কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৭১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنہائی
٨٧١٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : تنہائی سے اپنا حصہ لو۔ (مسند احمد فیہ، ابن حبان فی الروضۃ والعسکری فی المواعظ)
8710- عن عمر رضي الله عنه قال: خذوا بحظكم من العزلة. "حم" فيه "حب" في الروضة والعسكري في المواعظ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنہائی
٨٧١١۔۔۔ امام مالک سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے یحییٰ بن سعید کو فرماتے سنا : کہ ابوالجہیم حارث بن صمہ انصار کے ساتھنی بیٹھتے تھے اور جب ان کے سامنے تنہائی کا ذکر کیا جاتا ہے تو کہتے : لوگ تنہائی سے برے ہیں۔ (ابن ابی الدنیا فی العزلۃ)
8711- عن مالك قال: سمعت يحيى بن سعيد قال: كان أبو الجهيم الحارث بن الصمة لا يجالس الأنصار، فإذا ذكرت له الوحدة قال الناس شر من الوحدة. ابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنہائی
٨٧١٢۔۔۔ ابن سیرین سے روایت ہے فرمایا : تنہائی عباددت ہے۔ ابن ابی فی العزلۃ
8712- عن ابن سيرين قال: العزلة عبادة. ابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تنہائی
٨٧١٣۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں چاہتا ہوں کہ کوئی ایسا شخص ہو جو میرے مال (مویشی) کی اصلاح ودیکھ بھال کرے ، تو میں اپنا دروازہ بند کرکے بیٹھ رہوں اور میرے پاس کوئی نہ آئے اور نہ میں لوگوں کی طرف نکل کر جاؤں یہاں تک کہ میں اللہ تعالیٰ سے جاملوں ۔ (حاکم)

تشریح :۔۔۔ یعنی یہ تمنا ہے عمل نہیں کاش ایسا ہوتا۔
8713- عن حذيفة قال: لوددت أن لي من يصلح من مالي فأغلق بابي، فلا يدخل علي أحد، ولا أخرج إليهم حتى ألحق بالله. "ك".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
امام مالک کسی شخص سے وہ حضرت ابن عباس سے روایت کرتے ہیں فرمایا اگر شیطان کا خدشہ نہ ہوتا تو میں ایسے علاقوں میں چلا جاتا جہاں کوئی انس پیدا کرنے والا نہیں، لوگوں کو لوگ ہی خراب کرتے ہیں۔ ابن ابی الدنیا فی العزلہ
8714- عن مالك عن رجل عن ابن عباس قال: لولا مخافة الوسواس دخلت إلى بلاد لا أنيس بها، وهل يفسد الناس إلا الناس. ابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧١٥۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : علم کے چشمے ، ہدایت کے فانوس ، گھروں کے ٹاٹ ، رات کے چراغ، نئے دلوں والے ، اور پرانے کپڑوں والے بن جاؤ، آسمان میں تم پہچانے جاؤگے اور زمین والوں میں پوشیدہ رہو۔ (ابن ابی الدنیا فی العزلۃ)
8715- عن عبد الله بن مسعود قال: كونوا ينابيع العلم، مصابيح الهدى، أحلاس البيوت، سرج الليل، جدد القلوب، خلقان الثياب تعرفون في أهل السماء، وتخفون في أهل الأرض. ابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧١٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے ان کے پاس ایک پرندہ لایا گیا، آپ نے فرمایا : یہ پرندہ کہاں سے شکار کیا گیا ؟ کسی نے کہا : تین میل کے فاصلے سے، فرمایا : میں چاہتا ہوں کہ میں اس پرندے کی جگہ ہوتا، نہ لوگ مجھ سے بات کرتے اور نہ میں کسی سے بات کرتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ سے جاملتا۔ (ابن عساکر)
8716- عن ابن مسعود أنه أتي بطائر، فقال: من أين صيد هذا الطائر؟ قيل: من مسيرة ثلاث، فقال: وددت أني حيث هذا الطائر لا يكلمني بشر ولا أكلمه، حتى ألقى الله عز وجل. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧١٧۔۔۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! نجات کس چیز میں ہے ؟ آپ نے فرمایا : اپنی زبان کو قابو میں رکھو ، تمہارا گھر تمہارے لیے کافی ہو اور اپنے گناہ پر رویا کر (نسائی) (قال حسن وابن ابی الدنیا العزلۃ، الحلیۃ ، بیھقی فی الشعب
8717- عن عقبة بن عامر قال قلت: يا رسول الله ما النجاة؟ قال أمسك عليك لسانك، وليسعك بيتك، وابك على خطيئتك. "ن"1 قال حسن وابن أبي الدنيا في العزلة "حل هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧١٨۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : مسلمان آدمی کا بہترین عبادت خانہ اس کا گھر ہے جس میں اپنے آپ کو روکے رکھے ، اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے، خبردار ! بازار میں مجلسیں لگانے سے بچنا کیونکہ وہ غفلت میں ڈالتی اور بےکار بنادیتی ہیں۔ (ابن عساکر)
8718- عن أبي الدرداء قال: نعم صومعة الرجل المسلم بيته،يكف فيه نفسه وبصره وفرجه، وإياكم والمجالس في السوق، فإنها تلهي وتلغي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧١٩۔۔۔ حضرت محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! اور لوگوں سے بچو ! (مسددوابن ابی الدنیا فی العزلۃ)
8719- عن محمد بن سيرين قال: قال عمر: اتقوا الله، واتقوا الناس. مسدد وابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧٢٠۔۔۔ معافی بن عمران سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) ایک جماعت کے پاس سے گزرے جو ایک ایسے شخص کے پیچھے جارہی تھی جو اللہ تعالیٰ (کی حد میں ) پکرا گیا تھا، آپ نے فرمایا : ان چہروں کو خوش آمدید نہیں جنہیں صرف برائی میں دیکھا جارہا ہے۔ (الدینوری)
8720- عن المعافى بن عمران أن عمر بن الخطاب مر بقوم يتبعون رجلا قد أخذ في الله، فقال: لا مرحبا بهذه الوجوه التي لا ترى إلا في الشر. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧٢١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب سرما، گرم بن جائے اور بیٹا غصہ (کا سبب) بن جائے ، جب کمینے لوگ بکثرت ہوجائیں ، اور شریف لوگ کم ہوجانے لگیں ، تو چند خستہ بکریاں کسی پہاڑ میں بنی نضیر کی بادشاہت سے بہتر ہیں۔ (ابن ابی الدنیا فی العزلۃ)
8721- عن أبي هريرة قال: إذا كان الشتاء قيظا، والولد غيظا، وفاض اللئام فيضا، وغاض الكرام غيضا فشويهات عفر بحبل خير من ملك بني النضير. ابن أبي الدنيا في العزلة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧٢٢۔۔۔ زریق مجاشعی سے روایت ہے فرمایا : عامر بن عبدقیس (رض) آتے اور حسن بصری کے پاس بیٹھتے ، پھر کچھ دن ان کی مجلس میں نہیں آئے ، کسی دن حسن بصری اور ان کے احباب ان کے پاس گئے، حضرت بصری نے کہا : ابو عبداللہ ! آپ نے ہماری مجلس کیوں چھوڑ دی ؟ کیا آپ کو ہمارے بارے کوئی شک گزرا تو ہم آپ کا اتباع کریں۔

آپ نے فرمایا : ایسی بات نہیں لیکن میں نے صحابہ رسول سے سنا ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے

فرمایا : تم میں سے جس کا دنیا میں غم زائد ہوگا وہ آخرت میں زیادہ خوش ہوگا، اور جو تم میں کا دنیا میں زیادہ سیر ہوگا وہ آخرت میں زیادہ بھوکا ہوگا، تو میں نے اپنے گھر والوں کو اپنے دل کے لیے مناسب پایا ، اور جو میں چاہتا ہون اس پر زیادہ قدرت دینے والا ، تو حسن بصری وہاں سے یہ کہتے ہوئے نکل کھڑے ہوئے : اللہ کی قسم ! یہ ہم سے زیادہ سمجھدار ہیں۔ (ابن عساکر)
8722- عن زريق المجاشعي قال: كان عامر بن عبد قيس يأتي الحسن فيجلس إليه، ثم تركه فجاءه الحسن يوما وأصحابه فدخلوا عليه، فقال الحسن: يا أبا عبد الله لم تركت مجلسنا؟ أرابك منا شيء، فنعتبك؟ قال: لا ولكني سمعت أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم يقولون: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أطولكم حزنا في الدنيا أطولكم فرحا في الأخرة، وإن أكثركم شبعا في الدنيا أكثركم جوعا في الآخرة، فوجدت البيت أحلى لقلبي، وأقدر لي على ما أريد مني، فخرج وهو يقول: هو والله أفقه منا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧٢٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے فرمایا : عامر بن قیس کی جمامع مسجد میں ایک نشست تھی، ہم ان کے پاس جمع ہوتے ، کچھ دن ہم نے انھیں گم پایا تو ہم ان کے پاس چلے آئے (ہم نے کہا :) ابوعبید اللہ ! آپ اپنے ساتھیوں کو چھوڑ کر یہاں تنہا بیٹھ گئے ؟ انھوں نے فرمایا : اس مجلس میں بہت سی فضول اور ملی جلی باتیں ہوتی تھیں ، میں چند اصحاب رسول سے ملا ہوں، انھوں نے مجھے بتایا : کہ قیامت میں سب سے کمزور ایمان اس شخص کا ہوگا جس کا گوشت پوست دنیا میں زیادہ ہوگا انھوں نے مجھے بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ چیزیں فرض کی ہیں اور کچھ سنت قرار دی ہیں ، اور کچھ حدود مقرری ہیں، سو جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض اور اس کے (بتائے) طریقوں پر عمل کیا، اور حددو اللہ سے بچتا رہا تو اللہ تعالیٰ اسے بغیر حساب جنت میں داخل کریں گے۔ اور جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض اور سنتوں پر عمل کیا (لیکن) اللہ تعالیٰ کی حدود کا مرتکب ہوا اور پھر توبہ کرلی (غلطی سے پھر) ارتکاب کیا، (لیکن پھر) توبہ کرلی پھر ارتکاب کیا اور توبہ کرلی، وہ قیامت کے روز کی ہول ناکیوں ، اس کے زلزلوں اور مصائب کا سامنا کرے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کریں گے۔

اور جس نے اللہ تعالیٰ کے فرائض وسنن پر عمل کیا اور اللہ تعالیٰ کی حدود کا مرتکب ہوا تو اللہ تعالیٰ اسے ایسی حالت میں ملے گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے ناراض ہوں گے، چاہیں تو عذاب دیں اور چاہیں تو معاف کردیں، فرماتے ہیں : ہم اٹھ کھڑے ہوئے اور باہر نکل آئے۔ (ابن عساکر)
8723- عن الحسن البصري قال: كان لعامر بن عبد قيس مجلس في المسجد الجامع، فكنا نجتمع إليه، ففقدناه أياما فأتيناه: يا أبا عبد الله تركت أصحابك وجلست ههنا وحدك؟ فقال: إنه مجلس كثير الأغاليط والتخاليط، وإني لقيت ناسا من أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم، فأخبروني أن أنقص الناس إيمانا يوم القيامة أكثرهم لحما في الدنيا، وأخبروني أن الله فرض فرائض، وسن سننا، وحد حدودا، فمن عمل بفرائض الله وسننه واجتنب حدوده أدخله الله الجنة بغير حساب، ومن عمل بفرائض الله وسننه وارتكب حدوده ثم تاب، ثم ارتكب، ثم تاب، ثم ارتكب ثم تاب، استقبل أهوال يوم القيامة وزلزالها وشدائدها، ثم يدخله الله الجنة، ومن عمل بفرائض الله وسننه وارتكب حدوده، لقي الله يوم القيامة وهو عليه غضبان، فإن شاء عذبه، وإن شاء غفر له، قال: فقمنا من عنده وخرجنا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لوگوں سے زیادہ میل جول کو ناپسند کرنا
٨٧٢٤۔۔۔ حضرت سعید بن المسیب سے روایت ہے فرمایا : عزلت و تنہائی اختیار کرو کیونکہ یہ عبادت ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی العزلۃ، سعیدبن منصور)
8724- عن سعيد بن المسيب قال: عليك بالعزلة، فإنها عبادة. ابن أبي الدنيا في العزلة "ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حقدار کا حق پہچاننا
٨٧٢٥۔۔۔ اسودبن سریع (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک قیدی لایا گیا ، وہ کہنے لگا : اے اللہ ! میں آپ کے حضور توبہ کرتا ہوں ، محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے توبہ نہیں کرتا ہوں، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس نے حقدار کے لیے حق پہچانا۔ (مسند احمد ، طبرانی فی الکبیر، دارقطنی فی الافراد، حاکم، بیقھی فی الشعب، سعید بن منصور)
8725- عن الأسود بن سريع: أتي النبي صلى الله عليه وسلم بأسير فقال: اللهم إني أتوب إليك، ولا أتوب إلى محمد، فقال صلى الله عليه وسلم: عرف الحق لأهله. "حم طب قط" في الأفراد "ك هب ص".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ معافی
٨٧٢٦۔۔۔ (صدیق (رض)) حضرت ابن عمر (رض) ، حضرت ابوبکر (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جب قیامت کا روز ہوگا ایک شخص بآواز بلند اعلان کرنے لگا : معاف کرنے والے کہاں ؟ اللہ تعالیٰ انہیں، ان کے معاف کرنے کی وجہ سے پورا بدلہ دے گا۔ (ابن مسیع)
8726- "الصديق رضي الله عنه" عن ابن عمر عن أبي بكر قال: بلغنا أنه إذا كان يوم القيامة ناد مناد: أين أهل العفو؟ فيكافئهم الله تعالى بما كان من عفوهم عن الناس. ابن منيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کی ایذاء پر صبر
٨٧٢٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے روایت ہے ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا : یارسول اللہ ! مجھے فلاں شخص نے گالی دی ہے، اگر اللہ اور اس کے رسول (کے احکام) نہ ہوتے تو مجھ سے لمبی زبان اور ہاتھ والانہ ہوتا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو نے کیا کہا ؟ تو اس نے آپ کے سامنے اپنی بات دہرائی، آپ نے فرمایا : جسے گالی دی جائے یا پیٹا جائے پھر وہ صبر کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی عزت بڑھائیں گے، سو معاف کیا کرو اللہ تعالیٰ معاف کرے گا۔ (ابن النجار)
8727- عن عبد الله بن عمرو قال: جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إن فلانا شتمني وضربني، ولولا الله ورسوله ما كان أطول مني لسانا ولا يدا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: كيف قلت؟ فأعاد عليه، فقال: من شتم أو ضرب ثم صبر زاده الله لذلك عزا، فاعفوا يعف الله عنكم. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کی ایذاء پر صبر
٨٧٢٨۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے انھوں نے ایک شخص سے کہا : اگر تم لوگوں (کو تجارت کے مال دو گے) دے قرض کا معاملہ کروگے تو وہ بھی تمہیں بدلہ میں قرض دیں گے اور اگر تو انھیں چھوڑ دے گا وہ تمہیں چھوڑیں گے اس نے کہا : آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اپنے فقر کے دن کے لیے اپنی عزت کا قرض دو ۔ (ابن عساکر)
8728- عن أبي الدرداء أنه قال لرجل: إن قارضت الناس قارضوك وإن تركتهم لم يتركوك، قال: فما تأمرني؟ قال: إقرض من عرضك ليوم فقرك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کی ایذاء پر صبر
٨٧٢٩۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر تم لوگوں سے نفرت کروگے تو وہ تم سے متفرہوجائیں گے اور اگر تم ان سے بھاگو تو وہ تمہیں آملیں گے، اگر انھیں چھوڑوگے وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے، اس نے کہا : میں کیا کروں ؟ آپ نے فرمایا : اپنی عزت اپنے فقر کے دن کے لیے دے دو ۔ (ابن عساکر)
8729- عن أبي الدرداء رضي الله عنه قال: إن نافرت الناس نافروك، وإن هربت منهم أدركوك، وإن تركتهم لم يتركوك، قال: كيف أصنع؟ قال: هب عرضك ليوم فقرك. "كر".
tahqiq

তাহকীক: