কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৯০৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فضول باتیں
٩٠٣٠۔۔۔ حضرت انس (رض) سے روایت ہے : تمہیں کیا معلوم ہوسکتا ہے اس نے کوئی فضول بات کی یا ایسی چیز میں بخل سے کام لیا جس سے اس کا کوئی نقصان نہ تھا۔ (ترمذی وقال غریب)
9030- عن أنس: أولا تدري، فلعله تكلم بكلام فيما لا يعنيه، أو بخل بما لا ينقصه. "ت" وقال غريب.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فضول باتیں
٩٠٣١۔۔۔ حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت فرماتے ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک شخص شہید ہوگیا تو اس پر ایک رونے والی روئی، اس نے کہا : ہائے شہید ! تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہیں کیا معلوم کہ وہ شہید ہے ؟ شاید اس نے کوئی فضول بات کی ہو، یا کسی ایسی زائد چیز میں بخل سے کام لیا ہو جس کا اسے کوئی نقصان نہ تھا۔ (العسکری فی الامثال وفیہ عصام بن طلیق، قال ابن معین لیس بشیء)
9031- عن أبي هريرة قال: قتل شهيد على عهد رسول الله، فبكته نائحة، فقالت: واشهيداه، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما يدريك أنه شهيد؟ فلعله كان يتكلم فيما لا يعنيه، أو يبخل بفضل ما لا ينقصه. العسكري في الأمثال، وفيه عصام بن طليق قال ابن معين ليس بشيء.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چغلی
٩٠٣٢۔۔۔ قتادہ حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں : کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مردہ شخص کے پاس سے گرزے جسے چغلی کی وجہ سے قبر میں عذاب ہورہا تھا۔ (بیھقی فی کتاب عذاب القبر)
9032- عن قتادة عن أنس قال: مر رسول الله صلى الله عليه وسلم برجل يعذب في قبره من النميمة.

"هق" في كتاب عذاب القبر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چغلی
٩٠٣٣۔۔۔ عیسیٰ بن طہمان حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بنی بجار کی دو قبروں کے پاس سے گزرے ، اور انھیں چغلی اور پیشاب میں بےاحتیاطی کی وجہ سے عذاب ہورہا تھا آپ نے ایک شاخ لی اور اسے چیر کر ایک ٹکڑا اس قبر پر اور ایک اس قبر پر لگا دیا پھر فرمایا : جب تک یہ ہری بھری رہیں گی ان کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ (بیھقی فیہ)

تشریح :۔۔۔ علماء نے لکھا یہ عمل حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ خاص تھا آج کل کوئی اس طرح نہیں کرسکتا۔
9033- عن عيسى بن طهمان عن أنس قال: مر النبي صلى الله عليه وسلم بقبرين لبني النجار، وهما يعذبان بالنميمة والبول، فأخذ سعفة فشقها باثنين فوضع على هذا القبر شقة، وعلى هذا القبر شقة، فقال: يخفف عنهما ما زالتا رطبتين. "هق" فيه.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبان کے ذیل میں ۔۔۔ گفتگو کے آداب
٩٠٣٤۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : عجموں کی زبان بولنے سے بچو ! اور ان کی عید کے دن ان کے عبادتخانوں میں داخل ہونے سے گریز کرو، کیونکہ ان پر (اللہ تعالیٰ کی) ناراضگی اور پھٹکار نازل ہوتی ہے۔ (ابوالقاسم الخرقی فی فوائدہ، بیھقی فی الشعب)
9034- عن عمر رضي الله عنه قال: إياكم ومراطنة الأعاجم، وأن تدخلوا في بيعهم يوم عيدهم، فإن السخط ينزل عليهم. وأبو القاسم الخرقي في فوائده "هق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبان کے ذیل میں ۔۔۔ گفتگو کے آداب
٩٠٣٥۔۔۔ منکدر، محمد بن منکدر سے روایت کرتے ہیں، فرماتے ہیں حضرت زبیر (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، عرض کیا : آپ کیسے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ آپ پر فدا کرے ؟ تو آپ نے فرمایا : تم نے اپنا دیہاتی پن (جو دین کے خلاف ہے) نہیں چھوڑا ؟ (ابن جریر وقال ھذا مرسل رواہ المنکدر بن محمد عبداھل النقل ممن لایعتمد علی نقلہ)
9035- عن منكدر عن محمد بن المنكدر قال: دخل الزبير على رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: كيف أصبحت جعلني الله فداك؟ فقال ما تركت إعرابيتك؟ ابن جرير وقال هذا مرسل رواه المنكدر بن محمد عند أهل النقل ممن لا يعتمد على نقله.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زبان کے ذیل میں ۔۔۔ گفتگو کے آداب
٩٠٣٦۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : یوں نہ کہو میں پانی بہاتا ہوں بلکہ یوں کہو میں پیشاب کرتا ہوں۔
9036- عن عمر قال: لا تقل أريق الماء ولكن قل أبول.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عربی زبان کی فضیلت
٩٠٣٧۔۔۔ (مسند عمر (رض)) ابومسلم نصری سے روایت ہے کہ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : عربی سیکھو، کیونکہ اس سے عقل پیدا ہوتی ہے اور یہادری میں اضافہ ہوتا ہے۔ (ابوالقاسم الخرفی فی فوائدہ وابن الرزبان فی کتاب المرؤۃ بیھقی فی الشعب ، خطیب فی الجامع ، ورواہ ابن الانباری فی الایضاح من طریق مجاھد عن عمر)
9037- "مسند عمر رضي الله عنه" عن أبي مسلم النصري قال: قال عمر: تعلموا العربية، فإنها تنبت العقل، وتزيد في المروءة. أبو القاسم الخرقي في فوائده وابن المرزبان في كتاب المروءة "هب خط" في الجامع ورواه ابن الأنباري في الإيضاح من طريق مجاهد عن عمر.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عربی زبان کی فضیلت
٩٠٣٨۔۔۔ عطابن ابی رباح سے روایت ہے فرماتے ہیں مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) نے طواف کے دوران ایک شخص کو فارسی بولتے سنا، آپ نے اس کا کندھا پکڑا اور فرمایا : عربی سیکھنے کی کوشش کرو۔ (الخرقی، بیھقی فی الشعب
9038- عن عطاء بن أبي رباح قال: بلغني أن عمر بن الخطاب سمع رجلا يتكلم بالفارسية في الطواف، فأخذ بعضده، وقال: ابتغ إلى العربية سبيلا. الخرقي "هب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مختلف ممنوع باتیں
٩٠٣٩۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو کہتے سنا، جو اللہ تعالیٰ اور فلاں شخص (یعنی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)) چاہے، آپ نے فرمایا : تو نے مجھے اللہ تعالیٰ کا شریک بنادیا، بلکہ صرف جو اللہ تعالیٰ اکیلا چاہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ، مسند احمد ، بیھقی)
9039- عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم سمع رجلا يقول: ما شاء الله وشاء فلان، فقال: جعلتني لله عديلا بل ما شاء الله حده. "ش حم ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مختلف ممنوع باتیں
٩٠٤٠۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ تم میں سے کوئی یہ نہ کہے اللہ تعالیٰ اسے جانتا ہے جبکہ وہ بات ہے ہی نہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کو ایسی بات بتانا چاہتا ہے جو ہے ہی نہیں (ہوتی تو اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتی) یہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بڑا گناہ ہے۔ (عبدالرزاق)
9040- عن ابن عباس قال: لا يقولن أحدكم: الله يعلمه وهو لا يعلمه فيعلم الله ما لا يعلم وذلك عند الله عظيم. "عب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مختلف ممنوع باتیں
٩٠٤١۔۔۔ اسماعیل بن زیاد، جعفر بن محمد، اپنے والد سے وہ حضرت اسامہ بن زید (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہلکے سفید رنگ کے خچر پر سوار تھے میں آپ کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا، اچانک وہ خچر پھسلا میں نے کہا : ابلیس کا ناس ہو، تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے میرے کندھوں پر ہاتھ مارا، اور فرمایا : اس طرح نہ کہو، کیونکہ اس وقت ابلیس اتراتا ہے وہ کہتا ہے : مجھے یاد کررہا ہے اور اپنے رب کو بھول گیا ہے لیکن بسم اللہ کہا کرو۔ (خطیب فی المتفق والمفترق ورجالہ ثقات ورجالہ ثقات لسکن فیہ انقطاع بین محمد بن علی بن الحسین وبین اسامۃ)
9041- عن إسماعيل بن زياد، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن أسامة بن زيد قال: بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم على بغلة شهباء، وأنا ردفه، إذ عثرت البغلة، فقلت: تعس إبليس، فضرب رسول الله صلى الله عليه وسلم على منكبي، فقال: يا أسامة لا تقل هكذا، فإن لإبليس عند ذلك نخرة يقول: ذكرني ونسي ربه، ولكن قل: بسم الله. "خط" في المتفق والمفترق ورجاله ثقات، لكن فيه انقطاع بين محمد بن علي بن الحسين وبين أسامة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مختلف ممنوع باتیں
٩٠٤٢۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے فرمایا : حضرت زبیر (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس وقت بیمار تھے، کہا : مجھے اللہ تعالیٰ آپ پر فدا کرے آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ آپ نے فرمایا : زبیر تم نے اپنی اعرابیت نہیں چھوڑی ؟ حسن فرماتے ہیں : کسی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ کسی پر فدا ہو۔ (ابن جریر)

وقال ھذا مرسل واہ لاتثبت بمثلہ حجۃ فی الدین وذلک ان مراسیل الحسن اکثرھا صحف غیر سماع وانہ اذا وصل الا خبار فاکثر روایتہ عن مجاھیل لایعرفون
9042- عن الحسن قال: دخل الزبير على النبي صلى الله عليه وسلم وهو شاك، فقال: كيف تجدك جعلني الله فداك؟ فقال له النبي صلى الله عليه وسلم: أما تركت أعرابيتك بعد يا زبير؟ قال الحسن: لا ينبغي أن يفدي أحد أحدا.ابن جرير، وقال هذا مرسل واه لا تثبت بمثله حجة في الدين وذلك أن مراسيل الحسن أكثرها صحف غير سماع وأنه إذا وصل الأخبار فأكثر روايته عن مجاهيل لا يعرفون.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مختلف ممنوع باتیں
٩٠٤٣۔۔۔ (من مسند سعید الانصاری) سعید بن عامر بن حذیم سے روایت ہے، جو شخص کسی کو اس کے نام کے بغیر (کسی اور لفظ سے) پکارے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں۔ (ابن عساکر)
9043- "من مسند سعيد الأنصاري" عن سعيد بن عامر بن حذيم1: من دعا امرءا بغير اسمه لعنته الملائكة. "كر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٤۔۔۔ زمین اللہ تعالیٰ کی ہے ، اور عباد اللہ تعالیٰ کے ہیں ، جس نے کوئی زمین آباد کی وہ اسی کی ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن فضالہ بن عبید)
9044- الأرض أرض الله، والعباد عباد الله، من أحيا مواتا فهي له. "طب" عن فضالة بن عبيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٥۔۔۔ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا) میرے بندو ! ، زمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہے، پھر تمہارے لیے ہے، جس نے کسی غیر آبادزمین آباد کیا وہ اسی کی ہے۔ (بیھقی الشعب عن طاوس، مرسلا وعن ابن عباس موقوفا)
9045- عبادي، الأرض لله ولرسوله، ثم لكم من بعد، فمن أحيا شيئا من موتان الأرض فله رقبتها.

"هق" عن طاوس مرسلا، وعن ابن عباس موقوفا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٦۔۔۔ بندے اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں اور شہر اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں، جس نے کوئی غیر آبادزمین آباد کی وہ اسی کی ہے ظالم ہڈی کے لیے اس میں کوئی حق نہیں۔ (بیھقی فی السنن عن عائشۃ)
9046- العباد عباد الله، والبلاد بلاد الله، فمن أحيا من موات الأرض شيئا فهو له، وليس لعرق ظالم حق. "هق" عن عائشة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٧۔۔۔ جس نے کسی زمین پر چادر دیواری بنالی تو وہ زمین اس کی ہے۔ مسند احمد ابوداؤد، الضیاء عن سمرۃ
9047- من أحاط حائطا على الأرض فهي له. "حم د" الضياء عن سمرة.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٨۔۔۔ جس نے کوئی غیرآبادزمین آباد کی تو وہ اسی کی ہے ظالم رگ کے لیے اس میں کوئی حق نہیں۔ (بیھقی فی السنن، مسند احمد، ترمذی عن سعید بن زید)
9048- من أحيا أرضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق."هق حم د ت" عن سعيد بن زيد.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৯০৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ چھوٹی کتاب حرف ہمزہ ہے

بنجر زمین کو آباد کرنا۔۔۔ ازقسم اقوال

کھیتی باڑی اور درخت لگانے کی فضیلت
٩٠٤٩۔۔ غیر آبادزمین اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی ہے جس نے اسے آباد کیا وہ اسی کی ہے۔ (بیھقی فی السنن عن ابن عباس)
9049- موتان الأرض لله ولرسوله، فمن أحيا منها شيئا فهو له. "هق" عن ابن عباس.
tahqiq

তাহকীক: