কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৭৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برہیزگاری
٨٧٩٠۔۔۔ ثوری سے ، وہ جابر سے، وہ شعبی سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ (بن مسعود) نے فرمایا : کہ جب بھی حلال اور حرام جمع ہوئے تو حرام حلال پر غالب آگیا۔ (عبدالرزاق)
8790- عن الثوري عن جابر عن الشعبي قال: قال عبد الله: ما اجتمع حلال وحرام إلا غلب الحرام الحلال. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ برہیزگاری
٨٧٩١۔۔۔ عبداللہ بن معاویہ بن خدیج، سے روایت ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : یارسول اللہ ! جو چیزیں مجھ پر حرام ہیں ان میں سے حلال کون سی ہیں ؟ تو آپ نے کوئی جواب نہ دیا، اس نے تین بار پوچھا : آپ برابر ساکت رہے، پھر آپ نے فرمایا : سائل کہاں ہے ؟ اس نے کہا : یارسول اللہ ! میں یہاں ہوں، آپ نے فرمایا۔ اور اپنی انگلی کو دل پر مارا جو بات تیرے دل کو انوکھی لگے۔ (البغوی وقال : لاادری سمع عبدالرحمن بن معاویہ من النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ام لا، ولااری عوی غیرھذا الحدیث، ابن عساکر)
8791- عن عبد الله بن معاوية بن حديج أن رجلا سأل النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله ما يحل لي مما يحرم علي؛ فسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم فرد عليه ثلاثا، كل ذلك يسكت رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قال أين السائل؛ ثم قال: أنا ذا يا رسول الله، قال ونقر بأصبعه: ما أنكر قلبك فدعه. البغوي وقال: لا أدري سمع عبد الرحمن بن معاوية من النبي صلى الله عليه وسلم أم لا، ولا أعلم روى غير هذا الحديث "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٢۔۔۔ بشیر بن اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے خطبہ کیا اپنے وعظ میں فرمایا : لوگو ! حلال اور حرام دونوں واضح ہیں، جبکہ ان دونوں کے درمیان بہت سی باتیں شبہ میں ڈالنے والی ہیں، سو جس نے انھیں چھوڑ دیا تو اس نے اپنی عزت اور اپنا دین بچالیا، اور جو ان میں پڑا تو قریب ہے کہ وہ انھیں کر گزرے۔

اور ہر بادشاہ کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اور زمین میں اللہ تعالیٰ کی چراگاہ اس کی نافرمانیاں ہیں۔ (دارقطنی فی الافراد، وقال : لااعلم بشیر بن النعمان حدیثا مسند اغیرہ وقال وقد روی لہ حدیث آخر مربرقم : ٧٢٩١)
8792- عن بشير بن النعمان عن أبيه أن النبي صلى الله عليه وسلم قال في خطبته أو في موعظته: أيها الناس الحلال بين والحرام بين، وبين ذلك أمور مشتبهات، فمن تركهن سلم دينه وعرضه، ومن أوضع فيهن يوشك أن يقع فيهن، ولكل ملك حمى، وإن حمى الله في الأرض معاصيه.

"قط" في الأفراد وقال: لا أعلم لبشير بن النعمان حديثا مسندا غيره، وقال وقد روي له حديث آخر. مر برقم/7291/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٣۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں، پرہیزگاری امانت ہے اور تاجر گناہ گار ہیں۔ (ابن جریر)
8793- عن أبي الدرداء قال: الورع أمانة والتاجر فاجر. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٤۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو چیز تجھے دھوکا میں ڈالے اسے چھوڑدے اور جو دھوکا

میں نہ ڈالے اسے اختیار کر، کیونکہ بھلائی اطمینان کا نام ہے اور برائی میں شک ہوتا ہے۔ (ابن عساکر مربرقم : ٧٢٩٦)
8794- عن أبي الدرداء قال: دع ما يريبك إلى ما لا يريبك، فإن الخير طمأنينة وإن الشر فيه ريبة. "كر". مر برقم/7296/.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٥۔۔۔ اسحاق بن سوید العدوی سے، وہ ابورفاعہ عبداللہ بن الحارث العدوی (رض) سے روایت کرتے ہیں۔ فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ ایک کرسی پر تشریف فرما تھے ، میرا خیال ہے کہ اس کے پائے لوہے کے تھے ، میں نے آپ کو ارشاد فرماتے سنا، تم جو چیز بھی اللہ تعالیٰ کے لیے چھوڑ دو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کے بدلہ میں بہترین چیز عطا کریں گے۔ (خطیب فی المتفق والمفترق وقال کذاواسم ابی رفاعہ تمیم بن اسد لا عبداللہ بن الحارث، حدث عنہ حمید بن ھلال ولا اعلم روی عنہ اسحاق بن سوید شیئا)
8795- عن إسحاق بن سويد العدوي عن أبي رفاعة عبد الله بن الحارث العدوي، قال: دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على كرسي خلت أن قوائمه حديد فسمعته يقول: إنك لن تدع شيئا لله إلا أبدلك الله خيرا منه. "خط" في المتفق والمفترق وقال كذا واسم أبي رفاعة تميم بن أسد لا عبد الله بن الحارث حدث عنه حميد بن هلال، ولا أعلم روى عنه إسحاق بن سويد شيئا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٦۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حلال (چیز) کو حرام کرنے والا ایسا ہے جیسے حرام کو حلال کرنے والا۔ (ابن سعد وابن جریر، ابن عساکر)
8796- عن ابن مسعود قال: إن محرم الحلال كمستحل الحرام. ابن سعد وابن جرير "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حلال اور حرام کی تمیز
٨٧٩٧۔۔۔ (مسند علی (رض)) سعید بن عبدالملک الدمشقی، سفیان ثوری، داؤدبن ابی ھندان کے سلسلہ سند میں شعبی سے روایت ہے فرماتے ہیں کوفہ میں ایک دن حضرت علی (رض) باہر نکلے، (چلتے چلتے) ایک دروازہ کے سامنے کھڑے ہوگئے اور (گھر سے) پانی مانگا، آپ کے پاس ایک لڑکی پانی کی صراحی اور رومال لیکرحاضر ہوئی، آپ نے اس لڑکی سے کہا : یہ کس کا گھر ہے ؟ اس نے کہا فلاں جوہری کا، آپ نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے سنا ہے : دراھم پرکھنے والے کے کنوئیں سے پانی نہ پینا اور عشر وصول کرنے والے (کی دیوار) کا سایہ نہ لینا (ابن عساکر، ولم ارفی رجالہ من تکلم فیہ)
8797- "مسند علي رضي الله عنه" عن سعيد بن عبد الملك الدمشقي: حدثنا سفيان الثوري عن داود بن أبي هند عن الشعبي قال: خرج علي بن أبي طالب يوما بالكوفة، فوقف على باب فاستسقى ماء، فخرجت إليه جارية بإبريق ومنديل، فقال لها: يا جارية لمن هذه الدار؟ فقالت: لفلان القسطار، فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تشرب من بئر قسطار، ولا تستظلن في ظل عشار. "كر" ولم أر في رجاله من تكلم فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری میں رخصت کے مقامات
٨٧٩٨۔۔۔ حضرت (ابن عمر (رض)) سے روایت ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا : کہ میرا ایک پڑوسی ہے جو سود (کا مال) کھاتا ہے اور وہ مجھے اپنے ساتھ کھانے کے لیے بلاتا ہے کہ میں اس کے پاس چلاجاؤں ؟ آپ نے فرمایا : ہاں جاسکتے ہو (ابن جریر

تشریح :۔۔۔ یہ اس صورت میں ہے جب اس کی کچھ کمائی حلال اور کچھ حرام ہو، لیکن جب تمام کاروبار پر مبنی ہو تو پھر اس کا کھانا جائز نہ ہوگا۔
8798- "ابن عمر رضي الله عنه" عن ابن عمر أنه سئل: إن لي جارا يأكل الربا، وإنه يدعوني إلى طعامه أفآتيه؟ قال: نعم. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৭৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری میں رخصت کے مقامات
٨٧٩٩۔۔۔ زر سے روایت ہے کہ ایک شخص حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے پاس آکر کہنے لگا : میرا ایک پڑوسی ہے جو سود کھاتا ہے اور اکثر مجھے (کھانے کے لیے) بلاتا رہتا ہے آپ نے فرمایا : تیرے لیے بہترین ہے اس کا گناہ اس پر ہے۔ (عبدالرزاق، ابن جریر فی تھذیبہ)
8799- عن زر قال: جاء رجل إلى ابن مسعود فقال: إن لي جارا يأكل الربا، وإنه لا يزال يدعوني، فقال: مهنؤه لك، وإثمه عليه. "عب" وابن جرير في تهذيبه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پرہیزگاری میں رخصت کے مقامات
٨٨٠٠۔۔۔ حارث بن سوید سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے پوچھا : میرا ایک پڑوسی ہے جو سود کھانے سے نہیں بچتا، اور نہ اس کے لینے سے بچتا ہے جو صحیح نہیں وہ مجھے اپنے کھانے پر بلاتا ہے، اور ہمیں ضرورت پڑتی ہے تو ہم اس سے قرض بھی لیتے ہیں، آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے ؟

آپ نے فرمایا : جب وہ تمہیں کھانے پر بلائے تو اس کی دعوت قبول کرو، اور جب تمہیں ضرورت ہو تو اس سے قرض لے لیا کرو ، کیونکہ اس کا گناہ اس پر اور اس کا فائدہ تیرے لیے ہے۔ (ابن جریر)
8800- عن الحارث بن سويد قال: سأل رجل ابن مسعود إن لي جارا لا يتورع عن أكل الربا، ولا من أخذه ما لا يصلح، وهو يدعونا إلى طعامه، وتكون الحاجة فنستقرضه، فما ترى في ذلك؟ قال: إذا دعاك إلى طعامه فأجبه، وإذا كانت لك حاجة فاستقرضه، فإن إثمه عليه ومهنؤه لك. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یقین
٨٨٠١۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : یقین کی نیت شک کی نماز سے بہت رہے۔ (الدینوری)
8801- عن علي قال: نوم على يقين خير من صلاة على شك. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یقین
٨٨٠٢۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : یقین یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی ناراٖضگی میں لوگوں کی رضا مندی تلاش نہ کرو، اور اللہ تعالیٰ کے رزق کی وجہ سے کسی کی تعریف نہ کرو، اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں نہیں فی اس کی وجہ سے کسی کی ملامت و برائی نہ کرو، کیونکہ رزق کو کسی حریص کا حرص کھینچ نہیں سکتا اور نہ کسی چاہنے والے کی چاہت اسے ہٹاسکتی ہے۔

اور اللہ تعالیٰ اپنے انصاف، علم اور حکمت سے راحت اور فرحت کو یقین اور رضا میں رکھا ہے اور غم و پریشانی کو شک میں رکھا ہے۔ (ابن ابی الدنیا)
8802- عن ابن مسعود قال: اليقين أن لا ترضى الناس بسخط الله، ولا تحمد أحدا على رزق الله، ولا تلم أحدا على ما لم يؤتك الله، فإن الرزق لا يسوقه حرص حريص، ولا يرده كراهة كاره، وإن الله بقسطه وعلمه وحكمته جعل الروح والفرح في اليقين والرضا، وجعل الهم والحزن في الشك والسخط.

ابن أبي الدنيا "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ یقین
٨٨٠٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : یقین کی چار قسمیں ہیں سمجھداری کی انتہاء پر ، علم کی گہرائی ، حکم کی شان و شوکت اور بردباری کے باغ پر، سو جو کوئی سمجھ گیا تو وہ علمی جملوں کی تفسیر و تشریح کرتا ہے اور جس نے علمی جملوں کی تفسیر کی تو وہ حکم کی قسمیں پہچان گیا، اور جس نے حکم کی قسمیں پہچان لیں وہ بردبار ہوا، اور (لوگوں میں ) حد سے تجاوز نہیں کیا بلکہ لوگوں میں (مل جل کر) رہا۔ (ابن ابی الدنیا فی الیقین)
8803- عن علي قال: اليقين على أربع شعب، على غاية الفهم، وغمرة العلم، وزهرة الحكم، وروضة الحلم، فمن فهم فسر جمل العلم، ومن فسر جمل العلم عرف شرائع الحكم، ومن عرف شرائع الحكم حلم ولم يفرط في أمره، وعاش في الناس. ابن أبي الدنيا في اليقين.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب۔۔۔ برے اخلاق
٨٨٠٤۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : کبھی آدمی میں دس خصلتیں ہوتی ہیں نواچھی اور ایک بری، تو ایک بری عادت نواچھی عادتوں کو بھی خراب کردیتی ہے۔ (عبدالرزاق، طبرانی فی الکبیر، بیھقی فی الشعب)
8804- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: قد يكون في الرجل عشرة أخلاق، تسعة صالحة وواحد سييء، فيفسد التسعة الصالحة ذلك السييء. "عب طب هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوسراباب۔۔۔ برے اخلاق
٨٨٠٥۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : جب تک بندہ میں بری خصلتیں رہیں وہ اللہ تعالیٰ (کی رحمت) سے دور یہتا ہے۔ (ابن عساکر)
8805- عن أبي الدرداء قال: لا يزال العبد من الله بعيدا ما يسيء خلقه. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زیب وزینت میں حد سے تجاوز
٨٨٠٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ مرد کے لیے یہ ناپسند سمجھتے تھے کہ وہ اپنی اس طرح حفاظت کرے جس طرح عورت (میل کچیل سے) اپنی حفاظت کرتی ہے اور ہمیشہ اسے سرمہ لگادیکھا جائے اور اپنی ڈاڑھی ایسے بیوند کترے جیسے کانٹ چھانٹ کرتی ہے۔ (ابوذر الھروی فی الحامع)

حضرت مرشد تھانوی رحمۃ اللہ نے فرمایا : جو شخص زیب وینت میں لگا رہے تو اس کا باطن خالی ہوگا۔
8806- عن عمر أنه كره أن يصون الرجل نفسه كما تصون المرأة نفسها، ولا يزال يرى كل يوم مكتحلا، وأن يحف لحيته كما تحف المرأة. أبو ذر الهروي في الجامع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نفس کو ذلیل کرنا اور آزمائشوں کے لیے پیش ہونا
٨٨٠٧۔۔۔ (وضین بن عطاء) یزید بن مرثد، حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے نقل کرتے ہیں : فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کے لیے اپنے آپ کو ذلیل کرنا جائز نہیں، کسی نے پوچھا : یارسول اللہ ! نفس کو ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : اپنے آپ کو ظالم بادشاہ کے سامنے پیش کرے۔ (السلفی فی انتخاب حدیث الفراء)

تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرنا چاہیے، آزمائش کی ہمت کم ہی ہوتی ہے۔
8807- "الوضين بن عطاء" عن يزيد بن مرثد عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا يحل لمؤمن أن يذل نفسه. قيل: وما إذلال نفسه يا رسول الله؟ قال: يعرض نفسه لإمام جائر. السلفي في انتخاب حديث الفراء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نفس کو ذلیل کرنا اور آزمائشوں کے لیے پیش ہونا
٨٨٠٨۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمان کے لیے اپنے کو ذلیل کرنا حلال نہیں، کسی نے پوچھا : یارسول اللہ ! نفس کو ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے ؟ اور کوئی کیسے کرسکتا ہے ؟ فرمایا : انسان ایسی آزمائشوں میں پڑنے کی کوشش کرے جس کی اس میں طاقت نہیں۔ (طبرانی فی الاوسط)
8808- عن علي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس للمسلم أن يذل نفسه، قالوا: يا رسول الله وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يطيق. "طس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ نفس کو ذلیل کرنا اور آزمائشوں کے لیے پیش ہونا
٨٨٠٩۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مومن کے لیے مناسب نہیں کہ اپنے آپ کو ذلیل کرے، کسی نے پوچھا : یارسول اللہ اپنے آپ کو ذلیل کرنے سے کیا مراد ہے، آپ نے فرمایا : آپ نے فرمایا : ایسی آزمائشوں میں پڑنے کی کوشش کرے جن کی اس میں طاقت نہیں۔ (ابن الجار)
8809- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه، قيل: يا رسول الله وكيف يذل نفسه؟ قال: يتعرض من البلاء لما لا يقوم له. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক: