কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৮৯৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٩٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : آدمی اس وقت تک ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا یہاں تک کہ مزاح میں بھی جھوٹ چھوڑ دے اور باوجودغالب ہونے کے جھگڑا ترک کردے۔ (الشیرازی)
8990- عن عمر قال: لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يدع الكذب في المزاح ويدع المراء ولو شاء غلب. الشيرازي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٩١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : جھوٹ سے بچو کیونکہ یہ جہنم کا راستہ بتاتا ہے۔ (ابن عساکر)
8991- عن عمر قال: إياكم والكذب فإن الكذب يهدي إلى النار. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ
٨٩٩٢۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : جھوٹی بات کہنے والا اور وہ جو اس کی رسی کو کھنچتا ہے دونوں گناہ میں برابر ہیں۔ (ابن ابی الدنیا فی الصمت)
8992- عن علي قال: القائل الكلمة الزور والذي يمد بحبلها في الإثم سواء. ابن أبي الدنيا في الصمت.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
٨٩٩٣۔۔۔ (مسند عبداللہ بن جرادبن المنفق العقیلی (رض)) ابن عساکر نے کہا : کہا جاتا ہے کہ انھیں صحبت حاصل ہے، ابن ابی الدنیا، اسماعیل بن خالد بن سلیمان المروزی، یعلی بن اشدق، عبداللہ بن جراد (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت ابوالدرداء (رض) نے فرمایا : یارسول اللہ ! کیا مومن جھوٹ بولتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جس کا اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان نہیں جب وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے۔ (خطیب فی المنفق)
8993- "مسند عبد الله بن جراد بن المنتفق العقيلي" قال "كر": يقال له صحبة. ابن أبي الدنيا: حدثنا إسماعيل بن خالد بن سليمان المروزي: ثنا يعلى بن الأشدق عن عبد الله بن جراد، قال: قال أبو الدرداء: يا رسول الله هل يكذب المؤمن؟ قال: لا يؤمن بالله ولا باليوم الآخر من إذا حدث كذب. "خط" في المتفق.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
ابن جریر، عمر بن اسماعیل ہمدانی، یعلی بن اشدق عبداللہ بن جراد سے روایت ہے کہ حضرت ابوالدرداء نے کہا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا ایماندار جھوٹ بولتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ایسا کبھی ہوسکتا ہے عرض کیا کہ مومن زنا کرتا ہے ؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں اگرچہ ابوالدرداء ناپسند سمجھے، عرض کیا، کیا مومن جھوٹ بولتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جھوٹ وہی گھڑتا ہے جو ایمان نہیں رکھتا بندہ کوئی لغزش کرتا ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے (اللہ کے حضور) توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔
8994- ابن جرير: حدثني عمر بن إسماعيل الهمداني، ثنا يعلى بن الأشدق عن عبد الله بن جراد قال: قال أبو الدرداء: يا رسول الله هل يسرق المؤمن؟ قال: قد يكون ذلك، قال فهل يزني المؤمن؟ قال: بلى وإن كره أبو الدرداء، قال: هل يكذب المؤمن؟ قال إنما يفتري الكذب من لا يؤمن إن العبد يزل الزلة ثم يرجع إلى ربه فيتوب فيتوب الله عليه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
٨٩٩٥۔۔۔ ابن عساکر ، ابوالقاسم ابن سمرقندی، ابوالحسن بن سعد، عیسیٰ بن علی ، عبداللہ بن محمد، ابراہیم بن ھانی، سعید بن عبد الحمید بن جعفر انصاری ، ابوزیادیزید بن عبداللہ من عامر بن صعصعہ سے روایت کرتے سنا، انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے پوچھا : اللہ کے نبی ! کیا مومن زنا کرسکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : کبھی ایسا ہوسکتا ہے، عرض کیا : کیا جھوٹ بول سکتا ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں ، جونہی آپ نے یہ بات فرمائی اس کے بعد فرمایا : جھوٹ وہی گھڑتے ہیں جو ایمان نہیں رکھتے۔
8995- ابن عساكر: أنا أبو القاسم بن السمرقندي، أنبأنا أبو الحسن بن سعد، أنبأنا عيسى بن علي، أنبأنا عبد الله بن محمد، ثنا إبراهيم بن هانئ، ثنا سعيد بن عبد الحميد بن جعفر الأنصاري، ثنا أبو زياد يزيد بن عبد الله من بني عامر بن صعصعة قال: سمعت يعلى بن الأشدق العقيلي يحدث عن عبد الله بن جراد أنه سأل النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: يا نبي الله هل يزني المؤمن؟ قال: قد يكون ذلك، قال: هل يسرق المؤمن؟ قال: قد يكون ذلك، قال: هل يكذب؟ قال: لا، ثم أتبعها نبي الله صلى الله عليه وسلم حيث قال هذه الكلمة: إنما يفتري الكذب الذين لا يؤمنون.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
٨٩٩٦۔۔۔ حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : خبردار تم لوگ جھوٹی باتیں نقل کرنے والوں سے بچنا، جھوٹ سنجیدگی اور مزاح میں بہتر نہیں، آدمی اپنے بچہ سے کوئی ایسا وعدہ نہ کرے جسے پورا نہ کرتا ہو، خبردار جھوٹ برائی کی راہ دکھاتا ہے اور برائی جہنم کی طرف لے جاتی ہے۔
سچ نیکی کی راہ دکھاتا اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے سچے کو کہا جاتا ہے اس نے سچ کہا اور نیکی کی، اور جھوٹے کے بارے کہا جاتا ہے، اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا، خبردار بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ (ابن جریر)
سچ نیکی کی راہ دکھاتا اور نیکی جنت کی راہ دکھاتی ہے سچے کو کہا جاتا ہے اس نے سچ کہا اور نیکی کی، اور جھوٹے کے بارے کہا جاتا ہے، اس نے جھوٹ بولا اور گناہ کیا، خبردار بندہ جھوٹ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں جھوٹا لکھا جاتا ہے اور بندہ سچ بولتا رہتا ہے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں زیادہ سچا لکھ دیا جاتا ہے۔ (ابن جریر)
8996- عن عبد الله بن مسعود أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ألا وإياكم وروايا الكذب، إن الكذب لا يصلح بالجد ولا بالهزل، ولا يعد الرجل صبيه ما لا يفي به ألا إن الكذب يهدي إلى الفجور والفجور إلى النار، والصدق يهدي إلى البر، والبر يهدي إلى الجنة، وأنه يقال للصادق: صدق وبر، ويقال للكاذب: كذب وفجر، ألا إن العبد يكذب حتى يكتب عند الله كاذبا، ويصدق حتى يكتب عند الله صديقا. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
٨٩٩٧۔۔۔ حضرت عمر بن خطاب (رض) سے روایت ہے، فرمایا : آگ خشک درخت میں اتنا فساد نہیں کرتی جیتا جھوٹ تم میں سے کسی کی مروت وبہادری کا نقصان کرتا ہے، سو تم جھوٹ سے بچو اور سجندگی اور مزاح میں اسے چھوڑدو۔ (الدینوری)
8997- عن عمر بن الخطاب قال: ما النار في يبس العرفج بأسرع من الكذب في فساد مروءة أحدكم، فاتقوا الكذب واتركوه في جد وهزل. الدينوري.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مومن جھوٹ نہیں بولتا
٨٩٩٨۔۔۔ حضرت ابراہیم نخعی (رح) سے روایت ہے وہ (لوگ یعنی صحابہ) ہنسی مذاق اور سنجیدگی میں جھوٹ کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ (ابن جریر)
8998- عن إبراهيم النخعي قال: كانوا لا يرخصون في الكذب في هزل ولا جد. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৮৯৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی رخصت کے مقامات
٨٩٩٩۔۔۔ (عمر (رض)) سے روایت ہے فرمایا : مجھے اس بات سے خوشی نہیں مجھے جو توریہ کی باتیں معلوم ہوں ان کے بدلہ مجھے میرے اہل و عیال کی طرح مل جائے۔ (منصف ابن ابی شیبہ)
8999- "عمر رضي الله عنه" عن عمر قال: لا يسرني أن لي بما أعلم من معاريض القول مثل أهلي ومالي. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی رخصت کے مقامات
٩٠٠٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : توریہ میں وہ باتیں ہوتی ہیں جو آدمی کو جھوٹ سے لاپروا کردیتی ہیں۔ (مصنف ابن ابی شیبہ وھناد وابن جریر، بیھقی )
9000- عن عمر قال: إن في المعاريض ما يغني الرجل عن الكذب. "ش" وهناد وابن جرير "ق".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی رخصت کے مقامات
٩٠٠١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت ابوبکر کے ساتھ ان کی اونٹنی پر سوار ہوئے، فرمایا : ابوبکر لوگوں کو اس کے بارے میں بتاؤ، اس لیے کسی نبی کے مناسب نہیں کہ وہ جھوٹ بولے، تو راستہ میں لوگ آپ سے پوچھنے لگے : آپ کون ہیں ؟ کسی چیز کا طالب ہوں اسے طلب کرتا ہوں، پوچھا آپ کے پیچھے کون ہے ؟ کہا : ایک رہنما ہے جو مجھے راستہ بتاتا ہے۔ (الحسن بن سفیان والدیلمی)
9001- عن أبي هريرة قال: ركب رسول الله صلى الله عليه وسلم خلف أبي بكر ناقته وقال: يا أبا بكر دله الناس عنه، فإنه لا ينبغي لنبي أن يكذب، فجعل الناس يسألونه من أنت؟ قال: باغ يبتغي، قالوا: ومن وراءك قال: هاد يهديني. الحسن بن سفيان والديلمي.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھوٹ کی رخصت کے مقامات
٩٠٠٢۔۔۔ حضرت ام کلثوم بنت عقبہ (رض) سے روایت ہے میں نے نہیں سنا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین چیزوں کے علاوہ جھوٹ کی اجازت دیتے ہوں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے، میں اسے جھوٹ شمار نہیں کرتا، وہ شخص جو لوگوں کے درمیان اصلاح کرے، وہ جھوٹی بات صرف اصلاح کی غرض سے کرتا ہے، وہ شخص جو جنگ میں جھوٹی بات کرتا ہے،
اور خاوند اپنی عورت سے عورت اپنے خاوند سے کوئی جھوٹی بات کرے۔ (ابن جریر)
اور خاوند اپنی عورت سے عورت اپنے خاوند سے کوئی جھوٹی بات کرے۔ (ابن جریر)
9002- عن أم كلثوم بنت عقبة قالت: ما سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرخص في شيء من الكذب إلا في ثلاث، كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: لا أعده كذبا: الرجل يصلح بين الناس، يقول القول لا يريد إلا الإصلاح، والرجل يقول القول في الحرب، والرجل يحدث امرأته، والمرأة تحدث زوجها. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کذب کے ذیل میں
٩٠٠٣۔۔۔ ابراہیم نخعی سے روایت ہے فرمایا : حضرت عمر (رض) نے فرمایا : معذرت کرنے سے بچا کرو کیونکہ اس میں اکثر باتیں جھوٹ ہوتی ہیں۔ (ھناد، مصنف ابن ابی شیبہ)
9003- عن إبراهيم قال: قال عمر: إياكم والمعاذير، فإن كثيرا منها كذب. هناد "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کذب کے ذیل میں
٩٠٠٤۔۔۔ حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائے تو میں اپنے بھائی عبدالرحمن کے سر سے جوئیں نکال رہی تھی، اور میں ایسے ہی اپنے ناخن پھیررہی تھی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عائشہ ! ٹھہرو ! کیا تمہیں پتہ نہیں یہ انگلیوں کا جھوٹ ہے۔ (الدیلمی وفیہ مسلمہ بن علی متروک ، مربرقم : ٨٢٢٧)
9004- عن عائشة قالت: دخل رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا أفلي رأس أخي عبد الرحمن، وأنا أقصع أظفاري على غير شيء، فقال: مهلا يا عائشة أما علمت أن هذا من كذب الأنامل. الديلمي وفيه مسلمة بن علي متروك. مر برقم [8227] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لعن طعن
٩٠٠٥۔۔۔ بوعثمان سے روایت ہے فرمایا ایک دفعہ حضرت عمر (رض) اپنے اونٹ پر بیٹھے جارہے تھے کسی نے لعنت کی، آپ نے فرمایا : یہ لعنت کرنے والا کون ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں شخص ہے، آپ نے فرمایا : تو اور تیرا اونٹ سے پیچھے ہوجائیں، ہمارے ساتھ لعنت کردہ سواری نہیں چل سکتی ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ)
9005- عن أبي عثمان قال: بينما عمر يسير على بعير له فلعنه، فقال: من هذا اللاعن؟ قالوا: فلان قال: تخلف عنا، أنت وبعيرك لا تصحبنا راحلة ملعونة. "ش".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لعن طعن
٩٠٠٦۔۔۔ قتادہ سے روایت ہے حضرت عمر (رض) نے فرمایا : وہ شخص اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے مبغوض ہے جو زیادہ لعن طعن کرنے والا ہو۔ (ابن المبارک)
9006- عن قتادة قال: قال عمر: أبغض عباد الله إلى الله طعان لعان. ابن المبارك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لعن طعن
٩٠٠٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : زیادہ لعنت کرنے والوں پر لعنت کی گئی۔ (بخاری فی الادب)
9007- عن علي قال: لعن اللعانون. "خ" في الأدب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لعن طعن
٩٠٠٨۔۔۔ حضرت ابوالدرداء (رض) سے روایت ہے فرمایا : کسی پر لعنت نہ کرو، کیونکہ لعنت کرنے والے کے لیے مناسب نہیں کہ وہ قیامت ک روز صدیق ہو۔ (ابن عساکر)
9008- عن أبي الدرداء قال: لا تلعنوا أحدا، فإنه لا ينبغي للعان أن يكون يوم القيامة صديقا. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ لعن طعن
٩٠٠٩۔۔۔ حضرت جرمورھجیمی (رض) سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے کوئی وصیت کریں ؟ فرمایا : میں تمہیں وصیت کرتا ہوں کہ تم زیادہ لعنت کرنے والانہ ہونا۔ (مسند احمد، بخاری فی التاریخہ والبغوی والباوردی وابن السکن وابن مندہ وابن قائع، طبرانی فی الکبیر و ابونعیم)
9009- عن جرموز الهجيمي قال: قلت: يا رسول الله أوصني قال: أوصيك أن لا تكون لعانا. "حم خ" في تاريخه والبغوي والباوردي وابن السكن وابن منده وابن قانع "طب" وأبو نعيم.
তাহকীক: