কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৮৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩٠۔۔۔ اسلم سے روایت ہے فرماتے ہیں، حضرت عمر (رض) نے حضرت صدیق اکبر کو دیکھا کہ وہ اپنی زبان کو (ہاتھ سے پکڑ کر) لمبا کررہے ہیں، حضرت عمر نے فرمایا : اے خلیفہ رسول یہ آپ کیا کررہے ہیں ؟ فرمایا : اس نے مجھے خطرناک جگہوں تک پہنچادیا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جسم کا ہر عضو زبان کی تیزی کی شکایت کرتا ہے۔ (ابویعلی، بیھقی فی الشعب وقال ابن کثیر جید)
8890- عن أسلم أن عمر بن الخطاب اطلع على أبي بكر وهو يمد لسانه، قال: ما تصنع يا خليفة رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: إن هذا الذي أوردني الموارد، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ليس شيء من الجسد إلا يشكو ذرب اللسان على حدته. "ع هب" وقال ابن كثير جيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩١۔۔۔ زھری ، عبدالرحمن بن اسعد المقعد، عبدالرحمن بن الحارث بن ہشام ، اپنے والد سے نقل کرتے ہیں ، انھوں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے کوئی ایسا کام بتائیں جسے میں مضبوط تھام لوں، آپ نے فرمایا : اس کی حفاظت کر اور آپ نے زبان کی طرف اشارہ فرمایا۔ (ابن حبان ، ابونعیم، ابن عساکر وقال ھذا حدیث غریب من حدیث الزھری لم یذکرہ محمد بن یحییٰ الذھلی فی للزھریات)
8891 - عن الزهري عن عبد الرحمن بن أسعد المقعد عن عبد الرحمن ابن الحارث بن هشام عن أبيه أنه قال: يا رسول الله حدثني بأمر أعتصم به، قال: أملك عليك هذا، وأشار إلى لسانه. "حب" وأبو نعيم "كر". وقال هذا حديث غريب من حديث الزهري لم يذكره محمد بن يحيى الذهلي في الزهريات.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩٢۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے ان سے کسی نے کہا : آپ (زیادہ) نہیں بولتے ہیں ؟ فرمایا : میری زبان ایک درندہ (کی طرح) ہے مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے اسے چھوڑا تو یہ مجھے کھالے گی۔ (ابن عساکر)
8892- عن حذيفة أنه قيل له: مالك لا تتكلم؟ قال: إن لساني سبع أتخوف إن تركته يأكلني. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩٣۔۔۔ عقال بن شبہ بن ناجیۃ اپنے دادا صعصعۃ بن ناجیہ (رض) سے اپنے والد کے واسطہ سے نقل کرتے ہیں فرمایا : میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! مجھے نصیحت کریں ! آپ نے فرمایا : اپنی زبان اور اپنی شرمگاہ کی حفاظت کر، تو میں واپس ہو کر کہتے جارہا تھا، مجھے یہ بات کافی ہے۔ (ابن عساکر)
8893- عن عقال بن شبة بن صعصعة بن ناجية عن أبيه عن جده عن صعصعة بن ناجية قال: قلت: يا رسول الله أوصني، قال: أملك ما بين لحييك ورجليك، فوليت، وأنا أقول حسبي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩٤۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ کی قسم جس کے سوا کوئی قابل عبادت نہیں ، زمین پر، زبان سے زیادہ کوئی چیز لمبی قید کی مستحق نہیں۔ (ابن عساکر)
8894- عن ابن مسعود قال: والله الذي لا إله إلا هو ما على ظهر الأرض أحق بطول سجن من لسان. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فصل۔۔۔ زبان کے مخصوص برے اخلاق

زبان کی حفاطت
٨٨٩٥۔۔۔ حضرت معاذبن جبل (رض) سے روایت ہے انھوں نے کہا : اے اللہ کے نبی مجھے وصیت کریں ! آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی ایسی عبادت کر گویا تو اسے دیکھ رہا ہے اور اپنے آپ کو مردوں میں شمار کر، ہر درخت اور ٹیلہ کے پاس اللہ تعالیٰ کا ذکر کر، میں تجھے وہ چیز (نہ) بتاؤں جو تجھ سے زیادہ تجھ پر قابو رکھتی ہے ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں یا نبی اللہ ! آپ نے فرمایا : یہ اور اپنی کو کنارہ سے پکڑا، حضرت معاذ نے فرمایا : یہ آپ نے اسے حقیر سمجھا، آپ نے فرمایا : معاذ تیری ماں تجھے روئے ، جہنم کی آگ میں لوگوں کو نتھنوں کے بل اسی (زبان) نے گرایا ہے یہ تیرے حق میں یا تیرے خلاف بولے گی۔ (العسکری فی الامثال)
8895- عن معاذ بن جبل قال: يا نبي الله أوصني قال: اعبد الله كأنك تراه، وعد نفسك في الموتى، واذكر الله عند كل شجر ومدر، وأخبرك بما هو أملك عليك؟ قلت: بلى يا نبي الله، قال: هذا وأخذ بطرف لسانه، فقال معاذ: هذا؟ وكأنه تهاون به، فقال: ثكلتك أمك يا معاذ، وهل يكب الناس على مناخرهم في نار جهنم إلا هذا؟ وهل يقول إلا لك أوعليك. العسكري في الأمثال.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبان کے مخصوص اخلاق کی تفصیل

بہتان۔۔۔ ان کہی بات کسی کے ذمہ لگانا
٨٨٩٦۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : بےقصور پر الزام و بہتان آسمانوں سے زیادہ وزنی ہے۔ (الحکیم)
8896- عن علي قال: البهتان على البريء أثقل من السموات. الحكيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کی قسم کھانا
٨٨٩٧۔۔۔ (مسند عمر (رض)) حضررت قتادہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : جس کا یہ گمان ہے کہ وہ (ہی) مومن ہے تو وہ کافر ہے، اور جس کا یہ گمان ہے کہ (صرف) وہ جنتی ہے تو وہ دوزخی ہے، جس کا یہ گمان ہو کہ وہ عالم ہے تو وہ بےعلم ہے، آپ سے ایک شخص الجھ گیا اور کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے : آپ فرما رہے تھے جس کا یہ گمان ہو کہ وہ جنتی ہے تو وہ دوزخی ہے۔ (الحارث)

تالی یہ ہے کہ انسان کسی دوسرے کے بارے ایسا فیصلہ کرے جس کا اسے کوئی اختیار نہیں گویا گویا وہ اللہ تعالیٰ کے معاملات میں مداخلت کی کوشش کررہا ہے، کسی سے یہ کہنا کہ تجھے تو اللہ تعالیٰ نہیں بخشے گا، تو تو جنت میں نہیں جائے گا، تیری نماز تو قبول نہیں ہوگی۔
8897- "مسند عمر رضي الله عنه" عن قتادة أن عمر بن الخطاب قال: من زعم أنه مؤمن فهو كافر، ومن زعم أنه في الجنة فهو في النار، ومن زعم أنه عالم فهو جاهل، فنازعه رجل فقال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: من زعم أنه في الجنة فهو في النار. الحارث.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باچھیں چیر کر گفتگو کرنا
٨٨٩٨۔۔۔ (عمر (رض)) حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت عمر (رض) نے فرمایا : گفتگو کے پیچ وتاب ، ڈھب اور انداز شیطانی پیچ وتاب ہیں۔ (ابوعبید فی الفریب وابن ابی الدنیا وابن عبدالبرفی العلم)

تشریح :۔۔۔ اس کا مظاہرہ آج میڈیا پر ہونے والی گفتگو سے خوب ہوتا ہے۔
8898- "عمر رضي الله عنه" عن أنس قال: قال عمر بن الخطاب: إن شقاشق1 الكلام من شقاشق الشيطان. أبو عبيد في الغريب وابن أبي الدنيا وابن عبد البر في العلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৮৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ باچھیں چیر کر گفتگو کرنا
٨٨٩٩۔۔۔ زیدبن اسلم سے روایت ہے کہ حضرت سعد (رض) اپنے بیٹے عمر بن سعد سے ناراض ہوگئے ، تو آپ کے دوست احباب آپ کے پاس آئے اور آپ سے گفتگو کی، حضرت عمر (رض) نے انتہائی مبالغہ آمیز تقریر کی تو حضرت سعد (رض) نے کہا : مجھے اس وقت سے زیادہ آپ کبھی برے لگے، لوگوں نے کہا کیوں ؟ فرمایا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا ہے فرمایا : اس وقت تک قیامت قائم نہیں ہوگی جب تک ایسے لوگ نہ آجائیں جو اپنی زبانوں سے (حروف) ایسے کھائیں گے جیسے گائے اپنی زبانوں سے کھاتی ہیں۔ (مربرقم : ٧٩١٤)
8899- عن زيد بن أسلم قال: غضب سعد على ابنه عمر بن سعد، فمشى إليه رجال من أصحابه، فكلموه فتكلم عمر فأبلغ، فقال سعد: ما كنت قط أبغض إلي منك الآن، قالوا لم؟ قال: إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا تقوم الساعة حتى يأتي قوم يأكلون بألسنتهم كما تأكل البقر بألسنتها. "ز" مر برقم [7914".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عار دلانا
٨٩٠٠۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : اپنے بھائی کو عارمت دلا، اللہ تعالیٰ کی تعریف کر جس نے تجھے عافیت بخشی۔ (ابن عساکر)
8900- عن أبي الدرداء قال: لا تعير أخاك، واحمد الله الذي عافاك. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عار دلانا
٨٩٠١۔۔۔ ابوقلانہ سے روایت ہے کہ حضرت ابوالدرداء (رض) ایک شخص کے پاس سے گزرے جس سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا تھا لوگ اسے گالیاں دے رہے تھے، آپ نے فرمایا : اگر تم اسے کسی کنوئیں میں پڑا پاتے تو اسے نہ نکالتے ؟ لوگوں نے کہا : کیوں نہیں ضرور نکالتے، آپ نے فرمایا : سو اپنے بھائی کو برا بھلا مت کہو اور اللہ تعالیٰ کا شکر کرو جس نے تمہیں عافیت بخشی، لوگوں نے کہا : آپ اس سے بغض نہیں رکھتے ؟ فرمایا : مجھے اس کے عمل سے بغض ہے جب وہ یہ کام چھوڑدے تو وہ میرا بھائی ہے۔ (ابن عساکر)
8901- عن أبي قلابة أن أبا الدرداء مر على رجل قد أصاب ذنبا فكانوا يسبونه، فقال: أرأيتم لو وجدتموه في قليب1 ألم تكونوا مستخرجيه قالوا: بلى قال: فلا تسبوا أخاكم، واحمدوا الله الذي عافاكم، قالوا: أفلا تبغضه؟ قال: إنما أبغض عمله، فإذا تركه فهو أخي. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دوزبانوں والا
٨٩٠٢۔۔۔ حضرت (ابن مسعود (رض)) سے روایت ہے فرمایا : دوزبانوں والے کے لیے قیامت میں آگ کی دوزبانیں ہوں گی، (ابن عساکر)

تشریح :۔۔۔ ایک سے کچھ کہا، دوسرے سے اس کے خلاف کہہ دیا، نتیجہ خود ظاہر ہے۔
8902- "ابن مسعود رضي الله عنه" عن ابن مسعود قال: ذو اللسانين في الدنيا له لسانان من نار يوم القيامة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لایعنی فضول باتوں کے متعلق سوال
٨٩٠٣۔۔۔ (ابی بن کعب (رض)) مسروق سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے حضرت ابی بن کعب رضی سے کسی چیز کے متعلق پوچھا : آپ نے فرمایا، ابھی تک یہ پیش نہیں آئی ؟ میں نے کہا، نہیں : فرمایا : ہمیں مہلت دو یہاں تک کہ یہ بات پیش آئے اور ہم تمہارے لیے اجتہاد کریں گے۔ (ابن عساکر)
8903- "أبي بن كعب رضي الله عنه" عن مسروق قال: سألت أبي بن كعب عن شيء فقال: أكان بعد؟ قلت: لا، قال: فأجمنا1 حتى يكون فإذا كان اجتهدنا لك رأينا. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لایعنی فضول باتوں کے متعلق سوال
٨٩٠٤۔۔۔ زھری سے روایت ہے کہ ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت زیدبن ثابت (رض) کہا کرتے تھے :( جب ان سے کوئی بات پوچھی جاتی) کیا یہ پیش آگئی ہے ؟ اگر لوگ کہتے : جی ہاں ، تو حضرت زید اس کے بارے میں جو کچھ جانتے اور سمجھتے تھے بتا دیتے تھے، اور اگر وہ کہتے : ابھی تک پیش نہیں آئی تو فرماتے : اس بات کو چھوڑے رکھو یہاں تک کہ پیش آجائے۔ (الدارمی، ابن عساکر)
8904- عن الزهري قال: بلغنا أن زيد بن ثابت كان يقول: إذا سئل عن الأمر أكان هذا؟ فإن قالوا نعم، قد كان حدث فيه بالذي يعلم والذي يرى، وإن قالوا لم يكن قال: فذروه حتى يكون. الدارمي "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لایعنی فضول باتوں کے متعلق سوال
٨٩٠٥۔۔۔ شعبی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمار بن یاسر (رض) سے کسی مسئلہ کے متعلق پوچھا گیا : آپ نے فرمایا : کیا یہ ابھی تک پیش نہیں آیا ؟ لوگوں نے کہا : نہیں فرمایا : اسے رہنے دو یہاں تک کہ پیش آجائے، جب پیش آئے گا ہم تمہارے لیے کوشش کریں گے۔ (ابن عساکر)
8905- عن الشعبي قال: سئل عمار بن ياسر عن مسألة؟ فقال هل كان هذا بعد؟ قالوا: لا، قال: فدعوها حتى تكون، فإذا كان تجشمناها لكم. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لایعنی فضول باتوں کے متعلق سوال
٨٩٠٦۔۔۔ حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : جو واقعہ پیش نہیں آیا اس کے متعلق سوال نہ کرو، کیونکہ میں نے حضرت عمر (رض) کو فرماتے سنا : کہ وہ اس شخص کو برا بھلاکہتے ہیں جو انہونی باتوں کے متعلق سوال کرے۔ (ابن ابی خثیمہ وابن عبدالبر معافی العلم)
8906- عن ابن عمر قال: لا تسألوا عما لم يكن، فإني سمعت عمر يلعن من سأل عما لم يكن. ابن أبي خثيمة وابن عبد البر معا في العلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لایعنی فضول باتوں کے متعلق سوال
٨٩٠٧۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : اللہ تعالیٰ کی قسم میں اس شخص پر پابندی لگاؤں گا جو انہونی باتوں کے متعلق سوال کرتا ہے کیونکہ جو کچھ ہونے والا ہے اللہ تعالیٰ نے اسے بیان کردیا ہے۔ (الدارمی وابن عبدالبرفی العلم)
8907- عن عمر قال: أحرج بالله على رجل يسأل عما لم يكن، فإن الله قد بين ما هو كائن. الدارمي وابن عبد البر في العلم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گالی وگلوچ
٨٩٠٨۔۔۔ ابراہیم سے روایت ہے کہ لوگ کہا کرتے تھے، آدمی کسی آدمی کو کہتا ہے : اوکتے، اوخنزیر، اوگدھے ! تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : تمہاری کیا رائے ہے کہ میں نے اسے کتا، خنزیر یا گدھا بنایا ہے ؟ (ابن جریر)
8908- عن إبراهيم قال: كانوا يقولون: إذا قال الرجل للرجل يا كلب يا خنزير يا حمار قال الله عز وجل: أتراني خلقته كلبا أو خنزيرا أو حمارا؟ ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ گالی وگلوچ
٨٩٠٩۔ عطاء سے روایت ہے فرمایا : اس بات سے روکا گیا ہے کہ کوئی کسی سے کہے : اللہ تعالیٰ تیرا چہرہ بگاڑے (بیھقی فی الشعب
8909- عن عطاء قال: نهى أن يقول الرجل للرجل قبح الله وجهك. "هب".
tahqiq

তাহকীক: