কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৭৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٧٠۔۔۔ عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : تنہارائے ایسے ہے جیسے اکہرادھا کہ ، اور دورائیں جیسے دومضبوط بٹے ہوئے دھاگے ، اور تین آراء نہیں ٹوٹ سکتیں۔ (الدنیوری)
8770- عن عمر قال: الرأي الفرد كالخيط السحيل، والرأيان كالخيطين المبرمين، والثلاثة الآراء لا تكاد تنقطع. الدينوري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٧١۔۔۔ مسیب بن نجبہ سے روایت ہے کہ حضرت حسن ، حسین اور عبداللہ بن جعفر (رضوان اللہ علیہم) ان کے پاس ان کی بیٹی کا رشتہ طلب کرنے آئے، انھوں نے کہا : آپ لوگ ٹھہریں میں آپ کے پاس آتا ہوں ، وہ حضرت علی (رض) کے پاس گئے ، اور ان سے عرض کی : میں اپنے گھر، حسن ، حسین اور عبداللہ بن جعفر کو چھوڑآیاہوں اور امیر المومنین سے مشورہ طلب کرنے آیا ہوں ۔
آپ نے فرمایا : حسن تو زیادہ طلاق دینے کا عادی ہے عورتوں کی اس کے ہاں کوئی قدر نہیں اور حسین جلد باز ہے البتہ عبداللہ بن جعفر سے شادی کردو، چنانچہ آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا، ان دونوں حضرات نے کہا : آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا اور ہمیں محروم رکھاکیوں ؟ انھوں نے کہا : مجھے امیرالمومنین نے مشورہ دیا ہے، چنانچہ دونوں حضرات ان کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے : امیرالمومنین ! آپ نے ہمارا مرتبہ گھٹایا ہے کیوں ؟ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے جب تم میں سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ ایسا ہی مشورہ دے جیسا وہ خود کرنا چاہتا ہے۔ (العسکری مربرقم، ٧١٨١)
تشریح :۔۔۔ یہاں حضرت حسن اور حسین کے بارے جو الفاظ ہیں انھیں گستاخانہ الفاظ نہ سمجھیں یہ ایک باپ کے اپنے بیٹوں کے بارے میں کہے گئے الفاظ ہیں، اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ طلب کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے کا نام کسی سے نہ لے۔ جیسے اس موقعہ پر یوں لوگوں میں بدگمان پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
آپ نے فرمایا : حسن تو زیادہ طلاق دینے کا عادی ہے عورتوں کی اس کے ہاں کوئی قدر نہیں اور حسین جلد باز ہے البتہ عبداللہ بن جعفر سے شادی کردو، چنانچہ آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا، ان دونوں حضرات نے کہا : آپ نے ابن جعفر کو رشتہ دے دیا اور ہمیں محروم رکھاکیوں ؟ انھوں نے کہا : مجھے امیرالمومنین نے مشورہ دیا ہے، چنانچہ دونوں حضرات ان کے پاس آئے اور عرض کرنے لگے : امیرالمومنین ! آپ نے ہمارا مرتبہ گھٹایا ہے کیوں ؟ آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ جس سے مشورہ طلب کیا جائے وہ امانت دار ہے جب تم میں سے کسی سے مشورہ طلب کیا جائے تو وہ ایسا ہی مشورہ دے جیسا وہ خود کرنا چاہتا ہے۔ (العسکری مربرقم، ٧١٨١)
تشریح :۔۔۔ یہاں حضرت حسن اور حسین کے بارے جو الفاظ ہیں انھیں گستاخانہ الفاظ نہ سمجھیں یہ ایک باپ کے اپنے بیٹوں کے بارے میں کہے گئے الفاظ ہیں، اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مشورہ طلب کرنے والے کو چاہیے کہ وہ اپنے کا نام کسی سے نہ لے۔ جیسے اس موقعہ پر یوں لوگوں میں بدگمان پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
8771- عن المسيب بن نجبة1 أن الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر أتوه يخطبون إليه ابنته، فقال: مكانكم حتى أعود إليكم، فأتى عليا، فقال: إني خلفت في المنزل الحسن والحسين وعبد الله بن جعفر يخطبون إلي وأتيت أمير المؤمنين لأشاوره، فقال: أما الحسن فمطلاق ولا تحظى النساء عنده، وأما الحسين فملق، ولكن زوج ابن جعفر، فزوج ابن جعفر، فقالا له: منعتنا وزوجت ابن جعفر؟ فقال: أشار علي أمير المؤمنين، فأتياه فقالا: وضعت منا يا أمير المؤمنين؟ فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: المستشار مؤتمن، فإذا استشير أحدكم فليشر بما هو صانع لنفسه. العسكري. مر برقم/7181/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٧٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جس سے کوئی مشورہ طلب کیا گیا اور اسے پتا ہے کہ بہتری دوسری بات میں تھی تو مرنے سے پہلے اس کی عقل سلب کرلی جائے گی۔ (الدینوری)
تشریح :۔۔۔ موجبہ جزیہ ہے، کیونکہ جو غلط مشورہ دیتا ہے اس کے ذہن میں ہمیشہ ایک خدچہ لگا رہتا ہے رات دن وہ اسی کے متعلق سوچتا رہتا ہے اور آخرکار وہ ذہنی مریض بن جاتا ہے یوں اس کی عقل میں فتور آجاتا ہے اور یہی عقل سلب ہونے کا مفہوم ہے
تشریح :۔۔۔ موجبہ جزیہ ہے، کیونکہ جو غلط مشورہ دیتا ہے اس کے ذہن میں ہمیشہ ایک خدچہ لگا رہتا ہے رات دن وہ اسی کے متعلق سوچتا رہتا ہے اور آخرکار وہ ذہنی مریض بن جاتا ہے یوں اس کی عقل میں فتور آجاتا ہے اور یہی عقل سلب ہونے کا مفہوم ہے
8772- عن علي قال: من استشار رجلا فأشار عليه بما رأى أن الصلاح في غيره لم يمت حتى يسلب عقله. الدينوري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مشورہ۔۔۔ دوسروں سے رائے لینا
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
مشورہ کا قصد یہ ہے کہ بعض مرتبہ کسی بات کی گہرائی تک سربراہ اور مختار شخص کی رسائی نہیں ہوتی، اور اہل مجلس میں کوئی شخص اسے آگاہ کردیتا ہے اب اس کی مرضی ہے کہ جس بات میں سب بھلائی ہوا سے نافذ کرے۔
٨٧٧٣۔۔۔ حضرت طلحہ سے روایت ہے فرمایا : بخیل سے عطیہ دینے کے بارے ، بزدل سے لڑائی کے بارے اور نوجوان سے کسی لڑکی کے متعلق مشورہ مت لو۔ (ابن عساکر)
تشریح :۔۔۔ ہر شخص سے وہی مشورہ لیا جائے جس کے حالات سے وہ متاثرنہ ہو۔
تشریح :۔۔۔ ہر شخص سے وہی مشورہ لیا جائے جس کے حالات سے وہ متاثرنہ ہو۔
8773- عن طلحة قال: لا تشاور بخيلا في صلة ولا جبانا في حرب ولا شابا في جارية. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نصیحت و خیرخواہی
٨٧٧٤۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غلام حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین نصیحت و خیرخواہی کا نام ہے، دین نصیحت (کا نام) ہے لوگوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کس کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ، اس کی کتاب ، اس کے رسول ، مسلمانوں کے بادشاہوں اور عوام کے لیے۔ (ابن عساکر)
تشریح :۔۔۔ فرائض ، احکام ، سنن، حکومتی اور تمام عوامی امور اس میں شامل ہیں۔
تشریح :۔۔۔ فرائض ، احکام ، سنن، حکومتی اور تمام عوامی امور اس میں شامل ہیں۔
8774- "ثوبان مولى رسول الله صلى الله عليه وسلم" عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الدين النصيحة، الدين النصيحة، قالوا: لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولكتابه ولرسوله ولأئمة المسلمين وعامتهم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نصیحت و خیرخواہی
٨٧٧٥۔۔۔ حضرت ثوبان (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین کی بنیاد خیر خواہی پر ہے میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! کس کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ، اس کی کتاب ، مسلمانوں کے سربراہوں اور عام مسلمانوں کے لئے۔ (ابن عساکر)
8775- عن ثوبان قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رأس الدين النصيحة قلت لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولدينه ولرسوله ولكتابه ولأئمة المسلمين وللمسلمين عامة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نصیحت و خیرخواہی
٨٧٧٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : دین نصیحت ہے، کسی نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کس کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول ، اس کی کتاب ، مسلمانوں کے سربراہوں اور عام مسلمانوں کے لئے۔ (ابن النجار)
8776- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الدين النصيحة قيل لمن يا رسول الله؟ قال: لله ولرسوله ولكتابه ولأئمة المؤمنين وعامتهم. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت
٨٧٧٧۔۔۔ امام مالک موطا میں فرماتے ہیں : محمد بن الحسن و سفیان بن عیینہ اپنی (کتاب ) الجامع، میں یحییٰ بن سعید، محمد بن ابراہیم تیمی، فرماتے ہیں، میں نے علقمہ بن وقاص سے سناوہ فرماتے ہیں میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو فرماتے سنا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : اعمال کا دارومدارنیت پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی (اجر) ہے جس کی وہ نیت کرے، تو جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے کافی ہوگی۔
اور جس کی ہجرت دنیا کے حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (الشافعی فی مختصر البیوطی والربیع، ابوداؤد طیالسی، والحمیدی، سعید بن منصور العدنی، مسند احمد، مسلم ، ابوداؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ، والجارودوابن خزیمہ والطحاوی، ابن حبان ، دارقطنی، نعیم بن حماد فی نسخہ مربرقم، ٧٢٦٢)
اور جس کی ہجرت دنیا کے حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (الشافعی فی مختصر البیوطی والربیع، ابوداؤد طیالسی، والحمیدی، سعید بن منصور العدنی، مسند احمد، مسلم ، ابوداؤد، ترمذی ، نسائی ، ابن ماجہ، والجارودوابن خزیمہ والطحاوی، ابن حبان ، دارقطنی، نعیم بن حماد فی نسخہ مربرقم، ٧٢٦٢)
8777- قال مالك في الموطأ: رواية محمد بن الحسن وسفيان بن عيينة في جامعه: أنا يحيى بن سعيد، أخبرني محمد بن إبراهيم التيمي قال: سمعت علقمة بن وقاص يقول: سمعت عمر بن الخطاب يقول: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنية، وإنما لكل امرئ ما نوى فمن كان هجرته إلى الله ورسوله، فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته إلى ما هاجر إليه. "الشافعي في مختصر البويطي والربيع "ط" والحميدي "ص" والعدني "حم م د ت ن هـ" والجارود وابن خزيمة والطحاوي "حب قط" نعيم بن حماد في نسخته. مر برقم/7262/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت
٨٧٧٨۔۔۔ ابن المبارک سے، وہ یحییٰ بن سعید الانصاری سے، وہ محمد بن ابراہیم التیمی سے، وہ علقمہ بن وقاص سے، وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی، اور جس کی ہجرت کسی مال کے حاصل کرنے کیا کسی عورت سے نکاح کرنے کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہوگی جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔ (العسکری فی الامثال)
8778- حدثنا ابن المبارك عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن محمد بن إبراهيم التيمي عن علقمة بن وقاص عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته إلى مال يأخذه أو امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه.
العسكري في الأمثال.
العسكري في الأمثال.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت
٨٧٧٩۔۔۔ ابن منیع ، ابوالربیع الزھرانی ، عبداللہ القواریری ، حماد بن زید ، یحییٰ بن سعید الانصاری، محمد بن ابراہیم ، علقمہ بن وقاص، حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا فرمایا :
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے، سو جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی نیت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی نیت اسی طرف ہوگی۔ (ابن شاذان فی جزء من حدیثہ)
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جس کی وہ نیت کرے، سو جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی نیت دنیا حاصل کرنے یا عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی نیت اسی طرف ہوگی۔ (ابن شاذان فی جزء من حدیثہ)
8779- ثنا ابن منيع، ثنا أبو الربيع الزهراني وعبيد الله القواريري قالا: ثنا حماد بن زيد عن يحيى بن سعيد الأنصاري عن محمد بن إبراهيم عن علقمة بن وقاص عن عمر بن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهي إلى الله ورسوله، ومن كانت نيته إلى دنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فنيته إليها. ابن شاذان في جزء من حديثه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت
٨٧٨٠۔۔۔ مکرم سے ، وہ محمد بن شداد سے ، وہ جعفربن عون سے ، وہ یحییٰ بن سعید الانصاری سے ، وہ محمد بن ابراہیم سے ان کے سلسلہ سند میں علقمہ بن وقاص سے روایت ہے فرماتے میں نے حضرت عمر کو فرماتے سنا کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر آدمی کے لیے وہی ہے جو وہ نیت کرے، جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہوگی تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہوگی۔ (ابوالحسن بن صخر الازدی فی عوالی مالک)
8780- أنا مكرم: ثنا محمد بن شداد، ثنا جعفر بن عون، ثنا يحيى بن سعيد الأنصاري عن محمد بن إبراهيم، سمعت علقمة بن وقاص يقول، سمعت عمر بن الخطاب يقول، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إنما الأعمال بالنيات وإنما لامرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته لدنيا يصيبها، أو امرأة يتزوجها فهجرته للدنيا. أبو الحسن بن صخر الأزدي في عوالي مالك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نیت
٨٧٨١۔۔۔ عمر بن محمد بن سیف، محمد بن محمد بن محمد بن سلیمان ، ابوالطاہر احمد بن عمر وبن السرح، ابن وھب ، عمروبن الحارث، مالک بن انس، اللیث بن سعد ہر دو، یحییٰ بن سعید الانصاری ، محمد بن ابراہیم التیمی ان کے سلسلہ سند میں علقمہ بن وقاص سے رو وایت ہے کہ میں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی اس نے نیت کی، اور جس کی ہجرت کسی مال (کے حصول) یا کسی عورت سے شادی کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت بھی اس کی نیت پر موقوف ہے۔ (الخلعی فی الخلعیات)
8781- ثنا عمر بن محمد بن سيف، ثنا محمد بن محمد بن محمد بن سليمان، ثنا أبو الطاهر أحمد بن عمرو بن السرح، أنا ابن وهب، أخبرني عمرو بن الحارث ومالك بن أنس والليث بن سعد جميعا عن يحيى بن سعيد الأنصاري، عن محمد بن إبراهيم التيمي، عن علقمة بن وقاص الليثي، عن عمر بن الخطاب قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الأعمال بالنيات، فمن كانت هجرته إلى اله ورسوله فهجرته إلى ما نوى، ومن كانت هجرته إلى مال أو زوجة يتزوج بها فهجرته إلى ما نوى. الخلعي في الخليعات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص نیت
٨٧٨٢۔۔۔ ابومحمد اسماعیل بن عمرو بن اسماعیل بن راشد المقری ، ابوالقاسم بن عبداللہ بن احمد القرشی ، ابوبکر بن محمد بن زبان الحضرمی ، محمد بن رمح، لیث بن سعد ، یحییٰ بن سعد ، محمد بن ابراہیم بن الحارث، ان کے سلسلہ سند میں علقمہ بن وقاص سے روایت ہے وہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت کرتے ہیں آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا : کہ اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے، اور ہر آدمی کے لیے اس کی نیت ہے، جس نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کی تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا کے حصول یا کسی عورت سے نکاح کی غرض سے ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کے لیے اس نے ہجرت کی۔ (عن الزبیر بن بکار فی اخبار المدینۃ)
8782- أنا أبو محمد إسماعيل بن عمرو بن إسماعيل بن راشد المقرئ أنا أبو القاسم الحسين بن عبد الله بن أحمد القرشي، ثنا أبو بكر بن محمد بن زبان الحضرمي، ثنا محمد بن رمح، أنا الليث بن سعد، عن يحيى بن سعيد، عن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن علقمة بن وقاص، عن عمر ابن الخطاب قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: الأعمال بالنيات وإنما لامرئ ما نوى، فمن هاجر إلى الله ورسوله فقد هاجر إلى الله ورسوله، ومن هاجر لدنيا يصيبها أو امرأة يتزوجها فهجرته لما هاجر له. عن الزبير بن بكار في أخبار المدينة.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص نیت
٨٧٨٣۔۔۔ محمد بن حسن بن محمد طلحہ سے ، وہ عبدالرحمن سے ، وہ موسیٰ بن محمد بن ابراہیم بن حارث سے ان کے سلسلہ سند میں ان کے والد سے روایت فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب مدینہ منورہ نشریف لائے تو آپ کے صحابہ بخار میں مبتلا ہوگئے، اور ایک شخص آیا جس نے ایک ہجرت کرنے والی عورت سے شادی کرلی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور تین بار ارشاد فرمایا : لوگو ! جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہے اور جس کی ہجرت دنیا طلب کرنے یا کسی عورت سے منگنی کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے، پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھائے، اور تین بار فرمایا : اے اللہ ! ہم سے یہ (بخار کی) وبامنتقل کردے۔
جب صبح ہوئی تو ارشاد فرمایا : اس رات بخار (کی بیماری) میرے پاس ایک بوڑھی سیاہ فام عورت کی شکل میں آئی ، اس شخص کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی جو اسے لایا تھا، اس نے کہا : یہ بخار ( کی بیماری) ہے آپ اس کے بارے کیا رائے رکھتے ؟ میں نے کہا : اسے یہاں سے بنی لخم منتقل کردو۔ (ھناد فی الزھد)
جب صبح ہوئی تو ارشاد فرمایا : اس رات بخار (کی بیماری) میرے پاس ایک بوڑھی سیاہ فام عورت کی شکل میں آئی ، اس شخص کے ہاتھ میں لپٹی ہوئی جو اسے لایا تھا، اس نے کہا : یہ بخار ( کی بیماری) ہے آپ اس کے بارے کیا رائے رکھتے ؟ میں نے کہا : اسے یہاں سے بنی لخم منتقل کردو۔ (ھناد فی الزھد)
8783- قال: حدثني محمد بن الحسن بن محمد بن طلحة، عن عبد الرحمن، عن موسى بن محمد بن إبراهيم بن الحارث، عن أبيه قال: لما قدم رسول الله صلى الله عليه وسلم المدينة وعك فيها أصحابه، وقدم رجل فتزوج امرأة كانت مهاجرة، فجلس رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر، فقال: يا أيها الناس إنما الأعمال بالنيات ثلاثا، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته إلى الله ورسوله، ومن كانت هجرته إلى دنيا يطلبها أو امرأة يخطبها فإن هجرته إلى ما هاجر إليه، ثم رفع يديه، فقال: اللهم انقل عنا الوباء ثلاثا، فلما أصبح قال: أتيت هذه الليلة بالحمى فإذا عجوز سوداء ملببة1 في يد الذي جاء بها، فقال: هذه الحمى فما ترى فيها؟ فقلت اجعلوها لخم2 هناد في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اخلاص نیت
٨٧٨٤۔۔۔ وکیع سے، وہ سفیان سے، وہ محمد بن التیمی سے، وہ علقمہ بن وقاص اللیثی سے وہ حضرت عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے اور ہر شخص کے لیے وہی ہے جس کی اس نے نیت کی ، سو جس کی ہجرت اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی طرف ہو تو اس کی ہجرت اس کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی ہے۔
اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
اور جس کی ہجرت دنیا حاصل کرنے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کی ہو تو اس کی ہجرت اسی کی طرف ہے جس کی طرف اس نے ہجرت کی۔
8784- ثنا وكيع عن سفيان عن محمد بن التيمي عن علقمة بن وقاص الليثي عن عمر قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنما الأعمال بالنية ولكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى الله ورسوله فهجرته ما هاجر إليه، ومن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها أو امرأة ينكحها فهجرته إلى ما هاجر إليه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مددواعانت
٨٧٨٥۔۔۔ (انس (رض)) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کر چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مظلوم کی تو میں مدد کرسکتا ہوں ، (لیکن) ظالم کی کیسے مدد کروں ؟ آپ نے فرمایا : تم اسے حق کی طرف لوتا دو یہی اس کی مدد ہے۔ (ابن عساکر)
مربرقم : ٧٢٠٤ کسی کے لیے دولب ہی ہلا دینا بڑی بات ہے۔
مربرقم : ٧٢٠٤ کسی کے لیے دولب ہی ہلا دینا بڑی بات ہے۔
8785- "أنس بن مالك رضي الله عنه" عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعن أخاك ظالما أو مظلوما، قلت: يا رسول الله أعينه مظلوما، فكيف أعينه ظالما، قال: ترده إلى الحق فذلك عون له. "كر". مر برقم/7204/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مددواعانت
٨٧٨٦۔۔۔ حسن سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنے بھائی کی مدد کر چاہے وہ ظالم ہو یا مظلوم ، تو ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! مظلوم کی تو مدد کروں ، ( لیکن) اگر وہ ظالم ہو تو آپ کا ارشاد ہے ؟ آپ نے فرمایا : اسے ظلم سے منع کرو اور اس سے روک دو تو یہی اس کی مدد ہے۔ (الرامھرمزی فی الامثال مربرقم : ٧٢٢٦)
8786- عن الحسن قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أعن أخاك ظالما أو مظلوما، فقال رجل: يا رسول الله هذا أنصره مظلوما، أرأيت إن كان ظالما؛ قال: امنعه من الظلم، واحجزه فإن ذلك نصره.
الرامهرمزي في الأمثال. مر برقم/7226/.
الرامهرمزي في الأمثال. مر برقم/7226/.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مددواعانت
٨٧٨٧۔۔۔ ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے تو ایک شخص نے کسی کے بارے نازیبا الفاظ کہے وہاں بیٹھے ایک اور شخص کو جواب دیا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے اپنے بھائی کی عزت کا دفاع کیا تو اس کا ایک درجہ بلند کیا جائے گا۔ (ابن عساکر)
8787- عن أبي الدرداء قال: كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم فنال رجل من رجل، فرد عليه رجل، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من رد عن عرض أخيه رفع بها درجة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برہیزگاری
٨٧٨٨۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : دین رات کے آخری حصہ میں بیداری اور آہ وبکا کا نام نہیں، دین تو پرہیزگاری ہے۔ (مسلم ، مسند احمد فی الزھد)
8788- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: إن الدين ليس بالطنطنة من آخر الليل، ولكن الدين الورع. "م حم" في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৭৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برہیزگاری
٨٧٨٩۔۔۔ ابورفاعہ عبداللہ بن الحارث العدوی (رض) فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ ایک کرسی پر تشریف فرما تھے،میرا خیال ہے اس کرسی کے پاؤں لوہے کے تھے، تو میں نے آپ کو ارشاد فرماتے سنا : تو جس چیز کو اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑدے گا تو اللہ تعالیٰ لازما تجھے اس سے بہتر چیز بدلہ میں عطاکریں گے۔ (خطیب فی المتفق)
8789- عن أبي رفاعة عبد الله بن الحارث العدوي قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، وهو على كرسي خلت أن قوائمه حديد، فسمعته يقول: إنك لن تدع شيئا لله إلا أبدلك الله خيرا منه.
"خط" في المتفق.
"خط" في المتفق.
তাহকীক: