا وہ لوگ کہیں، وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھوں نے ہم سے برکت میں فضیلت حاصل کرلی ہے، جب انھوں نے وعلیکم السلام کہا تو ہم اور وہ اجر میں برابر تھے۔
اسی دن سامنے سے آکر ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا۔ تو جبرائیل نے آپ سے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جواب نہ دو ، دوسرے دن پھر اس نے سلام کیا، تو جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب نہ دو ، تیسرے دن جب اس نے آپ کو سلام کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے جواب دو ۔ آپ اسے سلام کا جواب دے کر جبرائیل کی طرف متوجہ ہوئے کہا : پہلے دو دونوں میں تم نے مجھے اسے سلام کا جواب نہ دینے کا حکم دیا اور اس وقت اسے سلام کا جواب دینے کو کہا اس کی کیا وجہ ہے ؟
جبرائیل نے کہا : جی ہاں اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج کی رات اسے سخت بخار ہوا تھا اور صبح اس کے تمام گناہ جھڑ گئے اس واسطے میں نے آپ کو اسے سلام کا جواب دینے کو کہا ہے۔ (ابوالحسن بن معروف فی فضائل نبی ہاشم وفیہ عبدالصمد بن علی العاشمی الامیر ضعفواہ)
تشریح :۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
پھر دوسرے دن آپ کو لوگوں سے سلام کرنے کا طریقہ سکھانے لگے، وہ آپ کو مجلسوں کے پاس لے جاکر پھرتے رہے وہ کہتے : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہو : السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ، آپ نے جب یہ کہا تو کہا وہ لوگ کہیں، وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ وبرکاتہ ، کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھوں نے ہم سے برکت میں فضیلت حاصل کرلی ہے، جب انھوں نے وعلیکم السلام کہا تو ہم اور وہ اجر میں برابر تھے۔
اسی دن سامنے سے آکر ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سلام کہا۔ تو جبرائیل نے آپ سے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کا جواب نہ دو ، دوسرے دن پھر اس نے سلام کیا، تو جبرائیل نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جواب نہ دو ، تیسرے دن جب اس نے آپ کو سلام کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اسے جواب دو ۔ آپ اسے سلام کا جواب دے کر جبرائیل کی طرف متوجہ ہوئے کہا : پہلے دو دونوں میں تم نے مجھے اسے سلام کا جواب نہ دینے کا حکم دیا اور اس وقت اسے سلام کا جواب دینے کو کہا اس کی کیا وجہ ہے ؟
جبرائیل نے کہا : جی ہاں اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آج کی رات اسے سخت بخار ہوا تھا اور صبح اس کے تمام گناہ جھڑ گئے اس واسطے میں نے آپ کو اسے سلام کا جواب دینے کو کہا ہے۔ (ابوالحسن بن معروف فی فضائل نبی ہاشم وفیہ عبدالصمد بن علی العاشمی الامیر ضعفواہ)
تشریح :۔۔۔ اس روایت کی سند ضعیف ہے۔
8658- عن علي قال: نزل جبريل عليه السلام، على النبي صلى الله عليه وسلم يعلمه السلام على الناس والصلاة على الجنازة، فقال: يا محمد إن الله عز وجل فرض الصلاة على عباده خمس صلوات، في كل يوم وليلة، فإن مرض الرجل فلم يقدر يصلي قائما صلى جالسا، فإن ضعف عن ذلك جاءه وليه فقال له: يكبر عن وقت كل صلاة خمس تكبيرات، فإذا مات صلى عليه وليه وكبر عليه خمس تكبيرات، مكان كل صلاة تكبيرة حتى يوفيه صلاة يومه وليلته. ثم غدا به يعلمه السلام على الناس، فجعل يمر به على المجالس، فيقول له: يا محمد قل السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فإذا قال، قال: قولوا وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته، قال: يا محمد قد ربحوا علينا فضل البركة، وإذا قالوا: وعليكم السلام، قال: يا محمد نحن وهم على سواء من الأجر، قال: فاستقبله رجل ذلك اليوم، فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل يا محمد لا ترد عليه، فلما كان في اليوم الثاني استقبله فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل: لا ترد عليه، فلما كان في اليوم الثالث لقيه، فسلم على النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له جبريل رد عليه، فلما رد عليه السلام، التفت إلى جبريل، فقال له: أمرتني في اليومين أن لا أرد عليه. وأمرتني هذه الساعة أن أرد عليه؟ قال نعم يا محمد إنه حم في هذه الليلة حمى شديدة، فأصبح مكفرا عنه، فأمرتك برد السلام عليه. أبو الحسن بن معروف في فضائل بني هاشم، وفيه عبد الصمد بن علي الهاشمي الأمير ضعفوه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٥٩۔۔۔ اشعث سے روایت ہے فرماتے ہیں : مجھ سے موسیٰ بن اسماعیل اپنے آباء و اجداد سے وہ حضرت علی (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے لوح محفوظ میں سب سے پہلے لکھا : بسم اللہ الرحمن الرحیم میں ہی اللہ ہوں میرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میں ہی ہوں، میرا کوئی شریک نہیں، جس نے میرے فیصلہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا اور میری آزمائش پر صبر کیا اور میرے حکم پر راضی رہا تو میں اسے صدیق لکھوں گا اور قیامت کے روز صد یقین کے ساتھ اس کا حشر کروں گا ۔ (ابن النجار)
8659- عن الأشعث قال: حدثني موسى بن إسماعيل عن آبائه عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أول شيء كتبه الله في اللوح المحفوظ: بسم الله الرحمن الرحيم، إني أنا الله لا إله إلا أنا، لا شريك لي، إنه من استسلم لقضائي، وصبر على بلائي، ورضي لحكمي كتبته صديقا وبعثته مع الصديقين يوم القيامة. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٦٠۔۔۔ حضرت سعد (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! سب سے زیادہ آزمائش کس پر آتی ہے آپ نے فرمایا : انبیاء پر پھر ان جیسے پھر ان جیسے، یہاں تک کہ ہر شخص کو اس کے دین کے مطابق آزمایا جاتا ہے اگر اس کی دیانت مضبوط ہو تو اس کی آزمائش بھی سخت ہوتی ہے، اور اگر اس کے دین میں کمزوری ہو تو اسی کے مطابق آزمایا جائے گا انسان برابر آزمائش میں رہتا اور زمین پر چلتا رہتا ہے یہاں تک کہ اس کے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوتا۔ (طبرانی فی الکبیر، بیھقی فی الشعب مربرقم، ٦٣٨٣، ٦٧٧٨)
8660- عن سعد قال: قلت يا رسول الله، أي الناس أشد بلاء قال: الأنبياء ثم الأمثل فالأمثل، حتى يبتلى الرجل على قدر دينه، فإن كان صلب الدين اشتد بلاؤه، وإن كان في دينه رقة ابتلي على حسب ذلك أو قدر ذلك، فما يزال البلاء بالعبد حتى يدعه يمشي في الأرض وما عليه خطيئة. "طب هب". مر برقم [6783 و 6778] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عمومی مصیبتوں پر صبر
٨٦٦١۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اے لڑکے ! میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تجھے نفع بخشے ؟ اللہ تعالیٰ (کے حکم) کی حفاظت کر وہ تیری حفاظت کرے گا، اللہ تعالیٰ (کے حکم) کی حفاظت کر تو اسے اپنے سامنے پائے گا، نرمی میں اللہ تعالیٰ کی معرفت رکھ وہ تجھے سختی میں پہچانے گا (یعنی تیری مدد کرے گا) اور جب تو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ سے ہی مانگ، اور جب تو مدد مانگے تو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگ، جس چیز نے ہونا ہے اس کے بارے قلم خشک ہوچکے ہیں۔
یاد رکھنا مدد صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مصیبت کے ساتھ ہے اور سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ (ھناد، الحلیۃ، طبرانی فی الکبیر)
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غائبانہ حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا، مشرکوں کی طرح یا بابا، کیا حضرت یا غوث میری مدد کر، مجھے یہ چیز دیدیں نہ کہنا۔
یاد رکھنا مدد صبر کے ساتھ ہے اور کشادگی مصیبت کے ساتھ ہے اور سختی کے ساتھ آسانی ہے۔ (ھناد، الحلیۃ، طبرانی فی الکبیر)
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے سوال کرنے کا مطلب یہ ہے کہ غائبانہ حاجات میں صرف اللہ تعالیٰ ہی کو پکارنا، مشرکوں کی طرح یا بابا، کیا حضرت یا غوث میری مدد کر، مجھے یہ چیز دیدیں نہ کہنا۔
8661- عن ابن عباس قال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا غلام ألا أعلمك كلمات لعل الله عز وجل أن ينفعك بهن؟ احفظ الله يحفظك، احفظ الله تجده أمامك، تعرف إلى الله في الرخاء يعرفك في الشدة، وإذا سألت فاسأل الله، وإذا استعنت فاستعن بالله، فقد جف القلم بما هو كائن، فلو اجتمع الناس على أن ينفعوك بشيء لم يكتبه الله لك لم يقدروا عليه أو يضروك بشيء لم يكتبه الله عليك لم يقدروا عليه، فإن استطعت أن تعمل لله بالرضا في اليقين فافعل، فإن لم تستطع فإن الصبر على ما تكره خير كثير، واعلم أن النصر مع الصبر، وأن الفرج مع الكرب؛ وأن مع العسر يسرا. هناد "حل طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٢۔۔۔ کسی نبی نے اپنے رب کے حضور شکایت کی، عرض کی اے رب ! آپ کا ایک بندہ آپ پر ایمان رکھتا ہے آپ کی فرمایا نبرداری میں عمل کرتا ہے اور آپ اس سے دنیا روکتے اور اسے مصائب میں مبتلا کرتے ہیں (دوسری طرف) آپ کا ایک بندہ جو آپ کا انکار کرتا ہے، آپ کی نافرمانی کے اعمال کرتا ہے آپ اس سے مصائب دور کرتے اور دنیا اس کے سامنے لارکھتے ہیں ، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی بھیجی : بیشک بندے اور شہر میرے ہی ہیں، اور ہر چیز تسبیح ، تہلیل اور تکبیر کرتی ہے، جہاں تک میرے مومن بندہ کا تعلق ہے تو اس کے گناہ ہوتے ہیں تو میں دنیا اس سے دور رکھتا ہوں اور اس پر مصائب ڈالتا رہتا ہوں یہاں تک کہ میرے پاس آجائے تاکہ میں اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دوں ، اور میرا کافر بندہ تو اس کی کچھ نیکیاں ہوتی ہیں تو میں اس سے مصائب دور کرتا اور دنیا اس کے سامنے لارکھتا ہوں، یہاں تک کہ وہ میرے پاس آجائے پھر میں اسے اس کی برائیوں کا بدلہ دیدوں ۔ (طبرانی فی الکبیر، الحلیۃ)
8662- شكى نبي من الأنبياء إلى ربه، فقال: يا رب يكون العبد من عبيدك يؤمن بك، ويعمل بطاعتك، فتزوي عنه الدنيا، وتعرض له البلاء، ويكون العبد من عبيدك يكفر بك، ويعمل بمعاصيك، فتزوي عنه البلاء، وتعرض له الدنيا، فأوحى الله إليه: إن العباد والبلاد لي، وإنه ليس من شيء إلا وهو يسبحني ويهللني ويكبرني، فأما عبدي المؤمن فله سيئات، فأزوي عنه الدنيا، وأعرض له البلاء حتى يأتيني، فأجزيه بحسناته، وأما عبدي الكافر فله حسنات، فأزوي عنه البلاء وأعرض له الدنيا حتى يأتيني فأجزيه بسيئاته. "طب حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٣۔۔۔ ابو وائل سے روایت ہے وہ حضرت عبداللہ بن مسعود یا کسی اور صحابی رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں، ہشام دستوائی کو شک ہے، فرمایا : اللہ تعالیٰ جسے پسند کرتے ہیں اسے مصیب میں مبتلا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی محبت کی ایک علامت یہ ہے کہ بندہ کو کوئی مصیبت و آزمائش پہنچے اور وہ اللہ تعالیٰ کو پکارے اور اللہ تعالیٰ اس کی پکارودعاسنیں۔ (بیھقی فی الشعب)
8663- عن أبي وائل عن ابن مسعود أو غيره من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم - شك هشام الدستوائي قال: إذا أحب الله عبدا ابتلاه، فمن حبه إياه يمسه البلاء حتى يدعوه فيسمع دعاءه. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٤۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں زمانہ جاہلیت میں ایک عورت کسبی تھی، ایک دفعہ اس کے پاس کوئی مرد گزرا یا وہ کسی مرد کے پاس سے گرزی تو اس شخص نے اپنا ہاتھ بڑھایا، تو اس عورت نے کہا : ارے ہٹ ! اللہ تعالیٰ نے شرک کو ختم کردیا ہے اور اسلام کو لے آیا ہے چنانچہ وہ شخص اس عورت کو چھوڑ کر چل دیا، اور اس کی طرف دیکھنے لگا، یہاں تک کہ اس کا چہرہ ایک دیوار سے ٹکڑایا پھر وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور سارا واقعہ ذکر کیا، آپ نے فرمایا : تو ایک ایسا بندہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے بھلائی دینے کا ارادہ کیا ہے، اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو کوئی بھلائی دینا چاہتے ہیں تو اسے اس کے گناہ کی جلد سزا دیتے ہیں، اور جب کسی بندے کو کسی برائی میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے گناہ کی وجہ سے عذاب روکے رکھتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے روزے اسے پوری پوری سزا دیں گے ۔ (بیھقی فی الشعب مر۔ ٦٧٩١)
8664- عن عبد الله بن مغفل أن امرأة كانت بغيا في الجاهلية، فمر بها رجل أو مرت به فبسط يده إليها، فقالت مه إن الله ذهب بالشرك وجاء بالإسلام فتركها وولى، وجعل ينظر إليها، حتى أصاب وجهه الحائط، فأتى النبي صلى الله عليه وسلم، فذكر ذلك له، فقال: أنت عبد أراد الله بك خيرا، إن الله إذا أراد بعبد خيرا عجل له عقوبة ذنبه، وإذا أراد بعبد شرا أمسك عليه بذنبه حتى يوافى به يوم القيامة. "هب". مر [6791] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٥۔۔۔ ابوامامہ سے روایت ہے انھوں نے وعظ کہا : لوگو ! صبر سے کام لو ! چاہے وہ چیزیں تمہیں پسند ہوں یا ناپسند ، صبر سب سے اچھی عادت ہے یقیناً تمہیں دنیا اچھی لگتی ہے اور تمہارے لیے اس کے دامن کھینچے گئے اور اس کے کپڑے اور زیب وزینت پہنائی گئی، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اپنے صحنوں میں بیٹھتے اور کہتے ہم بیٹھتے ہیں کسی کو سلام کرتے ہیں اور کوئی سلام کرے گا۔ (ابن عساکر)
8665- عن أبي أمامة أنه وعظ فقال: عليكم بالصبر فيما أحببتم أو كرهتم، فنعم الخصلة الصبر، ولقد أعجبتكم الدنيا، وجرت لكم أذيالها، ولبست ثيابها وزينتها، إن أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم كانوا يجلسون بفناء بيوتهم يقولون نجلس فنسلم ويسلم علينا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٦۔۔۔ عمر بن عبدالرحمن بن زید بن خطاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر کو جب کوئی تکلیف پہنچتی تو آپ فرماتے : مجھے زید بن خطاب کے ذریعہ مصیبت پہنچی، تو میں نے صبر کیا، ایک دفعہ انھوں نے اپنے بھائی کے قاتل کو دیکھا تو فرمایا : تیرا ناس ہو تو نے میرا بھائی قتل کیا، جب تک بادصبا چلتی رہے گی میں اسے یاد رکھوں گا۔ (بخاری مسلم، ابن عساکر)
8666- عن عمر بن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب قال: كان عمر يصاب بالمصيبة، فيقول: أصبت بزيد بن الخطاب فصبرت، وأبصر قاتل أخيه، فقال له: ويحك لقد قتلت لي أخا، ما هبت الصبا إلا ذكرته. "ق كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٧۔۔۔ عبدالرحمن بن زید بن خطاب سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے زید کے قاتل سے کہا : تو اپنا چہرہ چھپا کر رکھا کر۔ (بخاری فی تاریخہ ابن عساکر)
تشریح :۔۔۔ زید (رض) حضرت عمر کے باپ شریک بھائی ہیں، حضرت زید کی والدہ کا نام اسماء بنت وھب بن حبیب ازبنی اسد بن خزیمہ ہے اور حضرت عمر کی والدہ کا نام خیثمۃ بنت ہاشم بن مغیرہ مخزومی ہے، حضرت زید، حضرت عمر سے بڑے تھے آپ سے پہلے مسلمان ہوئے جنگ یمامہ میں ١٢ ھ کو شہید ہوئے، جس شخص نے آپ کو قتل کیا اس کا نام سلمہ بن صبیح جو ابومریم کا چچا زاد بھائی ہے، دیکھیں ” صفات صحابہ “ طبع نور محمد کراچی
تشریح :۔۔۔ زید (رض) حضرت عمر کے باپ شریک بھائی ہیں، حضرت زید کی والدہ کا نام اسماء بنت وھب بن حبیب ازبنی اسد بن خزیمہ ہے اور حضرت عمر کی والدہ کا نام خیثمۃ بنت ہاشم بن مغیرہ مخزومی ہے، حضرت زید، حضرت عمر سے بڑے تھے آپ سے پہلے مسلمان ہوئے جنگ یمامہ میں ١٢ ھ کو شہید ہوئے، جس شخص نے آپ کو قتل کیا اس کا نام سلمہ بن صبیح جو ابومریم کا چچا زاد بھائی ہے، دیکھیں ” صفات صحابہ “ طبع نور محمد کراچی
8667- عن عبد الرحمن بن زيد بن الخطاب، قال: قال عمر لقاتل زيد: غيب وجهك. "خ" في تاريخه "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٨۔۔۔ حضرت ابوسعید سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں سے بیعت لے رہے تھے کہ ان میں ایک شخص لحیم شحیم جسم والا تھا، آپ نے فرمایا : بندہ خدا تجھے بدن میں کبھی کوئی تکلیف بھی ہوئی ہے ؟ اس نے کہا : اولاد کے بارے میں ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : گھر والوں کے متعلق ؟ اس نے کہا : نہیں ، آپ نے فرمایا : اے اللہ کے بندے ! اللہ تعالیٰ کا سب سے ناپسندیدہ بندہ وہ ہے جو خبیث و سرکش ہو جسے مال ، بدن ، اولاد اور اہل میں کوئی مصیبت نہ پہنچی ہو (الرامھرمزی فی الامثال ورجالہ ثقات)
8668- عن أبي سعيد أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، بايع الناس وفيهم رجل ذو جثمان، فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: يا عبد الله أرزئت في نفسك شيئا قط؟ قال: لا، قال: ففي ولدك؟ قال: لا، قال: ففي أهلك؟ قال: لا، قال: يا عبد الله إن أبغض عباد الله إلى الله العفريت النفريت، الذي لم يرزأ في نفسه ولا أهله وماله ولا ولده. الرامهرمزي في الأمثال ورجاله ثقات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৬৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٦٩۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا گیا سب سے زیادہ سخت آزمائش والے کون ہیں ؟ آپ نے فرمایا : انبیاء پھر صلحاء۔ ابن النجار مر۔ ٦٨٣٠)
8669- عن أبي هريرة قال: سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم أي الناس أشد بلاء؟ قال الأنبياء ثم الصالحون. ابن النجار. مر برقم [6830] .
তাহকীক: