কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৮১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بہتان۔۔۔ کسی پر الزام لگانا
٨٨١٠۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : بےگناہ لوگوں پر الزام لگانا آسمانوں سے زیادہ بوجھل ہے۔ (الحکیم)
تشریح :۔۔۔ یعنی بہت بڑا گناہ ہے، آج کل تو لوگوں کا وطیرہ ہوگیا کہ اغلم بغلم بک کر دوسروں سے ذمپ لگا دیتے ہیں، حالانکہ اس غریب کو اس کی خبرتک نہیں ہوتی۔
تشریح :۔۔۔ یعنی بہت بڑا گناہ ہے، آج کل تو لوگوں کا وطیرہ ہوگیا کہ اغلم بغلم بک کر دوسروں سے ذمپ لگا دیتے ہیں، حالانکہ اس غریب کو اس کی خبرتک نہیں ہوتی۔
8810- عن علي قال: البهتان على البراء أثقل من السموات. الحكيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بغاوت و سرکشی
٨٨١١۔۔۔ حارث حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں : آپ نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اے مسلمانو کی جماعت بغاوت سے بچنا، کیونکہ سزا، بغاوت کی سزا سے زیادہ تیز نہیں۔ (ابن ابی الدنیا فی مکارم الاخلاق، عبدالرزاق، ابوداؤد طیالسی، وابن النجار)
8811- عن الحارث عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا معشر المسلمين احذروا البغي، فإنه ليس من عقوبة هي أحضر من عقوبة البغي. ابن أبي الدنيا في مكارم الأخلاق "عب طب" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بغاوت و سرکشی
٨٨١٢۔۔۔ عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت ہے کہ میں نے ابوجعفر سے پوچھا : کیا اس امت میں کفر ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اس کا علم نہیں ، اور نہ شرک ہوگا، میں نے کہا : پھر کیا ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : بغاوت ہوگی۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8812- عن عبد الملك بن أبي سليمان قال: سألت أبا جعفر؟ هل في هذه الأمة كفر؟ قال: لا أعلمه، ولا شرك، قلت: فماذا؟ قال بغي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بخل وکنجوسی
٨٨١٣۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی کے برا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ کھلے عام گناہ کرے یا بخل کرے۔ (ابن جریر)
8813- عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: كفى بالمرء من الشر أن يكون فاجرا وأن يكون بخيلا.ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بخل وکنجوسی
٨٨١٤۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے، زندگی میں کنجوسی ، اور موت کے وقت فضول خرچی، دوکڑی خصلتیں ہیں۔ (سعید بن منصور)
8814- عن ابن مسعود قال: الإقتار في الحياة، والتبذير عند الموت تلك المريات1 من الأمر.
"ص".
"ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تہمتوں کے لیے پیش ہونا
٨٨١٥۔۔۔ (حضرت عمر (رض)) عکرمہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : جس نے اپنا راز چھپایا، تو اختیار اس کے ہاتھ میں ہے، اور جس نے اپنے آپ کو تہتوں کے لیے پیش کیا تو اپنے بارے بدگمانی رکھنے کو ملامت نہ کرے۔ (ابن ابی فی الصمت، سعید بن منصور)
مے خانہ سے کوئی نکلے نماز پڑھ کر ہر دیکھنے والا اسے مے خوار جانے گا
مے خانہ سے کوئی نکلے نماز پڑھ کر ہر دیکھنے والا اسے مے خوار جانے گا
8815- "عمر رضي الله عنه" عن عكرمة، قال: قال عمر بن الخطاب: من كتم سره كانت الخيرة في يديه، ومن عرض نفسه للتهمة فلا يلومن من أساء به الظن. ابن أبي الدنيا في الصمت "ص".
التعمق
التعمق
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبردستی وہٹ دھرمی
٨٨١٦۔۔۔ (مسند عمر (رض)) اب سرین سے روایت ہے، کہ حضرت عمر نے چاہا کہ ان منقش کپڑوں سے روکیں جو پیشاب سے رنگے جاتے تھے، پھر فرمایا : ہمیں سختی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ (عبدالرزاق)
8816- "مسند عمر رضي الله عنه" عن ابن سيرين قال: هم عمر أن ينهى عن ثياب حبرة تصبغ بالبول، ثم قال: نهينا عن التعمق. "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبردستی وہٹ دھرمی
٨٨١٧۔۔۔ جابربن عبداللہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم حضرت عمر (رض) کے ساتھ مدینہ منورہ کی کسی منزل کی طرف نکلے تو ہم میں سے ایک آدمی پر پرندہ کے پر سے پانی کا قطرہ پڑا، تو اس شخص نے کہا : اے پر والے ! کیا تیرا پانی صاف (پاک) ہے ؟ حضرت عمر اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اے پر والے اسے نہ بتانا کیونکہ یہ اس پر واجب نہیں۔ (نعیم بن حماد فی نسخۃ)
8817- عن جابر بن عبد الله قال: خرجنا مع عمر بن الخطاب إلى بعض رباع المدينة فقطر على رجل منا ماء من جناح، فقال الرجل: يا صاحب الجناح أنظيف ماؤك؟ فالتفت إليه عمر فقال: يا صاحب الجناح لا تخبره فإن هذا ليس عليه. نعيم بن حماد في نسخته.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبردستی وہٹ دھرمی
٨٨١٨۔۔۔ ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے کہا : میں غسل کے بعد وضو کرتا ہوں آپ نے فرمایا : تو نے غلو کیا۔ (سعید بن منصور)
8818- عن ابن عمر أن رجلا قال: إني لأتوضأ بعد الغسل، قال لقد تعمقت. "ص".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مسلمان کو حقارت سے دیکھنا
٨٨١٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی کے برا ہونے سے کے لیے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقارت کی نظر سے دیکھے۔ (مسند احمد فی الزھد)
8819- عن عمر قال: بحسب امرئ من الشر، أن يحقر أخاه المسلم. "حم" في الزهد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکلف و بناوٹ
٨٨٢٠۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں ہم حضرت عمر (رض) کے پاس تھے آپ نے فرمایا : ہمیں تکلف (غیر واجب ، غیر ضروری چیزوں) سے روک دیا گیا ہے۔
8820- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: كنا عند عمر، فقال: نهينا عن التكلف
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو مریل بننا اور عورتوں کی طرح ہونا رہا ہے
٨٨٢١۔۔۔ سلمان بن ابی حثمہ سے روایت ہے کہ حضرت شفابنت عبداللہ (رض) سے فرمایا : اس وقت انھوں نے کچھ نوجوان دیکھے جو درمیانہ چال چل رہے تھے اور ٹھہر ٹھہر کر بول رہے تھے، فرمایا : یہ کون لوگ ہیں ؟ لوگوں نے کہا : عبادت گزار ہیں ، فرمایا : اللہ کی قسم ! حضرت عمر جب بولتے تو ان کی آواز سنائی دیتی ، چلتے تیزی سے تھے اور جب کسی کے کوڑا مارتے تو دردناک ہوتا ، وہ بیشک عبادت گزار تھے۔ (ابن سعد)
8821- عن سليمان بن أبي حثمة قال: قالت الشفاء بنت عبد الله ورأت فتيانا يقصدون في المشي ويتكلمون رويدا فقالت: ما هذا؟ فقالوا: نساك قالت: كان والله عمر إذا تكلم أسمع، وإذا مشى أسرع، وإذا ضرب أوجع وهو الناسك حقا. ابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو مریل بننا اور عورتوں کی طرح ہونا رہا ہے
٨٨٢٢۔۔۔ حارث بن عمر نہدی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) کے پاس سے ایک شخص انتہائی ذلت اور عاجزی کے ساتھ گزار، آپ نے فرمایا : کیا تو مسلمان نہیں ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں ، آپ نے فرمایا : اپنا سراٹھا، گردن لمبی کر، اس واسطے کہ اسلام غالب اور مضبوط (دین) ہے۔ (رستہ فی الایمان والعسکری فی المواعظ)
8822- عن الحارث بن عمر النهدي قال: مر رجل على عمر بن الخطاب وقد تخشع وتذلل، فقال: ألست مسلما؟ قال: بلى: قال: فارفع رأسك، وامدد عنقك، فإن الإسلام عزيز منيع. رسته في الإيمان والعسكري في المواعظ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جان بوجھ کو مریل بننا اور عورتوں کی طرح ہونا رہا ہے
٨٨٢٣۔۔۔ سالم ، نافع اور عبداللہ بن عتبہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا : کہ حضرت عمر بن خطاب اور عبداللہ بن عمر میں اس وقت تک بھلائی معلوم نہ ہوتی تھی جب تک یہ بات یا کوئی کام نہ کرتے، زھری سے کسی نے کہا : آپ نے کیا مراد ہے ؟ فرمایا : وہ عورتوں کی طرح مریل نہ تھے۔ بلکہ چست چالاک چاق وچوبند اور ہوشیار رہتے تھے۔ (ابن سعد ورستہ الحلیۃ)
8823- عن سالم ونافع وعبد الله بن عتبة قالوا: كان عمر بن الخطاب وعبد الله بن عمر لا يعرف فيهما البر حتى يقولا أو يفعلا، قيل للزهري: ما تعني بذلك؟ قال: لم يكونا مؤنثين ولا متماوتين. ابن سعد ورسته "حل".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جاسوسی اور ٹوہ
٨٨٢٤۔۔۔ مسور بن مخرمہ عبدالرحمن بن عوف (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : وہ ایک رات حضرت عمر (رض) کے ساتھ مدینہ کی حفاظت کررہے تھے۔ اسی اثنا میں کہ یہ لوگ چل رہے تھے کہ ایک گھر میں چراغ روشن تھا یہ حضرات اس کی سیدھ پر چل پڑے جب ان کے قریب ہوئے تو ایک ایسی قوم پر دروازہ کھلا تھا،جن کی آوازیں بلند تھیں اور وہ بےہودہ باتیں کررہے تھے، حضرت عمر نے عبدالرحمن بن عوف کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا : جانتے ہو یہ کس کا گھر ہے ؟ انھوں نے کہا : ربیعہ بن امیہ بن خلف کا اور وہ لوگ اس وقت کچھ پی رہے ہیں، فرمایا آپ کی کیا رائے ہے۔
آپ نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں : ہم نے اللہ تعالیٰ کی ممنوع کردہ بات کا ارتکاب کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تجسس نہ کیا کرو، اور ہم تجسس کرچکے ، اس کے بعد حضرت عمر وہاں سے پلٹے اور انھیں چھوڑدیا۔ (عبدالرزاق، وعبدبن حمید والخرائطی فی مکارم الاخلاق)
آپ نے فرمایا : میں سمجھتا ہوں : ہم نے اللہ تعالیٰ کی ممنوع کردہ بات کا ارتکاب کیا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : تجسس نہ کیا کرو، اور ہم تجسس کرچکے ، اس کے بعد حضرت عمر وہاں سے پلٹے اور انھیں چھوڑدیا۔ (عبدالرزاق، وعبدبن حمید والخرائطی فی مکارم الاخلاق)
8824- عن المسور بن مخرمة عن عبد الرحمن بن عوف أنه حرس مع عمر بن الخطاب ليلة المدينة، فبينما هم يمشون شب لهم سراج في بيت، فانطلقوا يؤمونه، فلما دنوا منه إذا باب مجاف على قوم، لهم فيه أصوات مرتفعة ولغط، فقال عمر وأخذ بيد عبد الرحمن بن عوف: أتدري بيت من هذا؟ قال: هذا بيت ربيعة بن أمية بن خلف، وهم الآن شرب1 فما ترى؟ قال: أرى أن قد أتينا ما نهى الله عنه، قال الله: {وَلا تَجَسَّسُوا} فقد تجسسنا فانصرف عنهم عمر وتركهم. "عب" وعبد بن حميد والخرائطي في مكارم الأخلاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جاسوسی اور ٹوہ
٨٨٢٥۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے اپنا ایک ساتھی گم پایا ، تو حضرت
عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا : ہمیں فلاں کے گھر لے چلوتا کہ ہم دیکھیں ، چنانچہ دونوں اس کے گھر آئے ، ان کا دروازہ کھلا پایا، وہ صاحب بیٹھے تھے اور ان کی بیوی برتن میں کچھ ڈال کر انھیں تھمارہی تھی۔
حضرت عمر نے ابن عوف سے فرمایا : اسی چیز نے اسے ہم سے غافل کررکھا ہے، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عمر سے کہا : آپ کو کیا معلوم کہ برتن میں کیا ہے ؟ تو حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ یہ تجسس ہوگا ؟ تو انھوں نے کہا : اے حضرت یہی تجسس ہے، تو آپ نے فرمایا : اس سے توبہ کیسے ہو ؟ کہا : آپ انھیں ، ان کے اس معاملہ کی خبر نہ کریں۔ اور آپ کے دل میں بھی بھلائی ہونی چاہیے پھر دونوں (وہاں ) واپس ہوگئے۔ (سعید بن منصور وابن المنذر)
عبدالرحمن بن عوف سے فرمایا : ہمیں فلاں کے گھر لے چلوتا کہ ہم دیکھیں ، چنانچہ دونوں اس کے گھر آئے ، ان کا دروازہ کھلا پایا، وہ صاحب بیٹھے تھے اور ان کی بیوی برتن میں کچھ ڈال کر انھیں تھمارہی تھی۔
حضرت عمر نے ابن عوف سے فرمایا : اسی چیز نے اسے ہم سے غافل کررکھا ہے، تو حضرت عبدالرحمن بن عوف نے حضرت عمر سے کہا : آپ کو کیا معلوم کہ برتن میں کیا ہے ؟ تو حضرت عمر نے فرمایا : کیا تم اس بات سے ڈرتے ہو کہ یہ تجسس ہوگا ؟ تو انھوں نے کہا : اے حضرت یہی تجسس ہے، تو آپ نے فرمایا : اس سے توبہ کیسے ہو ؟ کہا : آپ انھیں ، ان کے اس معاملہ کی خبر نہ کریں۔ اور آپ کے دل میں بھی بھلائی ہونی چاہیے پھر دونوں (وہاں ) واپس ہوگئے۔ (سعید بن منصور وابن المنذر)
8825- عن الشعبي أن عمر بن الخطاب فقد رجلا من أصحابه، فقال لابن عوف: انطلق بنا إلى منزل فلان فننظر، فأتيا منزله، فوجدا بابه مفتوحا، وهو جالس وامرأته تصب له في الإناء فتناوله إياه، فقال عمر لابن عوف: هذا الذي شغله عنا، فقال ابن عوف لعمر: وما يدريك ما في الإناء؟ فقال عمر: أتخاف أن يكون هذا التجسس؟ قال: بل هو التجسس، قال: وما التوبة من هذا؟ قال: لا تعلمه بما اطلعت عليه من أمره ولا يكونن في نفسك إلا خير، ثم انصرفا. "ص" وابن المنذر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جاسوسی اور ٹوہ
٨٨٢٦۔۔۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک شخص حضرت عمر (رض) کے پاس آکر کہنے لگا : فلاں تو نشے سے ہوش میں نہیں آتا، تو حضرت عمر (رض) اس کے پاس گئے، فرمایا : مجھے شراب کی بوآرہی ہے اے فلاں ! بتاؤ یہ کیا کیا ہے ؟ تو اس شخص نے کہا : اے ابن خطاب ! یہ کیا ہے ؟ کیا اللہ تعالیٰ نے آپ کو تجسس سے نہیں روکا ؟ تو حضرت عمر (رض) اس بات کو پہچان گئے اور اسے چھوڑ کر چلے گئے۔ (سعید بن منصور وابن المنذر)
8826- عن الحسن قال: أتى عمر رجل فقال: إن فلانا لا يصحو فدخل عليه عمر، فقال: إني لأجد ريح شراب يا فلان أية أية هذا؟ فقال الرجل: يا ابن الخطاب، وأية أية هذا؟ ألم ينهك الله أن تجسس؟ فعرفه عمر فانطلق وتركه. "ص" وابن المنذر.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جاسوسی اور ٹوہ
٨٨٢٧۔۔۔ ثور کندی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) رات کے وقت مدینہ میں چکرلگاتے تھے آپ نے شخص کی
آواز سنی جو گانا گا رہا تھا، آپ دیوار پھلانگ کر اس کے پاس گئے، آپ نے فرمایا : اے دشمن خدا ! کیا تمہارا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر پردہ کیا اور تو گناہ میں مبتلا ہے ؟
اس نے کہا : امیر المومنین آپ بھی میرے خلاف جلدی نہ کریں ، اگر میں نے ایک بار اللہ تعالیٰ کی معصیت کی تو آپ نے تین نافرمانیاں کی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اور تجسس نہ کرو “ آپ نے تجسس کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : گھروں میں دروازوں سے آؤ میرے پاس دیوار پھلانگ آئے، اور آئے بھی بغیر اجازت جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ یہاں تک کہ اجازت لے لو اور انھیں سلام کرلو، حضرت عمر نے فرمایا : کیا تیرے پاس کوئی بھلائی ہے اگر میں تجھے معاف کردوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں چنانچہ آپ نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ کر باہر نکل گئے۔
(الخرائطی فی مکارم الاخلاق)
آواز سنی جو گانا گا رہا تھا، آپ دیوار پھلانگ کر اس کے پاس گئے، آپ نے فرمایا : اے دشمن خدا ! کیا تمہارا گمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تجھ پر پردہ کیا اور تو گناہ میں مبتلا ہے ؟
اس نے کہا : امیر المومنین آپ بھی میرے خلاف جلدی نہ کریں ، اگر میں نے ایک بار اللہ تعالیٰ کی معصیت کی تو آپ نے تین نافرمانیاں کی ہیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا :” اور تجسس نہ کرو “ آپ نے تجسس کیا، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : گھروں میں دروازوں سے آؤ میرے پاس دیوار پھلانگ آئے، اور آئے بھی بغیر اجازت جبکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اپنے گھروں کے علاوہ دوسروں کے گھروں میں اس وقت تک داخل نہ یہاں تک کہ اجازت لے لو اور انھیں سلام کرلو، حضرت عمر نے فرمایا : کیا تیرے پاس کوئی بھلائی ہے اگر میں تجھے معاف کردوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں چنانچہ آپ نے اسے معاف کردیا اور اسے چھوڑ کر باہر نکل گئے۔
(الخرائطی فی مکارم الاخلاق)
8827- عن ثور الكندي أن عمر بن الخطاب كان يعس بالمدينة من الليل فسمع صوت رجل في بيت يتغنى، فتسور عليه، فقال: يا عدو الله أظننت أن الله يسترك وأنت في معصيته؟ فقال: وأنت يا أمير المؤمنين لا تعجل علي، إن أكن عصيت الله واحدة فقد عصيت الله في ثلاث، قال: {وَلا تَجَسَّسُوا} وقد تجسست، وقال: {وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا} وقد تسورت علي، وقد دخلت علي بغير إذن وقال الله تعالى: {لا تَدْخُلُوا بُيُوتاً غَيْرَ بُيُوتِكُمْ حَتَّى تَسْتَأْنِسُوا وَتُسَلِّمُوا عَلَى أَهْلِهَا} 1. قال عمر: فهل عندك من خير إن عفوت عنك؟ قال: نعم، فعفا عنه، وخرج وتركه. الخرائطي في مكارم الأخلاق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غلو و انتہا پسندی
٨٨٢٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ وہ بیت الخلاء سے باہر آئے تو کھانا منگوایا، کسی نے کہا : آپ وضو نہیں کرتے ؟ آپ نے فرمایا : اگر غلونہ ہوتا تو میں ہاتھ دھونے کی بھی پروا نہیں کرتا۔ (ابوعبیدفی الغریب)
8828- عن عمر أنه خرج من الخلاء فدعا بطعام، فقيل له: ألا تتوضأ؟ فقال: لولا التنطع ما باليت أن لا أغسل يدي. أبو عبيد في العريب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غلو و انتہا پسندی
٨٨٢٩۔۔۔ ابن سیرن (رح) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) بیت الخلاء سے نکلے پھر آپ نے ہاتھ دھوئے اور کھانا کھانے لگے : فرمایا : اگر غلو نہ ہوتا تو میں ہاتھ دھونے کی پروانہ کرتا، ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (سعید بن منصور)
8829- عن ابن سيرين أن عمر خرج من الخلاء، فغسل يديه، ثم طعم، قال: لولا التنطع ما باليت أن لا أغسل يدي - هاجرنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم. "ص".
তাহকীক: