কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৭৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ پینا
٨٧٥٠۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک قوم کے پاس سے گزرے جو ایک پتھر اٹھا رہے تھے آپ نے فرمایا : کیا طریقہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : یہ ایک پتھر ہے جس کا نام ہم نے طاقتور پتھر رکھا ہے آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس سے بھی زیادہ طاقتور نہ بتاؤں ؟ جو غصہ میں اپنے آپ پر قابوپالے (العسکری فی الامثال، وقال ھکذارواہ، فقال یرفعون بالفاء یربعون بالباء وفیہ شعیب بن بیان ذکرہ فی المغنی فی الضعفاء ولیس ھو فی المیزان ولا فی اللسان)
8750- عن أنس قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بقوم يرفعون حجرا فقال: ما هذا؟ فقالوا: يا رسول الله هذا حجر، كنا نسميه حجر الأشد، فقال: ألا أدلكم على أشدكم؟ أملككم لنفسه عند الغضب. العسكري في الأمثال، وقال هكذا رواه، فقال يرفعون بالفاء يربعون بالباء وفيه شعيب بن بيان ذكره في المغني في الضعفاء وليس هو في الميزان ولا في اللسان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ پینا
٨٧٥١۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنے آپ میں پہلوان کسے کہتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : جسے لوگ نہ بچھاڑ سکیں ، آپ نے فرمایا : بلکہ پہلوان وہ ہے جو غصہ میں اپنے آپ پر قابو پالے (العسکری فی الامثال)
8751- عن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ما تعدون الصرعة فيكم؟ قالوا: الذي لا يصرعه الرجال قال: بل الذي يملك نفسه عند الغضب. العسكري في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نفس کا محاسبہ اور اس سے دشمنی
٨٧٥٢۔۔۔ حضرت ابوبکر کے غلام سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کے معاملہ میں اپنے نفس سے ناراض ہوا، اللہ تعالیٰ اسے اپنے غضب سے امن عطا فرمائیں گے۔ (ابن ابی الدنیا فی محاسبۃ النفس)
8752- عن مولى أبي بكر قال: قال أبو بكر الصديق: من مقت نفسه في ذات الله، آمنه الله من مقته.
ابن أبي الدنيا في محاسبة النفس.
ابن أبي الدنيا في محاسبة النفس.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدارات ولحاط
٨٧٥٣۔۔۔ نزال بن سبرہ سے روایت ہے فرمایا : ہم حضرت حذیفہ (رض) کے ساتھ گھر میں تھے، تو حضرت عثمان (رض) نے ان سے کہا : آپ کے متعلق ہمیں یہ کیا بات پہنچی ہے ؟ حضرت حذیفہ نے کہا ؟ تو حضرت عثمان نے فرمایا : کہ آپ ان سب سے سچے اور سب سے نیک ہیں، جب وہ چلے گئے تو میں نے کہا : کیا آپ نے یہ بات نہیں کی ؟ انھوں نے کہا : کی ہے لیکن میں اپنا پورا دین جانے کے خوف سے کچھ دین بیچ دیتا ہوں ۔ (ابن عساکر)
8753- عن النزال بن سبرة قال: كنا مع حذيفة في البيت، فقال له عثمان: ما هذا الذي يبلغني عنك؟ فقال: ما قلته، فقال عثمان: أنت أصدقهم وأبرهم، فلما خرج قلت له: ألم تقل ما قلته؟ قال: بلى ولكني أشتري ديني ببعضه مخافة أن يذهب كله. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدارات ولحاط
٨٧٥٤۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے کہ کچھ لوگوں کے سامنے کھل کھلاکرہنستے ہیں جبکہ ہمارے دل ان پر لعنت کرتے ہیں۔ (ابن عساکر)
8754- عن أبي الدرداء قال: إنا لنكشر في وجوه أقوام ونضحك إليهم وإن قلوبنا تلعنهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدارات ولحاط
٨٧٥٥۔۔۔ محمد بن مطرف ، ابن المنکدر سے ، وہ سعید بن المسیب سے، وہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے مال کے ذریعہ اپنی عزت کا دفاع کرو، لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! ہم اپنے مال سے اپنی عزت کی کیسے حفاظت کریں ؟ آپ نے فرمایا : تم شعراء اور جن کی زبان (کے فتنہ) کا اندیشہ رکھتے ہوا نہیں عطا کرو۔ (الدیلمی)
8755- عن محمد بن مطرف عن ابن المنكدر عن سعيد بن المسيب عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذبوا بأموالكم عن أعراضكم، قالوا: يا رسول الله كيف نذب بأموالنا عن أعراضنا؟ قال: تعطون الشاعر ومن تخافون لسانه. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدارات ولحاط
٨٧٥٦۔۔۔ حسین بن غلمان ، ہشام بن عروہ سے، وہ اپنے والد سے وہ حضرت عائشہ (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرماتی ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے مال بچاؤ، لوگوں نے کہا : اپنے مال سے اپنی عزت کیسے بچائیں ؟ آپ نے فرمایا : تم شاعروں اور جن کے زبانی فتنہ سے ڈرتے ہو انھیں عطا کرو۔ (الدیلمی)
8756- عن الحسين بن غلمان عن هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذبوا عن أعراضكم بأموالكم، قالوا كيف نذب عن أعراضنا بأموالنا؟ قال: تعطون الشاعر ومن تخافون لسانه. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٥٧۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں : مخرمہ بن نوفل آئے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب ان کی آواز سنی تو فرمایا : کتنی بری معاشرت والا شخص ہے، جب وہ آگئے تو آپ نے انھیں اپنے قریب بٹھایا اور ان سے ہنسی کوشی سے پیش آئے جب وہ چلے گئے تو میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! جب وہ دروازہ پر تھے تو آپ نے کیا کہا اور جب وہ اندر اگئے تو آپ خوشی سے پیش آئے یہاں تک کہ وہ چلے گئے ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم نے مجھے فحش گوپایا ؟ لوگوں میں سے براشخص وہ ہے جس کی برائی سے بچا جائے۔ (ابن عساکر)
8757- عن عائشة قالت جاء مخرمة بن نوفل فلما سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم صوته قال: بئس أخو العشيرة، فلما دخل أدناه وبش به حتى خرج، فلما خرج قلت: يا رسول الله قلت له وهو على الباب: ما قلت فلما دخل بششت به حتى خرج؟ قال: أعهدتني فحاشا؟ إن شر الناس من يتقى شره. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٥٨۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں : اپنے دشمن کو بھی سلام کر اللہ تعالیٰ تیری اس کے خلاف مدد کرے گا، اس کے ساتھ حلم وبردباری سے پیش آ، اللہ تعالیٰ اس کی زبان بندکردے گا۔ (ابن النجار)
8758- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: سلم على عدوك يعنك الله عليه، وتضرع له ينصرك الله عليه، واحلم عنه يأخذ الله بلسانه. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٥٩۔۔۔ جعفر بن محمد اپنے والد سے نقل کرتے ہیں انھوں نے فرمایا : اپنے دشمن کو سلام کر اللہ تعالیٰ تیری مدد کرے گا، اور اس کے لیے عاجزی کر اللہ تعالیٰ مدد کرے گا بندہ جب بیمار ہو کر پھر صحت یاب ہو اور کوئی بھلائی کا کام نہ کرے اور نہ کسی برائی سے روکے تو (اس کے حفاظت کرنے والے) فرشتے جب دوسرے سے ملتے ہیں تو فلاں کا علاج کیا لیکن اسے دوانے کچھ فائدہ نہیں دیا۔ (ابن النجار)
8759- عن جعفر بن محمد عن أبيه قال: سلم على عدوك يعنك الله عليه، وتضرع له ينصرك الله عليه إذا اشتكى العبد، ثم عوفي فلم يحدث خيرا ولم يكف عن سوء لقيت الملائكة بعضها بعضا، يعني حفظته فقالت: إن فلانا داويناه فلم ينفعه الدواء. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦٠۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حبیب بن مرۃ السعدی سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب نے عبدقیس کی قوم میں مروت کسے کہتے ہیں ؟ لوگوں نے کہا : پاکدامنی اور کمائی کا طریقہ ۔ (ابن المرزبان)
8760- "مسند عمر رضي الله عنه" عن حبيب بن مرة السعدي أن عمر ابن الخطاب قال لقوم من عبد القيس: ما المروءة فيكم؟ قالوا: العفة والحرفة. ابن المرزبان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦١۔۔۔ عطاء سے روایت ہے فرماتے ہیں : مروت ظاہری ہے اور ایک روایت ظاہری کپڑے ہیں۔ (ابن المرزبان)
8761- عن عطاء قال: قال عمر: المروءة الظاهرة، وفي رواية المروءة الثياب الظاهرة. ابن المرزبان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦٢۔۔۔ نبی لیث کے ایک آدمی سے روایت ہے فرمایا : حضرت علی (رض) قریش کے کچھ نوجوانوں کے پاس سے گزرے جو مروت کا ذکر کررہے تھے، آپ نے ان سے پوچھا : تم لوگ کس بارے مذاکرہ کررہے ہو ؟ انھوں نے کہا : مروت کے بارے میں ، آپ نے فرمایا : انصاف اور فضیلت پر قائم رہنا۔ (ابن مرزبان فی المرؤۃ)
8762- عن رجل من بني ليث قال: مر علي بن أبي طالب بفتيان من قريش يتذاكرون المروءة فسألهم ما تذاكرون؛ قالوا: المروءة فقال: على الإنصاف والتفضل. ابن المرزبان في المروءة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦٣۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ثقیف کے ایک شخص سے فرمایا : اے ثقیف کے بھائی ! تمہارے ہاں مروت کیا ہے ؟ اس نے کہا : یارسول اللہ ! انصاف اور اصلاح، آپ نے فرمایا : ہمارے ہاں بھی یہی ہے۔ (ابن النجار)
8763- عن جابر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لرجل من ثقيف: يا أخا ثقيف، ما المروءة فيكم؟ قال: يا رسول الله الإنصاف والإصلاح قال: وكذلك هي فينا. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦٤۔۔۔ حسن بن علی (رض) سے روایت ہے کہ حضرت معاویہ (رض) نے ان سے مروت اور کرم نوازی کے متعلق پوچھا، تو انھوں نے فرمایا : کرم نوازی تو یہ ہے کہ نیکی اور دینے میں سوال سے پہلے تبرع (بغیر بدلہ کے نیکی و احسان) کیا جائے اور برمحل کھانا کھلایا جائے، اور مروت یہ ہے کہ آدمی اپنے دین کی حفاظت کرے، اور اپنے آپ کو گندگی سے بچائے، اپنے مہمان کی، مہمان نوازی کرے، حقوق کی ادائیگی کرے اور سلام پھیلائے۔ (ابن المرزبان)
8764- عن الحسن بن علي رضي الله عنهما: أن معاوية سأله عن الكرم والمروءة فقال: أما الكرم فالتبرع بالمعروف والإعطاء قبل السؤال والإطعام في المحل، وأما المروءة فحفظ الرجل دينه وإحراز نفسه من الدنس، وقيامه بضيفه، وأداء الحقوق، وإفشاء السلام. ابن المرزبان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدکردار شخص کی مدارات کرنا
٨٧٦٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی کا حسب اس کا مال اور اس کی کرم نوازی اس کا دین اس کی اصل اس کی عقلمندی اور اس کی مروت اس کے اخلاق ہیں۔ (ابن المرزبان)
8765- عن عمر رضي الله عنه قال: حسب الرجل ماله، وكرمه دينه، وأصله عقله، ومروءته خلقه.ابن المرزبان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٦٦۔۔۔ (الصدیق (رض)) عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں، حضرت صدیق اکبر (رض) نے حضرت عمروبن العاص (رض) کو لکھا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے لڑائی کے بارے مشورہ کیا تھا سو تم بھی اس کی اختیار کرو، فرماتے ہیں : انھوں نے جواب لکھا : امابعد ! آپ کو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وہ وصیت معلوم ہوگی کو آپ نے انصار کے بارے اپنی وفات کے بعد ان سے سلوک کرنے کے بارے کی تھی، کہ ان کے نیک کی بات قبول کرو اور ان کے برے کو معاف رکھو۔ (البزار، طبرانی فی الکبیر، عقیلی فی الضعفاء، وسندہ حسن)
تشریح :۔۔۔ ان کی مراد تھی کہ اگر مجھ سے غلطی ہوئی تو مجھے معاف کردیں۔
تشریح :۔۔۔ ان کی مراد تھی کہ اگر مجھ سے غلطی ہوئی تو مجھے معاف کردیں۔
8766- "الصديق رضي الله عنه" عن عبد الله بن عمر قال: كتب أبو بكر الصديق إلى عمرو بن العاص، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم شاورنا في الحرب، وعليك به، قال: وكتب إليه، أما بعد: فقد عرفت وصية رسول الله صلى الله عليه وسلم بالأنصار بعد موته: إقبلوا من محسنهم، وتجاوزا عن مسيئهم. البزار "طب عق" وسنده حسن.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٦٧۔۔۔ (عمر (رض)) ابن شھاب سے روایت ہے کہ حضرت عمر کو جب کوئی مشکل کام پیش آتا تو آپ نوجوانوں کو جمع کرکے ان سے مشورہ لیتے اور ان کی عقل کی تیزی کا اتباع کرتے۔ (بیھقی فی السنن وابن السمعانی تاریخہ)
8767- "عمر رضي الله عنه" عن ابن شهاب قال: كان عمر بن الخطاب إذا نزل الأمر المعضل دعا الفتيان فاستشارهم يقتفي حدة عقولهم. "هق" وابن السمعاني في تاريخه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٦٨۔۔۔ ابن سیرین سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) (اہم) معاملہ میں مشورہ لیتے یہاں تک کہ آپ (اپنی) عورت سے بھی مشورہ لیتے ، بسا اوقات آپ ان کی بات میں کوئی اچھائی دیکھتے جو آپ کو اچھی لگتی تو اس پر عمل کرتے۔ (بیھقی فی السنن)
8768- عن ابن سيرين قال: إن كان عمر بن الخطاب ليستشير في الأمر، حتى إن كان ليستشير المرأة فربما أبصر في قولها الشيء يستحسنه فيأخذ به. "هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٦٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : عورتوں کی (رائے میں) مخالفت کرو، کیونکہ ان کی مخالفت میں برکت ہے۔ (العسکری فی الا مثال)
تشریح :۔۔۔ مخالفت برائے مخالفت نہ ہو، بلکہ اگر کسی کی عورت دیندار اور علم والی ہے تو اس کی بات کی زیادہ رعایت رکھی جائے، یہ حکم اس صورت میں ہے جب مرد عورت سے زیادہ علم ونظروالا ہو۔
تشریح :۔۔۔ مخالفت برائے مخالفت نہ ہو، بلکہ اگر کسی کی عورت دیندار اور علم والی ہے تو اس کی بات کی زیادہ رعایت رکھی جائے، یہ حکم اس صورت میں ہے جب مرد عورت سے زیادہ علم ونظروالا ہو۔
8769- عن عمر قال: خالفوا النساء، فإن في خلافهن بركة. العسكري في الأمثال.
তাহকীক: