কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৮৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ
٨٨٧٠۔۔۔ معاذ (رض) سے روایت ہے کہ وہ شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک دوسرے کو برا بھلاکہنے لگے : ان میں سے ایک سخت غصہ ہوگیا، اور اتنا تیز ہوگیا کہ میرا خیال ہے کہ اس کی ناک پھٹ رہی ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں ایک ایسا کلمہ جانتا ہوں اگر وہ غصیلا کہہ لے تو اس کا غصہ ختم ہوجائے وہ اعوذباللہ من الشیطان الرجیم ہے۔
8870- عن معاذ قال: استب رجلان عند النبي صلى الله عليه وسلم، فغضب أحدهما غضبا شديدا، حتى إني لأخيل أن أنفه يتمزع، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إني لأعرف كلمة لو قالها هذا الغضبان لذهب غضبه أعوذ بالله من الشيطان الرجيم. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غصہ
٨٨٧١۔۔۔ ابوذر مجھے پتہ چلا کہ آج تم نے ایک شخص کو ماں کی گالی دی ہے، (حضرت ابوذر نے اپنا سرجھکالیا) ابوذر ! اپنا سراٹھا کر دیکھو اچھی طرح جان لو، تم کسی کالے گورے سے سوائے عمل کے افضل نہیں ہوسکتے ، ابوذر ! جب تمہیں غصہ آئے، تو اگر کھڑے ہو تو بیٹھ جاؤ، اور اگر بیٹھے ہو تو ٹیک لگا لو اور ٹیک پر بیٹھے ہو تو لیٹ جاؤ۔ (ابن ابی الدنیا ذم الغضب عن ابی در)
8871- يا أبا ذر بلغني أنك عيرت اليوم رجلا بأمه، يا أبا ذر ارفع رأسك فانظر، ثم اعلم أنك لست بأفضل من أحمر فيها ولا أسود إلا أن تفضله بعمل، يا أبا ذر إذا غضبت فإن كنت قائما فاقعد، وإن كنت قاعدا فاتكئ، وإن كنت متكئا فاضطجع. ابن أبي الدنيا في ذم الغضب عن أبي ذر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٢۔۔۔ حضرت ثابت بن قیس بن شماس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے تکبر کا تذکرہ ہوا، آپ نے اس میں بڑی سختی سے ڈانٹا، اور فرمایا : اللہ تعالیٰ ہر متکبر فخر کرنے والے کو نہیں چاہتا، تو قوم میں سے ایک شخص نے کہا : یارسول اللہ ! اللہ کی قسم ! میں اپنے کپڑے دھوتا ہوں تو مجھے ان کی سفیدی اچھی لگتی ہے، اسی طرح مجھے جوتے کا تسمہ اور اپنے کوڑے کا دستہ اچھا لگتا ہے۔

آپ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں ، تکبر یہ ہے کہ تم حق کو ٹھکراؤ اور لوگوں کو گھٹیا سمجھو۔ (طبرانی فی الکبیر)
8872- عن ثابت بن قيس بن شماس قال: ذكر الكبر عند النبي صلى الله عليه وسلم، فشدد فيه، فقال: إن الله لا يحب كل مختال فخور، فقال رجل من القوم: والله يا رسول الله إني لأغسل ثيابي فيعجبني بياضها، ويعجبني شراك نعلي وعلاقة سوطي، فقال: ليس ذاك الكبر، إنما الكبر أن تسفه الحق وتغمص الناس. "طب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : انسان جب بڑا بنے اور اپنی سرکشی پر چڑھ دوڑے تو اللہ تعالیٰ اسے زمین کی طرف کھینچ دیتے ہیں، اور فرماتے ہیں، رسوا ہو اللہ تعالیٰ تجھے رسوا کرے، وہ اپنے جی میں بڑا ہوتا ہے جبکہ لوگوں کے ہاں چھوٹا ہوتا ہے بالاخر وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں خنزیز سے بھی حقیر ہوجاتا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8873- عن عمر قال: إن العبد إذا تعظم وعدا طوره وهصه1 الله إلى الأرض وقال: اخسأ أخسأك الله، فهو في نفسه كبير، وفي أنفس الناس صغير، حتى لهو أحقر عند الله من خنزير. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٤۔۔۔ (مسند ابی جری جابربن سلیم اھجیمی التیمی (رض)) ابوتمیمۃ ھجیمی سے روایت ہے کہ حضرت ابوجری جابر (رض) نے فرمایا : میں اپنی سواری پر سوار ہو کر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طلب میں مکہ آیا، دیکھا تو آپ تشریف فرما ہیں، میں نے کہا : السلام علیک یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : وعلیک ، میں نے عرض کیا ہم دیہاتی لوگوں میں سخت مزاجی ہوتی ہے آپ مجھے کوئی ایسی بات سکھادیں جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ مجھے نفع دے۔

آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈراکر اور کسی نیکی یا بھلائی کو حقیر نہ سمجھنا ، اور ازار (شلوار) لٹکانے سے بچنا، کیونکہ یہ تکبر ہے، اور اللہ تعالیٰ کسی متکبر کو پسند نہیں کرتا، اتنے میں ایک شخص نے کہا : آدھی پنڈلی اور ٹخنوں تک کوئی حرج نہیں ، تم سے پہلے کسی شخص نے ایک چادر اوڑھی، جس میں وہ اترانے لگا اللہ تعالیٰ نے عرش سے اس کی طرف دیکھا، اور اس سے ناراض ہو کر زمین کو حکم دیا (کہ اسے نگل) تو زمین نے اسے پکڑلیا، سو وہ زمین کے درمیان حرکت کررہا ہے اللہ تعالیٰ کے (قابل عذاب) واقعات سے بچو۔ (ابونعیم)
8874- "مسند أبي جري جابر بن سليم الهجيمي التميمي رضي الله عنه" عن أبي تميمة الهجيمي قال: قال أبو جري جابر: ركبت قعودا لي فأتيت مكة في طلب النبي صلى الله عليه وسلم، فإذا هو جالس، فقلت السلام عليك يا رسول الله، قال: وعليك، قلت إنا معشر أهل البادية، قوم فينا الجفاء، فعلمني كلاما ينفعني الله به، قال: اتق الله، ولا تحقرن من المعروف أو الخير شيئا، وإياك وإسبال الإزار، فإنه من المخيلة، وإن الله لا يحب المختال فقال رجل: يا رسول الله ذكرت إسبال الإزار، وقد يكون بساق الرجل القرح أو الشيء يستحي منه؟ فقال: لا بأس إلى نصف الساق أو إلى الكعبين، إن رجلا كان ممن قبلكم لبس بردة فتبختر فيها، فنظر الله إليه من فوق عرشه، فمقته، فأمر الأرض فأخذته، فهو يتجلجل بين الأرض فاحذروا وقائع الله. أبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کچھ لوگ تواضح کے ارادے سے اونی کپڑا پہنتے ہیں جبکہ ان کے دل تکبر اور عجب سے بھرے پڑے ہیں۔ (الدینوری)
8875- عن عمر قال: إن من الناس ناسا يلبسون الصوف إرادة التواضع، وقلوبهم مملوءة عجبا وكبرا.الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم سے پہلے ایک نوجوان ایک جوڑا پہن کر تکبر وفخر کرتے جارہا تھا، اچانک اسے زمین نے چبالیا، وہ قیامت رک اس میں حرکت کرتا رہے گا۔ (ابن النجار و مربرقم : ٧٧٥٣)
8876- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: بينا رجل شاب ممن كان قبلكم يمشي في حلة مختالا فخورا، إذ ابتلعته الأرض، فهو يتجلجل فيها إلى يوم القيامة. ابن النجار. ومر برقم [7753] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر
٨٨٧٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی کے برا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھے۔ (مسند احمس فی الزھد مربرقم : ٨٨١٩)
8877- عن عمر قال: بحسب امرئ من الشر أن يحقر أخاه المسلم. "حم" في الزهد. مر برقم [8819] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٧٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) ابوامامہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بقیع کی طرف نکلے، تو آُ کے صحابہ آپ کے پیچھے چلنے لگے، آپ ٹھہرگئے اور ان سے فرمایا : وہ آگے ہوجائیں، پھر آپ نے ان کے پیچھے چلنے لگے، آپ سے اس کے بارے میں پوچھا گیا، آپ نے فرمایا : میں نے تمہارے قدموں کی چاپ سنی تو میرے دل میں اندیشہ پیدا ہوا کہ تکبر نہ ہو۔ (الدیلمی وسندہ ضعیف)
8878- "عمر رضي الله عنه" عن أبي أمامة أن النبي صلى الله عليه وسلم خرج إلى البقيع، فتبعه أصحابه، فوقف وأمرهم أن يتقدموا، ثم مشى خلفهم، فسئل عن ذلك؛ فقال: إني سمعت خفق نعالكم، فأشفقت أن يقع في نفسي شيء من الكبر. الديلمي وسنده ضعيف.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٧٩۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : اپنے جوتوں کی آواز (کسی کے پیچھے) چلنے میں روکو کیونکہ یہ بیوقوف کے دلوں میں فساد پیدا کرنے والی ہے۔ (عبداللہ بن احمد فی الزوائد)
8879- عن علي قال: كفوا عن خفق نعالكم، فإنها مفسدة لقلوب نوكى1 الرجال. "عم".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٨٠۔۔۔ لیث سے روایت ہے وہ آدمی سے نقل کرتے ہیں : کہ حضرت عمر (رض) نے ایک شخص کو سوار شخص کے پیچھے دوڑتے ہوئے دیکھایا کسی نے آپ کو بتایا، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس (کے) دل (کی رگ) کاٹ دے، اللہ تعالیٰ اس کا دل کاٹ دے۔ (مسدد)
8880- عن ليث عن رجل: أن عمر أبصر رجلا يسعى خلف إنسان وهو راكب، أو بلغه ذلك، فقال: قطع الله فؤاده، قطع الله فؤاده. مسدد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٨١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرمایا : حضرت ابوبکر (رض) ہمارے سامنے خطاب کررہے تھے (دوران خطاب) آپ نے انسان کی پیدائش کے آغاز کا ذکر کیا، فرماتے : انسان پیشاب جاری ہونے کی جگہ سے پیدا ہوا، دو مرتبہ ، اور باربار اس کا تذکرہ کرتے رہے یہاں تک کہ ہم میں سے ہر اک اپنے آپ سے گھن کھانے لگا۔ (مصنف ابن ابی شیبہ
8881- عن أنس قال: كان أبو بكر يخطبنا، فيذكر بدء خلق الإنسان فيقول: خلق من مجرى البول مرتين، فيذكر حتى يتقذر أحدنا نفسه. "ش".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٨٢۔۔۔ ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا : مجھے یہ بات پسند ہے میرے کپڑے دھلے ہوں میرے سر پر تیل لگاہو، میرے جوتے کا تسمہ نیا ہو اور بھی کئی چیزیں ذکر کیں یہاں تک کہ اپنے کوڑے کا دستہ بھی ذکر کیا کیا یہ تکبر میں شامل ہیں ؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نہیں ، یہ تو خوبصورتی ہے اور اللہ تعالیٰ خوبصورتی کو پسند فرماتے ہیں ، لیکن متکبر وہ ہے جو حق کو ٹھکرائے اور لوگوں پر ظلم کرے۔ (ابن النجار)
8882- عن ابن مسعود قال: جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: إنه ليعجبني أن يكون ثوبي غسيلا، ورأسي دهينا، وشراك نعلي جديدا، وذكر أشياء حتى ذكر علاقة سوطه، أفمن الكبر هذا؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، هذا من الجمال، والله يحب الجمال، لكن الكبر من سفه الحق وظلم الناس. ابن النجار.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ تکبر کا علاج
٨٨٨٣۔۔۔ یحییٰ بن ابی کثیر سے روایت ہے کہ خریم بن فاتک اسدی (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگے : یا رسول اللہ ! میں خوبصورتی کو پسند کرتا ہوں یہاں تک کہ میں اپنے جوتے کے تسمہ اور اپنے کوڑے کے دستہ میں بھی اسے پسند کرتا ہوں ، اور میری قوم سمجھتی ہے یہ تکبر ہے، آپ نے فرمایا : یہ تکبر نہیں، کہ تم میں سے کوئی خوبصورتی کو پسند کرے، تکبر یہ ہے کہ حق کا انکار کرے اور لوگوں کو گھٹیا سمجھے۔ (ابن عساکر)
8883- عن يحيى بن أبي كثير أن خريم بن فاتك الأسدي أتي النبي صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله إني لأحب الجمال، حتى إني لأحبه في شراك نعلي، وجلاز سوطي، وإن قومي يزعمون أنه من الكبر، قال: ليس من الكبر، أن يحب أحدكم الجمال، ولكن الكبر أن يسفه الحق ويغمص الناس. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہ
٨٨٨٤۔۔۔ (عمر (رض)) ہشام سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عمر (رض) سے بڑے گناہوں کے بارے پوچھا ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کرنا، ناحق مسلمان کی جان لینا، جادو کرنا، ناحق یتیم کا مال کھانا، پاکدامن ، ، سادہ ، مسلمان عورتوں پر تہمت لگانا، نافرمانی کی وجہ سے والدین کا رونا، سود (کا مال ) کھانا، بیت اللہ کے جانوروں کو حلال سمجھنا، اور لڑائی سے بھاگنا۔ (اللالکائی)
8884- "عمر رضي الله عنه عن هشام قال: سألت عمر عن الكبائر؟ فقال: الشرك بالله، وقتل النفس المؤمنة بغير حق، والسحر، وأكل مال اليتيم بغير حق، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات، وبكاء الوالدين المسلمين من العقوق، وأكل الربا، واستحلال آمين البيت الحرام والفرار من الزحف.اللالكائي.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہ
٨٨٨٥۔۔۔ حمید بن عبداللہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، وہ کہنے لگا، کبیرہ گناہ کیا ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنا، اس نے کہا : پھر ؟ آپ نے فرمایا : والدین کی نافرمانی کرنا، اس نے کہا : پھر ؟ آپ نے فرمایا : جھوٹی قسم کھانا۔ (ابن جزیز)
8885- عن حميد بن عبد الرحمن بن عبد الله قال: جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: ما الكبائر؟ قال: الشرك بالله، قال: ثم مه؟ قال: وعقوق الوالدين، قال ثم مه؟ قال: اليمين الغموس. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہ
٨٨٨٦۔۔۔ عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تمہیں سب سے بڑا گناہ نہ بتاؤں ؟ اللہ تعالیٰ کا شریک بنانا، پھر آپ نے پڑھا :” جس نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک کیا اس نے بہت بڑا گناہ کیا، والدین کی نافرمانی “۔ پھر یہ آیت پڑھی ” میرا اور اپنا والدین کا شکر گزاررہ اور میری طرف ہی لوٹنا ہے “ آپ ٹیک لگائے بیٹھے تھے سیدھے ہو کر فرمایا : خبردار ! جھوٹی بات۔ (ابوسعید النقاش فی القضاۃ)
8886- عن عمران بن حصين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أنبئكم بأكبر الكبائر؟ الإشراك بالله، ثم قرأ: {وَمَنْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ فَقَدِ افْتَرَى إِثْماً عَظِيماً} وعقوق الوالدين، ثم قرأ: {اشْكُرْ لِي وَلِوَالِدَيْكَ إِلَيَّ الْمَصِيرُ} وكان متكئا فاحتفز، ألا وقول الزور. أبو سعيد النقاش في القضاة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بڑے بڑے گناہ
٨٨٨٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : سابقہ تمام موحد قوموں کے وہ لوگ جو کبیرہ گناہ کرتے کرتے مرگئے، سوائے نادم اور توبہ کرنے والے (کہ وہ جہنم میں نہیں جائیں گے) جو جہنم میں جائیں گے، ان کی آنکھیں نیلی ہوں گی، اور نہ چہرے سیاہ ہوں گے، اور نہ انھیں شیطانوں کے ساتھ جوڑا جائے گا، اور نہ بیڑیاں پہنائی جائیں گی، نہ وہ کھولتا ہوا پانی پئیں گے، اور نہ تار کول کے کپڑے پہنیں گے، اللہ تعالیٰ نے توحید کی وجہ سے ان کے جسم (جہنم میں) ہمیشہ کے لیے حرام کردیئے اور ان کے چہرے ان کے مسجدوں کی وجہ سے آگ پر حرام کردیئے، ان میں کسی کو آگ اس کے قدموں تک لپٹے ہوگی، کسی کو اس کی کوکھ تک ، کسی کو اس کی گردن تک لپٹے ہوگی، (غرض) ان کے گناہوں کی اور اعمال کے بقدر (لپٹے گی) ان میں سے کوئی اس (جہنم) میں ایک ماہ رہے گا، پھر نکال لیا جائے گا جو دنیا کی عمر کی مقدار، جب سے وہ پیدا ہوئی سے لے کر اس کے فنا ہونے تک ٹھہرے گا، اللہ تعالیٰ جب انھیں آگ سے نکالے کا ارادہ کریں گے تو یہود و نصاریٰ اور دوسرے مذاہب والے بت پرست جہنمی اہل توحید سے کہیں گے۔

تم لوگ اللہ تعالیٰ ، اس کے رسولوں اور اس کی کتابوں پر ایمان لائے پھر بھی آج ہم اور تم جہنم (کے عذاب) میں برابر ہیں، تو اللہ تعالیٰ ان کی وجہ سے ایسا غضبناک ہوگا کہ اس سے پہلے کسی چیز کی وجہ سے اتناغضبناک نہیں ہوا، پھر اللہ تعالیٰ انھیں ایک ایسے چشمے کی طرف نکال لائیں گے جو جنت اور پل صراط کے درمیان ہوگا تو وہ چشمہ میں کھمبی کی طرح اگیں گے، جس میں پانی رواں ہوگا، اس کے بعد جنت میں داخل ہوجائیں گے۔

ان کی پیشانیوں پر لکھا ہوگا، یہ جہنمی ، رحمن کے آزاد کردہ ہیں، پھر وہ جنت میں اتنا عرصہ رہیں گے جنتا اللہ تعالیٰ چاہے گا، پھر وہ اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے کہ ان (کی پیشانیوں ) سے یہ نام مٹادیا جائے، تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجے گا تو وہ (ان سے) اس (نام) کو مٹادے گا، اس کے بعد اللہ تعالیٰ بہت سے ایسے فرشتے بھیجے گا جن کے پاس آگ کیلیں ہوں گی جو اس میں باقی جہنمی ہوں گے ان پر تختے لگا کر اوپر سے یہ میخیں لگادیں گے، تو اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر ان کا ذکر کرے گا، اور جنتی اپنی لذتوں اور نعمتوں میں پڑ کر انھیں بھول جائیں گے، یہی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ” باربار کا فرلوگ آرزو کریں گے کاش وہ مسلمان ہوتے “۔ (ابن ابی حاتم وابن شاھین فی السنۃ والدیلمی)
8887- عن علي قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن أصحاب الكبائر من موحدي الأمم كلها الذين ماتوا على كبائرهم غير نادمين ولا تائبين، من دخل منهم جهنم لا تزرق أعينهم، ولا تسود وجوههم، ولا يقرنون بالشياطين، ولا يغلون بالسلاسل، ولا يجرعون الحميم، ولا يلبسون القطران، حرم الله أجسادهم على الخلود من أجل التوحيد، وصورهم على النار من أجل السجود، فمنهم من تأخذه النار إلى قدميه، ومنهم من تأخذه النار إلى عقبيه، ومنهم من تأخذه النار إلى فخذيه، ومنهم من تأخذه النار إلى حجزته، ومنهم من تأخذه النار إلى عنقه، على قدر ذنوبهم وأعمالهم، ومنهم من يمكث فيها شهرا، ثم يخرج منها، ومنهم من يمكث فيها سنة ثم يخرج منها، ومنهم أطولهم فيها مكثا بقدر الدنيا منذ يوم خلقت إلى أن تفنى، فإذا أراد الله أن يخرجهم منها قالت اليهود والنصارى: ومن في النار من أهل الأديان والأوثان لمن في النار من أهل التوحيد: آمنتم بالله وكتبه ورسله، فنحن وأنتم اليوم في النار سواء، فيغضب لهم غضبا لم يغضبه لشيء فيما مضى، فيخرجهم إلى عين بين الجنة والصراط، فينبتون فيها نبات الطراثيث1 في حميل السيل، ثم يدخلون الجنة، مكتوب في جباههم هؤلاء الجهنميون عتقاء الرحمن، فيمكثون في الجنة ما شاء الله أن يمكثوا، ثم يسألون الله أن يمحو ذلك الإسم عنهم، فيبعث الله ملكا فيمحوه، ثم يبعث الله ملائكة معهم مسامير من نار، فيطبقونها على من بقي فيها، يسمرونها بتلك المسامير، فينساهم الله على عرشه، ويشتغل عنهم أهل الجنة بنعيمهم ولذاتهم، وذلك قوله تعالى: {رُبَمَا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوْ كَانُوا مُسْلِمِينَ} . ابن أبي حاتم وابن شاهين في السنة والديلمي2.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمینگی
٨٨٨٨۔۔۔ مدائینی سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) سے فرمایا : میں نے جو کمینہ دیکھا اسے کمزور مرؤت و رعایت والا پایا۔ (الدینوری)
8888- عن المدايني قال: قال عمر بن الخطاب: ما وجدت لئيما قط إلا وجدته رقيق المروءة. الدينوري.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٨٩۔۔۔ (الصدیق (رض)) اسلم سے روایت ہے فرماتے ہیں، میں نے ابوبکر (رض) کو دیکھا کہ انھوں نے اپنی زبان پکڑی ہے، (فرما رہے ہیں) اس نے نقصان دہ مقامات تک پہنچادیا ہے۔ مالک ، ابن المبارک، سعید ابن منصور، مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد فی الزھد، ھناد ، نسائی والخرائطی فی مکارم الاخلاق، الحلیۃ، بیھقی فی الشعب)
8889- "الصديق رضي الله عنه" عن أسلم قال: رأيت أبا بكر أخذ بلسانه: إن هذا أوردني الموارد.

مالك وابن المبارك "ص ش حم" في الزهد وهناد "ن" والخرائطي في مكارم الأخلاق" "حل هب".
tahqiq

তাহকীক: