কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৫৯৫০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥٠۔۔۔ بندہ اس وقت تک بھلائی میں رہتا ہے جب تک اس کی جگہ کا پتہ نہ چلے، اور جب اس کے مقام کا علم ہوجائے تو فتنہ اسے آلیتا ہے جس کے سامنے وہ ثابت قدم نہیں رہتا ہاں مگر جسے اللہ تعالیٰ ثابت قدم رکھے۔ (الدیلمی عن انس)
5950- لا يزال العبد بخير ما لم يعرف مكانه، فاذا عرف مكانه لبسته فتنة لا يثبت لها، إلا من ثبته الله. "الديلمي عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥١۔۔۔ میری امت کے کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ان کا کوئی اگر تمہارے پاس آکر سرہم یا دینار مانگے تو وہ اسے نہ دے اور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے جنت مانگے تو اللہ تعالیٰ اسے عطا کر دے اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالے تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے، اور اگر وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا کی کوئی چیز مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت کی وجہ سے اسے نہ دے۔ ابن صصری فی امالیہ عن سالم بن ابی الجعد، مرسلاً
5951- إن من أمتي من لو جاء أحدهم إلى أحدكم يسأله دينارا أو درهما ما أعطاه، ولو سأل الله الجنة لأعطاه إياها، ولو أقسم على الله لأبره، ولو سأله شيئا من الدنيا ما أعطاه الله تكرمة له. "ابن صصرى في أماليه عن سالم بن أبي الجعد" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥٢۔۔۔ اللہ تعالیٰ کے بعض بندے ایسے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے۔ (مسند احمد وعبد بن حمید، بخاری، مسلم، ابو داؤد، نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان عن انس)
5952- إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره. "حم وعبد ابن حميد1 خ م د ن هـ حب عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥٣۔۔۔ بہت سے پراگندہ بال، غبار آلود بوسیدہ کپڑوں والے جن کی پروا نہیں کی جاتی، اگر اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کردے۔ (الخطیب عن انس)
5953- رب أشعث أغبر ذي طمرين لا يؤبه له، لو أقسم على الله لأبره. "الخطيب عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥٤۔۔۔ میری امت میں کچھ مرد ایسے ہوں گے جن کے سر غبار آلود و پراگندہ ہوں گے، ان کے کپڑے میلے کچیلے ہیں اگر وہ اللہ تعالیٰ کی قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ اسے پورا کر دے ۔ ا (الدیلمی عن ابی موسیٰ)
تشریح :۔۔۔ یعنی کسی وقت ان پر ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے یہ نہیں کہ وہ نہ کبھی نہاتے ہیں اور نہ کنگھی کرتے ہیں سڑکوں پر پھرتے ایسے لوگوں میں سے اکثر مجذوب پاگل اور دین سے ناواقف ہوتے ہیں۔
تشریح :۔۔۔ یعنی کسی وقت ان پر ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے یہ نہیں کہ وہ نہ کبھی نہاتے ہیں اور نہ کنگھی کرتے ہیں سڑکوں پر پھرتے ایسے لوگوں میں سے اکثر مجذوب پاگل اور دین سے ناواقف ہوتے ہیں۔
5954- يكون في أمتي رجال، طلس رؤوسهم، دنس ثيابهم، لو أقسموا على الله لأبرهم. "الديلمي عن أبي موسى".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ انگلیوں سے اشارہ کرنا
٥٩٥٥۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرف وحی بھیجی کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل مکانی کرتے رہو تاکہ تمہیں کوئی پہچان نہ سکے، اور یوں تمہیں کوئی تکلیف پہنچے، مجھے اپنے جلا ل و عزت کی قسم میں تجھے ایک ہزار حوروں سے بیاہوں گا، اور چار سو سال تک تمہارا ولیمہ کروں گا۔ (ابن عساکر عن ابوہریرہ (رض) ، وعنیہ ھانی بن متوکل الاسکندرانی قال فی المغنی مجھول)
تشریح :۔۔۔ عصر حاضر میں اسفار کی کثرت نقل مکانی کی طرح ہے لہٰذا حدیث کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسا ہی کرنا شروع نہ کرے۔
تشریح :۔۔۔ عصر حاضر میں اسفار کی کثرت نقل مکانی کی طرح ہے لہٰذا حدیث کے ظاہر کو دیکھتے ہوئے کوئی ایسا ہی کرنا شروع نہ کرے۔
5955- أوحى الله تعالى إلى عيسى: أن يا عيسى انتقل من مكان إلى مكان، لئلا تعرف، فتؤذى، فوعزتي وجلالي لأزوجنك ألف حوراء، ولأولمن عليك أربعمائة عام. "كر عن أبي هريرة" وفيه هانئ بن المتوكل الإسكندراني قال في المغني مجهول
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رضا مندی اور ناراضگی
٥٩٥٦۔۔۔ جو اللہ تعالیٰ سے راضی رہا اللہ تعالیٰ اس سے راضی رہے گا۔ (ابن عساکر عن عائشہ (رض))
تشریح :۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تقدیری فیصلہ ہو اس پر راضی رہے۔
تشریح :۔۔۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو تقدیری فیصلہ ہو اس پر راضی رہے۔
5956- من رضي عن الله رضي الله عنه. "ابن عساكر عن عائشة"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ رضا مندی اور ناراضگی
٥٩٥٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب بندے سے راضی ہوتا ہے تو سات طریقوں کی بھلائی سے اس کی تعریف کرتا ہے جسے وہ انسان نہیں جانتا، اور جب بندے سے ناراض ہوتا ہے تو سات طرح کے شر سے اس کی مذمت و برائی کرتے ہیں جسے وہ انسان نہیں جانتا۔ (مسند احمد، ابن حبان عن ابی سعید)
5957- إن الله تعالى إذا رضي عن العبد أثنى عليه بسبعة أصناف من الخير لم يعمله، وإذا سخط على العبد أثنى عليه بسبعة أصناف من الشر لم يعمله. "حم حب عن أبي سعيد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٥٨۔۔۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندیاں تلاش کرتا ہے اور برابر اسی کوشش میں لگا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : جبرائیل ! میرا فلاں بندہ اس جستجو میں لگا ہوا ہے کہ وہ مجھے راضی کرے، خبردار میری رحمت اس پر ہے، تو جبرائیل (علیہ السلام) عرض کرتے ہیں : فلاں شخص پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، اسی بات کو عرش اٹھانے والے اور ان کے آس پاس فرشتے کہتے ہیں، یہاں تک کہ سات آسمانوں والے اسی بات کو کہتے ہیں پھر یہ بات زمین پر اتر آتی ہے۔ (مسند احمد، طبرانی فی الاوسط، سعید بن منصور عن ثوبان
تشریح :۔۔۔ اب بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف رخ نہ کرے تو اس سے بڑھ کر بدبخت کون ہوگا ؟ آئیے قارئین اپنے سابقہ گناہوں سے پکی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں متحد ہوجائیں ۔ (نتوب الی اللہ متابا)
تشریح :۔۔۔ اب بھی اگر کوئی اللہ تعالیٰ کی طرف رخ نہ کرے تو اس سے بڑھ کر بدبخت کون ہوگا ؟ آئیے قارئین اپنے سابقہ گناہوں سے پکی توبہ کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی میں متحد ہوجائیں ۔ (نتوب الی اللہ متابا)
5958- إن العبد ليلتمس مرضات الله عز وجل، فلا يزال كذلك فيقول الله عز وجل: يا جبريل إن عبدي فلانا يلتمس أن يرضيني، ألا وإن رحمتي عليه، فيقول جبريل: رحمة الله على فلان، ويقولها حملة العرش، ويقولها من حولهم، حتى يقولها أهل السموات السبع، ثم تهبط إلى الأرض. "حم طس ص عن ثوبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৫৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٥٩۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے لیے صرف رضا مندی سے آسانی پیدا کرتا ہے، سو جب اس سے راضی ہوجاتا ہے تو دلائل کو اس کے لیے جاری کردیتا ہے۔ (ابن النجار عن المقداد بن الاسود)
تشریح :۔۔۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب (رح) نے فرمایا : کہ انسان کو دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے یا ناراض تو اس کا ایک معیار یہ ہے کہ اگر وہ شخص بےہودگی میں مبتلا ہے تو یہ ناراضگی کی علامت ہے۔
تشریح :۔۔۔ حضرت مفتی محمد شفیع صاحب (رح) نے فرمایا : کہ انسان کو دیکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے راضی ہے یا ناراض تو اس کا ایک معیار یہ ہے کہ اگر وہ شخص بےہودگی میں مبتلا ہے تو یہ ناراضگی کی علامت ہے۔
5959- إن الله لا ييسر لعبده إلا بالرضا، فاذا رضي عنه أطلق له الحجج. "ابن النجار عن المقداد بن الاسود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٦٠۔۔۔ جو شخص لوگوں کو ناراض کرکے اللہ تعالیٰ کی رضا تلاش کرے تو اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوں گے ، اور لوگوں کو بھی اس سے راضی کردیں گے، جبکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے لوگوں کی رضا مندی چاہے گا تو اللہ تعالیٰ (بھی) اس سے ناراض ہوگا اور لوگوں کو بھی اس سے بگاڑ دے گا۔ (بیہقی فی شعب الایمان، ابن عساکر عن عائشہ (رض))
تشریح :۔۔ جس شخص کو یہ بات سمجھ آگئی تو گویا وہ متقی اور پرہیزگار بن گیا۔
تشریح :۔۔ جس شخص کو یہ بات سمجھ آگئی تو گویا وہ متقی اور پرہیزگار بن گیا۔
5960- من التمس رضا الله عنه بسخط الناس رضي الله عنه، وأرضى عنه الناس، ومن التمس رضا الناس بسخط الله، سخط الله عليه وأسخط عليه الناس. "هب ابن عساكر عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٦١۔۔۔ اللہ تعالیٰ کو ناراض کرکے ہرگز کسی کو راضی نہ کرنا، اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے مقابلہ میں ہرگز کسی کی تعریف نہ کرنا، اور جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا نہیں کی اس کی وجہ سے کسی کی ہرگز مذمت نہ کرنا، اس واسطے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا اور رزق کو کسی حریص کی لالچ کھینچ سکتی ہے اور نہ کسی ناراض ہونے والے کی ناراضگی روک سکتی ہے۔
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل و انصاف کے ذریعہ راحت و آرام کو (اپنی) رضا مندی اور یقین میں رکھتا ہے جبکہ غم و پریشانی کو (اپنی) ناراضگی اور شک میں رکھا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان، ابن حبان ، عن ابن مسعود)
اس حدیث میں کئی امور قابل توجہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے مراد، برادری کنبے اور معاشرے کے رسم و رواج کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام سے دانستہ طور پر روگردانی کرنا، اور جو چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے اس پر کسی انسان کی تعریف کرنا، مثلاً مریضوں کو شفا دینا، مصائب سے نجات بخشنا، اولاد دینا، اکثر مشرک لوگ کہتے ہیں ! پس بابا حضور کی نظر ہے، جبکہ بابا حضور پر کیا بیت رہی ہے کسی کو کچھ خبر نہیں، اور اگلی چیز یہ فرمائی کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا نہیں کی اس پر کسی کی مذمت و برائی نہ کرنا، کہ یہ منحوس کہاں سے آٹپکے، ہمارا چلتا کاروبار بند کردیا، ہماری تجارت خسارے میں رہی، یہ لوٹ کر کھا گئے، تو ایسے تنگ نظر لوگوں کو خوب سمجھ لینا چاہیے کسی کی لالچ تمہارا رزق اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی ہے اور کسی دشمنی کی دشمنی اسے روک سکتی ہے اس کے بعد راحت و آرام کا سبب بتایا کہ قضائے الٰہی اور خداوندی فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا، اور یقین کامل رکھنا اس کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور رزق کی تقسیم میں شک غم و پریشانی کا باعث ہے تفصیل کے لیے ” فطرتی و نفسیاتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد کراچی۔
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے عدل و انصاف کے ذریعہ راحت و آرام کو (اپنی) رضا مندی اور یقین میں رکھتا ہے جبکہ غم و پریشانی کو (اپنی) ناراضگی اور شک میں رکھا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی شعب الایمان، ابن حبان ، عن ابن مسعود)
اس حدیث میں کئی امور قابل توجہ ہیں، اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے مراد، برادری کنبے اور معاشرے کے رسم و رواج کے مقابلہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام سے دانستہ طور پر روگردانی کرنا، اور جو چیز اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہی حاصل ہوتی ہے اس پر کسی انسان کی تعریف کرنا، مثلاً مریضوں کو شفا دینا، مصائب سے نجات بخشنا، اولاد دینا، اکثر مشرک لوگ کہتے ہیں ! پس بابا حضور کی نظر ہے، جبکہ بابا حضور پر کیا بیت رہی ہے کسی کو کچھ خبر نہیں، اور اگلی چیز یہ فرمائی کہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے تمہیں عطا نہیں کی اس پر کسی کی مذمت و برائی نہ کرنا، کہ یہ منحوس کہاں سے آٹپکے، ہمارا چلتا کاروبار بند کردیا، ہماری تجارت خسارے میں رہی، یہ لوٹ کر کھا گئے، تو ایسے تنگ نظر لوگوں کو خوب سمجھ لینا چاہیے کسی کی لالچ تمہارا رزق اپنی طرف نہیں کھینچ سکتی ہے اور کسی دشمنی کی دشمنی اسے روک سکتی ہے اس کے بعد راحت و آرام کا سبب بتایا کہ قضائے الٰہی اور خداوندی فیصلے پر سر تسلیم خم کرنا، اور یقین کامل رکھنا اس کا سبب ہے اور اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور رزق کی تقسیم میں شک غم و پریشانی کا باعث ہے تفصیل کے لیے ” فطرتی و نفسیاتی باتیں “ مطبوعہ نور محمد کراچی۔
5961- لا ترضين أحدا بسخط الله، ولا تحمدن أحدا على فضل الله، ولا تذمن أحدا على ما لم يؤتك الله، فان رزق الله لا يسوقه إليك حرص حريص ولا يرده عنك كراهة كاره، وإن الله بقسطه وعدله جعل الروح والراحة في الرضا، واليقين، وجعل الهم والحزن في السخط والشك. "طب هب حب عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٦٢۔۔۔ تقدیر پر راضی ہونے والے کہاں ہیں ؟ شکر گزاری کو تلاش کرنے والے کہاں ہیں ؟ مجھے اس شخص پر تعجب ہے جو ہمیشہ کے گھر پر ایمان رکھتا ہے وہ کیسے دھوکے کے گھر کے لیے کوشاں ہے ؟ (ھنار، عن عمرو بن مرۃ مرسلا)
تقدیر کا حاصل یہی ہے کہ باوجود کوشش، انسان کسی کام سے بےبس ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کی تقدیر میں یہ لکھ رکھا ہے کہ کافر رہیں گے تو ان سے کفر کے کام ہی ہوئے اور جس کی تقدیر میں مومن ہونا لکھ دیا وہ مرنے سے کچھ دیر پہلے اسلام قبول کرلیتا ہے، اس کی بھرپور تفصیل دیکھنے کے لیے ” بیان القرآن “ از مولانا اشرف علی تھانوی جلد اول ” ختم اللہ علی قلوبھم “ کی تشریح میں دیکھ لیں۔
تقدیر کا حاصل یہی ہے کہ باوجود کوشش، انسان کسی کام سے بےبس ہوجائے ، اللہ تعالیٰ نے کچھ لوگوں کی تقدیر میں یہ لکھ رکھا ہے کہ کافر رہیں گے تو ان سے کفر کے کام ہی ہوئے اور جس کی تقدیر میں مومن ہونا لکھ دیا وہ مرنے سے کچھ دیر پہلے اسلام قبول کرلیتا ہے، اس کی بھرپور تفصیل دیکھنے کے لیے ” بیان القرآن “ از مولانا اشرف علی تھانوی جلد اول ” ختم اللہ علی قلوبھم “ کی تشریح میں دیکھ لیں۔
5962- أين الراضون بالمقدور؟ أين الساعون للمشكور؟ عجبت لمن يؤمن بدار الخلود كيف يسعى لدار الغرور؟ هناد عن عمرو بن مرة" مرسلا.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ الاکمال
٥٩٦٣۔۔۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو بندہ بھی میرے کیے فیصلہ پر (جو اس کی مرضی کے برخلاف ہو) راضی ہو یا ناراض تو اس کے لیے بہتر ہے۔ (ابن شاہین، سعید بن منصور عنہ، قال ابن شاہین ھذا حدیث غریب لیس فی الدنیا اسناد احسن منہ، قال ابن حجر : ولہ شواھد من حیث صھیب)
5963- يقول الله تعالى: ما من عبد قضيت عليه قضية رضيها أو سخطها إلا كان خيرا له. "ابن شاهين ص عنه" قال ابن شاهين: هذا حديث غريب ليس في الدنيا إسناد أحسن منه، قال ابن حجر: وله شواهد من حديث صهيب.
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٤۔۔۔ میری امت کے درمیانے لوگ مہربان و رحم کرنے والے ہیں۔ (فردوس عن ابن عمر)
5964- رحماء أمتي أوساطها. "فر عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٥۔۔۔ جو شخص اہل زمین پر رحم نہیں کرتا تو آسمان والا اس پر رحم نہیں کرتا۔ (طبرانی فی الکبیر عن جریر)
کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر
کرو مہربانی تم اہل زمین پر خدا مہربان ہوگا عرش بریں پر
5965- من لا يرحم من في الأرض لا يرحمه من في السماء. "طب عن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٦۔۔۔ جو شخص رحم نہیں کرتا، اس پر رحم نہیں کیا جاتا، اور جو بخشتا نہیں اسے بخشا نہیں جاتا، اور جو توبہ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اسے معاف نہیں کرتا۔ (طبرانی فی الکبیر عن جریر)
5966- من لا يرحم لا يرحم، ومن لا يغفر لا يغفر له، ومن لا يتب لا يتوب الله عليه. "طب عن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٧۔۔۔ اللہ تعالیٰ اپنے مہربان بندوں پر ہی مہربان ہوتا ہے۔ (طبرانی فی الکبیر عن جریر)
تشریح :۔۔۔ رحمت کی دو قسمیں ہیں خاص، عام، عام رحمت تو کافروں پر بھی ہے جس کی وجہ سے انھیں رزق و باراں ملتی ہے۔
تشریح :۔۔۔ رحمت کی دو قسمیں ہیں خاص، عام، عام رحمت تو کافروں پر بھی ہے جس کی وجہ سے انھیں رزق و باراں ملتی ہے۔
5967- إنما يرحم الله من عباده الرحماء. "طب عن جرير".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٨۔۔۔ اس بندے نے نقصان اٹھایا اور خسارے میں رہا جس کے دل میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کے لیے مہربانی نہیں رکھی۔ (الدولابی فی الکنی وابو نعیم فی المعرفۃ وابن عساکر عن عمرو ابن حبیب)
5968- خاب عبد وخسر لم يجعل الله تعالى في قلبه رحمة للبشر. "الدولابي "في الكنى وأبو نعيم في المعرفة وابن عساكر عن عمرو ابن حبيب".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৫৯৬৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ کمزوروں ، بچوں، بوڑھوں، بیواؤں اور مسکینوں پر رحم کرنا
٥٩٦٩۔۔۔ رحم کرنے والوں پر رحمن تبارک و تعالیٰ رحم کرتا ہے زمین والوں پر رحم کرو، آسمان والا تم پر رحم کرے گا۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی ، حاکم عن ابن عمر)
مسند احمد، ترمذی حاکم میں ان الفاظ کا اضافہ ہے، مہربانی رحمن کی (رحمت) کا حصہ ہے، جس نے اسے جوڑا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا اور جس نے اسے کاٹا اللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دے گا۔
مسند احمد، ترمذی حاکم میں ان الفاظ کا اضافہ ہے، مہربانی رحمن کی (رحمت) کا حصہ ہے، جس نے اسے جوڑا اللہ تعالیٰ اسے جوڑے گا اور جس نے اسے کاٹا اللہ تعالیٰ اسے (اپنی رحمت سے) کاٹ دے گا۔
5969- الراحمون يرحمهم الرحمن تبارك وتعالى، ارحموا من في الأرض يرحمكم من في السماء. "حم د ت ك عن ابن عمر" زاد حم ت ك والرحم شجنة من الرحمن فمن وصلها وصله الله، ومن قطعها قطعه الله.
তাহকীক: