কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৬৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٧٠۔۔۔ حسن بصری (رح) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کو پھانس کا لگ جانا ، یا قدم پھسلنا یا کسی رگ کا پھڑکنا تو یہ گناہ کی وجہ سے ہے اور جو باتیں اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے وہ زیادہ ہیں پھر آپ نے فرمایا : تمہیں جو مصیبت پہنچتی ہے تو یہ تمہارے ہاتھوں کا کرتوت ہے اور اکثر باتیں وہ معاف کردیتا ہے۔ (ابن عساکر مربرقم۔ ٦٧٤٩)
8670- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من خدش عود ولا عثرة قدم ولا اختلاج عرق إلا بذنب، وما يعفو الله عنه أكثر ثم قرأ: {وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ} . "كر". مر برقم [6849] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مصائب پر اجر وثواب ملتا رہتا ہے
٨٦٧١۔۔۔ مجاھد سے روایت ہے فرماتے ہیں : بندہ کو جو جسمانی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ اس گناہ کی وجہ سے ہے جو اس نے کمایا ، اور جس گناہ کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں لے لیا تو اللہ تعالیٰ زیادہ انصاف والا ہے کہ وہ اپنے بندے کو دوبارہ سزادے اور جس بات کو اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا ہو اس کی سزاق دوبارہ دے۔ (ابن جریر)
8671- عن مجاهد قال: ما أصاب العبد من بلاء في جسده فهو لذنب اكتسبه، وما عاقب الله عليه في الدنيا فالله أعدل أن يعود في العقاب على عبده؛ وما عفا الله عنه فهو أكرم من أن يعود في شيء عفا عنه. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اولاد کے مرنے پر صبر کرنا
٨٦٧٢۔۔۔ حضرت (زبیر بن عوام (رض)) سے روایت ہے فرمایا : ہماری اولاد کی طرف سے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیں ایک عطیہ دیا، اور فرمایا : جس کے تین ایسے بچے فوت ہوگئے ہوں جو ابھی تک بالغ نہیں ہوئے ، تو وہ اس کے لیے آگ سے پردہ ہوں گے۔ (ابوعوانہ عن انس، دارقطنی فی الافراد رن الزبیر بن العوام مربرقم، ٦٦١١)
8672- "الزبير بن العوام رضي الله عنه" عن الزبير قال: منحنا رسول الله صلى الله عليه وسلم بأنفسنا عن أولادنا، فقال: من مات له ثلاثة من الولد لم يبلغوا الحنث كانوا حجابا من النار. أبو عوانة عن أنس "قط" في الأفراد عن الزبير بن العوام مربرقم [6611] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اولاد کے مرنے پر صبر کرنا
٨٦٧٣۔۔۔ عبداللہ بن وھب ، ثوابہ بن مسعود تنوخی ، کسی ایسے شخص سے جس نے حضرت انس بن مالک (رض) سے روایت کی ہے فرمایا : حضرت عثمان بن مظعون کا بیٹا فوت ہوگیا، تو آپ کو اس کا سخت صدمہ ہوا ، یہاں تک کہ آپ نے اپنے گھر میں ہی نماز کی جگہ بنالی جہاں بیٹھ کر عبادت کرتے۔

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اس بات کا پتہ چلا تو آپ نے فرمایا : عثمان ! اللہ تعالیٰ نے ہم پر رہبانیت (ترک دنیا) فرض نہیں کی، میری امت کی رہبانیت اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کرنا ہے، اے عثمان بن مظعون جنت کے آٹھ دروازے اور جہنم کے سات دروازے ہیں کیا تمہیں اس بات سے خوشی نہیں کہ تم جس دروازے پر بھی آؤ وہاں اپنے بیٹے کو موجود پاؤ جو تمہارا دامن پکڑ کر اپنے رب کے حضور تمہاری شفاعت کرے ؟ انھوں نے کہا : کیوں نہیں یارسول اللہ !

کسی نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ہماری اگلی اولاد کے لیے بھی وہی ہے جو عثمان کے لیے ہے۔ آپ نے فرمایا : ہاں ، جس نے صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی۔ پھر فرمایا : اے عثمان بن مظعون ! جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی اور پھر سورج نکلنے تک وہیں بیٹھا رہا تو اس کے لیے جنت فردوس میں ستر درجہ ہوں گے، ہر دو درجہ کے درمیان اتنا فاصلہ جتنا ایک تیز رفتار گھوڑے کو ستر سال ایڑلگانے اور دوڑانے سے ہوتا ہے، اور جس نے ظہر کی نماز باجماعت ادا کی اس کے لیے جنت عدن میں بچ اس درجے ہوں گے، ہر دو درجوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہوگا جتنا تیز رفتار گھوڑے کو پچاس سال اپڑلگانے سے پیدا ہوتا ہے اور جس نے عصر کی نماز باجماعت ادا کی ، تو اس کے لیے حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے آٹھ بیٹوں جیسا اجر ہوگا۔ ان میں سے ہر ایک گھر کا مالک ہو اور انھیں آزاد کردیں۔

اور جس نے مغرب کی نماز باجماعت ادا کی تو اسے ایک مقبول حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا، اور جس نے عشاء کی نماز باجماعت پڑھی اسے لیلۃ القدر میں قیام کا ثواب ملے گا۔ (٦٦٢٦ ومزاہ المصنف، حاکم فی تاریخہ عن انس)

تشریح :۔۔۔ یہ حضرت عبداللہ بن عمر کے ماموں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے رضاعی بھائی ہیں وفات کے بعد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا ماتھا چوما۔
8673- عن عبد الله بن وهب عن ثوابة1 بن مسعود عمن حدثه عن أنس بن مالك قال: توفي ابن لعثمان بن مظعون، فاشتد حزنه عليه حتى اتخذ في داره مسجدا يتعبد فيه، فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا عثمان إن الله لم يكتب علينا الرهبانية، إنما رهبانية أمتي الجهاد في سبيل الله يا عثمان بن مظعون للجنة ثمانية أبواب، وللنار سبعة أبواب فما يسرك أن لا تأتي بابا منها إلا وجدت ابنك إلى جنبك آخذا بحجزتك2 يستشفع لك إلى ربك عز وجل؟ قال: بلى، قيل يا رسول الله، ولنا في فرطنا ما لعثمان؛ قال نعم لمن صبر منكم واحتسب، ثم قال له يا عثمان بن مظعون من صلى صلاة الفجر في جماعة، ثم جلس يذكر الله حتى تطلع الشمس، كان له في الفردوس سبعون درجة بين كل درجتين كركض الفرس الجواد المضمر سبعين سنة، ومن صلى الظهر جماعة كان له في جنات عدن خمسون درجة ما بين كل درجتين كركض الفرس الجواد المضمر خمسين سنة، ومن صلى صلاة العصر في جماعة كان له كأجر ثمانية من ولد إسماعيل، كلهم رب بيت أعتقهم، ومن صلى المغرب في جماعة كان حجة مبرورة وعمرة متقبلة، ومن صلى العشاء في جماعة كان له كقيام ليلة القدر ... مر برقم [6626] وعزاه المصنف. "ك" في تاريخه عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٤۔۔۔ عبدالخالق بن ابراہیم بن طہمان اپنے والد سے وہ بکر بن حنیس سے وہ ضرار بن عمرو سے وہ ثابت بنانی وہ حضرت انس (رض) سے نقل کرتے ہیں فرمایا : حضرت عثمان بن مظعون کا بیٹا فوت ہوگیا تو انھیں بڑا صدمہ ہوا، اور انھوں نے اپنے گھر ہی نماز کی جگہ بنالی جس میں عبادت کرتے تھے، اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مجلس و حاضری سے پندرہ روز غائب رہے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے متعلق پوچھا : تو لوگوں نے کہا : ان کا بیٹا فوت ہوا، جس کی وجہ سے انھیں سخت غم پہنچا ہے۔ اور انھوں نے اپنے گھر ہی نماز و عبادت کے لیے ایک جگہ بنالی ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں بلاؤ اور جنت کی خوشخبری دو ! آپ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : عثمان ! کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ جنت کے آٹھ دروازے اور جہنم کے سات دراوزے ہیں تم جنت کے جس دروازے کے پاس جاؤ تو وہاں اپنے بیٹے کو کھڑا پاؤ جو تمہارے دامن سے پکڑ کر تمہارے دامن سے پکڑ کر تمہارے رب کے حضور تمہارے لیے شفاعت کرے ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا رسول اللہ !

صحابہ (رض) نے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : کیا ہماری اولاد کے بارے میں ہمارے لیے یہی اجر ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے جو ثواب کی امید رکھے ، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عثمان ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ اسلام کی رہبانیت کیا چیز ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنا، اے عثمان ! جس نے فجر کی نماز باجماعت ادا کی،پھر سورج طلوع ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا، تو اسے ایک مقبول حج اور عمرہ کا ثواب ہے۔

اور جس نے ظہر کی نماز باجماعت ادا کی تو اس کے لیے اس جیسی پچیس (٢٥) نمازوں کا ثواب ہے، اور جنت فردوس میں ستر درجات ہیں ، اور جس نے عصر کی نماز باجماعت اد ا کی اور پھر سورج غروب ہونے تک اللہ تعالیٰ کا ذکر کیا تو اسے اسماعیل (علیہ السلام) کے آٹھ بیٹوں کو آزاد کرنے کا ثواب ہے ان میں سے ہر ایک کی دیت بارہ ہزار اونٹ ہیں۔

اور جس نے مغرب کی نماز باجماعت ادا کی تو اسے اس جیسی پچیس نمازوں کا ثواب اور جنت عدن میں ستر درجات ملیں گے، اور جس نے عشاء کی نماز باجماعت ادا کی تو اس کے لیے لیلۃ القدر (کی عبادت) کا ثواب ہے۔ (حاکم فی تاریخہ، بیھقی فی الشعب
8674- عن عبد الخالق بن إبراهيم بن طهمان عن أبيه عن بكر بن خنيس عن ضرار بن عمرو عن ثابت البناني عن أنس بن مالك قال: توفي ابن لعثمان بن مظعون فحزن عليه، واتخذ في داره مصلى يتعبد فيه، وغاب عن النبي صلى الله عليه وسلم خمس عشرة ليلة، فسأل عنه النبي صلى الله عليه وسلم فأخبروه أنه مات له ابن، وأنه حزن عليه حزنا شديدا، وأنه أعد في داره مصلى يتعبد فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أدعه لي وبشره بالجنة، فلما أتاه قال له: يا عثمان أما ترضى أن للجنة ثمانية أبواب وللنار سبعة أبواب لا تنتهي إلى باب من أبواب الجنة إلا وجدت ابنك قائما عنده، آخذا بحجزتك يشفع لك عند ربك؛ قال: بلى يا رسول الله. قال أصحاب محمد: ولنا في أبنائنا مثل ذلك؟ قال: نعم، ولكل من احتسب من أمتي، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عثمان هل تدري ما رهبانية الإسلام؛ الجهاد في سبيل الله، يا عثمان من صلى الغداة في الجماعة، ثم ذكر الله حتى تطلع الشمس كانت له كحجة مبرورة وعمرة متقبلة؛ ومن صلى صلاة الظهر في جماعة كانت له كخمس وعشرين صلاة كلها مثلها؛ وسبعين درجة في الفردوس، ومن صلى صلاة العصر في جماعة، ثم ذكر الله حتى تغرب الشمس كانت له كعتق ثمانية من ولد إسماعيل، دية كل واحد منهم اثنا عشر ألفا، ومن صلى صلاة المغرب في جماعة كانت له خمسة وعشرين صلاة، كلها مثلها، وسبعين درجة في جنة عدن، ومن صلى صلاة العشاء في جماعة كانت له كأجر ليلة القدر. "ك" في تاريخه "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٥۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے کہ آپ کو ایک انصاری عورت کے بیٹے کی وفات کی اطلاع ملی، چنانچہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اٹھے اور ہم بھی آپ کے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے اور میں ایسا شخص تھا کہ جس کے بچے زندہ نہ رہتے تھے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مصیبت زدوہ تو وہ شخص ہے جس کا کوئی بچہ نہ مرا ہو، کیا تم یہ نہیں چاہتی کہ اسے جنت کے دروازے پر دیکھو اور تمہیں بلارہا ہو، اس عورت نے کہا : کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا : وہ اسی طرح ہوگا۔ (بیھقی الشعب)
8675- عن بريدة قال: كنا مع النبي صلى الله عليه وسلم، إذ بلغه وفاة ابن امرأة من الأنصار، فقام وقمنا معه، فلما رآها قال: ما هذا الجزع؟ قالت: يا رسول الله وما لي لا أجزع؟ وأنا رقوب لا يعيش لي ولد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الرقوب الذي لا يموت ولدها، أما تحبين أن تريه على باب الجنة، وهو يدعوك إليها؟ قالت: بلى، قال: فإنه كذلك. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٦۔۔۔ حضرت بریدہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انصار کی دیکھ کرتے ان کے پاس آتے اور ان کا حال احوال پوچھتے ، آپ کو پتہ چلا کہ ایک عورت کا بچہ فوت ہوگیا ہے، جس پر اس نے سخت واویلا مچایا ہے اس پر تعزیت کے لیے اس کے ہاں تشریف کے گئے، اور اسے اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور صبر کرنے کا حکم دیا، تو اس نے کہا : یا رسول اللہ ! میں ایسی عورت ہوں جس کے ہاں بچہ نہیں ہوتا تھا اور میرا یہی بچہ تھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مصیبت زدہ وہ ہے جس کا بچہ بچ جائے۔ (ابن النجار)
8676- عن بريدة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، كان يتعاهد الأنصار ويأتيهم ويسأل عنهم، فبلغه أن امرأة منهم مات ابنها، فجزعت عليه جزعا شديدا، فأتاها يعزيها، فأمرها بتقوى الله والصبر، فقالت: يا رسول الله إني امرأة رقوب لا ألد، ولم يكن لي ولد غيره، فقال: الرقوب التي يبقى لها ولد.

ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٧۔۔۔ (ثابت بن قیس بن شماس) عبد الخیربن قیس بن شماس اپنے والد سے وہ اپنے دادا سے نقل کرتے ہیں ، فرمایا : قریظہ کے دن ایک انصاری نوجوان شہید ہوا جسے خلاد کہا جاتا تھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس کے لیے دوشہیدوں کا ثواب ہے لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! یہ کیوں ؟ آپ نے فرمایا : کیونکہ اہل کتاب نے اسے شہید کیا ہے، اس کی والدہ بلایا گیا تو وہ نقاب کرکے آئیں ، کسی نے کہا : آپ نے نقاب اوڑھی ہوئی ہے جبکہ خلاد شہید ہوچکا ہے ؟ تو وہ بولیں : مجھے اگرچہ آج خلاد کی مصیبت پہنچی ہے لیکن میری حیا کو تو کوئی مصیبت نہیں پہنچی ۔ (ابونعیم)

تشریح :۔۔۔ یہ خلادبن سوید بن غفلہ بن ثعلبہ انصاری خزرجی صحابی ہیں ، ایک یہودی عورت نے ان پر چکی کا پاٹ پھینکاجس سے ان کا سر پھٹ گیا اور وہ شہید ہوگئے۔ دیکھیں ” صفات صحابہ “ مطبوعہ نور محمد کراچی اور ثابت بن قیس بن شماس انھیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا خطیب ہونے کا لقب حاصل ہے۔
8677- "ثابت بن قيس بن شماس"1 عن عبد الخير بن قيس بن شماس عن أبيه عن جده قال: استشهد شاب من الأنصار يوم قريظة يقال له: خلاد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أما إن له أجر شهيدين، قالوا: لم يا رسول الله؟ قال: لأن أهل الكتاب قتلوه، ودعيت أمه فجاءت متنقبة فقيل لها: تنقبين وقد قتل خلاد؟ فقالت: لئن رزئت خلادا اليوم فلا أرزأ حيائي. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٨۔۔۔ محمود بن لبید حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جس کے تین بچے مرگئے ، اور اس نے ان کے بارے ثواب کی امید رکھی تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اگرچہ دوہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ دو ہوں ، محمود کہتے ہیں : میں نے کہا اے حضرت جابر بن عبداللہ ! میں سمجھتا ہوں اگر آپ کہتے اگرچہ ایک ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیتے ایک بھی، حضرت جابر نے فرمایا : اللہ کی قسم ! میں بھی یہی سمجھتا ہوں ۔ (بیھقی فی الشعب)
8678- عن محمود بن لبيد عن جابر بن عبد الله قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من مات له ثلاثة من الولد، فاحتسبهم دخل الجنة قلت: يا رسول الله واثنان؟ قال: واثنان، قال محمود: فقلت لجابر بن عبد الله: والله إني لا أراكم قلتم واحدا لقال واحدا، قال: أنا والله أظن ذلك. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٧٩۔۔۔ حارث بن اقیشر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن دو مسلمانوں (خاوند و بیوی) کے چار بچے فوت ہوگئے ہوں جو ان سے پہلے آگے پہنچ گئے ہوں تو اللہ تعالیٰ ان دونوں کو جنت میں داخل فرمائیں گے، لوگوں نے عرض کیا : اگرچہ تین ہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ تین ہوں ، پھر لوگوں نے پوچھا : اگر دوہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ دوہوں۔

میری امت کا ایک شخص جنت میں جائے گا اور مضر قبیلہ سے زائد لوگوں کی شفاعت کرے گا، اور میری امت کا ایک شخص جہنم کے لیے اتنا بڑا ہوگا کہ وہ اس کے ایک حصہ میں سما جائے گا۔ (الحسن بن سفیان ، طبرانی فی الکبیر و ابونعیم)
8679- عن الحارث بن أقيشر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ما من مسلمين يموت لهما أربعة أفراط إلا أدخلهما الله الجنة، قالوا يا رسول الله: وثلاثة؟ قال: وثلاثة، قالوا يا رسول الله: واثنان؟ قال: واثنان، وإن الرجل من أمتي ليدخل الجنة فيشفع في أكثر من مضر، وإن الرجل من أمتي ليعظم للنار حتى يكون أحد زواياها. الحسن بن سفيان "طب" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٨٠۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے تین بچے آگے بھیجے جو نابالغ ہوں تو اس کے لیے (جہنم کی) آگ سے مضبوط قلعہ ہوں گے حضرت ابوذر نے پوچھا : میں نے دوبچے بھیجے ہیں ، آپ نے فرمایا : اگرچہ دوہوں ، تو ابی بن کعب اور ابوالمنذر قاریوں کے سردار نے کہا : یارسول اللہ ! میں نے ایک ایک بچہ بھیجا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ ایک ہوں لیکن یہ پہلے صدمہ کے وقت ہے۔ (ابویعلی ابن عساکر)
8680- عن ابن مسعود قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من قدم ثلاثة لم يبلغوا الحنث كانوا له حصنا حصينا من النار، قال أبو ذر: قدمت اثنين، قال: واثنين، قال أبي بن كعب أبو المنذر سيد القراء: قدمت واحدا يا رسول الله؟ فقال: وواحدا، ولكن ذاك في أول صدمة. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٨١۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جن دو مسلمانوں کے تین بچے فوت ہوجائیں تو ان کے لیے آگ سے بچاؤ کا مضبوط قلعہ ہوں گے ، پس ہم نے عرض کیا : یارسول اللہ ! اگرچہ دوہوں ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ دوہوں ، تو ابوڈر نے کہا : میں نے تو دوہی بھیجے ہیں آپ نے فرمایا : اگرچہ دوہوں ، تو ابی کعب نے کہا : میں نے تو ایک بھیجا ہے آپ نے فرمایا : اگرچہ ایک ہو لیکن پہلے صدمہ کے وقت۔ (ابویعلی ابن عساکر)
8681- عن ابن مسعود رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما من مسلمين يموت لهما ثلاثة إلا كانوا لهما حصنا حصينا من النار،فقلنا يا رسول الله وإن كان اثنين، وقال أبو ذر: يا رسول الله لم أقدم إلا اثنين قال: وإن كان اثنين، فقال أبي بن كعب: لم أقدم إلا وحدا، قال: وإن كان واحدا، ولكن ذاك عند الصدمة الأولى. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٨٢۔۔۔ ابوذر (رض) سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے کہا، آپ کا تو کوئی بچہ نہیں بچتا ؟ آپ نے فرمایا : الحمدللہ اس ذات کا شکر ہے جو انھیں دارالبقا میں ذخیرہ کرتا ہے۔ (ابونعیم)
8682- عن أبي ذر أنه قيل له: إنك امرؤ ما يبقى لك ولد؟ فقال: الحمد لله الذي يأخذهم في دار الفناء، ويدخرهم في دار البقاء. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٨٣۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک عورت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا، وہ کہنے لگی : یا رسول اللہ ! اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کریں کہ میرے بیٹے کو شفا بخشنے ، آپ نے اس سے فرمایا : کیا تمہارا آگے (آخرت میں ) کوئی بیٹا ہے ؟ وہ کہنے لگی : ہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : جاہلیت میں یا اسلام میں ؟ اس نے کہا : اسلام میں ، آپ نے تین بار فرمایا : مضبوط ڈھال ہے۔ (ابن النجار)
8683- عن أبي هريرة أن امرأة أتت النبي صلى الله عليه وسلم، ومعها ابن، فقالت: يا رسول الله ادع الله أن يشفي ابني هذا، فقال لها: هل لك من فرط؟ قالت: نعم يا رسول الله، قال: في الجاهلية أو في الإسلام؟ قالت في الإسلام قال: جنة حصينة ثلاثا. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نابالغ بچہ اپنے والدین کی سفارش کرے گا
٨٦٨٤۔۔۔ عمروبن سعید سے روایت ہے کہ حضرت عثمان کے ہاں جب کوئی بچہ پیدا ہوتا تو اسے منگواتے اور وہ کپڑوں میں لپٹا ہوتا، آپ اسے سونگھتے ، کسی نے کہا : آپ ایسا کیوں کرتے ہیں ؟ فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ اسے کوئی مصیبت پہنچنے سے پہلے میرے دل میں کوئی چیز پیدا ہوجائے یعنی محبت۔ (ابن سعد)
8684- عن عمرو بن سعيد قال: كان عثمان إذا ولد له ولد دعا به وهو في خرقة فشمه، فقيل له: لم تفعل هذا؟ فقال: إني أحب إن أصابه شيء يكون قد وقع له في قلبي شيء - يعني الحب. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر کے ختم ہوجانے پر صبر
٨٦٨٥۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ زید بن ارقم کے پاس ان کی عیادت کرنے گیا انھیں آنکھوں کی تکلیف تھی آپ نے فرمایا : اے زیداگرتمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے تو کیا کروگے ؟ انھوں نے عرض کیا : صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا۔

آپ نے فرمایا : اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے اور تم صبر وثواب کی امید رکھو تو اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملوگے تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہ ہوگا۔ (ابویعلی ابن عساکر)
8685- عن أنس قال: دخلت مع النبي صلى الله عليه وسلم يعود زيد بن أرقم، وهو يشتكي عينيه، فقال: يا زيد أرأيت إن كان بصرك لما به، قال: أصبر وأحتسب، فقال: والذي نفسي بيده لئن كان بصرك لما به فصبرت واحتسبت لتلقين الله يوم القيامة ليس عليك ذنب. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر کے ختم ہوجانے پر صبر
٨٦٨٦۔۔۔ حضرت زید بن ارقم سے روایت رہے تو کیسا رہے گا ؟ میں نے عرض کیا : میں صبر کروں اور ثواب کی امید رکھوں گا آپ نے فرمایا : زید بن ارقم ! اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے تو کیسا رہے گا ؟ میں نے عرض کیا : میں صبر کروں اور ثواب رکھوں گا آپ نے فرمایا : زید بن ارقم ! اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہی اور تم نے صبر کیا اور ثواب کی امید رکھی تو تم جنت میں داخل ہوگے۔ (ابن عساکر)
8686- عن زيد بن أرقم قال: رمدت عيني فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم في الرمد، فقال: يا زيد بن أرقم إن كان في عينك لما بها كيف؟ فقلت أصبر وأحتسب، قال: يا زيد بن أرقم إن كان عينك لما بها ثم صبرت واحتسبت دخلت الجنة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر کے ختم ہوجانے پر صبر
٨٦٨٧۔۔۔ حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی کسی بیماری میں عبادت کرنے آئے، آپ نے فرمایا : تمہاری اس بیماری کا تم پر کوئی حرج نہیں ، لیکن اس وقت تم کیسے رہو گے میرے بعد لمبی عمر پاؤگے اور نابینا ہوجاؤ گے ؟ عرض کیا : تب میں صبر کروں گا اور ثواب کی امید رکھوں گا، آپ نے فرمایا : تب جنت میں بغیر حساب داخل ہوگے، چنانچہ آپ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد نابینا ہوگئے تھے۔ (ابویعلی، ابن عساکر)
8687- عن زيد بن أرقم أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل عليه يعوده من مرض كان به، فقال: ليس عليك من مرضك هذا بأس، ولكن كيف بك إذا عمرت بعدي فعميت؟ قال: إذا أصبر وأحتسب، قال: إذا تدخل الجنة بغير حساب، فعمي بعد ممات النبي صلى الله عليه وسلم. "ع كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نظر کے ختم ہوجانے پر صبر
٨٦٨٨۔۔۔ حضرت زید بن ارقم (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے آنکھوں کی تکلیف ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میری عیادت کی، دوسرے دن انھیں کچھ افاقہ ہوا، چنانچہ جب آپ باہر نکلے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی، آپ نے فرمایا : اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے تو تم کیا کرو گے ؟ عرض کیا : میں صبر کرتا اور ثواب کی امید رکھتا، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! اگر تمہاری آنکھوں میں یہی تکلیف رہے اور تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو اور پھر فوت ہوجاؤتو اللہ تعالیٰ سے ایسی حالت میں ملوگے کہ تمہارے ذمہ کوئی گناہ نہیں ہوگا۔ (بیھقی فی الشعب)
8688- عن زيد بن أرقم قال: أصابني رمد فعادني رسول الله صلى الله عليه وسلم فلما كان الغد أفاق بعض الافاقة، ثم خرج ولقيه النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: أرأيت لو أن عينيك لما بهما ما كنت صانعا؟ قال: كنت أصبر وأحتسب قال: أما والله لو كانت عيناك لما بهما ثم صبرت واحتسبت، ثم مت لقيت الله ولا ذنب لك. "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٨٩۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے فرمایا : کہ حضرت بن خطاب (رض) نے فرمایا : یہ صلہ رحمی نہیں کہ جو تم سے جوڑے تم اس سے ناتا جوڑو بلکہ ناتا داری تو یہ ہے کہ جو نا تاختم کرے تم اس سے قائم رکھو۔ (بیھقی فی الشعب)

تشریح :۔۔۔ معاشرے میں بھی یہی کمال سمجھا جاتا ہے کہ جو نہیں آتے ہم ان کے ہاں کیوں جائیں۔
8689- عن عكرمة قال: قال عمر بن الخطاب: ليس الوصل أن تصل من وصلك، ذلك القصاص، ولكن الوصل أن تصل من قطعك. "هب".
tahqiq

তাহকীক: