কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৫৯৩০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٣٠۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو سب سے پسند وہ لوگ ہیں جو اجنبی سے لگتے ہیں جو اپنے دین کو بچائے بھاگتے ہیں انھیں اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ بن مریم کے ساتھ اٹھائے گا۔ (حلیۃ الاولیاء عن ابن عمرو)
تشریح :۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اٹھایا جانا، زہد و ورع میں ایک جیسے ہونے کی وجہ سے ہے۔
تشریح :۔۔۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ اٹھایا جانا، زہد و ورع میں ایک جیسے ہونے کی وجہ سے ہے۔
5930- أحب شيء إلى الله تعالى الغرباء الفرارون بدينهم، يبعثهم الله يوم القيامة مع عيسى ابن مريم. "حل عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٣١۔۔۔ ہر رات دن اللہ تعالیٰ کے (جہنم سے) آزاد کردہ لوگ ہوتے ہیں ان میں سے ہر بندے کی ایک مقبول دعا ہوتی ہے۔ (مسند احمد، عن ابوہریرہ وابی سعید، سمویہ عن جابر)
5931- إن لله عتقاء في كل يوم وليلة، لكل عبد منهم دعوة مستجابة.ة "حم عن أبي هريرة وأبي سعيد" "سمويه عن جابر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ فروتنی و عاجزی
٥٩٣٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے کچھ بندے ایسے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (مسند احمد، بخاری و مسلم ، ابوداؤد، نسائی ، ابن ماجہ عن انس)
5932- إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره. "حم ق د ن هـ عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٣۔۔۔ کیا میں تمہیں جنت کے بادشاہ نہ بتاؤں ؟ (سو سنو ! ) ہر ضعیف و کمزور جسے ناتواں سمجھا جاتا ہے پھٹے پرانے کپڑوں والا، جس کی پروا نہیں کی جاتی، اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاذ)
5933- ألا أخبرك عن ملوك أهل الجنة؟ كل رجل ضعيف مستضعف ذو طمرين، لا يؤبه له لو أقسم على الله لأبره. "طب عن معاذ".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٤۔۔۔ کیا میں تمہیں اہل جنت سے آگاہ نہ کروں ؟ ہر کمزور جسے تانواں سمجھا جاتا ہے، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کردے، کیا تمہیں اہل دوزخ سے آگاہ نہ کروں (اور وہ ہراجڈ شیخی بکھیرنے والا، بد اخلاق اور متکبر شخص ہے) ۔ (مسند احمد، بخاری ، مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ)
تشریح :۔۔۔ ایسے لوگوں کی تفصیل و علامات ” فطرتی و نفسیاتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد آرام باغ کراچی میں ملے گی۔
تشریح :۔۔۔ ایسے لوگوں کی تفصیل و علامات ” فطرتی و نفسیاتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد آرام باغ کراچی میں ملے گی۔
5934- ألا أخبركم بأهل الجنة؟ كل ضعيف مستضعف، لو أقسم على الله لأبره، ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ جعظري متكبر."حم ق ت ن هـ عن حارثة بن وهيب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٥۔۔۔ آدمی کے شر میں مبتلا ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے۔ (طبرانی فی الکبیر عن عمر ابن حص)
تشریح :۔۔۔ یعنی ناواقف کے سامنے اشارہ کیا جائے کہ جن کا نام سنتے تھے یہ ہیں وہ حضرات !
تشریح :۔۔۔ یعنی ناواقف کے سامنے اشارہ کیا جائے کہ جن کا نام سنتے تھے یہ ہیں وہ حضرات !
5935- كفى بالمرء من الشر أن يشار إليه بالأصابع. "طب عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٦۔۔۔ آدمی کے شر میں مبتلا ہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ دین یا دنیا کے معاملہ میں اس کی طرف انگلیوں کے انکار کیا جائے ۔۔۔ اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن انس و عن ابوہریرہ (رض))
5936- بحسب امرئ من الشر أن يشار إليه بالأصابع في دين أو دنيا إلا من عصمه الله تعالى. "هب عن أنس وعن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٧۔۔۔ وہ شخص مصیبت کے لیے مخصوص ہوگیا جس نے لوگوں کو پہچان لیا (جبکہ) وہ شخص ان میں گزر بسر کرسکے گا جس نے اس کو چھپانا نہیں۔ (القضاعی عن محمد بن علی، مرسلا)
تشریح :۔۔۔ جسے لوگ پہچان لیں اس کا شر میں مبتلا ہونا پہلے بیان ہوچکا اب اس کے متعلق بتا رہے ہیں جو لوگوں کو پہچانتا ہے، وہ اس طرح کہ اسے ہر ایک کی اچھائی برائی خوب معلوم ہوگی جو نیکی اور برائی میں ایک کسوٹی کا کام دے گا۔
تشریح :۔۔۔ جسے لوگ پہچان لیں اس کا شر میں مبتلا ہونا پہلے بیان ہوچکا اب اس کے متعلق بتا رہے ہیں جو لوگوں کو پہچانتا ہے، وہ اس طرح کہ اسے ہر ایک کی اچھائی برائی خوب معلوم ہوگی جو نیکی اور برائی میں ایک کسوٹی کا کام دے گا۔
5937- خص البلاء بمن عرف الناس، وعاش فيهم من لم يعرفهم. "القضاعي عن محمد بن علي" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٨۔۔۔ نا واقفوں کے لیے خوشخبری ہے، نیک لوگ جو بہت برے لوگوں میں رہتے ہیں، ان کی بات ماننے والے ان کی نافرمانی کرنے والوں سے کم ہیں۔ (مسند احمد عن ابن عمرو)
تشریح :۔۔۔ یعنی ان کے موافق کم اور مخالف زیادہ جو ان کی غربت اور اجنبیت کی وجہ سے ویسے ہی ناک بھوں چڑھاتے رہتے ہیں خصوصا متکبر شخص کی ایسے سارہ لوح لوگوں سے نہیں لگتی۔
تشریح :۔۔۔ یعنی ان کے موافق کم اور مخالف زیادہ جو ان کی غربت اور اجنبیت کی وجہ سے ویسے ہی ناک بھوں چڑھاتے رہتے ہیں خصوصا متکبر شخص کی ایسے سارہ لوح لوگوں سے نہیں لگتی۔
5938- طوبى للغرباء، أناس صالحون في أناس سوء كثير، من يعصيهم أكثر ممن يطيعهم. "حم عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৩৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٣٩۔۔۔ آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے اتنا کافی ہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارے کیے جائیں ، اگر خیر کا اشارہ ہو تو وہ ذلت کا باعث ہے ہاں جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے اور اگر برائی کا اشارہ ہو تو وہ برائی کا سبب ہے۔ (مسند احمد عن عمران بن حصین
5939- كفى بالمرء إثما أن يشار إليه بالأصابع، إن كان خيرا فهو مذلة، إلا من رحم الله، وإن كان شرا فهو شر. "حم عن عمران بن حصين".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ جنت کا بادشاہ
٥٩٤٠۔۔۔ بہت سے عقلمند ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کا امر سمجھ گئے، جبکہ وہ لوگوں کے ہاں حقیر اور بےوقعتی سے دیکھا جاتا ہے (لیکن) وہ کل نجات پائے گا، اور بہت سے خوش طبع زبان، جن کی چال ڈھال بھلی ہے اور وہ بڑی شان والے ہیں اور کل قیامت کے روز ہلاکت میں پڑنے والے ہیں۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن ابن عمر)
تشریح :۔۔۔ اس واسطے کہ نہ کسی کو حقیر سمجھا جائے اور نہ بلاوجہ ہر اچھی شکل و صورت والے پر برا گمان کیا جائے۔
تشریح :۔۔۔ اس واسطے کہ نہ کسی کو حقیر سمجھا جائے اور نہ بلاوجہ ہر اچھی شکل و صورت والے پر برا گمان کیا جائے۔
5940- كم من عاقل عقل عن الله أمره، وهو حقير عند الناس دميم المنظر ينجو غدا، وكم من ظريف اللسان جميل المنظر عظيم الشأن هالك غدا في يوم القيامة. "هب عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٤١۔۔۔ میرے دوستوں میں سے میرے نزدیک سب سے قابل رشک شخص وہ ہے جو مومن ہے جو ہلکا پھلکا ہو، نماز روزے کا اسے حصہ حاصل ہو، اپنے رب کی اچھی طرح عبادت کی ہو، تنہائی میں اس کی اطاعت کی ہو، لوگوں میں انجان سا ہو اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ نہ کیا جاتا ہو، اس کی روزی قابل کفایت ہو، جس پر اس نے صبر کیا ہو، (اچانک) اسے جلدی موت آئے اور اس پر رونے والیاں گنی چنی چند عورتوں ہوں اور اس کی میراث بھی کم ہو۔ (طبرانی فی الکبیر، مسند احمد ، ترمذی، حسن، طبرانی فی الکبیر، حلیۃ الاولیاء حاکم، بیہقی فی شعب الایمان، سعید بن منصور عن ابی امامۃ، مربرقم ، ٥٩٢٩ و ٥٩٣٠۔
5941- إن أغبط أوليائي عندي لمؤمن خفيف الحاذ ذو حظ من الصلاة والصيام أحسن عبادة ربه وأطاعه في السر، وكان غامضا في الناس لا يشار إليه بالأصابع، وكان رزقه كفافا، فصبر على ذلك، عجلت منيته وقلت بواكيه، وقل تراثه. "ط حم ت حسن طب حل ك هب ص عن أبي أمامة". مر برقمي [5929 و 5930] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٤٢۔۔۔ میری امت کے بعض لوگ ایسے ہیں کہ وہ اگر تمہارے دروازے پر ایک درھم یا دینار مانگنے آجائے تو تم میں کا ایک آدمی اسے نہ دے، اور اگر وہ ایک پیسہ مانگے تو وہ بھی نہ دے (جبکہ) اگر وہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دے، اور اگر وہ دنیا میں مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے نہ دے، دنیا کو اسے دینے سے صرف یہی چیز مانع ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں بےقیمت ہوجائے گا دو بوسیدہ کپڑوں والا، اگر اللہ تعالیٰ کے نام کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (ھناد عن سالم بن ابی الجعد، مرسلاً )
تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ بھیک مانگنی جائز ہے، بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر وہ معمولی چیز بھی مانگیں تو ان کی کم حیثیتی کی بنا پر کوئی انھیں نہ دے۔
تشریح :۔۔۔ اس حدیث سے کوئی یہ نہ سمجھ لے کہ بھیک مانگنی جائز ہے، بلکہ بتانا یہ مقصود ہے کہ اگر وہ معمولی چیز بھی مانگیں تو ان کی کم حیثیتی کی بنا پر کوئی انھیں نہ دے۔
5942- إن من أمتي لو أتى باب أحدكم فسأله دينارا لم يعطه إياه ولو سأله درهما لم يعطه إياه، ولو سأله فلسا لم يعطه إياه، ولو سأل الله الجنة لأعطاها إياه. ولو سأله الدنيا لم يعطها إياه، وما يمنعها إياه لهوانه عليه، ذو طمرين لا يؤبه له، لو أقسم على الله لأبره. "هناد عن سالم بن أبي الجعد" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زمین کے بادشاہ کی پہچان
٥٩٤٣۔۔۔ کیا تمہیں نہ بتاؤں کہ زمین کے بادشاہ کون لوگ ہیں ؟ ہر ناتواں جسے کمزور سمجھا جاتا ہے دو بوسیدہ کپڑوں والا، جس کی پروا نہیں کی جاتی، اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاذ، مربرقم ٥٩٣٥)
5943- ألا أخبركم عن ملوك أهل الجنة؟ كل ضعيف مستضعف ذو طمرين، لا يؤبه له، لو أقسم على الله لأبره. "طب عن معاذ" مر برقم [5935] .
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زمین کے بادشاہ کی پہچان
٥٩٤٤۔۔۔ کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کے سب سے برے بندے نہ بتاؤں ؟ (اور وہ سخت گو متکبر شخص ہے) کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کے بہترین بندے نہ بتاؤں ؟ کمزور جنہیں ضعیف سمجھا جاتا ہے دو بوسیدہ کپڑوں والا، جن کی پروا نہیں کی جاتی، اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم کو پورا کردے۔ (مسند احمد عن حذیفہ)
5944- ألا أخبركم بشر عباد الله؟ الفظ المتكبر، ألا أخبركم بخير عباد الله؟ الضعيف المستضعف ذو طمرين، لو أقسم على الله لأبر قسمه. "حم عن حذيفة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زمین کے بادشاہ کی پہچان
٥٩٤٥۔۔۔ کیا تمہیں جنت کے بادشاہ نہ بتاؤں کہ کون (لوگ) ہیں ؟ کمزور، جسے ناتواں سمجھا جاتا ہے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے، کیا تمہیں جنت والے نہ بتاؤں ؟ ہر اجڈ، بڑائی والا، متکبر، سخت گو اپنے آپ کو بڑا سمجھنے والا۔ (طبرانی، مسند احمد، بخاری مسلم، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان، بیہقی عن معبد بن خالد عن حارثہ بن وھب الخزاعی، طبرانی فی الکبیر عن معبد بن خالد بن حارثہ بن وھب والمستورد الفھری معا، طبرانی فی الکبیر سعید بن منصور عن معبد بن خالد عن ابی عبداللہ الجدلی عن زید بن ثابت)
5945- ألا أخبرك عن ملوك الجنة؟ كل ضعيف مستضعف، لو أقسم على الله لأبره، ألا أخبركم بأهل الجنة؟ كل ضعيف مستضعف، لو أقسم على الله لأبره، ألا أخبركم بأهل النار؟ كل عتل جواظ جعظري مستكبر. "ط حم خ م ت ن هـ حب هب عن معبد بن خالد عن حارثة بن وهب الخزاعي" "طب عن معبد بن خالد بن حارثة بن وهب والمستورد الفهري معا" "طب ص عن معبد بن خالد عن أبي عبد الله الجدلي عن زيد بن ثابت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زمین کے بادشاہ کی پہچان
٥٩٤٦۔۔۔ ہر پرہیزگار مالدار کے لیے اور ہر پوشیدہ فقیر کے لیے خوشخبری ہے جسے اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے (لیکن) لوگ نہیں جانتے۔ (العسکری فی الامثال عن انس وسندہ ضعیف)
5946- طوبى لكل غني تقي، ولكل فقير خفي، يعرفه الله ولا يعرفه الناس. "العسكري في الأمثال عن أنس" وسنده ضعيف.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ زمین کے بادشاہ کی پہچان
٥٩٤٧۔۔۔ تھوڑی سے ریا بھی شرک (خفی) ہے اور جس نے اللہ تعالیٰ کے اولیاء سے دشمنی کی تو اس نے اللہ تعالیٰ کو (گویا) لڑائی کے لیے للکارا، اور اللہ تعالیٰ ان پرہیزگاروں نیکو کاروں کو پسند کرنا ہے جو پوشیدہ رہتے ہیں جب وہ غائب ہوجائیں تو ان کی کمی محسوس نہیں کی جاتی، اور جب حاضر ہوں تو بلائے نہیں جاتے، اور نہ پہچانے جاتے ہیں ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں ہر گھٹا توپ اندھیرے سے نکل آتے ہیں۔ (طبرانی فی الکبیر عن معاذ)
تشریح :۔۔۔ ریا کہتے ہیں دوسرے کے دکھلاوے کی خاطر کوئی کام کرنا، اس میں بس ایک قاعدہ یاد رکھیں کہ جو چیز بھی خوردو نوش لباس وزینت کی کی اگر ضرورت سے زائد بےموقع استعمال کی جا رہی ہے تو وہ ریا کا سبب بھی بن جاتی ہے مزید تفصیل ” فطرتی و نفسیاتی باتوں “ میں دیکھیں۔
تشریح :۔۔۔ ریا کہتے ہیں دوسرے کے دکھلاوے کی خاطر کوئی کام کرنا، اس میں بس ایک قاعدہ یاد رکھیں کہ جو چیز بھی خوردو نوش لباس وزینت کی کی اگر ضرورت سے زائد بےموقع استعمال کی جا رہی ہے تو وہ ریا کا سبب بھی بن جاتی ہے مزید تفصیل ” فطرتی و نفسیاتی باتوں “ میں دیکھیں۔
5947- إن اليسير من الرياء شرك، وإن من عادى أولياء الله فقد بارز الله بالمحاربة، وإن الله يحب الأبرار الأخفياء الأتقياء الذين إذا غابوا لم يفتقدوا، وإذا حضروا لم يدعوا ولم يعرفون، قلوبهم مصابيح الهدى، يخرجون من كل غبراء مظلمة. "طب ك" عن معاذ.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٤٨۔۔۔ آدمی کے شر (میں مبتلا ہونے) کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے، چاہے دین کے بارے چاہے دنیا کے کام میں، البتہ جسے اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔ (بیہقی فی شعب الایمان عن انس، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الانسان عن ابوہریرہ (رض) ، الحکیم عن الحسن مرسلا)
5948- بحسب امرئ من الشر أن يشار إليه بالأصابع في دين أو دنيا إلا من عصمه الله. "هب عن أنس طب هب عن أبي هريرة" "الحكيم عن الحسن" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৪৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٤٩۔۔۔ آدمی کے شر کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جائے، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر خیر کا اشارہ ہو ؟ آپ نے فرمایا : اگرچہ خیر کا ہو، پھر بھی اس کے لیے برا ہے، ماں جس پر اللہ تعالیٰ رحم کرے، اور اگر برا ہو تو وہ برا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر والرافعی عن عمران بن حصین ، قال الرافعی : کذا فی النسخۃ وربما کان اللفظ : فھو شرلہ الامن رحمۃ اللہ
5949- كفى بالمرء من الإثم أن يشار إليه بالأصابع، قالوا: يا رسول الله وإن كان خيرا؟ قال: وإن كان خيرا فهو شر له، إلا من رحمه الله، وإن كان شرا فهو شر. "طب والرافعي عن عمران بن حصين". قال الرافعي: كذا في النسخة وربما كان اللفظ: فهو شر له إلا من رحمه الله.
তাহকীক: