কানযুল উম্মাল (উর্দু)
كنز العمال في سنن الأقوال و الأفعال
کتاب البر - এর পরিচ্ছেদসমূহ
মোট হাদীস ৩৮০৩ টি
হাদীস নং: ৬১৭০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا جمع کرنے کی لالچ اور حرص خطرناک ہے
٦١٧٠۔۔۔ دینار و درھم اور بھوک کا بندہ ہلاک ہو اگر اسے دیا جائے تو راضی رہے اور اگر محروم رکھا جائے تو ذلیل و سرنگوں ہو، اور جب اس کے کانٹا چبھے تو کوئی اس کا پھانس نکالنے والا نہ ہو، خوشخبری ہو اس بندے کے لیے جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں اپنے گھوڑے کا سر (باگ سے) پکڑا ہوا ہے اس کا سر پراگندہ اور اس کے پاؤں (چل چل کر) غبار آلود ہیں اس کی ذمہ داری اگر حفاظت کرنے پر لگا دی جائے تو حفاظت کرنے پر بگاڑ ہے، اور اگر لشکر کے پیچھے چلنے کو کہا جائے تو لشکر کے پیچھے ہی رہے (اس کی حالت یہ ہے کہ ) اگر وہ اجازت مانگے تو اسے اجازت نہ ملے اور اگر کوئی سفارش کرے تو قبول نہ کی جائے۔ (بخاری، ابن ماجہ عن ابوہریرہ (رض))
6170- تعس عبد الدينار وعبد الدرهم وعبد الخميصة إن أعطي رضي، وإن لم يعط تعس وانتكس، وإذا شيك فلا انتقش طوبي لعبد أخذ بعنان فرسه في سبيل الله أشعث رأسه مغبرة قدماه إن كان في الحراسة كان في الحراسة وإن في الساقة كان في الساقة إن استأذن لم يؤذن له وإن شفع لم يشفع. "خ هـ عن أبي هريرة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا جمع کرنے کی لالچ اور حرص خطرناک ہے
٦١٧١۔ ایک بہت بڑا گناہ ہے جس کی لوگ اللہ تعالیٰ سے بخشش نہیں مانگتے اور وہ دنیا کی محبت ہے (فردوس عن محمد عمیر بن عطارد
6171- ذنب عظيم لا يسأل الناس الله المغفرة منه حب الدنيا. "فر عن محمد بن عمير بن عطارد".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا جمع کرنے کی لالچ اور حرص خطرناک ہے
٦١٧٢۔۔۔ تمہارا اس وقت کیا حال ہوگا جب تم میں کا ایک شخص ، صبح کو ایک جوڑا اور شام کو دوسرا جوڑا پہنے گا اور (کھانے میں) اس کے سامنے ایک پیالہ رکھا جائے گا دوسرا (جو خالی ہوجائے گا) اٹھا لیا جائے گا، اور (پردے لٹکا کر) تم اپنے گھروں کو ایسے چھپالو گے جیسے کعبہ کو چھپایا جاتا ہے تم اس دن کی نسبت سے آج بہتر ہو۔ (ترمذی عن علی)
تشریح :۔۔۔ یہاں بھی مقصود یہ ہے کہ تعیش اور مال کے کثرت سے بچو، اور ضرورت سے زائد چیزیں گھروں میں نہ رکھو۔
تشریح :۔۔۔ یہاں بھی مقصود یہ ہے کہ تعیش اور مال کے کثرت سے بچو، اور ضرورت سے زائد چیزیں گھروں میں نہ رکھو۔
6172- كيف بكم إذا غدا أحدكم في حلة وراح في أخرى ووضعت بين يديه صحفة ورفعت أخرى وسترتم بيوتكم كما تستر الكعبة أنتم اليوم خير منكم يومئذ. "ت عن علي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا جمع کرنے کی لالچ اور حرص خطرناک ہے
٦١٧٣۔۔۔ میرا اور دنیا کا کیا واسطہ، میرا اور دنیا کا کیا تعلق والرقم۔ (مسند احمد عن ابن عمرو)
6173- ما أنا والدنيا، وما أنا والدنيا والرقم. "حم عن ابن عمرو".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ دنیا جمع کرنے کی لالچ اور حرص خطرناک ہے
٦١٧٤۔۔۔ میرا اور دنیا کا کوئی لگاؤ نہیں ، میرا اور اس کا کیا والرقم۔ (ابو داؤد عن ابن عمر)
6174- ما أنا والدنيا وما أنا والرقم. "د عن ابن عمر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٧٥۔۔۔ اے عائشہ ! اس (رنگدار پردے) کو ہٹا دو اس واسطے کہ میں جب بھی آتا ہوں اور اسے دیکھتا ہوں تو مجھے دنیا یاد آجاتی ہے۔ (مسند احمد، نسائی عن عائشہ (رض))
6175- يا عائشة حولي هذا فإني كلما دخلت فرأيته ذكرت الدنيا. "حم ن عن عائشة".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٧٦۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی دنیا میں زہد سے بڑھ کر کسی افضل شے سے عبادت نہیں کی گئی۔ (ابن النجار عن عمار بن یاسر)
6176- ما عبد الله بشيء أفضل من الزهد في الدنيا. "ابن النجار عن عمار بن ياسر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٧٧۔۔۔ میرا اور دنیا کا کیا لگاؤ، میرا اور دنیا کا کیا تعلق، مجھے کیا، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میری اور دنیا کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کوئی سوار گرمی کے دن میں چلتے چلتے دن کی ایک گھڑی کے لیے کسی درخت تلے سائے میں بیٹھ کر پھر چل پڑے اور اس سائے کو چھوڑ دے۔ (مسند احمد، حاکم عن ابن عباس)
6177- ما لي وللدنيا وما للدنيا وما لي والذي نفسي بيده ما مثلي ومثل الدنيا إلا كراكب سار في يوم صائف فاستظل تحت شجرة ساعة من نهار ثم راح وتركها. "حم ك عن ابن عباس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٧٨۔۔۔ جس نے تمام غموں کا ایک غم یعنی آخرت کا غم بنا لیا تو اللہ تعالیٰ اس کی تمام غموں میں کفایت کرے گا، اور دنیا کے احوال کی جسے کئی پریشانیاں ہوگئیں تو وہ دنیا کی جس وادی میں بھی مرگیا اللہ تعالیٰ کو اس کی پروا نہیں۔ (ابن ماجہ عن مسعود (رض))
6178- من جعل الهموم هما واحدا هم المعاد كفاه الله سائر همومه ومن تشعبت به الهموم من أحوال الدنيا لم يبال الله في أي أوديتها هلك. "هـ عن ابن مسعود".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৭৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٧٩۔۔۔ فاطمہ ! (بیٹی) کیا تم اس بات پر خوش ہوگی کہ لوگ کہیں : کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیٹی فاطمہ کے ہاتھ میں (جہنم کی) آگ کی زنجیر ہے ؟ (مسند احمد نسائی، حاکم عن ثوبان)
6179- يا فاطمة أيسرك أن يقول الناس فاطمة بنت محمد في يدها سلسلة من نار. "حم ن ك عن ثوبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮০
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٨٠۔۔۔ یہ (سونے کا ہار) فلاں شخص کے پاس لے جاؤ اور فاطمہ کے لیے یمنی کپڑے کا بنا ہوا ہار اور ہاتھی دانت کے دو کنگن خرید لاؤ، اس واسطے کہ وہ میرے گھر والے ہیں اور میں نہیں چاہتا کہ وہ اپنی دنیا کی زندگی میں ہی اپنی اچھی چیزیں کھالیں۔ (مسند احمد، ابوداؤد عن ثوبان)
6180- اذهب بهذا إلى فلان واشتر لفاطمة قلادة من عصب وسوارين من عاج فإن هؤلاء أهل بيتي ولا أحب أن يأكلوا طيباتهم في حياتهم الدنيا. "حم د عن ثوبان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮১
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ عیش و تنعم سے احتراز
٦١٨١۔۔۔ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے کو پسند کرتا ہے تو دنیا کے کام اس کے لیے بند کردیتا ہے اور آخرت کے کام آسان کردیتا ہے۔ (فردوس عن انس)
تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا کے کام کرنا اس کے لیے مشکل ہوتے ہیں جبکہ آخرت کے اعمال کرنے میں اسے کوئی تکان و مشقت نہیں ہوتی، ایسا نہیں کہ اس کا معاش بند ہوجاتا ہے جیسا لوگ سمجھتے ہیں !
تشریح :۔۔۔ یعنی دنیا کے کام کرنا اس کے لیے مشکل ہوتے ہیں جبکہ آخرت کے اعمال کرنے میں اسے کوئی تکان و مشقت نہیں ہوتی، ایسا نہیں کہ اس کا معاش بند ہوجاتا ہے جیسا لوگ سمجھتے ہیں !
6181- إذا أحب الله عبدا أغلق عليه أمور الدنيا وفتح له أمور الآخرة. "فر عن أنس".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮২
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٢۔۔۔ مجھے تمہارے بارے جس بات کا خوف ہے وہ یہ ہے کہ دنیا کی چمک دمک اور اس کی زیب وزینت کا دروازہ کھل جائے گا، بات یہ ہے کہ بھلائی کسی برائی کو جنم نہیں دیتی، اور موسم بہار ایسی نبات اگاتا ہے جسے کھا کر حیوان کا پیٹ پھولا کر مار دیتا ہے یا مرنے کے قریب کردیتا ہے البتہ سبزہ کھانے والے چو پائے وہ اتنا کھاتے ہیں یہاں تک کہ ان کی کوکھیں بھر جاتی ہیں (زیادہ کھانے کی وجہ سے وہ اٹھ نہیں پاتے) اور سورج کی طرف منہ کرکے بیٹھ جاتے ہیں تو ان کا پیٹ خراب ہوجاتا ہے اور وہ پیشاب کرنے لگ جاتے ہیں پھر وہ چرتے ہیں اور یہ مال میٹھا اور سرسبز ہے اور بہترین مال مسلمان کا ہے جسے وہ مسکیں، یتیم اور مسافر کو دے سو جس نے اس کو اس کے حق (طریقے) سے لیا، اور حق میں صرف کیا، تو یہ اچھی امداد ہے، اور جس نے اسے ناحق (طریقے) سے لیا، تو وہ اس شخص جیسا ہے جو کھائے اور سیر نہ ہو اور وہ (مال) اس کے برخلاف قیامت کے روز گواہ ہوگا۔ (مسند احمد، بخاری، مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ عن ابی سعید)
6182- إنما أخاف عليكم من بعدي ما يفتح عليكم من زهرة الدنيا وزينتها إنه لا يأتي الخير بالشر وإن مما ينبت الربيع ما يقتل حبطا أو يلم إلا آكلة الخضراء فإنها أكلت حتى إذا امتلأت خاصرتها استقبلت الشمس فثلطت وبالت ثم رتعت وإن هذا المال حلوة خضرة ونعم صاحب المسلم هو لمن أعطاه المسكين واليتيم وابن السبيل فمن أخذه بحقه ووضعه في حقه فنعم المعونة هو ومن أخذه بغير حقه كان كالذي يأكل ولا يشبع ويكون عليه شهيدا يوم القيامة. "حم ق د هـ عن أبي سعيد"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৩
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٣۔۔۔ انسان کے (ہضم شدہ) کھانے کو دنیا کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا ہے دیکھو جو (فضلہ) انسان سے خارج ہوتا ہے اگر اس نے مسالے اور نمک ڈالے تو اب ان کا کیا ا نجام ہوا۔ (ابن حبان، طبرانی فی الکبیر عن ابی)
6183- إن مطعم ابن آدم قد ضرب مثلا للدنيا فانظر ما يخرج من ابن آدم فإن قزحه وملحه إلى ما يصير. "حب طب عن أبي"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৪
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٤۔۔۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مثال انسان کے (ہضم شدہ) کھانے سے دی ہے اور انسان کے (ہضم شدہ) کھانے کی مثال دنیا سے دی ہے جس میں اس نے مسالے اور نمک ڈالا ہو۔ (ابن العبارک، بیہقی فی شعب الایمان عن ابی)
6184- إن الله ضرب الدنيا لمطعم ابن آدم مثلا، وضرب مطعم ابن آدم مثلا للدنيا قزحه وملحه. "ابن المبارك هب عن أبي".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৫
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٥۔۔۔ انسان سے جو (فضلہ) خارج ہوتا ہے اسے اللہ تعالیٰ نے دنیا کی مثال قرار دیا ہے۔ (مسند احمد، طبرانی فی الکبیر، بیہقی فی الشعب عن الضحاک بن سفیان)
6185- إن الله تعالى جعل ما يخرج من ابن آدم مثلا للدنيا. "حم طب هب عن الضحاك بن سفيان".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৬
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٦۔۔۔ جس کا سارا غم آخرت بن جائے تو اللہ تعالیٰ غنا ولا پروائی کو اس کے دل میں پیدا کر دے گا، اس کی حالت کو یکجا کر دے گا، اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آئے گی، اور جس کا سارا غم دنیا ہو اللہ تعالیٰ محتاجی کو اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں اور اس کی حالت کو منتشر کردیتا ہے اور دنیا (بھی) اسے وہی ملتی ہے جو اس کے مقدر میں ہوتی ہے۔ (ترمذی عن انس (رض))
6186- من كانت الآخرة همه جعل الله غناه في قلبه وجمع له شمله وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت الدنيا همه جعل الله فقره بين عينيه وفرق عليه شمله، ولم يأته من الدنيا إلا ما قدر له. "ت عن أنس"
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৭
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٧۔۔۔ جس کی آخرت کی نیت ہو تو اللہ تعالیٰ اس کی حالت بہتر بنا دیتا ہے اور غنا کو اس کے دل میں پیدا فرما دیتا ہے، اور دنیا سرنگوں ہو کر اس کے پاس آتی ہیں، اور جس کی نیت دنیا ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے معاملہ کو بکھیر دیتا ہے اور فقر و فاقہ کو اس کے سامنے رکھ دیتا ہے، اور اسے دنیا بھی وہی ملتی ہے جو اس کے لیے لکھ دی گئی۔ (ابن ماجہ عن زید بن ثابت)
6187- من كانت نيته الآخرة جمع الله له شمله وجعل غناه في قلبه وأتته الدنيا وهي راغمة ومن كانت نيته الدنيا فرق الله عليه أمره وجعل فقره بين عينيه ولم يأته من الدنيا إلا ما كتب له. "هـ عن زيد بن ثابت".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৮
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٨۔۔۔ انوذر ! کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ غنا مال کی کثرت کا نام ہے، غنا تو دل کا غنا ہے اور محتاج دل کو محتاجی ہے جس کے دل میں غنا ہوگا تو دنیا کی کوئی مصیبت اسے تکلیف نہیں دے گی، اور جس کے دل میں محتاج ہوگی، تو دنیا کی جو چیز بھی اسے زیادہ دی گئی اسے مالدار نہ بنائے گی نفس کو تو اس کی خود غرضی نقصان پہنچاتی ہے۔ (نسائی، ابن حابن عن ابی ذر)
6188- يا أبا ذر أترى أن كثرة المال هو الغنى إنما الغنى غنى القلب والفقر فقر القلب ومن كان الغنى في قلبه فلا يضره ما لقي من الدنيا ومن كان الفقر في قلبه فلا يغنيه ما أكثر له من الدنيا وإنما يضر نفسه شحها. "ن حب عن أبي ذر".
তাহকীক:
হাদীস নং: ৬১৮৯
کتاب البر
পরিচ্ছেদঃ مال و اسباب کی کثرت غفلت کا سبب ہے
٦١٨٩۔۔۔ تین چیزیں ایسی ہیں جن پر میں قسم کھاتا ہوں (کہ وہ برحق ہیں) صدقہ کرنے سے کسی کا مال نہیں گھٹتا، جس پر کوئی ظلم ہوا اور اس نے اس پر صبر کیا تو اللہ تعالیٰ اس کی عزت میں اضافہ فرمائے گا، اور جو بندہ سوال کا دروازہ کھولتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے محتاجی کا درواذہ کھولتا ہے اور میں تم سے ایک بات کہتا ہوں اسے یا کرلو، دینا (سے فائدہ اٹھانا) تو چار آدمیوں کے لیے مناسب ہے ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور علم عطا کیا، اور وہ اس مال کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے، صلہ رحمی کرتا ہے اور اس میں اللہ تعالیٰ کا حق بھی جانتا ہے تو ایسا شخص سب سے افضل مرتبہ میں ہے۔ ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے علم سے تو نوازا مگر مال سے محروم رکھا، اور وہ سچی نیت سے کہتا ہے : اگر میرے پاس مال ہوتا تو میں ( بھی) فلاں شخص کے عمل کی طرح عمل کرتا تو وہ (اگرچہ) اپنی نیت میں ہے جبکہ دونوں کا اجر برابر ہے اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال تو دیا لیکن علم کی دولت سے بےبہرہ رکھا وہ اپنے مال میں علم کے بغیر حسد کرتا، اس (مال) کے بارے اپنے رب سے نہیں ڈرتا، رشتہ ناتہ کو نہیں جوڑتا، اور نہ اسے اللہ تعالیٰ کا حق معلوم ہوتا ہے تو یہ سب سے برے رتبہ میں ہے۔
ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا نہ علم ، وہ کہتا ہے : کاش میرے پاس مال ہوتا تو میں اس شخص کے کاموں کی طرح (برے) کام کرتا ہے تو اسے اس کی نیت میں ہی رہنا پڑتا ہے اور ان دونوں کا بوجھ برابر ہے۔ مسند احمد، ترمذی، عن ابی کبثۃ الانماری
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا حق مال کی زکوۃ ہے ہر آدمی کو اس کی نیت کے بدلہ اجر ملتا ہے، آخری شخص ایسا ہے جس کے نہ مال ہے اور نہ علم وہ بےعلم شخص کو دیکھ کر حرص کرتا ہے، اس واسطے جیسے دو گناہ میں مبتلا ہے اسی طرح اسے بھی اپنی نیت میں اس کے ساتھ شریک ہونا پڑا۔
ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال دیا نہ علم ، وہ کہتا ہے : کاش میرے پاس مال ہوتا تو میں اس شخص کے کاموں کی طرح (برے) کام کرتا ہے تو اسے اس کی نیت میں ہی رہنا پڑتا ہے اور ان دونوں کا بوجھ برابر ہے۔ مسند احمد، ترمذی، عن ابی کبثۃ الانماری
تشریح :۔۔۔ اللہ تعالیٰ کا حق مال کی زکوۃ ہے ہر آدمی کو اس کی نیت کے بدلہ اجر ملتا ہے، آخری شخص ایسا ہے جس کے نہ مال ہے اور نہ علم وہ بےعلم شخص کو دیکھ کر حرص کرتا ہے، اس واسطے جیسے دو گناہ میں مبتلا ہے اسی طرح اسے بھی اپنی نیت میں اس کے ساتھ شریک ہونا پڑا۔
6189- ثلاث أقسم عليهن: ما نقص مال عبد من صدقة، ولا ظلم عبد مظلمة صبر عليها إلا زاده الله عز وجل عزا، ولا فتح عبد باب مسألة إلا فتح الله عليه باب فقر، وأحدثكم حديثا فاحفظوه إنما الدنيا لأربعة نفر: عبد رزقه الله مالا وعلما فهو يتقي فيه ربه، ويصل فيه رحمه ويعلم لله فيه حقا فهذا بأفضل المنازل، وعبد رزقه الله علما ولم يرزقه مالا فهو صادق النية يقول: لو أن لي مالا لعملت بعمل فلان فهو بنيته وأجرهما سواء، وعبد رزقه الله مالا ولم يرزقه علما يخبط في ماله بغير علم لا يتقي فيه ربه ولا يصل فيه رحمه ولا يعلم لله فيه حقا فهذا بأخبث المنازل، وعبد لم يرزقه الله مالا ولا علما فهو يقول لو أن لي مالا لعملت فيه بعمل فلان فهو بنيته فوزرهما سواء. "حم ت عن أبي كبشة الأنماري"
তাহকীক: