কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৯৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٠۔۔۔ اعشی مازنی سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، اور آپ کو یہ اشعار سنائے ! اے لوگو کے مالک اور تمام عرب کے دیانتدار ، مجھے ایک سختی اور مصیبت پیش آئی ہے، میں صبح سے نکلا ہوں کہ رجب میں اناج تلاش کروں ، تو اس نے لڑائی کرکے اور بھاگ کر میری مخالفت کی ہے، کیا تو نے وعدہ خلافی کی ہے اور گناہ سے آلودہ ہوگئی اور یہ (برائیاں) بہت بری غالب چیزیں ہیں جس پر غالب آجائیں ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) انھیں پڑھنے لگے، اور فرمانے لگے : وہ بہت بری غالب چیزیں جس پر غالب آجائیں۔ (عبداللہ بن احمد، ابن ابی خیثمہ والحسن بن سفیان والطحاوی وابن شاھین و ابونعیم)
8950- الأعشى المازني: أتيت نبي الله صلى الله عليه وسلم فأنشدته:
يا مالك الناس وديان العرب ... إني لقيت ذربة من الذرب
غدوت أبغيها الطعام في ... رجب فخالفتني بنزاع وهرب
أخلفت العهد ولطت بالذنب ... وهن شر غالب لمن غلب
فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يتمثلها ويقول: وهن شر غالب لمن غلب. "عم" وابن أبي خثيمة والحسن بن سفيان والطحاوي وابن شاهين وأبو نعيم.
يا مالك الناس وديان العرب ... إني لقيت ذربة من الذرب
غدوت أبغيها الطعام في ... رجب فخالفتني بنزاع وهرب
أخلفت العهد ولطت بالذنب ... وهن شر غالب لمن غلب
فجعل النبي صلى الله عليه وسلم يتمثلها ويقول: وهن شر غالب لمن غلب. "عم" وابن أبي خثيمة والحسن بن سفيان والطحاوي وابن شاهين وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥١۔۔۔ (انس (رض)) قاضی ابوالفرج المعافی زکریا نے فرمایا : ہم سے ابوبکر محمد بن حسن بن دریدازدی نے بیان کیا کہ وہ فرماتے ہیں ہم سے عون بن علی، ان سے اوس بن صمعج نے وہ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ علاء بن یزید حضری نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آنے کی اجازت چاہی ، تو میں نے ان کے لیے اجازت چاہی، آپ نے اجازت دے دی، جب وہ اندر آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کے لیے (گھر کی) جگہ صاف کرائی ، پھر انھیں بٹھایا ، اور دونوں نے کافی دیر باتیں کیں۔
پھر آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم قرآن اچھا پڑھ سکتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں، پھر انھوں نے آپ کوسورہ عبس سنائی یہاں تک کہ سورة ختم ہوگئی، اور اس میں ان الفاظ کا اپنی طرف سے اضافہ کیا، وہی ذات ہے جس نے حاملہ کے پیٹ سے ایک دوڑتا ہوا ذی روح نکالا، جو انتڑیوں اور کے درمیان سے نکلتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دم اونچی آواز سے کہا : علاء رک جاؤ، سورة ختم ہوچکی ہے، پھر فرمایا : علاء کیا تم شعر کی روایت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ، پھر آپ کو اشعار سنائے : کتنے ہی بغض رکھنے والے قبیلے ہیں جن کے دل کو گرفتار کرلیتا ہے، تیرا معمولی سلام ، کبھی حرامزادہ بھی بلند مقام پالیتا ہے، اگر وہ شرارت و فساد سنائے : کتنے ہی بغض رکھنے والے قبیلے ہیں جن کے دل کو گرفتار کرلیتا ہے، تیرا معمولی سلام، کبھی حرامزادہ بھی بلند مقام پالیتا ہے، اگر وہ شرارت و فساد کی کوشش کریں تو کرم نوازی سے معاف کردے، اگر وہ تجھ سے کوئی بات چھپائیں تو اس کے بارے میں مت پوچھ، کیونکہ اسے سن کر تجھے اذیت ہوتی، کیونکہ جو بات انھوں تمہارے بعد کہی تو وہ گویا کہی ہی نہیں گئی۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے علاء بڑے اچھے اشعار کہے ہیں تم ان میں دوسروں سے زیادہ ماہر ہو، اشعار میں سے کچھ پر حکمت بھی ہیں، اور بعض باتیں جادو کا اثر رکھتی ہیں، تو ان کے کلام کی مثال گزرچکی ہے۔ (ابن النجار)
پھر آپ نے ان سے فرمایا : کیا تم قرآن اچھا پڑھ سکتے ہو ؟ انھوں نے عرض کیا : جی ہاں، پھر انھوں نے آپ کوسورہ عبس سنائی یہاں تک کہ سورة ختم ہوگئی، اور اس میں ان الفاظ کا اپنی طرف سے اضافہ کیا، وہی ذات ہے جس نے حاملہ کے پیٹ سے ایک دوڑتا ہوا ذی روح نکالا، جو انتڑیوں اور کے درمیان سے نکلتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دم اونچی آواز سے کہا : علاء رک جاؤ، سورة ختم ہوچکی ہے، پھر فرمایا : علاء کیا تم شعر کی روایت کرتے ہو ؟ انھوں نے کہا : جی ہاں ، پھر آپ کو اشعار سنائے : کتنے ہی بغض رکھنے والے قبیلے ہیں جن کے دل کو گرفتار کرلیتا ہے، تیرا معمولی سلام ، کبھی حرامزادہ بھی بلند مقام پالیتا ہے، اگر وہ شرارت و فساد سنائے : کتنے ہی بغض رکھنے والے قبیلے ہیں جن کے دل کو گرفتار کرلیتا ہے، تیرا معمولی سلام، کبھی حرامزادہ بھی بلند مقام پالیتا ہے، اگر وہ شرارت و فساد کی کوشش کریں تو کرم نوازی سے معاف کردے، اگر وہ تجھ سے کوئی بات چھپائیں تو اس کے بارے میں مت پوچھ، کیونکہ اسے سن کر تجھے اذیت ہوتی، کیونکہ جو بات انھوں تمہارے بعد کہی تو وہ گویا کہی ہی نہیں گئی۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم نے علاء بڑے اچھے اشعار کہے ہیں تم ان میں دوسروں سے زیادہ ماہر ہو، اشعار میں سے کچھ پر حکمت بھی ہیں، اور بعض باتیں جادو کا اثر رکھتی ہیں، تو ان کے کلام کی مثال گزرچکی ہے۔ (ابن النجار)
8951- "أنس رضي الله عنه" قال القاضي أبو الفرج المعافى بن زكريا: حدثنا أبو بكر محمد بن الحسن بن دريد الأزدي، ثنا عون بن علي، ثنا الأعشى، ثنا أوس بن ضمعج1 عن أنس قال استأذن
العلاء بن يزيد الحضرمي على النبي صلى الله عليه وسلم، فاستأذنت له فأذن، فلما دخل عليه سفر1 له النبي صلى الله عليه وسلم البيت، ثم أجلسه وتحدثا طويلا، ثم قال له: تحسن من القرآن شيئا؟ قال: نعم، ثم قرأ عليه {عَبَسَ} حتى ختمها فانتهى إلى آخرها وزاد فيها من عنده، وهو الذي أخرج من الحبلى نسمة تسعى من بين شراسيف وحشا، فصاح به النبي صلى الله عليه وسلم: يا علاء انته، فقد انتهت السورة، ثم قال: يا علاء هل تروي من الشعر شيئا؟ قال نعم ثم أنشده:
وحي ذوي الأضغان تسب قلوبهم ... تحيتك الأدنى فقد يرفع النغل2
وإن دحسوا للشر فاعف تكرما ... وإن كتموا عنك الحديث فلا تسل
فإن الذي يؤذيك منه سماعه ... وإن الذي قالوا وراءك لم يقل
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أحسنت يا علاء، أنت بهذا أحذق منك بغيره إن من الشعر لحكما، وإن من البيان لسحرا، فسارت من كلامه مثلا صلى الله عليه وسلم. ابن النجار.
العلاء بن يزيد الحضرمي على النبي صلى الله عليه وسلم، فاستأذنت له فأذن، فلما دخل عليه سفر1 له النبي صلى الله عليه وسلم البيت، ثم أجلسه وتحدثا طويلا، ثم قال له: تحسن من القرآن شيئا؟ قال: نعم، ثم قرأ عليه {عَبَسَ} حتى ختمها فانتهى إلى آخرها وزاد فيها من عنده، وهو الذي أخرج من الحبلى نسمة تسعى من بين شراسيف وحشا، فصاح به النبي صلى الله عليه وسلم: يا علاء انته، فقد انتهت السورة، ثم قال: يا علاء هل تروي من الشعر شيئا؟ قال نعم ثم أنشده:
وحي ذوي الأضغان تسب قلوبهم ... تحيتك الأدنى فقد يرفع النغل2
وإن دحسوا للشر فاعف تكرما ... وإن كتموا عنك الحديث فلا تسل
فإن الذي يؤذيك منه سماعه ... وإن الذي قالوا وراءك لم يقل
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: أحسنت يا علاء، أنت بهذا أحذق منك بغيره إن من الشعر لحكما، وإن من البيان لسحرا، فسارت من كلامه مثلا صلى الله عليه وسلم. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٢۔۔۔ حضرت (جابر بن سمرہ (رض)) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ایک دوسرے کو اشعار سناتے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سن رہے ہوتے تھے۔ (وفی المنتخب، طبرانی فی الکبیر)
8952- "جابر بن سمرة" عن جابر بن سمرة قال: كان أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم يتناشدون الشعر، ورسول الله صلى الله عليه وسلم يسمع. "....". وفي المنتخب "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٣۔۔۔ حضرت جابر بن سمرہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مسجد میں سو بار سے زیادہ دفعہ بیٹھا آپ اپنے صحابہ کے ساتھ بیٹھتے اور وہ آپس میں ایک دوسرے کو اشعار سنا رہے ہوتے اور کبھی کبھار جاہلیت کے موضوع پر گفتگو کرتے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے ساتھ مسکرا رہے ہوتے تھے۔ (ابن جریر طبرانی فی الکبیر)
8953- عن جابر بن سمرة قال: جالست النبي صلى الله عليه وسلم أكثر من مائة مرة في المسجد، يجلس مع أصحابه يتناشدون الشعر، وربما تذاكروا أمر الجاهلية، فيتبسم النبي صلى الله عليه وسلم معهم.
ابن جرير "طب".
ابن جرير "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٤۔۔۔ حضرت سائب بن خباب (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خیبر جاتے ہوئے عامر بن اکوع کو فرماتے سنا، ہمیں اپنی گنگناہٹ سے کچھ سناؤ، تو وہ اونٹ سے اتر کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو رجزیہ اشعار سنانے لگے۔ (طبرانی فی الکبیر)
8954- عن السائب بن خباب قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول: في مسيره إلى خيبر لعامر بن الأكوع: خذ لنا من هناتك، فنزل يرتجز لرسول الله صلى الله عليه وسلم. "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٥۔۔۔ ابوالھیثم بن التیہان عن ابیہ۔
8955- عن أبي الهيثم بن التيهان عن أبيه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٦۔۔۔ وائل بن طفیل بن عمروالدوسی (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اباطل سے واپسی پر مسجد میں تشریف فرما ہوئے، اتنے میں خفاف بن نضلہ بن عمر وبن بہدلہ ثقفی آگئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اشعار سنانے لگے :
کتنی اونٹنیاں تاریکی میں ہلاک ہوگئیں جو صحرا کے بےآب وگیاہ (خشک) دور کے جنگل میں تھیں، اس کے چٹیل میدان میں اکیلی بھڑکاہٹ نہیں، ایسی نباتات ہے جو زیرہ اور خوشبوؤں سے ملی جلی ہے، میرے پاس خواب میں جنوں میں سے ایک مددگار آیا، مقام وجرہ میں میری جو بیٹ زمین پر پڑی ہے وہاں کی بات ہے، راتوں رات آپ کی طرف بلاتا ہے پھر وہ خوفزدہ ہو کر کہنے لگا : میں نہیں آؤں گا تو میں ناجیہ نامی اونٹنی پر سوار ہوگیا جسے کوچ نے تکلیف دی، ایک انگارہ ہے جو بلند جگہوں پر بلند ہوتا ہے یہاں تک کہ میں کوشش کرتے کرتے مدینہ پہنچ گیا، تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں اور مصائب دور ہوجائیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا : بعض باتیں جادو کی طرح ہیں اور کچھ اشعار حکمت کی طرح ہیں۔ (ابن عساکر)
کتنی اونٹنیاں تاریکی میں ہلاک ہوگئیں جو صحرا کے بےآب وگیاہ (خشک) دور کے جنگل میں تھیں، اس کے چٹیل میدان میں اکیلی بھڑکاہٹ نہیں، ایسی نباتات ہے جو زیرہ اور خوشبوؤں سے ملی جلی ہے، میرے پاس خواب میں جنوں میں سے ایک مددگار آیا، مقام وجرہ میں میری جو بیٹ زمین پر پڑی ہے وہاں کی بات ہے، راتوں رات آپ کی طرف بلاتا ہے پھر وہ خوفزدہ ہو کر کہنے لگا : میں نہیں آؤں گا تو میں ناجیہ نامی اونٹنی پر سوار ہوگیا جسے کوچ نے تکلیف دی، ایک انگارہ ہے جو بلند جگہوں پر بلند ہوتا ہے یہاں تک کہ میں کوشش کرتے کرتے مدینہ پہنچ گیا، تاکہ میں آپ کو دیکھ لوں اور مصائب دور ہوجائیں۔ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا : بعض باتیں جادو کی طرح ہیں اور کچھ اشعار حکمت کی طرح ہیں۔ (ابن عساکر)
8956- عن وائل بن طفيل بن عمرو الدوسي أن النبي صلى الله عليه وسلم قعد في مسجده منصرفه من الأباطل، فقدم عليه خفاف بن نضلة بن عمرو بن بهدلة الثقفي، فأنشد رسول الله صلى الله عليه وسلم:
كم قد تحطمت القلائص في الدجى ... في مهمه قفر من الفلوات
قل من التوريش ليس بقاعه ... نبت من الأسنات والأزمات
إني أتاني في المنام مساعد ... من جن وجرة1 كان لي ومواتي
يدعو إليك لياليا ولياليا ... ثم أحزأل1 وقال لست بآتي
فركبت2 ناجية أضر بها السرى ... جمر تخب به على الأكمات
حتى وردت إلى المدينة جاهدا ... كيما أراك فتفرج الكربات
قال فاستحسنها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: إن من البيان كالسحر وإن من الشعر كالحكم.
"كر".
كم قد تحطمت القلائص في الدجى ... في مهمه قفر من الفلوات
قل من التوريش ليس بقاعه ... نبت من الأسنات والأزمات
إني أتاني في المنام مساعد ... من جن وجرة1 كان لي ومواتي
يدعو إليك لياليا ولياليا ... ثم أحزأل1 وقال لست بآتي
فركبت2 ناجية أضر بها السرى ... جمر تخب به على الأكمات
حتى وردت إلى المدينة جاهدا ... كيما أراك فتفرج الكربات
قال فاستحسنها رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: إن من البيان كالسحر وإن من الشعر كالحكم.
"كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٧۔۔۔ حضرت شرید (رض) ہ عنہ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ساتھ سواری پر بٹھایا ، پھر فرمایا : تمہیں امیہ بن ابی الصلت کے کوئی اشعار یاد ہیں، اور ایک روایت میں ہے ، کہ کیا تم امیہ کے کچھ اشعار نقل کرسکتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں ، پھر میں نے آپ کو اس کے اشعار سنائے، فرمایا : سو اشعار سنادیے، آپ نے فرمایا : قریب تھا کہ وہ مسلمان ہوجاتا ، اور ایک روایت میں ہے قریب ہے کہ وہ اپنے اشعار میں مسلمان ہوجاتا۔ (ابویعلی ابن جریر، ابن عساکر)
8957- عن الشريد قال: أردفني النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: هل معك من شعر أمية بن أبي الصلت؟ وفي لفظ: هل تروي من شعر أمية شيئا قلت: نعم، فأنشدته، قال: هيه، فلم يزل يقول هيه، حتى أنشدته مائة بيت، فقال إن كاد ليسلم، وفي لفظ: لقد كاد أن يسلم في شعره. "ع" وابن جرير "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٨۔۔۔ حضرت شرید (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلا، ایک دن میں چل رہا تھا کہ میرے پیچھے ایک اونٹنی آکھڑی ہوئی، میں نے مڑ کر دیکھا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں آپ نے فرمایا : شرید ؟ میں نے عرض کیا : جی یاں، آپ نے فرمایا : کیا میں تمہیں سوارنہ کرلوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں (یارسول اللہ) مجھے کوئی تکان اور عاجزی نہیں لیکن میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ سوار ہونے کی برکت حاصل کرنا چاہتا تھا ، آپ نے اونٹنی بٹھائی اور مجھے سوار کرلیا، (راستہ میں) آپ نے فرمایا : کیا تمہیں امیہ بن ابی الصلت کے اشعار یاد ہیں ؟ جی ہاں ، آپ نے فرمایا : سناؤ، تو میں نے ایک سواشعار سنائے، آپ نے فرمایا : امیہ بن ابی الصلت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے، امیہ بن ابی الصلت کا علم اللہ تعالیٰ کو ہے (ابن ابی صاعہ وقال غریب ، ابن عساکر)
8958- عن الشريد قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في حجة الوداع، فبينا أنا أمشي ذات يوم إذ وقع ناقة خلفي، فتلفت فإذا رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: الشريد؟ قلت نعم، قال: ألا أحملك؟
قلت بلى، وما بي من إعياء ولا لغوب، ولكن أردت البركة في ركوبي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأناخ فحملني، فقال: أمعك من شعر أمية ابن أبي الصلت؟ قلت: نعم، قال: هات فأنشدته مائة بيت، قال: عند الله علم أمية بن أبي الصلت، عند الله علم أمية بن أبي الصلت. ابن صاعد وقال غريب "كر".
قلت بلى، وما بي من إعياء ولا لغوب، ولكن أردت البركة في ركوبي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأناخ فحملني، فقال: أمعك من شعر أمية ابن أبي الصلت؟ قلت: نعم، قال: هات فأنشدته مائة بيت، قال: عند الله علم أمية بن أبي الصلت، عند الله علم أمية بن أبي الصلت. ابن صاعد وقال غريب "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٥٩۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شعراہراتے تھے، تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ دے کر روانہ نہیں کیا۔ (ابن جریر، ابن عساکر)
8959- عن ابن عباس قال: كان النبي صلى الله عليه وسلم يتمثل بالشعر:
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
ابن جرير "كر"1.
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
ابن جرير "كر"1.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٠۔۔۔ حضرت عروہ (رح) سے روایت ہے کہ میں بصرہ میں حضرت عبداللہ بن عباس عنہما کے پاس آیا اس وقت وہ وہاں کے گورنر تھے، میں ان کے پاس گیا تو میں نے کہا : میں تمہیں قریبی رشتہ داری یاددلاتا ہوں، رشتہ داری سے کوئی نزدیکی نہیں ہوتی جب تک کہ قریب نہ کی جائے، تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : جانتے ہو یہ کس نے کہا ہے ؟ میں نے کہا : ابواحمد بن جحش ، تو حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا : مجھے پتہ نہیں، فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تھا، تو نے سچ کیا۔ (ابن عساکر)
8960- عن عروة قال: قدمت البصرة على عبد الله بن عباس وهو عامل عليها، فقلت له حين دخلت إليه:
أمت بأرحام إليكم قريبة ... ولا قرب بالأرحام مالم تقرب
فقال ابن عباس: من قالها؟ قلت: أبو أحمد بن جحش، قال ابن عباس: فهل تدري ما قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا، قال: قال له: صدقت. "كر".
أمت بأرحام إليكم قريبة ... ولا قرب بالأرحام مالم تقرب
فقال ابن عباس: من قالها؟ قلت: أبو أحمد بن جحش، قال ابن عباس: فهل تدري ما قال له رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قلت: لا، قال: قال له: صدقت. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦١۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے، شعر عرب کا دیوان ہے اور یہ عربوں کا پہلا علم ہے سو تم لوگ جاہلیت کے اشعار میں سے اہل حجاز کے شعر اختیار کرو۔ (ابن جریر)
8961- عن ابن عباس قال: الشعر ديوان العرب هو أول علم العرب فعليكم بشعر الجاهلية شعر أهل الحجاز. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٢۔۔۔ حضرت عماربن یاسر (رض) سے روایت ہے فرمایا : مشرکین نے جب ہماری ہجو کی تو ہم نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شکایت کی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : انھیں ایسا ہی کہو جیسا وہ تمہیں کہتے ہیں ، تو ہم اپنی لونڈیوں کو مدینہ میں اشعار کی تعلیم دینے لگے۔ (ابن جریر، ابن عساکر)
8962- عن عمار بن ياسر قال: لما هجانا المشركون شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قولوا لهم كما يقولون لكم، فإن كنا لنعلمه إماءنا بالمدينة. ابن جرير "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٣۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! شعر کے بارے آپ کی رائے کیا ہے ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا مومن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے گویا انھیں نیزوں سے زخمی کرتے ہو۔ (ابن جریر)
8963- عن كعب بن مالك أنه قال: يا رسول الله ماذا ترى في الشعر؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه، والذي نفسي بيده لكأنما تنضحونهم بالنبل. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٤۔۔۔ حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب شعر کے بارے میں جو حکم نازل کرنا تھا نازل کیا، تو انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ نے شعر کے بارے کو حکم نازل فرمایا ہے اسے آپ جانتے ہیں تو آپ کی اس کے بارے کیا رائے ہے ؟ آپ نے فرمایا : مومن اپنی تلوار اور زبان سے جہاد کرتا ہے اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے گویا تم انھیں نیزوں سے زخمی کرتے ہو، اور ایک روایت میں ہے گویا تم انھیں ان شعروں کے ذریعہ نیزوں سے زخمی کرتے ہو۔ (ابن عساکر)
8964- عن كعب بن مالك حين أنزل الله في الشعر ما أنزل، قال: يا رسول الله إن الله قد أنزل في الشعر ما قد علمت، فكيف ترى فيه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن المؤمن يجاهد بسيفه ولسانه، والذي نفسي بيده لكأنما تنضحونهم بالنبل، وفي لفظ: لكأنما ترمونهم به نضح النبل. "كر".
والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينكر ذلك، قال أبو زيد: وهذا خطأ وذلك أن الشعر للعجاج، والعجاج إنما قال الشعر بعد موت النبي صلى الله عليه وسلم بدهر، والصواب ما في الطريق الأول، إلا أن أبا عبيدة قال: قد قال العجاج بن رحره في الجاهلية. "عد كر"1.
والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينكر ذلك، قال أبو زيد: وهذا خطأ وذلك أن الشعر للعجاج، والعجاج إنما قال الشعر بعد موت النبي صلى الله عليه وسلم بدهر، والصواب ما في الطريق الأول، إلا أن أبا عبيدة قال: قد قال العجاج بن رحره في الجاهلية. "عد كر"1.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٥۔۔۔ ابوحاتم سجستانی سہل بن محمد ، ابوعبیدہ معمر بن المثنی ، رؤبہ بن حجاج ان کے سلسلہ سند میں روایت ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ میں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے پوچھا : ابوہریرہ ! آپ اس شعر کے بارے کیا کہتے ہیں۔
دوخیالوں نے چکر لگایا اور ایک بیماری کو بھڑکایا، ایک خیال جس کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال جسے تو چھپاتا ہے ، وہ کھڑے ہو کر تجھے کو ف کی وجہ سے دکھانے لگی کی خنداۃ میں پنڈلی اور ایسا ٹخنا ہوجاجو قریب ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ان جیسے یا انہی الفاظ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدی کی جاتی تھی اور آپ اسے برانہ سمجھتے تھے۔ (ابن عساکر)
دوخیالوں نے چکر لگایا اور ایک بیماری کو بھڑکایا، ایک خیال جس کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال جسے تو چھپاتا ہے ، وہ کھڑے ہو کر تجھے کو ف کی وجہ سے دکھانے لگی کی خنداۃ میں پنڈلی اور ایسا ٹخنا ہوجاجو قریب ہوں۔ تو حضرت ابوہریرہ (رض) نے فرمایا : ان جیسے یا انہی الفاظ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حدی کی جاتی تھی اور آپ اسے برانہ سمجھتے تھے۔ (ابن عساکر)
8965 - عن أبي حاتم السجستاني سهل بن محمد : ثنا أبو عبيدة معمر بن المثنى ، حدثني روبة بن العجاج ، حدثني أبي قال : سألت أبا هريرة فقال يا أبا هريرة ما ذا تقول في هذا : طاف الخيالان فهاجا سقما خيال تكني وخيال تكتما قامت تريك رهبة أن تصرما ساقا بخنداه وكعبا وأدرما فقال أبو هريرة : كان يحدى نحو هذا أو مثل هذا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا يعيبه.
(كر).
(كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٦۔۔۔ عجاع سے روایت ہے کہ میں نے حضرت بوہریرہ (رض) کو یہ قصیدہ سنایا جس میں پنڈلی اور ٹخنے کا ذکر ہے تو فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قسم کے اشعار پسند فرماتے تھے۔ (ابویعلی، ابن عساکر)
8966 - عن العجاج قال : أنشدت أبا هريرة هذا القصيدة التي فيها (وكعبا أدرما) فقال : وكان النبي صلى الله عليه وسلم يعجبه نحو هذا من الشعر.
(ع كر).
(ع كر).
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اشعار سن کر حضرت عمر (رض) روپڑے
٨٩٦٧۔۔۔ ابوزید بن شبہ، ابوجری اوبوحرب ، دوسرا شخص قبیلہ حمیر سے ہے جو محتاج بن باب الحمیری کی اولاد سے ہے، انھیں شرف حاصل ہے، یونس بن حبیب ، رؤبہ بن عجاج، اپنے والد سے وہ ابوشعثاء سے وہ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت کرتے ہیں : فرماتے ہیں ہم ایک سفر میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ تھے، ایک حدی خواں حدی کہہ رہا تھا۔
دوخیال چکر لگانے اور ایک بیماری بھڑکادی ایک خیال کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال کو توچھپاتا ہے، وہ ڈر کے مارے کہ تو خنداۃ میں پنڈلی اور قریب قریب ٹخنا ہوجائے کھڑے ہو کر تجھے دکھانے لگی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر نکیر نہ فرماتے ، ابوزید کہا کہنا ہے کہ یہ غلطی ہے کیونکہ یہ شعر عجاج کے ہیں اور عجاج نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کافی عرصہ بعد یہ شعر کہا ہے درست وہی ہے جو پہلی روایت میں ہے صرف ابوعبیدہ نے یہ کہا ہے : کہ عجاج بن حرہ نے جاہلیت میں یہ اشعار کہے ہیں۔ (ابن عدی ، ابن عساکر)
دوخیال چکر لگانے اور ایک بیماری بھڑکادی ایک خیال کی تونیت رکھتا ہے اور ایک خیال کو توچھپاتا ہے، وہ ڈر کے مارے کہ تو خنداۃ میں پنڈلی اور قریب قریب ٹخنا ہوجائے کھڑے ہو کر تجھے دکھانے لگی۔
آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس پر نکیر نہ فرماتے ، ابوزید کہا کہنا ہے کہ یہ غلطی ہے کیونکہ یہ شعر عجاج کے ہیں اور عجاج نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی وفات کے بعد کافی عرصہ بعد یہ شعر کہا ہے درست وہی ہے جو پہلی روایت میں ہے صرف ابوعبیدہ نے یہ کہا ہے : کہ عجاج بن حرہ نے جاہلیت میں یہ اشعار کہے ہیں۔ (ابن عدی ، ابن عساکر)
8967 - عن أبي زيد عمر بن شبة : ثنا أبو جرى وأبو حرب ، الثاني رجل من حمير من ولد الحجاج بن باب الحميري ، ولهم شرف ، ثنا يونس بن حبيب عن رؤبة بن العجاج عن أبيه ، عن أبي الشعثاء عن أبي هريرة قال : كنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في سفر ، وحاد يحدو : طاف الخيلان فهاجا سقما خيال تكنى وخيال تكتما قامت تريك خشية أن تصرما ساقا بخنداة وكعبا أدرما والنبي صلى الله عليه وسلم لا ينكر ذلك ، قال أبو زيد : وهذا خطأ وذلك أن الشعر للعجاج ، والعجاج إنما قال الشعر بعد موت النبي صلى الله عليه وسلم بدهر ، والصواب ما في الطريق الاول ، إلا أن أبا عبيدة قال : قد قال العجاج بن رحره في الجاهلية.
(عد كر)
(عد كر)
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بعض اشعار میں حکمت ہے
٨٩٦٨۔۔۔ احمد بن بکر الاسدی سے روایت ہے کہ ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ کو جب ان کی فصاحت ہو تو فرمایا : وارے اسدی کیا تو نے قرآن پڑھا ہے باوجودیکہ میں نے دیکھا تم بڑے فصیح ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں لیکن میں نے شعر کہے ہیں آپ مجھ سے وہ سن لیں، آپ نے فرمایا : کہو ! تو انھوں نے کہا :
۔۔۔ تیرا ادنیٰ سلام بہت سے کینہ ورقبیلوں کے دل قید کرلیتا ہے کیونکہ کبھی کبھی حرام زادے بلند مقام پہنچ جاتے ہیں، اگر وہ برائی کا اظہار کریں تو تو بھی اسی جیسی برائی کا اعلان کر، اور اگر وہ تجھ سے کوئی بات چھپائیں تو اس کے بارے نہ کر، وہ بات جسے سن کر تجھے تکلیف ہو، گویا وہ ایسی بات جو انھوں نے تیرے بعد کہی ، کہی ہی نہیں ہے۔
تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اشعار پر حکمت اور بعض باتیں جادو کا سا اثر رکھتی ہیں، پھر آپ نے انھیں پڑھا، کہو اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے، تو انھوں نے اس میں اضافہ کیا، جو گھات پر کھڑا ہے اس سے کوئی بچ سکتا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہنے دو ۔ یہ سورة پوری اور مکمل ہے۔ (مربرقم : ٨٩٥١)
۔۔۔ تیرا ادنیٰ سلام بہت سے کینہ ورقبیلوں کے دل قید کرلیتا ہے کیونکہ کبھی کبھی حرام زادے بلند مقام پہنچ جاتے ہیں، اگر وہ برائی کا اظہار کریں تو تو بھی اسی جیسی برائی کا اعلان کر، اور اگر وہ تجھ سے کوئی بات چھپائیں تو اس کے بارے نہ کر، وہ بات جسے سن کر تجھے تکلیف ہو، گویا وہ ایسی بات جو انھوں نے تیرے بعد کہی ، کہی ہی نہیں ہے۔
تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بعض اشعار پر حکمت اور بعض باتیں جادو کا سا اثر رکھتی ہیں، پھر آپ نے انھیں پڑھا، کہو اللہ ایک ہے اللہ بےنیاز ہے، تو انھوں نے اس میں اضافہ کیا، جو گھات پر کھڑا ہے اس سے کوئی بچ سکتا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہنے دو ۔ یہ سورة پوری اور مکمل ہے۔ (مربرقم : ٨٩٥١)
8968- عن أحمد بن بكر الأسدي: ثنا أبي أنه أتى رسول الله صل الله عليه وسلم، فلما رأى فصاحته قال له: ويحك يا أسدي هل قرأت القرآن مع ما أرى من فصاحتك؟ قال: لا ولكني قلت شعرا، فاسمعه مني، قال: فقل قال:
وحي ذوي الأضغان تسب قلوبهم ... تحيتك الأدني فقد يرفع النغل
فإن عالنوا بالشر فاعلن بمثله ... وإن دحسوا عنك الحديث فلا تسل
وإن الذي يؤذيك منه سماعه ... كأن الذي قالوه بعدك لم يقل
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن من الشعر لحكمة، وإن من البيان لسحرا ثم أقرأه {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ} فزاد فيها قائم على الرصد لا يفوته أحد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعها فإنها شافية كافية. مر برقم [8951] .
وحي ذوي الأضغان تسب قلوبهم ... تحيتك الأدني فقد يرفع النغل
فإن عالنوا بالشر فاعلن بمثله ... وإن دحسوا عنك الحديث فلا تسل
وإن الذي يؤذيك منه سماعه ... كأن الذي قالوه بعدك لم يقل
فقال النبي صلى الله عليه وسلم: إن من الشعر لحكمة، وإن من البيان لسحرا ثم أقرأه {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ} فزاد فيها قائم على الرصد لا يفوته أحد، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: دعها فإنها شافية كافية. مر برقم [8951] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٦٩۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ جب جنگ احزاب کا دن تھا اور اللہ تعالیٰ نے کفار کو ان کے غصہ میں واپس کردیا انھیں کچھ مال ومتاع نہ مل سکا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مسلمانوں کی حفاظت کون کرے گا ؟ تو حضرت کعب نے کہا : میں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : کیا تم اچھی طرح شعر کہہ سکتے ہو ؟ تو حضرت حسان بن ثابت بولے میں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا : تو تم ہی ان کی ہجو کرو روح القدس تمہاری اعانت کرے گا۔ (ابن جریر)
8969- عن جابر قال: لما كان يوم الأحزاب وردهم الله بغيظهم لم ينالوا خيرا، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من يحمي أعراض المؤمنين؟ قال كعب أنا يا رسول الله، فقال: إنك تحسن الشعر؟ فقال حسان بن ثابت: أنا يا رسول الله، قال: نعم أهجهم أنت فسيعينك روح القدس. ابن جرير.
তাহকীক: