কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৯৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٧٠۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے منبر پر فرمایا : عربوں نے اس قصیدہ سے سچا قصیدہ نہیں کہا : جو چیز اللہ تعالیٰ کے علاوہ ہے باطل ہے۔ (ابن حریر)
8970- عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم على المنبر: ما تكلمت العرب بكلمة أصدق من هذا:
ألا كل شيء ما خلا الله باطل
ابن جرير.
ألا كل شيء ما خلا الله باطل
ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٧١۔۔۔ مقدام بن شریح اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ (رض) سے عرض کیا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کوئی شعر دہراتے تھے ؟ آپ نے فرمایا : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عبداللہ بن رواحہ (رض) کے اشعار دہراتے تھے، تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے تیار نہیں کیا۔ (ابن عساکر، ابن جریر، مربرقم ٨٩٥٩)
8971- عن المقدام بن شريح عن أبيه قال: قلت لعائشة أكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتمثل بشيء من الشعر؟ قالت: كان يتمثل بشعر عبد الله
ابن رواحة يقول:
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
"كر" وابن جرير. مر برقم [8959]
ابن رواحة يقول:
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
"كر" وابن جرير. مر برقم [8959]
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٧٢۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ شعر دہراتے تھے، تیرے پاس وہ خبریں لائے گا جسے تو نے توشہ نہیں دیا۔ (ابن جریر)
8972- عن عائشة قالت: كان النبي صلى الله عليه وسلم يتمثل من الشعر:
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
ابن جرير.
ويأتيك بالأخبار من لم تزود
ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٧٣۔۔۔ یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ عبداللہ بن انیس اپنی والدہ سے جو حضرت کعب بن مالک (رض) کی بیٹی ہیں نقل کرتے ہیں، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی مسجد میں وہ شعر کہہ رہے تھے، جب آپ کو دیکھا تو چپ سے ہوگئے، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم لوگ کیا کہہ رہے تھے ؟ حضرت کعب نے کہا : میں شعر پڑھ رہا تھا،تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پڑھو، یہاں تک کہ وہ شعر کو پڑھتے ہوئے جارہے تھے۔
ہم ہر مشکل اور بھنور میں اپنی اصل کی طرف سے قتال کرتے ہیں۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں نہ کہو کہ ہم اپنی اصل کی طرف سے لڑتے ہیں بلکہ ہم اپنے دین کی طرف سے لڑتے ہیں۔ (ابن جریر، عبدالرزاق)
ہم ہر مشکل اور بھنور میں اپنی اصل کی طرف سے قتال کرتے ہیں۔
تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یوں نہ کہو کہ ہم اپنی اصل کی طرف سے لڑتے ہیں بلکہ ہم اپنے دین کی طرف سے لڑتے ہیں۔ (ابن جریر، عبدالرزاق)
8973- عن يحيى بن سعيد أن عبد الله بن أنيس حدثه عن أمه وهي ابنة كعب بن مالك، في مسجد رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو ينشد فلما رآه كأنه انقبض، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما كنتم عليه؟ فقال كعب: كنت أنشد، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: فأنشد - حتى مر بقوله:
نقاتل عن جذمنا1 كل قحمة
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقل نقاتل عن جذمنا ولكن نقاتل عن ديننا. ابن جرير "عب".
نقاتل عن جذمنا1 كل قحمة
فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقل نقاتل عن جذمنا ولكن نقاتل عن ديننا. ابن جرير "عب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کی تائید
٨٩٧٤۔۔۔ معمر زھری سے روایت کرتے ہیں کہ ایک راجز (بہادری کی شاعری کرنے والا) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے شعر کہہ رہا تھا، جب وہ شہید ہوگئے تو ان کا بیٹا سواری سے اترا اور کہا۔ یارسول اللہ میں آپ کے لیے اشعار کہوں گا (کیا اجازت ہے ؟ ) آپ نے فرمایا : ہاں ، حضرت عمر نے کہا : سوچ لو کیا کہتے ہو، تو اس نے کہا : میں کہتا ہوں، (اللہ کی قسم ! ) اگر اللہ تعالیٰ کی ذات کی پہچان نہ ہوتی ہم ہدایت نہ پاتے ، حضرت عمر نے کہا : تم نے سچ کہا، (نہ صدقہ کرتے اور نہ نماز پڑھتے) حضرت عمر نے کہا : تو نے سچ کہا۔ (سو ہم) پر سکینہ نازل فرما، اور جب دشمن سے ملیں تو ہمارے قدم جمائے رکھ، مشرکوں نے ہم پر ظلم کیا، جب وہ کہتے ہیں کفر کروتو ہم انکار کردیتے ہیں۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ایسا کہتا ہے ؟ کہا : یارسول اللہ یہ بات میرے والد نے کہی ہے، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کررہے ہیں کہ مبادا انھوں نے اپنے آپ کو قتل کیا ہو، آپ نے فرمایا : ہرگز ایسی بات نہیں ، وہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے لیے دہرا اجر ہے، زھری فرماتے ہیں : انھوں نے ایک مشرک پر وار کیا تو ان کی تلواران پر آلگی یوں وہ شہید ہوگئے۔
نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کون ایسا کہتا ہے ؟ کہا : یارسول اللہ یہ بات میرے والد نے کہی ہے، آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ اس پر رحم کرے، انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ لوگ ان کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کررہے ہیں کہ مبادا انھوں نے اپنے آپ کو قتل کیا ہو، آپ نے فرمایا : ہرگز ایسی بات نہیں ، وہ جہاد کرتے ہوئے فوت ہوئے ان کے لیے دہرا اجر ہے، زھری فرماتے ہیں : انھوں نے ایک مشرک پر وار کیا تو ان کی تلواران پر آلگی یوں وہ شہید ہوگئے۔
8974- عن معمر عن الزهري كان راجز يرجز للنبي صلى الله عليه وسلم، فنزل ابنه بعد ما مات فقال أرجز لك يا رسول الله؟ قال: نعم، فقال عمر: انظر ما تقول، فقال أقول: "تالله لولا الله ما اهتدينا"، فقال عمر: صدقت، "ولا تصدقنا ولا صلينا"، فقال عمر: صدقت "فأنزلن سكينة علينا، وثبت الأقدام إذ لاقينا، والمشركون قد بغوا علينا، إذا يقولون اكفروا أبينا" فقال النبي صلى الله عليه وسلم: من يقل هذه؟ قال: أبي يا رسول الله قالها، قال: رحمه الله، قال: يا رسول الله قد يأبى الناس الصلاة عليه مخافة أن يكون قتل نفسه، فقال: كلا بل مات مجاهدا له أجران اثنان. قال الزهري وكان ضرب رجلا من المشركين بسيفه فرجع السيف فأصاب نفسه بسيفه فمات.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر کے ذیل میں
٨٩٧٥۔۔۔ (عمر (رض)) سماک سے روایت ہے کہ نجاشی یعنی قیس بن عمر اور حارثی نے نبی عجلان کی ہجو کی تو انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے شکایت کی، حضرت عمر نے فرمایا : اس نے تمہارے بارے میں جو کچھ کہا وہ سناؤ !
اللہ تعالیٰ جب کمینے اور گھٹیا لوگوں سے دشمنی کرے گا تو وہ نبی عجلان سے دشمنی کرے گا جو ابن مقبل کا گروہ۔
حضرت عمر نے فرمایا : اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی دعا قبول ہوگی اور اگر ظالم ہے تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی، انھوں نے کہا
اس نے یہ بھی کہا ہے :
اس کا قبیلہ کسی ذمہ داری میں بدعہدی نہیں کرتا ، اور لوگوں پر رائی برابر بھی ظلم نہیں کرتے، تو حضرت عمر نے فرمایا : کاش ! خطاب کی اولاد ایسے کہتی ، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے : وہ شام کے وقت ہی گھاٹ پر آتے ہیں جب پانی پینے والے ہر گھاٹ سے واپس ہونے لگتے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا : یہ اس واسطہ کے بھیڑ کم ہو، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے :
نقصان دہ کتے ان کے گوشت سے نفرت کرتے ہیں، اور کعب ، عوف نیشل کا گوشت کھاتے ہیں، تو حضرت عمر (رض) نے فرما کیا : قوم نے اپنے مردوں کو بچالیا انھیں ضائع نہیں کیا۔ (الدینوری، ابن عساکر)
اللہ تعالیٰ جب کمینے اور گھٹیا لوگوں سے دشمنی کرے گا تو وہ نبی عجلان سے دشمنی کرے گا جو ابن مقبل کا گروہ۔
حضرت عمر نے فرمایا : اگر وہ مظلوم ہے تو اس کی دعا قبول ہوگی اور اگر ظالم ہے تو اس کی دعا قبول نہ ہوگی، انھوں نے کہا
اس نے یہ بھی کہا ہے :
اس کا قبیلہ کسی ذمہ داری میں بدعہدی نہیں کرتا ، اور لوگوں پر رائی برابر بھی ظلم نہیں کرتے، تو حضرت عمر نے فرمایا : کاش ! خطاب کی اولاد ایسے کہتی ، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے : وہ شام کے وقت ہی گھاٹ پر آتے ہیں جب پانی پینے والے ہر گھاٹ سے واپس ہونے لگتے ہیں تو حضرت عمر نے فرمایا : یہ اس واسطہ کے بھیڑ کم ہو، انھوں نے کہا : اس نے کہا ہے :
نقصان دہ کتے ان کے گوشت سے نفرت کرتے ہیں، اور کعب ، عوف نیشل کا گوشت کھاتے ہیں، تو حضرت عمر (رض) نے فرما کیا : قوم نے اپنے مردوں کو بچالیا انھیں ضائع نہیں کیا۔ (الدینوری، ابن عساکر)
8975- "عمر رضي الله عنه" عن سماك قال: هجا النجاشي وهو قيس بن عمر والحارثي بني العجلان، فاستعدوا عليه عمر بن الخطاب فقال ما قال فيكم فأنشدوه:
إذا الله عادى أهل لؤم ودقة ... فعادى بني العجلان رهط ابن مقبل
فقال عمر: إن كان مظلوما استجيب له وإن كان ظالما لم يستجب قالوا وقد قال أيضا:
قبيلته لا يغدرون بذمة ... يظلمون الناس حبة خردل
ولافقال عمر: ليت آل الخطاب هكذا قالوا وقد قال:
ولا يردون الماء إلا عشية ... إذا صدر الوراد عن كل منهل
فقال عمر: ذاك أقل للزحام قالوا وقد قال:
تعاف الكلاب الضاريات لحومهم ... ويأكلن من كعب وعوف ونهشل
فقال عمر: احرز القوم موتاهم، ولم يضيعوهم. الدينوري "كر".
إذا الله عادى أهل لؤم ودقة ... فعادى بني العجلان رهط ابن مقبل
فقال عمر: إن كان مظلوما استجيب له وإن كان ظالما لم يستجب قالوا وقد قال أيضا:
قبيلته لا يغدرون بذمة ... يظلمون الناس حبة خردل
ولافقال عمر: ليت آل الخطاب هكذا قالوا وقد قال:
ولا يردون الماء إلا عشية ... إذا صدر الوراد عن كل منهل
فقال عمر: ذاك أقل للزحام قالوا وقد قال:
تعاف الكلاب الضاريات لحومهم ... ويأكلن من كعب وعوف ونهشل
فقال عمر: احرز القوم موتاهم، ولم يضيعوهم. الدينوري "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر کے ذیل میں
٨٩٧٦۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں شعراء عبداللہ بن رواحہ ، حسان بن ثابت اعر کعب بن مالک تھے۔ (ابن عساکر)
8976- عن محمد بن سيرين قال: كان شعراء أصحاب محمد صلى الله عليه وسلم عبد الله بن رواحة وحسان بن ثابت وكعب بن مالك. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ شعر کے ذیل میں
٨٩٧٧۔۔۔ محمد بن سیرین سے روایت ہے کہ اصحاب کے تین گروہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہجو کی، عمروبن العاص، عبداللہ بن الزبعری، ابوسفیان بن عبدالمطلب، تو مہاجرین نے کہا : یارسول اللہ ! آپ حضرت علی کو حکم کیوں نہیں دیتے کہ وہ ہماری طرف سے اس قوم کی ہجو کریں ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : علی یہاں نہیں ہیں، جب اس قوم نے اللہ تعالیٰ کے نبی کی مدد اپنے ہاتھوں اور اپنے ہتھیاروں سے کی ہے تو اپنی زبانوں سے اس کی مدد کرنے کے زیادہ حقدار ہیں۔
تو انصار نے کہا : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری مراد لے رہے ہیں، تو وہ لوگ حسان بن ثابت کے پاس آئے اور ان سے یہ بات ذکر کی وہ چلتے ہوئے آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے، اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے لیے میری ایک بات کے بدلہ صنعاء سے بصری تک کا علاقہ ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہی اس کے اہل ہو، تو انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! مجھے قریش کے نسب کا علم نہیں ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا : اسے ان کا نسب بتاؤ ! اور ان کے عیوب اچھی طرح اسے بتاؤ، تو حسان بن ثابت ، عبداللہ بن رواحہ ، اور کعب بن مالک نے ان کی ہجو کی۔
ابن سیرین فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار جارہے تھے اور اسے اپنی مہار کا پھندا لگا تو اس نے اپنا سر کجاوہ کے اگلے حصہ کے پاس رکھ دیا، تو آپ نے فرمایا : کعب کہاں ہے ؟ حضرت کعب نے کہا : میں یہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا اسے پکڑو ! اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : شعر سناؤتو انھوں نے کہا : ہم نے تہامہ اور خیبر سے ہر شک دور کردیا، پھر ہم نے تلواریں جمع کیں، ہم ان کا امتحان لیتے ہیں اگر وہ بول سکتی تو کہتی : اس کا کاٹ دوس یاثقیف ہیں، انھوں نے پورا قصیدہ پڑھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے یہ ان کے لیے نیز پھینکنے سے زیادہ سخت ہے، ابن سیرین نے کہا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ قبیلہ دوس حضرت کعب کے اس قصیدہ کی وجہ سے مسلمان ہوگیا۔ (ابن جریر)
تو انصار نے کہا : حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری مراد لے رہے ہیں، تو وہ لوگ حسان بن ثابت کے پاس آئے اور ان سے یہ بات ذکر کی وہ چلتے ہوئے آئے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے آکر کھڑے ہوگئے، اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ ! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق دے کر بھیجا ہے مجھے یہ پسند نہیں کہ میرے لیے میری ایک بات کے بدلہ صنعاء سے بصری تک کا علاقہ ہو تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہی اس کے اہل ہو، تو انھوں نے کہا : یارسول اللہ ! مجھے قریش کے نسب کا علم نہیں ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت ابوبکر (رض) سے فرمایا : اسے ان کا نسب بتاؤ ! اور ان کے عیوب اچھی طرح اسے بتاؤ، تو حسان بن ثابت ، عبداللہ بن رواحہ ، اور کعب بن مالک نے ان کی ہجو کی۔
ابن سیرین فرماتے ہیں مجھے بتایا گیا ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اونٹنی پر سوار جارہے تھے اور اسے اپنی مہار کا پھندا لگا تو اس نے اپنا سر کجاوہ کے اگلے حصہ کے پاس رکھ دیا، تو آپ نے فرمایا : کعب کہاں ہے ؟ حضرت کعب نے کہا : میں یہاں یارسول اللہ ! آپ نے فرمایا اسے پکڑو ! اور ایک روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا : شعر سناؤتو انھوں نے کہا : ہم نے تہامہ اور خیبر سے ہر شک دور کردیا، پھر ہم نے تلواریں جمع کیں، ہم ان کا امتحان لیتے ہیں اگر وہ بول سکتی تو کہتی : اس کا کاٹ دوس یاثقیف ہیں، انھوں نے پورا قصیدہ پڑھا، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے یہ ان کے لیے نیز پھینکنے سے زیادہ سخت ہے، ابن سیرین نے کہا : مجھے اطلاع ملی ہے کہ قبیلہ دوس حضرت کعب کے اس قصیدہ کی وجہ سے مسلمان ہوگیا۔ (ابن جریر)
8977- عن محمد بن سيرين قال: هجا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاثة رهط من المشركين، عمرو بن العاص وعبد الله بن الزبعري وأبو سفيان بن الحارث بن عبد المطلب، فقال المهاجرون: يا رسول الله ألا تأمر عليا أن يهجو عنا هؤلاء القوم؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ليس علي هنالك، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا القوم نصروا نبي الله بأيديهم وأسلحتهم فبألسنتهم أحق أن ينصروه، فقالت الأنصار: أرادنا فأتوا حسان بن ثابت فذكروا ذلك له فأقبل يمشي، حتى وقف على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: يا رسول الله والذي بعثك بالحق، ما أحب أن لي بمقولي ما بين صنعاء وبصرى، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أنت لها، فقال: يا رسول الله إنه لا علم لي بقريش، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم لأبي بكر: أخبره عنهم، ونقب له في مثالبهم، فهجاهم حسان وعبد الله بن رواحة وكعب بن مالك. قال ابن سيرين: انبئت أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينا هو يسير على ناقة وشنقها بزمامها حتى وضعت رأسها عند قادمة الرحل، فقال: أين كعب؟ فقال كعب: ها أنا ذا يا رسول الله، قال: خذ، وفي لفظ: قال: أنشد فقال:
قضينا من تهامة كل ريب ... وخيبر ثم أجممنا السيوفا
نخبرها ولو نطقت لقالت ... قواطعهن دوسا أو ثقيفا
قال: فأنشد الكلمة كلها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفس محمد بيده لهي أشد عليهم من رشق النبل. قال ابن سيرين: فنبئت أن دوسا إنما أسلمت بكلمة كعب هذه. ابن جرير.
قضينا من تهامة كل ريب ... وخيبر ثم أجممنا السيوفا
نخبرها ولو نطقت لقالت ... قواطعهن دوسا أو ثقيفا
قال: فأنشد الكلمة كلها، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: والذي نفس محمد بيده لهي أشد عليهم من رشق النبل. قال ابن سيرين: فنبئت أن دوسا إنما أسلمت بكلمة كعب هذه. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ غیبت
٨٩٧٨۔۔۔ حضرت جابر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ چل رہا تھا، وہاں ایک مردار کی بدبو اٹھی تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : یہ ان لوگوں کی بدبو ہے جو مومنوں کی غیبت کرتے ہیں۔ (ابن النجار)
تشریح :۔۔۔ یہاں ایک حسی چیز کے ذریعہ سے غیر معروف چیز کو سمجھایا۔
تشریح :۔۔۔ یہاں ایک حسی چیز کے ذریعہ سے غیر معروف چیز کو سمجھایا۔
8978- عن جابر قال: كنت أمشي مع النبي صلى الله عليه وسلم، فارتفعت ريح جيفة، فقال: هذه ريح الذين يغتابون المؤمنين. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل رخصت غیبت
٨٩٧٩۔۔۔ حضرت قتادہ (رض) سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے فرمایا : فاجر کے (حق میں غیبت) حرام نہیں۔ (ابن ابی الدنیا، مربرقم۔ ٨٠٧٨)
تشریح :۔۔۔ جو اللہ تعالیٰ کی حرمت کی حفاظت نہ کرے تو اس کی حرمت کیسے برقرار ہے ! ؟
تشریح :۔۔۔ جو اللہ تعالیٰ کی حرمت کی حفاظت نہ کرے تو اس کی حرمت کیسے برقرار ہے ! ؟
8979- عن قتادة قال: قال عمر بن الخطاب: ليس لفاجر حرمة. ابن أبي الدنيا. مر برقم [8075] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل رخصت غیبت
٨٩٨٠۔۔۔ ابوعبدالرحمن احمد بن مصب المروزی، جارود ابن زید، بہزبن حکیم عن ابیہ عن جدہ، فرماتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم فاجر کا ذکر (بد) کرنے سے ڈرتے ہو ؟ اس کی برائی بیان کروتا کہ لوگ اسے پہچان لیں، ابوعبدالرحمن کہتے ہیں : میں نے جارود سے کہا : آپ کے علاوہ یہ حدیث کسی نے روایت نہیں کی، تو انھوں نے کہا : تمہیں حسن بصری کا قول معلوم ہے ؟ میں نے کہا : ان کا قول کیا ہے ؟ کہا : ہم سے درج بن مسافر نے یونس سے حضرت بصری سے روایت کی ہے کہ ان کے سامنے ایک شخص کا تذکرہ ہوا تو آُ نے اس کی غیبت کی، لوگوں نے کہا : ابوسعید ! ہمیں لگتا ہے کہ آپ نے اس شخص کی غیبت کی ہے ؟ آپ نے فرمایا : بدو اگر میں نے کسی صاحب حیثیت کی غیبت کی ہوتی تو غیبت ہوتی ، جو شخص گناہوں کا اظہار کرے اور انھیں چھپائے نہیں تو تمہارا اس کا ذکر (بد) کرنا نیکی ہے جو لکھی جاتی ہے اور جو گناہ کرکے لوگوں سے چھپائے تو اس کا ذکر (بد) تمہارے لیے غیبت ہے۔ (بیھقی فی الشعب)
8980- عن أبي عبد الرحمن أحمد بن مصعب المروزي: ثنا الجارود ابن زيد عن بهز بن حكيم عن أبيه عن جده قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أترعون عن ذكر الفاجر؟ اذكروه بما فيه كي يعرفه الناس. قال أبو عبد الرحمن فقلت للجارود: لم يرو هذا الحديث أحد غيرك، فقال:
عرفت قول الحسن؟ قلت: وما قول الحسن؟ قال: حدثنا روح بن مسافر عن يونس عن الحسن ذكر رجل عند الحسن فنال منه، فقيل له: يا أبا سعيد ما نراك إلا اغتبت الرجل، فقال: أي لكع هل غبت من شيء فيكون غيبة أيما رجل أعلن بالمعاصي ولم يكتمها كان ذكركم إياه حسنة تكتب لكم، وأيما رجل عمل بالمعاصي فكتمها الناس كان ذكركم إياه غيبة. "هب". مر برقم [8070] .
عرفت قول الحسن؟ قلت: وما قول الحسن؟ قال: حدثنا روح بن مسافر عن يونس عن الحسن ذكر رجل عند الحسن فنال منه، فقيل له: يا أبا سعيد ما نراك إلا اغتبت الرجل، فقال: أي لكع هل غبت من شيء فيكون غيبة أيما رجل أعلن بالمعاصي ولم يكتمها كان ذكركم إياه حسنة تكتب لكم، وأيما رجل عمل بالمعاصي فكتمها الناس كان ذكركم إياه غيبة. "هب". مر برقم [8070] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل رخصت غیبت
٨٩٨١۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک شخص کا ذکر کیا، تو ایک شخص نے کہا : کیا تم اس کی غیبت کررہے ہو ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو حیا کی چادر اتاردے اس کی غیبت (کا گناہ) نہیں۔ (ابن النجار مربرقم : ٨٠٧٢)
8981- عن أنس قال: ذكر رجل لرجل عند رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال رجل: أتغتابه؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ألقى جلباب الحياء فلا غيبة له. ابن النجار. مر برقم [8072] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل رخصت غیبت
٨٩٨٢۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے تین آدمیوں کی غیبت حرام نہیں، وہ فاسق جو اپنے فسق کا اظہار کرے، ظالم بادشاہ (یا حکمران، گورنر) وہ بدعتی جو بدعت کا اعلان و اظہار کرے۔ (بیھقی فی الشعب ، مربرقم، ٨٠٦٨)
8982- عن الحسن قال: ثلاث ليس لهم حرمة في الغيبة، فاسق يعلن الفسق والأمير الجائر، وصاحب البدعة المعلن البدعة. "هب". مر برقم [8068] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ قابل رخصت غیبت
٨٩٨٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ بدعتی کی غیبت (کا گناہ) نہیں۔ (بیھقی فی الشعب)
8983- عن الحسن قال: ليس لأهل البدعة غيبة. "هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ بری بات
٨٩٨٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : بری بات کہنے اور سننے والا دونوں گناہ میں برابر (کے شریک) ہیں۔ (بخاری فی الادب، ابویعلیٰ )
8984- عن علي رضي الله عنه قال: القائل الفاحشة والذي يسمع لها في الإثم سواء. "خ" في الأدب "ع".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کلمات کفر
٨٩٨٥۔۔۔ حضرت حذیفہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : مجھے تمہارے متعلق ایک شخص کا خوف ہے جو قرآن پڑھے گا، یہاں تک کہ جب اس کی رونق دیکھی جائے گی، اور وہ اسلام کا مددگار ہوگا جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہے گا اسے چھوڑ دے گا اور اس سے جدا ہوجائے گا، اور اس پیٹھ پھینک دے گا، اپنے پڑوسی کے خلاف تلوار لے کر بغاوت کرے گا، اسے شرک کی تہمت لگائے گا، میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! ان میں سے شرک کا حقدار کون ہوگا تہمت زدہ یا تہمت لگانے والا ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ تہمت لگانے والا (ابونعیم)
8985- عن حذيفة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إن مما أتخوف عليكم رجلا قرأ القرآن حتى إذا رؤيت بهجته وكان ردء الإسلام أعره2 إلى ما شاء الله انسلخ منه، ونبذه وراء ظهره، وخرج على جاره بالسيف، ورماه بالشرك، قلت: يا رسول الله أيهما أولى بالشرك المرمي أو الرامي؟ قال: لا بل الرامي. أبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کلمات کفر
٨٩٨٦۔۔۔ عباس بن عبدالمطلب (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مدینہ سے نکلا، آپ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : اللہ تعالیٰ نے اس جزیرہ کو ، اور ایک روایت میں ہے اللہ تعالیٰ نے اس مدینہ والوں کو شرک سے بری کیا ہے، لیکن مجھے اندیشہ ہے کہ ستارے انھیں گمراہ کردیں گے، لوگوں نے کہا : یارسول اللہ ! ستارے انھیں کیسے کرینگے ؟ آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ان پر بارش کرے گا، وہ کہیں ہمیں فلاں ستارے کی حرکت سے بارش ملی (ابن جریر
8986- عن العباس بن عبد المطلب قال: خرجت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم من المدينة، فالتفت إليها فقال: إن الله تبارك وتعالى نزه هذه الجزيرة وفي لفظ: لقد برأ الله أهل هذه المدينة من الشرك، ولكني أخاف أن تضلهم النجوم قالوا: وكيف تضلهم يا رسول الله؟ قال: ينزل الله الغيث فيقولون مطرنا بنوء كذا وكذا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٨٧۔۔۔ قیس بن ابی ابی حازم سے روایت ہے کہ میں نے حضرت ابوبکر (رض) کو فرماتے سنا : تم لوگ جھوٹ سے بچو کیونکہ جھوٹ ایمان کو جدا کرنے والا ہے۔ (سفیان بن عینہ مربرقم : ٨٢٩٦/٨٢٢٢)
8987- عن قيس بن أبي حازم قال: سمعت أبا بكر رضي الله عنه يقول: إياكم والكذب، فإن الكذب مجانب للإيمان. سفيان بن عيينة. مر برقم [8206 و 8222] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٨٨۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : مومن کے لیے اتنا جھوٹ کافی ہے کہ وہ ہر سنی ہوئی بات کو بیان کردے۔ (مسلم ، بیھقی فی الشعب)
8988- عن عمر قال: بحسب المؤمن من الكذب أن يحدث بكل ما سمع. "م هب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٨٩۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ مزاح میں بھی جھوٹ چھوڑے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
8989- عن عمر قال: لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يدع الكذب في المزاح. "ش".
তাহকীক: