কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৯১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ ہوا کو گالی دینا
٨٩١٠۔۔۔ (مسند اسیرین جابرالتمیمی (رض)) قتادہ ابوالعالیہ سے روایت کرتے ہیں وہ اسیرین جابر (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں ایک دفعہ ہوا چلی تو کسی شخص نے اس پر لعنت کی، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس پر لعنت نہ کرو کیونکہ اسے (چلنے کا) حکم دیا گیا ہے، جس نے ناحق کسی چیز پر لعنت کی تو وہ لعنت اس (لعنت کرنے والے) پر لوٹ آئے گی۔ (ابونعیم)
8910- "مسند أسير بن جابر التميمي" عن قتادة عن أبي العالية عن أسير بن جابر أن ريحا هبت على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم فلعنها رجل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تلعنها، فإنها مأمورة، وإنه من لعن شيئا ليس بأهله رجعت اللعنة عليه. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کو گالی دینا
٨٩١١۔۔۔ حضرت (عمر (رض)) نے فرمایا : مردوں کو گالی نہ دیاکرو، کیونکہ مردوں کو جو گالی دی جاتی ہے اس سے زندوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8911- "عمر رضي الله عنه" قال: لا تسبوا الأموات، فإن ما يسب به الميت يؤذى به الحي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کو گالی دینا
٨٩١٢۔۔۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مردوں کو گالی دینے سے منع کیا ہے۔ (ابن النجار)
8912- عن المغيرة بن شعبة، قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن سب الموتى. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مردوں کو گالی دینا
٨٩١٣۔۔۔ نیبط سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابی احیحۃ کی قبر کے پاس سے گزرے، تو حضرت ابوبکر (رض) کہنے لگے : یہ ابواحیحۃ فاسق کی قبر ہے اور حضرت خالد بن سعید نے کہا : اللہ کی قسم مجھے اس بات سے خوشی نہیں کہ وہ اعلی علیین میں ہوگا، بلکہ وہ بھی ابوقحافہ کی طرح ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مردوں کو گالی نہ دیا کرو ورنہ تم زندوں کو ناراض کردوگے۔ (ابن عساکر)
8913- عن نبيط قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبر أبي أحيحة فقال أبو بكر: هذا قبر أبي أحيحة الفاسق، وقال خالد بن سعيد: والله ما يسرني أنه في أعلى عليين وأنه مثل أبي قحافة، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لا تسبوا الموتى فتغضبوا الأحياء. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جس گالی کی رخصت ہے
٨٩١٤۔۔۔ بقیہ، اسحاق بن ثعلبہ، مکحول حضرت سمرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہمیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گالی دینا سے منع کردیا ہے، اور فرمایا : کسی کو لازما برا بھلا کہنا ہو تو اس پر یہ الزام لگائے، نہ اس کے والد اور اس کی قوم کو گالی دے، لیکن جب اس کی حالت سے وہ واقف ہو تو یوں کہے : تو بخیل ہے بزدل ہے، اور فرمایا : جس نے دھوکا باز پر پر دی ڈالا تو وہ اسی جیسا ہے ، اور نہ تم میں سے کوئی اپنے دوست کے قیدی کو پیش کرے کہ وہ اسے پکڑ کر قتل کردے۔ (ابن عدی فی الکامل، ابن عساکر، قالا : وبھذا الا سناد غیر ماذ کرنا، احادیث مع ماذ کرنا کلھا غیر محفوظ وقال ابن ابی حاتم : سالت ابی عن اسحاق بن ثعلبہ فقال : شیخ مجھول)
8914- عن بقية عن إسحاق بن ثعلبة عن مكحول عن سمرة قال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نسب، وقال: إذا كان أحدكم سابا صاحبه لا محالة، فلا يفتر عليه، ولا يسب والده ولا يسب قومه، ولكن إذا كان يعلم فليقل: إنك بخيل إنك جبان، وقال: من كتم على غال فهو مثله وقال: لا يعترض أحدكم أسير صاحبه فيأخذه فيقتله. "عد كر" وقالا: وبهذا الإسناد غير ما ذكرنا أحاديث مع ما ذكرنا كلها غير محفوظة، وقال ابن أبي حاتم: سألت أبي عن إسحاق بن ثعلبة فقال: شيخ مجهول. الشعر المذموم
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل مذمت اشعار
٨٩١٥۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ کسی کا پیٹ پیپ سے بھرجائے یہ شعروں کے بھرے جانے کی نسبت سے بہتر ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8915- عن عمر قال: لأن يمتلئ جوف الرجل قيحا خير من أن يمتلئ شعرا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩١٦۔۔۔ حضرت عوف بن مالک اشجعی سے روایت فرمایا : اگر میری توند سے لے کر ہنسلی تک ، سارا پیٹ اچھلتی پیپ او خون سے بھرجائے تو یہ مجھے شعر کے بھر جانے کی نسبت زیادہ محبوب ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8916- عن عوف بن مالك الأشجعي قال: لأن يمتلئ ما بين عانتي إلى رهابتي قيحا يتخضخض ودما أحب إلي من أن يمتلئ شعرا. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩١٧۔۔۔ سالم بن عبداللہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے نعمان بن عدی کو میسان کا گورنر بنایا وہ شعر کہا کرتے تھے انھوں نے کہا : آگاہ ! کیا حسناء کو بھی پتا ہے اس کا خاوند میسان میں شیشے اور کدو میں شراب پیتا ہے ، میں جب چاہتا ہوں تو گاؤں کے دیہاتی مجھے گانا سناتے ہیں، اور ایک ناچنے والی لڑکی جوہر نشان پر دوزانوں بیٹھ جاتی ہے، اگر تو میرا شراب میں شریک ساتھی ہے تو بڑا جام مجھے پلا، مجھے چھوٹا جام جس میں سوراخ ہے نہ پلا، شاید امیرالمومنین اسے برا سمجھیں ہمارا ٹوٹے ہوئے خیمہ میں مل بیٹھ کر شراب پینا۔
جب حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوا کہ انھوں نے کہا ہے تو فرمایا ہاں مجھے اس کی یہ بات بری لگی ہے : جس کی اس سے ملاقات ہوا سے بتادے کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے، ان کی قوم کا ایک شخص ان کے پاس گیا، اور انھوں معزقل ہونے کی اطلاع دی، تو وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے ، اور کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں جو کچھ (اشعار میں ) کہا : اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا ہے، چونکہ میں ایک شاعر آدمی تھا اس لیے ایک فضول بات کو شعر کی صورت میں کہہ دیا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اب تم میری گورنری وغیرہ کچھ نہیں کرسکتے، جب تک بھی تم زندہ رہو، اگرچہ تم نے جو بھی کہا ہے۔ (ابن سعد)
جب حضرت عمر (رض) کو معلوم ہوا کہ انھوں نے کہا ہے تو فرمایا ہاں مجھے اس کی یہ بات بری لگی ہے : جس کی اس سے ملاقات ہوا سے بتادے کہ میں نے اسے معزول کردیا ہے، ان کی قوم کا ایک شخص ان کے پاس گیا، اور انھوں معزقل ہونے کی اطلاع دی، تو وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آئے ، اور کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! میں جو کچھ (اشعار میں ) کہا : اس میں سے کچھ بھی نہیں کیا ہے، چونکہ میں ایک شاعر آدمی تھا اس لیے ایک فضول بات کو شعر کی صورت میں کہہ دیا، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا اللہ کی قسم ! اب تم میری گورنری وغیرہ کچھ نہیں کرسکتے، جب تک بھی تم زندہ رہو، اگرچہ تم نے جو بھی کہا ہے۔ (ابن سعد)
8917- عن سالم بن عبد الله قال: كان عمر بن الخطاب قد استعمل النعمان بن عدي على ميسان، وكان يقول الشعر فقال:
ألا هل أتى الحسناء أن حليلها ... بميسان يسقى في زجاج وحنتم
إذا شئت غنتني دهاقين قرية ... ورقاصة تحثو على كل ميسم
فإن كنت ندماني فبالأكبر اسقني ... ولا تسقني بالأصغر المتثلم
لعل أمير المؤمنين يسوؤه ... تنادمنا في الجوسق المتهدم
فلما بلغ عمر بن الخطاب قوله، قال: نعم والله إنه ليسوءني من لقيه فليخبره أني قد عزلته، فقدم عليه رجل من قومه، فأخبره بعزله، فقدم على عمر فقال: والله ما صنعت شيئا مما قلت، ولكن كنت امرءا شاعرا وجدت فضلا من قول فقلت فيه الشعر، فقال عمر: أما والله لا تعمل لي عملا ما بقيت وقد قلت ما قلت. ابن سعد.
ألا هل أتى الحسناء أن حليلها ... بميسان يسقى في زجاج وحنتم
إذا شئت غنتني دهاقين قرية ... ورقاصة تحثو على كل ميسم
فإن كنت ندماني فبالأكبر اسقني ... ولا تسقني بالأصغر المتثلم
لعل أمير المؤمنين يسوؤه ... تنادمنا في الجوسق المتهدم
فلما بلغ عمر بن الخطاب قوله، قال: نعم والله إنه ليسوءني من لقيه فليخبره أني قد عزلته، فقدم عليه رجل من قومه، فأخبره بعزله، فقدم على عمر فقال: والله ما صنعت شيئا مما قلت، ولكن كنت امرءا شاعرا وجدت فضلا من قول فقلت فيه الشعر، فقال عمر: أما والله لا تعمل لي عملا ما بقيت وقد قلت ما قلت. ابن سعد.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩١٨۔۔۔ قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عمر (رض) کے زمانہ میں کسی قوم کی ہجو بیان کی ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تمہارے لیے اس کی زبان (کاٹنا) جائز ہے پھر انھیں بلایا اور فرمایا : خبردار تم وہ کام نہ کرنا جو میں نے کہا، میں نے تو اس لیے کہا تاکہ دوبارہ ایسا نہ کرے۔ (بیھقی فی الشعب ، عبدالرزاق)
8918- عن قتادة أن رجلا هجا قوما في زمان عمر بن الخطاب فقال عمر: لكم لسانه ثم دعاهم، فقال: إياكم أن تعرضوا له بالذي قلت فإني إنما قلت ذلك كيلا يعود. "هب عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩١٩۔۔۔ امام شعبی سے روایت ہے کہ زبرقان بن بدر حضرت عمر (رض) کے پاس آئے وہ اپنی قوم کے سردار تھے انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! جرول حطیۃ نے میری ہجو ومذمت بیان کی ہے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اس نے کن الفاظ میں تمہاری ہجو کی ہے ؟ تو انھوں نے کہا : اپنے اس شعر میں :
کرم نوازیوں کو چھوڑ اور ان کی تلاش میں سفر نہ کر
آرام سے بیٹھ جا کیونکہ تو سنگ دل کھانے والا ہے
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تو یہ ہجو سنائی نہیں دیتی یہ تو ڈانٹ ڈپٹ ہے تو زبرقان بولے : امیرالمومنین اللہ کی قسم ! جیسی میری ہجو ہوئی ایسی کسی کی نہیں ہوئی، تو آپ میری ہجو کرنے والے سے میرا بدلہ لیں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے پاس ابن الفریعہ یعنی حسان بن ثابت (رض) کو لایا جائے، جب حضرت حسان آگئے تو آپ نے ان سے فرمایا : حسان ! زبرقان کا خیال ہے کہ جرول نے اس کی ہجو کی ہے حضرت حسان نے پوچھا : کن الفاظ میں ؟ تو آپ نے جرول کا قول سنایا :
کر نوازیاں ترک کردے اور ان کی تلاش و جستجو میں سفر نہ کر، بیٹھ جا کیونکہ تو سنگ دل کھانے والا ہے
حضرت حسان نے کہا : امیرالمومنین ! اس نے اس کی ہجو نہیں کی، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو ان الفاظ میں کیا کہا ہے ؟ اس نے اس پر اعتراض کیا ہے ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے پاس جرول کو لایا جائے، جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا : اپنی جان کے دشمن ! تو مسلمانوں کی برائی بیان کرتا ہے پھر انھیں قید میں دالنے کا حکم دیا تو وہ قید خانہ بھیج دیئے گئے، چنانچہ جیل سے انھوں نے امیرالمومنین کو خط لکھا :
آپ ان چوزوں سے کیا کہیں گے جو مقام ذی مرخ میں ہیں جن کے پوٹے سرخ ہیں ان کے پاس پانی ہے نہ کوئی درخت ، آپ نے ان کے ذمہ دار کو تاریکی گڑھے میں ڈال دیا ہے، عمر اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرمائے مجھ پر احسان فرمایئے، آپ اپنے ساتھی کے بعد وہ امام خلیفہ ہیں کہ لوگوں نے عقلمندی کی چابیاں آپ کے سامنے ڈال دی ہیں، انھوں نے یہ چابیاں آپ
کے سامنے لاکر آپ کو ترجیح اور فوقیت نہیں دی، لیکن آپ کی وجہ سے ان کیے لیے فوقیت اور ترجیح ہے۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر (رض) کو ان کی کمزور حالی اور ان کی قوم کی معمولی مدد کی اطلاع دی گئی، آپ نے انھیں بلایا اور ان سے فرمایا : جرول تمہارا ناس ہو ! تم مسلمان کی ہجو کیوں بیان کرتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : چندباتوں کی وجہ سے جو مجھے درپیش ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میری زبان پر ایک چیونٹی رینگتی ہے، دوم یہ کہ یہ میرے اہل و عیال کی کمائی کا ذریعہ ہے، سوم زبرقان اپنی قوم میں مالدار شخص ہے، اسے میری پریشان حال اور عیال کی کثرت کا علم ہے، پھر بھی مجھ پر مہربانی نہیں کرتا، اور مجھے سوال پر مجبور کرتا ہے، اور جب میں نے اس سے سوال کیا تو امیر المومنین اس نے مجھے محروم رکھا، جبکہ سوال ہر عطیہ کی قیمت ہے۔
میں اسے دیکھتاہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مال میں لوٹ پوٹ ہوتا ہے جبکہ میں فقروفاقہ میں بےبس ہوں، میں اسے دیکھتا ہوں کہ وہ اونٹ کی طرح ڈکار لیتا ہے اور میں اپنے گھر میں بچوں کے ساتھ جو کی روٹی کے ٹکڑوں کا محتاج ہوں
امیر المومنین ! جو گزر اوقات کی روازی سے عاجز ہوگا وہ خاموش رہنے سے زیادہ عاجز ہوگا، تو حضرت عمر (رض) کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ، اور فرمایا : تمہارے اہل عیال کتنے ہیں ؟ انھوں نے شمار کیے تو حضرت عمر (رض) ان کے لیے کھانے ، کپڑے اور اتنے خرچ کا حکم دیا جو ایک سال کے لیے کافی ہو، اور ان سے فرمایا : جب تمہیں ضرورت پڑے تو ہمارے پاس آنا، تمہیں ہمارے ہاں اسی جیسا (عطیہ) ملے گا۔
توجرول نے کہا : امیرالمومنین اللہ تعالیٰ آپ کو نیک لوگوں کا سا بدلہ اور بھلے لوگوں کا سا اجر عطا فرمائے، آپ نے نیکی ، صلہ رحمی، مہربانی اور احسان کیا ہے جب جرول چلے گئے تو حضرت عمر نے فرمایا : لوگو ! اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! جب تمہیں ان کی ضرورت کا پتہ چلے تو ان کی مدد کروان پر مہربانی کرو، اور انھیں سوال کرنے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے پوچھیں گے جب وہ مالدار ہو اور اس کے پاس قابل کفایت روزی ہو، کہ اس کے رشتہ دار، اور قریبی لوگ اور پڑوسی جب محتاج ہون تو اس سے سوال کرنے سے پہلے انھیں عطا کرے۔ (الشیرازی فی الالقاب)
کرم نوازیوں کو چھوڑ اور ان کی تلاش میں سفر نہ کر
آرام سے بیٹھ جا کیونکہ تو سنگ دل کھانے والا ہے
تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : مجھے تو یہ ہجو سنائی نہیں دیتی یہ تو ڈانٹ ڈپٹ ہے تو زبرقان بولے : امیرالمومنین اللہ کی قسم ! جیسی میری ہجو ہوئی ایسی کسی کی نہیں ہوئی، تو آپ میری ہجو کرنے والے سے میرا بدلہ لیں، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے پاس ابن الفریعہ یعنی حسان بن ثابت (رض) کو لایا جائے، جب حضرت حسان آگئے تو آپ نے ان سے فرمایا : حسان ! زبرقان کا خیال ہے کہ جرول نے اس کی ہجو کی ہے حضرت حسان نے پوچھا : کن الفاظ میں ؟ تو آپ نے جرول کا قول سنایا :
کر نوازیاں ترک کردے اور ان کی تلاش و جستجو میں سفر نہ کر، بیٹھ جا کیونکہ تو سنگ دل کھانے والا ہے
حضرت حسان نے کہا : امیرالمومنین ! اس نے اس کی ہجو نہیں کی، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تو ان الفاظ میں کیا کہا ہے ؟ اس نے اس پر اعتراض کیا ہے ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میرے پاس جرول کو لایا جائے، جب وہ آئے تو آپ نے فرمایا : اپنی جان کے دشمن ! تو مسلمانوں کی برائی بیان کرتا ہے پھر انھیں قید میں دالنے کا حکم دیا تو وہ قید خانہ بھیج دیئے گئے، چنانچہ جیل سے انھوں نے امیرالمومنین کو خط لکھا :
آپ ان چوزوں سے کیا کہیں گے جو مقام ذی مرخ میں ہیں جن کے پوٹے سرخ ہیں ان کے پاس پانی ہے نہ کوئی درخت ، آپ نے ان کے ذمہ دار کو تاریکی گڑھے میں ڈال دیا ہے، عمر اللہ تعالیٰ آپ کی رہنمائی فرمائے مجھ پر احسان فرمایئے، آپ اپنے ساتھی کے بعد وہ امام خلیفہ ہیں کہ لوگوں نے عقلمندی کی چابیاں آپ کے سامنے ڈال دی ہیں، انھوں نے یہ چابیاں آپ
کے سامنے لاکر آپ کو ترجیح اور فوقیت نہیں دی، لیکن آپ کی وجہ سے ان کیے لیے فوقیت اور ترجیح ہے۔
راوی کا بیان ہے کہ حضرت عمر (رض) کو ان کی کمزور حالی اور ان کی قوم کی معمولی مدد کی اطلاع دی گئی، آپ نے انھیں بلایا اور ان سے فرمایا : جرول تمہارا ناس ہو ! تم مسلمان کی ہجو کیوں بیان کرتے ہو ؟ تو انھوں نے کہا : چندباتوں کی وجہ سے جو مجھے درپیش ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ میری زبان پر ایک چیونٹی رینگتی ہے، دوم یہ کہ یہ میرے اہل و عیال کی کمائی کا ذریعہ ہے، سوم زبرقان اپنی قوم میں مالدار شخص ہے، اسے میری پریشان حال اور عیال کی کثرت کا علم ہے، پھر بھی مجھ پر مہربانی نہیں کرتا، اور مجھے سوال پر مجبور کرتا ہے، اور جب میں نے اس سے سوال کیا تو امیر المومنین اس نے مجھے محروم رکھا، جبکہ سوال ہر عطیہ کی قیمت ہے۔
میں اسے دیکھتاہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے مال میں لوٹ پوٹ ہوتا ہے جبکہ میں فقروفاقہ میں بےبس ہوں، میں اسے دیکھتا ہوں کہ وہ اونٹ کی طرح ڈکار لیتا ہے اور میں اپنے گھر میں بچوں کے ساتھ جو کی روٹی کے ٹکڑوں کا محتاج ہوں
امیر المومنین ! جو گزر اوقات کی روازی سے عاجز ہوگا وہ خاموش رہنے سے زیادہ عاجز ہوگا، تو حضرت عمر (رض) کی آنکھیں آنسوؤں سے بھر گئیں ، اور فرمایا : تمہارے اہل عیال کتنے ہیں ؟ انھوں نے شمار کیے تو حضرت عمر (رض) ان کے لیے کھانے ، کپڑے اور اتنے خرچ کا حکم دیا جو ایک سال کے لیے کافی ہو، اور ان سے فرمایا : جب تمہیں ضرورت پڑے تو ہمارے پاس آنا، تمہیں ہمارے ہاں اسی جیسا (عطیہ) ملے گا۔
توجرول نے کہا : امیرالمومنین اللہ تعالیٰ آپ کو نیک لوگوں کا سا بدلہ اور بھلے لوگوں کا سا اجر عطا فرمائے، آپ نے نیکی ، صلہ رحمی، مہربانی اور احسان کیا ہے جب جرول چلے گئے تو حضرت عمر نے فرمایا : لوگو ! اپنے پڑوسیوں اور رشتہ داروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! جب تمہیں ان کی ضرورت کا پتہ چلے تو ان کی مدد کروان پر مہربانی کرو، اور انھیں سوال کرنے پر مجبور نہ کرو، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بندے سے پوچھیں گے جب وہ مالدار ہو اور اس کے پاس قابل کفایت روزی ہو، کہ اس کے رشتہ دار، اور قریبی لوگ اور پڑوسی جب محتاج ہون تو اس سے سوال کرنے سے پہلے انھیں عطا کرے۔ (الشیرازی فی الالقاب)
8919- عن الشعبي أن الزبرقان بن بدر أتي عمر بن الخطاب، وكان سيد قومه، فقال: يا أمير المؤمنين إن جرولا هجاني - يعني الحطيئة - فقال عمر: بم هجاك؟ فقال بقوله:
دع المكارم لا ترحل لبغيتها ... واقعد فإنك أنت الطاعم الكاسي
فقال عمر: ما أسمع هجاء، إنما هي معاتبة، فقال الزبرقان: ياأمير المؤمنين والذي نفسي بيده ما هجي أحد بمثل ما هجيت به، فخذ لي ممن هجاني، فقال عمر: علي بابن الفريعة، يعني حسان بن ثابت، فلما أتي به قال له يا حسان: إن الزبرقان يزعم أن جرولا هجاه، فقال حسان بم؟ قال بقوله:
دع المكارم لا ترحل لبغيتها ... واقعد فإنك أنت الطاعم الكاسي
فقال حسان: ما هجاه يا أمير المؤمنين، قال فماذا صنع به؟ قال سلح عليه، فقال عمر: علي بجرول، فلما جيء به قال له: يا عدو نفسه تهجو المسلمين فأمر به فسجن، فكتب إلى عمر من السجن يا أمير المؤمنين.
ماذا تقول لأفراخ بذي مرخ ... حمر الحواصل لا ماء ولا شجر
ألقيت كاسبهم في قعر مظلمة ... فامنن علي هداك الله يا عمر
أنت الإمام الذي من بعد صاحبه ... ألقت إليك مقاليد النهى البشر
ما آثروك بها إذ قدموك لها ... لكن لأنفسهم كانت بك الأثر
قال وأخبر عمر برقة حاله وقلة نصر قومه له، فدعاه فقال له:
ويحك يا جرول لم تهجو المسلمين؟ قال: لخصال احتوتني إحداهن إنما هي: نملة تدب على لساني، وأخرى إنما هي كسب عيالي بعد، وثالثة أن الزبرقان ذو يسار في قومي، وقد عرف رقة حالي وكثرة عيالي، فلم يعطف علي، وأحوجني إلى المسألة، فلما سألته حرمني يا أمير المؤمنين والسؤال ثمن لكل نوال، وكنت أراه يتمرغ في مال الله ورسوله وأنا أتشحط في الفقر والعيلة، وكنت أراه يتجشأ جشاء البعير، وأنا أتقفر فتات خبز الشعير في رحلي مع عيالي، ويا أمير المؤمنين من عجز عن القوت كان أعجز منه عن السكوت، فدمعت عينا عمر، وقال: كم رأس مالك من العيال؟ فعدهم عليه فأمر لهم بطعام وكسوة ونفقة ما يكفيه سنة، وقال له: إذا احتجت فعد إلينا، فلك عندنا مثلها، فقال جرول: جزاك الله يا أمير المؤمنين جزاء الأبرار وأجر الأخيار، فقد بررت ووصلت وتعطفت وأمتننت، فلما مضى جرول قال عمر: أيها الناس اتقوا الله في ذوي الأرحام وجيرانكم، فمتى علمتم حاجتهم فواسوهم وتعطفوا عليهم، ولا تحوجوهم إلى المسألة، فإن الله عز وجل يسأل العبد إذا كان غنيا مكفيا عن رحمه وقريبه وجاره إذا كان محتاجا أن يعطيه قبل سؤاله إياه. الشيرازي في الألقاب.
دع المكارم لا ترحل لبغيتها ... واقعد فإنك أنت الطاعم الكاسي
فقال عمر: ما أسمع هجاء، إنما هي معاتبة، فقال الزبرقان: ياأمير المؤمنين والذي نفسي بيده ما هجي أحد بمثل ما هجيت به، فخذ لي ممن هجاني، فقال عمر: علي بابن الفريعة، يعني حسان بن ثابت، فلما أتي به قال له يا حسان: إن الزبرقان يزعم أن جرولا هجاه، فقال حسان بم؟ قال بقوله:
دع المكارم لا ترحل لبغيتها ... واقعد فإنك أنت الطاعم الكاسي
فقال حسان: ما هجاه يا أمير المؤمنين، قال فماذا صنع به؟ قال سلح عليه، فقال عمر: علي بجرول، فلما جيء به قال له: يا عدو نفسه تهجو المسلمين فأمر به فسجن، فكتب إلى عمر من السجن يا أمير المؤمنين.
ماذا تقول لأفراخ بذي مرخ ... حمر الحواصل لا ماء ولا شجر
ألقيت كاسبهم في قعر مظلمة ... فامنن علي هداك الله يا عمر
أنت الإمام الذي من بعد صاحبه ... ألقت إليك مقاليد النهى البشر
ما آثروك بها إذ قدموك لها ... لكن لأنفسهم كانت بك الأثر
قال وأخبر عمر برقة حاله وقلة نصر قومه له، فدعاه فقال له:
ويحك يا جرول لم تهجو المسلمين؟ قال: لخصال احتوتني إحداهن إنما هي: نملة تدب على لساني، وأخرى إنما هي كسب عيالي بعد، وثالثة أن الزبرقان ذو يسار في قومي، وقد عرف رقة حالي وكثرة عيالي، فلم يعطف علي، وأحوجني إلى المسألة، فلما سألته حرمني يا أمير المؤمنين والسؤال ثمن لكل نوال، وكنت أراه يتمرغ في مال الله ورسوله وأنا أتشحط في الفقر والعيلة، وكنت أراه يتجشأ جشاء البعير، وأنا أتقفر فتات خبز الشعير في رحلي مع عيالي، ويا أمير المؤمنين من عجز عن القوت كان أعجز منه عن السكوت، فدمعت عينا عمر، وقال: كم رأس مالك من العيال؟ فعدهم عليه فأمر لهم بطعام وكسوة ونفقة ما يكفيه سنة، وقال له: إذا احتجت فعد إلينا، فلك عندنا مثلها، فقال جرول: جزاك الله يا أمير المؤمنين جزاء الأبرار وأجر الأخيار، فقد بررت ووصلت وتعطفت وأمتننت، فلما مضى جرول قال عمر: أيها الناس اتقوا الله في ذوي الأرحام وجيرانكم، فمتى علمتم حاجتهم فواسوهم وتعطفوا عليهم، ولا تحوجوهم إلى المسألة، فإن الله عز وجل يسأل العبد إذا كان غنيا مكفيا عن رحمه وقريبه وجاره إذا كان محتاجا أن يعطيه قبل سؤاله إياه. الشيرازي في الألقاب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩٢٠۔۔۔ عمروبن حریث سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے دور میں ایک شاعر تھا جو بہت زیادہ اشعار کہتا تھا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو یہ شعر سے بھرجانے سے زیادہ بہتر ہے (ابن جریر
8920- عن عمرو بن الحريث أن شاعرا كان في عهد عمر يروي شعرا كثيرا، فقال عمر: لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩٢١۔۔۔ ضحاک بن عثمان سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے جب حطیہ کو زبرقان کی ہجو کی وجہ سے جیل سے رہا کیا تو اس سے کہا : شعر کہنے سے پچنا ، تو انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! مجھے اس کی قدر نہیں ، یہ میری اہل و عیال کا ذریعہ طعام اور میری زبان پر ایک چیونٹی ہے، فرمایا : اپنی اہلیہ کی تعریف کر، اور فتنہ تعریف سے بچنا، انھوں نے کہا : فتنہ انگیز تعریف کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم جو یہ کہتے ہوں فلاں کے بیٹے ، فلاں کے بیٹوں سے بہتر ہیں، (لوگوں کی) تعریف کرو (مگر) فضلیت کسی کو نہ دو (حطیہ نے) کہا امیرالمومنین ! آپ تو مجھ سے زیادہ شاعر ہیں۔ (ابن جریر)
8921- عن الضحاك بن عثمان قال: لما أرسل عمر بن الخطاب الحطيئة من الحبس في هجائه الزبرقان قال له: إياك والشعر، قال: لا أقدر يا أمير المؤمنين على تركه، مأكلة عيالي ونملة على لساني، قال فشبب بأهلك وإياك وكل مدحة مجحفة، قال: وما المدحة المجحفة؟ قال: تقول بنو فلان خير من بني فلان: إمدح ولا تفضل، قال: أنت يا أمير المؤمنين أشعر مني. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر گوئی کی مذمت
٨٩٢٢۔۔۔ عبدالحکم بن امین سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے جب حطیہ کو قید سے رہائی کا حکم دیا تو ان کے لیے کچھ اناج کا حکم جاری کیا، پھر فرمایا : جاؤاناج اور تمہارے اہل و عیال کھائیں ، جب یہ ختم ہوجائیں تو میرے پاس آجانا میں تمہیں اس سے زیادہ عطا کروں گا، اور کسی کی ہجو بیان نہ کرن اور نہ میں تمہاری زبان کاٹ دوں گا۔ (ابن جریر)
8922- عن عبد الحكم بن أعين قال: لما أطلق عمر الحطيئة من الحبس أمر له بأوساق من طعام، ثم قال: اذهب فكلها أنت وعيالك، فإذا فنيت فأتني أزدك، ولا تهجون أحدا فأقطع لسانك. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٣۔۔۔ عبدالعزیزبن عبداللہ بن خالد بن اسید سے روایت ہے فرمایا : حضرت عثمان بن عفان (رض) نے ایک شخص کو بلا بھیجا تو وہ آپ کے پاس آیا، آپ نے فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے تم شعر کہتے ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ، آپ نے فرمایا : ایسا نہ کرو، کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھرجائے جسے وہ دیکھے یہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرجائے۔ (البغوی فی مسند عثمان)
8923- عن عبد العزيز بن عبد الله بن خالد بن أسيد قال: أرسل عثمان بن عفان إلى رجل فأتاه، فقال: إنه بلغني أنك تقول الشعر؟ قال: نعم، قال: فلا تفعل، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا يريه خير له من أن يمتلئ شعرا. البغوي في مسند عثمان.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٤۔۔۔ اسودبن سریع (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! میں نے کچھ الفاظ میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی ہے اور کچھ میں آپ کی تعریف ہے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جہاں تک تمہارے رب کا تعلق ہے تو وہ مدح کو پسند کرتا ہے جن الفاظ میں تو نے رب کی مدح کی ہے وہ سناؤ، اور جن الفاظ میں میری تعریف کی ہے وہ رہنے دو ، تو میں وہ اشعار پڑھنے لگا اتنے میں ایک گندمی رنگ ، لمبا، جس کی کنپٹیوں پر بال نہ تھے جو دونوں ہاتھوں سے کام کرتا تھا، اس نے اجازت چاہی ، تو مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے لیے خاموش کردیا، ابوسلمہ نے یہ بات پوچھی کہ آپ کو کیسے خاموش رہنے کو کہا، فرمایا : جیسے بلی کو اشارہ کیا جاتا ہے، وہ شخص آیا، اور تھوڑی دیر کے بعد گفتگو کرکے چلا گیا، میں پھر بدستور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اشعار سنانے لگا، پھر وہ شخص لوٹ آیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کے لیے خاموش رہنے کو کہا، اور اس کی کیفیت بیان کی، میں نے عرض کیا : یارسول اللہ یہ کون ہے جس کی وجہ سے آپ مجھے خاموش کرادیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : یہ شخص فضول باتوں کو پسند نہیں کرتا، یہ عمر بن خطاب ہے۔ (مسند احمد، نسائی، حاکم ، ابونعیم)
8924- عن الأسود بن سريع قال: أتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا رسول الله إني قد حمدت الله ربي تبارك وتعالى بمحامد، ومدح وإياك، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما إن ربك يحب المدح هات ما امتدحت به ربك، وما مدحتني به فدعه، فجعلت أنشده، فجاء رجل فاستأذن، آدم طوال أصلع، أعسر يسر فاستنصتني له رسول الله صلى الله عليه وسلم، ووصف أبو سلمة كيف استنصته، قال: كما يصنع بالهر فدخل الرجل، فتكلم ساعة، ثم خرج، ثم أخذت أنشده أيضا، ثم رجع بعد فاستنصتني رسول الله صلى الله عليه وسلم، ووصفه أيضا، فقلت: يا رسول الله من ذا الذي تستنصتني له؟ فقال: هذا رجل لا يحب الباطل، هذا عمر بن الخطاب. "حم ن ك" وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٥۔۔۔ حضرت عثمان (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم میں سے کسی کا پیٹ دکھائی دینے والی پیپ سے بھر جائے یہ، شعر سے بھرجانے سے بہتر ہے۔ (ابن جریر)
8925- عن عثمان قال: لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا حتى يريه خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٦۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے یہ شعر کے بھرجانے سے بہتر ہے۔ (ابن جریر)
8926- عن ابن عباس قال: لأن يمتلئ جوف الرجل قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٧۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : کہ ایک شاعر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا آپ نے فرمایا : بلال ! اس کی زبان مجھ سے روک دو چنانچہ انھوں نے اسے چالیس درھم اور ایک کپڑوں کا جوڑا دیا، تو شاعر نے کہا : اللہ تعالیٰ کی قسم ! انھوں نے میری زبان کاٹ دی۔ (ابن عساکر)
8927- عن ابن عباس أن شاعرا أتى النبي صلى الله عليه وسلم، فقال يا بلال اقطع لسانه عني فأعطاه أربعين درهما وحلة، فقال: قطع والله لساني. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٨۔۔۔ حضرت ابن مسعود (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھرجائے یہ شعر کے بھرجانے سے بہتر ہے۔ (ابن جریر)
8928- عن ابن مسعود قال: لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٢٩۔۔۔ حضرت ابولدرداء (رض) سے روایت ہے کہ تم میں سے کسی کا پیٹ گرم پتھروں سے بھر کر پھٹ جائے تو یہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ (ابن جریر)
8929- عن أبي الدرداء: لأن يمتلئ جوف أحدكم رضفا1 حتى ينقطع خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
তাহকীক: