কানযুল উম্মাল (উর্দু)

كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال

کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ

মোট হাদীস ৩৮০৩ টি

হাদীস নং: ৫৯১০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٠۔۔۔ جس آنکھ سے بھی اللہ تعالیٰ کے خوف سے مکھی جتنا آنسو نکلے تو اللہ تعالیٰ بڑی گھبراہٹ والے دن سے اسے امن عطا فرمائیں گے۔ (ابن النجار عن انس)
5910- ما من عين خرج منها مثل الذباب من الدموع من مخافة الله إلا آمنها الله يوم الفزع الأكبر. "ابن النجار عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١١۔۔۔ جس مومن کی آنکھ سے اللہ کے خوف کی وجہ سے آنسو نکلا آگرچہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہو، پھر وہ اس کے چہرے کی گرمی کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ اس کو جہنم پر حرام کردیں گے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن ابن مسعود)
5911- ما من مؤمن يخرج من عينه دمعة من خشية الله وإن كان مثل رأس الذباب فيصيب شيئا من حر وجه إلا حرمه الله على النار. "هب عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٢۔۔۔ جو شخص اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا، اللہ تعالیٰ اسے بخش دیں گے۔ (الرافعی عن انس)
5912- من بكى من خشية الله غفر الله له. "الرافعي عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٣۔۔۔ اگر آج تمہارے پاس ہر ایسا مومن حاضر ہو جسکے ذمہ اتنے گناہ ہوں جیسے مضبوط پہاڑ تو اللہ تعالیٰ ان سب کو اس شخص کے رونے کی وجہ سے بخش دیں گے ، اور یہ اس وجہ سے کہ فرشتے روتے ہیں اور اس کیلئے دعا گو ہوتے ہیں اور کہتے ہیں : اے پروردگار رونے والوں کی نہ رونے والوں کے حق میں شفاعت قبول فرما۔ بیہقی فی شعب الایمان عن الھیشم ابن مالک، مرسلا
5913- لو شهدكم اليوم كل مؤمن عليه من الذنوب كأمثال الجبال الرواسي لغفر لهم ببكاء هذا الرجل، وذلك أن الملائكة تبكي وتدعو له وتقول: اللهم شفع البكائين فيمن لم يبك. "هب" عن الهيثم بن مالك" مرسلا.
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٤۔۔۔ جس نے اللہ تعالیٰ کے خوف سے گناہ چھوڑ دیا اللہ تعالیٰ اسے راضی کر دے گا۔ (ابن لال عن علی)
5914- من ترك معصية لله مخافة الله أرضاه الله. "ابن لال عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٥۔۔۔ جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو اس سے خوفزدہ کرے گا، اور جو اللہ تعالیٰ سے نہ ڈرا، اللہ تعالیٰ اسے ہر چیز سے ڈراتا ہے۔ (ابو الشیخ عن واثلہ، عبد الرحمن بن محمد بن عبد الکریم الکرخی فی امالیہ والرافعی عن ابن عمر)
5915- من خاف الله أخاف الله منه كل شيء، ومن لم يخف الله أخافه الله من كل شيء. "أبو الشيخ عن واثلة" "عبد الرحمن بن محمد بن عبد الكريم الكرخي في أماليه والرافعي عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٦۔۔۔ اللہ کی قسم ! کچھ اقوام جنت کی طرف سبقت و پہل کر گئیں نہ ان کی نمازیں زیادہ ہیں نہ روزے اور عمرے، لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کی نصیحتیوں کو سمجھا، ان کے دل ڈر گئے اور ان کی جانیں مطمئن ہوگئیں، اور اس سے ان کے اعضاء جھک گئے ، وہ مخلوق پر پاک مقام اور اچھے درجہ کی وجہ سے لوگوں کے ہاں اور اللہ تعالیٰ کے ہاں آخرت میں فوقیت لے گئے۔ (ابن السنی وابن شاھین والدیلمی عن علی)
5916- والله لقد سبق إلى جنات عدن أقوام ما كانوا أكثر الناس صلاة ولا صياما ولا اعتمارا ولكنهم عقلوا عن الله مواعظه فوجلت قلوبهم واطمأنت إليه النفوس وخشعت منه الجوارح، ففاقوا الخليقة بطيب المنزلة وبحسن الدرجة عند الناس وعند الله في الآخرة. "ابن السني وابن شاهين والديلمي عن علي".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اللہ تعالیٰ کا مواخذہ بہت سخت ہے
٥٩١٧۔۔۔ وہ شخص جہنم میں داخل نہیں ہوگا جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے رویا، اور کسی گناہ پر اصرار اور ہمیشگی کرنے والا جنت میں نہیں جائے گا، اور اگر تم سے گناہ نہ ہوں تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم لے آئے گا جن سے گناہ سرزد ہوں گے (پھر وہ اللہ تعالیٰ سے معافی مانگے) اور اللہ تعالیٰ انھیں بخش دے گا۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ گناہ کا ہوجانا اگرچہ اتفاقی امر ہے لیکن گناہ پر ڈٹ جانا مستوجب سزا ہے ، کسی صاحب نظر نے کیا خوب کیا : لا کبیرۃ مع الاستغفار ولاصغیرۃ مع الاصرار، استغفار کرنے سے کوئی کبیرہ گناہ باقی نہیں رہتا اور نہ ہمیشگی سے کوئی صغیرہ ، صغیرہ نہیں رہتا، بلکہ کبیرہ بن جاتا ہے۔
5917- لا يلج النار من بكى من خشية الله، ولا يدخل الجنة مصر على معصية، ولو لم تذنبوا لجاء بقوم يذنبون فيغفر لهم. "هب عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال پر بھروسہ نہ کرے
٥٩١٨۔۔۔ اے ابن عمر ! اپنے والدین کے کیے (اعمال) پر دھوکا میں نہ پڑنا، اس واسطے کہ بروز قیامت بندہ اگر مضبوط پہاڑوں جتنے بھی نیک اعمال لائے گا پھر بھی وہ یہ سوچ رہا ہوگا کہ اس دن کی ہول ناکیوں سے نہیں بچ پائے گا۔

اے ابن عمر ! اپنے دین کی حفاظت کر اپنے دین کی حفاظت کر، تمہارا تو پس گوشت و خون ہے سو دیکھو تم کس سے (علم دین) حاصل کر رہے ہو، جو لوگ دین پر کار بند اور ڈٹے ہوئے ہیں ان سے حاصل کرو، اور ان سے حاصل نہ کرو جو (زبان سے فقط) کہتے ہیں۔ (ابن عدی فی الکامل عن ابن عمر)

تشریح :۔۔۔ اس حدیث میں کئی امور ہیں، والدین اور بڑوں کی نیکیوں پر تکیہ نہ کرنا، دین کی تعلیم میں اساتذہ کا انتخاب ، ایسے لوگوں سے علم دین نہ سیکھا جائے جو صرف زبان کے عالم ہیں اور عمل کے لحاظ سے صفر ہیں، ہمارے استاد مفتی عبد الرؤف صاحب سکھروی ادام اللہ ظلہ نے کیا اچھا جملہ ارشاد فرمایا : کہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آج کل جونہی علم کا درجہ بڑھتا ہے عمل کا درجہ گھٹتا جاتا ہے جو جتنا بڑا عالم ہوگا اتنا ہی عمل کے میدان میں کمزور ہوگا، اس دنیا میں گنے چنے چند افراد ہیں جن کا قول ان کے فعل کا متضاد و مخالف نہیں مولانا علی میاں ندوی نے طلباء دیوبند کو چنا نصائح فرمائے تھے جو ” پاجا سراغ زندگی “ کے نام سے چھپ چکے ہیں ان میں فرماتے ہیں : اپنے زندہ یا مردہ اکابر میں سے کسی ایک ہستی کو اپنا رہبر بنائیں اور اس کی زندگی کے مطابق اپنی زندگی ڈھال لیں۔
5918- يا ابن عمر لا يغرنك ما سبق لأبويك من قبل، فإن العبد لو جاء يوم القيامة بالحسنات كأمثال الجبال الرواسي ظن أنه لا ينجو من أهوال ذلك اليوم، يا ابن عمر دينك دينك إنما هو لحمك ودمك، فانظر عمن تأخذ، خذ الدين عن الذين استقاموا، ولا تأخذ عن الذين قالو ا. "عد عن ابن عمر".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯১৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال پر بھروسہ نہ کرے
٥٩١٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، مجھے اپنے جلال اور اپنی مخلوق پر برتری کی قسم ! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا، سو جو مجھ سے دنیا میں ڈرا میں اسے اس دن امن بخشوں گا اور جو دنیا میں مجھ سے بےخوف رہا میں اسے اس دن ڈراؤں گا۔ (ابن عساکر عن انس)
5919- يقول الله عز وجل: وجلالي وارتفاعي فوق خلقي، لا أجمع على عبدي خوفين، ولا أجمع لعبدي أمنين، فمن خافني في الدنيا أمنته اليوم ومن أمنني في الدنيا أخفته اليوم. "ابن عساكر عن أنس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال پر بھروسہ نہ کرے
٥٩٢٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : مجھے میری عزت و جلال کی قسم ! میں اپنے بندے پر دو خوف اور دو امن جمع نہیں کروں گا جب وہ دنیا میں مجھ سے نڈر رہا میں اسے قیامت کے دن ڈراؤں گا اور اگر دنیا میں مجھ سے ڈرا تو قیامت کے روز اسے امن بخشوں گا۔ (ابن المبارک والحکیم عن الحسن ، مرسلاً ، ابن المبارک، بیہقی فی شعب الایمان ، ابن حبان عن ابی سلمہ عن ابوہریرہ (رض)
5920- يقول الله عز وجل: وعزتي وجلالي لا أجمع على عبدي خوفين، وأجمع له أمنين، إذا أمنني في الدنيا أخفته يوم القيامة، وإذا خافني في الدنيا أمنته يوم القيامة. "ابن المبارك والحكيم عن الحسن" مرسلا، "ابن المبارك هب حب عن أبي سلمة عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ اعمال پر بھروسہ نہ کرے
٥٩٢١۔۔۔ مومن کے لیے مناسب ہے کہ وہ غم کی حالت میں شام گزارے اگرچہ وہ نیکی کرنے والا ہو، اس واسطے کہ وہ دو خوفوں کے درمیان ہے، ایک وہ گناہ جو اس سے پہلے صادر ہوا، اسے معلوم نہیں اللہ تعالیٰ اس کے متعلق کیا فیصلہ فرماتا ہے اور اس کی باقی ماندہ عمر میں کتنے مصائب اس پر آئیں گے اس کا اسے علم نہیں۔ (الدیلمی عن ابی امامہ الحدیث بطولہ، ابن عساکر عن ابی امامہ

تشریح :۔۔۔ مقصود یہ ہے کہ خوف بھی ہو اور نا امیدی بھی نہ ہو بلکہ خوف کے ساتھ ساتھ امید بھی ہو۔
5921- ينبغي للمؤمن أن لا يمسي إلا حزينا، وإن كان محسنا، لأنه بين مخافتين: ذنب قد مضى منه لا يدري ما الله صانع فيه، وما بقي من عمره لا يدري ما يصيبه فيه من المهالك. "الديلمي عن أبي أمامة الحديث بطوله كر عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انجام کا خوف ۔۔۔ من الاکمال
٥٩٢٢۔۔۔ تمہیں کیا پتہ ؟ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں پھر مجھے یہ معلوم نہیں میرے ساتھ کیا گزرے گی۔ (حاکم عن ابن عباس

تشریح :۔۔۔ مقصود لوگوں کو خدا کی بےنیازی کی تعلیم دینا ہے، اور حساب کی فکر ہے۔
5922- وما يدريك؟ إني رسول الله ولا أدري ما يفعل بي. "ك عن ابن عباس".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انجام کا خوف ۔۔۔ من الاکمال
٥٩٢٣۔۔۔ تمہیں کیا معلوم اللہ تعالیٰ نے اس کا اکرام کیا ہے ؟ اسے تو موت آگئی (لیکن) میں اللہ تعالیٰ سے اس کے لیے خیر کی امید رکھتا ہوں، اللہ کی قسم ! مجھے معلوم نہیں کہ جبکہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں میرے ساتھ کیا ہوگا ؟ (مسند احمد، بخاری عن ام العلاء)

تشریح :۔۔۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے رضاعی بھائی عثمان بن مظعون اور حضرت عبداللہ بن عمر اور حفصہ بنت عمر کے ماموں کی فوتگی پر آپ تشریف لائے تو وہاں ام العلاء انصاریہ موجود تھیں، انھوں نے حضرت عثمان بن مظعون کے بارے ایسے کلمات کہے جس سے ان کا جنتی ہونا یقینی لگ رہا تھا، آپ نے فرمایا : کسی کے بارے کیا فیصلہ ہوا، کچھ کہا نہیں جاسکتا ؟ بہرکیف اللہ تعالیٰ سے خیر کی امید ہے تاکید کے طور پر آپ نے فرمایا : مجھے بھی اپنے انجام کی خبر نہیں، یاد رکھیں بعض ملحد اور بےدین لوگ اس روایت لے کر بہت اچھلتے کودتے ہیں کہ نبی کو جب اپنے انجام کی خبر نہیں تو انھیں اپنی شریعت پر گویا یقین نہ تھا، اس کا ازالہ یہ ہے کہ انبیاء کو اس بات کا پختہ یقین تھا کہ ہم نجات پائیں گے لیکن خدا تعالیٰ کے سامنے جو پیشی اور پوچھ گچھ کی منازل ہیں ان کا پتہ نہیں کیا کیا ہوگا۔
5923- وما يدريك أن الله أكرمه؟ أما هو فقد جاءه اليقين والله إني لأرجو له الخير، والله ما أدري وأنا رسول الله ما يفعل بي؟ "حم خ عن أم العلاء".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٤۔۔۔ بہت سے پراگندہ بال لوگ جنہیں دروازوں سے ہٹایا جاتا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (مسند احمد، مسلم عن ابوہریرہ (رض))
5924- رب أشعث مدفوع بالأبواب لو أقسم على الله لأبره. "حم م عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٥۔۔۔ بہت سے پراگندہ بال، غبار آلود، پرانے کپڑوں والے جن پو لوگوں کی آنکھیں نہیں جمتیں وہ اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (حاکم، حلیۃ الاولیاء عن ابوہریرہ (رض) )

تشریح :۔۔۔ کسی کا اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا مقام ہے کسی کو کیا معلوم ؟ کسی کی شکل و صورت سے دل کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
5925- رب أشعث أغبر ذي طمرين تنبو عنه أعين الناس لو أقسم على الله لأبره. "ك حل عن أبي هريرة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٦۔۔۔ بہت سے بوسیدہ کپڑوں والے جن کی پروا نہیں کی جاتی، اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کردیں۔ (البزار عن ابن مسعود)
5926- رب ذى طمرين لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره. "البزاز عن ابن مسعود".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٧۔۔۔ میرے نزدیک وہ مومن قابل رشک ہے جو ہلکا پھلکا ہے، اپنی نماز کا حصہ اسے حاصل ہے، اس کی روزی قابل کفایت ہے جس پر وہ اللہ تعالیٰ سے ملنے تک صبر کیے ہوئے ہے، اچھے طریقہ سے اس نے اپنے رب کی عبادت کی، لوگوں میں اتنا مشہور بھی نہیں، اس کی موت جلدی آئی، اس کی میراث تھوڑی ہے اور اس پر رونے والیاں بھی کم ہیں۔ (مسند احمد، ترمذی، بیہقی فی شعب الایمان عن ابی امامۃ)
5927- أغبط الناس عندي مؤمن خفيف الحاذ، ذو حظ من صلاته وكان رزقه كفافا فصبر عليه حتى يلقى الله عز وجل، وأحسن عبادة ربه، وكان غامضا في الناس، عجلت منيته وقل تراثه، وقلت بواكيه. "حم ت هب عن أبي أمامة".
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٨۔۔۔ میرے نزدیک سب سے قابل رشک شخص وہ مومن ہے جو ہلکا پھلکا ہے نماز کا اسے اچھا حصہ ملا ہوا ہے اپنے رب کی اس نے اچھی عبادت کی، اور پوشیدگی میں اس کی اطاعت کی، وہ لوگوں میں چھپا رہتا ہے، انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اس کا رزق اتنا ہے جو اس کے لیے کافی ہے اسی پر وہ صبر کیے ہوئے ہے جلدی اس کی موت آئی، اس پر رونے والیاں کم ہیں، اس کی میراث بھی تھوڑی ہے۔ (مسند احمد، ترمذی ، حاکم ، ابن ماجہ عن امامہ)
5928- إن أغبط الناس عندي لمؤمن خفيف الحاذ ذو حظ من الصلاة أحسن عبادة ربه، وأطاعه في السر وكان غامضا في الناس، لا يشار إليه بالأصابع، وكان رزقه كفافا فصبر على ذلك، عجلت منيته وقلت بواكيه وقل تراثه. "حم ت ك هـ عن أبي أمامة"
tahqiq

তাহকীক:

হাদীস নং: ৫৯২৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٢٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے سب سے پسندیدہ بندے متقی اور ہلکے پھلکے لوگ ہیں، جب وہ غائب ہوں تو ان کی کمی محسوس نہ ہو، اور جب موجود ہوں تو پہچانے نہ جائیں، یہی لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔ (حلیۃ الاولیاء عن معاذ)
5929- أحب العباد إلى الله تعالى الأتقياء الأخفياء الذين إذا غابوا لم يفتقدوا، وإذا شهدوا لم يعرفوا، أولئك أئمة الهدى ومصابيح العلم. "حل عن معاذ"
tahqiq

তাহকীক: