কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৫৮৯০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الخشوع ۔۔۔ عبادت میں دلجمعی اور عاجزی
٥٨٩٠۔۔۔ اس امت سے سب سے پہلے جو چیز اٹھائی جائے گی وہ خشوع ہے یہاں تک کہ اے مخاطب تجھے اس امت میں کوئی خشوع والا نظر نہ آئے گا۔ (طبرانی فی الکبیر عن ابی الدردا (رض))
5890- أول شيء يرفع من هذه الأمة الخشوع، حتى لا ترى فيها خاشعا. "طب عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الخشوع ۔۔۔ عبادت میں دلجمعی اور عاجزی
٥٨٩١۔۔۔ اگر اس شخص کا دل خشوع والا ہوجائے تو اس کے اعضاء بھی خشوع کرنے لگ جائیں۔ (الحکیم عن ابوہریرہ (رض)
5891- لو خشع قلب هذا خشعت جوارحه. "الحكيم عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٩٢۔۔۔ جس مومن کے دل میں خوف اور امید جمع ہوجائیں اللہ تعالیٰ اسے امید عطا فرمائیں گے اور خوف سے امن فرمائیں گے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن سعید بن المسیب)
5892- ما اجتمع الرجاء والخوف في قلب مؤمن إلا أعطاه الله الرجاء وآمنه الخوف. "هب عن سعيد بن المسيب".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٩٣۔۔۔ اگر تم اللہ تعالیٰ کی معرفت ایسے حاصل کرلو جیسا کہ اس کی معرفت کا حق ہے تو تم سمندروں پر چلنے لگو، اور تمہاری دعاؤں سے پہاڑ ٹل جائیں ، اور اگر تم اللہ تعالیٰ سے ایسے ڈرنے لگ جاؤ جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے تو تمہیں وہ علم ہوجائے جس کے ساتھ جہالت نہیں، لیکن اس تک کوئی نہیں پہنچا کسی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ بھی یا رسول اللہ ؟ آپ نے فرمایا : اور نہ میں ، اللہ تعالیٰ اس سے بہت بڑا ہے کہ کوئی اس کے تمام امر کو پہنچے۔ (ابن السنی عن معاذ)

تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عالم الغیب کلی نہ تھے۔
5893- لو عرفتم الله حق معرفته لمشيتم على البحور، ولزالت بدعائكم الجبال، ولو خفتم الله حق مخافته لعلمتم العلم الذي ليس معه جهل، ولكن لم يبلغ ذلك أحدا، قيل: يا رسول الله ولا أنت؟ قال: ولا أنا، الله عز وجل أعظم من أن يبلغ أحد أمره كله. "ابن السني عن معاذ".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٩٤۔۔۔ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کی رحمت کی مقدار معلوم ہوجائے تو تم اسی پر بھروسہ کرلو اور عمل نہ کرو مگر تھوڑا بہت، اور اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کے غضب کی مقدار کا پتہ چل جائے تو تمہیں یہ گمان ہونے لگے کہ تم نجات نہیں پاؤ گے۔ الدیلمی عن ابی سعید

تشریح :۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے کیسے مشکل حالات میں کام بنا دیتی ہے اور کیسی باریک اور معمولی بات سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوجاتے ہیں۔
5894- لو تعلمون قدر رحمة الله لاتكلتم عليها وما عملتم إلا قليلا ولو تعلمون قدر غضب الله لظننتم بأن لا تنجوا. "الديلمي عن أبي سعيد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٨٩٥۔۔۔ میں نے جبرائیل سے کہا : جبرائیل ! کیا بات ہے میں دیکھ رہا ہوں کہ اسرافیل ہنس نہیں رہے ہیں ؟ جبکہ میرے پاس جو فرشتہ بھی آیا میں نے اسے ہنستا دیکھا، تو جبرائیل (علیہ السلام) نے فرمایا : ہم نے اس فرشتہ کو اس وقت سے ہنستے نہیں دیکھا جب سے جہنم پیدا کی گئی۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن المطلب بخاری مسلم)
5895- قلت لجبريل: يا جبريل ما لي أرى إسرافيل يضحك؟ ولم يأتني أحد من الملائكة إلا رأيته يضحك، قال جبريل: ما رأينا ذلك الملك يضحك منذ خلقت النار. "هب عن المطلب ق".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٨٩٦۔۔۔ میرے پاس جبرائیل آئے اور وہ رو رہے تھے، میں نے کہا : آپ کو کیا ہوا ؟ تو انھوں نے فرمایا : اس وقت سے میری آنکھ خشک نہیں ہوئی جس وقت سے اللہ تعالیٰ نے جہنم کو پیدا فرمایا ہے اس خوف سے کہ میں اس کی نافرمانی نہ کر بیٹھوں اور اللہ تعالیٰ مجھے اس میں ڈال دے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن ابی عمران الجونی ، مرسلا)
5896- جاءني جبريل وهو يبكي، فقلت: ما يبكيك؟ قال: ما جفت لي عين منذ خلق الله جهنم مخافة أن أعصيه فيلقيني فيها. "هب عن أبي عمران الجوني" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٨٩٧۔۔۔ جس رات مجھے معراج کرائی گئی تو میں ملاء اعلیٰ سے گزرا (میں نے دیکھا) کہ جبرائیل (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کے خوف سے بوسیدہ ٹاٹ کی طرح ہو رہے ہیں۔ (الدیلمی عن جابر)

تشریح :۔۔۔ جتنا قرب اتنا ہی خوف، جو لوگ خوف خدا سے عاری ہیں اغلب یہی ہے کہ وہ قرب الٰہی سے بھی عاری و خالی ہیں چاہے وہ کوئی بھی ہوں۔
5897- لما كان ليلة أسري بي مررت بالملأ الأعلى وجبريل كالحلس البالي من خشية الله عز وجل. "الديلمي عن جابر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٨٩٨۔۔۔ اللہ تعالیٰ (اپنی یاد اور خوف میں) غم گین دل کو پسند فرماتے ہیں۔ (ابن عساکر عن ابی الدرداء (رض) )

تشریح :۔۔۔ سیدنا علی (رض) عبادت کرتے یوں تڑپ تڑپ کر روتے جاتے جیسے کوئی مارگزیدہ ہو یا کسی کو بچھونے ڈس لیا ہو۔
5898- إن الله يحب القلب الحزين. "كر عن أبي الدرداء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৮৯৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٨٩٩۔۔۔ توبہ گناہ کو کھو دیتی ہے اور نیکیاں برائیوں کو ختم کردیتی ہیں، جب بندہ اپنے رب کو خوشحالی میں یاد کرے تو اللہ تعالیٰ اسے مصیبت سے نجات دیتا ہے، اور یہ اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں اپنے بندے کے لیے کبھی بھی دوامن جمع نہ کروں گا اور نہ اس کیلئے دو خوف یکجا کروں گا، اگر وہ دنیا میں مجھ سے بےخوف رہا تو اس دن مجھ سے ڈرے گا جس دن میں لوگوں کو جمع کروں گا، اور اگر وہ دنیا میں مجھ سے ڈرا تو میں اسے اس دن بےخوف کر دوں گا جس دن میں اپنے بندوں کو جنت میں جمع کروں گا تو اس کا امن باقی رہے گا جن لوگوں کو میں نے ہلاک کرنا ہے ان میں اسے ہلاک نہ کروں گا۔ (حلیۃ الاولیاء عن شداد بن اوس)
5899- إن التوبة تغسل الحوبة, وإن الحسنات يذهبن السيئات وإذا ذكر العبد ربه في الرخاء أنجاه الله من البلاء، وذلك بأن الله تعالى يقول: لا أجمع لعبدي أبدا أمنين، ولا أجمع له خوفين، إن هو أمنني في الدنيا خافني يوم أجمع فيه عبادي، وإن هو خافني في الدنيا آمنته يوم أجمع فيه عبادي في حظيرة القدس، فيدوم له أمنه ولا أمحقه فيمن أمحق. "حل عن شداد بن أوس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٩٠٠۔۔۔ اپنے یار کو تیار کرو اس لیے کہ خوف نے اس کے جگر کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ (ابن ابی الدنیا فی الحرف، حاکم، بیہقی فی شعب الایمان عن سھل بن سعد)
5900- جهزوا صاحبكم، فإن الفرق قد فلذ كبده. "ابن أبي الدنيا في الخوف "ك هب" عن سهل بن سعد".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٩٠١۔۔۔ تم میرے پاس اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وسعت پوچھنے آئے ہو ؟ اور میں تمہیں بتاتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : میں کسی پر اتنا غضبناک نہیں ہوا جتنا اس بندے پر جو کوئی گناہ کا کام کرنے لگا اور پھر اس گناہ کو میری معافی کے مقابلہ میں بڑا سمجھا، اگر میں عذاب دینے میں جلدی کرتا یا جلدی عذاب دینا میری شان ہوتی تو میں اپنی رحمت سے مایوس لوگوں کو عذاب دیتا، میں اگر اپنے بندوں پر اس وقت رحم کرتا کہ وہ میرے سامنے کھڑے ہونے سے خوف زدہ ہیں تو میں ان کی اس بات کی قدر دانی کرتا ، اور میں ان کو اس کے بدلے امن عطا کردیتا جس سے وہ ڈر رہے ہیں۔ (الرافعی عن ناجیۃ بن محمد المنتجع عن جدہ)

تشریح :۔۔۔ حق تعالیٰ شانہ نہ تو کسی کو یکدم عذاب دیتے ہیں اور نہ عذاب دینے میں جلدی کرتے ہیں بلکہ پہلے مہلت دیتے ہیں
5901- جئت تسألني عن سعة رحمة الله؟ وأخبرك أن الله تعالى يقول: ما غضبت على أحد غضبي على عبد أتى معصية فتعاظمها في جنب عفوي فلو كنت معجلا العقوبة أو كانت العجلة من شأني لعجلت للقانطين من رحمتي، ولو لم أرحم عبادي إلا من خوفهم من الوقوف بين يدي لشكرت ذلك لهم، وجعلت ثوابهم منه الأمن لما خافوا. "الرافعي عن ناجية بن محمد المنتجع عن جده".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٩٠٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اے انسان ! نہ تو نے مجھے پکارا اور نہ مجھ سے امید رکھی، میں نے تیرے گناہ بخش دئیے، مجھے اس کی کوئی پروا نہیں، اے انسان ! اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں اور پھر تو مجھ سے بخشش طلب کرے تو میں تجھے بخش دوں گا مجھے اس کی کوئی پروا نہیں اے انسان ! اگر تو تو زمین بھر کر گناہ میرے سامنے لائے اور مجھ سے اس حال میں ملے کہ تو میرے ساتھ کسی چیز شریک نہ کرتا ہو تو میں تجھے زمین بھر کر مغفرت عطا کروں گا۔ (ترمذی، حسن عریب، سعید بن منصور، عن انس، طبرانی فی الکبیر عن ابن عباس ، ابن النجار عن ابوہریرہ (رض) ، بیہقی فی شعب الایمان عن ابی ذر)

تشریح :۔۔۔ انسان کے گناہ اس کی حد نظر کے مطابق اور اللہ تعالیٰ کی رحمت اپنی ذات کے مطابق۔
5902- قال الله تعالى: يا ابن آدم إنك ما دعوتني ورجوتني غفرت لك على ما كان منك ولا أبالي، يا ابن آدم لو بلغت ذنوبك عنان السماء ثم استغفرتني غفرت لك وأبالي، يا ابن آدم إنك لو أتيتني بقراب الأرض خطايا ثم لقيتني لا تشرك بي شيئا لآتيتك بقرابها مغفرة. "ت حسن غريب ص عن أنس" "طب عن ابن عباس" "ابن النجار عن أبي هريرة" "هب عن أبي ذر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٩٠٣۔۔۔ علم (کی علامت) کے لیے خوف و خشیت (الٰہی) کافی ہے غیبت کے لیے اتنا کافی ہے کہ کسی آدمی میں موجود (عیب) کو یاد کیا جائے، (ابو نعیم عن عائشہ (رض))

تشریح :۔۔۔ غیبت کو زنا سے بدتر ” اشد من الزنا “ کہا گیا ہے، اس گناہ کی لت ایسی لوگوں کو پڑی ہے کہ غیبت ہر مجلس میں چٹنی کا مزہ دیتی ہے۔
5903- كفى من العلم الخشية وكفى من الغيبة أن يذكر الرجل بما فيه. "أبو نعيم عن عائشة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جبرائیل (علیہ السلام) کا جہنم کے خوف سے رونا
٥٩٠٤۔۔۔ جس چیز کی تمہیں امید نہیں اس سے بڑھ کر کی امید رکھو، اس واسطے کہ میرے بھائی موسیٰ بن عمران آگ لینے گئے تو اللہ عزوجل نے ان سے کلام کیا۔ (الدیلمی بن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ خدا کی دین کا موسیٰ سے پوچھئے احوال ، آگ لینے گئے پیمبری مل گئی۔
5904- كن لما ترجو أرجى منك لما ترجو، فإن أخي موسى بن عمران ذهب ليقتبس نارا فكلمه ربه عز وجل. "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩٠٥۔۔۔ اگر میرا رب ، میرا اور ابن مریم کا اتنا بھی مواخذہ فرما لے جتنا ان دو انگلیوں کا سایہ ہے یعنی آپ کی دو انگلیاں شہادت والی اور درمیانی انگلی، تو اللہ تعالیٰ ہمیں عذاب دیتا اور ذرا برابر ہم پر ظلم نہ کرتا۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ (رض)
5905- لو يؤاخذني ربي وابن مريم بما جنت هاتان، يعني أصبعيه التي تلي الإبهام والتي تليها، لعذبنا ولا يظلمنا شيئا. "حل عن أبي هريرة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩٠٦۔۔۔ اگر اللہ تعالیٰ میرا اور ابن مریم کا ہمارے گناہوں کی وجہ سے مواخذہ فرمائے ، تو ہمیں عذاب دے اور ہم پر ذرا ظلم نہ کرے۔ (دار قطنی فی الافراد عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر خصوصیت کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ انبیاء میں سے سب سے قریب ترین ہیں، نیز ان کی پیدائش و نبوت بڑے انوکھے انداز میں ہوئی، اور اہل عرب ان سے بڑی دشمنی کرتے ، خود مدینہ میں بسنے والے یہودی اس مرض میں مبتلا تھے اور گردو نواح کے عیسائی انھیں الوہیت کے مقام پر فائز سمجھتے تھے اس لیے آپ نے ایسا رویہ اختیار فرمایا جیسے عیسیٰ (علیہ السلام) کے ماننے والے انانیت وعناد پر محمول نہ کریں، اور اپنا ذکر پہلے فرمایا۔ کلمہ لو داخل کرکے اس طرح بھی اشارہ کردیا، کہ ہمارا کوئی گناہ تو نہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی شان بےنیازی سے کیا بعید، معلوم ہوا انبیاء معصوم ہوتے ہیں۔
5906- لو أن الله عز وجل يؤاخذني وعيسى ابن مريم بذنوبنا لعذبنا ولا يظلمنا شيئا قط. "قط في الأفراد عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩٠٧۔۔۔ جو آنکھ بھی اپنے آنسو سے ڈبڈبائی تو اللہ تعالیٰ اس کے پورے بدن کو آگ پر حرام کر دے گا، اور جو قطرہ اس کے رخسار پر پڑا تو اس پر نہ مردنی چھائے گی اور نہ ذلت ، اگر کسی امت میں کوئی رونے والا روئے تو ان سب پر رحم کیا جاتا ہے ہر چیز کا ایک وزن اور مقدار ہوتی ہے سوائے ایک آنسو کے، جس سے آگ کے سمندر بجھ جاتے ہیں۔ (بیہقی عن مسلم بن یسار مرسلا)

تشریح :۔۔۔ آنسو کے استثناء سے کوئی حقارت گمان نہ کرے کہ اتنی تھوڑی چیز کا کیا وزن اور کیا مقدار ؟ لیکن آگ کے سمندر کا بجھ جانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مقدار و وزن کا یہاں کوئی پیمانہ ہی نہیں جو اسے ناپ تول سکے۔
5907- ما اغرورقت عين بمائها، إلا حرم الله سائر ذلك الجسد على النار، ولا سالت قطرة على خدها فيرهق ذلك الوجه فترة ولا ذلة، ولو أن باكيا بكى في أمة من الأمم رحموا، وما من شيء إلا له مقدار وميزان إلا الدمعة تطفي بها بحار من نار. "هب عن مسلم بن يسار" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩٠٨۔۔۔ جس بندے کی آنکھ اللہ تعالیٰ کے خوف سے بھر آئے، اللہ تعالیٰ اس کے بدن کو جہنم کے لیے حرام کردیں گے، اور اگر وہ آنسو اس کے رخسار پر بہہ پڑے ، تو اس پر نہ گردو غبار چھائے گا اور نہ ذلت و رسوائی، ہر عمل کا ثواب و بدلہ ہے سوائے آنسوؤں کے، یہ آگ کے سمندروں کو بجھا دیں گے اگر کسی امت میں کوئی شخص روتا ہو تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے رونے کی وجہ سے اس امت کو نجات دے گا۔ (ابو الشیخ عن النضر بن حمید، مرسلا)
5908- ما اغرورقت عين عبد من خشية الله إلا حرم الله جسده على النار، فإن فاضت على خده لم يرهقه قتر ولا ذلة، وما من عمل إلا وله ثواب إلا الدموع فإنها تطفي بحورا من نار، ولو أن عبدا بكى في أمة من الأمم لأنجى الله تلك الأمة ببكاء ذلك الرجل. "أبو الشيخ عن النضر بن حميد" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯০৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩٠٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے انسان پر انسان پر اسی کو مسلط کیا جس سے انسان خوفزدہ ہوا، اگر انسان اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے نہ ڈرا تو اللہ تعالیٰ اس پر کسی کو مسلط نہیں کرے گا اور انسان اسی کے حوالہ کیا جاتا ہے جس سے اس کو امید ہوتی ہے اور اگر انسان صرف اللہ تعالیٰ سے امید رکھے تو اللہ تعالیٰ اسے کسی کے حوالہ نہ کرے۔ (الدیلمی عن ابن عمر)
5909- ما سلط الله على ابن آدم إلا من خافه ابن آدم، ولو أن ابن آدم لم يخف إلا الله ما سلط الله عليه غيره، ولا وكل ابن آدم إلا إلى من رجاه، ولو أن ابن آدم لم يرج إلا الله ما وكل إلى غيره. "الديلمي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক: