কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৮৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پوشیدہ شرک
٨٨٥٠۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ عنہ نے فرمایا : شرک ، تاریک رات میں چیونٹی کے پتھر پر چلنے سے زیادہ پوشیدہ ہے سب سے کم درجہ کا شرک یہ ہے کہ تم ظلم کی کسی چیز کو پسند کرو اور انصاف کی کسی بات سے بغض رکھو، دین تو بس اللہ تعالیٰ کے لیے محبت اور نفرت کا نام ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : کہہ دو : اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری اتباع کرواللہ تعالیٰ تم سے محبت کریں گے۔ (ابن النجار)
8850- عن عائشة قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: الشرك أخفى من دبيب النمل على الصفا في الليل المظلم، أدناه أن تحب على الشيء من الجور، وتبغض على شيء من العدل، وهل الدين إلا الحب في الله، والبغض في الله؛ قال الله تعالى: {قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ} . ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ
٨٨٥١۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : بیشک لالچ محتاج ہے اور (لوگوں ) سے ناامیدی مالداری ، انسان جب کسی چیز سے مایوس ہوجاتا ہے تو اس سے لاپروا ہوجاتا ہے۔ (مسنداحمد فی الزھد والعسکری فی المواعظ وابن ابی الدنیا فی القناعۃ، الحلیۃ، ابن عساکر)
8851- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: إن الطمع فقر، وإن اليأس غنى، وإن المرء إذا أيس عن شيء، استغنى عنه. "حم" في الزهد والعسكري في المواعظ وابن أبي الدنيا في القناعة "حل كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لالچ
٨٨٥٢۔۔۔ اسماعیل بن محمد بن ثابت اپنے داد سے اپنے والد کے واسطہ سے نقل کرتے ہیں : ایک انصاری شخص نے کہا : یارسول اللہ ! مجھے مختصر سی نصیحت کریں، آپ نے فرمایا : جو کچھ لوگوں کے پاس ہے اس سے مایوس اختیار کرلو اور لالچ سے بچنا کیونکہ وہ موجودہ محتاجی ہے۔ (ابونعیم)
8852- عن إسماعيل بن محمد بن ثابت عن أبيه عن جده أن رجلا من الأنصار قال: يا رسول الله أوصني وأوجز، قال: عليك باليأس مما في أيدي الناس، وإياك والطمع، فإنه فقر حاضر. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ استغناء و لاپرواہی

بدگمان کی وجہ سے لوگوں سے لالچ نہ رکھنا
٨٨٥٣۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : (انتہائی) احتیاط ، بدگمانی ہے۔ ابوعبید
8853- عن علي قال: الحزم سوء الظن. أبو عبيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٤۔۔۔ (عمر (رض)) ابوجعفر سے روایت ہے کہ ایک شخص ، مکہ مکرمہ تک حضرت عمر بن خطاب (رض) کے ساتھ شریک سفرہوا، راستہ میں اس کی وفات ہوگئی، حضرت عمر (رض) اس کے لیے ٹھہرگئے اور اس کی نماز جنازہ ادا کرنے اسے دفن کرکے روانہ ہوئے پھر کم ہی کوئی دن ہوتا جس میں حضرت عمر یہ اشعار پڑھتے ہوں۔

معاملہ کو پہنچنے والے کی قسم ! جس نے پہلے انسان کئی امیدیں رکھتا ہے، جو امید وہ رکھتا تھا اس سے پہلے، جھڑجانے والے پر افسوس ! (ابن ابی الدنیا فی قصر الامل)
8854- "عمر رضي الله عنه" عن أبي جعفر أن رجلا صحب عمر بن الخطاب إلى مكة، فمات في الطريق، فاحتبس عليه عمر، حتى صلى عليه ودفنه، فقل يوم إلا كان عمر يتمثل ويقول:

وبالغ أمر كان يأمل دونه ... ومختلج من دون ما كان يأمل

ابن أبي الدنيا في قصر الأمل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے وہ اکثر یہ اشعار پڑھتے تھے فرماتے : رہنے والی زندگی تجھے دھوکا میں نہ ڈالے، کبھی کبھار سحری کے وقت موت کا اتفاق ہوجاتا ہے۔ (ابن ابی الدنیا فیہ)
8855- عن عمر رضي الله عنه أنه كان يتمثل ويقول:

لا يغرنك عيش ساكن ... قد يوافي بالمنيات السحر

ابن أبي الدنيا فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : مجھے تمہارے بارے دو چیزوں کا خوف ہے، لمبی امیدیں اور خواہشات کی پیروی، کیونکہ لمبی امیدیں ، آخرت بھلا دیتی ہیں اور خواہشات کا اتباع حق سے روک دیتا ہے، دنیا پیٹھ دے کر چل دی اور آخرت رخ کرکے روانہ ہوچکی ہے ان میں سے ہر ایک کے بیٹے ہیں، سو تم آخرت کے بیٹے بننا، دنیا کے بیٹے نہ بننا، کیونکہ آج عمل ہے حساب نہیں اور کل حساب ہوگا نہ کہ عمل۔ (ابن المبارک ، مسند احمد فی الزھد وھنادوابن ابی الدنیا فی قصر الامل، الحلیۃ فی الزھد، ابن عساکر)
8856- عن علي رضي الله عنه قال: إنما أخشى عليكم من اثنتين: طول الأمل، واتباع الهوى، فإن طول الأمل ينسي الآخرة، وإن اتباع الهوى يصد عن الحق، وإن الدنيا قد ارتحلت مدبرة، والآخرة مقبلة، ولكل واحدة منهما بنون، فكونوا من أبناء الآخرة، ولا تكونوا من أبناء الدنيا، فإن اليوم عمل ولا حساب، وغدا حساب ولا عمل.

ابن المبارك "حم" في الزهد وهناد وابن أبي الدنيا في قصر الأمل "حل ق" في الزهد "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٧۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہمارے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک چور کور شکل کی لکیر لگائی، پھر اس مربع شکل کے درمیان ایک لکیر کھنچی، اور پھر اس درمیانی لکیر کی ایک جانب جو اس مربع شکل کے درمیان تھی، بہت سی لکیریں کھینچیں اور ایک لکیر اس مربع شکل سے باہر نکلتی ہوئی لگائی، پھر فرمایا : جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں فرمایا : درمیانی لکیر انسان ہے، اور اس کی ایک جانب جو لکیریں ہیں ، وہ ضرورتیں اور مشکلات ہیں، عوارض ہرجانب سے انسان کو اچک لیتی ہیں، اگر اس سے بچ جائے تو یہ آلگے، اور جس مربع لکیر نے سب کو گھیرا ہوا ہے وہ موت ہے، اور باہر دورتک نکل رہی ہے وہ امید ہے۔ (مسنداحمد، بخاری، ابن ماجہ والرامھرمزی فی الامثال)
8857- عن عبد الله بن مسعود قال: خط لنا رسول الله صلى الله عليه وسلم خطا مربعا، وخط وسط الخط المربع خطا وخطوطا إلى جانب الخط الذي وسط المربع، وخطا خارج الخط المربع، ثم قال: أتدرون ما هذا؟ قالوا: الله ورسوله أعلم، قال: هذا الخط الأوسط الإنسان والخطوط إلى جانبه الأعراض، والأعراض تنهشه من كل مكان، إذا أخطأه هذا أصابه هذا، والخط المربع الأجل المحيط به، والخط الخارج البعيد الأمل. "حم خ هـ" والرامهرمزي في الأمثال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٨۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : انسان اس طرح ہے :

یہ مربع موت ہے اور درمیان میں انسان ہے۔

اور باہر نکلنے والا حلقہ امیدیں ہیں اور یہ لکیریں عوارض ہیں، عوارض ہر طرف سے اس کو اچک گی، اگر ایک سے بچے گا

دوسری اسے آئے گی، اور موت کے درمیان حائل ہوجائے گی، (الرامہرمزی) فرماتے ہیں ہم نے اسی طرح اپنے شیخ حسین بن محمد احمد بن منصور الرمادی کی کتاب سے نقل کیا ہے ، اور مادی نے کہا : اسی طرح ہم نے ابوحذیفہ موسیٰ بن مسعود الندی کی کتاب سے نقل کیا ہے جو اس حدیث کو سفیان سے روایت کرنے والے ہیں۔ میں (مصنف کتاب ) نے اسے رامہر مزی کے نسخہ سے نقل کیا ہے جو حافظ عظیم عبدالغنی مقدسی ، مولف عمدۃ الاحکام کے خط (کتابت) سے لکھا ہے۔

پھر رامہرمزی نے فرمایا : وہ لکیریں جو مربع شکل کے اطراف میں ہیں ضروری ہے کہ سرے خط کے اندر کی طرف ہوں فرماتے ہیں ابوالقاسم بن طالب نے فرمایا : جس کا ابومحمد نے ارادہ کیا ہے، مناسب ہے کہ اس کی شکل و صورت اس طرح ہو۔
8858- عن ابن مسعود عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: الإنسان هكذا هذا المربع الأجل والذي وسطه الإنسان والحلقة الخارجة الأمل، وهذه الحروف الأعراض، والأعراض تنهشه من كل مكان، كلما أفلت من واحد أخذه واحد، والأجل قد حال دون الأمل. الرامهرمزي، وقال: هكذا كتبناه من كتاب شيخنا الحسين بن محمد بن الحسين الخياط، وقال لنا الحسين: هكذا كتبناه من كتاب أحمد بن منصور الرمادي، وقال الرمادي: هكذا كتبناه من كتاب أبي حذيفة موسى بن مسعود النهدي راوي الحديث عن سفيان، قلت: وأنا كتبته من نسخة الأمثال للرامهرمزي بخط الحافظ الكبير عبد الغني المقدسي مؤلف عمدة الأحكام، ثم قال الرامهرمزي: الحروف التي في جوانب الخط المربع يجب أن تكون رؤسها إلى جانب داخل الخط، قال: قال أبو القاسم بن طالب الذي أراده أبو محمد: ينبغي أن يكون شكله وصورته هكذا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٥٩۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے سامنے ایک لکڑی گاٖڑی اور اس کی طرف دوسری اور اس کے بعد ایک اور لکڑی گاڑی، اور فرمایا : جانتے ہو یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے کہا : اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : یہ انسان ہے یہ موت ہے وہ امید پر ہاتھ ڈالنا چاہتا ہے جبکہ موت اسے امید پہلے اچک لیتی ہے۔ (الرامھرمزی فی الامثال)
8859- عن أبي سعيد أن النبي صلى الله عليه وسلم غرز عودا بين يديه وآخر إلى جانبه، وآخر بعده، وقال: أتدرون ما هذا؟ قالوا: الله ورسوله أعلم قال: هذا الإنسان وهذا الأجل، يتعاطى الأمل فيختلجه الأجل دون الأمل. الرامهرمزي في الأمثال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لمبی امید
٨٨٦٠۔۔۔ ابوسعید سے روایت ہے کہ اسامہ بن زید (رض) نے ولیدہ کو ایک ماہ کے لیے سو دینار کے بدلہ خرایدا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں اسامہ پر ےتعجب جس نے ایک ماہ تک خریداری کا معاملہ کیا ہے، بیشک اسامہ بڑی لمبی امید والا ہے اس ذات سے پہلے اللہ تعالیٰ میری روح قبض کرلے گا۔

اور میں جب کو لقمہ چباتا ہوں تو مجھے یقین نہیں ہوتا کہ اسے نگل سکوں گا اور اس کے ساتھ موت نہ ملالوں، پھر فرمایا : اے انسانو ! اگر تمہیں عقل ہے تو اپنے آپ کو مردوں میں شمار کرو، اس ذات کی قسم ! جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے جس کا تم سے وعدہ ہے وہ آکر رہے گا اور تم عاجر کرنے والے نہیں ۔ (ابن عساکر، وفیہ ابوعقبۃ احمد بن الفرج ضعیف)
8860- عن أبي سعيد قال: لما اشترى أسامة بن زيد وليدة بمائة دينار إلى شهر، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا تعجبون من أسامة المشتري إلى شهر، إن أسامة لطويل الأمل، والذي نفسي بيده ما طرفت عيناي إلا ظننت أن شفري لا يلتقيان، حتى يقبض الله روحي، ولا رفعت طرفي فظننت أني واضعه حتى أقبض، ولا لقمت لقمة إلا ظننت أني لا أسيغها حتى أغص بها من الموت، ثم قال: يا بني آدم إن كنتم تعقلون فعدوا أنفسكم من الموتى، والذي نفسي بيده، إنما توعدون لآت وما أنتم بمعجزين. "كر" وفيه أبو عقبة أحمد بن الفرج ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بدگمانی
٨٨٦١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک شخص کسی مجلس سے گزرا، مجلس والوں کو سلام کیا انھوں نے جواب دیا، جب وہ شخص چلا گیا تو ایک آدمی کہنے لگا : مجھے اس سے بغض ہے، تو لوگوں نے کہا : رہنے دو ، اللہ کی قسم ہم ضرور اسے بتائیں گے، اے فلاں جاؤ اور جو کچھ اس نے کہا ہے اس کی اسے خبردو، تو وہ شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گیا تو اس نے اس شخص کے بارے اور جو کچھ اس نے کہا آپ کو بتادیا، وہ شخص کہنے لگایا رسول اللہ ! اس کی طرف ہیام بھیجیں اور اس سے پوچھیں وہ مجھ سے کیوں بغض رکھتا ہے ؟ !(جب وہ آگیا) آپ نے فرمایا : تم اس سے کیوں بغض رکھتے ہو ؟

اس نے کہا : یارسول اللہ ! میں اس کا پڑوسی ہوں اور میں نے اسے آزمایا ہے میں نے کبھی اسے، اس نماز کے علاوہ جو نیک وبد پڑھتے ہیں، نماز پڑھتے نہیں دیکھا، تو اس شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اس سے پوچھیں : کہ کیا میں نے غلط وضو کیا یا یا خیر سے ادا کی ؟ اس نے کہا نہیں ، پھر وہو بولا، یارسول اللہ ! میں اس کا پڑوسی اور تجربہ کار ہوں میں نے اسے اس زکوۃ کے علاوہ جسے نیک وبد ادا کرتے ہیں، کسی مسکین کو کھانا کھلاتے نہیں دیکھا، تو اس شخص نے کہا : یا رسول اللہ ! اس سے پوچھیں : کہ کیا

میں نے کسی مانگنے والے کو منع کیا، تو آپ نے اس سے پوچھا : تو اس نے کہا : نہیں۔

پھر اس نے کہا : یارسول اللہ ! میں اس کا پڑوسی اور آزمانے والاہوں، میں نے اسے اس مہینہ کے روزے رکھنے کے علاوہ جس کے روزے نیک وبدس بھی رکھتے ہیں روزے رکھتے نہیں دیکھا، تو اس شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اس سے پوچھیں ؟ کیا میں نے بیماری اور سفر کے علاوہ کبھی روزہ چھوڑا ہے ؟ آپ نے پوچھا : اس نے کہا : تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے معلوم نہیں شاید وہ تجھ سے بہتر ہو۔ (ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ انسان کو چاہیے کہ اپنے کام سے کام رکھے۔
8861- عن أنس أن رجلا مر بمجلس في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فسلم الرجل فردوا عليه، فلما جاوز، قال أحدهم: إني لأبغض هذا، قالوا: مه فوالله لننبئنه بهذا، انطلق يا فلان فأخبره بما قال له، فانطلق الرجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فحدثه بالذي كان وبالذي قال، قال الرجل: يا رسول الله أرسل إليه فاسأله لم يبغضني؛ قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: لم تبغضه؟ قال: يا رسول الله أنا جاره، وأنا به خابر، ما رأيته يصلي صلاة إلا هذه الصلاة التي يصليها البر والفاجر، فقال له الرجل: يا رسول الله سله هل أسأت لها وضوءا أو أخرتها عن وقتها؟ فقال: لا ثم قال: يا رسول الله أنا له جار وأنا به خابر، ما رأيته يطعم مسكينا قط إلا هذه الزكاة التي يؤديها البر والفاجر، فقال: يا رسول الله سله هل رآني منعت منها طالبها، فسأله، فقال: لا، فقال: يا رسول الله أنا له جار وأنا به خابر، ما رأيته يصوم صوما قط إلا الشهر الذي يصومه البر والفاجر، فقال الرجل يا رسول الله سله هل رآني أفطرت يوما قط لست فيه مريضا ولا على سفر؟ فسأله عن ذلك فقال: لا، فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: فإني لا أدري لعله خير منك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم
٨٨٦٢۔۔۔ (انس بن مالک (رض)) ابوھدبہ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کرتے ہیں : آپ نے فرمایا : بندے اور جنت کے درمیان سات گھاٹیاں ہیں ان میں سے سب سے آسان موت ہے، حضرت انس (رض) نے فرمایا : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! سب سے مشکل کونسی ہے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے روبرو کھڑے ہونا جب مظلوم لوگ ظالموں کا دامن پکڑ لیں گے۔ (ابن النجار)

تشریح :۔۔۔ دنیا کے معاملات دنیا میں ہی نمٹالیں تو بہتر ہے رونہ یوم الحساب کو بڑی مشقت اور رسوائی ہوگی۔
8862- "أنس بن مالك رضي الله عنه" عن أبي هدبة عن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: بين الجنة والعبد سبع عقاب، أهونها الموت قال أنس قلت: يا رسول الله فما أصعبها؛ قال: الوقوف بين يدي الله عز وجل إذا تعلق المظلومون بالظالمين. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم
٨٨٦٣۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری امت کے دو آدمی رب العزت کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھے ہوں گے، ان میں سے ایک کہے گا : اے میرے رب ! میرے بھائی سے میری مظلومیت کا بدلہ لیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم نے اپنے بھائی کے ساتھ کیا کیا ہے اور اس کی کوئی نیکی باقی نہ بچے گی : وہ کہے گا : اے میرے رب ! ان وہ میرے گناہ اٹھالے، اور وہ دن بڑا سخت ہوگا، لوگ اس بات کے ضرورت مند ہوں گے کہ کوئی ان کا بوجھ اٹھالے۔

تو اللہ تعالیٰ طلبگار سے فرمائیں گے : اپنی آنکھ اٹھا اور دیکھ ، وہ اپنا سر اٹھائے گا، عرض کرے گا : رب توسونے کے شہرنظر آرہے ہیں، اور سونے کے محل جن پر موتیوں کا جڑاؤ ہے یہ کس نبی کے لیے ہیں ؟ یا کس صدیق اور شہید کے لیے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : یہ اس کے لیے جس نے قیمت ادا کی، عرض کرے گا : ان کا مالک کون ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : تم ، عرض کرے گا : کیسے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اپنے بھائی کو معاف کرنے کی وجہ سے، وہ عرض کرے گا : میرے رب ! میں نے اسے معاف کردیا، اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ اور اسے جنت میں داخل کردو۔

اس وقت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور آپس میں صلح رکھو، کیونکہ اللہ تعالیٰ قیامت کے روز مسلمانوں کے درمیان صلح کرائیں گے۔ (الخرائطی فی مکارم الاخلاق، حاکم وتعقب)
8863- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: رجلان من أمتي جثيا بين يدي رب العزة فقال أحدهما: يا رب خذ لي مظلمتي من أخي، فقال الله تعالى: كيف تصنع بأخيك ولم يبق من حسناته شيء، قال: يا رب فليحمل من أوزاري، إن ذلك اليوم عظيم يحتاج الناس أن يحمل عنهم أوزارهم، فقال الله للطالب: ارفع بصرك فانظر، فرفع رأسه، فقال: يا رب أرى مدائن من ذهب، وقصورا من ذهب مكللة باللؤلؤ لأي نبي هذا؟ أو لأي صديق هذا؟ أو لأي شهيد هذا؟ قال: هذا لمن أعطى الثمن، قال: يا رب ومن يملك ذلك؛ قال: أنت تملك، قال: بماذا؟ قال: عفوك عن أخيك، قال: يا رب فإني قد عفوت عنه، قال الله: فخذ بيد أخيك، فأدخله الجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: اتقوا الله وأصلحوا ذات بينكم، فإن الله يصلح بين المسلمين يوم القيامة. الخرائطي في مكارم الأخلاق "ك" وتعقب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم
٨٨٦٤۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : قیامت کے روز ایک شخص ، ایک شخص کو لائے گا، عرض کرے گا : ربا ! اس نے مجھ پر ظلم کیا ہے سو آپ میری مظلومیت کا بدلہ لیں، اللہ تعالیٰ اس کے سر پر ایک محل لاکھڑا کریں گے، جس میں آخرت کی بھلائی ہوگی، پھر اس سے کہا جائے گا اپنا سراٹھاؤ، وہ اس میں ایسی چیزیں دیکھے گا جو اس کی آنکھوں نے نہیں دیکھی ہوں گی، عرض کرے گا : میرے رب یہ کس کے لیے ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائیں گے : جان لو ! یہ اس لیے ہے کہ جو اپنے بھائی کو معاف کردے، عرض کرے گا، میرے رب ! میں نے اسے معاف کردیا۔ (الدیلمی)
8864- عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يأتي الرجل بالرجل يوم القيامة، فيقول يا رب هذا ظلمني، فخذ لي ظلامتي، فيمثل الله له فوق رأسه قصرا، فيه من خير الآخرة، ثم يقال له: ارفع رأسك فيرى فيه ما لم تر عيناه، فيقول: يا رب لمن هذا؛ فيقول: إعلم هذا لمن عفا عن أخيه، فيقول: يا رب قد عفوت عنه. الديلمي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ظلم
٨٨٦٥۔۔۔ ابودرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں اگر ایسے شخص پر ظلم کروں جس کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی مددگار ہو تو تمام لوگوں میں سے مبغوض ترین آدمی ہوں ۔ (الزویانی، ابن عساکر)
8865- عن أبي الدرداء قال: أنا أبغض الناس إن أظلم من لا يجد أحدا يستغيثه علي إلا الله.

الروياني "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عجب وخود پسندی
٨٨٦٦۔۔۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہ (رض) ابن کریز سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تمہارے بارے جس کا سب سے زیادہ خوف ہے وہ آدمی کا اپنی رائے پر خوش ہونا ہے، جس نے (اپنے بارے) کہا میں عالم ہوں تو وہ جاہل ہے اور جس نے کہا میں جنت میں ہوں تو وہ جہنم میں ہے۔ (مسدد بسند ضعیف وفیہ انقطاع)
8866- "طلحة بن عبيد الله رضي الله عنه" عن طلحة بن عبيد الله بن كريز قال: قال عمر: إن أخوف ما أخاف عليكم إعجاب المرء برأيه، ومن قال: أنا عالم، فهو جاهل، ومن قال: أنا في الجنة، فهو في النار. مسدد بسند ضعيف وفيه انقطاع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل تعریف جلد بازی
٨٨٦٧۔۔۔ محمد بن عمر بن ابی طالب اپنے دادا سے اپنے والد کے واسطہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے فرمایا : اے علی ! تین چیز میں دیر نہ کرنا، نماز کا جب وقت ہوجائے ، جنازہ آجائے، اور بےنکاح (مردیا عورت) جب تمہیں اس کا ہم پلہ مل جائے۔
8867- عن محمد بن عمر بن علي بن أبي طالب عن أبيه عن جده أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي ثلاثة لا تؤخرها: الصلاة إذا أتت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت كفؤا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ
٨٨٦٨۔۔۔ حضرت جاریہ بن قدامہ السعدی (رض) سے روایت ہے انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے اسلام میں کوئی بات ، مختصر سی بتائیں جسے میں سمجھ سکوں ، آپ نے فرمایا : غصہ نہ کیا کر، انھوں نے کئی بار پوچھا : آپ نے ہر مرتبہ یہی فرمایا : کہ غصہ نہ کیا کر۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، ابن حبان)
8868- "جارية السعدي" عن جارية بن قدامة السعدي1 أنه قال: يا رسول الله قل لي في الإسلام قولا وأقلل لعلي أعقله، قال: لا تغضب فعاد له مرارا، كل ذلك يرجع إليه رسول الله صلى الله عليه وسلم لا تغضب. "حم طب حب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ
٨٨٦٩۔۔۔ حضرت سلیمان بن صرد سے روایت ہے : کہ وہ شخص آپس میں لڑپڑے، ان میں سے ایک کا غصہ بھڑک اٹھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے ایک ایسا کلمہ معلوم ہے اسے اگر وہ کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہوجائے، وہ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مربرقم : ٧٧٢١)
8869- عن سليمان بن صرد أن رجلين تلاحيا فاشتد غضب أحدهما، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب غضبه أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. "ش". مر برقم [7721] .
tahqiq

তাহকীক: