কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৮৯৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٣٠۔۔۔ حضرت ابوسعید (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہم نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ راستہ میں تھے کہ اچانک آپ کے سامنے ایک شاعر شعر پڑھتے ہوئے آگیا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : شیطان کو پکڑو، یا شیطان کو روکو ، تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھرجائے یہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھر جائے۔ (ابن جریر)
8930- عن أبي سعيد قال: بينما نحن مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في العرج إذ عرض له شاعر ينشد، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: خذوا الشيطان أو أمسكوا الشيطان، لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ پیپ بھرنا شعر سے بھرنے سے بہتر ہے
٨٩٣١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھرجائے یہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرجائے۔ (ابن جریر)
8931- عن أبي هريرة قال: لأن يمتلئ جوف أحدكم قيحا خير له من أن يمتلئ شعرا. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٢۔۔۔ (الصدیق (رض)) عبداللہ بن عبید اللہ بن عمیر اپنے والد سے وہ لبید شاعر سے نقل کرتے ہیں کہ وہ حضرت صدیق اکبر (رض) کے پاس آئے، اور کہا : آگاہ رہو ہر چیز جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہے باطل ہے، آپ نے فرمایا : تو نے سچ کہا : اور کہا : ہر نعمت ضرور ختم ہونے والی ہے، آپ نے فرمایا : تم نے جھوٹ بولا، اللہ تعالیٰ کے ہاں نعمتیں ختم نہیں ہوتیں، جب وہ چلے گئے تو حضرت صدیق اکبر (رض) نے فرمایا : بعض دفعہ شاعرحکمت کی بات کہہ دیتا ہے۔ (مسند فی الزھد مرجحث الشعر المحمود ومرحدیث الاقوال برقم ۔ ٨٩٧٧/٨٩٧٨)
8932- "الصديق رضي الله عنه" عن عبد الله بن عبيد الله بن عمير عن أبيه عن لبيد الشاعر أنه قدم على أبي بكر الصديق فقال:

ألا كل شيء ما خلا الله باطل

فقال: صدقت، قال: "وكل نعيم لا محالة زائل"

فقال: كذبت عند الله نعيم لا يزول، فلما ولى قال أبو بكر: ربما قال الشاعر: الكلمة من الحكمة. "حم" في الزهد. مر بحث الشعر المحمود ومر حديث الأقوال برقم [7977 و 7978] .
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٣۔۔۔ (عمر (رض)) حضرت سائب بن یزید رضہ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ہم حضرت عبدالرحمن بن عرف (رض) کے ساتھ تھے تو حضرت عبدالرحمن بن عوف راستہ سے علیحدہ ہوگئے، پھر زباح بن مغترف سے کہا : اے ابو حسان ہمیں کچھ گن گناکے سناؤ، وہ اچھے انداز سے عربی گانے گاتے تھے، اسی اثناء میں کہ زباح انھیں گا کر سنا رہے تھے تو حضرت عمر (رض) نے انھیں دیکھ لیا، آپ نے فرمایا : یہ کیا سلسلہ ہے ؟ تو عبدالرحمن نے کہا : ایسے ہی رات (کا سفر) کم کرنے کے لیے دل لگی کررہے تھے، فرمایا : اگر تم نے اس طرح کا کوئی کام کرنا تھا تو ضراربن خطاب کے شعر سناکرو۔ (ابن سعد)
8933- "عمر رضي الله عنه" عن السائب بن يزيد قال بينا نحن مع عبد الرحمن بن عوف فاعتزل عبد الرحمن الطريق، ثم قال لرباح بن المغترف: غننا يا أبا حسان، وكان يحسن النصب1 فبينما رباح يغنيهم أدركهم عمر بن الخطاب، فقال: ما هذا؟ فقال عبد الرحمن: نلهو ونقصر عنا الليل، قال: لأن كنت آخذا فعليك بشعر ضرار بن الخطاب. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٤۔۔۔ عبداللہ بن یحییٰ سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) نے نابغہ بنی جعدہ سے کہا : ہمیں وہ اشعار سناؤ جو اللہ تعالیٰ نے معاف کیے ہیں، تو انھوں نے ایک کلمہ (قصدہ) سنایا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کیا تم ہی اس کے قائل ہو ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ، عرب قصیدہ کو کلمہ کہتے ہیں۔ (ابن سعد)
8934- عن عبد الله بن يحيى قال: قال عمر بن الخطاب للنابغة نابغة بني جعدي: أنشدنا مما عفا الله عنه، فأسمعه كلمة، قال: وإنك لقائلها؟ قال: نعم والعرب تسمي القصيدة كلمة. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٥۔۔۔ امام شعبی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) کو خط لکھا جب وہ کوفہ کے گورنر تھے : اپنے پاس شعرا کو بلاکر ان سے جاہلیت اور اسلام کے اشعار سنوپھر ان کے بارے میں مجھے لکھو، تو مغیرہ بن شعبہ (رض) نے انھیں بلایا، لبیدبن ربیعہ سے کہا : جاہلیت اور اسلام کے جو اشعار تم نے کہے ہیں مجھے سناؤ، تو انھوں نے کہا : میں نے اس کا بدلہ سورة بقرہ اور سورة آل عمران اختیار کرلی ہے اور اغلب کرلی ہے اور اغلب عجلی سے کہا : مجھے شعر سناؤ تو انھوں نے کہا :

آپ زجزیہ اشعار سننا چاہتے ہیں یا قصیدہ ، آپ نے موجودہ بہترین چیز کا مطالبہ کیا ہے، تو حضرت مغیرہ بن شعبہ (رض) نے یہ کیفیت حضرت عمر (رض) کی طرف لکھی، تو حضرت عمر (رض) نے ان کی طرف جوابا لکھا، اغلب کے وظیفہ سے پانچ سودرھم کم کردو، اور لبید کے وظیفہ میں اضافہ کردو، تو اغلب نے حضرت عمر کی طرف سفر کیا، اور کہا : کیا اگر میں آپ کی بات مانوں پھر بھی آپ مجھے کم دیں گے ؟ تو حضرت عمر (رض) نے حضرت مغیرہ (رض) کی طرف لکھا : کہ اغلب کو پانچ سودرھم جو تم نے کم کردیئے تھے وہ واپس کردو اور لبید کے عطیہ میں اضافہ برقرار رکھو۔ (ابن سعد)
8935- عن الشعبي قال: كتب عمر بن الخطاب إلى المغيرة بن شعبة وهو عامله على الكوفة أن أدع من قبلك من الشعراء فأستنشدهم ما قالوا من الشعر في الجاهلية والإسلام، ثم أكتب بذلك إلي، فدعاهم المغيرة بن شعبة، فقال للبيد بن ربيعة: أنشدني ما قلت من الشعر في الجاهلية والإسلام، قال: قد أبدلني بذلك سورة البقرة وسورة آل عمران وقال للأغلب العجلي: أنشدني، فقال:

أرجزا تريد أم قصيدا ... لقد سألت هينا موجودا

فكتب بذلك المغيرة إلى عمر، فكتب إليه عمر: أن انقص الأغلب خمسمائة من عطائه، وزدها في عطاء لبيد، فرحل إليه الأغلب، فقال: اتنقصني أن أطعتك؟ فكتب عمر إلى المغيرة: أن رد على الأغلب الخمسمائة التي نقصته، وأقررها زيادة في عطاء لبيد بن ربيعة. ابن سعد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٦۔۔۔ ربعی بن خراش سے روایت ہے کہ غطفان کا ایک وفد حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس آیا، آپ نے ان لوگوں سے پوچھا : تم میں سب سے بڑا شاعر کون ہے ؟ انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! آپ جانتے ہیں، آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے :

میں نے قسم کھائی اور تیرے لیے کوئی شک کی چیز نہیں چھوڑی ، اللہ تعالیٰ کے سوا آدمی کے لیے کوئی گزرگاہ نہیں، تو ایسے بھائی سے سبقت لے جانے والا نہیں، جس کی پراگندگی کو تو جمع نہیں کرتا، کونسے مہذب لوگ ؟

لوگوں نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے ؟ صرف سلیمان ، جب بادشاہ نے اسے کہا، لوگوں میں کھڑا ہوجا اور انھیں بڑے پہاڑ سے ڈانٹو، لوگوں نے کہا : نابغہ آپ نے فرمایا : اس کا قائل کون ہے۔

میں تیرے پاس (تھوڑے کپڑوں میں گویا) ننگا ہو کر آیا، اور جو چند کپڑے تھے وہ بھی بوسیدہ ہیں، ایک ڈر کی بناپر کہ میرے بارے کئی گمان ہورہے ہیں میں نے دیکھا کہ امانت میں خیانت نہیں ہوئی ، اسی طرح نوح خیانت نہیں کرتا تھا۔

لوگوں نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا اس کا کہنے والا کون ہے جو کہتا ہے : میں (آئندہ) کل کے لیے اناج رکھنے والا نہیں

کل کے بچاؤ کے خوف سے ہر کل کیلئے اناج ہے، ہم نے کہا : نابغہ، آپ نے فرمایا : نابغہ تمہارا سب سے بڑا شاعر اور سب سے زیادہ شعر سے واقف ہے (ابن ابی الدنیا والدینوری والشیرازی فی الالقاب ، ابن عساکر ورواہ وکیع فی الغرروابن جریروابن عساکر)
8936- عن ربعي بن حراش قال: وفد وفد من غطفان إلى عمر بن الخطاب، فقال: أي شعرائكم أشعر؟ قالوا: أنت أعلم يا أمير المؤمنين، قال من الذي يقول:

حلفت فلم أترك لنفسك ريبة ... وليس وراء الله للمرء مذهب

ولست بمستبق أخا لا تلمه ... على شعث أي الرجال المهذب

قالوا: النابغة، قال فمن القائل:

إلا سليمان إذ قال المليك له ... قم في البرية فازجرها عن الفند

قالوا: النابغة، قال فمن القائل:

أتيتك عاريا خلقا ثيابي ... على وجل تظن بي الظنون

فألفيت الأمانة لم تخنها ... كذلك كان نوح لا يخون

قالوا: النابغة، قال فمن القائل الذي يقول:

ولست بذاخر لغد طعاما ... حذار غد لكل غد طعام

قلنا النابغة، فقال: النابغة أشعر شعرائكم، وأعلم الناس بالشعر. ابن أبي الدنيا والدينوري والشيرازي في الألقاب "كر" ورواه وكيع في الغرر وابن جرير "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٧۔۔۔ امام شعبی (رح) سے روایت ہے وہ سائب سے روایت کرتے ہیں فرماتے ہیں : بسا اوقات حضرت عبداللہ بن مسعود کے دروازے پر قریش کے کچھ مرد بیٹھ جاتے، جب مال فئی (بغیر جنگ) کے مفتوح قوم سے حاصل ہونے والا مال آتا تو حضرت عمر (رض) فرماتے : اٹھو (اور اپنا حصہ لو) اس لیے کہ جو بچ گیا وہ شیطان کے لیے ہے، پھر جس کے پاس سے گزرتے اسے اٹھالیتے ، فرماتے ہیں، آپ اسی کام میں مشغول تھے کہ کسی نے کہا : یہ بنی الحسح اس کا غلام ہے جو شعر کہتا ہے : آپے اسے بلاکر کہا : تم نے کیا اشعار کہے ہیں تو اس نے کہا :

سلیمی کو چھوڑ دے اگرچہ توکل کے لیے تیار ہو، بڑھاپا اور اسلام آدمی کو روکنے والا کافی ہے۔ تو حضرت عمر (رض) نے کہا : بس بس ، تو نے سچ کہا۔ (بخاری الادب)
8937- "عن الشعبي" عن السائب قال: ربما قعد على باب ابن مسعود رجال من قريش، فإذا فاء الفيء، قال عمر: قوموا فما بقي فهو للشيطان، ثم لا يمر على أحد إلا أقامه، قال: ثم بينا هو كذلك، إذ قيل هذا مولى بني الحسحاس يقول الشعر، فدعاه فقال: كيف كنت قلت؟ فقال:

ودع سليمى إن تجهزت غاديا ... كفى الشيب والإسلام للمرء ناهيا

قال حسبك صدقت صدقت. "خ" في الأدب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٨۔۔ ابن سیرین سے روایت ہے کہ سحیحم حضرت عمر (رض) کے پاس آئے اپنا قصیدہ انھیں سنایا، تو حضرت عمر (رض) نے انسے کہا : اگر آپ بڑھاپے سے پہلے اسلام لے آتے تو میں آپ کو انعام دیتا (عمرابن شیبہ صبھانی فی الاغانی وابن جریر
8938- عن ابن سيرين: قدم سحيم على عمر بن الخطاب، فأنشده قصيدته، فقال له عمر: لو قدمت الإسلام على الشيب لأجزتك. عمر بن شبة والأصبهاني في الأغاني وابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٣٩۔۔۔ ابوحصین سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : اللہ ہی کے لیے اس کی خوبی ہے جو عمیرہ کہتا ہے، چھوڑ دے اگرچہ توکل کے لیے تیار ہو، پڑھاپا اور اسلام آدمی کو منع کرنے کے لیے کافی ہیں۔ (وکیع فی الغرر)
8939- عن أبي حصين قال: قال عمر بن الخطاب: لله در الذي يقول:

عميرة ودع أن تجهزت غاديا ... كفى الشيب والإسلام للمرء ناهيا

وكيع في الغرر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٤٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے کہ آپ شعراء کو غزل کہنے سے منع کرتے تھے، توحمید بن ثور نے کہا : اللہ

تعالیٰ یہی چاپتا ہے کہ مالک کا سفر ہر قسم کے درختوں پر چمکے ، میں نے چوڑائی اور لمبائی سے زیادہ سفر کیے، صرف عشبہ اور سحوق نہ جاسکا، تو نہ فیئی ہوتا جسے ہم عشا کے بدلہ حاصل کرسکتے ، اور نہ اس کا سایہ دن ڈھلے ہم چکھ سکتے ، میں اگر اپنے آپ کو سفر کے تھوڑے سے حصہ سے بہلاؤں تو میرے سامنے راستہ موجود ہے۔ (وکیع)
8940- عن عمر أنه كان ينهى الشعراء أن ينسبوا1 بالنساء فقال حميد بن ثور:

أبى الله إلا أن سرحة مالك ... على كل أفنان العضاه تروق

وقد ذهبت عرضا وما فوق طولها ... من السرح إلا عشبة وسحوق

فلا الفيء منها بالعشا نستطيعه ... ولا الظل منها بالغداة نذوق

فهل أنا إن عللت نفسي بسرحة ... من السرح موجود علي طريق

وكيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٤١۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے فرمایا : لوگوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس شعراء کا تذکرہ کیا، آپ نے فرمایا : ایک قوم کے پاس علم تھا اس سے زیادہ نہ تھا۔ (وکیع)
8941- عن محمد بن سيرين قال: ذكروا الشعراء عند عمر بن الخطاب، فقال كان علم قوم لم يكن لهم علم أعلم منه. وكيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٤٢۔۔۔ ابن شہاب سے روایت ہے، حضرت عمر بن خطاب لبید بن ربیعہ کے قصیدہ کو روایت کرنے کی اجازت دیتے تھے جس میں وہ کہتے ہیں ۔

ہمارے رب کا تقویٰ بہترین نقل ہے اللہ تعالیٰ کی اجازت سے عنقریب ایسا جلد ہوگا، میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہوں جس کا کوئی شریک نہیں، اسی کے ہاتھ میں بھلائی ہے جو چاہتا ہے کرتا ہے ، ہدایت یافتہ نرم دل والا وہی ہے جسے بھلائی کے راستوں کی وہ رہنمائی کرائے، اور جسے چاہے گمراہ کرے۔ (وکیع)
8942- عن ابن شهاب قال: كان عمر يأمر برواية قصيدة لبيد بن ربيعة التي يقول فيها:

إن تقوى ربنا خير نفل ... وبإذن الله ريثي وعجل

أحمد الله فلا ند له ... بيديه الخير ما شاء فعل

من هداه سبل الخير اهتدى ... ناعم البال ومن شاء أضل
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھے اشعار
٨٩٤٣۔۔۔ محمد بن اسحاق اپنے چچا موسیٰ بن یسار سے روایت کرتے ہیں فرمایا : کہ ایک دن حضرت عمر (رض) بیٹھے تھے، فرمایا : تم میں سے، ابواللحام ثعلبی کے اشعار کسے یاد ہیں ؟ تو آپ کو کسی نے کوئی جواب نہیں دیا، تھوڑی دیر بعد حضرت عبداللہ بن عباس (رض) آگئے، تو انھوں نے آپ کو ابواللحام کے اشعار سنائے۔

اے میرے دونوں دوستو ! مجھے زمانہ کی طرف واپس کردو، میں سمجھتا ہوں کہ زمانہ نے پہلے زمانوں کو ختم کردیا ہے، گویا اموات نے مجھ پر حملہ کردیا ہے اور (میری) قبر کی طرف مجھ ہر چٹانیں گرادی ہیں، میں سابقہ بادشاہوں میں سے جو گزرچکے زیادہ عرصہ باقی رہنے والا رکھتا ہوں یا اس کے لیے کوئی امیدوار پالوں گا۔

تو حضرت عمر روپڑے اور ٹھہر کر حضرت ابن عباس (رض) سے یہ سارے اشعار سننے کا مطالبہ کرنے لگے (وکیع)
8943- عن محمد بن إسحاق عن عمه موسى بن يسار، قال: كان عمر بن الخطاب جالسا ذات يوم فقال: أيكم يحفظ أبيات أبي اللحام التغلبي؟ فلم يجبه أحد بشيء، فلما كان بعد أتاه ابن عباس، فأنشده أبيات أبي اللحام:

خليلي رداني إلى الدهر إنني ... أرى الدهر قد أفنى القرون الأوائلا

كأن المنايا قد سطت بي سطوة ... وألقت إلى قبر علي الجنادلا

ولست بأبقى من ملوك تخرموا ... أصابهم دهر يصيب المقاتلا

أبعد ابن قحطان أرجي سلامة ... لنفسي أو ألفي لذلك آملا

فبكى عمر ومكث جمعا يستنشد ابن عباس هذه الأبيات. وكيع.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٤۔۔۔ حضرت حسن بصری سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) کے پاس کچھ لوگ آئے، اور کہنے لگے : امیرالمومنین ہمارا ایک نوجوان امام ہے نماز پڑھانے کے بعد تک اشعار کا ایک بندنہ پڑھ لے اپنی جگہ سے نہیں اٹھتا، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ہمیں اس کے پاس لے چلو، کیونکہ اگر ہم نے اسے بلایا ہوتا تو وہ ہمارے بارے گمان کرتا کہ ہم نے اس کا کام روک دیا ہے چنانچہ وہ آپ کے ساتھ اٹھے اور اس نوجوان کے پاس آگئے، انھوں نے دروازہ کھٹکھایا تو وہ نوجوان باہر نکلا، اس نے پوچھا، امیرالمؤمین ! آپ یہاں کیوں آگئے ؟ مجھے بتایا ہوتا، حاضر خدمت ہوجاتا فرمایا : مجھے تمہارے متعلق ایک ناگوارخبر ملی ہے، اس نے کہا : امیرالمومنین میں آپ کی ناگواری دور کرنے کی کوشش کروں گا، میرے متعلق آپ کو کیا خبر ملی ہے ؟ آپ نے فرمایا : مجھے پتہ چلا ہے کہ تم گنگناتے ہو ؟ اس نے کہا : وہ ایک نصیحت ہے جس کے ذریعہ میں اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہوں ، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : کہو ! اگر اچھی بات ہوئی تو میں بھی تمہارے ساتھ کہوں گا اور قبیح ہوا تو میں تمہیں منع کردوں گا، تو اس نے کہا : میں اپنے دل کو جب بھی عتاب کرتا ہوں ، تو وہ لذتوں میں میری مشقت تلاش کرنے کے لیے لوٹ آتا ہے، مجھے زمانہ اپنی شرکشی میں کھیل کود کرتے دکھائی دیتا ہے، اس نے مجھے تھکا دیا ہے، اے برائی کے دوست ! یہ کیا بچپنا ہے، اس طرح کھیل کود میں عمر ختم ہوگئی ، وہ جوانی جو میں ظاہر ہوئی، چلی گئی، جبکہ ابھی تک میں نے اس سے اپنی خواہش پوری نہیں کی، اس کے بعد مجھے فنا کی امید ہے بڑھاپے نے مجھ پر میرا مطلب چھپا دیا ہے، میرے نفس کے لیے ہلاکت ہو میں اسے کسی خوبصورت اور ادب میں کبھی نہیں دیکھتا اے میرے نفس ! نہ تو رہے گا نہ خواہش، اللہ تعالیٰ سے ڈر، خوف اور اندیشہ کر، تو حضرت عمر (رض) روپڑے پھر فرمایا : اسی طرح ہر گنگنانے والے کو گنگنانا چاہیے، حضرت عمر (رض) نے فرمایا : میں کہتا ہوں

اے نفس نہ تو رہے گا اور نہ خواہش، موت کا انتظار کر خوف اور ڈر۔ (ابن السمعانی فی الدلائل)
8944- عن الحسن أن قوما أتوا عمر بن الخطاب فقالوا: يا أمير المؤمنين إن لنا إماما شابا إذا صلى لا يقوم من مجلسه حتى يتغنى بقصيدة قال عمر: فامضوا بنا إليه، فإنا إن دعوناه يظن بنا أنا قد غضضنا أمره فقاموا حتى أتوه، فقرعوا عليه، فخرج الشاب، فقال: يا أمير المؤمنين ما الذي جاء بك؟ قال: بلغني عنك أمر ساءني، قال: فإني أعتبك يا أمير المؤمنين، ما الذي بلغك؟ قال: بلغني أنك تتغنى، قال: فإنها موعظة أعظ بها نفسي، فقال عمر: قل، إن كان كلاما حسنا قلت معك، وإن يك قبيحا نهيتك عنه، فقال:

وفؤادي كلما عاتبته ... عاد في اللذات يبغي نصبي

لاأراه الدهر إلا لاهيا ... في تماديه فقد برح بي

يا قرين السوء ما هذا الصبا ... فني العمر كذا باللعب

وشباب بان مني ومضى ... قبل أن أقضي منه أربي

ما أرجي بعده إلا الفنا ... طبق الشيب على مطلبي

ويح نفسي لا أراها أبدا ... في جميل لا ولا في أدب

نفس لا كنت ولا كان الهوى ... إتقي الله وخافي وارهبي

فبكى عمر، ثم قال هكذا، فليغن كل من غنى، قال عمر وأنا أقول:

نفس لا كنت ولا كان الهوى ... رابضي الموت وخافي وارهبي

ابن السمعاني في الدلائل.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٥۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اشعار سیکھاکرو کیونکہ ان میں قابل تلاش اچھی باتیں اور قابل احتیاط بری باتیں ہوتی ہیں حکماء کیلئے حکمت اور اچھے اخلاق کی رہنمائی ہوتی ہے (ابن السمعانی)
8945- عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: تعلموا الشعر، فإن فيه محاسن تبتغى، ومساوى تتقى، وحكمة للحكماء، ويدل على مكارم الأخلاق. ابن السمعاني.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٦۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کلام عرب میں عبدیین کے قول سے مضبوط کوئی قول (شعر) نہیں۔

دنیا نے بہت سے لوگوں کو دھوکا دیا وہ ایسے مقام میں پہنچ گئے جس میں تبدیلی ہونی چاہیے، کوئی کسی بات سے ناراض ہونے والا ہے کہ دوسرا اسے تبدیل نہیں کرسکتا۔

اور کوئی کسی بات پر راضی ہونے والا ہے کہ دوسرے کے لیے یہ کام تبدیل ہوجاتا ہے بعض دفعہ جس کام کی تمنائی کوئی کرتا ہے اسے حاصل کوئی اور کرتا ہے ، اور بغیر امید کوئی پریشانی میں مبتلا ہے۔ (ابوالولید الباجی فی المواعظ)
8946- عن ابن عباس قال: قال عمر بن الخطاب: ما في شعر العرب أحكم من قول العبديين

لقد غرت الدنيا رجالا فأصبحوا ... بمنزلة ما بعدها متحول

فساخط أمر لا يبدل غيره ... وراض بأمر غيره سيبدل

وبالغ أمر كان يأمل دونه ... ومختلج من دون ما كان يأمل

أبو الوليد الباجي في المواعظ.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٧۔۔۔ حضرت اسود بن سریع (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا : یارسول اللہ ! کیا میں آپ کو حمد نہ سناؤں جس میں، میں نے اپنے رب کی تعریف کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہاں تک تمہارے رب کا تعلق ہے تو وہ حمد کو پسند کرتا ہے۔ (مسند احمد، ابونعیم)
8947- عن الأسود بن سريع قلت: يا رسول الله ألا أنشدك محامد حمدت بها ربي تبارك وتعالى؟ قال: أما إن ربك يحب الحمد. "حم" وأبو نعيم.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٨۔۔۔ حضرت اسود بن سریع (رض) سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عرض کیا : کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی حمد اور آپ کی تعریف کی ہے، آپنے فرمایا : سناؤ اور اللہ تعالیٰ کی حمد سے آغاز کرو۔ (ابن جریر)
8948- عن الأسود بن سريع قال: قلت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: إني مدحت الله مدحة، ومدحتك، قال: هات وابدأ بمدحة الله عز وجل. ابن جرير.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৮৯৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٤٩۔۔۔ انہی سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اے نبی اللہ ! میں نے اشعار میں اللہ تعالیٰ کی حمد اور آپ کی تعریف بیان کی ہے، آپ نے فرمایا : جس میں اللہ تعالیٰ کی تعریف کی ہے وہ سناؤ اور جس میں میری تعریف کی ہے انھیں رہنے دوتو میں آپکو اشعار سنانے لگا اتنے میں ایک لمبا شخص سرجھکائے داخل ہوا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خاموش ہوجاؤ، جب وہ چلا گیا تو فرمایا : چلو سناؤ، میں نے عرض کیا : یا نبی اللہ ! یہ جو شخص آیا تھا کون تھا ؟ اور آپ نے فرمایا تھا ٹھہرو اور جب چلا گیا تو آپ نے فرمایا : اب سناؤ ؟ فرمایا : یہ عمر بن خطاب ہے اسے باطل چیز سے بالکل رغبت نہیں (طبرانی فی الکبیر)

تشریح :۔۔۔ جو شخص اس پریشانی میں ہو کہ نبی تو شعر سنے اور عمر کو باطل سے رغبت نہیں، تو اسے چاہیے کہ وہ نبی اور عمر کی ذمہ داریاں بھی خوف سمجھ لے۔
8949- وعنه إني قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت: يا نبي الله إني قد قلت شعرا أثنيت فيه على الله، ومدحتك قال: أما ما أثنيت به على الله فهاته، وما مدحتني به فدعه، فجعلت أنشده، فدخل رجل طوال أقنى، فقال: أمسك فلما خرج قال: هات قلت: من هذا يا نبي الله الذي دخل؟ فقلت: أمسك فلما خرج قلت: هات؟ قال: هذا عمر بن الخطاب وليس من الباطل في شيء.
tahqiq

তাহকীক: