কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৮৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح پسندی ، تعریف پسندی
٨٨٣٠۔۔۔ (عمر (رض)) حسن بصری سے روایت ہے حضرت عمر (رض) بیٹھے تھے آپ کے ہاتھ میں کوڑا تھا اور
لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے تھے ، اچانک جارود آئے، تو کسی شخص نے کہا، قبیلہ ربیعہ کے یہ سردار ہیں، حضرت عمر اور حاضرین مجلس نے یہ بات سن لی ، خود جارود نے بھی سن لی، وہ جب آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے انھیں آہستہ سے کوڑا مارا، انھوں نے کہا : مجھے اور آپ کو کیا ہوا ہے امیرالمومنین ! ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اور تمہیں کیا ہوا ہے کیا تم نے یہ بات نہیں سنی، انھوں نے کہا : سنی ہے تو کیا ہے ؟ فرمایا : مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں اس بات کی وجہ سے کوئی (عجب اور خودپسندی والی) چیز پیدا ہوئی ہو تو میں نے چاہا کہ تمہارا کچھ مرتبہ کم کردوں۔ (ابن ابی الدنیافی الصمت)
لوگ آپ کے اردگرد بیٹھے تھے ، اچانک جارود آئے، تو کسی شخص نے کہا، قبیلہ ربیعہ کے یہ سردار ہیں، حضرت عمر اور حاضرین مجلس نے یہ بات سن لی ، خود جارود نے بھی سن لی، وہ جب آپ کے قریب ہوئے تو آپ نے انھیں آہستہ سے کوڑا مارا، انھوں نے کہا : مجھے اور آپ کو کیا ہوا ہے امیرالمومنین ! ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اور تمہیں کیا ہوا ہے کیا تم نے یہ بات نہیں سنی، انھوں نے کہا : سنی ہے تو کیا ہے ؟ فرمایا : مجھے اندیشہ ہوا کہ تمہارے دل میں اس بات کی وجہ سے کوئی (عجب اور خودپسندی والی) چیز پیدا ہوئی ہو تو میں نے چاہا کہ تمہارا کچھ مرتبہ کم کردوں۔ (ابن ابی الدنیافی الصمت)
8830- "عمر رضي الله عنه" عن الحسن قال: كان عمر قاعدا ومعه الدرة والناس حوله، إذ أقبل الجارود، فقال رجل: هذا سيد ربيعة، فسمعه عمر ومن حوله وسمعه الجارود، فلما دنا منه خفقه بالدرة، فقال: مالي ولك يا أمير المؤمنين؛ فقال: مالي ولك؛ أما لقد سمعتها؛ قال: سمعتها فمه؟ قال: خشيت أن يخالط قلبك منها شيء، فأحببت أن أطأطئ منك. ابن أبي الدنيا في الصمت.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح پسندی ، تعریف پسندی
٨٨٣١۔۔۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر (رض) کی تعریف کی، تو آپ نے فرمایا : تو مجھے اور اپنے آپ کو ہلاک کرنا چاہتا ہے۔ (ابن ابی الدنیا فیہ)
8831- عن الحسن أن رجلا أثنى على عمر، فقال: تهلكني وتهلك نفسك. ابن أبي الدنيا فيه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح پسندی ، تعریف پسندی
٨٨٣٢۔۔۔ (اقرع بن جابس) ابوسلمہ بن عبدالرحمن اقرع بن جابس (رض) سے روایت کرتے ہیں، کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو پکار کر کہا : اے محمد ! میری تعریف زینت اور میری مذمت بری ہے، آپ نے فرمایا : یہ اللہ تعالیٰ (کی شان ) ہے۔ (مسند احمد، ابن جریر، ابن ابی عاصم، والبغوی وابن مندہ اولرویانی، طبرانی فی الکبیر و ابونعیم ، ابن عساکر)
8832- "الأقرع بن حابس" عن أبي سلمة بن عبد الرحمن عن الأقرع بن حابس أنه نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا محمد إن حمدي زين، وإن ذمي شين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ذلكم الله عز وجل. "حم" وابن جرير وابن أبي عاصم والبغوي وابن منده والروياني "طب" وأبو نعيم "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح پسندی ، تعریف پسندی
٨٨٣٣۔۔۔ اقرع بن جابس (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حجروں کے باہر سے پکارا اے محمد ! آپ نے انھیں کوئی جواب نہ دیا ، تو انھوں نے کہا : اے محمد ! میری تعریف اچھی اور میری مذمت بری ہے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سبحان اللہ یہ اللہ تعالیٰ (کی شان) ہے۔ (البغوی، ابن عساکر فی عبدالرزاق، ابوداؤد طیالسی وابن النجار)
8833- عن الأقرع أنه نادى رسول الله صلى الله عليه وسلم من وراء الحجرات فقال: يا محمد فلم يجبه فقال: يا محمد فوالله إن حمدي لزين، وإن ذمي لشين، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: سبحان الله ذلكم الله. البغوي "كر" في ... "عب ط" وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ حسد
٨٨٣٤۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : جس شخص پر بھی اللہ تعالیٰ کی کوئی نعمت ہوگی تو لوگ اس سے حسد کریں گے، اگر کوئی شخص تیر کی طرح سیدھا ہو پھر بھی اپنے بارے ایک نکتہ چین پائے گا، جو ایسی بات سے ذایت اٹھائے گا جس کا کوئی جواب نہیں۔ (ابونعیم الزسی فی انس العامل وتذکرۃ الغافل)
8834- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: ما من امرئ عليه من نعم الله إلا وله عليها من الناس حاسد، ولو أن المرء أقوم من القدح لوجد له غامزا، وما ضر بكلمة ليس لها جواب. أبو نعيم النرسي في أنس العاقل وتذكرة الغافل.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کینہ۔۔۔ بلاوجہ دلی دشمنی
٨٨٣٥۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : زمین والوں کا رجسٹر آسمان والوں کے رجسٹر میں ، ہر پیر اور جمعرات کے روز لکھا جاتا ہے، پھر ہر ایسے بندہ کی بخشش کردی جاتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ، صرف اس کی بخشش نہیں ہوتی جس کے اور اس کے بھائی کے درمیان کینہ ہو۔ (ابن زنجویہ)
8835- عن أبي هريرة قال: ينسخ ديوان أهل الأرض في ديوان أهل السماء كل يوم اثنين وخميس، ثم يغفر لكل عبد لا يشرك بالله شيئا إلا عبدا بينه وبين أخيه إحنة. ابن زنجويه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریا و دکھاوا
٨٨٣٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے مخصوص فرشتے ہیں جو انسانوں کے اعمال لکھتے ہیں ، وہ اپنے رب تعالیٰ کے پاس آکر اس کے سامنے (دست بستہ) کھڑے ہوجاتے ہیں ، اور لوگوں کے نامہ اعمال کھول دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : اس اعمالنامہ کو پھینک دو اور اسے محفوظ رکھو، تو وہ فرشتے عرض کرتے ہیں، جنہیں حکم ملتا ہے کہ اعمالنامہ کو پھینک دو : ہم نے اسے دیکھا تھا، تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : انھوں نے میری رضا کے لیے یہ کام نہیں کیا تھا۔ (رستہ)
تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو بھی کسی قلبی حالت کا علم نہیں ہوتاچہ جائیکہ کسی بزرگ اور دی کو اس کا علم ہوجائے، علام الغیوب اور علیم بذات الصدور فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ فرشتوں کو بھی کسی قلبی حالت کا علم نہیں ہوتاچہ جائیکہ کسی بزرگ اور دی کو اس کا علم ہوجائے، علام الغیوب اور علیم بذات الصدور فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
8836- عن عمر قال: إن لله ملائكة يكتبون أعمال بني آدم، فيأتون ربهم عز وجل، فيقومون بين يديه، وينشرون صحفهم، فيقول الله عز وجل: ألق تلك الصحيفة، أثبت تلك الصحيفة، فتقول الملائكة، الذين أمروا أن يلقوا الصحيفة: شهدنا معهم خيرا، ورأيناه، قال إنهم أرادوا به غير وجهي. رسته.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریا و دکھاوا
٨٨٣٧۔۔۔ قیس بن ابی حازم سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) سے فرمایا : جو (دنیا میں) اپنی تعریف سننا چاہتا ہے (قیامت کے روز) اللہ تعالیٰ اسے رسواکریں گے۔ (ھناد)
8837- عن قيس بن أبي حازم قال: قال عمر: إنه من يسمع يسمع الله عز وجل به. هناد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریا و دکھاوا
٨٨٣٨۔۔۔ اعمش ، خثیمہ سے وہ حضرت عدی بن حاتم (رض) سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے روز کچھ لوگوں کو لایا جائے گا، پھر ان کے بارے ہوگا کہ انھیں جنت میں لے جائیں ، یہاں تک کہ جب اس میں داخل ہوجائیں گے، اور جنت کی نعمتوں اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے تیار کیا ہے اسے دیکھیں گے، تو آواز آئے گی، ان لوگوں کو جنت سے نکال دو ، اس میں ان کا کوئی حق نہیں۔
وہ عرض کریں گے : ہمارے رب اگر آپ ہمیں جنت کا دیدار اور جو کچھ آپ نے اس میں تیار کیا ہے اس کے دکھانے کرانے سے پہلے جہنم میں داخل کردیتے تو ہمارے لیے زیادہ آسان تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں تم سے یہی (کہلوانا) چاہتا تھا، تم جب تنہائی میں میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کرکے میرا مقابلہ کرتے، اور جب لوگوں سے ملتے تو انتہائی عاجزی سے ملتے ، جو چیز تمہیں (خشوع خضوع) عطا نہیں کی گئی اس کا اظہار کرتے ، تم لوگوں سے ڈرے مگر مجھ سے نہ ڈرے، تم نے لوگوں کی عزت کی میری تعظیم نہیں بجالائے ، تم نے لوگوں کا (حق) پہچانا (لیکن) میرا (حق) نہ پہچانا، آج میں تمہیں ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ سب سے دردناک عذاب (کا مزہ) چکھاؤں گا، اسی طرح کی روایت اعمش شقیق سے وہ حضرت عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں، ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے خبردار جب تم میرے ساتھ تنہائی میں ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اسی کی تعظیم کرو اور اسی کا خوف رکھو، تم میں سے کوئی اس سے زیادہ کسی اور بھروسہ نہ کرے۔ (العسکری)
تشریح :۔۔۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی، فرشتوں نے سمجھا انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور حقیقت کچھ اور تھی۔
وہ عرض کریں گے : ہمارے رب اگر آپ ہمیں جنت کا دیدار اور جو کچھ آپ نے اس میں تیار کیا ہے اس کے دکھانے کرانے سے پہلے جہنم میں داخل کردیتے تو ہمارے لیے زیادہ آسان تھا ؟ تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : میں تم سے یہی (کہلوانا) چاہتا تھا، تم جب تنہائی میں میں ہوتے تو بڑے بڑے گناہ کرکے میرا مقابلہ کرتے، اور جب لوگوں سے ملتے تو انتہائی عاجزی سے ملتے ، جو چیز تمہیں (خشوع خضوع) عطا نہیں کی گئی اس کا اظہار کرتے ، تم لوگوں سے ڈرے مگر مجھ سے نہ ڈرے، تم نے لوگوں کی عزت کی میری تعظیم نہیں بجالائے ، تم نے لوگوں کا (حق) پہچانا (لیکن) میرا (حق) نہ پہچانا، آج میں تمہیں ثواب سے محرومی کے ساتھ ساتھ سب سے دردناک عذاب (کا مزہ) چکھاؤں گا، اسی طرح کی روایت اعمش شقیق سے وہ حضرت عمر (رض) سے نقل کرتے ہیں، ان الفاظ کا اضافہ کیا ہے خبردار جب تم میرے ساتھ تنہائی میں ہو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اسی کی تعظیم کرو اور اسی کا خوف رکھو، تم میں سے کوئی اس سے زیادہ کسی اور بھروسہ نہ کرے۔ (العسکری)
تشریح :۔۔۔ جیسی کرنی ویسی بھرنی، فرشتوں نے سمجھا انھوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے کیا، اور حقیقت کچھ اور تھی۔
8838- عن الأعمش عن خيثمة عن عدي بن حاتم قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يؤتى بناس يوم القيامة، فيؤمر بهم إلى الجنة، حتى إذا دخلوها ونظروا إلى نعيمها وما أعد الله فيها نودي أن أخرجوهم منها،فلا حق لهم فيها، فيقولون: ربنا لو أدخلتنا النار قبل أن ترينا الجنة وما أعددت فيها كان أهون علينا؟ فيقول الله عز وجل: ذاك أردت بكم، إنكم كنتم إذا خلوتم بارزتموني بالعظائم، وإذا لقيتم الناس لقيتموهم مخبتين تراؤون بخلاف ما تعطون، هبتم الناس ولم تهابوني، أجللتم الناس ولم تجلوني، عرفتم للناس ولم تعرفوا لي، اليوم أذيقكم من أليم العذاب مع ما حرمتم من الثواب. قال الأعمش عن شقيق عن عمر بن الخطاب مثله وزاد فيه: ألا فاتقوا الله إذا خلوتم بي أن تعظموه وأن تهابوه، لا يكن أحد أوثق عندكم منه. العسكري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریاکاری شرک ہے
٨٨٣٩۔۔۔ عبدالرحمن بن غنم سے روایت ہے فرمایا : میں اور حضرت ابوالدرداء (رض) جابیہ کی مسجد میں داخل ہوئے ، ہماری ملاقات حضرت عبادۃ بن صامت سے ہوئی ، تو حضرت عبادہ نے فرمایا : اگر تم میں سے کسی ایک کی یا دونوں کی عمر لمبی ہوئی تو عنقریب تم مسلمانوں کے درمیان سے ایک شخص دیکھو گے، جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان میں قرآن پڑھا ہوگا، (جیسے آپ حروف لوٹاتے اور ابتدا کرتے اسی طرح) وہ قرآن کا آغازکرے گا اور (ختم کرنے کے بعد) پھر دربار پڑھے، قرآن کے حلال اور حرام جانے گا، جہاں قرآن اترا وہاں وہ اتر کر ان جگہوں کو دیکھے گا۔
یا وہ تمہاری کسی کی زبان میں پڑھے گا، وہ تم میں سے معظم ہوگا جیسے مردار گدھے کا سر، ہم لوگ ایس گفتگو میں تھے کہ اچانک شداد بن اوس (رض) اور عوف بن مالک (رض) آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے، تو حضرت شداد نے فرمایا : لوگوں مجھے اس چیز کا زیادہ خوف ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے آپ فرما رہے تھے : خفیہ شہوت اور خفیہ شرک سے (اللہ کی پناہ) تو حضرت عبادہ اور حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا : اللہ معاف فرمائے، کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے یہ بیان نہیں فرمایا : کہ شیطان اس بات سے ناامید ہوچکا ہے کہ جزیرہ العرب میں اس کی عبادت کی جائے ؟
اور جہاں تک خفیہ شہوت کا تعلق ہے تو اسے ہم پہچان گئے یہ دنیا عورت کی شہوتیں ہیں توشداد بتاؤ وہ خفیہ شرک کیا ہے جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہو ؟ انھوں نے فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے اگر کوئی شخص کسی بےلیے نماز پڑھے یا رواہ رکھے یا صدقہ کرے تو کیا اس نے شرک کیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، تو حضرت شداد نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ نے فرمایا : جس نے دکھلاوے کی نماز پڑھی دکھلاوے کا روزہ رکھا اور دکھلاوے کا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔
تو حضرت عوف نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے کہ جو اس سارے عمل میں سے ان کی رضا اور خاص انہی کے لیے ہو وہ قبول کرلیں اور جس میں شرک ہوا سے چھوڑدیں ؟ تو شداد نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہے : میں بہترین شریک ہوں، جسس نے میرے ساتھ کسی چیز میں دوسرے کو شریک کیا، تو اس کی بھلائی اور عمل تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے اس شریک کے لیے ہے ھو اس نے میرے ساتھ شریک کیا اور میں اس سے بے پرواہوں ۔ (ابن عساکر)
یا وہ تمہاری کسی کی زبان میں پڑھے گا، وہ تم میں سے معظم ہوگا جیسے مردار گدھے کا سر، ہم لوگ ایس گفتگو میں تھے کہ اچانک شداد بن اوس (رض) اور عوف بن مالک (رض) آکر ہمارے پاس بیٹھ گئے، تو حضرت شداد نے فرمایا : لوگوں مجھے اس چیز کا زیادہ خوف ہے جو میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے آپ فرما رہے تھے : خفیہ شہوت اور خفیہ شرک سے (اللہ کی پناہ) تو حضرت عبادہ اور حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا : اللہ معاف فرمائے، کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہم سے یہ بیان نہیں فرمایا : کہ شیطان اس بات سے ناامید ہوچکا ہے کہ جزیرہ العرب میں اس کی عبادت کی جائے ؟
اور جہاں تک خفیہ شہوت کا تعلق ہے تو اسے ہم پہچان گئے یہ دنیا عورت کی شہوتیں ہیں توشداد بتاؤ وہ خفیہ شرک کیا ہے جس سے آپ ہمیں ڈرا رہے ہو ؟ انھوں نے فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے اگر کوئی شخص کسی بےلیے نماز پڑھے یا رواہ رکھے یا صدقہ کرے تو کیا اس نے شرک کیا ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، تو حضرت شداد نے فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے آپ نے فرمایا : جس نے دکھلاوے کی نماز پڑھی دکھلاوے کا روزہ رکھا اور دکھلاوے کا صدقہ کیا تو اس نے شرک کیا۔
تو حضرت عوف نے فرمایا : کیا اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کریں گے کہ جو اس سارے عمل میں سے ان کی رضا اور خاص انہی کے لیے ہو وہ قبول کرلیں اور جس میں شرک ہوا سے چھوڑدیں ؟ تو شداد نے کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد فرماتے ہے : میں بہترین شریک ہوں، جسس نے میرے ساتھ کسی چیز میں دوسرے کو شریک کیا، تو اس کی بھلائی اور عمل تھوڑا ہو یا زیادہ اس کے اس شریک کے لیے ہے ھو اس نے میرے ساتھ شریک کیا اور میں اس سے بے پرواہوں ۔ (ابن عساکر)
8839- عن عبد الرحمن بن غنم قال: دخلنا مسجد الجابية أنا وأبو الدرداء فلقينا عبادة بن الصامت، فقال عبادة: إن طال بكما عمر أحدكما أو كلاكما فيوشك أن تريا الرجل من ثبج المسلمين، قد قرأ القرآن على لسان محمد صلى الله عليه وسلم أعاده وأبداه، وأحل حلاله، وحرم حرامه، ونزل عند منازله، أو قرأ به على لسان أحدكم لا يجوز فيكم إلا كما يجوز رأس الحمار الميت، فبينما نحن على ذلك إذا طلع علينا شداد بن أوس وعوف بن مالك، فجلسا إلينا، فقال شداد: إن أخوف ما أخاف عليكم أيها الناس ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من الشهوة الخفية والشرك فقال عبادة وأبو الدرداء: اللهم غفرا أو لم يكن رسول الله صلى الله عليه وسلم قد حدثنا أن الشيطان قد يئس أن يعبد في جزيرة العرب؟ فأما الشهوة الخفية فقد عرفناها فهي شهوات الدنيا من نسائها وشهواتها، فما هذا الشرك الذي تخوفناه يا شداد؟ قال: أرأيتكم لو رأيتم أحدا يصلي لرجل أو يصوم له أو يتصدق له أترون أنه قد أشرك؟ قالوا: نعم، قال شداد فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من صلى يرائي فقد أشرك، ومن صام يرائي فقد أشرك، ومن تصدق يرائي فقد أشرك، فقال عوف: أولا يعمد الله إلى ما ابتغي فيه وجهه من ذلك العمل كله فيتقبل منه ما خلص له ويدع ما أشرك به فيه؟ فقال شداد: فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: إن الله تعالى يقول: أنا خير قسيم، فمن أشرك بي شيئا فإن خيره وعمله وقليله وكثيره لشريكه الذي أشرك بي، أنا عنه غني. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریاکاری شرک ہے
٨٨٤٠۔۔۔ عبادبن تمیم اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : اے عرب کے لوگو ! (یہ بات تین بار فرمائی) مجھے تمہارے بارے سب سے زیادہ ریا اور خفیہ شہوت کا خوف ہے۔ (ابن جریر مربرقم، ٧٥٣٨)
8840- عن عباد بن تميم عن عمه، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يا نعايا العرب1 - ثلاثا - إن أخوف ما أخاف عليكم الرياء والشهوة الخفية. ابن جرير. مر برقم 7538] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریاکاری شرک ہے
٨٨٤١۔۔۔ محمود بن لبید سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پوشیدہ شرک سے بچنا، لوگوں نے پوچھا : یارسول اللہ ! خفیہ شرک کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو دیکھنے والے لوگوں کے لیے اپنی نماز سنوارتا ہے یہ پوشیدہ شرک ہے۔ (الدیلمی)
8841- عن محمود لبيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم وشرك السرائر؟ قالوا: يا رسول الله ما شرك السرائر؟ قال: الرجل يقوم فيزين صلاته لمن ينظر من الناس إليه، فذلك شرك السرائر. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریاکاری شرک ہے
٨٨٤٢۔۔۔ محمد بن زیاد سے روایت ہے فرمایا : میں نے ابوامامیہ (رض) کو دیکھا کہ وہ مسجد میں ایک آدمی کے پاس آئے، جبکہ وہ سجدہ کی حالت میں رو رہا تھا اور اپنے رب سے دعا کررہا تھا حضرت ابوامامہ نے فرمایا : بس کرو ، اگر تم اپنے گھریہ کرلیتے تو اچھا تھا۔ (ابن عساکر)
8842- عن محمد بن زياد قال: رأيت أبا أمامة أتى على رجل في المسجد وهو ساجد يبكي في سجوده، ويدعو ربه، فقال أبو أمامة: أنت أنت لو كان هذا في بيتك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ریاکاری شرک ہے
٨٨٤٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک دن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وعظ فرمایا : تو ایک شخص بےہوش ہوگیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ کون ہے جو ہم کو دین کے بارے میں دھوکا دے رہا ہے ؟ اگر وہ سچا ہے تو اس نے اپنے نفس کو شہرت دی اور اگر جھوٹا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا۔ (ابوبکر بن کامل معجمہ وابن النجار)
8843- عن أنس قال: وعظ النبي صلى الله عليه وسلم يوما، فإذا رجل قد صعق، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من ذا الملبس علينا ديننا؟ إن كان صادقا فقد شهر نفسه، وإن كان كاذبا محقه الله.
أبو بكر بن كامل في معجمه وابن النجار.
أبو بكر بن كامل في معجمه وابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ہنسی مذاق
٨٨٤٤۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : اگر میں کتے سے (اسے حقیر) جان کر مذاق کروں تو مجھے خوف ہے کہ میں بھی کتا ہوجاؤں، اور مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ میں کسی شخص کو فارغ دیکھوں کہ وہ دنیا اور آخرت کا کوئی کام نہ کررہا ہو۔ (ابن عساکر)
8844- عن ابن مسعود قال: لو سخرت من كلب لخشيت أن أكون كلبا، وإني لأكره أن أرى الرجل فارغا ليس في عمل دنيا ولا آخرة. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کوشش اور نقصان پہنچانا
٨٨٤٥۔۔۔ (عمر (رض)) عبدالرحمن بن حارث بن ہشام سے روایت ہے میں نے ایک نجران کے پادری سے جو حضرت عمر بن خطاب سے گفتگوکر رہا تھا سنا، اس نے کہا : امیر المومنین تین آدمیوں کے قاتل سے محتاط رہیے، آپ نے فرمایا : تیرا ناس ہو تین کا قاتل کون ہے ؟ اس نے کہا : وہ شخص جو خلیفہ کے پاس جھوٹی بات لائے، تو امام اور خلیفہ اس کی بات کی وجہ سے کسی کو قتل کردے، یوں یہ اپنا ، خلیفہ اور اپنے دوست کا قاتل ہوا۔ (بیھقی فی السنن)
8845- "عمر رضي الله عنه" عبد الرحمن بن الحارث بن هشام قال: سمعت أسقفا من أهل نجران يكلم عمر بن الخطاب يقول: يا أمير المؤمنين احذر قاتل الثلاثة، قال عمر: ويلك ما قاتل الثلاثة؟ قال: الرجل يأتي الإمام بالكذب فيقتل الإمام ذلك الرجل بحديث هذا الكذاب فيكون قد قتل نفسه وصاحبه وإمامه.
"هق".
"هق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کوشش اور نقصان پہنچانا
٨٨٤٦۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردارتین کے قاتل سے بچنا کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں بدترین شخص ہے، کسی نے پوچھا : یارسول اللہ ! تین کا قاتل کون ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو شخص اپنے بھائی کو بادشاہ کے حوالہ کردے اور بادشاہ اسے قتل کردے ، یوں اس نے اپنے آپ کو ، اپنے بھائی کو اور اپنے بادشاہ کو قتل کیا۔ (الدیلمی)
8846- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إياكم وقاتل الثلاثة، فإنه من شرار خلق الله، قيل يا رسول الله، وما قاتل الثلاثة؟ قال: رجل سلم أخاه إلى سلطانه فقتل نفسه، وقتل أخاه، وقتل سلطانه. الديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پوشیدہ شرک
٨٨٤٧۔۔۔ (الصدیق (رض)) حضرت معقل بن یسا (رض) سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر الصدیق نے فرمایا : اور اس بات پر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی گواہی دی کہ آپ نے شرک کا ذکر کرکے فرمایا : وہ تم میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ پوشیدہ ہے، تو حضرت ابوبکر (رض) نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کیا شرک یہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ دوسرا معبود بنایا جائے ، تو آپ نے فرمایا : ابوبکر تمہاری ماں تمہیں روئے، شرک تم لوگوں میں چیونٹی کی چال سے بھی زیادہ مخفی ہے اور میں تمہیں ایک رات بتاؤں گا جب اسے کرلوگے تو تم سے چھوٹے بڑے سب شرک دور ہوجائیں گے، یا فرمایا :” چھوٹا بڑا شرک “ تم کہا کرو : اے اللہ ! میں جان بوجھ کر آپ کا شریک بنانے سے آپ کی پناہ چاہتا ہوں اور جن باتوں کا مجھے علم نہیں ، ان کی آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ (ابن راھویہ، ابویعلی وسندہ ضعیف)
8847- "الصديق رضي الله عنه" عن معقل بن يسار قال: قال أبو بكر الصديق وشهد به على رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن رسول الله صلى الله عليه وسلم ذكر الشرك فقال: هو أخفى فيكم من دبيب النمل، فقال أبو بكر: يا رسول الله هل الشرك إلا أن يجعل مع الله إلها آخر، فقال: ثكلتك أمك يا أبا بكر، الشرك أخفى فيكم من دبيب النمل، وسأدلك على شيء إذا فعلته ذهب عنك صغار الشرك وكباره، أو صغير الشرك وكبيره قل: اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وأستغفرك لما لا أعلم.
ابن راهويه "ع" وسنده ضعيف.
ابن راهويه "ع" وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پوشیدہ شرک
٨٨٤٨۔۔۔ قیس بن ابی حازم حضرت صدیق اکبر (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شرک لوگوں میں، پہاڑ پر چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہے، تو حضرت ابوبکر نے عرض کیا : اس سے نکلنے اور نجات پانے کی کیا صورت ہے ؟ آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتاؤں جب تم اسے کرلو تھوڑے زیادہ ، چھوٹے بڑے (شرک) سے جھوٹ جاؤ ؟ انھوں نے عرض کیا : کیوں نہیں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تم کہا کرو : اے اللہ میں آپ کی اس بات سے پناہ چاہتا ہوں کہ جان بوجھ کر آپ کا شریک بناؤں، اور انجانی باتوں کے بارے آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ (الحسن بن سفیان والبغوی)
8848- عن قيس بن أبي حازم عن أبي بكر الصديق قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الشرك أخفى في أمتي من دبيب النمل على الصفا فقال أبو بكر: فكيف النجاة والمخرج من ذلك؟ قال: ألا أخبرك بشيء إذا قلته برئت من قليله وكثيره وصغيره وكبيره؟ قال: بلى يا رسول الله، قال قل: اللهم إني أعوذ بك أن أشرك بك وأنا أعلم، وأستغفرك لما لا أعلم. الحسن بن سفيان والبغوي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৮৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پوشیدہ شرک
٨٨٤٩۔۔۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دن ہمارے سامنے خطاب کیا اور فرمایا : لوگو ! شرک سے بچنا، کیونکہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ پوشیدہ ہے، اور فرمایا : جو چاہے کہے : یا رسول اللہ ہم اس سے کیسے بچ سکتے ہیں جبکہ وہ چیونٹی کی چال سے زیادہ مخفی ہے آپ نے فرمایا : تم کہا کرو : اے اللہ ! ہم آپ کی اس بات سے پناہ چاہتے ہیں کہ جان بوجھ کر آپ کا شریک بنائیں اور انجانی باتوں میں آپ سے معافی چاہتے ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8849- عن أبي موسى الأشعري قال: خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ذات يوم، فقال: يا أيها الناس اتقوا الشرك، فإنه أخفى من دبيب النمل، فقال من شاء أن يقول: وكيف نتقيه وهو أخفى من دبيب النمل؛ يا رسول الله قال: قولوا اللهم إنا نعوذ بك أن نشرك بك ونحن نعلمه، ونستغفرك لما لا نعلمه. "ش".
তাহকীক: