কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৬৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٠۔۔۔ حضرت علی روایت ہے فرمایا : جو مجھے ایک چیز ک کی ضمانت دے میں اس کے لیے چار چیزوں کا ضامن ہوں، جو صلہ رحمی کرے اس کی عمر لمبی ہوگی، اس کے اہل و عیال اسے پسند کریں گے، اس کا رزق وسیع ہوگا اپنے رب کی جنت میں داخل ہوگا۔ (الدینوری)
8690- عن علي قال: من ضمن لي واحدا ضمنت له أربعا؟ من وصل رحمه طال عمره، وأحبه أهله، ووسع عليه في رزقه، ودخل جنة ربه. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماے ہیں انسان صلہ رحمی کرتا رہتا ہے اور اس کی عمر کے صرف تین دن باقی رہ جاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تیس موخر کردیتا ہے اور آدمی قطع رحمی کرتا رہتا ہے جبکہ اس کی عمر کے تیس سال باقی ہوتے ہیں تو اللہ تعالیٰ انھیں تین دن بنادیتا ہے۔ (ابوالشیخ فی التواب)
8691- عن أنس قال: إن المرء ليصل رحمه وما يبقى من عمره إلا ثلاثة أيام فينسؤه الله ثلاثين سنة، وإنه ليقطع الرحم وقد بقي من عمره ثلاثون سنة، فيصيره الله إلى ثلاثة أيام. أبو الشيخ في الثواب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٢۔۔۔ ابن عمرو سے روایت ہے وہ عبداللہ بن ابی اوفیٰ (رض) سے روایت کرتے ہیں ، کہ ہم لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بیٹھے تھے آپ نے فرمایا : آج میرے پاس قطع رحمی کرنے والا نہیں بیٹھ سکتا، اتنے میں حلقہ سے ایک نوجوان اٹھا اور اپنی خالہ کے پاس آیا، ان دونوں میں کوئی رنجش تھی، بھانجے نے خالہ کے استغفار کیا پھر وہ نوجوان مجلس میں آگیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس قوم پر (اللہ تعالیٰ کی) رحمت نازل نہیں ہوتی جن میں قطع رحمی کرنے والا ہو۔ (ابن عساکروفیہ سلیمان بن زید ابوادام المحاربی کذبہ ابن معین)
8692- عن ابن عمرو عن عبد الله بن أبي أوفى قال: كنا جلوسا عند النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: لا يجالسني اليوم قاطع رحم، فقام فتى من الحلقة فأتى خالة له، وقد كان بينهما بعض الشيء فاستغفر لها، واستغفرت له، ثم عاد إلى المجلس، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الرحمة لا تنزل على قوم فيهم قاطع رحم. "كر" وفيه سليمان بن زيد أبو إدام المحاربي كذبه ابن معين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بیشک اللہ تعالیٰ ایک قوم کے لیے شہروں کو آباد کرتا اور ان کے لیے مال میں اضافہ کرتا ہے اور جب سے انھیں پیدا کیا ان سے بغض کی وجہ سے۔ بنظررحمت نہیں دیکھا، کسی نے پوچھا : یہ کیسے یارسول اللہ ! ؟ آپ نے فرمایا : ان کی صلہ رحمی اور ناتا داری کو قائم رکھنے کی وجہ سے۔ (ابن جریر والشیرازی فی الالقاب ، بطبرانی فی الکبیر، حاکم )
8693- عن ابن عباس قال: قال: رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن الله تبارك وتعالى ليعمر للقوم الديار، ويكثر لهم الأموال، وما نظر إليهم منذ خلقهم بغضا لهم، قيل: وكيف ذاك يا رسول الله؟ قال لصلتهم أرحامهم. ابن جرير والشيرازي في الألقاب "طب ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٤۔۔۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میری نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ملاقات ہوئی تو میں نے جلدی سے آپ کا ہاتھ تھام لیا یا آپ نے پہلے میرے ہاتھ کو تھام لیا، پھر آپ نے فرمایا : عقبہ ! کیا میں تمہیں دنیا اور آخرت کے سب سے افضل اخلاق نہ بتاؤں ؟ جو تم سے ناتا توڑے تم اس سے جوڑو، اور جو تمہیں محروم رکھے تم اسے عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے تو اسے معاف رکھو، خبردار جو یہ چاہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی عمر بڑھائے اور اس کے رزق میں اضافہ کرے تو اسے چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرے اور اپنی رشتہ داری کو قائم رکھے۔ (ابن جریر)
8694- عن عقبة بن عامر قال: لقيني النبي صلى الله عليه وسلم فبدرته فأخذت بيده، أو بدرني، فأخذ بيدي، فقال: يا عقبة ألا أخبرك بأفضل أخلاق أهل الدنيا وأهل الآخرة؟ تصل من قطعك، وتعطي من حرمك، وتعفو عمن ظلمك، ألا ومن أراد الله أن يمد في عمره، ويبسط له في رزقه فليتق الله وليصل رحمه. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٥۔۔۔ حضرت ابوایوب (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں ایک شخص آکر کہنے لگا : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا عمل بتائیں جسے کروں جو مجھے جنت کے قریب اور دوزخ سے دور کرے، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، نماز قائم کرو، زکوۃ دو ، اپنے رشتہ داروں سے ناتا قائم رکھو ! جب وہ شخص چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اگر اس نے بات کو تھام لیاجس کا میں نے اسے حکم دیا ہے تو یہ جنت میں داخل ہوگا۔ ترمذی
8695- عن أبي أيوب قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله دلني على عمل أعمله، يقربني من الجنة، ويباعدني من النار، قال: اعبد الله ولا تشرك به شيئا، وتقيم الصلاة، وتؤتي الزكاة، وتصل ذا رحمك، فلما أدبر، قال: إن تمسك بما أمرته، دخل الجنة. "ت"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رشتہ داری قائم رکھنا
٨٦٩٦۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب یہ آیت :” اور رشتہ داروں کو ان کا حق دو “۔ نازل ہوئی ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : فاطمہ (بیٹی) تمہارے لیے فدک (خبیرکاگاؤں ) ہے۔ (حاکم فی تاریخہ ، وقال تفردبہ ابراھیم بن محمد بن محمد بن میمون ۔ عن علی بن عابس، ابن النجار)

تشریح :۔۔۔ اس روایت میں ابراہیم بن محمد بن شیعہ ہے، امام ذھبی فرماتے ہیں اگر یہ حدیث ہوتی تو حضرت فاطمہ اس باغ کا مطالبہ ہی کیوں کرتیں ، اس لیے کہ جھوٹ اور موضوع روایت ہے۔
8696- عن أبي سعيد قال: لما نزلت {وَآتِ ذَا الْقُرْبَى حَقَّهُ} قال النبي صلى الله عليه وسلم: يا فاطمة لك فدك "ك" في تاريخه، وقال: تفرد به إبراهيم بن محمد بن ميمون عن علي بن عابس ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٦٩٧۔۔۔ ابن النجار اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ مجھے یوسف بن المبارک بن کامل الخفاف نے بتایا فرماتے ہیں : ہمارے سامنے ابوالفتح مفلح بن احمد الرومی نے یہ اشعار پڑھے وہ فرماتے ہیں ہمارے سامنے ابوالحسن بن القاضی ابوالقاسم التنوخی نے وہ اپنے دادا اور اپنے اباء و اجداد سے اپنے والد کے واسطہ سے حضرت علی (رض) سے نقل کرتے ہیں۔

١۔۔۔ میں غصہ دلانے والی باتوں (کے سننے) سے بہرابن جاتا ہوں اور میں بردباری سے کام لیتا ہوں ، بردباری میرے بہت مناسب ہے۔

٢۔۔۔ میں اکثر اس لیے زیادہ گفتگو نہیں کرتا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے ناپسندیدہ جواب ملے۔

٣۔۔۔ جب میں بیوقوف کی بےوقوفی کو اپنے خلاف دہراؤں تو میں ہی بیوقوف ہوں۔

٤۔۔۔ عزت حاصل کرنے کے وقت سویا رہتا ہے اور گھٹیاپن کے وقت بیدار ہوجاتا ہے۔
8697- قال ابن النجار في تاريخه: أخبرني يوسف بن المبارك بن كامل الخفاف، قال: أنشدنا أبو الفتح مفلح بن أحمد الرومي قال: أنشدنا أبو الحسين بن القاضي أبي القاسم التنوخي عن أبيه عن جده عن أجداده إلى علي بن أبي طالب:

أصم عن الكلم المحفظات ... وأحلم والحلم بي أشبه

وإني لأترك جل الكلام ... لكيلا أجاب بما أكره

إذا ما اجتررت سفاه السفيه ... علي فإني أنا الأسفه

فكم من فتى يعجب الناظرين ... له ألسن وله أوجه

ينام إذا حضر المكرمات ... وعند الدناءة يستنبه
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٦٩٨۔۔۔ حمزہ زیات سے روایت ہے کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا :

١۔۔۔ اپنے علاوہ کسی کے سامنے اپنا راز ظاہر نہ کر کیونکہ ہر خیر خواہ کا ایک خیر خواہ ہے۔

٢۔۔۔ اس واسطے کہ میں نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو دیکھا وہ صحیح چمڑے کو نہیں چھوڑتے۔ (ابن ابی الدنیا فی الصمت)
8698- عن حمزة الزيات قال: قال علي بن أبي طالب:

لا تفش سرك إلا إليك ... فإن لكل نصيح نصيحا

فإني رأيت غواة الرجال ... لا يدعون أديما صحيحا

ابن أبي الدنيا في الصمت.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৬৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٦٩٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : اپنے آپ کو پوشیدہ رکھو تمہارا تذکرہ نہ کیا جائے، خاموش رہو سلامت رہوگے۔ (ابن ابی الدنیا فیہ)
8699- عن علي قال: وار شخصك، لا تذكر، واصمت تسلم. ابن أبي الدنيا فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٧٠٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے، خاموشی جنت کی طرف بلانے والی ہے۔ (ابن الدنیا فیہ)
8700- عن علي: الصمت داعية إلى الجنة. ابن أبي الدنيا فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٧٠١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : زبان ، بدن کو درست رکھنے والی ہے، جب زبان درست رہے تو تمام اعضاء ٹھیک رہتے ہیں، اور جب زبان میں لغزش ہو تو ایک عضو بھی ٹھیک نہیں رہتا۔ (ابن الدنیا فیہ)
8701- عن علي قال: اللسان قوام البدن، فإذا استقام اللسان استقامت الجوارح، وإذا اضطرب اللسان لم تقم له جارحة. ابن أبي الدنيا فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٧٠٢۔۔۔ (اسودبن اصرم المحاربی (رض)) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں ایک موٹا تازہ اونٹ کے کر مدینہ ، خشک سالی اور قحط کے زمانہ میں آیا، آپ کے سامنے اس اونٹ کا ذکر ہوا تو آپ نے اسے منگوایا، جب وہ لایا گیا تو آپ نے باہر نکل کر اسے دیکھا ، آپ نے فرمایا : تم یہ اپنا اونٹ کیوں ہانک کر لائے ہو ؟ میں نے عرض کیا : میں اس کے بدلہ خادم خریدنا چاہتا ہوں ، آپ نے فرمایا : کس کے پاس خادم ہے ؟ تو حضرت عثمان بن عفان نے فرمایا : میرے پاس یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : لاؤ چنانچہ وہ لائے تو میں نے غلام لے لیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کا اونٹ (جو غلام کے بدلہ تھا) لے لیا میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کریں، آپ نے فرمایا : تم اپنی زبان پر قابورکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اگر میں زبان پر قابو نہ رکھوں گا تو کس پر قابو رکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم اپنے ہاتھوں پر قابورکھتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اگر میں ہاتھوں پر قابو نہ رکھوں تو کس پر قابو رکھوں گا ؟ آپ نے فرمایا : زبان سے صرف بھلی بات کہو اور ہاتھوں کو صرف نیکی کی طرف بڑھاؤ۔ (بخاری فی تاریخہ وابن ابی الدنیا فی الصمت والبغوی، وقال : لااعلم لہ غیرہ والبارودی وابن مندہ وابن السکن وابن قانع، طبرانی فی الکبیر وابو نعیم ، ابن حبان، ابن عساکر، سعید بن منصور
8702- "الأسود بن أصرم المحاربي" قال: قدمت بابل سمان إلى المدينة في زمن محل وجدب من الأرض، فذكرت لرسول الله صلى الله عليه وسلم، فأرسل إليها فأتى بها، فخرج إليها، فنظر إليها، فقال: لم جلبت إبلك هذه؟ قلت: أردت بها خادما، فقال: من عنده خادم؟ فقال عثمان بن عفان: عندي يا رسول الله، فقال: فهات فجاء بها فأخذتها وقبض رسول الله صلى الله عليه وسلم إبله، قلت: يا رسول الله أوصني، قال: هل تملك لسانك؟ قلت: فماذا أملك إذا لم أملك لساني؟ قال هل تملك يدك؟ قلت فماذا أملك إذا لم أملك يدي؟ قال: فلا تقل بلسانك إلا معروفا، ولا تبسط يدك إلا إلى خير. "خ" في تاريخه وابن أبي الدنيا في الصمت والبغوي وقال: لا أعلم له غيره والباوردي وابن منده وابن السكن وابن قانع "طب" وأبو نعيم وتمام. "حب كر ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٧٠٣۔۔۔ حضرت ابولادرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : جس طرح گفتگو سیکھتے ہو ایسے ہی خاموش سیکھو، کیونکہ خاموشی بڑی بردباری ہے، بولنے سے زیادہ سننے کا لالچ کرو، اور لایعنی (فضول) گفتگونہ کرو، اور بغیر تعجب کے نہ ہنسنا اور بغیر ضرورت کے کہیں چل کر نہ جانا۔ (ابن عساکر)
8703- عن أبي الدرداء قال: تعلموا الصمت، كما تعلمون الكلام فإن الصمت حلم عظيم، وكن إلى أن تسمع أحرص منك إلى أن تتكلم، ولا تتكلم في شيء لا يعنيك، ولا تكن مضحاكا من غير عجب، ولا مشاء إلى غير أرب. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ خاموشی کی اہمیت
٨٧٠٤۔۔۔ ابوذر ! کم کھاؤ اور کم بولو ! جنت میں میرے ساتھ ہوگے۔ (ابونعیم عن انس)
8704- يا أبا ذر أقل من الطعام والكلام تكن معي في الجنة. أبو نعيم عن أنس.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سچائی
٨٧٠٥۔۔۔ حضرت ابوذر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : میرے مومن بندے کے دل سے وہ (عبادت کی) حلاوت ومٹھاس ختم کردو جو وہ محسوس کرتا ہے چنانچہ مومن بندہ غم گین ہو کر جس بات کا عادی ہوتا ہے اسے تلاش کرنے لگتا ہے، اس پر اس سے بڑی مصیبت کبھی نہیں اتری ، اللہ تعالیٰ جب اس کی حالت دیکھتے ہیں تو فرماتے ہیں : جبرائیل ! میں نے اپنے بندہ کو آزمالیا، میں نے اسے سچا پایا، میرے اس بندہ کے قلب کی طرف وہ چیز لوٹا دو ، جو تم نے ختم کردی تھی، میں اپنی طرف سے اس میں اضافہ کروں گا، اور اگر بندہ جھوٹا ہو تو اللہ تعالیٰ نہ اس کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ پروا فرماتے ہیں۔ (ابن عساکر)

تیری رحمت مجھ سے بڑھ کر میری طلبگار ہے خدا

یہ اپنی نادانی کہ کرم تیرا ہے گنوایا
8705- عن أبي ذر قال: إن الله تعالى يقول: يا جبريل إنسخ من قلب عبدي المؤمن الحلاوة التي كان يجدها، فيصير العبد المؤمن والها طالبا للذي كان يعهد من نفسه، نزلت به مصيبة لم تنزل به مثلها قط، فإذا نظر الله إليه على تلك الحالة، قال: يا جبريل رد إلى قلب عبدي ما نسخت منه فقد ابتليته، فوجدته صادقا، وسأمده من قبلي بزيادة، وإذا كان عبدا كذابا لم يكترث ولم يبال. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سچائی
٨٧٠٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : سچی بات کے علاوہ کسی بات میں بھلائی نہیں ، جس نے جھوٹ بولا، گناہ کیا، اور جو گناہ کرتا ہے وہ شخص کامیاب ہوا جس کی تین چیزوں ، لالچ ، خواہش (نفس) اور غصہ سے حفاطت کی گئی۔ (ابن ابی الدنیا فی الصمت)
8706- عن عمر قال: لا خير فيما دون الصدق من الحديث، من يكذب يفجر، ومن يفجر يهلك، قد أفلح من حفظ من ثلاث الطمع والهوى والغضب. ابن أبي الدنيا في الصمت.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ سچائی
٨٧٠٧۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے علی ! جھوٹ نہ بولنا سچ کی عادت بنالو، اگرچہ دنیا میں تمہارا نقصان ہوگا لیکن آخرت میں کشادگی ہے۔ (ابن لال)
8707- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا علي لا تكذب وعليك بالصدق، فإن ضرك في العاجل كان فرجا في الآجل. ابن لال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ وعدہ کی سچائی
٨٧٠٨۔۔۔ ہارون بن رثاب سے روایت ہے فرماتے ہیں جب حضرت عبداللہ بن عمرو کی وفات کا وقت ہوا تو فرمایا : فلاں کو دیکھو کیونکہ میں نے اس سے اپنی بیٹی کبثہ کی بات کی ہے جو وعدہ ہے، میں نہیں چاہتا کہ میں اللہ تعالیٰ سے نفاق کی تہائی کے ساتھ ملاقات کروں میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس سے اس کی شادی کردی۔ (ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ آج کال لوگ منگنیاں کرتے ہیں جو وعدہ نکاح ہی ہے لیکن پھر مکر جاتے ہیں۔
8708- عن هارون بن رئاب أن عبد الله بن عمرو، لما حضرته الوفاة، قال: انظروا فلانا، فإني كنت قلت له في ابنتي قولا كشبه العدة، فما أحب أن ألقى الله بثلث النفاق، فأشهدكم أني قد زوجته. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنہائی
٨٧٠٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : بیشک تنہائی میں برے میل جول کے مقابلہ میں راحت ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد فی الزھد، وابن الدنیا فی العزلۃ)

اس کا فیصلہ مشکل ہے کہ کس کے لیے تنہائی بہتر ہے اور کس کے لیے مجلس !
8709- عن عمر رضي الله عنه قال: إن في العزلة لراحة من خلاط السوء. "ش حم" في الزهد وابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক: