কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৭৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسروں کی ایذاء پر صبر
٨٧٣٠۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تم لوگوں سے جھگڑو گے تو وہ تم سے جھگڑیں گے، اور اگر تم انھیں چھوڑدوگے تو وہ تمہیں نہیں چھوڑیں گے، اور اگر تم ان سے بھاگوگے تو تمہیں آملیں گے، میں نے عرض کیا : میں کروں ؟ فرمایا : اپنے فقر کے دن کے لیے عزت دے دو ۔ (حاکم ، خطیب فی ، وقال : روی عن ابی الدرداء مرفوعا وموقوفا)
8730- عن أبي الدرداء قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: إن ناقدت الناس ناقدوك، وإن تركت الناس لم يتركوك، وإن هربت منهم أدركوك، قلت: فما أصنع؟ قال: هب عرضك ليوم فقرك. "ك خط" في ... وقالا: روي عن أبي الدرداء مرفوعا وموقوفا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عشق
٨٧٣١۔۔۔ ابوغسان نہدی سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابوبکر الصدیق (رض) اپنی خلافت کے زمانہ میں مدینہ کے کسی راستہ سے گزرے ، اچانک ایک لڑکی چکی پیس رہی تھی اور کہہ رہی تھی : میں نے اسے تعویذوں سے پہلے چاہا۔ نرم ٹہنی کی طرح جھومتے ہوئے، گویا چاند کی چاندی اس کے چہرے سے حاصل ہوئی ہے، وہ اشارہ کرتی اور ہاشم کے بالوں میں چڑھتی ہے آپ نے دروازہ کھٹکھٹایا ، تو وہ باہر آئی : آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو آزاد ہے یا لونڈی ؟ اس نے کہا : لونڈی ہوں اے رسول اللہ کے خلیفہ، آپ نے فرمایا : تو کس سے محبت کرتی ہے ؟ تو وہ روپڑی، اس نے کہا : اے رسول اللہ کے خلیفہ ! میں آپ کو قبر کے حق کا واسطہ دیتی ہوں کہ آپ لوٹ جائیں ؟ آپ نے فرمایا : نہیں اس قبر کے حق کی قسم ! میں نہیں ٹلوں گا یا تم مجھے بتادو اس نے کہا : میں وہی ہوں جس کے دل سے محبت کھیل رہی ہے، تو وہ محمد بن قاسم بن جعفر بن ابی طالب کی محبت میں روپڑی۔

آپ نے اس کے آقا کی طرف پیغام بھیجا اور اس سے خرید کر محمد بن قاسمم بن جعفر بن ابی طالب کی طرف بھیج دیا۔ (الخرائطی فی اعتدال القلب)
8731- عن أبي غسان النهدي قال: مر أبو بكر الصديق في خلافته بطريق من طرق المدينة، فإذا جارية تطحن وهي تقول:

وهويته من قبل قطع تمائمي ... متمايسا مثل القضيب الناعم

وكأن نور البدر سنة وجهه ... يومي ويصعد في ذؤابة هاشم

فدق عليها الباب فخرجت إليه، فقال: ويلك حرة أو مملوكة؟ قالت مملوكة يا خليفة رسول الله، قال: فمن تهوين فبكت؟ فقالت: يا خليفة رسول الله إلا انصرفت عني بحق القبر، قال: لا وحقه لا أريم أو تعلميني، قالت:

وأنا التي لعب الغرام بقلبها ... فبكت لحب محمد بن القاسم

فبعث إلى مولاها، فاشتراها منه، فبعث بها إلى ابن القاسم بن جعفر بن أبي طالب. الخرائطي في اعتلال القلوب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عشق
٨٧٣٢۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے بہترین لوگ وہ ہیں جب ان پر آزمائش آتی ہے تو وہ پاکدامنی اختیار کرتے ہیں لوگوں نے عرض کیا : کونسی آزمائش ؟ آپ نے فرمایا : عشق ۔ (الدیلمی)
8732- عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خيار أمتي الذين يعفون إذا أتاهم الله من البلاء شيئا، قالوا: يا رسول الله وأي بلاء هو؟ قال: العشق. الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی
٨٧٣٣۔۔۔ حضرت ابوامامۃ سے روایت ہے فرمایا کرتے تھے : عقل سے کام لو اور اس بات کے متعلق میرا خیال نہیں جسے ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے عہد میں سنا کرتے تھے، وہ اٹھالی گئی ہے آج وہ اس کی نسبت ہم سے زیادہ عقلمند ہے۔ (ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ یعنی اس وقت کی باتیں آج تمہاری باتوں سے زیادہ سمجھداری کی ہیں۔
8733- عن أبي أمامة أنه كان يقول: اعقلوا، ولا إخال العقل إلا قد رفع للحديث الذي كنا نسمعه على عهد النبي صلى الله عليه وسلم أعقل عليه منا على حديثكم اليوم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عقلمندی
٨٧٣٤۔۔۔ اے ابوذر ! تدبیر جیسی کوئی عقل ، اور اچھے اخلاق کی طرح کوئی حسب نہیں ۔ (بیھقی فی الشعب والخرائطی فی مکارم الاخلاق)
8734- يا أبا ذر؛ لا عقل كالتدبير، ولا حسب كحسن الخلق. "هب" والخرائطي في مكارم الأخلاق.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غیرت
٨٧٣٥۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : کیا مجھے تمہاری عورتوں کے متعلق یہ بات نہیں پہنچی کہ وہ بازاروں میں حبشیوں سے مزاحمت کرتی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو غیرت نہیں ؟ جس نے غیرب نہیں کی اس میں کوئی بھلائی نہیں۔ (رستہ)

حضرت علی (رض) کی مراد یہ ہے کہ حبشی بازاروں میں سامان لے کر ادھر ادھر جاتے ہیں اور عورتیں بازاروں میں لین دین کے لیے ان سے آگے نکلنے کی کوشش کرتیں ، جیسا آج کل بازاروں میں بھیڑ کے وقت ہوتا ہے۔
8735- عن علي رضي الله عنه قال: ألم يبلغني عن نسائكم أنهن يزاحمن العلوج1 في الأسواق؟ ألا تغارون؟ من لم يغر فلا خير فيه. رسته.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غیرت
٨٧٣٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : غیرتیں دو قسم کی ہیں : اچھی اور بہتر (غیرت) جس سے مرد اپنی بیوی کو درست رکھتا ہے اور ایک غیرت ایسی ہے جو جہنم میں داخل کرے گی۔ (رستہ)
8736- عن علي قال: الغيرة غيرتان: حسنة جميلة يصلح بها الرجل أهله، وغيرة تدخله النار. "رسته".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ضرورتیں پوری کرنا
٨٧٣٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جنت ایسے شخص کی مشتاق ہے جو اپنے مومن بھائی کی ایسی ضرورت پوری کرنے کی کوشش کرے جس سے وہ اپنی حالت درست کرے، اس کے لیے نعمتوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ آدمی سے اس کے مرتبہ کے بارے کہ کہاں خرچ کیا ایسے ہی سوال کریں گے جیسے مال کے بارے میں کہ کہاں خرچ کیا ہے۔ (خطیب وقال فی اندہ ابوالحسن محمد بن العباس المعروف بابن النحوی فی روایاتہ نکرۃ)
8737- عن علي قال: إن الجنة لتشتاق إلى من سعى لأخيه المؤمن في قضاء حوائجه ليصلح شأنه على يديه، فاستبقوا النعم لذلك، فإن الله يسأل الرجل عن جاهه فيما بذله كما يسأله عن ماله فيما أنفقه. "خط" وقال: في سنده أبو الحسين محمد بن العباس المعروف بابن النحوي في رواياته نكرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٣٨۔۔۔ (عمر (رض)) عبداللہ بن عبید سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے احنف (رض) کو ایک قمیص پہنے ہوئے دیکھا، فرمایا : احنف ! تم نے اپنی قمیص کتنے کی خریدی ہے ؟ انھوں نے کہا : بارہ درہم کی ، آپ نے فرمایا : تمہارا بھلاہو کیا چھ درہم کی نہیں آسکتی تھی اور اس کی فضیلت تم جانتے ہی ہو۔ (ابن المبارک)

تشریح :۔۔۔ یعنی ضرورت کو مدنظر رکھو، قمیص سے مقصود ستر پوشی ہے، اس سے کوئی ثواب نہیں ملتا، اور نہ اس کی کوئی فضیلت ہے !
8738- "عمر رضي الله عنه" عن عبد الله بن عبيد قال: رأى عمر بن الخطاب على الأحنف قميصا، فقال: يا أحنف بكم أخذت قميصك هذا؟ قال: أخذته باثنى عشر درهما، قال: ويحك ألا كان بستة دراهم، وكان فضله فيما تعلم. ابن المبارك.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٣٩۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ابوموسیٰ اشعری (رض) کو لکھا ، دنیا میں اپنی راحت پر صبر کرو، کیونکہ رحمن نے اپنے کچھ بندوں کو رزق میں دوسروں پر فضلیت بخشی ہے، جبکہ آزمائش سب ہی کرتے ہیں، جس کے لیے رزق کشادہ کرتے ہیں (اس کی آزمائش اس طرح کرتے ہیں) کہ وہ کیسے شکر ادا کرتا ہے ؟ اور اس کا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ہے کہ جو چیزیں اللہ تعالیٰ نے اس پر فرض کی ہیں ، اور جن کے بارے رزق دیا قدرت دی ان کے حقوق کو ادا کرے۔ (ابن ابی حاتم)
8739- عن الحسن البصري قال: كتب عمر بن الخطاب إلى أبي موسى الأشعري اقنع بروحك في الدنيا، فإن الرحمن فضل بعض عباده على بعض في الرزق، بل يبتلى به كلا فيبتلي به من بسط له كيف شكره فيه؟ وشكره لله أداؤه الحق الذي افترض عليه فيما رزقه وخوله. ابن أبي حاتم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٠۔۔۔ ابوبکر الداھری، ثوربن یزید سے وہ خالدبن مہاجر سے وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انسان تیرے پاس وہ ہے جو تیرے لیے کافی ہے جبکہ تو وہ طلب کرتا ہے جو تجھے سرکش کردے، تو تھوڑے پر صبر نہیں کرتا اور نہ زیادہ سے سیر ہوتا ہے۔

اے انسان ! جب تیری صبغ ایسی حالت میں ہو کہ تیرے بدن میں کوئی تکلیف نہ ہو تیرے گھر میں امن ہو، تیرے پاس تیرے اس دن کا کھانا ہو ، تو دنیا خاک ہے۔ (ابونعیم فی الاربعین الصوفیۃ)
8740- عن أبي بكر الداهري عن ثور بن يزيد عن خالد بن مهاجر عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ابن آدم عندك ما يكفيك وأنت تطلب ما يطغيك، لا بقليل تقنع، ولا بكثير تشبع، ابن آدم إذا أصبحت معافى في بدنك، آمنا في سربك، عندك قوت يومك، فعلى الدنيا العفاء. أبو نعيم في الأربعين الصوفية.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤١۔۔۔ ابوجعفر سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) نے کھجور کھا کر اوپر سے پانی پیا اور اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا، اور فرمایا : جسے اس کا پیٹ جہنم میں داخل کرے اسے اللہ تعالیٰ دور کرے، پھر یہ اشعار پڑھے۔

تو نے جب اپنے پیٹ اور شرمگاہ کو اس کا سوال دے دیا تو وہ دونوں مذمت میں جمع ہوگئے۔ (العسکری)
8741- عن أبي جعفر قال: أكل علي رضي الله عنه من تمر دقل ثم شرب عليه الماء، ثم ضرب على بطنه، وقال: من أدخله بطنه النار فأبعده الله ثم تمثل.

فإنك مهما تعط بطنك سؤله ... وفرجك نالا منتهى الذم أجمعا

العسكري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٢۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے فرمایا : اے ابن آدم ! اپنے آنے والے دن کا غم اپنے موجود دن میں جلدی نہ لا؛ اگر تیری موت نہیں آتی تو تجھے اس دن تیرا رزق مل جائے گا، تجھے پتہ ہونا چاہیے کہ تو اپنے کھانے کی مقدار سے زیادہ جو بھی کمائے گا تو تو اسے دوسرے کے لیے جمع کرنے والا ہے۔ (الدینوری)
8742- عن الشعبي قال: قال علي بن أبي طالب: يا ابن آدم لا تعجل هم يومك الذي يأتي على يومك الذي أنت فيه، فإن لم يكن من أجلك يأت فيه رزقك - واعلم أنك لا تكتسب من المال فوق قوتك إلا كنت فيه خازنا لغيرك. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٣۔۔۔ حضرت سعد سے روایت ہے انھوں نے اپنے بیٹے سے فرمایا : اے بیٹا اگر تم مالداری چاہتے ہو تو اسے قناعت کے ذریعہ حاصل کرو، کیونکہ جس میں قناعت نہیں اسے کوئی مال فائدہ نہیں دے سکتا ۔ (ابن عساکر)
8743- عن سعد أنه قال لابنه: يا بني إذا طلبت الغنى فاطلبه بالقناعة، فإنه من لم يكن له قناعة لم يغنه مال. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٤۔۔۔ حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے کتنی دنیا کافی رہے گی ؟ آپ نے فرمایا : جو تیری بھوک روکے، تیرا ستر ڈھانپے اور اگر تجھے کوئی سایہ دار چیز میسر آجائے اور ایسی سوار جس پر تو سوار ہو تو اچھی بات ہے۔ (ابن النجار)
8744- عن ثوبان قال: قلت يا رسول الله ما يكفيني من الدنيا؟ قال: ما سد جوعك، ووارى عورتك، فإن كان لك شيء يظلك ... وإن كان لك دابة تركبها فبخ. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٥۔۔۔ حضررت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم نے (دروان تعمیر) مسجد کی پیمائش کی پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس حاضر ہوئے، آپ نے فرمایا :: کیا موسیٰ (علیہ السلام ) کے چبوترہ کی چبوترہ ؟ چندلکڑیاں اور گھاس پھوس کافی تھا، اور (قیامت کا) معاملہ اس سے بھی زیادہ جلد آنے والا ہے۔ (الدیلمی ابن النجار، مربرقم، ٧١٠٦)
8745- عن أبي الدرداء قال: ذرعنا المسجد، ثم أتينا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: عريش كعريش موسى؟ ثمام وخشيبات، والأمر أعجل من ذلك. الديلمي وابن النجار. مر برقم/7106/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قناعت ، تھوڑے پر صبر
٨٧٤٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : ابوہریرہ جب تم سخت بھوک کو ایک چپاتی اور پانی کے ایک کوزے سے روک لو تو دنیا اور دنیا داروں پر ہلاکت ہے۔ (الدیلمی)
8746- عن أبي هريرة، قال له النبي صلى الله عليه وسلم: ي اأبا هريرة إذا سددت كلب الجوع برغيف وكوز ماء القراح فعلى الدنيا وأهلها الدمار. الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ پینا
٨٧٤٧۔۔۔ ابوبرزہ اسلمی سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص نے حضرت ابوبکر الصدیق (رض) سے سخت کلامی کی، تو ابوبرزنے کہا : کیا میں اس کی گردن نہ اتاردوں ؟ آپ اس بات پر غصہ ہوگئے اور فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد اس کی کسی کے لیے اجازت نہیں۔ (ابوداؤد طیالسی ، مسند احمد والحمیدی ، ابوداؤد سجستانی، ترمذی ، ابویعلی ، حاکم ، دارقطنی فی الافراد سعید بن منصور، بیھقی الشعب
8747- عن أبي برزة الأسلمي قال: أغلظ رجل لأبي بكر الصديق، فقال أبو برزة: ألا أضرب عنقه؟ فانتهره، فقال: ما هي لأحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ط حم" والحميدي "د ت ع ك قط" في الأفراد "ص ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ پینا
٨٧٤٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کسی بندہ نے شہد اور دودھ سے زیادہ بہتر گھونٹ جو بھرا ہے وہ غصہ کا گھونٹ ہے۔ (مسند احمد فی الزھد٭
8748- عن عمر قال: ما تجرع عبد جرعة من لبن أو عسل خيرا من جرعة غيظ. "حم" في الزهد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ پینا
٨٧٤٩۔۔۔ عامر بن سعد بن ابی وقاص (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ لوگوں کے پاس سے گزرے جو مقابلہ کے لیے ایک پتھر اٹھا رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : کیا تم سمجھتے ہو کہ پتھر اٹھانے میں طاقت ہے، طاقت تو یہ ہے کہ کوئی غصہ سے بھر جائے اور پھر اس پر قابو پالے۔ (ابن النجار)
8749- عن عامر بن سعد بن أبي وقاص قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بأناس يتجاذون مهراسا فقال: أتحسبون الشدة في حمل الحجارة إنما الشدة في أن يمتلئ أحدكم غيظا ثم يغلبه. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক: