কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৯০১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٠۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا (سامنے) تعریف کرنا (جس کی تعریف کی جائے اسے) ذبح کرنا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ، مسند احمد ، ابن ابی الدنیا فی الصمت)
9010- عن عمر رضي الله عنه قال: المدح الذبح. "ش حم" ابن أبي الدنيا في الصمت.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١١۔۔۔ ابراہیم تیمی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم لوگ حضرت عمر بن خطاب (رض) کے پاس بیٹھے تھے، اتنے میں ان کے پاس ایک شخص آیا اور آکر سلام کیا، اس کے سامنے لوگوں میں سے کسی نے اس کی تعریف کی، تو حضرت عمر نے فرمایا : تم نے اس کی (کمر) توڑدی اللہ تعالیٰ تجھے ہلاک کرے تم اس کے سامنے اس کے دین کی تعریف کرتے ہو ؟ (مصنف ابن ابی شیبہ، بخاری فی الادب)
9011- عن إبراهيم التيمي عن أبيه قال: كنا قعودا عند عمر بن الخطاب، فدخل عليه رجل فسلم عليه، فأثنى عليه رجل من القوم في وجهه قال عمر: عقرت الرجل عقرك الله، تثني عليه في وجهه في دينه؟ "ش خ" في الأدب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٢۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے کہا : اے ہم میں بہترین اور ہمارے بہترین بیٹے ! ہمارے سردار اور ہمارے سردار کے بیٹے ! آپ نے فرمایا : ایسے کہو جیسے میں تمہیں کہہ کر پکارتا ہوں ، شیطان تمہیں بہکانے نہ پائے، مجھے اسی مرتبہ میں رکھا کروجو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا کیا ہے میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ (ابن النجار)
9012- عن أنس أن رجلا قال للنبي صلى الله عليه وسلم: يا خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: قولوا ما أقول لكم، ولا يستهوينكم الشيطان، أنزلوني حيث أنزلني الله، أنا عبد الله ورسوله. ابن النجار.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٣۔۔۔ (جابربن طارق (رض)) حکیم بن جابر اپنے والد سے نقل کرتے ہیں، کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی تعریف کی، یہاں تک کہ اس کی باچھیں تر ہوگئیں ، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کم گوئی کو اختیار کرو، شیطان تم پر مسلط نہ ہو، کیونکہ گفتگو کو ٹکڑے ٹکڑے میں کرنا شیطانی طریقہ ہے۔
الشیرازی فی الالقاب وفیہ بکر بن خنیس متروک
تشریح :۔۔۔ یعنی تکلف سے گفتگو کرنا، جس میں تکبر کی آمیزش ہو۔
الشیرازی فی الالقاب وفیہ بکر بن خنیس متروک
تشریح :۔۔۔ یعنی تکلف سے گفتگو کرنا، جس میں تکبر کی آمیزش ہو۔
9013- "جابر بن طارق" عن حكيم بن جابر عن أبيه: أن أعرابيا مدح رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى أزبد شدقه، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: عليكم بقلة الكلام، ولا يستهوينكم الشيطان، فإن تشقيق الكلام من شقاشق الشيطان.
الشيرازي في الألقاب، وفيه بكر بن خنيس متروك.
الشيرازي في الألقاب، وفيه بكر بن خنيس متروك.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٤۔۔۔ محجن ابن ادرع (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرا ہاتھ تھاما ہوا تھا (اسی حالت میں) ہم مسجد آئے، آپ نے (وہاں) ایک شخص کو نماز پڑھتے دیکھا، فرمایا، یہ شخص کون ہے ؟ میں نے کہا : یہ فلاں شخص ہے جو کام کرتا ہے، اور میں نے اس کی تعریف کی، آپ نے فرمایا : اسے نہ سناؤ، ورنہ تم اسے ہلاک کردوگے (ابن جریر، طبرانی فی الکبیر
9014- عن محجن بن الأدرع قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم آخذا بيدي، فأتينا المسجد، فرأى رجلا يصلي، فقال: من هذا؟ قلت: هذا فلان كذا وكذا؛ فأثنيت عليه، فقال: لا تسمعه فتهلكه.
ابن جرير "طب".
ابن جرير "طب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٥۔۔۔ حضرت ابوموسیٰ سے روایت ہے فرمایا : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اک شخص کو دوسرے کی تعریف کرتے سنا، اور مدح میں انتہائی مبالغہ کررہا تھا، تو آپ نے فرمایا : تم نے اسے ہلاک کردیایا تم نے اس کی کمر ٹوڑ دی۔ (ابن جریر)
9015- عن أبي موسى قال: سمع النبي صلى الله عليه وسلم رجلا يثني على رجل ويطريه في المدحة، فقال: لقد أهلكتم أو قطعتم ظهر هذا الرجل. ابن جرير.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مدح سرائی
٩٠١٦۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایک شخص نے پکارا، آپ نے جب اسے جواب دیا تو وہ بولا کیا آپ کو معلوم نہیں میری تعریف زینت اور میری مذمت بری ہے۔ (ابن عساکر)
9016- عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم ناداه رجل، فلما استجاب له قال: ألم تعلم أن مدحي زين وذمي شين. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مباح تعریف
٩٠١٧۔۔۔ حضرت جابر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں کسی ایسے شخص کو ملامت نہیں کرتا جو دو خصلتوں کے وقت اپنی نسبت کرے، اپنے گھوڑے کو دوڑاتے وقت اور قتال کے وقت ، اور یہ اس وجہ سے کہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے اپنا گھوڑا دوڑایا تو وہ (سب سے) آگے نکل گیا ، آپ نے فرمایا : یہ سمندر ہے، اور میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں تلوار چلا رہے تھے، فرمایا : اس (وار) کو برداشت کر میں عاتکہ کا بیٹا ہوں آپ نے اپنی ان دادیوں کی طرف نسبت کی جو بنی سلیم سے تعلق رکھتی تھیں۔ (ابن عساکر)
9017- عن جابر قال: لا ألوم أحدا ينتمي عند خصلتين: عند إجرائه فرسه وعند قتاله، وذلك أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم أجرى فرسه فسبق، فقال: إنه لبحر ورأيته يوما يضرب بسيف في سبيل الله فقال: خذها وأنا ابن العواتك انتمى إلى جداته من سليم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مزاح
٩٠١٨۔۔۔ لیث بن سعد سے روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ مزاح کو مزاح کیوں کہتے ہیں ؟ فرمایا : اس لیے کہ یہ حق سے دور ہوتا ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الصمت)
9018- عن الليث بن سعد أن عمر بن الخطاب قال: هل تدرون لم سمي المزاح؟ قالوا: لا، قال: لأنه زاح عن الحق. ابن أبي الدنيا في الصمت.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھا مزاح
٩٠١٩۔۔۔ صہیب (رض) سے روایت ہے کہ میری آنکھوں میں تکلیف ہوئی تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھجوریں لے کر آئے، تو میں بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھ کر کھانے لگا، حضرت عمر نے فرمایا : کیا صہیب کو نہیں دیکھتے وہ کھجوریں کھا رہا ہے جبکہ اس کی آنکھیں دیکھ ہی ہیں ؟ تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ میں اپنے حصہ کی صحیح آنکھ سے کھا رہا ہوں۔ ( الزبیر بن بکار، ابن عساکر)
9019- عن صهيب قال: رمدت فأتي النبي صلى الله عليه وسلم بتمر، فجعلت آكل مع النبي صلى الله عليه وسلم، فقال عمر: يا رسول الله ألا ترى إلى صهيب يأكل تمرا وهو أرمد؟ فقلت: يا رسول الله إنما آكل بشق عيني هذه الصحيحة. الزبير بن بكار "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھا مزاح
٩٠٢٠۔۔۔ حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے، میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، آپ قباء میں تشریف رکھتے تھے، حضرت ابوبکر اور حضرت عمر بھی آپ کے ساتھ تھے، آپ کے ساتھ تھے، آپ کے سامنے کھجوریں پڑی ہوئیں تھیں، اور مجھے راستہ میں آنکھ کی تکلیف ہوگئی تھی، مجھے سخت بھوک لگی، میں بھی کھجوریں کھانے لگا، حضرت عمر نے کہا : یارسول اللہ ! کیا آپ صہیب کو نہیں دیکھتے اس کی آنکھ کی تکلیف ہوگئی تھی، مجھے سخت بھوک لگی، میں بھی کھجوریں کھانے لگا، حضرت عمر نے کہا : یارسول اللہ ! کیا صہیب کو نہیں دیکھتے اس کی آنکھ دکھ رہی ہے اور وہ کھجوریں کھا رہا ہے ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں آنکھوں کی تکلیف ہے اور تم کھجوریں کھا رہے ہو ؟ توصہیب (رض) نے کہا : یا رسول اللہ ! میں اپنی صبح آنکھ کی جانب سے کھارہاہوں تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہنس پڑے۔ (ابن عساکر)
9020- عن صهيب قال: قدمت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو بقباء ومعه أبو بكر وعمر، وبين أيديهم رطب، وقد رمدت في الطريق فأصابني مجاعة شديدة، فوقعت في الرطب، فقال عمر: يا رسول الله ألا ترى صهيبا يأكل الرطب وهو أرمد؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا صهيب تأكل الرطب وأنت أرمد؟ فقال صهيب: يا رسول الله إنما آكل بشق عيني هذه الصحيحة، فتبسم. "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اچھا مزاح
٩٠٢١۔۔۔ حضرت صہیب (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ کے سامنے کھجوریں پڑی ہوئی تھیں ، آپ نے فرمایا : قریب ہوجاؤ، کھاؤ ! میں ایک کھجور لے کر کھانے لگا، (میری آنکھوں کی طرف دیکھ کر) آپ نے فرمایا : تم کھجوریں کھا رہے ہو جبکہ تمہیں آنکھوں کی تکلیف ہے ؟ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں دوسری جانب سے چبارہا ہوں ، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مسکرادیئے۔ (الرویانی، ابن عساکر)
9021- عن صهيب قال: قدمت على النبي صلى الله عليه وسلم وبين يديه تمر وخبز، فقال: أدن فكل، فأخذت تمرا فأكلته، فقال: تأكل تمرا وبك رمد؟ فقلت: يا رسول الله إنما أمضغ بناحية أخرى، فتبسم رسول الله صلى الله عليه وسلم. الروياني "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مزاح کے ذیل میں
٩٠٢٢۔۔۔ حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے فرماتی ہیں حضرت ابوبکر الصدیق رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں تجارت کی غرض سے نکلے آپ کے ساتھ سویبط اور نعمان بھی تھے، نعمان نے (سویبط سے) کہا : سویبط مجھے بھوک لگی ہے کھانا کھلاؤ ! تو انھوں نے کہا : حضرت ابوبکر کے اترنے تک انتظار کرو، تو انھوں نے کھانا کھلانے سے انکار کیا، پھر جب انھوں نے پر اؤ کیا تو نعمان (قریبی) کچھ بدوؤں کے پاس گئے، ان سے کہا : میں تمہارے ہاتھ اپنا غلام بیچنا چاہتا ہوں، اگر وہ تمہیں یہ بتائے کہ میں آزاد ہوں تو تم تصدیق نہ کرنا، چنانچہ انھیں چند اونٹنیوں کے عوض بیچ کر چلتے بنے، وہ لوگ سویبط کے پاس آئے، اور کہنے لگے ہم نے تمہیں خریدلیا ہے، انھوں نے کہا : میں تو آزاد ہوں ، وہ ان کی بات پر متوجہ ہوئے ، وہ انھیں لے گئے اور نعمان کو اونٹنیاں دے دیں۔
حضرت ابوبکر (رض) آئے تو فرمایا : سویبط کہا ہے ؟ کہا میں نے تو اللہ کی قسم اسے بیچ دیا ہے، کہا : کیا تم درست کہہ رہے ہو ؟ کہا : جی ہاں، اور یہ ان کی قیمت ہے جو اونٹنیوں (کی شکل) ہیں، فرمایا : میرے ساتھ آؤ، چنانچہ وہ حضرت ابوبکر کے ساتھ ان کے پاس گئے، حضرت ابوبکر (برابر گفتگو کرتے رہے) یہاں تک انھیں چھڑالیا، اور وہ اونٹیناں واپس کردیں، پھر یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ اس واقعہ سے ہنس پڑے۔ (الرویانی وابن مندہ، ابن عساکر)
حضرت ابوبکر (رض) آئے تو فرمایا : سویبط کہا ہے ؟ کہا میں نے تو اللہ کی قسم اسے بیچ دیا ہے، کہا : کیا تم درست کہہ رہے ہو ؟ کہا : جی ہاں، اور یہ ان کی قیمت ہے جو اونٹنیوں (کی شکل) ہیں، فرمایا : میرے ساتھ آؤ، چنانچہ وہ حضرت ابوبکر کے ساتھ ان کے پاس گئے، حضرت ابوبکر (برابر گفتگو کرتے رہے) یہاں تک انھیں چھڑالیا، اور وہ اونٹیناں واپس کردیں، پھر یہ لوگ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے ، تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ کو بتایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے صحابہ اس واقعہ سے ہنس پڑے۔ (الرویانی وابن مندہ، ابن عساکر)
9022- عن أم سلمة قالت: خرج أبو بكر تاجرا في زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم ومعه السويبط والنعمان فقال النعمان يا سويبط، إني جائع فأطعمني، قال كما أنت حتى ينزل أبو بكر، فأبى أن يطعمه، فلما نزلوا انطلق النعمان إلى ناس من الأعراب، فقال: أبيعكم عبدا لي، فإن أخبركم أنه حر فلا تصدقوه، فانطلق فباعه بقلائص، وجاء القوم لسويبط، وقالوا: قد ابتعناك، فقال إني حر، فلم يلتفتوا إلى قوله، فانطلقوا به وأعطوا النعمان من القلائص وجاء أبو بكر، فقال: يا نعمان أين السويبط قال: والله بعته، قال: وحق ما تقول؟ قال نعم، وهذا ثمنه، هذه القلائص، قال: انطلق معي، فانطلق مع أبي بكر إليهم، فلم يزل أبو بكر حتى استنقذه، ورد القلائص، فلما قدموا على رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبره أبو بكر فضحك رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه منها حولا. الروياني وابن منده "كر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : بندہ جب تک باوجود حق پر ہونے کے جھگڑا اور مزاح میں بھی جھوٹ نہ چھوڑے تو وہ ایمان کی حقیقت کو نہیں پہنچ سکتا۔ (ابن زمنین)
9023- عن عمر رضي الله عنه قال: لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يدع المراء وهو محق والكذب في المزاح. ابن زمنين.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٤۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : بندہ باوجود حق پر ہونے کے لڑائی اور مزاح میں جھوٹ چھوڑے تو وہ ایمان کی حقیقت پالے گا، اور اگر وہ چاہے تو غالب آجائے۔ (خشیش بن اصرم)
9024- عن علي رضي الله عنه قال: لا يبلغ عبد حقيقة الإيمان حتى يدع المراء وهو محق، وحتى يدع الكذب في الممازحة، ولو شاء لغلب. خشيش بن أصرم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٥۔۔۔ (انس (رض)) عبداللہ بن یزید بن آدم سلمی دمشقی ، فرماتے ہیں : مجھ سے حضرت ابوالدرداء ، ابوامامہ باہلی، انس بن مالک نے روایت کیا۔ فرماتے ہیں : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) باہر تشریف لائے اور ہم دین بحث کررہے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سخت غضبناک ہوئے، کہ ایسے غصہ کبھی نہ ہوئے تھے، پھر فرمایا : ٹھہروٹھہرو ! اے امت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اوپر جہنم کی آگ نہ بھڑکاؤ، پھر فرمایا : کیا تمہیں اس کا حکم دیا گیا ہے ؟ کیا تمہیں اس سے منع نہیں کیا گیا ؟ تم سے پہلے لوگ اسی کی وجہ سے ہلاک ہوئے۔
پھر فرمایا : جھگڑے کو چھوڑ دو کیونکہ اس میں بھلائی بہت کم ہے، اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے، یہ بھائیوں میں عداوت پیدا کرتا ہے، جھگڑے کے فتنہ سے انسان محفوظ نہیں رہ سکتا، اس کی حکمت سمجھ نہیں آتی، (بحث مباحث میں) جھگڑے کو ترک کردو کیونکہ اس سے شک پیدا ہوتا ہے اور عمل باطل ہوجاتا ہے، جھگڑے کو چھوڑدو، تمہارے لیے اتنا گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو، جھگڑے کو ترک کردو، کیونکہ ایماندار جھگڑتا نہیں ، جھگڑے کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑنے کا خسارہ پورا ہوگیا، جھگڑا چھوڑ دو ، کیونکہ میں تین گھروں کا جنت میں ذمہ دار ہوں ، سب سے نچلے ، درمیان اور اوپر والے حصہ میں، اس شخص کے لیے جو باوجود سچے ہونے کے جھگڑا چھوڑدے۔
جھگڑا چھوڑدو کیونکہ میں قیامت کے روز جھگڑالو کی شفاعت نہیں کروں گا، جھگڑا چھوڑ دو ، کیونکہ مجھے میرے رب نے بہتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد سب سے پہلے جھگڑے سے روکا، جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ شیطان اس بات سے تو ناامید ہوچکا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، البتہ وہ تمہیں بھڑکانے پر راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑنا ہے ، جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ بنی اسرائیل میں اکہتر فرقے اور جماعتیں بنیں ، سب کے سب گمراہ ہیں مگر صرف سواداعظم ہدایت پر ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ سواداعظم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑتا نہیں اور جو اس راستہ کو اختیار کرلے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اہل توحید میں سے کسی کی، کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرے۔
پھر فرمایا اسلام کی ابتداء انوکھی ہوئی اور وہ پھر انوکھا واجنبی ہو کر لوٹے گا، تو (دین پر عمل کی وجہ سے ) ناآشنا لوگوں کے لیے خوشخبری ہے لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ناآشنا لوگ کون ہیں ؟ جو لوگوں کی (دین میں) خرابیوں کو درست کرتے اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑتے نہیں اور اہل توحید میں سے کسی کی، کسی گناہ کی بنا پر ےتکفیر نہیں کرتے ۔ (الدیلمی، ابن عساکر وقال مسند احمد، عبداللہ بن یزید بن آدم احادیثہ موضوعہ وقال ابراھیم بن یعقوب السعدی : احادیثہ منکرہ اعوذ باللہ ان اذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی حدیثہ) ۔
پھر فرمایا : جھگڑے کو چھوڑ دو کیونکہ اس میں بھلائی بہت کم ہے، اس کا فائدہ بہت تھوڑا ہے، یہ بھائیوں میں عداوت پیدا کرتا ہے، جھگڑے کے فتنہ سے انسان محفوظ نہیں رہ سکتا، اس کی حکمت سمجھ نہیں آتی، (بحث مباحث میں) جھگڑے کو ترک کردو کیونکہ اس سے شک پیدا ہوتا ہے اور عمل باطل ہوجاتا ہے، جھگڑے کو چھوڑدو، تمہارے لیے اتنا گناہ کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑتے رہو، جھگڑے کو ترک کردو، کیونکہ ایماندار جھگڑتا نہیں ، جھگڑے کو چھوڑ دو کیونکہ جھگڑنے کا خسارہ پورا ہوگیا، جھگڑا چھوڑ دو ، کیونکہ میں تین گھروں کا جنت میں ذمہ دار ہوں ، سب سے نچلے ، درمیان اور اوپر والے حصہ میں، اس شخص کے لیے جو باوجود سچے ہونے کے جھگڑا چھوڑدے۔
جھگڑا چھوڑدو کیونکہ میں قیامت کے روز جھگڑالو کی شفاعت نہیں کروں گا، جھگڑا چھوڑ دو ، کیونکہ مجھے میرے رب نے بہتوں کی عبادت اور شراب نوشی کے بعد سب سے پہلے جھگڑے سے روکا، جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ شیطان اس بات سے تو ناامید ہوچکا ہے کہ اس کی عبادت کی جائے، البتہ وہ تمہیں بھڑکانے پر راضی ہوگیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑنا ہے ، جھگڑا چھوڑ دو کیونکہ بنی اسرائیل میں اکہتر فرقے اور جماعتیں بنیں ، سب کے سب گمراہ ہیں مگر صرف سواداعظم ہدایت پر ہے لوگوں نے پوچھا یا رسول اللہ سواداعظم کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : جو اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑتا نہیں اور جو اس راستہ کو اختیار کرلے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں اہل توحید میں سے کسی کی، کسی گناہ کی وجہ سے تکفیر نہ کرے۔
پھر فرمایا اسلام کی ابتداء انوکھی ہوئی اور وہ پھر انوکھا واجنبی ہو کر لوٹے گا، تو (دین پر عمل کی وجہ سے ) ناآشنا لوگوں کے لیے خوشخبری ہے لوگوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ناآشنا لوگ کون ہیں ؟ جو لوگوں کی (دین میں) خرابیوں کو درست کرتے اللہ تعالیٰ کے دین میں جھگڑتے نہیں اور اہل توحید میں سے کسی کی، کسی گناہ کی بنا پر ےتکفیر نہیں کرتے ۔ (الدیلمی، ابن عساکر وقال مسند احمد، عبداللہ بن یزید بن آدم احادیثہ موضوعہ وقال ابراھیم بن یعقوب السعدی : احادیثہ منکرہ اعوذ باللہ ان اذکر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فی حدیثہ) ۔
9025- "أنس رضي الله عنه" عن عبد الله بن يزيد بن آدم السلمي الدمشقي، قال: حدثني أبو الدرداء وأبو أمامة الباهلي وأنس بن مالك وواثلة بن الأسقع، قالوا: خرج إلينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتمارى في أمر الدين، فغضب غضبا شديدا لم يغضب مثله، ثم قال: مه مه يا أمة محمد لا تهيجوا على أنفسكم وهج النار، ثم قال: أبهذا أمرتم؟ أو ليس عن هذا نهيتم؟ أو ليس إنما هلك من كان قبلكم بهذا؟ ثم قال: ذروا المراء لقلة خيره، فإن نفعه قليل، ويهيج العداوة بين الإخوان، ذروا المراء فإن المراء لا تؤمن فتنته. ولا تعقل حكمته، ذروا المراء فإنه يورث الشك ويحبط العمل، ذروا المراء فكفاك إثما أن لا تزال مماريا، ذروا المراء فإن المؤمن لا يماري، ذروا المراء فإن المماري قد تمت خسارته ذروا المراء فأنا زعيم بثلاثة أبيات في الجنة: في ربضها، ووسطها، وأعلاها، لمن ترك المراء وهو صادق، ذروا المراء فإن المماري لا أشفع له يوم القيامة، ذروا المراء فإن أول ما نهاني عنه ربي بعد عبادة الأوثان، المراء، وشرب الخمر، ذروا المراء فإن الشيطان قد يئس أن تعبدوه، ولكن رضي منكم بالتحريش، وهو المراء في دين الله، ذروا المراء فإن بني إسرائيل افترقوا على إحدى وسبعين فرقة، كلها ضالة إلا السواد الأعظم، قال: يا رسول الله وما السواد الأعظم؟ قال: من لا يماري في دين الله، ومن كان على ما أنا عليه اليوم وأصحابي، ولم يكفر أحدا من أهل التوحيد بذنب، ثم قال: إن الإسلام بدأ غريبا وسيعود غريبا، فطوبى للغرباء، قالوا: يا رسول الله وما الغرباء؟ قال: الذين يصلحون إذا فسد الناس، ولا يمارون في دين الله، ولا يكفرون أحدا من أهل التوحيد بالذنب. الديلمي "كر" وقال: قال "حم" عبد الله بن يزيد بن آدم أحاديثه موضوعة وقال إبراهيم بن يعقوب السعدي: أحاديثه منكرة أعوذ بالله أن أذكر رسول الله صلى الله عليه وسلم في حديثه.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٦۔۔۔ سلمہ بن وردان، مالک بن اوس بن حدثان اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ بیٹھے تھے، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تین بار فرمایا واجب ہوگئی، تو صحابہ کرام نے کہا : یارسول اللہ ! کیا چیز واجب ہوگئی ؟ تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس نے باطل پر ہوتے ہوئے جھوٹ چھوڑ دیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے نچلے حصہ میں ایک بھر بنائیں گے اور جس باوجودحق پر ہونے کے جھگڑا ترک کردیا تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت کے درمیان میں ایک گھر بنائیں گے۔ (ابن مندہ، ابونعیم)
9026- عن سلمة بن وردان عن مالك بن أوس بن الحدثان عن أبيه أنه كان جالسا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وجبت ثلاثا، فقال له أصحابه: ما وجبت يا رسول الله؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من ترك الكذب وهو مبطل بنى الله له في ربض الجنة، ومن ترك المراء وهو محق بنى الله له في وسط الجنة.
ابن منده وأبو نعيم.
ابن منده وأبو نعيم.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٧۔۔۔ حضرت علی (رض) سے روایت ہے فرمایا : لوگوں کے جھگڑوں سے بچو کیونکہ ان کی دوہی قسمیں ہیں، یا کوئی عقلمند تمہارے خلاف مکر کرے گا یا کوئی جاہل تمہارے ذمہ وہ بات لگادے گا جو تم میں نہیں ہوگی، یاد رکھو گفتگو مذکر ہے اور مونث اور جہاں مذکر ومؤنث جمع ہوجائیں وہاں اولاد کا ہونا ضروری ہے پھر یہ اشعار پڑھتے۔
جو جواب سے بچا اس کی عزت محفوظ ہوگئی، جس نے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھا اس نے اچھا کام کیا، جو لوگوں سے ڈرا لوگ اس سے ڈریں گے، اور جس نے لوگوں کو حقیر جانا وہ ہرگز اس سے نہیں ڈریں گے (بیھقی فی الشعب مربرقم : ٨٤٨٩)
جو جواب سے بچا اس کی عزت محفوظ ہوگئی، جس نے لوگوں کے ساتھ میل ملاپ رکھا اس نے اچھا کام کیا، جو لوگوں سے ڈرا لوگ اس سے ڈریں گے، اور جس نے لوگوں کو حقیر جانا وہ ہرگز اس سے نہیں ڈریں گے (بیھقی فی الشعب مربرقم : ٨٤٨٩)
9027- عن علي قال: إياكم ومعاداة الرجال، فإنهم لا يخلون من ضربين: من عاقل يمكر بكم، أو جاهل يعجل عليكم بما ليس فيكم، واعلموا أن الكلام ذكر والجواب أنثى، وحيث ما اجتمع الزوجان فلا بد من النتاج ثم أنشأ يقول:
سليم العرض من حذر الجوابا ... ومن دارى الرجال فقد أصابه
ومن هاب الرجال تهيبوه ... ومن حقر الرحال فلن يهابا
"هب". مر برقم [8489] .
سليم العرض من حذر الجوابا ... ومن دارى الرجال فقد أصابه
ومن هاب الرجال تهيبوه ... ومن حقر الرحال فلن يهابا
"هب". مر برقم [8489] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جھگڑا
٩٠٢٨۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے فرمایا : ہر جھگڑالو کی تکفیر کرنا دو رکعتوں کا ثواب (رکھتا) ہے۔ (ابن عساکر : ٧٩٣٠)
تشریح :۔۔۔ ایسا شخص جس کا مشغلہ ہی شرعی مسائل لے کر ان پر غلط نظریہ سے بحث کرنا ہو جس سے لوگوں کے ایمان میں فتور کا خطرہ ہو۔
تشریح :۔۔۔ ایسا شخص جس کا مشغلہ ہی شرعی مسائل لے کر ان پر غلط نظریہ سے بحث کرنا ہو جس سے لوگوں کے ایمان میں فتور کا خطرہ ہو۔
9028- عن أبي هريرة قال: تكفير كل لحاء ركعتان. "كر". مر برقم [7930] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৯০২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فضول باتیں
٩٠٢٩۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے فرماتے ہیں : نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک ساتھی فوت ہوگیا، لوگوں نے کہا اسے جنت مبارک ہو، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں اس کا کیا علم ؟ شاید اس نے لایعنی بات کی ہو یا ایسی چیز سے منع کیا ہو جس سے اس کا نقصان نہ تھا۔ (ابن جریر)
9029- عن أنس قال: قبض رجل من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فقالوا: هنيئا له بالجنة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: وما علمكم؟ لعله قد تكلم فيما لا يعنيه، أو منع ما لا ينقصه. ابن جرير.
তাহকীক: